18 فروری 2017

دوسرے مرحلہ میں بمپر ووٹنگ سے چونکانے والے نتیجے آسکتے ہیں

اترپردیش اسمبلی چناؤ کے تیسرے مرحلہ میں 12 اضلاع میں 69 سیٹوں پر 19 فروری کو ووٹ پڑیں گے۔اس مرحلہ میں کئی انتہائی اہمیت کے حامل شہر شامل ہیں جیسے فروخ آباد، ہردوئی، قنوج، مین پوری، اٹاوہ، اوریہ، کانپوردیہات، کانپورشہر، اناؤ، لکھنؤ، بارہ بنکی اور سیتا پور ہیں۔ یہاں سنیچر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ کل 826 امیدوار میدان میں ہیں۔ سپا ۔بسپا کا گڑھ مانے جانے والے علاقہ ہیں یہاں سال 2012ء میں سپا کو 69 میں سے 55 سیٹیں ملی تھیں۔ لہٰذا اس مرحلہ میں ترکش کے ہرتیر آزمائے جارہے ہیں، ایڑھی چوٹی کا زور لگادیا گیا ہے۔ دوسرے مرحلہ میں بھاری پولنگ سے سبھی متعلقہ پارٹیاں تھوڑا فکر مند ضرور ہیں۔یوپی اسمبلی چناؤ کے دوسرے مرحلہ میں بدھوار کے روز 65.16 فیصدی ووٹنگ ہوئی تھی۔ یہاں 11 اضلاع کی 67 سیٹوں کے لئے ووٹ ڈالے گئے تھے ۔ وہیں اتراکھنڈ میں 69 سیٹوں کے لئے تقریباً 70 فیصدی لوگوں نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ پچھلی بار سے 19فیصد ووٹ بڑھے تو سپا کی سیٹیں 17 سے بڑھ کر 34 ہوگئی تھیں ۔ اس مرتبہ صرف 0.28 فیصد ووٹ بڑھا ہے۔ 
مغربی یوپی و روہیل کھنڈ کی زیادہ سیٹوں پر بدھوار کو عام طور پر سہ رخی مقابلہ نظر آیا۔ سپا۔ بھاجپا اور بسپا کی نظریں بڑھی پولنگ اور مسلمانوں کی ووٹنگ کے ٹرینڈ اور پیٹنٹ پرلگی رہیں۔ بدھوار کو جہاں پولنگ ہوئی ہے ان میں 47 مسلم اکثریتی سیٹیں ہیں ان میں سہارنپور، بجنور، مراد آباد، امروہہ، سنبھل، رام پور اور بریلی پرمشتمل 37 سیٹوں پر 30 فیصد سے زیادہ مسلم ووٹر ہیں۔ وہیں 17 سیٹوں پر 20 سے 29 فیصدی کے درمیان مسلم ووٹ ہیں۔ سپانیتاؤں کا کہنا ہے کہ مسلمان ہی نہیں سبھی طبقات کے ووٹروں کو راہل۔ اکھلیش کا ساتھ پسند آیا ہے۔ حالانکہ کہیں سائیکل کی رفتار تیز رہی تو کہیں کمل کھلا۔ کئی جگہ ہاتھی مست چال سے بڑھتا دکھائی دیا۔ سپا ۔ کانگریس خیمہ پولنگ کے رجحان سے خوش ہے۔ اس کا دعوی ہے کہ مسلمانوں نے فرقہ وارانہ طاقتوں کو ہرانے کے لئے اکھلیش۔ راہل کی جوڑی کو پسند کیا ہے۔ اس سے سہارنپور سمیت کئی اضلاع میں سیاسی تجزیئے بدلیں گے۔ سہارنپور ایک واحد ضلع ہے جہاں 2012ء میں سپا کا کھاتہ نہیں کھلاتھا۔ اس مرتبہ یہاں زیادہ تر سیٹوں پر اہم مقابلہ سپا ۔ کانگریس اتحاد ، بھاجپا اور بسپا کے درمیان مانا جارہا ہے۔ سہارنپور ،بجنور، امروہہ، مراد آباد، سنبھل، رام پور ،بدایوں، بریلی، شاہجہانپور، پیلی بھیت، لکھیم پور کھیری وغیرہ میں پولنگ کا رجحان تقریباً ایک جیسا ہی رہا۔ اس کا بڑا حصہ ہاتھی پر سوار نظر آیا۔ بسپا نے دلت ۔مسلم تجزیئے کو مرکز میں رکھ کر حکمت عملی بنائی ہے۔ نتیجے بتائیں گے کہ یہ تجزیئے کتنے ہٹ ہوتے ہیں؟ بسپا دوسرے مرحلہ میں بھی آگے رہنے کا دعوی کررہی ہے۔ بھاجپا کو پولارائزیشن سے کامیابی ملنے کی امیدہے۔ سہارنپور سے لیکر پیلی بھیت تک کئی سیٹوں پر ووٹوں کا پولارائزیشن ہوتا دکھائی دیا۔ اسی لائن پر چل کر بھاجپا نے لوک سبھا چناؤ میں بڑی کامیابی حاصل کی ۔ حالانکہ اب 2014ء جیسی لہر نہیں ہے پھر بھی ووٹوں کے پولارائزیشن سے بھاجپا خیمے میں راحت محسوس کی جارہی ہے۔ اس کا امید ہے کہ اسے دوسرے مرحلہ میں اچھی کامیابی ملے گی۔ کئی سیاسی تجزیہ نگاروں کا اندازہ تھا کہ مسلمان حکمت عملی پولنگ (ٹیکٹیکل ووٹنگ) کریں گے لیکن عام طور پر ایسا شاید نہیں ہوا۔ 
جن ووٹوں کا بٹوارہ سپا۔ بسپا میں ہوا ۔بسپا کے پاس ووٹ ہونے کی وجہ سے کئی سیٹوں پر مسلمان اس کے ساتھ گئے لیکن کئی جگہ نہ جانے کی بھی قیاس آرائیاں لگ رہی ہیں۔ وہیں اتراکھنڈ میں 68 فیصدی پولنگ ہوئی جو اب تک کی سب سے زیادہ مانی جارہی ہے۔ 2012ء میں 66.17 پولنگ ہوئی تھی ۔ پچھلی مرتبہ صرف2.45 فیصد ووٹ بڑھنے سے سرکار بدل گئی تھی۔ کانگریس کو32 اور بھاجپا کو 31 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔ سرکار کانگریس کی ہے اور مقابلہ بھاجپا سے۔ دوسرے مرحلہ کی کئی سیٹوں پر کانگریس اور بھاجپا کے کئی باغی بھی میدان میں ہیں۔ رجحان کے مطابق کئی سیٹوں پر یہ بھاجپا اور کانگریس کے اندازوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ پولنگ پیٹرن کو دیکھ کر اتراکھنڈ میں لگ رہا ہے کچھ بڑے نیتاؤں کا کھیل بھی بگڑ سکتا ہے اور چناؤ میں غیر متوقعہ نتیجے آسکتے ہیں۔ کچھ نیتاؤں کا خیال ہے کانگریس ۔بھاجپا کی سیٹوں میں زیادہ فرق ہونے کا چانس کم نظر آرہا ہے اور اگر ایسا ہوا تو دوسرے امیدواروں کے پاس اقتدار کی چابی آسکتی ہے۔ 
کانگریس ممبر اسمبلی رہے و نیتا بی جے پی کے ٹکٹ پر چناؤ لڑ رہے ہیں۔ ان سیٹوں پر سب کی نظریں ہیں۔ آخر میں یوگ بابا رام دیو کے بیان کے بعد سیاسی زلزلہ آگیا ہے۔ بابا رام دیو نے کہا چناؤ نتیجے سے بھونچال آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ اچھے اچھے لوگ اس چناؤ میں نمٹ جائیں گے۔ اقتدار کے گلیاروں میں اور اپوزیشن خیمے میں ان کے بیان کو بھاجپا سے بے رخی کی شکل میں دیکھا جارہا ہے۔ انہوں نے یہ بیان ایسے موقعہ پر کیوں دیا، اسے لیکر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ یوپی کے دوسرے مرحلہ میں 69 سیٹوں پر ہوئی ووٹنگ میں کانٹے کی ٹکر دکھائی دے رہی ہے۔ پچھلے اسمبلی چناؤ میں کانگریس نے 70 میں سے32 سیٹیں اور بھاجپا نے 31 سیٹیں جیتی تھیں۔ بی ایس پی کے کھاتہ میں 3 ، یو کے ڈی کے کھاتہ میں 1 اور دیگر کے کھاتے میں 3 سیٹیں گئیں تھیں۔
(انل نریندر)

17 فروری 2017

اسرو نے 104 سیٹلائٹ ایک ساتھ چھوڑ کر تاریخ بنائی

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے بدھوارکو ایک ہی راکٹ سے ریکارڈ 104 سیٹلائٹ کا کامیاب تجربہ کرکے تاریخ بنائی۔ پچھلا ریکارڈ روس کے نام تھا جس نے 2014ء میں ایک بار 37 سیٹیلائٹ چھوڑے تھے۔ ان میں 104 سیاروں میں 3 غیر ملکی اور باقی 6 دیشوں کے ہیں۔ سب سے زیادہ96 امریکی سیٹلائٹ ہیں۔ نئے کارنامے سے بھارت اربوں ڈالر کی اسپیس انڈسٹری میں بڑے ٹھیکے حاصل کرسکے گا۔ پی ایس ایل وی سی۔37 کے ذریعے ایک ساتھ 104 سیٹلائٹ کو کامیابی کے ساتھ طے وقت سے زمین کے مدار میں قائم کرنا انتہائی مشکل کام تھا اس لئے اس میں سیاروں کے سب سیٹلائٹ کے آپس میں ٹکرانے کاخطرہ تھا لیکن ہمارے قابل سائنسدانوں نے ان کے مختلف ملکوں میں یقینی وقت کے فرق سے داغنا طے کر ان خطروں کے خدشات کو ختم کردیا تھا۔ اسرو کے سائنسدانوں کی یہ صلاحیت مغربی دیشوں کے وسائل سے آراستہ اداروں و انکے ٹیلنٹ سائنسدانوں کے مقابلے میں کافی تجربہ کار ہیں۔ تین دیسی سب سٹیلائٹ میں دو نینو اور ایک کارٹوسنٹ۔2 سیریز کا مین سیٹلائٹ ہے۔ یہ خاص طور پر موسم پر نگاہ رکھنے کیلئے ہے حالانکہ اس سے چین ۔ پاک کے علاقوں میں زمین پر ایک میٹر تک کی ہائی ریزولوشن تصویریں لی جاسکیں گی۔ بھارت نے تجرباتی سیکٹر میں اس روس کوپچھاڑدیا ہے جس کو خلائی ریسرچ کا خالق کہا جاتا ہے۔ اس نے ہی 2014ء میں ایک راکٹ سے 39 سیٹلائٹ کو چھوڑنے کا ریکارڈ بنایا تھا۔ جواب میں اسرو نے اس کے اگلے ہی سال 23 سیٹلائٹ کو ایک ساتھ خلا میں قائم کرکے روسی ریکارڈ کا نہ صرف پیچھا کرنے کی کوشش کی بلکہ جلد ہی نیاریکارڈ بنا کر اپنا مضبوط منصوبہ جتادیا تھا۔ اس کے پہلے پی ایس ایل وی سے لانچ کا خرچ 100 کروڑ روپے ہوا کرتا تھا۔ سائنسدانوں کے مطابق انٹرکس نے ان سیٹلائٹ کے لئے 200 کروڑ روپے کی ڈیل کی ہے یعنی اسے قریب100 کروڑ روپے کی بچت ہے۔ ڈاکٹر ڈی پی کانک (ترجمان اسرو) کے مطابق اسرو کا مقصد ریکارڈ بنانا نہیں ہم صرف اپنی لانچنگ صلاحیت جانچناچاہتے ہیں۔ اس کی کامیابی سے کمرشل لانچنگ میں بھارت کی پہچان اور مضبوط ہوگی۔ امریکہ، چین اور یوروپ کے مقابلے میں بھارت 66 گنا سستا ہے۔ بھارت میں سیٹلائٹ کی کمرشل لانچنگ دنیا میں سب سے سستی پڑتی ہے۔ اتنا ہی نہیں بھارت کے ذریعے سیٹلائٹ لانچ کرنا یہاں تک کہ روس سے بھی چار گنا سستا پڑتا ہے۔ روس کی لانچنگ 455 کروڑ کی ہوتی ہے، امریکہ کی 381 کروڑ اور جاپان ۔چین میں تو یہ6692 کروڑ کے حساب سے ہوتی ہے۔ ہم اسرو کے تمام سائنسدانوں کو اس شاندار کامیابی پر مبارکباد دیتے ہیں ۔ انہوں نے ہرہندوستانی کا سر فخرسے اونچا کردیا ہے۔
(انل نریندر)

سپریم کورٹ کا ویاپم گھوٹالہ پر دور رس فیصلہ

مدھیہ پردیش کے کمرشل ٹیسٹ منڈل (ویاپم) کے ذریعے منعقدہ اینٹرینس ٹیسٹ کے ذریعے میڈیکل کالجوں میں غلط طریقے سے داخلہ پانے والے 634 طلبا کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے سے اتنا تو ثابت ہی ہوجاتا ہے کہ ویاپم کی آڑ میں کس طرح سے رسوخ دار لوگ اپنے مفادات کی تکمیل کرتے رہے ہیں۔ میڈیکل کے 634 طلبہ کو جھٹکا دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے ویاپم ٹیسٹ کے ذریعے ایم بی بی ایس نصاب میں ان کا داخلہ منسوخ کرنے کو صحیح ٹھہرایا ہے۔عدالت نے مناسب وسائل کو اپنائے جانے کی ان کی سرگرمی کو ایک بزدلانہ حرکت قراردیا ہے۔ میڈیکل کالجوں میں داخلہ میں اس پیمانے پر گھوٹالہ کا یہ پہلا معاملہ ہے جس میں طلبا سے لاکھوں روپے لیکر یا تو نقل کروائی گئی تھی یا ان کی او ایم آر شیٹ بدل دی گئی تھی۔ چیف جسٹس جے ۔ ایس ۔ کھیرکی رہنمائی والی تین ججوں کی بنچ نے کہا کہ ہمارے نظریئے سے شخصی اور سماجی فائدے کیلئے قومی کردار کی بلی نہیں دی جاسکتی۔ اگرچہ ہم اخلاقیات اور کردار کی کسوٹی پر ایک قوم کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں اگر ہمارا عزم ایک ایسے دیش کی تعمیر ہے جہاں صرف قانون کا راج ہو تب ہم تجویز کردہ سماجی فائدے کے لئے اپیل کنندگان کے دعوے کو قبول نہیں کرسکتے۔ ہم آئین کی دفعہ 142 کے تحت اسی طرح کا فائدہ عرضی کنندگان کو فراہم کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ موجودہ معاملہ بڑے پیمانے پر دھوکہ دھڑی اجاگر کرتا ہے۔ اگر اپنائی گئی یہ کارروائی منظور کرلی جاتی ہے تو یہ نہ صرف لاپروائی ہوگی بلکہ غیر ذمہ داری بھی ہوگی۔ اس سے دیگر لوگ بھی یہی راستہ اپنانے کے لئے حوصلہ افزا ہوں گے۔ سپریم کورٹ نے سال2008 ء سے 2012ء کے درمیان میڈیکل کالجوں میں غلط طریقوں سے داخلہ پانے والے طلبا کا داخلہ منسوخ کردیا ہے جس سے اب انہیں ڈگریاں نہیں ملیں گی۔ اس فیصلے کی زد میں آئے ان طلبا کا مایوس ہونا فطری ہے مگر کیا وہ واقعی اتنے مایوس تھے جیسا کہ عدالت کے فیصلے نے تبصرہ کیا ہے۔ انہیں پتہ نہیں تھا کہ نقل کرنے کا انجام کیا ہوسکتا ہے؟ اور پھر ان طلبا نے جن ٹیلنٹ یافتہ طلبا کا حق مارا ہے ان کے ساتھ انصاف کس طرح ہوگا؟ یہ سبھی جانتے ہیں کہ میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں کے اسٹیٹ ٹیسٹ میں کس طرح مقابلہ ہوتا ہے اور اس کے لئے طلبا کو کتنی سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔ جن لوگوں نے یہ اشو اٹھایا تھا ان کا کہنا ہے کہ ویاپم میں گڑبڑیاں 1997ء سے چلی آرہی ہیں لیکن کیونکہ ان برسوں کا ریکارڈ دستیاب نہیں ہے اس لئے 2008 کے بعد سے معاملہ کی جانچ ہوئی ہے۔
(انل نریندر)

16 فروری 2017

اماں کی وراثت کیلئے گھمسان

پچھلے کئی دنوں سے تاملناڈو کی وزیر اعلی بننے کی جگت میں لگی انا ڈی ایم کے کی سکریٹری جنرل و جے للتا کی سہیلی ششی کلا نٹراجن کا خواب اس وقت چکنا چور ہوگیا جب سپریم کورٹ نے 27 سال پرانے آمدنی سے زیادہ اثاثہ بنانے کے معاملے میں انہیں 4 سال کی جیل کی سزا سنا دی۔ اسی کے ساتھ وہ اب10 سال تک چناؤ لڑنے کیلئے بھی نا اہل ہوگئی ہیں۔ تازہ اطلاع ملی ہے کہ ششی کلا کی ضمانت کی عرضی سپریم کورٹ نے خارج کردی ہے اور اب انہوں نے بینگلورو میں سرنڈر کردیا ہے۔انا ڈی ایم کے اور تاملناڈو کی سابق وزیراعلی جے للتا کی موت کے دو مہینے کے اندر ہی ان کی وراثت کو لیکر شروع ہوئے گھمسان میں روز روز نئے موڑ آرہے ہیں۔ ان کی موت کے بعدانا ڈی ایم کے ممبران کی اکثریت ان کی قریبی سہیلی ششی کلا کے ساتھ تھی اور اگر سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ نہ آتا تو ان کا وزیر اعلی بننا تقریباً طے تھا لیکن اب وہ جیل چلی گئی ہیں۔ حالانکہ چار سال کی سزا کے خلاف جوڈیشیل نظرثانی کی عرضی لگا سکتی ہیں اس کے علاوہ اس فیصلے سے 10 سال چناؤ لڑنے کے نا اہل ہونے سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ وزیراعلی بننے کی دوڑ سے باہر ہوچکی ہیں۔ تیزی سے بدلے حالات میں ششی کلا حمایتی ممبران نے ریزورٹ ہی میں جے للتا کے قریبی اڈاگڈی کے پلانی سوامی کو اسمبلی پارٹی کا نیا نیتا چن لیا ہے اور انہوں نے گورنر سے ملاقات کرکے دعوی پیش کردیا تھا۔ ششی کلا نے پنیر سیلوم سمیت 20 نیتاؤں کو پارٹی سے باہر کر یقینی کرنے کی کوشش کی کہ پلانی سوامی کے وزیر اعلی بننے میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ ادھر پنیر سیلوم نے کہا کہ ششی کلا کو انہیں پارٹی سے نکالنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ 234 ممبران اسمبلی میں دونوں گروپ کی حمایت میں کتنے ممبران ہیں۔ بتادیں تاملناڈو اسمبلی میں انا ڈی ایم کے کے 134 ممبر ہیں معاملہ اب گورنر کی کورٹ میں آگیا ہے۔ موجودہ سیاسی اتھل پتھل کے دور میں اب سب کی نظریں راج بھون پر لگی ہیں۔ گورنر کے پاس موٹے طور پر چار متبادل بچتے ہیں۔ پہلا پلانی سوامی کو سرکار بنانے کے لئے بلائے، اکثریت ان کے لئے بھی چیلنج بھری ہوگی کیونکہ ششی کلا کے خیمے کے کچھ ممبر اسمبلی پنیر سیلوم کے ساتھ جا سکتے ہیں۔ دوسرے پنیرسیلوم کو وزیر اعلی کی شکل میں ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کو کہیں، اگر وہ اکثریت کے لائق ممبر اسمبلی نہیں لے سکے تو ڈی ایم کے باہر سے حمایت دے سکتی ہے۔ تیسرے دونوں کو ایک ساتھ اکثریت ثابت کرنے کو کہیں۔ اٹارنی جنرل مکل روہتکی بھی اس کے حمایتی رہے ہیں اور آخری متبادل ہے اسمبلی کو معطل کردیں اور صدر راج لگادیں۔ بیشک بی جے پی کے لئے یہ متبادل مفید ہوگا لیکن یہ آخری متبادل ہونا چاہئے۔فلور ٹیسٹ میں فیصلہ کیا جائے۔
(انل نریندر)

یوپی چناؤ میں کس کس کی ساکھ داؤ پر لگی ہے

اترپردیش میں شروع ہوئے اسمبلی انتخابات یوں تو ہمیشہ سے ہی دلچسپ رہے ہیں لیکن 2017ء کا چناؤ جنتجزیوں اور اتحاد وں کے درمیان ہورہا ہے اس کی بحث سیاست میں دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کی زبان پر ہے۔ وزیر اعلی اکھلیش یادو نے کہا ہے یہ چناؤ دیش کی سیاست میں تبدیلی کا ہے۔ اترپردیش کے چناوی میدان میں دل اور حالات بہاراسمبلی ، اسمبلی چناؤ سے الگ ضرور ہیں لیکن لڑائی میں بہار کا تجربہ صاف دکھائی دے رہا ہے۔ بہار کی ہار سے سبق لے کر بھاجپا نے اگر اپنی سیاست میں تھوڑی تبدیلی کی ہے تو بہار میں مہا گٹھ بندھن کی جیت سے اپنی صلاحیت کو ثابت کر چناوی حکمت عملی ساز پرشانت کشور بھاجپا کوگھیرنے کے لئے بہار کی طرز پر چکرویو رچ رہے ہیں۔ سپا ۔کانگریس کے درمیان اتحاد سے لیکر راہل گاندھی اور اکھلیش یادوکی مشترکہ ریلیاں اور روڈ شو اس حکمت عملی کا ہی حصہ ہیں۔ کچھ تبدیلی بہرحال ضرور ہے جہاں بہار میں اتحاد کے لیڈروں سونیا گاندھی، نتیش کمار و لالو پرساد یادو نے نہ صرف ایک مشترکہ ریلی میں حصہ لیا تھاوہیںیوپی میں راہل۔ اکھلیش مسلسل مشترکہ ریلیاں و روڈ شو کررہے ہیں۔اترپردیش کے پہلے دور کی پولنگ ہوچکی ہے اس میں سبھی اپنی جیت کا دعوی کررہے ہیں کریں بھی کیوں نہ؟ سبھی کی عزت اور ساکھ داؤ پر لگی ہے۔ 2017 ء کے چناؤ میں جیت اکھلیش یادو کو سماجوادی پارٹی کے غیرمتنازعہ لیڈر کے طور پر قائم کردے گی اور قومی سطح پر ان کا قد بھی بڑھ جائے گا۔ اکھلیش نے اس چناؤ میں کوئی خطرہ نہ مول لیتے ہوئے یادو کنبے میں چلی بالادستی کی لڑائی کے چلتے نقصان کی تکمیل کیلئے کانگریس کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ یہ چناؤ کانگریس کے لئے بھی ریاست میں اپنا وجود بنائے رکھنے کا سوال ہے۔ چناؤ میں کامیابی ملی تو راہل گاندھی تین بڑی ریاستوں گجرات، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بی جے پی کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں آجائیں گے۔ اگر کانگریس اچھی کارکردگی دکھاتی ہے تو راہل گاندھی کی لیڈرشپ پر منظوری کی مہر لگ جائے گی۔جہاں تک بی جے پی کی بات ہے تو یوپی کے نتیجے کا سیدھا اثر 2019 ء کے لوک سبھا چناؤ پر پڑ سکتا ہے۔ کم فرق سے ملی جیت بھی مودی کی پالیسیوں پر مہر لگانے کا کام کرے گی۔ خاص طور پر نوٹ بندی پر۔ عام طور پر کہا جارہا ہے کہ پارٹی اپنے 2012ء کی کارکردگی کو سدھارنے والی ہے جب اسے محض 47 سیٹیں ملی تھیں۔ اگر پارٹی کواکثریت نہیں ملتی تو اس کا سیدھا اثر پی ایم مودی کی ساکھ پر پڑے گا اور پارٹی میں اندرونی رسہ کشی کو بڑھاوا مل سکتا ہے۔ اس کا سیدھا اثر پارٹی صدر امت شاہ کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ اب بات کرتے ہیں بہن جی کی ۔ 2014ء کے چناؤ سمیت لگاتار دو چناوی ہار کے بعد اگر موجودہ اسمبلی چناؤ میں بھی مایاوتی کی پارٹی بی ایس پی کو ہار کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو پارٹی ایک بار پھر سے 1990ء کے اس دور میں پہنچ جائے گی جس میں اسے سرکار بنانے کے لئے دوسری پارٹیوں کا منحصر رہنا پڑتا تھا۔ چناوی ہار سے بی ایس پی کے بانی کانشی رام کے اس بہوجن آندولن کیلئے ایک بڑا جھٹکا ہوگا جس کے تحت انہوں نے دلتوں اور پسماندہ اور مسلمانوں کو ساتھ لینے کی کوشش کی تھی۔ چناؤ میں ہار کے بعد مایاوتی کے لئے اپنے دلت ووٹ بینک پر پکڑ بنائے رکھنا کافی مشکل ہوگا۔ مایاوتی اس بار دلت ۔مسلم ۔ براہمن اتحاد کے سہارے 2007ء کی کارکردگی دوہرانے کی کوشش کررہی ہیں لیکن اس بار وہ مسلمانوں کو اپنی طرف لانے کے لئے کافی جدوجہد میں لگی ہیں جوعام طور پر ملائم کی سماجوادی پارٹی کے ساتھ جاتے ہیں۔ اس بار سپا ۔ کانگریس اتحاد بھی مسلمانوں کے لئے کافی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ پہلے اور دوسرے دور کی پولنگ ہوچکی ہے سبھی پارٹیوں کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔
(انل نریندر)

15 فروری 2017

راؤنڈ ون پورا اب نظریں دوسرے راؤنڈ پر

یوپی کے اسمبلی چناؤ کے دوسرے دوسرے میں بدھوار کو 66 اسمبلی کی سیٹوں پر ووٹ پڑیں گے۔ چناؤ پرچار رک چکا ہے۔ اس دور میں سہارنپور، بجنور، مراد آباد، سنبھل، رامپور، بریلی ، امروہہ، پیلی بھیت، شاہجہاں پور اور بدایوں سیٹوں پر ووٹ پڑیں گے۔یہاں مسلم ووٹوں کی خصوصی اہمیت ہے۔ پہلے دور کی ووٹنگ کے بعد اب سبھی پارٹیوں کی نظریں اس دور پر لگ گئی ہیں۔ ویسے تو اس راؤنڈ میں 67 سیٹوں پر چناؤ ہونا تھا لیکن ایک سیٹ پر سپا امیدوار کا انتقال ہونے کی وجہ سے چناؤ ملتوی کردیا گیا ہے۔ پہلے دور میں سبھی علاقوں میں 2012ء کے مقابلے میں زیادہ ووٹنگ ہوئی ہے۔ اس زیادہ ووٹنگ کا اثر کس پر کتنا پڑ سکتا ہے اس کا تجزیہ کیا جارہا ہے۔ جاٹھ طبقہ ، دلت اور مسلم سبھی کی بیلٹ میں 8 سے لیکر14 فیصد زیادہ ووٹنگ کی خبریں ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی ریلیوں میں امڑ رہی بھیڑ اور مودی کے دھنواں دھار بھاشنوں سے اترپردیش و اتراکھنڈ میں بھاجپا کارکن کی ہمت بڑھی ہے یہی وجہ ہے کہ بھاجپا صدرامت شاہ کہہ رہے ہیں کہ یوپی چناؤ کے پہلے دو مرحلوں میں پارٹی 140 سیٹوں میں سے 90 سے زیادہ سیٹ جیت رہی ہے۔ جہاں تک پہلے مرحلہ میں ووٹروں کے رجحان کی بات ہے تو بھاجپا 50 سے زیادہ سیٹیں جیت رہی ہے۔ امت شاہ کے مطابق پہلے دو مرحلوں میں بھاجپا کا مین مقابلہ بہوجن سماج پارٹی سے رہا جبکہ آگے کے مرحلوں میں مقابلہ سپا ۔ کانگریس گٹھ بندھن سے رہے گا۔ وہیں راشٹریہ لوکدل صدر چودھری اجیت سنگھ نے دعوی کیا ہے کہ پہلے دور کی ووٹنگ میں بھاجپا کا سوپڑا صاف ہونے کے ساتھ ہی لوکدل کی لہر نظر آرہی ہے۔ بھاجپا کے نام کی نئی وضاحت کرتے ہوئے اجیت سنگھ نے اس کا نام ’بھارتیہ جملہ پارٹی‘ بتایا۔ وہیں بہوجن سماج پارٹی سپریمو مایاوتی نے میڈیا کی سروے رپورٹوں کو سرے سے خارج کرتے ہوئے کہا کہ آپ ان سب کے جھانسوں میں نہ آئیں۔ یہ ایک منصوبہ بند سازش ہے۔ سوشری مایاوتی نے دعوی کیا کہ آپ لوگ مطمئن رہیں، اسمبلی چناؤ کے بعد پردیش میں بسپا کی ہی سرکار بنے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یادگاریں بنانے کے کام کو بسپا گزشتہ دورِ کار میں بخوبی انجام دے چکی ہے۔ اس بات صرف جنتا کے وکاس سے جڑے کاموں پر ہی دھیان دیا جائے گا۔ مایاوتی نے کہا کہ امت شاہ اصل میں بسپا کو ملنے والی سیٹیں بتا رہے تھے اور ان کے چہرے کی رنگت اڑی ہوئی تھی۔ پہلے دور کی ووٹنگ کی بنیاد پر سپا اور کانگریس کی طرف سے کوئی بیان کھل کر نہیں کررہا ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پہلے مرحلہ کی ووٹنگ میں مسلموں کی پہلی پسند سپا۔ کانگریس گٹھ بندھن رہا ہے۔ دوسری پارٹیوں کے مسلم امیدواروں کے ہونے کے باوجود ان کا جھکاؤ سپا یا کانگریس کی طرف رہا۔ سپا کے حق میں مسلموں کے رجحان سے بھاجپا کو ووٹوں کی گول بندی میں آسانی رہی۔ سپا ،بسپا کے بیچ کئی سیٹوں پر مسلمان ووٹوں کا بٹوارہ بھی بھاجپا کیلئے مفید ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جاٹوں کی ناراضگی کے باوجود بھاجپا پشچمی اترپردیش کی زیادہ تر سیٹوں پر سیدھے مقابلے میں کھڑی دکھ رہی ہے۔ کہیں سپا تو کہیں بسپا اس کے مقابل ہے۔ پہلے مرحلہ کی ووٹنگ میں اب تک کے سارے ریکارڈ ٹوٹے تو اس کی اہم وجہ نوجوان ووٹروں کا اتساہ مانا جارہا ہے۔ حالانکہ بڑھے ووٹنگ فیصد کو 2014ء کے لوک سبھا چناؤ کی طرح کسی پارٹی کے کلین سوئپ والی صورتحال کا اشارہ نہیں مانا جارہا ہے۔ چناوی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پہلے مرحلہ کی 73 سیٹوں پر تکونے سے لیکر چارکونے مقابلہ ہوئے ہیں۔ پشچمی یوپی کی سیاست پر نظر رکھنے والے بتاتے ہیں کہ پہلے مرحلہ میں لوک سبھا چناؤ جیسا دھروی کرن نہیں ہوا ہے۔ جن سیٹوں پردھروی کرن ہوا ہے وہ کسی ایک دل نہیں بلکہ بھاجپا کو ہرانے کی صورت میں نظر آنے والے امیدوار کے حق میں ہوا ہے۔ ان میں بسپا کے ساتھ ساتھ سپا ۔ کانگریس گٹھ بندھن بھی پسند بنی ہے۔ کئی سیٹوں پر مسلم ووٹ بٹے بھی ہیں۔ اسی طرح جاٹوں کا ووٹ راشٹریہ لوک دل کو تو گیا ہی ہے بھاجپا و دیگر پارٹیوں کے حق میں بھی گیا ہے۔ بیداری کے چلتے ہی ویسا دھروی کرن نہیں ہوا جیسا لوگ امید کررہے تھے۔ پہلے مرحلہ میں بسپا نے بہتر واپسی کی ہے۔ بھاجپا دوسرے نمبر پر رہی اور سپا۔ کانگریس گٹھ بندھن تیسرے نمبر پر بتائی جارہی ہے۔ بڑھی ووٹنگ کی اہم وجہ نوجوان رہے ۔ نوجوانوں ووٹروں نے پرانے زمانے کی طرح روٹی، کپڑا، مکان تک محدود نہ رہ کر سنہرے مستقبل و نئی دنیا کے سپنے دیکھے ہیں۔ پہلے مرحلہ کی ووٹنگ گول بندی کی جگہ ٹیکٹیکل ووٹنگ کو دکھاتی ہے۔ جاٹ کا خیال نہ رکھ پانا بی جے پی کے لئے بیشک نقصاندہ رہا ہو لیکن نوجوان جاٹ بی جے پی کے حق میں جاتا دکھا۔ شہری سیٹوں پر بھاجپا اور دیہی علاقہ پر سپا۔ کانگریس گٹھ بندھن و بی ایس پی کو فائدہ رہا ہے۔ میرٹھ، سہارنپور، مظفر نگر کے شہری علاقوں میں سمپردائک گول بندی بھی ہوئی ہے۔ اس کا فائدہ بھاجپا کو مل سکتا ہے وہیں سردھنا میں بسپا و گٹھ بندھن کے بیچ ووٹ بٹا لیکن جہاں بسپا کا مسلم امیدوار کمزور تھا گٹھ بندھن کی طرف ووٹ چلا گیا۔ چیف الیکٹورل آفیسر ٹی ۔وینکٹیش کا ماننا ہے کہ چناؤ کمیشن کا مانیٹرنگ سسٹم صاف ستھری ووٹر لسٹیں ،ووٹروں میں بیداری بڑھنے کی وجہ سے ووٹنگ فیصد بڑھا ہے۔ ووٹر سمجھ گئے ہیں کہ ان کا ووٹ کتنا قیمتی ہے۔ اب کمیشن کوشش کرے گا کہ فیصد اور بڑھے۔
(انل نریندر)

مسعود اظہر کب تک بچا رہے گا

پٹھانکوٹ حملہ کے ماسٹر مائنڈ جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی بھارت کی لگاتار کوششوں کو چین کے ویٹو کی وجہ سے بھلے ہی ابھی تک کامیابی نہ ملی ہو لیکن اب امریکہ کے راشٹرپتی ڈونلڈ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کے ذریعے اقوام متحدہ میں جا دھمکنے سے بھارت کو ضرور تھوڑا اطمینان ہونا چاہئے۔ چین نے عادتاً اس بار بھی پاکستان و مسعود اظہر کو بچانے کے لئے ویٹو کیا ہے پر اسے بھی پتہ ہے کہ عالمی منچ پر دہشت گرد کو بچانے کی اپنی کرتوت کو وہ لمبے وقت تک جائز نہیں ٹھہرا سکے گا۔ حقیقت میں چین جو کچھ کررہا ہے اسے کوترک کے سوا کچھ نہیں مانا جاسکتا۔ چین کا کہنا ہے کہ اس سلسلہ میں اصولوں کو پورا نہیں کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے دو بار بھارت کے پرستاؤ کو اس نے روک دیا تھا اور تب بھی اس کا یہی ترک تھا۔ اب وہ کہہ رہا ہے کہ اس نے یہ قدم اس لئے اٹھایا تاکہ متعلقہ پارٹی عام سہمتی پر پہنچ سکیں۔ سوال ہے کہ عام سہمتی ہے راستے میں اڑنگا کون ہے اور یہ کن کے درمیان بنائی جانی ہے؟ کوئی دوسرا تو خلاف نہیں ہے اس درمیان چوطرفہ دباؤ دیکھتے ہوئے بھارت نے مسعود اظہر پر اور دباؤ بنانا شروع کردیا ہے۔ چین کی وجہ سے ناکام ہو گئی بھارت کی کوششوں میں بھی ایک اہم سفارتی کامیابی ملی ہے۔ بھارت کے رخ کو نہ صرف امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی زبردست حمایت ملی بلکہ اقوام متحدہ میں مسعود پر پابندی کے پرستاؤ کو لمبے وقت تک ٹھنڈے بستے میں ڈالنے کا چین کا منصوبہ بھی غلط ثابت ہوا۔ اگر مذکورہ تین دیشوں کے ذریعے صحیح وقت پر پرستاؤ نہیں لایا گیا ہوتا تو چین مسعود کے معاملے کو لمبے وقت کے لئے خارج کروا دیتا۔ پاکستان نے جیش و اظہرکو فی الحال بھارت مخالفت سرگرمیوں کا سب سے اہم مرکز بنا رکھا ہے۔ ایک سال کے اندر بھارت میں جتنے آتنکی حملے ہوئے ان سبھی میں جیش کے کردار کے اہم سراغ ملے ہیں۔ کچھ ثبوت پاکستان کو بھی دئے گئے ہیں لیکن پاکستان کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ یہ ایک وجہ ہے کہ بھارت نے جیش چیف مسعود اظہر کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندی لگانے کو اپنی آتنک مخالف ڈپلومیسی کا حصہ بنا رکھا ہے۔ چین اس پاکستان کو بچا رہا ہے جس کے ایک اور دہشت گرد سنگٹھن حافظ سعید کو اقوام متحدہ کی پابندی کی وجہ سے بار بار اپنا نام ،ٹھکانا بدلنے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔ چین کا یہ رخ بتاتا ہے کہ آتنک واد کے خلاف عالمی رخ ہونے کے باوجود اسے ناکارہ کرنے کی کوشش رنگ کیوں نہیں لا پارہی ہے۔
(انل نریندر)

14 فروری 2017

کنگ کوہلی نے ’دی وال‘ اور ’ ڈان‘ کو پیچھے چھوڑا

کرکٹ کی دنیا میں وقتاًفوقتاً ایسے کھلاڑی ابھرتے ہیں جو اپنی چھاپ چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک نام ہے وراٹ کوہلی۔ٹیم انڈیا کے کپتان وراٹ نہ صرف ہندوستانی پس منظر میں بلکہ دنیا بھر کی کرکٹ میں ایک ایسے ابھرتے کھلاڑی ہیں جن کے لئے قائم ریکارڈ توڑنا معمولی بات ہوگئی ہے۔ ان کا کمال لگاتار جاری ہے اور اسی سلسلہ میں انہوں نے اپنے نام ایک اور ریکارڈ کرلیا ہے۔ کوہلی لیجنڈ کرکٹر سر ڈونلڈ بریڈمین اور دی وال کے نام سے مشہور راہل دراوڑ کو پچھاڑکر لگاتار چار ٹیسٹ سیریز میں دوہری سنچری لگانے والے بلے باز بن گئے ہیں۔ وراٹ نے ویسٹ انڈیز (200) نیوزی لینڈ (211) ، انگلینڈ (235) اور اب بنگلہ دیش ( 204) کے خلاف دوہری سنچری بنائی۔ بریڈ مین اور دراوڑنے لگاتار تین ٹیسٹ سیریز میں دوہری سنچری لگائی تھی۔ 140 سال کی کرکٹ ٹیسٹ تاریخ میں وراٹ کوہلی پہلے بلے باز کھلاڑی ہیں جنہوں نے لگاتار چار ٹیسٹ سیریز میں دوہری سنچری لگائی۔ انہوں نے بطور کپتان 23 ٹیسٹ میچوں میں یہ کارنامہ انجام دیا۔ ان سے پہلے کے 31 بھارتیہ کپتان مل کر483 ٹیسٹ میں چار دوہری سنچری لگا پائے تھے۔ بطور کپتان بہرحال ابھی بھی سب سے زیادہ سنچری مارنے والے پر وراٹ دوسرے مقام پر ہیں۔ ان سے آگے ہیں برائن لارا (ویسٹ انڈیز) جنہوں نے پانچ دوہری سنچریاں لگائیں لیکن ابھی تو وراٹ کا دور شروع ہوا ہے جلد ہی وہ یہ ریکاڈ بھی اپنے نام کرلیں گے۔ ویسے اسمت، بریڈ مین اور کلارک (بطور کپتان) چار ۔چار دوہری سنچری بنا کر وراٹ کی برابری پر ہیں۔ سچن تندولکر (6) دوہری سنچری، وریندر سہواگ (6)، راہل دراوڑ (5) ایسے ہی ہندوستانی ہیں جن کے نام فی الحال وراٹ سے زیادہ دوہری سنچریاں ہیں۔ وراٹ اس گھریلو ٹیسٹ سیزن میں 1168 رن بنا چکے ہیں۔ 
انہوں نے سہواگ (1105 ) رن، 2004-05 کا ریکارڈ بھی توڑا ہے۔ ایک وقت یہ بھی کہا جاتا تھا کہ وراٹ ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی میچوں کیلئے فٹ ہے اور وہ ٹیسٹ میچوں کے لئے موزوں نہیں ہے مگر پچھلے سال سے لیکر اب تک انہوں نے جتنے ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں ان میں انہوں نے اپنے بارے میں قائم اس رائے کونہ صرف مسترد کیا بلکہ ان تجزیہ نگاروں کو بھی سخت جواب دیا ہے ۔ فی الحال وہ ٹیم انڈیا کے تینوں ٹیموں کے کپتان ہیں۔ انہیں اجے کپتان کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ظاہر ہے انہوں نے تینوں طرح کی ٹیسٹ میچوں میں اپنی قابلیت ثابت کردی ہے۔ یہ بے وجہ نہیں کہ دنیا کے مہان کرکٹ کھلاڑیوں میں ان کی صلاحیت اور فٹنس کی تعریف کی ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ جس میچ میں وراٹ میدان میں اترتے ہیں اعدادو شمار درج کرنے والے اپنی کتابیں کھول لیتے ہیں۔
(انل نریندر)

کہانی ایک راجہ اور ان کی دو رانیوں کی

ایک طرف راجہ اور دوسری رانی تو دوسری طرف راجہ کی پرانی رانی۔ میں بات کررہا ہوں امیٹھی راج گھرانے کی۔ امیٹھی اسمبلی چناؤ میں راجہ ڈاکٹر سنجے سنگھ کے نام پر دونوں رانیاں آمنے سامنے آگئی ہیں۔ اس سے محل کا جھگڑا کھل کر سامنے آگیا ہے۔ امیٹھی میں اس بار اسمبلی چناؤ میں دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ یہ پہلا موقعہ ہے جب ایک راجہ اور دو رانیاں راج محل اور سیاسی وارثت کے لئے چناؤ میں اتری ہیں اور ایک دوسرے کو چنوتی دے رہی ہیں۔ نئی رانی کے ساتھ بھاجپا کھڑی ہے تو کانگریس کے ساتھ پرانی رانی۔دونوں رانیاں کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی ڈاکٹر سنجے سنگھ کی ہی ہیں۔ پہلی بیری گریما سنگھ کو بھاجپا نے میدان میں اتارا ہے تو دوسری بیوی امیتا سنگھ کانگریس کے ٹکٹ پر چناؤ لڑ رہی ہیں۔ گریما پہلے ہی پرچہ داخل کرچکی ہیں جبکہ امیتا نے جمعرات کو اپنا پرچہ داخل کیا۔ امیتا سنگھ کی نامزدگی کے بعد گریما سنگھ کے اعتراض پر امیتا نے جو جواب دیا ہے اس میں گریما سنگھ اور سنجے سنگھ کا طلاق نامہ شامل ہے۔ سنجے سنگھ اور گریما سنگھ کی طلاق کو سیتا پور کی عدالت کے سول جج نے 27 مارچ 1995ء کو منظوری دی تھی۔ امیتا نے دونوں کے طلاق کا سرٹیفکیٹ چناؤ کمیشن کے سامنے پیش کیا ہے۔ اب امیتا سنگھ اور گریما سنگھ کو چناؤ کمیشن کا انتظار ہے اور کمیشن کیافیصلہ دیتا ہے ۔ امیتا سنگھ کے نامزدگی کے بعد گریما سنگھ نے چناؤ افسر کی میزپر ایک اعتراض نامہ پیش کیا جس میں لکھا ہے کہ سنجے سنگھ اس کے پتی ہیں لیکن امیتا سنگھ نے اپنے نامزدگی میں بھی سنجے سنگھ کو اپنا شوہر لکھا ہے جو پوری طرح سے ناجائز ہے۔ امیتا سنگھ نے جواب میں لکھا ہے کہ وہ22 سال سے سنجے سنگھ کی شادی شدہ بیوی ہیں اور ان کی بیوی بننے سے پہلے سنجے سنگھ اور گریما سنگھ کی طلاق ہوچکی تھی۔ اس کے بعد امیتا اور سنجے سنگھ کی شادی ہوئی۔ اس درمیان امیتا سنگھ سنجے سنگھ کی بیوی کی شکل میں تین بار ایوان میں جا چکی ہیں۔ گریما سنگھ جہاں اپنا سوابھیمان حاصل کرنے کی منشا سے سیاسی سمر میں آگئے آئی ہیں وہیں امیتا سنگھ سنجے سنگھ کی سیاسی وراثت پر اپنا دعوی برقرار رکھنے کے لئے میدان میں ہیں۔ گریما سنگھ راج پریوار اور راج محل پر اپنے حق کی لڑائی لڑ رہی ہیں۔ سنجے سنگھ کی دوسری شادی کے بعدجنتا کی ہمدردی ان کے ساتھ ہے۔ یہ تجزیہ کرکے ہی بھاجپا نے گریما پر داؤ چلا ہے۔ گریما سنگھ پہلی بار چناؤ لڑ رہی ہیں۔ انہیں سنجے سنگھ نے 1995ء میں طلاق دے دی تھی۔ اس کے 19 سال تک انہیں راج محل میں گھسنے نہیں دیاگیا۔ کافی جدوجہد کے بعد گریما 2014ء میں اپنے بیٹے کے ساتھ محل میں آنے میں کامیاب ہوگئیں۔ دونوں رانیوں کے میدان میں اترنے سے یہ چناؤ انتہائی دلچسپ بن گیا ہے۔
(انل نریندر)

12 فروری 2017

پاکستان میں ریلیز کے قابل نہیں ’رئیس‘

شاہ رخ خان ایک زمانے میں بیرونی ممالک میں سب سے زیادہ مقبول اداکار ہوا کرتے تھے اور ان کی فلمیں غیر ملکی بازار میں بے تاج بادشاہ تھیں لیکن اب شاہ رخ خان کافی پیچھے رہ گئے ہیں۔ ان کی مقبولیت اور کاروبار عامر خان اور سلمان خان سے کہیں زیادہ تھا۔ صرف شاہ رخ خان ہی ایسے اداکار تھے جن کی فلمیں غیر ملکی بازار میں 50 سے65 کروڑ روپے تک کا کاروبار کرتی تھیں لیکن اب ناظرین اور سنیما گھروں کی بڑھتی تعداد کے ساتھ یہ سین بدل گیا ہے۔ عامر کی ’’تھری ایڈیٹس‘‘ اور سلمان کی ’باڈی گارڈ‘ غیر ملکی بازار میں گیم چینجر ثابت ہوئی۔ باکس آفس کلیکشن، فٹ فال کی بنیاد پر دیکھا جائے تو چار چار کروڑ نے ’دنگل‘ اور چار کروڑ نے ’سلطان‘ اور دو کروڑ لوگوں نے ’رئیس‘ دیکھی ہے۔ ٹرینڈ کے مطابق ’رئیس‘ کا مجموعی کاروبار 140 کروڑ روپے تک سمٹ سکتا ہے جبکہ ’دنگل‘ اور ’سلطان‘400 اور 350 کروڑ کے آس پاس ہیں۔ ’رئیس‘ دراصل جب سے بننی شروع ہوئی تھی تبھی سے اس پر مصیبت کے بادل منڈرانے شروع ہوگئے تھے۔ پہلے تو ٹیزر ریلیز ہونے کے سال بھر بعد تک بھی فلم ریلیز کی ڈیٹ بدلتی رہی پھر بھی جب آخر میں ریلیز کا موقعہ آیا تو بھارت ۔ پاک رشتوں میں کشیدگی آگئی جس کا اثر فلم ’رئیس‘ پر پڑا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تھی فلم میں شاہ رخ خان کے اپوزٹ لیڈ رول میں پاکستانی ایکٹریس ماہرہ خان کا ہونا۔ اسی کشیدگی کے چلتے بھارت میں پاکستانی اداکاروں یا فنکاروں کے کام کرنے پر پابندی لگ گئی۔ مہاراشٹر نو نرمان سینا سمیت کئی انجمنوں نے پاکستانی اداکاروں کی موجودگی والی فلموں کو بھارت میں ریلیز نہ ہونے دینے کی دھمکی دے ڈالی۔ راج ٹھاکرے کی یقین دہانی کے بعد ہی 25 جنوری کو ’رئیس‘ ریلیز ہوگئی لیکن باکس آفس میں اسے بڑا دھکا اس وقت لگا جب پاکستان میں اس فلم کی نمائش پر پابندی لگ گئی۔ پاکستان میں ریلیز ہوئی ’قابل‘ کو وہاں مل رہے اچھے رسپانس کو دیکھتے ہوئے شاہ رخ خان کو یقین نہیں تھا کہ ان کی فلم پاکستان باکس آفس پر خود دھمال مچائے گی مگر پیر کی دوپہر کو پاکستانی سنسر بورڈ نے شاہ رخ خان کو زور دار جھٹکا دے ڈالا اور بورڈ نے پاکستان میں فلم کی نمائش پر پابندی لگادی جس کے چلتے فلم پاکستان میں ریلیز نہیں ہوپائی۔ پاکستانی میڈیا میں چھپی خبروں کے مطابق پاکستان سینسر بورڈ نے پیر کو فلم دیکھنے کے بعد اسے پاکستان میں ریلیز نہ ہونے دینے کا فیصلہ کیا۔ بورڈ کے ممبران کا خیال تھا کہ اس فلم میں مسلمانوں کی منفی ساکھ دکھائی گئی ہے اور اسلام کو کمزور طریقے سے پیش کیا گیا ہے ۔ خاص طور پر مسلمانوں کے ایک گروپ کو فلم میں جرائم پیشہ ، دہشت گردوں اور انتہائی مطلوب کی طرح پیش کیا گیا۔اس کا مسلم سماج پر غلط اثر پڑ سکتا ہے۔ شاہ رخ خان کے لئے یہ بڑا جھٹکا ہے انہوں نے خاص طور پر ایسی فلم بنائی اور پاکستانی ہیروئن کو لیا۔ فلم میں کپڑے بھی ایسے پہنے جس سے صاف ظاہر ہو کہ کس فرقے کو لیکر فلم بنائی گئی ہے۔ ایک وقت تینوں خانوں میں نمبر ون شاہ رخ اب تیسرے میدان میں آگئے ہیں۔ نہ تو چھوٹی لڑکیوں کے ساتھ کام کرنے میں فائدہ ہورہا ہے اور نہ ہی پورن اسٹار کو لیکر فلم ہٹ ہورہی ہے۔ پچھلی تین فلموں میں شاہ رخ خان نے مسلم کردار کا رول نبھایا ہے۔ گردش میں چل رہے شاہ رخ خان کیا اس گرتی سیڑھی کو سنبھال پائیں گے؟
(انل نریندر)

پہلی بار سٹنگ ہائی کورٹ جج سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے

دیش میں پہلی بار سپریم کورٹ نے کسی ہائی کورٹ کے موجودہ جج کو نوٹس جاری کر عدالت میں پیش ہونے کو کہا ہے۔ وزیر اعظم کو خط لکھ کر سپریم کورٹ نے کئی سابق و کام کررہے ججوں کے خلاف کرپشن کا الزام لگانے والے کولکتہ ہائی کورٹ کے موجودہ جج سی ایم کرنن کے خلاف سپریم کورٹ نے توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے ان کو سبھی جوڈیشیری یا انتظامی کام سے دور رہنے کو کہا ہے۔ حکم قلمبند کرتے وقت چیف جسٹس جے ایس کھیر نے جسٹس کرنن کے نام کے آگے لگا ’بصد احترام‘ لفظ بھی ہٹا دیا۔حکم میں آخر میں لکھا ہے کہ اس معاملے میں ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ اگر جسٹس کرنن قصوروار پائے جاتے ہیں تو کیا کیا جاسکتا ہے اور ان کی سزا کیا ہوگی؟ 7 ججوں کی آئینی بنچ نے جسٹس کرنن کو 13 فروری کو ذاتی طور پر پیش ہوکر بتانے کو کہا ہے کہ کیوں نہ ان پر کارروائی کی جائے؟ بنچ نے کہا کہ کیونکہ معاملہ پہلی بار آیا ہے لہٰذا اس میں ’’بار‘‘ کے تعاون کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ اس معاملے میں ہم کیا کرسکتے ہیں اور کیا نہیں کرسکتے؟ یہ جاننا بیحد ضروری ہے۔ بتادیں جسٹس کرنن نے 20 ججوں پر کرپشن کے الزامات لگائے ہیں۔ 23 جنوری کو وزیر اعظم کے دفتر کو خط بھیج کر سبھی کے خلاف جانچ کرانے کی مانگ کی ہے۔ اسی بات پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا ہے۔ سماعت کے لئے چیف جسٹس جے ایس کھیر کی رہنمائی میں 7 ججو ں کی آئینی بنچ بنائی گئی ہے۔ کولکتہ ہائی کورٹ کے جج کرنن کو سپریم کورٹ کی 7 نفری بنچ نے توہین عدالت کا نوٹس دے کر جمہوریت کے ایک انتہائی اہم ترین ادارے میں ڈسپلن قائم کرنے کی سمت میں بڑا قدم اٹھایا ہے لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس قدم سے ذات پات کا تنازعہ اٹھنے کا بھی خطرہ کھڑا ہوسکتا ہے۔ جسٹس کرنن جب مدراس ہائی کورٹ میں تھے تو ان کی اپنے چیف جسٹس جسٹس سنجے کال سے ٹھنی رہتی تھی۔ہماری بڑی عدلیہ میں کرپشن اور ذات پات گروپ بندی کے الزامات نئے نہیں ہیں انہیں یا تو دبا دیا جاتا رہا ہے یا پھر کسی طرح سے کنارے کرکے نپادیا جاتا رہا ہے۔ جوڈیشیری اگر خود کو ڈسپلن میں نہیں رکھتی تو وہ اپنی ساکھ کھوتی ہے اور اگر وہ کارروائی کرتی ہے تو ایک ذات پات کے الزامات جھیلے بنا نہیں رہ سکتی۔ یہ الزام ایک حد تک جوڈیشیری کے کرپشن اور طریقہ کار پر بھی سوال اٹھا رہی عدلیہ کو نا مناسب بھی لگے گا۔ اس سے بڑی عدلیہ میں ذات اور جنس کی بنیاد پر نمائندگی کا سوال اٹھے گا ساتھ ہی وہ آئینی خود مختاری اپنی جگہ ہے کی اگر جج کرنن توہین عدالت کے قصوروار پائے گئے تو ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جائے گا؟
(انل نریندر)