08 ستمبر 2011

بیچارے امر سنگھ گئے تھے ضمانت کیلئے ملی جیل


Published On 8th September 2011
انل نریندر
سال2008 کے سنسنی خیزووٹ کے بدلے نوٹ معاملے میں منگل کے روز ایک ڈرامائی موڑ آگیا جب راجیہ سبھا ایم پی اور نامور شخصیت امر سنگھ کو گرفتار کرلیا گیا ۔اسپیشل جج سنگیتا ڈھینگرا سہگل کی عدالت میں سماعت ہوئی تھی۔ صبح میں امر سنگھ نے خراب صحت کا حوالہ دیتے ہوئے پیشی سے چھوٹ کی اجازت کی اپیل کی تھی۔ اس پر عدالت نے ان کے وکیل کو ممکنہ کاغذات پیش کرنے کوکہا۔ لیکن دوپہر بعد حیرت انگیز طریقے سے امر سنگھ خود عدالت میں حاضر ہوگئے اور اپنی بیماری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں پوری طرح سے اپنی میڈیکل جانچ کی ضرورت ہے لہٰذا انہیں پیشگی ضمانت دے دی جائے۔ لیکن جج سنگیتا ڈھینگرا سہگل نے ان دلیلوں کومسترد کردیا اور 55 سالہ امر سنگھ کو14 دنوں کے لئے جوڈیشیل ریمانڈ میں تہاڑ جیل بھیج دیا۔ گذشتہ25 اگست کو عدالت نے امر سنگھ کے علاوہ بھاجپا کے سابق ایم پی پھگن سنگھ کلستے، مہاویر سنگھ بھگوٹا اور سدھیندر کلکرنی کو سمن جاری کیا تھا۔ فی الحال امریکہ میں ہونے کے سبب کلکرنی عدالت میں نہیں آ پائے۔ عدالت نے پھگن سنگھ کلستے و مہاویر سنگھ کو ضمانت دینے سے انکار کردیا اور انہیں بھی جیل بھیج دیا۔ صبح جب امر سنگھ کے وکیل نے میڈیکل بنیاد پر پیشی سے چھوٹ مانگی تو عدالت نے کہا کہ وہ12.30 بجے تک پوری میڈیکل رپورٹ پیش کریں۔ اس کے بعد امر سنگھ خود میڈیکل کے ساتھ پیش ہوگئے۔ پیش ہے عدالت کے سوال اور امر سنگھ کے جواب۔ سوال: یہ تو قریب سال بھر پرانی رپورٹ ہے۔ ستمبر 2010 کے بعد کی میڈیکل رپورٹ کہاں ہے؟ جواب: وقت کم تھا، جلد بازی میں پوری میڈیکل رپورٹ نہیں لا سکا۔ کہیں تو منگا دیتا ہوں۔ سوال : صبح خود پیش کیوں نہیں ہوئے؟ جواب: میں شدید طور پر بیمار ہوں۔ میرا گردہ خراب ہوگیا ہے۔ میں دوسرے کے گردے پر زندہ ہوں۔ عدالت کا سنمان کرتا ہوں اس لئے بیمارہونے کے باوجود پیش ہونے کے لئے یہاں آیا ہوں۔ کہیں یہ پیغام نہ جائے کہ میں عدالت سے بہانا بنا رہا ہوں۔ گردے کے علاوہ بھی مجھے کئی بیماریاں ہیں۔ ڈاکٹروں نے مجھے پرسکون زندگی گذارنے کے لئے کہا ہے۔
شری امر سنگھ کو بلی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ پیسے کس نے امر سنگھ کو دئے ، کس لئے دئے، پورے معاملے میں فائدہ کس کو ہوا۔ جب تک ان سوالوں کا تسلی بخش جواب نہیں ملتا ہماری نظر میں یہ معاملہ ادھورا ہے۔ پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ جس نے معاملے کا پردہ فاش کیا پولیس نے انہیں ہی پھنسا دیا۔ ان کا کیا قصور تھا؟ بس یہی کہ انہوں نے پوری سازش کا پردہ فاش کیا تھا؟ اس گرفتاری کا زبردست فال آؤٹ ہوسکتا ہے۔ اگرامر سنگھ نے سارا راز کھول دیا تو کئی کانگریسی سرکردہ لیڈر پھنس سکتے ہیں اور یہ ہی فکر کانگریس کو اندرونی طور پر ستائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس نے ڈیمیج کنٹرول کرنا شروع کردیا ہے۔ اس سے پہلے کے امر سنگھ اپنا منہ کھولیں کانگریس حکمت عملی سازوں نے بھی مورچہ سنبھال لیا ہے۔ وزیر پارلیمانی امور پون کمار بنسل کا کہنا ہے کہ اس وقت کانگریس کو ووٹ خریدنے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیفٹ پارٹیوں کے ذریعے حمایت واپس لینے کے باوجود یوپی اے I- کے پاس مناسب اکثریت تھی۔ بنسل کی دلیل اس لئے بھی ضروری دکھائی پڑتی ہے کیونکہ عدالت میں سب سے پہلا سوال یہ ہی اٹھے گا کہ آخر پورے معاملے پر فائدہ کسے ملا؟ کانگریس ترجمان اور جانے مانے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی کا کہنا ہے ہر معاملے میں ضروری نہیں ہوتا، فائدہ پانے والا ہی قصوروار ہو کیونکہ کئی بار پھنسانے کے ارادے سے بھی جرائم کئے جاتے ہیں۔ یعنی اس سے پہلے لوگ یہ کہیں کہ فائدہ پانے والوں (کانگریس) میں سے کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے جبکہ رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں ہی جیل بھیج دئے گئے ہیں۔ جن کے لئے لین دین ہوا وہ ابھی بھی عزت کے ساتھ حکومت چلا رہے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں نے خاص کر لیفٹ پارٹیوں نے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے پارلیمنٹ میں پوزیشن صاف کرنے کو کہا ہے۔ کانگریس کے حکمت عملی ساز اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ وزیر اعظم چاہے جو بولیں ، سرکار کٹہرے میں ضرور کھڑی ہوگی۔ اگر وہ کہیں گے کہ انہیں معاملے کی جانکاری تھی تو بھی پھنسے اور اگر یہ کہتے ہیں ہمیں کوئی معلومات نہیں تھی اور ان کی لیڈر شپ پر انگلیاں اٹھیں گی ۔ اس لئے پون کمار بنسل نے ابھی سے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ اس موضوع پر وزیر اعظم کچھ نہیں بولیں گے۔ لیفٹ پارٹیوں کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہر معاملے میں وزیر اعظم کا بیان ضروری نہیں ہوتا۔ کل ملاکر بیچارے امر سنگھ گئے تو تھے ضمانت مانگنے لیکن ان کو مل گئی جیل۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ امر سنگھ سے ناانصافی ہوئی ہے جبکہ ان کی طبیعت خراب ہے اور پتہ نہیں وہ تہاڑ جیل کی یاترا برداشت بھی کرسکیں گے؟

منموہن سنگھ کے دورۂ بنگلہ دیش پر ممتا نے لگایاپلیتا

ہمیں اپنے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حالت کو دیکھ کر رحم آتا ہے اور دکھ بھی ہوتا ہے۔ غیروں کے ذریعے آئے دن ان کی پگڑی اچھائی جاتی رہتی ہے لیکن جب اپنوں سے بھی ایسا ہونے لگے تو دکھ اور افسوس ہی ہوتا ہے۔ گذشتہ ہفتے مجوزہ کھیل بل کے معاملے میں منموہن سنگھ کو منہ کی کھانی پڑی۔ اب مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے ان کے ساتھ بنگلہ دیش جانے سے انکار کردیا۔ منموہن سنگھ کا بدقسمتی سے نہ تو اپنی سرکار کے وزرا پر کوئی اور نہ ہی حمایتی پارٹیوں پر کوئی رعب رہا۔لیکن منگل کے روز وزیر اعظم اپنے دو روزہ دورۂ بنگلہ دیش پر روانہ ہوئے۔ ممتا بنرجی کو بھی ان کے ساتھ جانا تھا لیکن لاکھ کوششوں کے باوجود ممتا بنرجی نہیں مانیں اور آخر کار وزیراعظم کو ان کے بغیر ہی جانا پڑا۔ وزیر اعظم کے اس دورے پر ان کے ساتھ میگھالیہ، تریپورہ، میزورم کے وزرا اعلی بھی گئے تھے۔ ڈاکٹر سنگھ کی ٹیم میں وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا بھی تھے۔ 12 سال کے بعد کسی ہندوستانی وزیر اعظم کے دورۂ بنگلہ دیش کو بڑی تبدیلی کی شکل میں دیکھا جارہا ہے۔ دہشت گردی اور سلامتی کے مسئلوں پر ہندوستانی تشویشات کے تئیں بنگلہ دیش کی شیخ حسینہ نے کچھ قدم ضرور اٹھائے ہیں لیکن ابھی کچھ اور اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پہلی بار ندیوں کے پانی کے بٹوارے، سرحدوں کے تعین و جزیروں کے لین دین جیسے تناؤ پیدا کرنے والے اشوز پر بات چیت ہوئی اور وزیر اعظم کے اس دورے میں کئی اہم سمجھوتے ہونے کی امید جتائی گئی تھی۔ سڑک ، ریل اور سمندری روابط کو مضبوط کرنے پر بھی کئی اسکیموں پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ بنگلہ دیش کے چٹگاؤں ،منگلا بندرگاہ کا استعمال ہندوستانی تجارت کو بڑھانے وغیرہ جیسے کئی مزید اشوز پر دونوں پڑوسی ملکوں کی بات چیت ہوئی۔
تیستا آبی سمجھوتے پر سوال کھڑے کر کے ممتا بنرجی نے وزیر اعظم کے اس اہم دورے کی ہوا نکال دی ہے۔ حکومت کے حکمت عملی ساز ممتا کے اس رویئے کی نہ تو تنقید کر پا رہے ہیں اور نہ ہی ان کے اعتراض کو درست ٹھہرا پارہے ہیں۔ تیستا آبی سمجھوتے پر پچھلے دو مہینوں سے کام کررہی وزارت آبی وسائل ممتا کے نہ جانے سے مایوس ہے۔ ممتا کا خیال ہے کہ تیستا معاہدے سے مغربی بنگال کے نارتھ حصے کو نقصان ہوگا۔ تیستا کا پانی سکم سے گذرتا ہے مغربی بنگال کے شمالی حصے سے ہوکر ندی بنگلہ دیش میں داخل ہوتی ہے۔ گذشتہ ہفتے سابق قومی سکیورٹی مشیر شو شنکر مینن نے ممتا بنرجی کو کولکتہ میں بتایا تھا کہ 25 ہزار کیوسک پانی بنگلہ دیش کو دیا جائے گا لیکن قطعی معاہدے میں 33 ہزار سے50 ہزار کیوسک پانی دینے کی بات کہی گئی ہے۔مرکزی کیبنٹ کی میٹنگ میں ممتا نے ریل منتری دنیش دویدی کو اس مسئلے کواٹھانے کو کہا تھا تیستا ندی سکم کے سولوموجھیل سے نکل کر بنگلہ دیش میں داخل ہوتی ہے اور کچھ 600 کلو میٹر کا راستہ طے کرکے برہم پتر میں مل جاتی ہے۔ بھارت میں سلی گوڑی کے پاس تیستاکے گاجل ڈوبہ پوائنٹ پر پانی کی مقدار ناپ کربٹوارے کا فارمولہ تیار کیا گیا ہے۔ اس کے تحت تیستا میں 460 کیوزک پانی چھوڑ کر باقی میں 52 فیصدی بھارت کو ،48 فیصدی بنگلہ دیش کو دینے کی بات کہی گئی ہے۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی کے مطابق گرمی میں گاجل ڈوبہ پوائنٹ پر ہی تیستا کا پانی گھٹ کر صرف پانچ ہزار کیوزک رہ جاتا ہے۔ ایسے میں معاہدے کے مطابق بنگلہ دیش کو پانی دینے پر بنگال کے چھ ضلعوں کا کیا ہوگا؟ ایک اعتراض تیستا کی سنچائی والے علاقے کو بھی لیکر ہے۔ ممتا کے احتجاج کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس مقدار میں اب تیستا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ (انل نریندر)

07 ستمبر 2011

ہیرو سے ویلن بنے کرنل معمر قذافی


Published On 7th September 2011
انل نریندر
لیبیا میں باغیوں کو اب تک نہ تو کرنل معمر قذافی کو پکڑنے میں کامیابی ملی ہے اور نہ ہی وہ ان کے آبائی شہر سرتے پر قبضہ کرپائے۔ پچھلے تقریباً چھ مہینے سے باغیوں اور قذافی حمایتیوں میں جنگ جاری ہے۔ قذافی کی ہمت اور حمایت کی داد دینی ہوگی کہ ایک طرف تو ان کے مٹھی بھر حمایتی فوجی ہیں دوسری طرف مغربی ممالک کی پوری مدد سے لڑ رہے باغی۔ مغربی ممالک خاص کر فرانس، امریکہ ہیں جو ہر ممکن طریقے سے ان باغیوں کی مدد کررہے ہیں۔ امریکہ کا دوہرہ چہرہ ایک بار پھر لیبیا میں بے نقاب ہوا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے ترپولی میں لیبیائی سکیورٹی ایجنسیوں کی ایک عمارت میں پائے گئے دستاویزوں سے انکشاف کیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ سی آئی اے نے قریب سے معمر قذافی کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ انہوں نے لیبیا کے لئے مشتبہ دہشت گردوں سے پوچھ تاچھ میں مدد کی۔ اس واقع سے واشنگٹن اور لیبیا کے حکمرانوں کے درمیان کشیدگی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
معمر قذافی ایک انقلابی سے ولن کیسے بن گیا؟ سال1969 ء میں جب انہوں نے فوجی تختہ پلٹ کر اقتدار حاصل کیا تھا تو معمر قذافی ایک خوبصورت اور کرشمائی فوجی افسر تھا۔ خود کو مصر کے جمال عبدالناصر کا شاگرد بتانے والے قذافی نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد خود کو کرنل کے خطاب سے نوازا اور دیش میں اقتصادی اصلاحات کی طرف توجہ دی۔ جو برسوں کی غیر ملکی بالادستی کے چلتے خستہ حالت میں تھی۔ اقتدار کا تختہ پلٹ سے پہلے کیپٹن کے عہدے پر ہوا کرتے تھے اگر ناصر نے سوئزنگر کو مصر کی بہتری کا راستہ بنایا تھا تو کرنل قذافی نے تیل کے ذخائر کو اس کے لئے چنا۔ لیبیا میں 1950 کی دہائی میں تیل کے بڑے ذخیرے کا پتہ چلا تھا لیکن اس کی کانکنی کا کام پوری طرح سے بیرونی کمپنیوں کے ہاتھ میں تھا جو اس کی قیمت طے کیا کرتی تھیں۔ جو لیبیا کے لئے نہیں بلکہ خریداروں کو فائدہ پہنچاتی تھیں۔ قذافی پہلے عرب حکمراں تھے جنہوں نے تیل کی پیداوار سے ہوئی آمدنی کا بڑا حصہ اپنے ملک کی ترقی میں لگایا اور غیر ملکی کمپنیوں کو پہلی بار یہ سمجھ میں آگیا کہ اب وہ عرب ممالک کا استحصال نہیں کرسکیں گی۔ لیبیا وہ پہلا ترقی پذیر ملک تھا جس نے تیل کی کھدائی سے ملنے والی آمدنی میں بڑا حصہ حاصل کیا۔ دوسرے عرب ممالک نے بھی وہ ہی راستہ اپنایا اور عرب ممالک میں 1970 کی دہائی کی پیٹرو بوم یعنی تیل کی بہتر قیمتوں سے آغاز ہوا۔ اور اس سے ان ملکوں میں خوشحالی کا دور آیا۔
کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ لیبیا میں قذافی نے اپنے شہریوں کو جو سہولیات دی تھیں ان کا موازنہ کرنا مشکل ہے۔ ہر لیبیائی شہری کو بغیر سود کے قرض مل سکتا ہے۔ طلبا کو پڑھائی کے دوران جس کام کیلئے وہ پڑھ رہے ہیں ، اس کی ان کو تنخواہ دی جاتی ہے۔ یہ تنخواہ اتنی ہی ہوتی ہے جتنا وہ نوکری کرنے پر کما سکتے ہیں۔ یہ انہیں پڑھائی کے دوران دے دی جاتی تھی۔ اگر آپ کو نوکری نہیں مل رہی تو آپ کو سرکار نوکری کی پوری تنخواہ تب تک دیتی رہے گی جب تک آپ کو ملازمت نہیں مل جاتی۔ جب لیبیائی شہری شادی کرتا ہے تو اسے حکومت کی طرف سے ایک گھر مفت دیا جاتا ہے۔ طلبا دنیا میں کہیں بھی پڑھائی کرسکتے ہیں سرکار اس دوران انہیں 2500 امریکی ڈالر کے ساتھ ساتھ رہنے کھانے و کارالاؤنس تک دیتی ہے۔ لیبیا میں گاڑی لاگت قیمت پر ملتی ہے۔ ہر شہری کے لئے مفت تعلیم ، میڈیکل سروس دستیاب ہے۔ کل آبادی میں سے 25 فیصدی لوگ یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کئے ہوئے ہیں۔ آپ کو سڑکوں پر کوئی بھکاری نہیں ملے گا، نہ ہی کوئی ایسا شخص ملے گا جو بے گھر ہو، یہ ہی وجہ تھی قذافی امریکہ، فرانس جیسے ملکوں کی آنکھوں میں کانٹا دکھائی دینے لگے۔ قذافی سے امریکہ کئی وجوہات سے ناراض تھا۔ دراصل قذافی نے کچھ برسوں تک حکومت کرنے کے بعد اسلامی کٹر پسند تنظیموں کی حمایت شروع کردی۔ برلنگ میں ایک نائٹ کلب پر سال 1986 میں ہوا حملہ اسی کیٹگری میں تھا جہاں امریکی فوجی جایا کرتے تھے اور جس پر حملے کا الزام قذافی کے سر منڈ دیا گیا۔ حالانکہ اس کے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھے۔ واقعہ سے ناراض امریکی صدر رونالڈ ریگن نے ترپولی اور بین غازی ہوائی اڈوں پر حملوں کی جھڑی لگادی تھی۔ حالانکہ حملے میں قذافی تو بچ گئے لیکن کہا گیا کہ ان کی گود لی ہوئی بیٹی ہوائی حملوں میں ماری گئی۔ دوسرا واقعہ جس نے دنیا کو ہلا دیا تھا وہ تھا لاکربی شہر کے پاس پین این ہوائی جہاز کو بم دھماکے سے اڑانا۔ جس میں 270 لوگ مارے گئے تھے۔ کرنل قذافی نے بھاری دباؤ کے باوجود حملے کے دو مشتبہ لیبیائی شہریوں کو اسکاٹ لینڈ کے حوالے کرنے سے منع کردیا۔ جس کے بعد لیبیا کے خلاف اقوام متحدہ نے اقتصادی پابندیاں لگادیں ، جو دونوں افسران کے خود سپردگی کے بعد 1999 میں ہٹائی گئیں۔ان میں سے ایک میگھراہی نام کے افسر کو عمر قید ہوئی ہے۔ جب10 دسمبر 2010 میں تیونس سے عرب دنیا میں تبدیلی کا انقلاب شروع ہوا تو اس سلسلے میں جن ملکوں کا نام لیا گیا اس میں لیبیا کو پہلی لائن میں رکھا گیا تھا لیکن کیونکہ کرنل قذافی مغربی ممالک کے پٹھو بننے سے انکارکرتے تھے اس لئے انہیں زبردستی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے تیل سے ملے پیسے کو بھی دل کھول کر بانٹا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس عمل میں ان کا خاندان بھی بہت امیر ہوگیا۔ اس لئے جب انقلاب کی بات شروع ہوئی تو انہوں نے کہا اقتدار ان کے پاس نہیں ہے اور دیش میں جمہوریت ہے لیکن بعد میں لوگوں کی ناراضگی سامنے آئی اور ظاہر ہے کرنل قذافی ان کا پوری طاقت سے مقابلہ کررہے ہیں۔ دیر سویر کرنل قذافی کا پتا صاف ہوگا کیونکہ ان کے خلاف بہت بڑی طاقتیں کام کررہی ہیں اور یہ ہے کرنل قذافی کی ہیرو سے ویلن بننے تک کی ایک مختصر کہانی۔

نتیش کمار نے دکھایا بدعنوان افسروں سے نمٹنے کا طریقہ



Published On 7th September 2011
انل نریندر
بدعنوانی کے خلاف ملک گیر واویلے کے درمیان بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے ایتوار کو ایک مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے غیر اخلاقی طریقے سے املاک اکٹھی کرنے والے ایک آئی اے ایس کیڈر کے سینئر افسر شیو شنکر ورما کا رکنپورہ میں بنے بنگلے کو ضبط کرلیا گیا ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یہ بنگلہ سرکاری پراپرٹی ہے دیش کے لئے یہ پہلا موقعہ ہے کہ جب کسی ریاستی حکومت نے کسی افسر کی پراپرٹی کو ضبط کیا ہو۔ بہار کی این ڈی اے حکومت نے بدعنوانی کے ذریعے بنائی پراپرٹی کو ضبط کرنے کا قانون (بہار اسپیشل جوڈیشری بل 2009 ) میں بنایا تھا۔ دیش کے کسی صوبے میں ابھی تک ایسا قانون نہیں ہے۔ پٹنہ کے پنڈاافسر کے حکم پر ایتوار کو ایس ایس ورما کی رہائشگاہ پر قرقی کی کارروائی کی گئی۔ بنیادی طور سے لکھنؤ میں موہن لال گنج تھانہ علاقہ گرہا گاؤں کے باشندے ورما کے خلاف اسپیشل ویجی لنس یونٹ نے حیثیت سے زیادہ پراپرٹی بنانے کا مقدمہ درج کیا ہوا ہے۔ 6 جولائی2007 ء کو ایجنسی نے ان کے گھروں پر چھاپہ مارا تھا۔ صرف ان کے لاکر سے ہی 9 کلو سونا برآمد ہوا۔ اسپیشل ویجی لنس یونٹ نے اے ایس ورما پر 1.43 کروڑ روپے کی ناجائز کمائی کا مقدمہ درج کیا ہوا ہے۔ جانچ ایجنسی کو ورما کے خلاف3 جولائی 2007 ء سے آمدنی سے 68 لاکھ70 ہزار روپے زیادہ پراپرٹی رکھنے کی معلومات حاصل ہوئی تھیں۔ جانچ کے دوران 19 لاکھ 7 ہزار 990 روپے نقد،24854 امریکی ڈالر، 2214893 روپے کا گھریلو سامان، 355270 روپے کے زیورات ،8078596 روپے کا سونا، 27ہزار روپے مالیت کا ریوالور اور پٹنہ رائے بریلی میں 1 لاکھ68 ہزار روپے کی زمین ملی ہے۔
وزیر اعلی نتیش کمار نے کہا یہ بدعنوانی کے خلاف جاری جنگ کا ایک معمولی مرحلہ ہے۔ ہم نے ایسا سسٹم بنایا ہوا ہے کہ کوئی خواب میں بھی گڑ بڑی کرنے کے بارے میں نہیں سوچے گا۔ اسی معاملے سے ثابت ہوگیا ہے کہ کوئی غلط طریقے سے پراپرٹی کو کماتا ہے تو اسے چھپا نہیں سکتا۔ ایسی پراپرٹیوں کو ضبط کرکے ہم اسکول کھولیں گے اور اس کا عوامی مفاد میں استعمال ہوگا۔ آخر پیسہ تو جنتا کا ہی ہے۔ ابھی بہت سارے لوگ پائپ لائن میں ہیں، دیکھتے جائیے نگرانی کی اسپیشل عدالت سے الزام ثابت ہونے کے بعد اے ایس ورما نے ہائی کورٹ میں راحت کے لئے عرضی دائر کی لیکن وہاں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔11 مئی 2011 ء کو نگرانی کے اسپیشل جج آر سی مشرا نے ریاستی حکومت کے اسپیشل عدلیہ ایکٹ 2009 ء کے سیکشن 13E کے تحت زمین قرقی کا فیصلہ سنایا تھا۔ 19 اگست2011 کو پٹنہ ہائی کورٹ نے اس پر اپنی مہر لگائی اور آخر کار ایتوار کو پٹنہ کے ضلع ڈنڈ ادھیکاری سنجے کمار سنگھ نے ورما کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہوئے شرما کا پتھ رکنپورہ میں بنے بنگلے کو ضبط کرنے کے احکامات صادر کئے اور یہ پراپرٹی قرق ہوگئی۔ وزیر اعلی نتیش کمار اور ان کی این ڈی اے سرکار اس ٹھوس پہل کے لئے مبارکباد کی مستحق ہے۔ انہوں نے سارے دیش کو راستہ دکھا دیا ہے کہ کرپشن سے نمٹنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے۔
Anil Narendra, Bihar, Corruption, Daily Pratap, Nitish Kumar, Vir Arjun

06 ستمبر 2011

بھارتیہ جنتا پارٹی کا بڑھتا گراف



Published On 6th September 2011
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے اچھی خبر ہے جن لوکپال بل پر حکومت کی ناک میں دم کرنے والے سماجی کارکن انا ہزارے نے اپنی بدعنوانی مخالف تحریک میں بھلے ہی ابھی پوری کامیابی نہ حاصل کی ہو لیکن عوام کی نظروں میں انا نے کانگریس کو ولن ضرور بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اور اس کا سیدھا فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو پہنچا ہے۔ اسٹار نیوز نیلسن نے ایک سروے کیا ہے جو 28 شہروں میں قریب9 ہزار لوگوں پر کیا گیا، اس سروے میں بھاجپا کی آج کی پوزیشن مضبوط بتائی گئی ہے۔ سروے کے مطابق اگر حال میں چناؤ ہوجائیں تو بھاجپا کو سب سے زیادہ ووٹ ملیں گے۔ سروے میں 32 فیصدی لوگوں نے بھاجپا کو اقتدار کے لئے اپنی پسند بتایا ہے وہیں 20 فیصدی لوگوں نے کانگریس کو پسند کیا ہے۔ دیش کے سبھی علاقوں میں بھاجپا کو لوگوں نے کانگریس کی بہ نسبت ترجیح دی ہے۔ بھاجپا۔ کانگریس کے جواب میں اندازاً 40.27 ، جبکہ مشرقی ہندوستان میں 20.15 فیصد رائے رہی۔ مغرب میں یہ تناسب46.15 رہا۔ جنوبی ہندوستان میں تجزیئے تھوڑے الگ نظر آئے۔ یہاں ابھی کانگریس کو زیادہ لوگوں نے پسند کیا ہے۔ یہاں کانگریس کو20 فیصدی اور بھاجپا کو16 فیصدی لوگوں نے اپنا ووٹ دینے کی بات کہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اسٹار نیلسن نے مل کر مئی2011 ء میں ایک سروے کیا تھا اس میں کانگریس کو لوگوں نے ترجیح دی تھی لیکن ایک دو مہینے بعد ہی انا کی تحریک نے تصویر بدل دی ہے۔ مئی کے سروے میں دیش بھر میں قریب30 فیصدی لوگوں نے کانگریس کو پسند کیا تھا۔ وہیں بھاجپا کے حق میں 27 فیصدی لوگوں نے اپنا ووٹ کیا تھا۔ اس وقت مغربی ہندوستان کو چھوڑ کر کانگریس دیش کے ہر علاقے میں ووٹروں کی پسند بنی ہوئی تھی۔ سروے کی 10 بڑی باتیں اس طرح ہیں۔ انا کی تحریک جہاں سب سے تیز تھیں وہیں بھاجپا کو سب سے زیادہ فائدہ فائدہ ہوا۔ 54 فیصدی لوگ مانتے ہیں کے کانگریس نے انا کی تحریک سے ٹھیک طرح سے نہیں نمٹا۔ 64 فیصد لوگ مانتے ہیں حالات سے ٹھیک طریقے سے نمٹنے کے لئے وزیر اعظم سے زیادہ ان کے سینئر وکیل ذمہ دار ہیں۔75 فیصدی لوگوں کا خیال ہے کرپشن کے لئے سبھی سیاسی پارٹیاں ذمہ دار ہیں۔54 فیصدی لوگ مانتے ہیں کہ راہل گاندھی کو اس وقت وزیر اعظم کے عہدے سے دور رہنا چاہئے۔62 فیصد لوگوں کا کہنا ہے اروند کیجریوال نوجوانوں کے ہیرو بن کر ابھرے ہیں۔ راہل گاندھی، کپل سبل اور پی چدمبرم پرچناؤ میں انا ہزارے ، کرن بیدی اور کیجریوال بھاری پڑ سکتے ہیں۔53 فیصد لوگ مانتے ہیں کہ اگر مضبوط جن لوکپال بل پاس ہو تو پانچ سال میں دیش بھر سے کرپشن ختم ہوسکتا ہے۔ 49 فیصدی لوگوں کا خیال ہے کہ رشوت نہ لینے اور نہ دینے کی قسم کھانے سے بدعنوانی دور نہیں ہوگی۔82 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اپنی مانگ منوانے کا انا کا طریقہ صحیح تھا۔ وہ بلیک میلنگ نہیں تھی۔ اگر انا اور راہل میں چناوی مقابلہ ہو تو 74 فیصدی لوگ گاندھی وادی انا ہزارے کو اپنا ووٹ دیں گے جبکہ صرف17 فیصدی ہی راہل گاندھی کو ووٹ دیں گے۔ کانگریس کے لئے یہ نتیجہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے جنتا کی نظروں میں کانگریس کی آج کی تاریخ میں پوزیشن کیا ہے۔ دیش سے باہر بھی بھاجپا کی حالت مضبوط ہوتی نظر آرہی ہے۔
دیش میں بھلے کانگریس اور لیفٹ پارٹیوں کو گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کی حکومت راس نہ آرہی ہو لیکن بھارت کا پڑوسی اور دنیا کے طاقتور ملکوں میں سے ایک چین گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کی حکومت کے طریق�ۂ کار پر قائل ہے۔ اتنا ہی نہیں چین کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی کے لیڈروں اور چین کے پالیسی سازوں کو بھی لگ رہا ہے کہ بھارت میں 2014 ء میں ہونے والے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا اقتدار میں آسکتی ہے۔ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ چین نریندر مودی کی سیاسی حکمت عملی سے زیادہ ان کی حکومت میں گجرات میں صنعتی ترقی کو لیکر کافی حیرت زدہ ہے۔ چین کے پالیسی سازوں کو لگ رہا ہے کہ جس طرح سے مودی کی حکومت میں گجرات کی اقتصادی ترقی ہوئی ہے اسی طرح مودی بھارت کی معیشت کو بھی نیا موڑ دے سکتے ہیں۔ چین کی یہ رائے اس لئے بھی بنی کیونکہ بھارت کے کئی بڑے صنعت کار مسلسل مودی کی صنعتی پالیسی کی تعریف کررہے ہیں اور انہیں مستقبل کا بہترین وزیر اعظم بتا چکے ہیں۔ مودی کے کام کے طریقے سے خوش چین گجرات کی صنعتی ترقی اور وہاں باز آبادکاری کے سیکٹر میں مودی سرکار کے ساتھ کام کرنے کا خواہش مند ہے۔ چین کے سفیر زیانگ نے خود یہ پیشکش مودی کے سامنے رکھی ہے۔ چین کے سفیر نے خاص طور پر مودی کو چین آنے کی دعوت بھی دی ہے جسے انہوں نے قبول کرلیا ہے۔ چین کی یہ پالیسی امریکہ اور یوروپ کا کچھ دوسرے دیشوں سے بالکل الٹ ہے۔ گجرات فسادات کو لیکر امریکہ سمیت یوروپ کے کچھ ملکوں میں انسانی حقوق تنظیم مودی کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ اس بنیاد پر ان دیشوں میں مودی کو ویزا تک دینے سے انکار کردیا۔ سال 2005 ء میں جب مودی امریکہ جانے والے تھے تو امریکہ حکومت نے انہیں ویزا نہیں دیا۔ نتیجتاً مودی کو امریکہ میں بسے گجراتیوں کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہی خطاب کرنا پڑا۔ لہٰذا نریندر مودی کو لیکر چین کا بدلہ نظریہ بین الاقوامی ڈپلومیٹک نقطہ نظر سے بھی اہم ہے۔ چین کے پالیسی ساز یہ بھی مان رہے ہیں کہ جس طرح سے اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی این ڈی اے سرکار کے عہد میں چین اور بھارت کے رشتے بہتر ہوئے تھے اسی طرح کے امکانات وہ مودی میں دیکھ رہے ہیں۔ اصل میں جاپان کے بعد چین بھی نریندر مودی کو ہندوستان کے ہونے والے وزیر اعظم کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ چین اور مودی کے رشتوں میں آرہی قربت کے پیچھے صرف یہی وجہ نہیں ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انا کی تحریک نے بھاجپا نے جس طرح سے اپنے پتے کھیلے ہیں اسے فائدہ پہنچا ہے۔ لیکن بہت کچھ اس پر منحصر کرتا ہے کہ مستقبل قریب میں بھاجپا کا نظریہ اور برتاؤ کیسا ہوتا ہے؟ کیا کچھ نیتاؤں کا ذاتی مفاد پارٹی کے مفادات سے یونہی اوپر رہے گا؟ اگر ایسی حالت رہی تو معقول ماحول ہونے کے باوجود ہمیش شبہ ہے کہ پکی ہوئی فصل بھاجپا کاٹ پائے؟ بھاجپا کوسب سے زیادہ خطرہ اندر سے ہے۔ باہر تو اس کی ساکھ بہتر ہورہی ہے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, BJP, Congress, Daily Pratap, Lokpal Bill, Vir Arjun,