Translater

14 ستمبر 2013

کیا اترپردیش کے مسلمانوں کا سپاپر سے بھروسہ اٹھ گیا ہے؟

مظفر نگر میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات نے یوپی کی حکمراں اکھلیش یادو کی سماجوادی حکومت کی چولیں اس قدر ہلا دی ہیں کہ ڈیڑھ سال پہلے جٹا وسیع مینڈیڈ اب بری طرح بٹ رہا ہے۔ سپا کی اس سرکار کو باہری مخالفت کے ساتھ ساتھ اندر سے اٹھ رہی مخالفانہ آوازوں سے بھی لڑنا پڑ رہا ہے۔ جن مسلمانوں کے ووٹ کے لئے سپا کی سرکار بدنام ہوئی تھی آج وہی مسلم تنظیمیں ان کی سرکار کا استعفیٰ مانگ رہی ہیں۔ اکھلیش سرکار کی ناکامی مسلم تنظیموں کو بہت ناگوار گزری ہے۔مسلم لیڈروں کا کہنا ہے کہ صاف ہوگیا ہے کہ اترپردیش سرکار میں مسلم فرقہ محفوظ نہیں رہ سکتا۔ جمعیت العلمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے بدھوار کو مظفر نگر کا دورہ کر فرقہ وارانہ فساد میں ہوئی تباہی کا جائزہ لینے کے بعد دہلی میں کہا کہ اکھلیش سرکار کی حکومت میں مسلم سماج کی جان و مال کی حفاظت نہیں ہوسکتی۔ دنگے سے30 ہزار لوگ بے گھر ہوئے ہیں جو کیمپوں میں ہیں۔ جان گنوانے کے ڈر سے وہ گاؤں لوٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہاں صدر راج لگنا ضروری ہوگیا ہے۔ کئی دیگر مسلم تنظیموں نے بھی وزیر اعظم کو چٹھی بھیج کر اکھلیش سرکار کی برخاستگی کی مانگ کی ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر ہند عالم مولانا جمال الدین عمری نے کہا کہ ریاستی سرکار چاہتی تو فساد رک سکتا تھا لیکن اس نے اسے ہونے دیا۔ عام چناؤ آنے والا ہے جو صورتحال ہے دیکھئے سپا کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ ادھر جمعیت العلمائے ہند کے مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ کون انکار کرے گا کے فساد نہ روک پانے میں اکھلیش سرکار کی غلطی نہیں ہے۔ مظفر نگر میں تو1947ء میں بھی فساد نہیں ہوئے تھے ۔اب پی اے سی کے جوان تلاشی کے بہانے مسلم لڑکوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں۔ مولانا نے یہ بھی کہا ایک سیاسی پارٹی نے روٹیاں سیک لی ہیں۔ مسلم تنظیموں کی اکھلیش سرکار سے ناراضگی فطری ہے ان تنظیموں کو اس نتیجے پر پہنچنے کے لئے قصوروار نہیں مانا جاسکتا۔ مظفر نگر میں تشدد روکنے میں سرکار ناکام رہی ہے۔ اب تو سماجوادی پارٹی کے اندر بھی مسلم لیڈر سرکار سے ناراض ہوکر بیٹھ گئے ہیں۔ سپا کے بڑبولے اور واحد مسلم چہرہ اعظم خاں کو لیکر ایک بار پھر پارٹی اور سرکار میں کھٹاس پیدا ہوگئی ہے۔ آگرہ میں پارٹی کے دو روزہ قومی ایگزیکٹو اجلاس میں اعظم خاں ساری کوششوں کے باوجود نہیں آئے حالانکہ ملائم سنگھ یادو نے اعظم خاں سے آگرہ پہنچنے کے لئے خود گزارش کی تھی۔ خبر ہے ملائم کا فون بھی اعظم نے نہیں اٹھایا۔ ذرائع کے مطابق اعظم خاں کی اکھلیش و پارٹی کے بڑے نیتاؤں سے دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ اعظم خاں کے تیوروں سے پارٹی عاجز آچکی ہے۔ پارٹی نے طے کیا ہے کہ اب اعظم کو سبق سکھایا جائے گا۔ اسی کے تحت پارٹی کے قومی سکریٹری جنرل رام گوپال یادو نے ورکنگ کمیٹی میں ہی میڈیا سے کہہ دیا کے اعظم خاں یا تو اپنے عہدے کے وقار کو سمجھیں ورنہ استعفیٰ دیں۔ رام گوپال یادو نے ملائم سنگھ اور اکھلیش یادو سے صلاح مشورہ کر کے ہی اس طرح کا بیان دیا ہوگا۔ رام گوپال کے بیان کے بعد پارٹی کے کئی لیڈروں نے اعظم خاں پر نکتہ چینی شروع کردی ہے۔ پارٹی کے دوسرے قومی جنرل سکریٹری نریش اگروال نے بڑے دبنگئی انداز میں کہہ ڈالا کے کتنا بھی بڑا نیتا ہوپارٹی سے بڑا نہیں ہوسکتا۔ یہ بات اعظم خاں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ اگروال نے مانگ کردی کے ملائم سنگھ اعظم خاں پر ڈسپلن شکنی کی کارروائی کریں کیونکہ ان کے طور طریقوں سے پارٹی کے اندر غلط پیغام جارہا ہے۔ ناراضگی جتانے والوں میں ابو اعظمی جیسے مسلم لیڈر بھی ہیں۔ ان لوگوں نے ملائم سنگھ سے یہاں تک کہہ دیا کیا پارٹی میں آپ کے لئے ایک ہی مسلم نیتا اتنا دلارا ہے۔ وہ پارٹی کی ایسی تیسی کرنے پر آمادہ ہے پھر بھی آپ چپ ہیں؟ پہلے شاہد صدیقی پھر کمال فاروقی کے بعد اب اعظم خاں جیسے بڑے نیتا پارٹی کو الوداع کہنے کو تیار ہیں؟ آخر کیوں یہ سب ہورہا ہے؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ اعظم نے ملائم سنگھ کو ایک شکایتی خط لکھا ہے جس میں انہوں نے ملائم سے10 سوال پوچھے ہیں جو پوری طرح مسلم ومفادات سے متعلق ہیں۔ انہوں نے ایک سے سپا سرکار پر الزام تراشی کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ جب انتظامیہ نے خبر دے دی تھی کہ مظفر نگر میں وسیع پیمانے پردنگا ہوسکتا ہے تو پھر اسے روکنے کے لئے احتیاطی قدم کیوں نہیں اٹھائے؟ وہ بھی اتنی بڑی تعداد میں کھاپ پنچایتوں کا انعقاد کیوں ہونے دیا گیا؟ اتنا ہی نہیں انہوں نے یہ بھی سوال پوچھا کہ اقلیتوں کے لئے چناؤ منشور میں کئے گئے وعدوں میں سے ابھی تک کوئی بھی پورا نہیں ہوا ہے؟ اعظم نے یہ بھی سوال کیا ہے کیا سپا اب سنگھ یا بھاجپا کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مدد کررہی ہے؟ کیا اعظم ان سوالوں کا جواب خود نہیں جانتے یا پھر ان باتوں کو اخبار کے ذریعے سے پوچھنے کا مقصد ان الزاموں کے ساتھ سپا سے رخصتی لینے کی تیاری سمجھی جائے؟ اس سے پہلے سپا سے شاہد صدیقی اور کمال فاروقی جیسے بڑے مسلم چہرے رخصت ہوچکے ہیں۔
ان نیتاؤں کی بے رخی اور مسلم لیڈروں کے تنقیدی بیان اب یہ بھی ظاہر کررہے ہیں کے اقلیتوں کا سپا سے بھروسہ اٹھ چکا ہے کیونکہ یہ پیغام پوری ریاست اور اس کے باہر پہنچ گیا ہے کے ان دنگوں میں کوتاہی سرکارنے جان بوجھ کر اپنے سیاسی فائدے کے لئے کی تھی تاکہ بھاجپا کا ڈر دکھا کر اقلیتوں کو سپا کے ساتھ باندھے رکھا جا سکے۔ اس کے ساتھ مظفر نگر فساد سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اجیت سنگھ کے ووٹ بینک کو توڑنا بھی یہ ہی وجہ ہے کہ اجیت سنگھ نے مظفر نگر فسادات کو ریاستی سرکار کی زیر نگرانی ہونے کا الزام لگایا ہے اور اس کا موازنہ گجرات دنگوں سے کر ڈالا ہے۔
اجیت سنگھ نے یہاں تک کہہ دیا کے چناوی فائدے کے لئے دنگے کروائے گئے ہیں۔ سپا سپریموں ملائم سنگھ یادو کی پردھان منتری بننے کی خواہش جاگ گئی ہے اور فرقہ وارانہ اشو کی بنیاد پر یہ خواب پورا کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر کسی نے رائے زنی کی تھی کے ملائم کا سارا پریوار مل کر ایک صوبہ تو سنبھال نہیں پارہا ہے اور وہ خواب دیکھ رہے ہیں پورے دیش کی باگ ڈور سنبھالنے کا؟
(انل نریندر)

13 ستمبر 2013

راہل بنام مودی : 2014ء چناؤ کی بساط بچھنے لگی ہے!

لیڈرشپ کو لیکر دونوں کانگریس اور بھاجپا میں 2014ء کی تصویر صاف ہونے لگی ہے۔ بھاجپا میں بیشک ابھی بھی شری نریندر مودی کو وزیر اعظم امیدوار اعلان کرنے میں تھوڑی دقت ہورہی ہے کیونکہ بھاجپا کے پتاما لال کرشن اڈوانی ابھی سے مودی کو پی ایم امیدوار اعلان کرنے کی مخالفت کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے مجھے اعتراض مودی کی امیدواری پر نہیں وقت پر ہے۔ یہ اعلان پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ کے بعد ہونا چاہئے۔ وہاں کے وزرائے اعلی کی پرفارمینس پر ہی عام چناؤ لڑا جانا چاہئے۔ پارٹی صدر آر ایس ایس و دیگر لیڈر انہیں منانے میں لگے ہوئے ہیں۔ دیر سویر یہ یقینی لگ رہا ہے کہ بھاجپا کی جانب سے نریندر مودی ہی پی ایم امیدوار ہوں گے۔ کانگریس میں لیڈرشپ کی تصویر صاف ہوتی جارہی ہے۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی2014ء لوک سبھا چناؤ میں پی ایم کے امیدوار ہوں گے۔ منموہن سنگھ نے صاف کردیا ہے کہ وہ2014ء کے بعد پی ایم نہیں رہیں گے اور راہل گاندھی سب سے اچھے امیدوار ہیں اس لئے 2014ء کی جنگ نریندر مودی بنام راہل گاندھی ہوگی۔ کانگریس اور بھاجپا میں لیڈر شپ کو لیکر سانپ سیڑھی کا کھیل چل رہا ہے۔ جب سے کانگریس نے دیکھا کے بھاجپا نریندر مودی کو پروجیکٹ کرنے میں لگی ہے تب سے پارٹی نے راہل کو مودی کی کاٹ کرنے کے لئے آگے لانا شروع کردیا ہے جبکہ نریندر مودی کو بھاجپا نے چناؤ کمپین کمیٹی کا چیئرمین بنا کر ان کا قد بڑھایا تو کانگریس نے بھی انہیں پارٹی نائب صدر بنا کر جتادیا کے اگر بھاجپا مودی کو آگے لائے گی تو ان کے پاس راہل گاندھی ہیں۔ پھر مودی نے دہلی کے شری رام کالج آکر اپنا اقتصادی ویژن دیش کے سامنے رکھاتو راہل نے دیش کے صنعت کاروں کو خطاب کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ان کے پاس بھی اقتصادیات کا حساب کتاب سمجھنے کی صلاحیت ہے۔ تبھی سے دونوں لیڈروں کے بیچ مسلسل ’واک یدھ‘ جاری ہے ۔ جس دن مودی جے پور میں گرج رہے تھے تو اسی دن دہلی میں راہل کی اچھی ریلی ہوئی ۔ اس میں راہل کھل کر بولے اور کہا کانگریس محض ترقی نہیں دے رہی ہے بلکہ اختیار بھی دے رہی ہے۔ ترقی و حق میں فرق بتاتے ہوئے انہوں نے کہا حق دینا گارنٹی کے ساتھ ترقی دیتا ہے۔ کانگریس چاہتی ہے کہ غریب ان اختیارات کے بل پر کھڑا ہو۔ راہل نے کہا ہم نے پارلیمنٹ میں غذائی گارنٹی دینے کی بات کی تو اپوزیشن نے اس اسکیم میں پیسہ ضائع کرنے کی بات کہی۔ اگر غریبوں کو غذا دینے سے پیسہ ضائع ہوتا ہے تو ہم ایسا ہی کریں گے۔ منگلوار کو راجدھانی کے جمنا اسپورٹ کمپلیکس میں منعقدہ باز آبادکالیوں کے مکینوں کو مالکانہ حق کے کاغذات دینے پہنچے تھے۔ اس موقعہ پر راہل نے آدھا درجن لوگوں کو مالکانہ حق کے کاغذات دے کر انہیں حق دلایا۔ بدھوار کو ادے پور ضلع کے سلمبر میں قبائلی کسان کانفرنس میں راہل گاندھی نے ایک نئی بات کہی۔انہوں نے کہا غریب اور قبائلیوں کو کانگریس کا نیا نعرہ دیتے ہوئے کے ان میں سے کسی کو بھی بھوکا نہیں رہنا پڑے گا بلکہ وہ پوری روٹی کھائے گا ،100 دن کام کرے گا اور مفت دوائی لے گا۔ کانگریس کو اقتدار میں لائے گا۔ ان کا کہنا تھا پہلے پرانا نعرہ رہا ’آدھی روٹی کھائیں گے کانگریس کو لائیں گے‘ اب اس کی ضرورت نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے میواڑ میں کانگریس کو قبائلیوں اور کسانوں کا سچا ہمدرد بتاتے ہوئے کہا ’پوری روٹی کھائیں گے ،100 دن کام کریں گے ،کانگریس کی سرکار بنائیں گے، دیش کا وکاس کریں گے‘ جیسا میں نے کہا 2014ء کے چناوی دنگل ہوگا راہل بنام مودی۔
(انل نریندر)

ایڈیشنل سیشن جج یوگیش کھنہ کا دلیل و انصاف آمیز تاریخی فیصلہ!

وسنت وہار گینگ ریپ میں ساکیت کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج دھیرو یوگیش کھنہ نے ایک انتہائی اہم مشکل مقدمے میں ایک اچھا دلیل آمیز و انصاف پر مبنی فیصلہ سنایا ہے۔ اس مقدمے پر سارے دیش کی ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔ جسٹس کھنہ کے فیصلے میں کوئی لوچ نہیں دکھاسکتا۔ وسنت وہار اجتماعی آبروریزی معاملے میں ملزم رام سنگھ، پون گپتا، ونے شرما، اکشے ٹھاکرو نابالغ16 دسمبر 2012 کی رات واردات کو ہی انجام دینے کے لئے گھر سے نکلے تھے۔ ان سبھی نے منظم طریقے سے مجرمانہ سازش رچی۔ ملزمان کا مقصد نہ صرف اجتماعی آبروریزی کرنا تھا بلکہ متاثرہ کے ساتھ کئے گئے گھناؤنی اور غیر انسانی حرکت کے بعد اس کے دوست کا قتل بھی کرنا تھا۔ جسٹس یوگیش کھنہ نے 14 دلائل پر مبنی اپنے فیصلے میں لکھا ہے یہ دلیلیں اس طرح ہیں۔ ملزم جرم کے مقصد سے گھر سے نکلے تھے۔ متاثرہ دوست کے ساتھ بس میں بیٹھی تھی انہوں نے بس میں کسی دوسرے شخص کو نہیں بٹھایا کیونکہ وہ متاثرہ کے ساتھ واردات کرنے کے مقصد سے بیٹھے ہوئے تھے۔ اس میں سبھی کی رائے شامل تھی۔ متاثرہ جسمانی طور سے کمزور تھی۔ ملزم جسمانی طور سے مضبوط اس کا فائدہ اٹھایا اور واردات کو انجام دیا۔ ملزمان کو پتہ تھا کہ جسمانی طور پر متاثرہ لڑکی اور اس کے دوست پر حاوی ہوسکتے ہیں۔ اسی کے چلتے انہوں نے دونوں پر حملہ کیا۔ لاچار لڑکی اور اس کا دوست کچھ نہ کر پائے۔ اس واردات میں جس طرح لوہے کی چھڑ کا استعمال ہوا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب منظم طریقے سے ملزم متاثرہ سے اجتماعی آبروریزی کرنا چاہتے تھے اور اس پر قابو پانا چاہتے تھے اور اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہونے پر بے رحمانہ طریقے سے لوہے کی چھڑ متاثرہ کے نازک حصوں میں ڈالی و اس کے جسم سے بچے دانی کو باہر نکالا۔ اس سے تو یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ ملزم متاثرہ لڑکی کو مار ڈالنا چاہتے تھے کیونکہ انہیں پتہ تھا ایسا کرنے سے کیا ہوگا ۔ ملزمان نے متاثرہ لڑکی اور اس کے دوست پر لوہے کی چھڑ سے حملہ کیا اور لڑکی کو پیچھے کھینچ کر لے گئے۔ اس کے کپڑے پھاڑ ڈالے اس کے ساتھ6 ملزمان نے اجتماعی آبروریزی کی۔ متاثرہ لڑکی اس قدر لاچار ہوگئی کے وہ انہیں روک نہیں پائی۔ یہ واردات یہ ثابت کرتی ہے کہ جرم میں سبھی کی ایک رائے تھی۔ملزم رات میں سڑک پر بس چلا رہے تھے وہ بس کو مسافروں کے لئے نہیں بلکہ واردات کو انجام دینے کے لئے چلا رہے تھے۔ یہ واردات میں ملزمان کی اس ذہنیت کو اجاگر کرتی ہے کہ ملزمان نے جس طرح متاثرہ کے جسم کے اندرونی حصے کونکالا اور بعد میں بس کو ایسی جگہ روکا جہاں کوئی انہیں دیکھ نہ سکے۔ یہ ان کا مجرمانہ مقصد ثابت کرتا ہے۔ ملزمان نے متاثرہ و اس کے دوست کو بس کے پہئے کے نیچے کچلنے کی بھی کوشش کی۔ وہ اس واردات کو حادثے کی شکل دینا چاہتے تھے ۔ یہ باتیں ثابت کرتی ہیں کہ ملزم متاثرہ لڑکی و اس کے دوست کو مارنا چاہتے تھے تاکہ کوئی ثبوت نہ بچے۔ متاثرہ کی ڈاکٹری رپورٹ کے مطابق اس کو 18 گہری اندرونی چوٹیں آئیں۔ یہ چوٹیں ظاہر کرتی ہیں کے ملزم متاثرہ کو ہی مارنا چاہتے تھے۔ ملزمان نے اس نایاب مجرمانہ حکمت عملی کواپنایا جو سوچی سمجھی سازش کے تحت متاثرہ کو سواری کی شکل میں بس میں بٹھایا گیا اور بعد میں مجرم نے جرم کو انجام دیا۔ معاملے میں ڈاکٹر کا بیان ثابت کرتا ہے کہ متاثرہ لڑکی کوجو زخم دئے گئے تھے ان کی وجہ سے ان کا کسی طرح سے بچنا مشکل تھا۔ ملزمان نے یہ زخم دئے تھے اور واردات کے وقت اس بات سے وہ اچھی طرح واقف تھے کے وہ کیا کررہے ہیں اور اس کا انجام کیا ہوگا۔ متاثرہ لڑکی کے دوست کا بیان یہ ثابت کرتا ہے کہ جس طرح سے دونوں کو بس میں چڑھایا اور دونوں پر لوہے کی چھڑ سے حملہ کیا جبکہ دوست تو گر گیا لیکن ملزم متاثرہ کو بس میں ہی پیچھے کھینچ لے گئے۔ محترم جج پولیس اور سرکاری فریق کی پیٹھ ٹھوکنے میں بھی پیچھے نہیں رہے۔ معاملے کو جلد حل کرنے و ٹھوس ثبوت پیش کرنے پر عدالت نے اپنے فیصلے میں پولیس اور سرکاری وکیل کی تعریف کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ سرکاری مقدمہ لڑنے والے افسر مان کرشن اور مادھو کھورانہ ، اے ٹی انصاری اور راجیو موہن و عدالت کی مدد کے لئے مقرر وکیل راجیو جین کے تعاون سے عدالت کو معاملے کو جلد نپٹانے میں کافی مدد ملی۔ عدالت نے دہلی پولیس کی بھی جم کر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جانچ افسر سے لیکر ہر پولیس ملازم نے ٹھیک ڈھنگ سے اور صحیح طریقے سے ثبوت پیش کئے اس سے کیس کو مضبوطی ملی۔ ہم جج یوگیش کھنہ کو اس دلیل آمیز اور انصاف پر مبنی پختہ فیصلے کے لئے مبارکباد دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

12 ستمبر 2013

بے نام ،بدقسمت دامنی عرف نربھیا مر کر بھی نئی راہ دکھا گئی؟

16 دسمبر کی رات کو کوئی کیسے بھول سکتا ہے اس دن بدقسمت نربھیا سے وسنت وہار میں چلتی بس میں رونگٹے کھڑے کرنے والی حرکت ہوئی ۔ اس نے پورے دیش کو ہلا کر رکھ دیا۔ دل دہلا دینے والی اس واردات کو منگل کے روز 261 دن پورے ہوگئے ہیں۔ اس واقعے کی مخالفت میں دیش میں ہی نہیں بیرونی ممالک میں بھی آواز اٹھی۔ متاثرہ کو انصاف دلانے کے لئے ہزاروں لوگ سڑک پراتر آئے۔ عوام کا زبردست دباؤ رنگ لایا اور سرکار کو اس کیس کی سماعت کے لئے فاسٹ ٹریک عدالت بنانی پڑی۔ اس معاملے میں سرکار کے ذریعے ساکیت میں واقع فاسٹ سریٹ کورٹ کے جج یوگیش کھنہ نے30 دن کی سماعت میں تمام گواہوں کے بیانات درج کرکے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ 27 سال کی لڑکی سے گینگ ریپ پر قریب 9 مہینے چلے مقدمے کے بعدعدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا تمام ملزمان نے مل کر واردات کو انجام دیا۔ ونے شرما، پون کمار عرف کالو، اکشے ٹھاکراور مکیش کو کورٹ نے قتل اور گینگ ریپ، ڈکیتی و ثبوت ضائع کرنے کا قصوروار مانا ہے اب ان کی سزا پر بدھوار کو بحث پوری ہوگئی۔منگل کے روز دوپہر قریب ساڑھے بارہ بنے ساکیت میں واقع فاسٹ ٹریک کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج یوگیش کھنہ نے اپنے237 صفحہ کا فیصلہ سنایا۔ غور طلب ہے کہ اس معاملے میں پانچویں ملزم رام سنگھ کی موت ہوچکی ہے جبکہ چھٹے ملزم نابالغ کو تین سال کے لئے جونائیل ہوم میں بھیجا جاچکا ہے۔ جن دفعات کے تحت چاروں ملزمان کو قصوروار مانا گیا ہے ان میں قتل پر زیادہ سے زیادہ پھانسی اور کم سے کم عمر قید دی جاتی ہے۔ گینگ ریپ معاملے میں زیادہ تر عمر قید ہی ہوسکتی ہے۔ حالانکہ اس گینگ ریپ کے بعد بنے نئے قانون کے تحت موت ہونا یا پھانسی دینے کی سہولت ہے۔ کچھ پوتر آتمائیں ایسی ہوتی ہیں جو مرنے کے بعد بھی نہیں مرتیں۔ نربھیا بھی ایسی ایک پوتر آتما تھی وہ مر کر بھی نئی راہ دکھا گئی۔ بیشک نربھیا کے لئے انصاف کی گھڑی آگئی ہے مگر انصاف پورے دیش کے ساتھ ہوگا۔16 دسمبر کے اس واقعہ نے ایسے جرائم پر دیش کی نظریں ہی بدل ڈالیں اور سرکار کو مجبوراً کئی نئے قدم اٹھانے پڑے۔ بدفعلی انسداد قانون بنایا گیا۔ اس میں گینگ ریپ کے ملزمان کو کم از کم20 سال کی سزا کی سہولت ہے اسے عمر قید تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ پہلے کم از کم10 سال کی سزا ہوا کرتی تھی۔ عام بجٹ میں عورتوں کی خاطرایک ہزارکروڑ روپے کا نربھیا فنڈ بنانے کا اعلان ہوا۔ اس رقم کا استعمال کیسے اور کن حالات میں ہو اس پر فیصلہ ابھی باقی ہے۔ دہلی سرکار نے آبروریزی سے متعلق معاملوں کے لئے سبھی ضلع عدالت میں فاسٹ ٹریک کورٹ بنائی۔ اس وقت پانچ فاسٹ ٹریک کورٹ کام کررہی ہیں۔ عورتیں اپنی آسانی کے مطابق کہیں بھی معاملہ درج کرا سکتی ہیں۔ آسا رام پر درج معاملہ اسی قدم کی ایک مثال ہے۔ سرکار نے دہلی کے ہسپتال کو ہدایت جاری کی ہے کہ آبروریزی کے معاملوں میں ان کا علاج پہلے اور کارروائی بعدمیں۔ یہ فیصلہ نجی ہسپتال پر بھی لاگو ہے۔ کئی ریاستوں میں سرکاروں نے عورتوں کے لئے خصوصی ہیلپ لائن شروع کی تھی۔ دہلی میں 181نمبر پر شکایت درج کرا سکتی ہیں۔ رضامندی سے تعلق بنانے کی عمر کو18 سال کیاگیا اس سے پہلے یہ16 سال تھی۔ پیچھا کرنے اور گھورنے کو جرائم کے زمرے میں لایا جاچکا ہے۔ اس کی کم از کم سزا 10 سال ہے تیزابی حملہ کرنے میں مل سکتی ہے۔ متاثرہ کو اپنی حفاظت کا اختیار دیتے ہوئے تیزابی حملے کے جرائم کی تشریح کی گئی ہے۔ دہلی کے ہرتھانے میں مہلا پولیس ہونے کو ضروری کیا گیا ہے۔ سرکار نے یہ بھی پختہ انتظام کیا ہے کہ مہلاؤں سے جڑے جرائم میں مہلا افسر بھی جانچکرے۔ مہلاؤں میں اس سے ہمت بڑھی ہے۔ پچھلے سال کے مقابلے اس سال دہلی میں ٹارچر کے واقعات میں قریب چھ گنا اضافہ ہوا ہے۔ وہ پوتر آتما جسے لوگ نربھیا کہتے ہیں اور دامنی کہتے ہیں کی موت نے جذباتی طور سے جہاں دیش کے لوگوں کو ایک ساتھ جوڑدیا وہیں عدم سلامتی کے ماحول کی دہلی کی تصویر ہی بدل کر رکھ دی۔ واقعہ کے بعد پولیس اور ہیلتھ و انتظامی سطح پر بہت سی تبدیلیاں ہوئیں۔ یہ سبھی تبدیلی معاملے میں دہلی ہائی کورٹ کے ذریعے سخت موقف اختیارکرنے کے بعد ہوئی ہے۔ جیسا میں نے کہا کہ مرکر بھی نئی راہ دکھا گئی نربھیا عرف دامنی۔
(انل نریندر)

رام دیو اوواچ:بھوندو نہیں کرسکتا دیش پر راج!

یوگ گورو بابا رام دیو نے ایک بار پھر یوپی اے سرکار پر بم پھوڑا ہے۔ جمعہ کو راجدھانی میں واقع کانسٹی ٹیوشن کلب میں میڈیا سے بات چیت میں رام دیو نے بتایا کے انہوں نے یوپی اے سرکار کے 21 بڑے پاپوں کا پلندہ تیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا بھارت غریب نہیں ہے بلکہ اسے یوپی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی نے غریب بنا دیا ہے۔ حال ہی میں دیش میں جمہوریت نہیں رہ گئی۔ اس کی قیادت مرکز سے ہورہی ہے وہ ہے 11 جن پتھ۔ رام دیو نے کہا ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت مسلسل گر رہی ہے۔ مہنگائی اور کرپشن نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ایسے میں وقت آگیا ہے کہ آنے والا لوک سبھا چناؤ موجودہ مرکزی سرکار کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ اس کے لئے بھاجپا کے مقبول لیڈر نریندر مودی جیسے با ہمت شخص کو ہی میدان میں اتارا جانا چاہئے۔ گورو رام دیو نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ یوپی اے سرکار اور پی ایم نے دیش کو بچانے کی تیاری کرلی ہے۔ رام دیو نے کہا 5 کروڑ ٹن کا کوئلہ گھوٹالہ کرنے والے پی ایم کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہونی چاہئے کیونکہ دیش میں قانون سب کے لئے برابر ہے۔ وزیر اعظم گھوٹالہ کرتا ہے اس کے بعد فائل بھی غائب کردیتا ہے، اسے ایماندار کون کہہ سکتا ہے۔ رام دیو نے کہا کہ دیش کی ترقی کے لئے سسٹم کو بدلنا ہوگا۔ اس کے لئے وہ13 ستمبر سے سسٹم تبدیلی کے لئے تحریک چلائیں گے۔ مرکزی سرکار ڈیزل ،پیٹرول، گیس وغیرہ ضروری ایندھنوں پر 50 فیصد سے زیادہ ٹیکس وصول رہی ہے۔ دیش کے شہریوں سے زبردستی ٹیکس لگا کر انہیں غریب بنانے کی سازش رچی جارہی ہے۔ یوگ گورو نے کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کا نام لئے بغیر کہا بھوندو کو دیش پرراج کرنے کا حق نہیں۔ مودی کو مہا نائک کا درجہ دیتے ہوئے رام دیو نے کہا کہ دیش کو بچانا ہے تو اقتدار پر بزدلوں اور پاپیوں کو نہیں مہا نائکوں کا شاسن ہونا چاہئے۔ بابا نے کہا لوک سبھا چناؤ سے پہلے ان کی ایک بڑی ریلی رام لیلا میدان میں ہونے جارہی ہے۔ اس میں 4 سے5 لاکھ لوگوں کے آنے کا امکان ہے۔ بابا اس دن خاصے تاؤ میں تھے۔ انہوں نے لگے ہاتھ دیش کے سنتوں کو بھی نصیحت دے ڈالی کہ سنتوں کے بھیس میں ایسے لوگوں کی تعداد بڑھ گئی ہے جو سنتائی کے علاوہ سب کچھ کرتے ہیں۔ رام دیوکے اس بیان سے دہلی سے لیکر ہری دوار تک تمام سنت ناراض ہوگئے۔ انہوں نے سوال کیا کیا سنتوں اور گوروؤں کو نصیحت دینے کا ٹھیکہ کاروباری سنت رام دیو کو مل گیا ہے؟ منڈلیشور پدوی والے سوامی پریودانند نے کہا کہ رام دیو سنتوں کی اس طرح کی نیتا گیری نہ کریں۔ رامدیو نے سنتوں کے لئے ضابطہ بنانے کی وکالت کی اس میں کیا نیا ہے؟ جو سنت بھیس میں آتا ہے اس کے لئے ضابطہ و قواعد پہلے ہی سے مقرر ہیں۔ گورو دکشا میں ہی شدھ آچرن کی سیکھ دی جاتی ہے۔جس طرح سے رام دیو نے اچھالی ہے اس سے تو لگتا ہے کہ جیسے کوئی سرکار سنتوں کے لئے ضابطے کا فرمان جاری کرے۔ یہ سوامی رام دیو جیسے سنت ضابطے کا سرٹیفکیٹ چاہتے ہیں۔ سوامی رام دیو کافی خاموشی کے بعد ایک بار پھر دھماکے کے ساتھ میدان میں اترے ہیں۔
(انل نریندر)

11 ستمبر 2013

یوپی کی سپا سرکار نہ صرف فسادروکنے میں ناکام رہی بلکہ اسے بڑھایا!

27 اگست کومظفر نگر کے کوال گاؤں میں ایک چھوٹے سے واقعہ سے اتنی خطرناک شکل اختیارکرلی کے فساد رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ فساد اور اس کے بعد فرقہ وارانہ تشدد اب مظفر نگر سے بھڑکتے ہوئے آس پاس کے علاقوں میں پھیل گیا ہے۔ اب تک سرکاری اعدادو شمار کے مطابق36 لوگ مارے جاچکے ہیں۔ انتظامیہ نے 200 فسادیوں کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ سپا حکومت نے مرکزی وزیر اجیت سنگھ اور بھاجپا لیڈر روی شنکر پرساد سمیت دیگر ممبران پارلیمنٹ کومتاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے سے روک دیا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ فساد کیوں نہیں رک رکا ہے، اس کے پیچھے کون ہے اور ان کا مقصد کیا ہے؟ اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ پورے معاملے میں اکھلیش یادو کی سماجوادی پارٹی کہاں کھڑی ہے؟ اترپردیش میں اب تک تین بار فوج بلائی گئی ہے۔ فساد پر قابو پانے کے لئے اور تین بار ریاست میں سماجوادی پارٹی کی سرکار رہی ہے جس کی باگ ڈور درپردہ طور پر ملائم سنگھ یادو کے ہاتھ میں ہی رہی ہے۔ اکھلیش سرکار بننے کے بعد تو جیسے فسادات کا سیلاب سا آگیا ہے۔ اب تک 104 فرقہ وارانہ دنگے بھڑکے اور35 خونی جھڑپیں ہوئیں۔ خود وزیر اعلی نے مارچ میں بلائے گئے اسمبلی اجلاس میں 27 دنگوں کی تحریری جانکاری دی تھی۔ یہ دنگے15 مارچ 2012ء سے 31 دسمبر2012ء کے درمیان ہوئے تھے۔ ان میں18 لوگ مارے جاچکے ہیں۔ اترپردیش میں مظفر نگر میں حالات اس طرح سے بگڑنا افسوسناک ہے اتنا ہی تشویش کا باعث بھی ہے۔انتظامیہ محاذ پر اکھلیش سرکار اور ان کے افسر بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ بات چھوٹے سے واقعہ سے شروع ہوئی۔ 27 اگست کوکوال گاؤں میں ایک فرقے کے لڑکے نے دوسرے فرقے کی لڑکی سے چھیڑچھاڑ کی ۔ یہ لڑکی پڑوسی گاؤں ملک پور کی تھی۔ لڑکی کے دو بھائیوں گورو ۔سچن نے اس لڑکے کا نام شاہنواز بتایا تھا۔ اس کے رد عمل کے نتیجے میں اس کو قتل کردیا۔ جب شاہنواز کے رشتے داروں کو اس کا پتہ چلا تو انہوں نے دونوں بھائیوں کو بے رحمی سے مار ڈالا۔ بس یہیں سے شروعات ہو گئی۔ اگر مقامی انتظامیہ اور پولیس اسی وقت قانونی کارروائی کرتے اور میل ملاپ کی کوشش کرتے تو معاملہ شاید رک جاتا لیکن پولیس کیا کرتی ہے وہ راہل اور گورو کے خاندان والوں پر ایف آئی آر درج کرلیتی ہے اور شاہنواز کے رشتے داروں کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ دونوں فریقین کے خلاف مقدمہ درج ہوتا۔ اس سے مقامی لوگوں اور فرقہ خاص کو یہ لگا کے سرکار جانبداری برت رہی ہے اور انہیں اپنی حفاظت خود کرنی ہوگی۔ اس لئے 27 اگست کو ایک مہا پنچایت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ لیکن 30 اگست کو دوسرے فرقے کے لوگوں نے ہی جوابی کارروائی شروع کردی۔ سوال اٹھتا ہے کہ پہلے تو دونوں فریقین کے خلاف یکساں کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ پھر 30 اگست کو ہوئے حملوں کو رکا نہیں گیا پھر31 اگست کو مہا پنچایت کی اجازت دے دی؟ کسی بھی مرحلے پر دونوں فرقوں کو بٹھا کر صلح کروانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ صوبے کے گورنر بی ۔ایل جوشی نے ریاست کے بگڑتے حالات کی رپورٹ مرکزی سرکار کو بھیج دیا ہے۔گورنر نے مانا ماضی میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے لئے ریاستی سرکار کا رویہ ذمہ دار ہے اور حالات اس کے قابو سے باہر دکھائی دے رہے ہیں۔ 27 اگست کو ایک لڑکے سے چھیڑ چھاڑ کے معاملے میں مظفر نگر کے کوال میں تین لوگوں کے قتل کے قریب 11 دن بعد وہاں جس قدر حالات بگڑے اور کئی لوگوں کی موت ہوئی۔ راج بھون نے اس کو بیحد سنجیدگی سے لیا ہے۔ گورنر کا یہ بھی ماننا ہے کہ اکھلیش سرکار نے بروقت سخت قدم نہیں اٹھائے ساتھ ہی انتظامیہ کا کام کاج بھی ایسا ہی رہا جس سے حالات بگڑے۔ ووٹ بینک کی سیاست سے یہ یوپی کی سپا اتنی ابن الوقت ہے کہ پولیس اور انتظامیہ اور حکام کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں۔ افسروں سے صاف کہا گیا ہے کہ ایک فرقہ خاص کے خلاف نرم رویہ اپنائیں۔
سرکاری پالیسی کے حساب سے پولیس بھی جانبداری برت رہی ہے۔ ایک فرقہ خاص کے خلاف کارروائی کرنے سے بچتی ہے۔ جو لوگ گرفتار کئے جارہے ہیں ان میں زیادہ تر دوسرے فرقہ کے لوگ ہیں اور سماجوادی پارٹی قانون کی حکومت کام کرنے کے بجائے اپنے حمایتی فرقے کی حکمرانی قائم کرنے میں لگی ہے۔ جب خود سرکار کی فرقہ خاص کی طرفداری کرے تو ایسی سرکار سیکولر تو قطعی نہیں مانی جاسکتی۔ یہ فساد اچانک نہیں ہوا تیاری کے ساتھ ہوا۔ فسادیوں کے حوصلے اتنے بلند ہیں اور تیاری اتنی زبردست ہے کہ گاؤں میں فوج کے سامنے ہی بندوق سے فائرننگ کی گئی ۔ ایتوار کی صبح گاؤں کٹوا میں اگر فوج نہ پہنچتی تو مرنے والوں کی تعداد بہت بڑھ جاتی۔ یہاں آپسی فائرننگ میں چار لوگوں کی جان چلی گئی۔ ایتوار کی صبح جس وقت ضلع کے ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی فوج کے افسروں کے ساتھ میٹنگ کررہے تھے تب تک شاہ پور کا کٹوا گاؤں سلگ گیا تھا۔ یہاں کے گھروں کو آگ لگادی گئی۔ چار لوگوں کی موت ہوچکی تھی۔ بتایا جاتا ہے وارننگ کے بعد فسادیوں میں ایک نے کاربائن سے فائرننگ کی۔ فوج نے جوابی فائرننگ کی اور فسادیوں کو بھگایا۔ یہ اسلحہ کہاں سے کب آیا؟ کیا مقامی انتظامیہ سو رہی تھی؟ اگر میڈیا رپورٹ کو صحیح مانا جائے تو ایک مذہبی مقام سے ہتھیار، گولہ بارود نکلا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان فساد کے پیچھے سیاست ہے۔ سپا سرکار کے سپر چیف منسٹر کی یہ چال ہے۔ مغربی یوپی اجیت سنگھ کی راشٹریہ لوگ دل کا گڑھ مانا جاتا ہے یہاں کے مسلمان اور جاٹھ دونوں ہی اجیت کی پارٹی کی حمایت کرتے ہیں۔ ممکن ہے ان دونوں فرقوں کو آپس میں لڑواکر اجیت سنگھ کا دبدبہ توڑنے کا پلان ہو؟ بھلے ہی ہم دگوجے بھائی سے متفق ہیں کہ اس عہد میں سپا کا ریکارڈ کافی خراب ہے ۔ وہ فرقہ وارانہ طاقتوں کو لگام نہیں لگا پارہی ہے۔ بسپا سرکار تو سچی تھی ۔ ہم سوال کرنا چاہتے ہیں کہ جب2002ء کے گجرات دنگوں میں آج تک وزیر اعلی نریندر مودی کو دن رات کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے تو یہ خودساختہ سیکولرسٹ اسی پیمانے پر اکھلیش یادو اور ان کی سماجوادی سرکار کو کٹہرے میں کیوں نہیں کھڑا کرتے؟ یہ ہے ایسا صاف معاملہ جب ریاستی سرکار میں جانتے ہوئے سمجھتے ہوئے کارروائی اس لئے نہیں کی تاکہ فساد بھڑکے لیکن اب ہماری بلاتاخیریہ کوشش ہونی چاہئے کے سب مل کر پوجا کریں ،دعا کریں کے تشدد کا یہ دور تھمے۔ امن شانتی قائم ہو۔ پوسٹ مارٹم کے لئے بہت وقت ہے۔مندریوں، مسجدوں ، گورودواروں، گرجا گھروں، دھرم گوروؤں اور مقامی لیڈروں کو سب مل کر پہلا کام تشدد کو رکوائیں اور امن چین قائم کرنا چاہئے۔
(انل نریندر)

10 ستمبر 2013

مودی کی پی ایم امیدواری کے وقت کولیکر بھاجپا میں گھمسان!

گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو بھاجپا کی جانب سے وزیر اعظم امیدوار بنانے کے اعلان پر پارٹی میں ایک رائے نہیں بن پارہی ہے۔ نریندر مودی نے بھلے ہی کہا ہو کہ انہوں نے بڑے عہدے پر جانے کا خواب نہیں دیکھا لیکن جس ڈھنگ سے وہ پچھلے کچھ دنوں سے چل رہے ہیں اس میں کسی کو شبہ نہیں کہ وہ پی ایم بننا چاہتے ہیں۔ چاہے وہ کتنا ہی انکار کیوں نہ کریں؟ مودی کی حمایت میں بھی بااثر لوگ ہیں اور مخالفت میں بھی۔ پہلے بات کرتے ہیں ان کو پی ایم امیدوار اعلان کرنے والے لوگوں کے بارے میں۔ ان میں سب سے اہم ہیں پارٹی کے راجیہ سبھا میں لیڈر ارون جیٹلی جو کہتے ہیں مودی کوپی ایم امیدوار بلاتاخیر اعلان نہ کرکے پارٹی بھاری خطرہ مول لے رہی ہے اور دیش میں کانگریس مخالف ماحول کا پورا فائدہ اٹھانے کے لئے جلد سے جلد انہیں پی ایم ان ویٹنگ اعلان کیا جائے۔ اب مودی کی حمایت میں بابا رام دیو بھی کود پڑے ہیں۔ رام دیو نے جمعہ کو دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بھاجپا اس مہینے کے آخر تک نریندر مودی کو وزیر اعظم کا امیدوار اعلان کردے نہیں تو وہ بھاجپا کی حمایت نہیں کریں گے۔ دیش نریندر مودی کی لیڈر شپ میں ہی طاقتور بن سکے گا۔دیش کو مہا نائک کی ضرورت ہے اور مودی وہ ہیں۔ دیش کے سرکردہ صنعت کارکئی موقعوں پر نریندر مودی کو وزیر اعظم بنانے کی وکالت کرچکے ہیں۔ کارپوریٹ دنیا پر کئے گئے ایک سروے میں بھی اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ دیش کی موجودہ معیشت کو بحران سے نکالنے میں مودی پردھان منتری منموہن سنگھ سے بہتر ثابت ہوسکتے ہیں۔ سروے میں زیادہ تر صنعت کاروں نے طریقے شرح کو پٹری پر لانے کے لئے مضبوط لیڈر شپ کی وکالت کی ہے جو مودی ہی دے سکتے ہیں۔ دوسری طرف نریندر مودی کو ابھی سے پی ایم امیدوار اعلان کرنے کی مخالفت میں کھڑی ہے خود بھاجپا۔ اس کے کئی لیڈر و وزیر اعلی مودی کو پی ایم امیدوار اعلان کرنے کے خلاف ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ انہیں اعتراض وقت پر ہے۔ مثال کے طور پر مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان نے مودی کے نام کے جلداعلان کی یہ کہہ کرمخالفت کی کے نومبر میں ہونے والے مدھیہ پردیش اسمبلی چناؤ سے پہلے پی ایم امیدوار کا اعلان نہ کیا جائے۔ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ وزرائے اعلی اور ریاستی سرکاروں کے صلاح مشورے سے لڑے جائیں۔ اگر مودی کو ابھی سے پروجیکٹ کردیا گیا اور پارٹی کسی ریاست میں ہار جاتی ہے تو مودی کی امیدواری پر سوالیہ نشان لگ سکتے ہیں۔ نیویارک ٹائمس کے لئے ایک فری لانسر صحافی کو دئے گئے انٹرویو میں گووا کے وزیر اعلی منوہر پاریکر نے ایک اور تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں 2002ء میں گودھرا کانڈ کے بعد ہوئے فساد مودی کے کردار پر داغ ہیں حالانکہ اس کے لئے مودی شخصی طور سے قصوروار نہیں ہیں۔ شیوراج چوہان اور پاریکر دونوں نے اب صفائی پیش کی ہے اور کہنا ہے کہ ان کا مقصد مودی پر حملہ نہیں تھا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی اور سشما سوراج نے بھی اس اشو کو جمعہ کے روز آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت سے ملاقات کر اٹھایا تھا اور کہا تھاپارٹی مودی کو پی ایم امیدوار بنانے سے پہلے شیو راج چوہان اور پاریکر سے صلاح کرنی چاہئے۔ سنگھ کے چیف موہن بھاگوت دہلی میں ہیں اور وہ دباؤڈال رہے ہیں اور اس اشو کو سلجھانے میں لگے ہیں۔ سنگھ کے لئے یہ تشویش کی بات ہے کہ مودی کی مخالفت کرنے والے تیزی سے صف آرا ہو رہے ہیں۔ سنگھ کے پانچ سوال کن کو پی ایم امیدوار اعلان کرنا غیر ضروری لگتا ہے؟ کن کو مودی کی امیدواری ناپسند ہے؟ کن کا سروکار مودی کی امیدواری کے وقت کی میعادسے ہے؟ الگ الگ باتوں پر عام رائے بنانے کا کیافارمولہ ہے ؟ اور عام رائے نہ بننے پر کیا راستہ ہو؟ بھاجپا کے کئی نیتا چاہتے ہیں کہ پی ایم کے عہدے کے امیدوار کے لئے مودی کا نام جلد اس لئے اعلان ہونا چاہئے کے مودی کی مقبولیت پارٹی کو کئی سیٹیں دلوا سکتی ہے۔ نام پر کوئی تنازعہ رہنے سے پارٹی کو نقصان ہی ہوگا اور دوسری طرف مخالفت کی وجہ یہ ہیں مخالفین کا کہنا ہے کہ اگر مودی کی پی ایم امیدواری کا اعلان جلد ہوجاتا ہے تو مسلم اکثریت والی سیٹوں پر بھاجپا کومشکل ہوسکتی ہے اس لئے مودی کی امیدواری کا اعلان اسمبلی چناؤ کے بعد کیا جانا چاہئے۔ دیکھیں کے سنگھ چیف موہن بھاگوت بھاجپا میں چھڑے اس زبردست تنازعے کو سلجھا پاتے ہیں یا نہیں؟
(انل نریندر)

وادی میں گونجی’ احساس کشمیر کنسرٹ‘ کی دھنیں!

کشمیر یعنی سری نگر کے 400برس پرانے تاریخی شالیمار باغ میں شام کو سریلی موسیقی کی بہار دیکھنے اور سننے کو ملی۔ ڈل جھیل کے کنارے دنیا کے مشہور موسیقار زوبن مہتہ کی دھنوں نے ایسا جادو بکھیر دیا کے شالیمار باغ میں جمع ہوئے 1500 سامعین جھوم اٹھے۔ خوبصورت چنار کے پیڑوں کے بیچ 400 سال پرانے اس مغل باغیچے میں مہتہ اور ان کے آرکیسٹرا نے مغربی کلاسیکل موسیقی پیش کی اور کچھ بہت پسندیدہ دھنیں بھی بجائیں۔ ڈل جھیل میں بھرے پانی کی سطح کو چھو کر آرہی ٹھنڈی ہوا کے جھنکوں کے بیچ زوبن مہتہ نے جب اپنے موسیقی سازو سامان سے سروں کی تان چھیڑی تو پورا ماحول تھرک اٹھا۔ دور زبروان کی پہاڑیوں سے ٹکراکر لوٹ رہی دھنوں نے پورے ماحول کو سریلی آوازوں کا گہوارہ بنا دیا۔ اس انعقاد کا جس کا نام’ احساس کشمیر کنسرٹ ‘تھا،کو لیکر بحث و مباحثہ تبھی سے شروع ہوگیا جب سے اس کے بارے میں خبر آئی تھی۔ مخالفت میں علیحدگی پسند تو حمایت میں حکومت اور بیچ میں پھنسے 77 سالہ دنیا کے مشہور زوبن مہتہ اپنا پروگرام پیش کررہے تھے ۔ یہ زوبن مہتہ کون ہے اور کیوں علیحدگی پسند اس کی مخالفت کررہے تھے؟ 29 اپریل 1936ء کو ممبئی کے ایک پارسی خاندان میں پیدا ہوئے زوبن نے موسیقی کی دنیا میں ممبئی سنگفونی آرکیسٹرا میں قدم رکھا۔1958ء میں ویانا سے بین الاقوامی سطح پر شروعات کی۔ اس کے بعد آرکیسٹرا کے ماہر زوبن ازرائل فلے مونک آرکیسٹرا کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔ 1978 سے1991ء تک نیویارک میں فلمی بورڈ کے کنوینر بھی رہے۔2001ء میں بھارت سرکار نے انہیں پدم وبھوشن سے نوازاتھا۔ 2011 ء میں زوبن مہتہ ہالی ووڈواک آف فیم سے نوازے گئے۔ احساس کشمیرنام کے زوبن کے اس موسیقی پروگرام نے علیحدگی پسندوں اور سماج کے مخالفین کے سبب سیاسی رنگ لے لیا۔ علیحدگی پسند اس لئے اس کے خلاف تھے کہ ایک یہودی فلم میں انہوں نے میوزک دیا تھا۔ کشمیرمیں امن کی تصویر پیش کئے جانے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے؟ کنسرٹ کے خلاف حریت کانفرنس کے کٹر پسند لیڈر سیدعلی شاہ گیلانی نے اس کی مخالفت میں بند کرایاتھا۔ اس میں شہر کا زیادہ تر حصہ بند رہا۔ احساس کشمیر کنسرٹ سے ٹھیک پہلے دہشت گروں نے کشمیر کی فضامیں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ دہشت گردوں نے پہلے کشمیر کے شوپیاں میں سی آر پی ایف کے جوانوں کے کیمپ پر فائرنگ کی لیکن جوابی فائرنگ میں دو آتنک وادی ڈھیر ہوگئے اور دو مقامی لڑکے بھی اس میں مارے گئے۔ اس کے بعد بھڑکے تشدد پر قابوپانے کے لئے پولیس کو بھی گولی چلانی پڑی جس میں پانچ لڑکے زخمی ہوگئے۔ موسیقی پروگرام سے پانچ گھنٹے پہلے دوپہر12:45 بجے شوپیاں کے گاگاٹن علاقے میں موٹر سائیکل سوار تین دہشت گردوں نے سی آر پی ایف کے بنکر کے پاس کھڑے جوانوں پر فائرنگ کربھاگنے کی کوشش کی لیکن جوانوں نے جوابی فائرنگ کی جس میںیہ دونوں مقامی لڑکے مارے گئے لیکن علیحدگی پسندوں کی ساری کوششوں کے باوجود زوبن مہتہ کا’ احساس کشمیر کنسرٹ‘ ہوا ۔ زوبن نے بعد میں خوشی کے انداز میں کہا کہ مجھے کشمیر نے چنا ہے میں نے کشمیرکو نہیں۔ ہم خوش ہیں ہم بہت خوش ہیں۔ اگلی بار پھر ایسا ہی پروگرام ہونا چاہئے۔ موسیقی محض کچھ لوگوں کے لئے نہیں بلکہ سب کے لئے ہونی چاہئے اس پروگرام کے لئے عدیم المثال سکیورٹی انتظامات کے درمیان ہوئے موسیقی کے انعقاد سے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے اپنے خیالات امیر خسرو کی سطریں پڑھ کر ظاہر کئے’’دنیا میں اگر کہیں جنت ہے تو وہ یہیں ہے یہیں ہے‘‘
(انل نریندر)

08 ستمبر 2013

کیا کانگریس کا آپریشن ونجارا رنگ لائے گا؟

نریندر مودی کو بھاجپا اپنا وزیر اعظم امیدوار بنانے کی شارے عام و رسمی اعلان کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤسے ٹھیک پہلے مودی کو ہونے والے وزیر اعظم کے طور پر پیش کرنے میں کہیں مودی کی آنکھ کا تارا رہے جیل میں بند آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا کا سنسنی خیز لیٹر بم مودی کا کھیل نہ بگاڑدے؟ کانگریس نے بڑی ہوشیاری اور خفیہ طریقے سے اس آپریشن ونجارا کو انجام دیا۔ ونجارا کی بغاوت کی کہانی قریب چار مہینے سے بھی زیادہ وقت سے لکھی جارہی تھی۔ مودی کو لیکر یہ ایک بڑا سیاسی دھماکہ ہے جسے بے حد خفیہ طریقے سے یوپی اے کے حکمت عملی سازوں نے انجام دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ونجارا کو وعدہ معاف سرکاری گواہ بنانے کی تیاری سی بی آئی نے کر لی ہے اور جلد ہی دفعہ164 کے تحت مجسٹریٹی بیان بھی درج کرانے کی اسکیم ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو مودی اور ان کے بیحد قریبی امت شاہ کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے عشرت جہاں، سہراب الدین، تلسی رام پرجا پتی اور کوثر بی سمیت گجرات میں ہوئی مبینہ فرضی مڈبھیڑوں کی جانچ کررہی سی بی آئی کو قریب چار مہینے پہلے ہی سرکار میں اعلی سطح پر جانچ کو اس کی دلیل آمیز حکمت عملی تک پہنچانے کے لئے ہری جھنڈی ملی تھی۔ اس سے پہلے کانگریس لیڈر شپ اور سرکار میں اعلی سطح پر اسے لیکر لمبی جدوجہد چلتی رہی تاکہ فرضی مڈ بھیڑ کی جانچ کو کہاں تک آگے بڑھایا جائے؟ جہاں وزیر اعظم اور پی ایم او اس معاملے میں پھونک پھونک کر قدم رکھنے کے حمایتی تھے اور اس معاملے کے سیاسی نفع نقصان کا تجزیہ کرنے کی بات کررہے تھے وہیں پی چدمبرم، کپل سبل، سشیل کمار شندے جانچ کو کسی حد تک لے جانے کی چھوٹ سی بی آئی کو دینے کے حق میں تھے۔ جب سونیا گاندھی اور ان کے سیاسی سکریٹری احمد پٹیل جلد بازی میں ایسا کوئی قدم اٹھانے کے حق میں نہیں تھے جس سے بھاجپا کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کا موقعہ ملے۔ سی بی آئی پچھلے کافی عرصے سے جیل میں بند پولیس افسران کو وعدہ معاف گواہ بنانے کی کوشش میں لگ گئی تھی۔ کل 32 ملزمان میں سے اب تک قریب ایک درجن پولیس ملازمین کے اقبالیہ بیان درج کرائے جاچکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مودی کے قریبی ونجارا کو لیکر سی بی آئی مسلسل شش و پنج میں رہی۔ جب سے اسے ونجارا کے قریبی سوتروں سے اشارے ملے کے جیل میں پچھلے 6 سال سے پریشان ونجارا ٹوٹ سکتے ہیں تب خاندانی ذرائع اور دوستوں کے ذریعے رابطہ قائم کیا گیا۔ مڈبھیڑ پر ہوئی سیاست سے پریشان ونجارا نے وعدہ معاف گواہ بننے کی حامی دینے پر ہی اپنے استعفیٰ دینے کا دھماکہ کردیا۔ ونجارا کے لیٹر بم سے سیاست میں طوفان آگیا ہے۔ کانگریس نریندر مودی کے پیچھے برسوں سے ہاتھ دھوکر پڑی ہوئی ہے لیکن ابھی تک کانگریس کوکوئی ایسا ٹھوس قانونی ثبوت ہاتھ نہیں لگا جس سے مودی کو ان فرضی مڈبھیڑوں اور دنگوں سے جوڑا جاسکے۔ ڈی جی ونجارا کا اقبالیہ بیان حاصل کرنے کے لئے سی بی آئی کو مناسب قدم اٹھانے کی ہدایت دینے کے لئے سپریم کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی بھی داخل کرادی گئی ہے۔ یہ عرضی دو وکیلوں کے ذریعے دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے ونجارا کے لیٹر بم کی تفصیل سے صاف ہے کہ ریاستی حکومت کسی طرح سے مڈبھیڑ کو انجام دیا ہے۔ عرضی میں دلیل دی گئی ہے کہ ونجارا کا بیان درج کیا جانا چاہئے کیونکہ سہراب الدین شیخ، تلسی رام پرجا پتی فرضی مڈبھیڑ معاملے میں اس کا سنگین اثر پڑے گا۔ پولیس کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سطح کے افسر 59 سالہ ونجارا کو مبینہ فرضی مڈبھیڑوں میں ملوث ہونے کے الزام میں معطل کرنے کے بعد جیل بھیج دیا گیا تھا۔ معاملہ اس لئے بھی پیچیدہ ہوسکتا ہے کے جن چار مڈبھیڑ کی جانچ چل رہی ہے ونجارا ان چاروں مڈبھیڑکے وقت موجود تھے۔ ان کی ٹیلی فون تفصیلات بتاتی ہیں ونجارا مڈبھیڑ کے وقت بھی امت شاہ اور وزیر اعلی کی رہائش گاہ کے رابطے میں تھے۔ معاملے میں کوثر بھی اور سہراب الدین کی مبینہ قتل سے متعلق ثبوتوں کو بھی بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔ ان ثبوت کا ذکر جانچ رپورٹ میں ہے۔ کل ملاکر کانگریس کا یہ آپریشن ونجارا ابھی تک تو رنگ لارہا ہے آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

کوئلہ الاٹمنٹ فائلوں کو کیا آسمان کھاگیا یا زمین نگل گئی؟

اب یہ صاف ہوتا جارہا ہے کرپشن کے خلاف سرکار ٹال مٹول اور مایوس کن رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ کوئلہ الاٹمنٹ کی فائلوں کو زمین کھا گئی یا آسمان؟اس سوال کا تشفی بخش جواب دینے کے بجائے پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کا یہ کہنا کہ وہ فائلوں کے رکھوالے نہیں ہیں، یہ ظاہرکرتا ہے کہ اس یوپی اے سرکار کے پاس چھپانے کے لئے بہت کچھ ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج نے صحیح کہا کہ معاملے میں فوراً ایک ایف آئی آر درج ہونی چاہئے کیونکہ یہ چوری کا معاملہ ہے نہ کے غائب ہونے کا۔ ایف آئی آر درج نہ کرنے کا مطلب صاف ہے کہ سرکار کچھ چھپانا چاہتی ہے۔ کوئلہ الاٹمنٹ میں بے ضابطگی کا سلسلہ لمبا ہے۔ یہ 1.86 لاکھ کروڑ کا ہے۔ اس معاملے سے جڑی فائلیں غائب ہوئی ہیں۔ اسکی خبر سب سے پہلے مرکزی وزیر کوئلہ سری پرکاش جیسوال نے دی۔ بعد میں وزیر موصوف نے اپنا بیان بدل دیا اور کہا کہ زیادہ تر فائلیں مل گئی ہیں کچھ تلاش کی جارہی ہیں۔ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی نیتا سیتا رام یچوری نے سوال کیا فائلیں گم ہونے کے بعد اب تک ایف آئی آر درج کیوں نہیں کرائی گئی۔ سی اے جی نے فائلوں کی جانچ کی تھی اس لئے اس کے پاس دستاویزوں کی کاپیاں ہوسکتی ہیں۔ سی اے جی سے دستاویز کیوں نہیں مانگے گئے؟ وہ دستاویز سی اے جی سے لیکر ایف آئی آر درج کی جانی چاہئے اور قصورواروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی ہو۔ اس کے لئے ایک کمیٹی قائم کر جانچ شروع کی جانی چاہئے۔ جو کچھ ہوا ہے اس سے پارلیمانی کارروائی پر بھی شبہ پیدا ہوتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے 29 اگست2013ء کو کوئلہ الاٹمنٹ گھوٹالے کی جانچ کررہی سی بی آئی کو یہ ہدایت دی ہے کہ وہ دو ہفتے کے اندر سبھی غائب ہوئی فائلیں اور دستاویز و دیگر کاغذات کی فہرست عدالت کو مہیا کرائے۔ سی بی آئی کوئلہ وزارت کو ان دستاویزوں کی ایک فہرست سونپی ہے۔ حیرانی اس بات کی ہے اتنا کچھ ہونے کے باوجود ابھی منموہن سرکار یہ ماننے کو تیار نہیں ہے کہ فائلیں غائب ہوچکی ہیں یا چوری ہوگئی ہیں۔ وزیراعظم خود یہ بات کہہ رہے ہیں کہ ماننا جلد بازی ہوگی کے فائلیں غائب ہیں۔ اگر فائلیں غائب نہیں ہیں تو کہاں ہیں؟ بار بار مانگنے پر سی بی آئی کو کیوں نہیں دی جارہی ہیں؟ صرف یہ کہنے سے کام نہیں چل سکتا کے سرکار کچھ نہیں چھپا رہی ہے۔ قریب 250 دستاویزوں والی فائلوں کا نہ ملنا ایک طرح سے ثبوت ضائع کرنے جیسا جرم ہے۔ سرکاری فائلوں کا ریکارڈ رکھنے کیلئے ایک الگ ٹریکنگ رجسٹر ہوتا ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ فائلوں کی حرکت کہاں کیسے ہوئی۔ اس آمدو رفت، ٹریکنگ رجسٹر سے پتہ چل سکتا ہے آخری بار یہ فائل کس کے ڈیکس پر گئی تھی۔ سرکاری ریکاڈر سے ایک اہم معاملے سے جڑے دستاویزوں کا غائب ہونا ہماری سرکار کے انتظامی نظام پر سوال کھڑے کرتا ہے۔کسی گہری سازش کابھی یہ اشارہ ہے۔ سیدھی سی بات ہے جن کمپنیوں یا شخص کی فائلیں غائب ہیں ان سے بھی سی بی آئی پوچھ تاچھ کرے۔ وزارت سے کون کون سا افسر شامل ہوسکتا ہے اس سے پوچھا جائے۔ ہاں اگر سرکار کی نیت ہی ان غائب یا چوری شدہ فائلوں کو ڈھونڈنے کی نہیں ہے اور یہ پتہ کرنے کی کہ قصوروار کون ہے اسے کیا فائدہ تھا انہیں غائب کرنے میں؟
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...