Translater

20 ستمبر 2014

آئی ایس کی بڑھتی بربریت اور طاقت سے کیسے نمٹیں!

امریکی صحافیوں کے بعد اب اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس )نے تیسرے یر غمال برٹش شہری اور سماجی کارکن ڈیوڈ ہینس کو مارکر بین الاقوامی برادری پر دباؤ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ یہ خبر صحیح ہے کہ اس کے قبضے میں اب بھی 24 سے زیادہ صحافی اور سماجی رضاکار اور دیگر لوگ ہیں تو یہ واقعی سبھی کیلئے تشویش کی بات ہے۔ یہ الگ بحث کا موضوع ہوسکتا ہے کہ عراق اور شام کوحالیہ پس منظر میں امریکہ اور اس کے اتحادی ساتھیوں کا کتنا رول ہے لیکن اسلامک اسٹیٹ کے ذریعے خلافت یعنی اسلامی حکومت قائم کرنا اور جس بربریت کا وہ مظاہرہ کررہے ہیں اسے روکنا اور اس کے خلاف فوجی کارروائی ضروری ہوگئی ہے۔ یہاں تک کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے برطانیہ کو انسانی حقوق رضاکار ڈیوڈ ہینس کے قتل کو گھناؤنی اور بزدلانہ حرکت قراردیتے ہوئے اس دہشت گرد گروپ آئی ایس کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس تنظیم کو ہرایا جانا چاہئے اور اس کے ذریعے اپنائے گئے تشدد کی حرکتوں کو روکنا چاہئے۔15 نفری کونسل نے ایک بیان میں کہا یہ جرم یاد دلاتا ہے کہ شام میں سماجی رضاکاروں کیلئے ہرروز خطرہ بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک بار پھر آئی ایس کی بربریت کو ظاہر کرتا ہے جو ہزاروں شامی اور عراقی لوگوں کے خلاف مجرمانہ حرکتوں کے لئے ذمہ دار ہے۔ آئی ایس مسلسل امریکہ سمیت تمام دیشوں کو جس طرح چنوتی دے رہا ہے اس سے بین الاقوامی برادری اس کے خلاف کرروائی کرنے کے لئے مجبور ہے۔ امریکی صدر براک اوبامہ نے 9/11 کی برسی پر کہا کہ امریکہ آئی ایس کو پوری طرح سے مٹا کر ہی دم لے گا۔ امریکہ کے لئے وہ خطرہ بنا ہوا ہے اس کا نام و نشان مٹا دیں گے۔ اپنی تقریر میں انہوں نے عراق اور شام میں آئی ایس کے خلاف بڑی فوجی کارروائی چھیڑنے کا بھی اعلان کیا جس میں شام میں امریکی ہوائی حملے اور عراق میں 475 سے زیادہ فوجی مشیروں کی تقرری شامل ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ امریکہ میں براک اوبامہ کی سیاسی حیثیت سابق صدر جارج بش جونیئر کے ذریعے افغانستان اور عراق میں چھیڑی گئی جنگوں کی مخالفت کرتے ہوئے بنی تھی۔ عراق سے امریکی فوجوں کی واپسی کو انہوں نے بڑا کارنامہ بتایا تھا۔ افغانستان سے اس برس کے آخر تک ان کے دیش کے فوجی لوٹنے والے ہیں۔ اس درمیان خلافت کاخطرہ بنا ہوا ہے ۔دو امریکی صحافیوں کی بربریت موت کے بعد ان کے ملک میں ایک بار پھر ناراضگی کا ماحول بنا ہے اور اسلامی کٹر پسندوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ تیز ہوگیا ہے۔ نتیجتاً اوبامہ کو یہ فیصلہ لینا پڑا حالانکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ اس درمیان آئی ایس کے خلاف آگے کی حکمت عملی طے کرنے کے لئے پیرس میں ایک اہم میٹنگ ہوئی جس میں 10 ارب سنی ملکوں سمیت 30 سے زیادہ ملک شامل ہوئے۔یہ بھی بدقسمتی ہے کہ پچھلے تین برسوں سے امریکہ شام کے صدر بشرالاسد کو ہٹانے کی مہم میں لڑاکو ں کی مدد کرتا رہا ہے جبکہ آئی ایس پر کارروائی کا فائدہ القاعدہ کو ملے گا۔ امریکہ کے لئے ادھر کنواں ہے تو ادھر کھائی۔ دیکھیں آگے کیا پوزیشن بنتی ہے؟
(انل نریندر)

گندگی پھیلانے والوں پر کارروائی کرنے کی ایم سی ڈی کی پہل!

دہلی کی حالت بہتر بنانے کے لئے مجوزہ صفائی کے قواعد کو نافذ کرنے کیلئے 1957 ء میں بنائے گئے ایم سی ڈی ایکٹ میں ترمیم کی جائے گی۔ یہ اس لئے ضروری ہے کہ اسے لاگو کرنے میں ایم سی ڈی ایکٹ آڑے آرہا ہے۔ اس پورے نظام کو دیکھ رہے ساؤتھ ایم سی ڈی کے کمشنر منیش گپتا کہتے ہیں کہ معاملے کو لیفٹیننٹ گورنر کو بھیجا گیا ہے۔ محترم نے ایم سی ڈی ایکٹ میں ترمیم کی بات کو مان لیا ہے اور اس کیلئے جلد ہی ایک ریزولوشن لیفٹیننٹ گورنر کو بھیجا جائے گا۔ پھر اسے منظوری کے لئے مرکزی سرکار کو بھیجا جائے گا۔ گندگی پھیلانے ، عام مقامات پر تھوکنے ، پیشاب یا رفع حاجت کرنے والوں کو اب راجدھانی میں بھاری جرمانہ دینا ہوگا۔ ایسا نہ کرنے پر جیل کی ہوا کھانی پڑے گی۔ اس کے لئے دہلی میں صفائی بائے لاز نافذ کرنے کے لئے ایم سی ڈی سنجیدہ ہے۔ احکامات پر تعمیل کرانے کے لئے پرائیویٹ کمپنیوں کے ذریعے سے یو سینس ڈیٹیکٹر لگائے جائیں گے۔ ان لوگوں کا کام اسی طرح کا ہوگا جس طرح سے ٹریفک پولیس اپنا کام کرتی ہے۔ ایم سی ڈی نے 2012ء میں دہلی سرکار کے پاس سینیٹیشن بائے لاز کو منظوری کے لئے بھیجا تھا۔ اس وقت تھوکنے و پبلک مقامات پر پیشاب کرنے کے لئے 200 روپے جرمانہ لگانے کی تجویز تھی مگر اب ایم سی ڈی نے اسے بڑھا کر500 روپے کردیا ہے۔ ممبئی میں کچھ برس پہلے یہ قواعد لاگو ہوچکے ہیں۔اب اگر یہ لاگو ہوجاتے ہیں تو تھوکنے پر 500 روپے جرمانہ، پیشاب کرنے پر500 روپے جرمانہ، کوڑا پھینکنے پر200 روپے جرمانہ، کار دھونے پر1000 روپے جرمانہ، رفع حاجت کرنے پر1000 روپے جرمانہ، کتے کو سڑک پر رفع حاجت کرانے پر 500 روپے جرمانہ، پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچانے پر 200 روپے جرمانہ، گھر کے آگے کوڑے کی پالیتھین رکھنے پر 500 روپے جرمانہ، خطرناک کچرے کو الگ نہ رکھنے پر10 ہزار روپے تک کا جرمانہ تجویز ہے۔ نارتھ ایم سی ڈی نے اپنے ماتحت علاقوں کو صاف ستھرا رکنے کے لئے تو تھوڑا سخت موقف اختیار کرنا شروع کردیا ہے۔گندگی پھیلانے کے لئے عام لوگوں پر کارروائی ہورہی ہے۔ اب ایم سی ڈی نے سرکاری ایجنسیوں پر کارروائی کا بھی ارادہ کرلیا ہے۔ ان پر کارروائی کے لئے باقاعدہ ثبوتوں کے ساتھ ایم سی ڈی جائے گی۔ اس نے اس طرح سے سرگرم ہونے کی وجہ 100 دن کی صفائی مہم چلائی ہے جو وزیر اعظم نریندر مودی کی اپیل پر ناتھ ایم سی ڈی نے شروع کیا ہے۔ ایم سی ڈی کے میئر یوگیندر چندولیا نے کہا دہلی کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے جو بھی کرنے لائق کام ہوں گے ایم سی ڈی ضرور کرے گی۔ اس کے لئے ہمیں سختی برتنی ہوگی۔ہم ایم سی ڈی کے ذریعے اس صفائی مہم کے آغاز کی حمایت کرتے ہیں لیکن ایک دقت یہ آتی ہے کہ قانون تو بن جائے گا لیکن اسے نافذ کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ ضرورت اس باتکی بھی ہے کہ دہلی کے باشندوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا جائے کہ یہ ان کے مفاد میں ہے کہ وہ دہلی کو صاف ستھرا رکھنے میں مدد کریں۔

(انل نریندر)

19 ستمبر 2014

Is by poll results hint of the end of Modi wave?

Ani Narendra

Riding on Narendra Modi wave to reach the throne of Delhi, BJP has been shown a reflection of shock by the people in recent by polls. Though, these results usually do not reflect the full picture of the future but they serve as an indicator for the winning or losing political parties. From the results of by election held for three Parliament and 33 Assembly seats the party which needs to learn a lesson is the BJP. Even in many areas where BJP won tremendously in the last general elections, this time it had to face a defeat in Assembly by elections. 
Particularly in Uttar Pradesh where the party failed to save the seats vacated by its own members should be a major cause of concern for BJP. Moreover, the results are a testimony to the fact that the Parliament election results of the states were more in the favor of Narendra Modi than the BJP. In the Parliament elections, BJP had won all the 25 seats in Rajasthan and earlier to that the Congress was decimated in the Rajasthan Assembly elections. This time, Congress has won three out of four assembly seats and the BJP has been able to get only one seat in Rajasthan. It is true that the recent and earlier held elections are not an examination for Modi government, but it was also not expected that the opposition party is going to succeed in getting maximum number of seats in comparison to the BJP.
First in Uttrakhand and then in Bihar, the same has happened in Rajasthan as well as in Gujarat. From these results, one thing is clear that people voted in different pattern while voting for Parliament and Assembly elections. In the Parliament elections, Narendra Modi’s name as a contender for PM’s post was the main reason behind the people voting for BJP and due to this many local issues and patterns were ignored by them. Whereas in these by elections, Narendra Modi was not an issue  as these by elections would in no way have affected his remaining in power as prime minister therefore voters have given much more importance to the other concerns than Modi which resulted in the loss to the party. It would not be incorrect to say that in these by election Modi factor was the main issue. If BJP has won the Parliament elections due to the image of Modi then it would not be wrong to say that this time BJP has lost due to the falling image of Modi.
The ego of various BJP leaders has also resulted in heavy loss to the party. Today BJP workers are frustrated and dispirited and have not come out of their homes. Elections are usually won more on the performance of the grass root workers rather than the leaders, but after coming to power, the BJP leaders seems to be on the seventh sky where workers cannot reach, therefore the workers also teach you a lesson.
BJP opponents can interpret this win in by polls in whatever way they wish but they should not get carried away by this win and should avoid saying that we have gained by the disillusionment of the public with the Modi Government. Similarly, BJP has to refrain from saying that it is a fact that election results are always in the favor of the ruling party in the state. Rajasthan is a glaring example of this reverse trend. Gujarat is also showing a similar picture. But in Uttar Pradesh, circumstances were totally different as it was not expected that BJP is going to lose its eight seats to Samajwadi Party whose administration was universally being criticized. 
However, there is cheering news for the party from West Bengal. By winning one out of two assembly seats in West Bengal party has been successful in giving a hint that it is the main political force against Mamta Banerjee. If we talk about non BJP camp then SP’s success in Uttar Pradesh is very beneficial and has not only been able to win eight out of eleven Assembly seats but it has also been able to maintain its hold on Manpuri. With this victory SP not only been able to revamp its lost image in Parliament elections but it has been able to prove its overwhelming lead over BJP. 
As far as congress is concerned, for it Rajasthan results will work as rejuvenating force, similarly party considers win on three seats in Gujarat as significant. It is stated with pain that the strategy adopted by the party for the by polls became the reason of its loss. Ironically, how its leaders forgot that that the reason for its thumping win was the developmental issues rather than emphasizing on Love-Jihad type issues. 
But it is typical of any by elections, the winners claim that these results are a mandate against the opposition but the losers demean these results by trying to blame the local issues for the loss.
However, the picture of politics will get clearer with the outcome of Maharashtra and Haryana Election which are likely to come in the next month. Till then there will be more discussions on the Assembly results. But it is clear that Narendra Modi and BJP Leadership would have to change their conduct in order to win elections in future.

برطانیہ ٹوٹنے کے دہانے پر،اسکاٹ لینڈ علیحدہ ہونے کیلئے بے چین!

ایک زمانہ تھا جب گریٹ برٹن کا جھنڈا آدھی دنیا میں لہراتارہتاتھا۔ انگریز کہا کرتے تھے کہ ہمارے راج میں سورج کبھی نہیں ڈوبتا۔آج برطانیہ تقریباً ٹوٹ چکا ہے۔ انگلینڈ، ویلس اور اسکاٹ لینڈ کو ملا کر گریٹ برٹین بنتا ہے۔ کئی دہائیوں سے کچھ نیشنلسٹ مانگ کررہے ہیں کہ اسکاٹ لینڈکوایک آزاد ملک ہونا چاہئے کیونکہ اس کی الگ تہذیب اور معاشرہ ہے اور الگ ہی پہچان ہے۔ وہ لوگ مانتے ہیں کلچر اور تعلیم میں وہ صرف انگلینڈ سے پیچھے نہیں آگے ہے۔کچھ برس پہلے یونیسکو میں پہلی سٹی آف لٹریچر چنا تو اسکاٹ لینڈ کی راجدھانی نے لندن اور آکسفورڈ کو پیچھے چھوڑدیا۔ اسکاٹ لینڈ پہلے آزا د ملک تھا۔ 1603ء میں ویلس اور اسکاٹ لینڈ نے انگلینڈ کے ساتھ مل کر ایک نیا ملک بنایاتھا۔1707ء میں اسکاٹ لینڈ انگلینڈ میں شامل ہوا اور نئے ملک کو یونائیٹڈ کنگ ڈم آف گریٹ برٹن کا نام دیا گیا۔ پچھلے کئی برسوں سے اسکاٹ لینڈ میں آزادی کی مانگ زور سے اٹھنے لگی ہے۔ اب اسکاٹ لینڈ میں ریفرنڈم ہورہا ہے جو طے کرے گا کہ اسکاٹ لینڈ برطانیہ میں رہے گا یا نہیں۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اسکاٹ لینڈ کی جنتا سے ریفرنڈم میں برطانیہ میں بنے رہنے کا متبادل چننے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے 307 سال پہلے سے آرہے اس اتحاد کو توڑنے سے سبھی کو نقصان ہوگا۔ کیمرون نے یہ وعدہ بھی کیا کہ برطانیہ کو ایک ساتھ رکھنے کے لئے ان کی حکومت سے جو بھی بن پڑے گا وہ کریں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اسکاٹ لینڈ جا کر اتحاد کیلئے مہم چلائیں گے اور میں اس وقت پارلیمنٹ میں بیٹھنے کے بجائے اسکاٹ کی عوام کے درمیان جا کر یہ سننا چاہتا ہوں وہ ہمارے ساتھ رہیں یا نہ رہیں اس کا فیصلہ انہیں کرنا ہے۔ اگر میں برطانیہ کے وزیر اعظم کے طور پر انہیں پورے دیش کی عوام کی آواز پہنچاؤں گا کہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ رہے۔ اگرچہ اسکاٹ لینڈ کی عوام آزادی کے حق میں ووٹ ڈالتی ہے تو کیمرون کے عہدے پر بھی آنچ آئے گی اور دیش کو متحد رکھنے کی مہم میں سابق وزیر اعظم اور بنیادی طور سے اسکاٹ نیتا گارڈن براؤن بھی اتر آئے ہیں۔ انہوں نے اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ کو دئے جانے والے اختیارات کیلئے بھی میعاد کا اعلان کیا ہے اور اس درمیان ممبران کو ایک پارٹی نے مہارانی ایلزبتھ دوم سے مداخلت کر کے دیش کو ٹوٹنے سے بچانے کی اپیل کی ہے۔ 18 ستمبر کو 40 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ریفرنڈم میں حصہ لیا۔ وہ انگلینڈ کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا نہیں؟ حالانکہ برطانیہ نے اسکاٹ لینڈ کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ الگ ہوگا تو اسکا برطانیہ کے ساتھ اقتصادی رشتہ ختم ہوجائے گا۔ اگر اسکاٹ لینڈ برطانیہ سے الگ ہونے کیلئے پولنگ کرتا ہے تو یہ برطانیہ کیلئے ایک بہت بڑا جھٹکا ہوگا۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ مائیٹی برٹش امپائر جہاں سورج کبھی نہیں ڈوبتا تھا اب وہ دن بدن سکڑتی جارہی ہے۔ دیکھیں اسکاٹ لینڈ کی عوام برطانیہ کے ساتھ رہتی ہے یا نہیں؟
(انل نریندر)

رام سیتو کسی بھی حالت میں نہیں ٹوٹے گا،گڈکری کی یقین دہانی کا خیر مقدم!

ہم مودی سرکار کے ذریعے اس یقین دہانی کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ رام سیتو کسی بھی حالت میں نہیں ٹوٹے گا۔ سرکار کے100 دن کے کام کاج پر اپنی وزارت کے کارنامے گنا رہے مرکزی وزیر جہاز رانی نتن گڈکری نے اخباروں کو بتایا کہ رام سیتو کے قدیمی ڈھانچے کو کسی بھی حالت میں توڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حالانکہ انہوں نے کہا سیتو سمندرم ندی پروجیکٹ کے لئے متبادل راستہ بنانے کے اقتدامات ضرور کئے جائیں گے۔ اس سلسلے میں اسٹڈی کی ذمہ داری رائٹس کو سونپی گئی تھی ، جس نے اپنی رپورٹ دے دی ہے۔ ایک مہینے کے اندر اس بارے میں کیبنٹ میں فیصلہ لیا جائے گا۔ اس سے پہلے مرکزی سرکار نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت سیتو سمندرم اشو پر پر زور الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ اس کو کسی بھی صورت میں نہیں توڑا جائے گا۔نتن گڈکری نے لوک سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران کہا تھا کہ ہم کسی بھی حالت میں رام سیتو نہیں توڑیں گے۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لئے اس پر کوئی رائے زنی نہیں کرنا چاہتا۔ اس مسئلے پر ہم ایسی تجویز دیں گے جو سبھی فریقین کو قابل تسلیم ہو۔ اس معاملے کو دیکھنے کیلئے وہ تاملناڈو جائیں گے اور مجوزہ سیتو سمندرم شپنگ کینال پروجیکٹ مرکزی سرکار کا پروجیکٹ ہے جس میں اس علاقے کو بڑے ٹرانسپورٹ جہازوں کی آمدورفت کیلئے بنانا اور ساتھ ہی ساحلی علاقوں میں ٹرانسپورٹ بندرگاہیں قائم کرنا،سیتو سمندرم پروجیکٹ کے ذریعے سمندر میں نیا راستہ بنانے کی تیاری تھی۔ اس کے لئے پاک اور منار کی کھاڑی کے درمیان سمندر میں کھدائی کرکے نیا راستہ بنایا جانا تھا۔ اس کے لئے رام سیتو کو توڑا جانا تھا۔ ہندو شاستروں کے مطابق رام سیتو کی تعمیر نل اور نیل کی مدد سے بھگوان رام نے راون وجے ابھیان کے تحت اپنی وانر سینا کو سمندر پار کرنے کیلئے کیاتھا۔ کروروں ہندوستانیوں کی اس پتھروں کے راستے سے عقیدت وابستہ ہے۔ کوئی بھی ہندوستانی جو بھگوان رام کو مانتاہے بھگوان ہنومان کو مانتا ہے وہ کبھی برداشت نہیں کرے گا کہ اس قدیمی پل کوتوڑا جائے۔ یہ تو راون ونش کی چال تھی کہ ہندوؤں کو بے عزت کرنے اور یو پی اے سرکار میں اپنے اتحاد کو بچانے کے لئے ڈی ایم کے کی مانگ مان گئی۔ دراصل ڈی ایم کے لیڈروں کو اس پروجیکٹ سے کروڑوں روپے کا فائدہ ہوتا۔ وہ اپنے لالچ میں اس تاریخی اہمیت کے حامل پل کوتوڑنے پر آمادہ تھے۔ معاملہ سپریم کورٹ میں چل رہا ہے امید کرتے ہیں کہ مرکزی سرکار اپنے موقف پر اٹل رہے گی اور اس پروجیکٹ کو مجوزہ طور سے توڑنے کی اسکیم ہے وہ ختم ہوجائے گی اور متبادل راستہ نکال لیا جائے گا۔ اگر اس پروجیکٹ کے پیچھے کون ہے اور کیوں ہے ، معاملہ صاف ہوجائے گا۔ یہ کروڑوں ہندوستانی خاص کر ہندوؤں کی آستھا سے جڑا ہے۔ ہمارا تو خیال ہے گڈکری نے صحیح موقف اپنایا ہے اور اس پر مودی سرکار اور گڈکری قائم رہیں گے، ’’جے شری رام‘‘۔
(انل نریندر)

18 ستمبر 2014

کیا مودی لہرخاتمے کا اشارہ ہیں ضمنی چناؤ کے نتائج؟

نریندر مودی لہر پر سوار ہوکر دہلی کی گدی پر پہنچی بھارتیہ جنتا پارٹی کو تازہ ضمنی چناؤ میں عوام نے ایک جھٹکے میں ہی آئینہ دکھا دیا ہے۔ ویسے ضمنی چناؤ کے نتیجے کبھی بھی مستقبل کی پوری تصویر کو پیش نہیں کرتے پھر بھی وہ ہار جیت والی سیاسی پارٹیوں کو کچھ نہ کچھ پیغام ضرور دے دیتے ہیں۔ 3 لوک سبھا 33 اسمبلی سیٹوں کے لئے ہوئے ضمنی چناؤ نتائج سے جس پارٹی کو سبق سیکھنے کی ضرورت ہے وہ ہے بھاجپا۔ بہت سے علاقوں میں جہاں پچھلے عام چناؤ میں بھاجپا کو زبردست کامیابی ملی تھی وہاں سے آج اسے ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ خاص کر اترپردیش جس طرح سے اپنے ممبران کے ذریعے خالی کردہ زیادہ سیٹوں کو بچانے میں ناکام رہی پارٹی کو خاصی پریشانی کا سبب ہونا چاہئے۔نتیجے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ پردیش کے لوک سبھا چناؤ کے نتیجے نریندر مودی کے حق میں زیادہ تھے پارٹی کے حق میں کم۔ راجستھان میں بھاجپا نے لوک سبھا چناؤ میں ساری 25سیٹوں پر کامیابی درج کی تھی اور اس سے پہلے اسمبلی چناؤ میں بھی کانگریس کا صفایا ہوگیا تھا مگر ان ضمنی چناؤ میں کانگریس نے راجستھان کی 4 میں سے3 سیٹیں جیت لی ہیں اور بھاجپا کے ہاتھ ایک ہی سیٹ لگی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ حالیہ ضمنی چناؤ میں مودی سرکار کی پریکشا نہیں ہو رہی تھی لیکن یہ بھی توقع نہیں تھی کہ بھاجپا کے مقابلے ان کی حریف پارٹیاں بڑھت حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گی۔ پہلے اتراکھنڈ اور اب بہار ،راجستھان کے ساتھ ساتھ ایک حد تک گجرات میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ ان سے ایک بات صاف ہوتی ہے کہ لوک سبھا چناؤ میں نریندر مودی کا وزیر اعظم کے عہدے کا دعویدار ہونا ایک بڑی وجہ تھی جس کی وجہ سے لوگوں نے بھاجپا کو ووٹ دیا تھا اور کئی مقامی اشو اور تجزیئے بھلا دئے تھے۔ ان ضمنی چناؤ میں نریندر مودی کوئی اشو نہیں تھے۔ ان ضمنی چناؤ سے ان کے پی ایم بنے رہنے پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں ہے اس لئے ووٹروں نے دیگر وجوہات کو ترجیح دی ہے اور نتیجے بھاجپا کے خلاف گئے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ان ضمنی چناؤ میں مودی فیکٹر کافی اہم اشو تھا تو شاید غلط نہ ہوگا۔ اگر لوک سبھا چناؤ میں مودی کی ساکھ نے جیت دلائی تو ان ضمنی چناؤ میں بھاجپا کی ہار بھی مودی کی گرتی ساکھ کے سبب ہوئی ہے۔ بھاجپا نیتاؤں کے غرور نے بھی پارٹی کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ آج ورکر مایوس ہے اور وہ گھر بیٹھ گئے ہیں۔ چناؤ نیتا کم ورکر زیادہ جتاتے ہیں اور اقتدار میں آنے کے بعد بھاجپا نیتا ساتویں آسمان پرجا بیٹھے ہوں وہاں ورکر نہیں پہنچ سکتا اس لئے ورکر نے بھی وہیں آپ کو سبق سکھایا ہے اور بھاجپا مخالف پارٹیاں ضمنی چناؤ کے نتیجوں کا جائزہ چاہے کیوں نہ کریں وہ اپنی جیت کے جوش میں یہ کہنے سے بچیں توبہتر ہوگا کہ ہمیں مودی سرکار کے تئیں عوام میں ان کا کریزختم ہونے کا فائدہ ملا ہے۔ بھاجپا کو بھی اس دلیل کی آڑ لینے سے بچنا ہوگا۔ یہ ضمنی چناؤ نتیجے تو ریاست میں حکمراں پارٹی کے حق میں ہی جاتے ہیں۔راجستھان اس دلیل کو پیش کررہا ہے۔ گجرات میں بھی ایسا ہی کچھ دکھائی دیا۔ اترپردیش کے حالات ایسے نہیں تھے کہ بھاجپا کی8 سیٹیں اس سماجوادی پارٹی کے کھاتے میں چلی جاتیں جس کے عہد میں تنقید ہورہی تھی مغربی بنگال سے البتہ بھاجپا کیلئے اچھی خبر آئی۔ دو اسمبلی سیٹوں میں سے ایک جیت کر پارٹی یہ پیغام دینے میں کامیاب رہی کہ ممتا کے سامنے اب وہی اہم سیاسی طاقت ہے۔ غیر بھاجپا خیمے کی بات کریں تو یوپی میں سماجوادی پارٹی کی کارکردگی اس کے لئے فائدہ مند اور راحت محسوس کرنے والی رہی۔ سپا 11 میں سے8 اسمبلی سیٹیں تو جیتی ہے مین پوری پر اپنا قبضہ برقرار رکھا ہے۔ اس جیت سے یقیناًسپا کا لوک سبھا چناؤ میں کھویا ہوا رتبہ قائم ہوا ہے اور پارٹی بھاجپا پراپنا دباؤ بنانے میں کامیاب رہی ہے۔ جہاں تک کانگریس کا سوال ہے راجستھان کے نتیجے اس کے لئے سنجیونی کا کام کریں گے۔ ساتھ ہی گجرات میں تین سیٹوں پر ملی جیت کو بھی پارٹی خاص مان رہی ہے۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے بھاجپا نے یوپی میں ضمنی چناؤ جیتنے کیلئے جس حکمت عملی پر عمل کیا وہی اس کی ہار کا سبب بنی۔ پتہ نہیں اس کے لیڈر یہ کیسے بھول گئے لوک سبھا چناؤ میں اس کی شاندار جیت کی بنیاد ترقی پر زور دینا تھا نہ کہ ’لو جہاد‘ جیسے اشوز کو رفتار دینا۔ بہرحال ضمنی چناؤ کی خاصیت ہوتی ہے کہ ان میں جیتنے والا نتیجوں کو اپوزیشن کے خلاف مینڈیٹ بتاتا ہے لیکن ہارنے والا مقامی اسباب کو اس کا ذمہ دار مان کر نتیجوں کو اہمیت کا حامل ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ویسے اگلے ماہ جب مہاراشٹر اور ہریانہ کے نتیجے آئیں گے تب ٹھیک سے صاف ہوگا کہ سیاست کونسی کرونٹ لے رہی ہے۔ تب تک ضمنی چناؤ کے نتیجوں کا تجزیہ جاری رہے گا۔ اتنا طے ہے کہ نریندر مودی اور بھاجپا لیڈر شپ کو اپنا برتاؤ بدلنا ہوگا۔ اگر مستقبل میں چناؤ جیتنے ہیں۔
(انل نریندر)

سیٹوں کے بٹوارے پر بھاجپا شیو سینا میں ٹکراؤ!

این ڈی اے کی دو پرانے اتحادی پارٹیاں شیو سینا اور بھاجپا کے درمیان مہاراشٹر اسمبلی سیٹوں کے بٹوارے اور وزیر اعلی کی کرسی کو لیکر ٹکراؤ بڑھتا جارہا ہے۔ اسمبلی چناؤ سے ٹھیک پہلے سیٹ بٹوارے کو لیکر دونوں میں کھینچ تان باعث تشویش ہے۔ شیو سینا کے اخبار ’سامنا‘ نے اپنے ادارئیے میں لکھا کہ زیادہ لالچ کرنے سے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ یہ دراصل اپنی اتحادی پارٹی بھاجپا پر ایک طنز تھا جو اس بار زیادہ سیٹوں پر چناؤلڑنا چاہتی ہے جبکہ شیو سینا اس کے لئے راضی نہیں ہے کیونکہ اب تک شیو سینا مہاراشٹر میں دو بھائی کے کردار میں رہی ہے۔ مہاراشٹر اسمبلی میں288 سیٹیں ہیں۔ 2009ء اسمبلی چناؤ میں شیو سینا لڑی تھی اور 169 سیٹیں اس کو ملی تھیں۔44 سیٹوں پر شیو سینا لڑی تھی اور119 پربھاجپا۔مگر اس کے امیدوار 46 سیٹوں پر کامیاب ہوئے تھے۔ اس بار شیو سینا چاہتی ہے کہ اتحاد کی دیگر چار پارٹیاں راشٹریہ سماج ،پرکاش،شیو سنگرام پارٹی،شویتا سنگٹھن اور رام داس اتھاولے کی آر پی آئی پارٹی کے 18-20 سیٹیں بھاجپا اپنے کوٹے سے دے جبکہ بھاجپا کا کہنا ہے پہلے ان پارٹیوں کو سیٹیں دی جائیں اور جو باقی بچی سیٹیں ہیں ان میں آدھی آدھی سیٹوں پر شیو سینا اور بھاجپا لڑیں۔ شیو سینا اس کے لئے تیار نہیں۔ شیو سینا کے چیف اودھو ٹھاکرے نے ایک ٹی وی پروگرام میں وزیر اعلی بننے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے ایک موقعہ دینے کی اپیل کرکے صاف بتادیا جھگڑا صرف سیٹوں کے بٹوارے کا نہیں بلکہ وزیر اعلی کی کرسی کے لئے ہے۔ انہوں نے کہا 15 اکتوبر کو ہونے والے چناؤ میں اگر بھگوا محاذ اقتدار میں آیا تو مہاراشٹر میں شیو سینا کا ہی وزیر اعلی ہوگا لیکن لوگوں کو طے کرنا ہے کہ کیا وہ مجھ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ وہ طے کریں گے چہرہ(وزیر اعلی ) کون ہو۔ جبکہ بھاجپا کے انچارج راجیو پرتاپ روڑی نے کہا چناؤ سے پہلے اس بارے میں کوئی وعدہ نہیں کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ چناؤ کے بعد یہ اشو طے کیا جائے گا۔ دراصل تلخ حقیقت تو یہ ہے سورگیہ پرمود مہاجن اور سورگیہ گوپی ناتھ منڈے کے بعد مہاراشٹر بھاجپا میں ایک ایسا خلا پیدا ہوگیا ہے کہ ابھی تک بھاجپا اس کو پر نہیں کر پائی۔ نتیجہ یہ ہے کہ ابھی تک بھاجپا طے نہیں کرپائی مہاراشٹر اسمبلی میں اس کا لیڈر کون ہوگا؟ وزیر اعلی کس کو بنائیں گے۔ کچھ ریاستوں میں اسمبلی ضمنی چناؤ میں بھاجپا کو دھکا لگا ہے اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ مہاراشٹر میں سیٹوں کے بٹوارے کو لیکر فرق پڑے گا۔ بھاجپا صرف مودی لہر پر بھروسہ کررہی ہے اور مودی لہر اب دھیمی پڑتی نظر آرہی ہے۔ دونوں پارٹیوں کے اتحاد کی شروعات سے ہی یہ فارمولہ چلا آرہا ہے کہ اسمبلی میں جس پارٹی کو زیادہ سیٹیں ملیں گی اسی پارٹی کا لیڈر وزیر اعلی کے عہدے کا دعویدار ہوگا۔ اسی دعوے کو مضبوط کرنے کے لئے شیو سینا خود 169 سیٹوں پر لڑ کر بھاجپا کو 119 سیٹیں دے رہی ہے۔اودھو ٹھاکرے کا کہنا ہے مہاراشٹر میں مودی لہر نہیں چلنے والی ہے اور پوزیشن بالکل صاف ہے کہ بھاجپاکو اسمبلی چناؤمیں وہ جیت حاصل نہ ہو جو لوک سبھا چناؤ میں ملی تھی۔ شیو سینا کے جارحانہ رویئے سے حیرت میں پڑی بھاجپا نے بھی ایتوار کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی چناؤ میں جیت ہونے کی صورت میں اگلی سرکار بھاجپا کی قیادت میں ہی بنے گی۔ گھوٹالے اور بھاری اختلافات کی وجہ سے بدنام ہوچکی ریاست کی کانگریس ۔این سی پی سرکار کو بھاجپا کے ساتھ مل کر اقتدار سے باہر رکھنے کا سنہرہ موقعہ ہے۔ اگر جلدشیو سینا۔ بھاجپا کا یہ سیٹوں کا تنازعہ ختم ہو تو اب زیادہ وقت نہیں بچا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ پانی سر سے گزر جائے اور جیتی ہوئی پاری ہار میں بدل جائے؟
(انل نریندر)

17 ستمبر 2014

اس مشکل گھڑی میں بھی علیحدگی پسندوں نے دکھائی اپنی اوقات!

5 اگست2010ء لیہہ ، 16 سے18 جون 2013ء اتراکھنڈ اور 3 سے6 ستمبر2014 ء جموں و کشمیر میں کیا یکسانیت ہے؟یہ ہی ہے ہمالیہ پہاڑ پر واقع ان دونوں ریاستوں میں کچھ عرصے میں ہی تباہ کن بارش ہوئی ،اچانک سیلاب آیااور کچھسو سے لیکر کئی ہزار لوگ موت کے منہ میں چلے گئے۔ ایک اور یکسانیت ہے تینوں واقعات مانسون کے دوران ہوئی تباہ کن بارش کیلئے ذمہ دار نہیں تھے۔ ان تینوں واقعات کو ماحولیاتی تبدیلی سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے لیکن اگر کوئی بھی سرکاری ایجنسی لداخ کی موسلہ دھار بارش کے اسباب کی تہہ تک جاتی توشاید اتراکھنڈ اور جموں و کشمیر نہیں دوہرائے جاتے۔ خیر یہ سب تو تجزیہ کرنے کی بات ہے۔ جموں و کشمیر وادی میں سیلاب کا پانی تو گھٹنے لگا ہے لیکن پریشانیاں ابھی بھی برقرار ہیں۔ ابھی تک جموں و کشمیر کے سیلاب متاثرہ حصوں میں مسلح افواج کے راحت رسانی پروگرام نے 3 لاکھ سے زائد لوگوں کو بچایا ہے۔ دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ جموں میں13 ٹن پانی کوپیور کرنے کے لئے گولیاں اور روزانہ 1.2 لاکھ بوتلیں بھرنے میں اہل 6 پلانٹ پہلے ہی سرینگر پہنچ چکے ہیں۔ کمیونی کیشن نیٹور بحال کرنے کیلئے ٹیلی کمیونی کیشن محکمہ ،فوج اور بی ایس این ایل اور دیگر پرائیویٹ کمپنیاں مواصلاتی نظام کو ٹھیک کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ سرینگر میں آئے سیلاب میں جوانوں کے ہتھیار بھی ڈوب گئے ہیں۔ فوج کے کیمپوں میں پانی گھسنے کے سبب پوری کشمیر وادی میں کئی جگہوں پر رکھے کارتوس کے ساتھ سینکڑوں رائفلیں بھی خراب ہوگئی ہیں۔ ان میں بم ، دستی گولے وغیرہ بھی شامل ہیں۔ فوج کو اس وقت تین محاذوں پر لڑنا پڑ رہا ہے۔ متاثرہ لوگوں کو بچانا ، اپنے گھروں میں آئے پانی سے نمٹنا اور کچھ کشمیری علیحدگی پسند عناصر کی پتھر بازی سے نمٹنا ۔کشمیر وادی میں ہمارے بہادر جوان جہاں ایک طرف جوڑ توڑ میں لگے ہیں اور سیلاب متاثرین کومسلسل مدد پہنچا رہے ہیں وہیں ان کے ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کو پتھر بازی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ پتھر بازی کے واقعات سے سرینگر شہر میں راحت اور بچاؤ کے کام میں لگے ہندوستانی بحریہ کے 80 جہازوں میں سے کچھ کو نقصان پہنچا ہے۔ سرینگر میں بچاؤ کی کارروائی کے دوران ایئر فورس کا ایک جہاز تباہ ہوگیا۔ فوج کا کہنا ہے ان کی کشتیوں کو بھی پتھر بازوں نے نشانہ بنایا ہے۔ علیحدگی پسندوں نے ان حرکتوں سے اپنی اوقات دکھا دی ہے۔ بدقسمتی دیکھئے فوج بچاؤ کی کارروائی میں کوئی امتیاز نہیں کررہی ہے اور سبھی کو مدد پہنچانے کے لئے کوشش میں لگی ہے اسی سلسلے میں ہندوستانی فوج کے جانبازوں نے علیحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی کو ان کے گھر سے صحیح سلامت باہر نکالا جب وہ چاروں طرف سے پانی میں گھرے ہوئے تھے۔ اسی منظر سے متعلق دہلی کے مصطفی آباد علاقے سے ایم ایل اے حسن احمد نے اخبار کے دفتر میں ایک فوٹو بھیجا اور ساتھ ہی ایک بیان بھی جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ علیحدگی پسند لیڈر گیلانی بتائیں کہ ان کو بچانے کیلئے ہندوستانی فوج آگے آئی یا ان کے وہ آقا جو انہیں دیش کے خلاف زہر اگلنے کے لئے اکساتے رہتے ہیں؟حسن احمد نے کہا جو ہاتھ ان کی مدد کیلئے آگے آئے وہ پاکستانی فوج کے نہیں بلکہ ہندوستانی فوج کے جانبازوں کے ہیں جو اب تک علیحدگی پسندوں کی گولیاں اور پتھر کھا رہے ہیں۔ہمیں اپنی فوج پر فخر ہے۔
(انل نریندر)

انٹر نیٹ اورموبائل نے نوجوانوں کو نقصان بھی پہنچایا ہے!

جدید ٹیلی کمیونی کیشن سیکٹر میں پچھلے کچھ برسوں سے تکنیک بدلنے سے جہاں بہت سے فائدے ہوئے ہیں وہیں انٹرنیٹ سے کچھ نقصان بھی ہو رہے ہیں۔میں خاص کر موبائل میں یہ اسمارٹ فون کی بات کررہا ہوں ان میں انٹر نیٹ کی سہولت نے بچوں پر تھوڑا مضر اثر ڈالا ہے۔ دیش کے پہلے انٹرنیٹ ڈی ایڈکشن کلینک میں 8 مہینوں کے دوران 33 مریض آچکے ہیں۔ ان میں 29 تو14 سے25 سال کے ہیں۔ حال ہی میں ٹاک ایڈیکٹر کہے جاتے رہے ان لوگوں اور کنبے والوں سے میڈیا نے جب بات کی توجو حقیقت سامنے آئی وہ ہے سوشل میڈیا کمپیوٹر گیمس کی لت کی دہلادینے والی کہانیاں۔ جبکہ ٹوئٹر کے فاؤنڈر جیگ ڈورس خود کہہ چکے ہیں کہ روز 15 سے20 منٹ سے زیادہ انٹرنیٹ پر وقت نہیں دینا چاہئے۔ بنگلوروسٹی کالج میں لیکچرر اجے شیٹی اور ان کے بیٹے روہن کا ساتھ ہی علاج چل رہا ہے۔ شوہر اور بیٹے کو انجلی ہی ڈی ایڈکشن سینٹر لیکر آئی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ پرابلم چار سال پہلے اس وقت شروع ہوئی جب میں نے ایک نوکری جوائن کی۔ شام کو دیر سے گھر لوٹتی، اجے دوپہر میں کالج سے آجاتے تھے۔ ٹی وی دیکھتے، بیٹے کے ساتھ کھیلتے اور دیر ہونے لگے تو فیس بک اور ٹوئٹر آن لائن کرلیتے۔ اس وقت بیٹا کچھ کہتا یا مانگتا تو وہ اسے موبائل یا لیپ ٹاپ گیمس کے لئے دے دیتے۔ آہستہ آہستہ ہوا یہ کہ جتنا وقت پتی اجے انٹرنیٹ پر بتاتااتنا ہی بیٹا روہن کمپیوٹر گیمس کھیلتا۔ پھر دیر رات تک دونوں لیپ ٹاپ یا موبائل میں مشغول رہتے۔ اس بات پر ہماری کئی بار بحث ہوئی، جھگڑا بھی ہوا۔ ایک بار تو لگا جیسے میں نے اپنا گھر ہی کھو دیا ہے۔ تب میرے ایک ساتھی نے انٹرنیٹ ڈی ایڈکشن کلینک کے بارے میں بتایا کہ وہاں کے ایکسپرٹ نے اجے کو کچھ دوائیں اور انٹرنیٹ کم یوز کرنے کے لئے ٹائم ٹیبل دیا ہے۔ اجے نے گھر کو وقت دینا شروع کیا ہے۔ اس سے روہن بھی ٹھیک ہوگیا ہے۔ اسی کلینک میں علاج چل رہا ہے۔ایک ایسا ہی واقعہ سمپورنا یارڈ فورڈ کالج میں 12 ویں کلاس کے طالبعلم راجیش کٹیار کا ہے۔ وہ کلاس میں ہمیشہ اول آتا تھا۔ اس نے دو سال پہلے موبائل پر گیم کھیلنا شروع کیا۔ باسکٹ بال کھیلنے کا شوقین راجیش فرصت میں سائبر کیفے جانے لگا۔ وہ گھر میں کم باہر زیادہ وقت بتاتا تھا۔ جیولری کے کاروباری والد ودیا پتی کٹیار راجیش کی بات کرتے تو پریشان ہوجاتے۔ کہتے ہیں پتہ نہیں چلا کہ اسے اسمارٹ فون دلانا اتنا خطرناک ہوجائے گا۔ 8 مہینے بعد ہمیں شبہ ہوا جب راجیش نے پاکٹ منی مانگنا بند کردی۔ مجھ سے رہا نہیں گیا ۔ ایک دن میں نے اس کا پیچھا کیا تب پتہ چلا کہ اسے کمپیوٹر گیمس کا شوق ہے۔ سائبر کیفے والوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا ویڈیو گیمس میں اتنا ماہر ہوگیا ہے کہ وہ کیفے کی طرف سے سٹے بازی کرتا ہے اور اس سے اپنا خرچ ہی نہیں نکالتا بلکہ کیفے والوں کو بھی ان کا حصہ دیتا ہے۔ ایک مہینے پہلے ہی راجیش کا علاج شروع ہوا ہے۔ اس نے اب سائبر کیفے جانا چھوڑ دیا ہے لیکن موقعہ ملتے ہی موبائل گیم کھیلنا شروع کردیتا ہے۔ یہ بیماری بہت سے نوجوانوں میں پھیل گئی ہے۔ اب کتاب کی جگہ کمپیوٹر گیمس اور واٹس اپ نے لے لی ہے جو نوجوانوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔جدید تکنیک سے جہاں فائدے بھی ہیں وہیں بری عادتیں بھی بڑھی ہیں۔
(انل نریندر)

16 ستمبر 2014

آئی ایس آئی کا ہندوستانی بینکوں پر نیا ڈاکہ!

چونکانے والی حقیقت سامنے آئی ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اب استعمال ہوچکے چیکوں کے کلون بنا کر ہندوستانی بینکوں سے کروڑوں روپیہ نکال رہی ہے۔ پچھلے چار سال کے دوران پورے دیش کے بینکوں سے 150 کروڑ روپے نکالے جاچکے ہیں۔کلون چیکوں کے معاملے میں جانچ کررہی یو پی ایس ٹی ایف کو اس نئے دھندے کے سراغ ملے ہیں۔ اس ریکٹ کے تار کانپور، چنئی سے لیکر کلکتہ سے جڑے ہیں۔ یوپی ایس ٹی ایف نے اس سال 1 جولائی اور پھر20 اگست کو کلون چیک ریکٹ کے ایجنٹوں کو گرفتار کیا ہے۔ اس میں کانپور کا تہلا انصاری عرف ٹی پی شامل ہے، جو ایس ٹی ایف کے ذریعے مطلوب ہے۔ کلکتہ میں مبین دادا نامی شخص کے ذریعے بھی ایجنٹوں کا جال دیش بھر میں پھیلے ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔ ایس ٹی ایف ذرائع نے بتایا کہ گروہ کے تار آئی ایس آئی سے بھی جڑے ہیں۔ ایک سرویلنس کے ذریعے ہاتھ لگے ثبوت کی مانیں تو گرفتار ایجنٹوں کو کولکتہ تو کبھی بنگلورو میں بیٹھے حوالہ آپریٹروں نے کام کے عوض رقم پہنچا ئی ہے۔ ایجنٹوں کی دہلی اور لدھیانہ سے لیکر بنگلورو اور پھر چنئی تک فرضی کھاتے کھولنے کے لئے ہوائی ٹکٹ مہیا کرائے جاتے ہیں۔ یہ معاملہ سی بی آئی بینکنگ جعلسازی برانڈ کو دیا جاسکتا ہے کیونکہ ایس ٹی ایف کے پاس محدود اختیارات ہیں ایسے میں اڑائے گئے کروڑوں روپے کسی بڑے تاجر کے پرانے چیکوں سے دستخط کے نمونے کاپی کئے گئے، نمبر دو دور دراز شہر میں اسی بینک میں فرضی نام پتے سے بینک کھاتے کھولے جس کے کھاتے سے رقم نکلنی ہے۔ نمبر تین، نیاچیک لیکرمائیکرو کوڈ و کھاتہ نمبر بدلے، پھر ان کے دستخط سے لاکھوں روپے بھر کر نیا چیک بنایا اور اس چیک کو اپنے فرضی نام پتے تھے کھولے گئے کھاتے میں جمع کروایا۔ رقم کیش ہوتے ہی رقم نکالی گئی، رقم کہاں گئی کسی کو معلوم نہیں؟ کئی چیکوں کی رقم کو کچھ ایسے کھاتوں میں ٹرانسفر کرایا گیا جن کا فی الحال کچھ پتہ لگانے کی جانچ چل رہی ہے۔کچھ کھاتے تو مسلسل فرضی پائے جارہے ہیں مثلاً لکھنؤ کے ایک پرائیویٹ بینک سے نکلی15 لاکھ روپے کی رقم ایک خاتون کے کھاتے میں ٹرانسفر ہوئی۔ ٹرانسفر کرنے پر کھاتہ دار کو 70 ہزار روپے کا کمیشن دیا گیاباقی رقم حوالہ ریکٹ کے ذریعے آئی ایس آئی تک پہنچنے کا شبہ ہے۔ ایس ٹی ایف کے مطابق گروہ نے فیض آباد میں واقع کے ایم شگر مل کے بینک کھاتے تھے 8.80 لاکھ روپے نکالے گئے ۔ یہ رقم للت پور میں پنجاب نیشنل بینک کی برانچ سے نکالی گئی۔ اسی طرح پنے کے شرڈی سائیں ٹرسٹ سے8.22 لاکھ روپے نکالے گئے۔ایس ٹی ایف کے ذریعے گرفتار ایجنٹوں نے اعتراف کیا ہے کہ ہر ایک گروپ کو سینکڑوں کلون چیک بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ 20 اگست کو گرفتارندھیش اور 1 جولائی کو پکڑے گئے شانو نے ہی صرف 800 کلون چیک تیار کئے تھے۔ ایس ٹی ایف اب مبین دادا اور تہلا انصاری کے بنگلہ دیش و نیپال میں روابط کی چھان بین کررہی ہے۔اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد سرکار کے لئے ایک نیا درد سر پیدا ہوگیا ہے۔

(انل نریندر)

پہلے لوک سبھا اب ڈوسو چناؤ میں مودی کوملا مینڈیٹ!

دہلی یونیورسٹی اسٹوڈینٹ یونین کے چناؤ میں بھاجپا حمایتیاسٹوڈینٹ ونگ اکھل بھارتیہ ودھیارتھی پریشد (اے بی وی پی) 17 سال بعد سبھی چاروں سیٹوں پر اپنا قبضہ جماتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ اس سے پہلے اس تنظیم نے 1997-98 ء میں چاروں سیٹیں جیتی تھیں۔ کانگریس حمایتی این ایس یو آئی، دوسرے آئیسا تیسرے مقام پر رہی۔ سوائے ڈوسو صدر کے عہدے پرمقابلہ کانٹے کا رہا۔ باقی تین پر اے بی وی پی نے ایک طرفہ کامیابی حاصل کرتے ہوئے این ایس یو آئی کا صفایا کردیا۔ آئیسا کو بھی بھاری جھٹکا لگا ہے۔ اس جیت کی ایک بڑی وجہ نریندر مودی فیکٹر بھی مانا جارہا ہے۔ ڈوسو چناؤ میں پہلی بار بی جے پی کے ایم ایل اے اور پریشد بھی سرگرم رہی۔ مودی لہر پر ووٹ مانگے گئے تھے اس بھاری کامیابی نے دہلی بھاجپا کی بانچھیں کھلا دی ہیں اور پچھلے تین دنوں سے کچھ دفاعی انداز میں آئے بھاجپا کے نیتا پھر جارحانہ انداز میں دکھائی دے رہے ہیں اور اس کامیابی کو بھی وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے جوڑتے ہوئے دہلی کی عوام کا کانگریس سے ہر سطح پر کریز ختم ہونے کی بات کررہے ہیں۔ وہیں کانگریس کی اسٹوڈینٹ ونگ این ایس یو آئی کی ہار سے ان کے لیڈرضرور سکتے میں ہیں کیونکہ انہیں لگرہا تھا کہ اگر اسٹوڈینٹ یونین چناؤ میں دو سیٹوں پر بھی ان کو جیت مل جاتی تو وہ دباؤ بنانے کی پوزیشن میں آجائیں گے جس میں کہیں گے کے نوجوانوں کامودی اور بھاجپا سے کریز ختم ہوناشروع ہوگیا ہے ۔ دہلی میں سرکار کی تشکیل پر غیر یقینی صورتحال کے درمیان اسمبلی انتخابات سے کترا رہی بھارتیہ جنتا پارٹی کیلئے یہ کامیابی اہم ہے۔اس سے پارٹی میں نیاجوش اور اعتماد پیدا ہوا ہے۔ دہلی بی جے پی کے چیف ستیش اپادھیائے کہتے ہیں کہ اس جیت پر مودی کا اثر صاف دکھائی پڑ رہا ہے۔ اگر چناؤ ہوتے ہیں تو بھاجپا کو دہلی میں مکمل اکثریت ملے گی۔ دوسری طرف کانگریس کیلئے یہ چناؤ ایک اور زبردست شکست ہے۔ دہلی میں پھرسے اپنی زمین بحال کرنے کا خواب لے رہی کانگریس کیلئے ایک اور جھٹکا ہے۔ پچھلے 17 سالوں میں ایسا پہلی بار ہوا ہے جب اس کی اسٹوڈینٹ ونگ کے سبھی چاروں عہدیداروں کو بری ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ کانگریس کے دہلی پردھان اروندر سنگھ لولی کے لئے بھی نتیجے مایوس کن رہے کیونکہ لوک سبھا چناؤ میں ساتوں سیٹوں پر کانگریس کے تیسرے نمبر پر رہنے کے بعد اس چناؤ میں امیدتھی لیکن ان کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا۔ دیش میں لوک سبھا یا اسمبلی چناؤ سے پہلے ڈوسو چناؤ ایگزٹ پول مانتے جاتے ہیں۔ اے بی وی پی کی زبردست کامیابی سے جہاں ایک طرف دہلی بھاجپا یونٹ کو دہلی میں سرکار بنانے کیلئے حوصلہ ملے گا وہیں ہریانہ میں 15 اکتوبر کے چناؤ میں بھی ان نتیجوں کا اثر پڑے گا۔ ایسے میں مودی لہر ابھی قائم رہنے کاٹیلر دیکھنے کے بعد دونوں ریاستوں کی یونٹیں پوری فلم دیکھنے کیلئے کافی امید لگائے ہوئے ہوں گی۔ ڈوسو میں تواے بی وی پی نے سنیچروار کو کامیابی درج کرائی لیکن جی این یو اسٹوڈینٹ فیڈریشن کے چناؤ میں بھی سال 2000 کے بعد اس سال لال جھنڈہ سیند لگانے میں کامیاب رہا۔ کل ملاکر یہ جیت بھاجپا کے لئے اہم اشارہ ہے۔ دہلی کی عوام نے پہلے لوک سبھا چناؤ میں اور پھر اب ڈوسو چناؤ میں مودی پر پورا بھروسہ جتایا ہے۔
(انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...