Translater

15 جون 2024

دلتوں کے نگینہ بنے چندر شیکھر!

نگینہ سیٹ سے ممبر پارلیمنٹ بنے چندر شیکھر دلتوں کے لئے نگینہ بن گئے ہیں کیا؟ لوک سبھا چناو¿ میں دلت لیڈر چندر شیکھر آزاد سے اتر پردیش کے شہر نگینہ (ریزرو) سیٹ پر بھاجپا کے اوم کمار کو ڈیڑھ لاکھ سے بھی زیادہ ووٹ سے ہرا کر جیت حاصل کی ہے ۔اس سیٹ پر بہوجن سماج پارٹی کے امیدوار سریندر پال سنگھ چوتھے نمبر پر رہے ۔جنہیں محض 13 ہزار ووٹ ملے ۔یہ اہم ہے کیوں کہ سال 2019 میں بسپا امیدوار گریش چندر نے اس سیٹ پر جیت درج کی تھی تب سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے درمیان اتحاد تھا ۔مغربی اترپردیش کے چھتیس سالہ چندر شیکھر کی اس جیت کے کئی معنی ہیں خاص طور پر بہوجن سماج پارٹی کی سیاست کے لئے جو اس چناو¿ میں کھاتا تک نہیں کھول پائی ۔ایک بہن جی کے خیر خواہ کا کہنا تھا کہ مایاوتی قومی س یاست میں آہستہ آہستہ الگ تھلگ ہو رہی ہیں اور چندر شیکھر کی جیت نے انہیں یہ موقع دے دیا کہ پورے بھارت میں اپنی تنظیم مضبوط کریں ۔گوتم نگر کے بادل پور میں مایاوتی کے سیاسی بحران میں یہ سب سے برا دور ہے پارٹی کی کمان سنبھالنے سے لیکر اب تک یہ پہلا موقع ہے جب پارٹی کا ووٹ فیصد درکار نمبر تک نہیں پہونچ سکا ۔پردیش میں کسی سیٹ پر جیتنا تو دور رہا وہ مین لڑائی میں بھی نہیں آسکیں ۔بسپا چیف کو اپنے گھر گوتم بدھ نگر میں بھی بسپا امیدوار کو کامیابی نہیں ملی ۔اب جہاں بسپا کا کوئی بھی ممبر لوک سبھا میں نہیں ہوگا پردیش میں موجودہ بسپا کا ایک ہی ممبر اسمبلی ہے ۔سال 2024 میں بسپا کا اپنے دم پر چناو¿ میں بسپا کو صرف 9.39 فیصد ووٹ ملے او وہ ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی ۔کسی بھی سیٹ پر بسپا مقابلے میں نہیں ا ٓئی ۔اب بہن جی کو نئے سرے سے پالیسی بنانی ہوگی ۔اگلے اسمبلی چناو¿ کی تیاری کرنی ہوگی ۔نتیجے بتاتے ہیں مایاوتی کو اپنی جیت کے جس ووٹ بینک پر بھروسہ تھا وہ اب چندر سیکھر کے پالے میںجاتا نظر آرہا ہے ۔نگینہ میں چندر شیکھر کو 512552 ووٹ ملے جبکہ بسپا امیدوار سریندر پال کو محض 13272 ووٹ ملے صاف ہے کہ جاٹوں نے بھی بسپا کو ووٹ نہیں دیا ۔نگینہ کے علاوہ ڈومریا گنج سیٹ پر بھی آزاد سماج پارٹی نے بسپا امیدوار کو زیادہ ووٹ حاصل کئے ۔جو دلتوں کی قسمت بدلتی سیاست کا اشارہ ہے ۔ڈومریا گنج میں آزاد سماج پارٹی کے امیدوار ابھر سنگھ چودھری کو81305 ووٹ ملے ۔جبکہ بسپا امیدوار محمد ندیم کو محض 35936 ووٹ ملے ۔چندر شیکھر کو لیکر دلت لڑکوں کو ہمیشہ راغب کرتے ہیں خود مایاوتی بھی چندر شیکھر راون کی راہ میں تمام روڑے اٹکانے کی کوشش کرتی رہی ہے ۔مایاوتی کے مقابلے ان تک حکومت پہونچے دلتوں میں انہیں مقبول بناتی ہے ۔بسپا چیف کا ورکروں سے دوری بنا کر رکھنا اور پارٹی عہدیداران سے اپنی سہولت کے حساب سے ملنا چناو¿ میں ہار ملنے کے بعد کسی پر کاروائی نہ کرنا اب ان کے حمایتیوں کو راس نہیں آرہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بسپا کے ووٹ بینک میں لگاتار گراوٹ آرہی ہے ۔اب چندر شیکھر پارلیمنٹ جار ہے ہیں ۔نارتھ بھارت میں دلت نوجوان ان کے ساتھ آرہے ہین اور اب ان کو موقع ملا ہے تو ان سے اپنی تنظیم کو بڑھاوا دینے کی توقع ہے ۔ (انل نریندر)

موہن بھاگوت کی نصیحت!

کیابھاجپا اور اس کی آئیڈیا لوجی تنظیم آر ایس ایس کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے ۔آر ایس ایس چیف نے ناگپور میں منعقدہ ورکر وکاس ورگ دویم اعزاز تقریب میں کئی باتوں کا ذکر کیا ۔پہلے بات کرتے ہیں آر ایس ایس چیف نے کیا کیا کہا ؟ منی پور میں ایک سال بعد بھی امن قائم نہ ہونے پر بھاگوت نے پیر کو اپنی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ لڑائی متاثرہ نارتھ ایسٹ ریاست کے حالات پر تجزیاتی طور پر غور کیا جانا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ منی پور پچھلے ایک سال سے قیام امن کاانتظار کررہا ہے ۔دس سال پہلے منی پور میں امن تھا ایسا لگتا ہے کہ وہاں بندوق کلچر ختم ہوگیا ہے ۔لیکن ریاست میں اچانک تشدد بڑھ گیا ہے ۔آر ایس ایس چیف نے کہا سورش پیدا ہوئی ہے تو یا بھڑکائی گئی لیکن منی پور جل رہا ہے لوگ اس کی تپش کا سامنا کررہے ہیں ۔حال ہی میں ہوئے لوک سبھا چناو¿ کے بارے میں بھاگوت نے کہا کہ نتیجے آچکے ہیں اور سرکار بن چکی ہے اس لئے کیا اور کیسے ہوا وغیرہ پر ضروری بحث سے بچا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سنگھ کیسے کیا ہوا جیسی بحث میں شامل نہیں ہوتا ۔تنظیم صرف پولنگ کے بعد کی ضروریات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کا اپنا فرض نبھاتا ہے اس لئے آر ایس ایس چیف نے کہا کہ چناو¿ ایک معمول کا عمل ہے ۔پارلیمنٹ میں کسی بھی سوال کے دونوں پہلوو¿ں پر بحث ہوتی ہے یہ ایک سسٹم ہے ۔حقیقت میں رائے بنے ، اس لئے پارلیمنٹ ہے ۔لیکن چناو¿ کمپین میں ایک دوسرے کو لتاڑنا تکنیکی بیجا استعمال ،جھونٹ پھیلانا یہ ٹھیک نہیں ہے ۔چناو¿ کے پس منظر سے نجات پا کر دیش کے سامنے موجود مسائل پر غور کرنا ہوگا ۔جس طرح کمپین کے دوران سماج میں تلخی کے امکانات پیدا ہوئے اس کا خیال نہیں رکھا گیا ۔سنگھ کو غیر ضروری اس میں گھسیٹا گیا ۔یہ نا مناسب ہے سماج نے اپنا ووٹ دیا ۔چناو¿ میں ہم بھی لگتے ہیں اس بار بھی لگے لیکن سب کام ہب کی تعمیل کرتے ہوئے کرتے ہیں ۔سنگھ چیف نے چناوی بیان بازی سے بالاتر ہو کر دیش کے سامنے آنے والے مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ہم شری موہن بھاگوت جی کی نصیحتوں کی تعریف کرتے ہیں دیر سے ہی صحیح لیکن باتیں صحیح کہی ہیں لیکن آپ نے ایک سال تک کیوں انتظار کیا ۔منی پور تو ایک سال سے جل رہا تھا کیا آپ نے اب کیوں کہا ؟ کیا آپ چناو¿ نتائج کا انتظار کررہے تھے یا پھر جب آپ نے دیکھا بی جے پی 2040 پر اٹک گئی تب جاکر آپ کو احساس ہوا یہ سب بولنے کا کیا مطلب ہے ؟ کیا آپ مودی سے ڈرتے ہیں پورے چناو¿ میں مودی جی نے ہندو ،مسلمان کیا ۔وزیراعظم نے چناو¿ کمپین کے دوران 421 بار مندر مسجد اور سماج کو بانٹنے کی بات کہی انہوں نے 224 بار ہندو مسلم اقلیتوں جیسے لفظوں کا استعمال کیا ۔آپ تو انہیں ایک بار بھی ایسا کرنے سے نہیں روکا ؟ پچھلے لوک سبھا چناو¿ میں آر ایس ایس اور بھاجپا کے درمیان من مٹاو¿ صاف دکھائی دے رہا تھا ۔جے پی نڈا نے تو کھلے عام کہہ دیا کہ بی جے پی کو آر ایس ایس کی ضرورت نہیں ہے ۔آپ نے تب کیوں نہیں رد عمل ظاہر کیا ؟ بھاجپا کے سینئر لیڈروں نے سنگھ کا تذکرہ تک نہیں کیا ۔وزیراعظم نے بھی پورے چناو¿ میں مودی کی گارنٹی کے نام پر چناو¿ لڑا ۔کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ سنگھ نے اس چناو¿ میں کھل کر کام نہیں کیا ۔کچھ لوگوں کا تو یہ بھی خیال ہے کہ آج بھی سنگھ اور مودی ایک ہیں آپ جنتا کے غصہ کو دیکھ رہے ہیں سمجھ رہے ہیں اور انہیں خاموش کرنے کی کوشش تو نہیں کرر ہے ہیں یہ کسی سے چھپا نہیں کہ مودی سرکار میں آر ایس ایس میں اپنے لوگوں کو ہر جگہ فٹ کررکھا ہے ۔اور ملائی کھا رہے ہیں پھر بھی ہم بھاگوت جی کے خیالات کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ (انل نریندر)

13 جون 2024

اسمرتی ایرانی کے ہارنے کی وجہ !

لوک سبھا چناو¿ کو لیکر سب سے چونکانے والے نتیجے اتر پردیش کے رہے ہیں ۔انڈیا گٹھ بندھن نے سارے اندازوں اور ایگزٹ پول کو غلط ثابت کر دیا ہے اور بی جے پی کے اکیلے مکمل اکثریت حاصل کرنے کی راہ میں روڈا اٹکا دیا ہے ۔ویسے تو اترپردیش کی کئی سیٹوں پر این ڈی اے اور انڈیا اتحاد کے امیدوار کے بیچ کئی دلچسپ چناو¿ دیکھنے کو ملے لیکن اس بار ریاست میں ایک سیٹ ایسی تھی جس پر چناو¿ شروع ہونے سے لیکر آنے والے نتیجہ پر سبھی کی نظریں لگی تھیں ۔یہ سیٹ تھی امیٹھی جہاں کانگریس کے پرانے ورکر اور لیڈر کشوری لال شرما نے بی جے پی سرکار کی بڑبولی ،مغرور وزیر اسمرتی ایرانی کو 1 لاکھ 66 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہرایا ۔انڈیا گٹھ بندھن خاص کر پرینکا گاندھی نے کشوری لال شرما کو چناو¿ جتانے کے لئے پوری طاقت لگا دی تھی ۔پرینکا نے نا صرف رائے بریلی میں اپنے بڑے بھائی راہل گاندھی کے لئے پوری محنت کی بلکہ امیٹھی میں کشوری لال شرما کے لئے بھی اتنی محنت سے کام کیا ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اسمرتی ایرانی نے 2019 میں جب راہل گاندھی کو ہرایاتھا تو اس کے بعد راہل نے امیٹھی آنا بند کر دیا تھا ایسے میں سیاسی مبصرین کے درمیان ایسی بحث چھڑی کہ راہل گاندھی نے ہمیشہ کے لئے یہ سیٹ چھوڑ دی ہے ۔پرچہ داخل کرنے کے آخری دن سسپنس بنائے رکھنے کے بعد 3 مئی کی صبح انڈیا گٹھ بندھن نے امیٹھی سے کشوری لال شرما کو کانگریس کا امیدوار بنایا ۔بیشک کشوری لال شرماپچھلے 40سال سے امیٹھی رائے بریلی سے جڑے تھے لیکن کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ انہیں اسمرتی ایرانی کے خلاف اتارا جائے گا ۔کشوری لال کے آنے سے سارا دباو¿ اسمرتی ایرانی پر آگیا ۔سیاسی واقف کاروں کا خیال ہے کہ امیٹھی کی عوام نے مودی سرکار نے وزیر رہی ا سمرتی ایرانی کو لیکر خاصی ناراضگی تھی جنتا میں اسمرتی ایرانی کے برتاو¿ کو لیکر کافی غصہ تھا ۔مرکزی سرکار میں وہ وزیر تھیں لیکن انہیں پچھلے پانچ سالوں میں وکاس کا کوئی ٹھوس کام نہیں کیا ۔اس کے ساتھ ساتھ مہنگائی اور بے روزگار ی کو لیکر جنتا اسمرتی ایرانی کا ساتھ نہیں دیا ۔وہ وہیں گوری گنج کے باشندے نے دعویٰ کیا کہ اسمرتی ایرانی نے کوئی کام نہیں کیا ۔جنتا کو ان سے بڑی امید تھی کیوں کہ وہ منتری ہیں علاقہ میں بہت کام ہوگا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔اسمرتی ایرانی کی ہار کی وجہ یہ بھی ہے کہ وزیراعظم نے جس طرح سے بھینس اور منگل سوتر جیسے بیان دیے اس سے جنتا میں ناراضگی تھی ۔2019 میں راہل گاندھی کی ہار کے بعد سے امیٹھی کی جنتا ناراض تھی لوگوں کو احساس ہوا کہ انہوں نے بہکاوے میں آکر ووٹ دے دیا ۔اور پلاسٹک کی طرف ہاتھ بڑھا دیا ۔ایک لڑکے نے کہا کہ جائس قصبہ میں ایک لیڈی ہاسپٹل ہے جو بند پڑا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ۔علاقہ کی خواتین کے علاج کے لئے بڑا مسئلہ ہے لیکن اسمرتی ایرانی کے رہتے ہوئے اس کے لئے کچھ نہیں کیا ۔ایم بی اے کی ایک طالبہ اسمرتی ایرانی کی ہار کی وجہ بتاتی ہے انہوں نے جنتا سے کنٹکٹ نہیں کیا ۔جب بھی وہ دورے پر آتی تھی جنتا سے نہیں ملتی تھیں کچھ چند لوگوں سے گھری رہتی تھیں ۔پچھلے پانچ سالوں میں راہل گاندھی سونیا گاندھی کی تنقید کے سوا کوئی کام نہیں کیا تھا ۔اسمرتی ایرانی کا کوئی کام زمین پر نہیں دکھائی دیا اور پچھلے پانچ سالوں میں امیٹھی ہی نہیں بلکہ پورے دیش کی جنتا بھارتیہ جنتا پارٹی سے تنگ اچکی ہے ۔دوسری طرف کشوری لال شرما امیٹھی کے گاو¿ں گاو¿ں تک جانتے ہیں اور انہوں نے ان سے کبھی رابطہ نہیں توڑا۔ (انل نریندر)

لوک سبھا کو10 سال بعد ملے گا اپوزیشن لیڈر!

2024 کے لوک سبھا چناو¿ میں جہاں مودی جی واپس این ڈی اے کے ساتھ اقتدار میں تیسری بار آئے وہیں کانگریس کے اور تمام اپوزیشن کی طرف سے شاندار رہی ۔ایک مضبوط جمہوریت کے لئے یہ ضروری ہے کہ اپوزیشن بھی مضبوط ہے ۔اس بار کے چناو¿ میں سب سے اچھی بات یہ ہوئی کہ اپوزیشن بھی اچھی تعداد میں آئی ہے ۔ان کا اچھی تعداد میں آنا اس لئے بھی ضروری تھا چونکہ حکمراں فریق کا چال چلن بدلنے والا دکھائی نہیں دیتا۔بیشک وہ بیساکھیوں پر ٹکی ہوئی ہے لیکن نئی کیبنیٹ کی تشکیل سے کچھ بدلنے والا نہیں ہے ۔جیسے بی جے پی سرکار پچھلے دس سالوں سے چل رہی تھی ویسے ہی اگلے دس سالوں میں چلنے کا امکان ہے ۔دہشت کا راز یعنی ای ڈی ،سی بی آئی ،انکم ٹیکس کے چھانپے سب کچھ ویسے ہی رہے گا ۔ان حالات میں اپوزیشن کا رول بہت اہم ہوجاتا ہے ۔کانگریس چناو¿ میں اچھی پرفارمنس پیش کی ہے انہوں نے اپنی سیٹیں بڑھا کر 99 کر لی ہیں ۔وہ کم لوگوں کو پتہ ہوگا کہ اس چناو¿ میں سب سے بڑی جیت کانگریس کے آسام کے ڈبری لوک سبھا حلقہ سے رقیب الحسن نے درج کی ہے ۔وہ دس لاکھ ووٹ سے زیادہ سے جیتے ہیں ۔انہوں نے اپنے قریبی حلیف آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے سرکردہ لیڈر بدالدین اجمل کو دس لاکھ 12 ہزار 476 ووٹوں سے ہرایا ہے ۔دس سال کے لمبے عرصے کے بعد لوک سبھا میں نیتا اپوزیشن کا عہدہ ملے گا اور یہ موقع کانگریس پارٹی کو ہی ملے گا ۔موجودہ لوک سبھا میں انڈیا گٹھ بندھن کی پارٹیوں کی سیٹوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ہی نچلے ایوان کو دس سال کے بعد لیڈر آف اپوزیشن ملے گا ۔پچھلے دس سال سے یہ عہدہ خالی تھا ۔راہل گاندھی نے پچھلے برسوں میں بہت محنت کی ہے ۔چناو¿ کے دوران کھڑگے ،سونیا ،پرینکا کی زوردار کمپین کے لئے وہ تعریف کے مستحق ہیں ۔چناو¿ کے دوران کانگریس نے بے روزگاری،مہنگائی،خواتین کے مسئلے سماجی انصاف جیسے اشو اٹھائے ان اشو کو لیکر اب قانون کے اندر بھی ٹھوس طریقے سے اٹھانے کی ضرورت ہے ۔پارلیمنٹ میں اس مہم کی قیادت کرنے کے لئے راہل گاندھی سب سے بڑھیا شخص ہیں ۔تیزی سے بڑھی کانگریس کی سی ڈبلیو سی میٹنگ میں ایک تجویز پاس کی گئی جس میں راہل گاندھی سے نیتا اپوزیشن کی ذمہ داری سنبھالنے کی درخواست کی گئی ہے ۔گاندھی کے بڑے رول کو لیکر پارٹی نیتا تو ہمیشہ آواز بلند کرتے رہے ہیں لیکن اب کی بار کانگریس ورکنگ کمیٹی کی طرف سے باقاعدہ تجویز پاس کئے جانے سے صاف ہے کہ لوک سبھا میں لیڈر اپوزیشن کے لئے راہل گاندھی پارٹی کے ایک واحد پسندیدہ شخص ہیں ۔راہل گاندھی نے ورکنگ کمیٹی کے خیالات سننے کے بعد کہا کہ وہ اس بارے میں جلد فیصلہ کریں گے ۔لیڈر آف اپوزیشن ہونے کے کئی فائدے بھی ہیں وہ جوکچھ بھی لوک سبھا میں کہیں گے اس کو اپوزیشن کی کاروائی سے نہیں ہٹایا جا سکتا جیسا کہ پچھلے ایوان میں اوم برلا نے کیا تھا ۔اس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن لیڈر کو کیبنیٹ رینک ملتا ہے اور وہ تمام سہولیات ملتی ہیں جو کسی ایک کابینہ وزیر کو ملتی ہے ۔ہاں تو راہل گاندھی کی ممبرشپ ختم کر دی گئی تھی گھر اور ایم پی شپ چھین لی گئی تھی اب حساب کتاب برابر کرنے کا موقع آیا ہے ۔اس بیساکھی سرکار کو جمہوریت کی خاطر روکنا انتہائی ضروری ہے اور یہ کام راہل جی سے بہتر کوئی اور نہیں کر سکتا ہے ۔ممبر تنظیم کا کام ملکا ارجن پر چھوڑ دیں جو بہت اچھا کام کررہے ہیں ۔ہماری رائے میں راہل گاندھی کو یہ عہدہ قبول کر لینا چاہیے ۔ (انل نریندر)

11 جون 2024

خصوصی ریاست کا درجہ کیوں چاہتے ہیں؟

18 ویں لوک سبھا کے چناﺅ کے بعد اب بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے اتحادی سرکاری بن گئی ہے لوک سبھا چناﺅ میں بھاجپا نے 240 سیٹیں جیتی ہیں لیکن اپنے بل پر اکثریت نہ پانے پر اسے جے ڈی یو اور ٹی ڈی پی کی مدد سے سرکار بنالی۔آندھرا پردیش میں لوک سبھا کے چناﺅ کے ساتھ اسمبلی کےلئے بھی چناﺅ ہوئے چندر بابو نائڈو کی ٹی ڈی پی نے ریاست میں 135سیٹیں جیتیں ہیں اب یہاں چندر بابو نائیڈو ایک مرتبہ پھر وزیراعلیٰ بنے گے آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کی مانگ ایک دھائی سے زیادہ عرسے کی جا رہی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کانگریس کے چناﺅ منشور میں بھی آندھرا کو خصوصی درجہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا اب جب بھاجپا کو نائیڈو اور تیلگو دیشم پارٹی کی ضرورت ہے تو امید ہے کے اس خصوصی درجہ دینے کی چندر بابو نائیڈو مانگ کریں گے ۔اس کے ساتھ ہی نتیش کمار بھی ریاست کو خصوصی درجہ دئے جانے کی مانگ کریں گے مانا جا رہا ہے کے نتیش کمار اس مانگ کو بھاجپا کے سامنے رکھ سکتیں ہیں ایسے میں سوال پوچھا جا سکتا ہے کے کسی ریاست کو دیا جانے والا اسپیشل اسٹیٹس آخر ہے کیا اور اس سے ریاست کا درجہ پانے والے راجیہ کا کیا حالات بدل جاتے ہیں ؟بھارت کے آئین میں ایسے اسپیشل اسٹیٹس کا کوئی دفعہ نہیں ہے بھارت میں 1969میں گاڈگل کمیٹی کی سفارش کے تحت اسپیشل ریاست کا درجہ کا تصور سامنے آیا اسی برس آسام ،ناگالینڈ ،جموں کشمیرکو خصوصی ریاست کا درجہ دیا گیا یہ درجہ پانے والی ریاست کے لئے ایکسائز ڈیوٹی میں بھی اہم ترین چھوٹ دئے جانے کی سہولت رکھی گئی تھی۔تاکہ وہاں بڑی تعداد میں کمپنیاں اور صنعتیں قائم ہو سکیں اسپیشل اسٹیٹس سماجی اور اقتصادی ،جگرافیائی مشکلات والی ریاستوں کو ترقی میں مدد کےلئے دیا جاتا ہے اس کے لئے الگ الگ پیمانے مقرر کئے گئے حاہی میں بھارت نے 11 ریاستوں کو اسپیشل اسٹیٹس کا درجہ دیا گیا ان میں آسام،ناگالینڈ،منی پور،میگھالیہ،سکم تریپورہ،اروناچل پردیش،اتراکھنڈاور تلنگانہ شامل ہیں۔دیگر ریاستوں کے مقابلے میں ان ریاستوں کو مرکز سے ملنے والی مدد کے علاوہ کئی اور فائدہ ملتے ہیں اور نوے فیصد رقم ملتی ہے ۔جبکہ دیگر ریاستوں کو یہ اندازاً 60 سے 70 فیصدی ہے اور ان ریاستوں کو ٹیکس اور گروتھ ٹیکس اور کارپوریٹ ٹیکس میں رعاتیں ملتی ہیں ۔اور ان ریاستوں کو جی ڈی پی بجٹ کا 30 فیصد حصہ ملتا ہے ۔اہم ترین بات یہ ہے اگر ایسی ریاستوں کو ملنے والی رقم اگر بچ جاتی ہے تو اس کا استعمال اگلے مالی برس میں کیا جا سکتا ہے۔جس سے ریاست کی معیشت کو فائدہ ہوگا ۔ایک بار پھر خصوصی درجہ کا پٹارہ کھل گیا ہے۔تو پتہ نہیں یہ کیسے رکے گا۔(انل نریندر)

30 لاکھ روپے کا مبینہ گھوٹالہ !

مینڈیٹ 2024کا ایک بہت اچھا نتیجہ آیا ۔2024 کی لوک سبھا میں اپوزیشن بہت بڑی تعداد میں ہے ۔اور ایک آزاد اور صحت مند جمہوریت کےلئے جہاں ایک پائدار حکمرا فریق ضروری ہوتا ہے ،وہیں ایک مضبوط اپوزیشن ہوتی ہے ۔وہ اس لئے ضروری ہے کی تاکہ حکمراں فریق کو منمانی کرنے سے روک سکے۔اور آئینی طور تریقوں سے چلے اپوزیشن سوال اٹھانے ابھی سے شروع کر دئے ہیں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے جمعرات کو الزام لگایا کے وزیر اعظم ،وزیر داخلہ کے ذریعہ دی گئی شیئر خریدنے کی صلاح اور پھر چناﺅ کے بعد اگزٹ پول کے جھوٹے نتیجہ سابقہ سروے کے سبب بازار میں سب سے بڑا گھوٹالہ ہوا ہے ۔اس میں سرمایہ داروں کے 30 لاکھ کروڑ روپے ڈوب گئے انہوںنے کہا اس عمل میں وزیراعظم ،وزیر داخلہ اور نتیجہ سروے کرنے والوں کا رول کی جانچ کے لئے جے پی سی بنائی جائے ۔وہیں رایل گاندھی کے سوالوں کے بعد بھاجپا نے پلٹ جواب دیا ہے ۔بھاجپا لیدر پیوش گوئل نے کہا راہل گاندھی ابھی بھی لوک سبھا چناﺅ میں پارٹی کو ملی ہار سے نکل نہیں پائے اوراب وہ بازار کے سرمایہ داروں کو گمراہ کرنے کی سازش میں لگے ہیں ۔اور گھریلوں سرمایہ داروں نے حقیقت میں پاسہ بنایا جبکہ نقصان غیر ملکی سرمایہ داروں کو اٹھانا پڑا ۔راہل گاندھی نے اخبار نویسوں سے کہا کے پہلی بار ہم نے نوٹ کیا ہے کہ چناﺅ کے وقت وزیر اعظم ،وزیر داخلہ ،وزیر مالیات نے شیئر بازار پر رائے زنی کی پھر ایک جون کو جھوٹے نتیجہ اگزٹ پول کے آئے جس میں انہوںنے دعویٰ کیا تھا بھاجپا کو انٹرنل سروے میں 220 سیٹیں مل رہی تھی لیکن نتیجہ سروے میں دکھائی گئی سیٹوں سے زیادہ آئیں ۔راہل گاندھی نے کہا 3 جون کو شیئر بازار سارے ریکارڈ توڑ دیتا ہے اور 4 جون کو ایک دم سے نیچے چلا جاتا ہے ہزاروں کروڑ روپے کا سرمایہ کاری کی گئی جھوٹے سرمایہ کاروں کے 30 لاکھ کروڑ روپے ڈوب گئے اس میں وزیراعظم اور وزیر داخلہ اور نتیجہ پیش کرنے والوں کے رول کی جانچ ہونی چاہئے بھاجپا نیتاﺅ کے پاس جانکاری تھی کے ان کو مکمل اکثریت نہیں ملنے والی ہے ۔وہ جانتے تھے .3-4کیا ہونے والا ہے لیکن بھاجپا نیتاﺅں کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو قریب 30 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔اس وجہ سے ہزاروں لاکھوں کروڑوں روپئے کا چنے ہوئے لوگوں کو فائدہ ہوا ہے۔جب راہل گاندھی سے سوال کیا گیا کے آپ اس معاملے میں کورٹ جائےں گے ۔یا تھانے پر انہونے کہا جو بھی ہوا یہ صحیح نہیں ہے۔وزیر مالیات اور وزیرداخلہ اور پی ایم نے اڈانی جی کے چینل کے ذریعہ انٹرویو دیکر بازار میں سرمایہ کاری کا میسج دیا تھا اس کے بعد ہی لوگوں نے سرمایہ کاری کی ابھی تو ہم جے پی سی کی جانچ کی مانگ کر رہے ہیں۔تاکہ لوگوں کو پتہ چل سکے کے گھوٹالہ ہوا ہے۔پی ایم اور وزیرداخلہ نے صاف کہا کی شیئر بازار اوپر جائے گا ۔پی ایم نے صاف کر دیا ہے کے شیئر خریدنا چاہئے جب وزیر اعظم اور وزیرداخلہ اس طرح کی بات کرتے ہیں تو جنتا میں بھروسہ بڑھتا ہے ۔انہیں معلوم تھا کے 300-400 سیٹ کا رزیزلٹ نہیں ہے پھر بھی مارکیٹ کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔اپوزین پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔ایسے میں ہم دباﺅ ڈالیں گے اس سے دوسرا نتیجہ آئے گا اڈانی معاملے سے بڑا کیس ہے اس کی جانچ ہونی چاہئے۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...