Translater

16 جولائی 2016

پہلے اترکھنڈ اب اروناچل میں مرکز کو زبردست جھٹکا

اروناچل پردیش پر سپریم کورٹ کا فیصلہ مودی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ اس سے پہلے اتراکھنڈ میں بھی صدر راج لگانے کے مرکز کے فیصلے کو بھی خارج کردیاگیا تھا۔ سپریم کورٹ نے بدھ کو اروناچل کی سات ماہ پرانی کانگریس حکومت بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اروناچل پردیش کے گورنر کے فیصلے کو غلط اور غیر آئینی قرار دیا۔ ساتھ ہی عدالت نے 15 دسمبر2015ء سے پہلے کی پوزیشن بحال کرنے کے بھی احکامات دئے۔ غور طلب ہے کہ اروناچل کی نبام تکی کی قیادت والی کانگریس حکومت دسمبر میں برخاست کردی گئی تھی۔ یہ صحیح ہے کہ کانگریس ممبر اسمبلی پارٹی میں بغاوت کے چلتے نبام تکی کی سرکار کی اکثریت مشتبہ ہوگئی تھی لیکن گورنر نے جو کیا اسے قطعی منصفانہ اور ان کے عہدے کی آئینی ذمہ داری کے مطابق نہیں کہا جاسکتا۔ اروناچل میں کانگریس کی قیادت والی نبام تکی حکومت اس لئے بحران میں پڑ گئی تھی کیونکہ کانگریسی ممبران نے بھی اس کے خلاف بغاوت کردی تھی۔ کیونکہ اسمبلی اسپیکر وزیر اعلی کے بھائی تھے اس لئے انہوں نے خاص طور پر حکمراں پارٹی کو راحت دینے والے فیصلے دئے۔ اس میں دورائے نہیں ہو سکتی کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اسی نقطہ نظر سے تاریخی کہا جائے گا کیونکہ پہلی بار اقتدار سے باہر ہوچکی سرکار کو پھر سے بحال کردیا گیا ہے۔لیکن بڑا سوال یہ بھی ہے کہ اگر نبام تکی اسمبلی میں اپنی اکثریت نہیں ثابت کرسکے تو؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہی سپریم کورٹ کے فیصلے کی حقیقی اہمیت کی نشاندہی کرے گا۔ایک طرح سے اروناچل کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے جہاں ایک بار پھر کانگریس پارٹی و تمام اپوزیشن کو سنجیونی ملی ہے وہیں پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں یہ ہنگامے کا بڑا اشو بننے والا ہے چونکہ فیصلہ دیش کی عدالت عظمیٰ کا ہے اس لئے سرکار کے پاس اپنا بچاؤ کرنے کے لئے متبادل محدود ہو گئے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے گھڑی کی سوئی کو پوری طرح دسمبر 2015ء کی طرف موڑدیا ہے جہاں سے سیاسی بحران شروع ہوا تھا۔ نبام تکی کی حکومت بحال ہوگی اور اس درمیان کالیکھوپل سرکار میں جو بھی فیصلہ کیا وہ سب غیر آئینی مانے جائیں گے۔ عدالت کے ریمارکس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اس کی نظر میں گورنر کے ذریعے اسمبلی کا اجلاس بلانا اور باغیوں کے ایجنڈے کے مطابق کام کی فہرست تیار کرنا غیر آئینی تھا۔ اس فیصلے سے گورنر راج کھودا پوری طرح سے کٹہرے میں کھڑے ہیں ۔ کیونکہ عدالت نے کہہ دیا ہے کہ گورنر مرکز کے ایجنٹ کی طرح کام نہ کریں اس لئے مرکز بھی کٹہرے میں آگیا ہے۔ اتراکھنڈ اور اروناچل کے فیصلوں کا یہی پیغام ہے کہ نریندر مودی سرکار کسی بھی ریاست میں صدر راج لگانے سے پہلے سنجیدگی سے پہلوؤں پر ہوم ورک کرے۔
(انل نریندر)

دو بیگموں کی جنگ میں پستا بنگلہ دیش، پھیلتی دہشت گردی

بنگلہ دیش میں نماز عید کے دوران دہشت گرانہ حملے میں ایک ہندو خاتون سمیت چارلوگوں کی موت ہوگئی۔ اس سے کچھ دن پہلے ڈھاکہ کے ایک ریستوراں پر دہشت گردانہ حملے میں 17 غیر ملکیوں سمیت 22 لوگوں کے مارے جانے کے واقعہ نے بھارت سمیت پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ بیشک یہ بنگلہ دیش میں سب سے بڑا حملہ تھا لیکن پچھلے تین سال میں بنگلہ دیش میں قریب40 دہشت گردانہ حملے ہوئے۔ اب تک ایشیائی مسلم ملک ہونے سے محفوظ سمجھے جاتے رہے اس دیش میں ایسے دھماکے ہونا سوال ضرور کھڑے کرتا ہے۔ 2015 ء سے ایسے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ غیر ملکیوں، ہم جنس رشتوں کی وکالت کرنے والوں، مذہبی اقلیتوں اور بلاگرز کو اکثر نشانہ بنایا جانے لگا۔ عراق اور شام میں سرگرم اسلامک اسٹیٹ اور القاعدہ نے ان میں سے کچھ حملوں کی ذمہ داری لی ہے، لیکن بنگلہ دیش سرکار نے ان دعوؤں کو مسترد کردیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے ان کے ہی دیش کی تنظیم جماعت المجاہدین کا ہاتھ ہے اور سرکار کے اس دعوے کا سیاسی مقصد دیکھا جارہا ہے۔ بنگلہ دیش کی اصلی مشکل سیاسی ڈیڈ لاک ہے۔ وہاں پر کبھی شیخ حسینہ اور کبھی خالدہ ضیاء کی حکومتیں بنتی آرہی ہیں۔ دونوں کے درمیان سیاسی تلخی جگ ظاہر ہے۔ شیخ حسینہ سرکار میں مین اسٹریم کی اپوزیشن پارٹی جماعت اسلامی پر شکنجہ کسا ہوا ہے۔ دعوی کیا جاتا ہے جماعت اسلامی کا تعلق جماعت المجاہدین سے ہے۔ 1971ء کی جنگ میں جب بنگلہ دیش کو پاکستان سے آزادی ملی تھی تب جماعت اسلامی کے لیڈروں پر پاکستانی فوج کا ساتھ دینے کا الزام لگا تھا۔ یہاں یہ بتا دیں کہ شیخ حسینہ بنگلہ دیش کے روح رواں کہے جانے والے بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمان کی صاحبزادی ہیں۔ شیخ حسینہ نے 1971ء میں جنگی جرائم کی جانچ کیلئے وار کرائم ٹریبیونل بنا رکھا ہے اور اس نے کئی اپوزیشن آتنکیوں کو پھانسی بھی دے دی ہے۔ مئی میں ٹریبیونل نے جماعت اسلامی کے چار لیڈروں کو پھانسی دی تھی۔ مئی میں ہی ٹریبیونل نے جماعت کے چیف مطع الرحمان نظامی کو پھانسی کا حکم دیا تھا۔ سرکار اب ایسے بل پر غور کرنے جارہی ہے جس کے تحت جماعت السامی پر پابندی لگادی جائے گی۔ بنگلہ دیش میں دو طرح کے راشٹرواد ہیں پہلا ہے زبان یعنی بنگالی راشٹرواد ، جس میں ہندو ہوں یا مسلمان سبھی بنگلہ بولتے ہیں اور ان کا ایک ہی کلچر ہے بنگلہ دیش۔ اسی نظریئے سے پاکستان سے الگ ہوکر شیخ حسینہ کی پارٹی عوامی لیگ اس راشٹرواد کو بڑھاوا دیتی ہے،جبکہ جماعت اسلامی اور بی این پی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مذہب پر مبنی بنگلہ دیشی راشٹرواد کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ اس کی بنیاد یہ ہے کہ بنگلہ دیش اسلام کے قاعدے قانون پر چلے اور دونوں گروپ اپنے وجود کو بچانے کے لئے کہیں زبان کو تو کہیں مذہب کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے اسی تعطل کا فائدہ پاکستانی خفیہ آئی ایس آئی و اسلامک اسٹیٹ اٹھا رہی ہیں۔آئی ایس آئی ، آئی ایس اور القاعدہ بنگلہ دیش کو اپنے فروغ کیلئے مفید جگہوں میں سے ایک مانتی ہیں۔ عراق اور شام میں کمزور پڑنے کے بعد آئی ایس کو اب نئے گڑھ کی تلاش ہے۔ ایسے میں مسلم اکثریتی بنگلہ دیش میں آئی ایس ایک پکڑ بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ بنگلہ دیش میں زیادہ تر نوجوان آبادی 25 سال کے نیچے ہے اور اس سے آئی ایس جیسی تنظیموں میں لڑکوں کی بھرتیاں کرنا آسان ہے۔ بنگلہ دیش کی سرکار لگاتار آئی ایس کے دعوؤں کو خارج کرتی آئی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اپوزیشن بنگلہ دیش نیشنلاسٹ پارٹی یا دیش کی سب سے بڑی پارٹی جماعت اسلامی یہ حملے کررہی ہے۔ ایسے میں سرکار کا رویہ دہشت گردوں کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ، آئی ایس کی کوشش بنگلہ دیش میں کٹر اسلامی طاقتوں کا بچاؤ کرنے کی ہوسکتی ہے۔ یہ بھی اندیشہ ہے کہ آئی ایس بنگلہ دیش کو مرکز بنا کر بھارت اور پاکستان میں اپنا جال پھیلانے کی اسکیم پر کام کررہی ہے۔ بنگلہ دیش میں 14.86 کروڑ مسلمان ہیں۔ دنیا بھر میں مسلم آبادی کے معاملے میں انڈونیشیا، پاکستان اور بھارت کے بعد چوتھے مقام پر بنگلہ دیش ہے۔ 2001ء کے اعدادو شمار کے مطابق یہ کل آبادی کا 90.4 فیصدی حصہ ہے۔
(انل نریندر)

15 جولائی 2016

چین کی ہیکڑی

بین الاقوامی جوڈیشیری نے چین کو ایک بڑا جھٹکا دیتے ہوئے عدالت میں ساؤتھ چین سمندر میں چین کے دائرہ اختیارکو نامنظور کردیا ہے۔ اپنے سمندر کے ایک حصے پر فلپین کے دعوے کی توثیق کردی ہے۔ ساگر پر اپنے حق کو لیکر فلپن 2013ء میں ہیگ میں واقع بین الاقوامی عدالت میں گیا تھا۔ منگلوار کو اسی پر تاریخی فیصلہ آیا ہے۔ جوڈیشیل اتھارٹی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایسا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ملا جو ساؤتھ چین ساگر پر کبھی چینی حق کو ثابت کرے۔ چین ، فلپین اور دیگر ملکوں کے ساتھ اقوام متحدہ کے تحت تشکیل اس عدالت کے ذریعے تنازعہ سلجھانے کے بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ اس لحاظ سے چین کو یہ حکم ماننا چاہئے۔ ساؤتھ چین سمندر پر حق کو لیکر دہائیوں سے تنازعہ ہے۔ کھربوں روپے مالیت کی چیزوں کے اس کاروباری راستے کو چین ہتیانا چاہتا ہے۔ وہ سمندر کے 85 فیصد حصے پر حق جتاتا ہے۔ اس کے چلتے فلپن، ویتنام ، ملیشیا، برونئی وغیرہ سے اس کا ٹکراؤ بنا ہوا ہے۔ ویسے چین کی ہٹ دھرمی ظاہر کرتی ہے کہ اس نے جوڈیشیری کی سماعت میں حصہ نہیں لیا۔ ساؤتھ چین ساگر بھارت کیلئے بھی اہم ہے۔ لک ایسٹ پالیسی کے خیال سے بھارت کیلئے سمندر میں آنا جانا ضروری ہے۔ ایک طرف تو ہمارا کاروبار متاثر ہوگا اور دوسری طرف سمندری سلامتی پر بھی خطرہ بڑھتا ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ کئی ملکوں کے پاس ایسے نقشے ہیں جن کے مطابق سینکڑوں برسوں سے بھارت اور ملایا اور عرب کے تاجر اس علاقے سے گزرتے ہیں۔ ویتنام نے 1970ء میں اس علاقے میں تیل، گیس ہونے کا پتہ لگایا تھا۔ 
سروے اور اسٹڈی کیلئے او این جی سی سے معاہدہ بھی ہوا۔ بھارت کا کہنا ہے کہ اس کام میں لگا اثاثہ و اپنے لوگوں کی سلامتی کے لئے ہمیں اپنی بحریہ کے استعمال کا حق ہونا چاہئے۔ فیصلے پر چینی حکومت کا رد عمل ویسا ہی ہے جیسے کہ اس سے توقع تھی۔ چین نے نہ صرف اس فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا بلکہ عادت کے مطابق جارحانہ رویہ دکھاتے ہوئے دنیا کو دھمکانے کی کوشش بھی کی۔ یہ ٹھیک ہے کہ چین ایک بڑی اقتصادی اور فوجی طاقت کی شکل میں ابھرا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ وہ پوری دنیا پر اپنے ڈھونس جمائے۔ بین الاقوامی قاعدے قوانین کو ٹھینگا دکھائے۔ چین ساؤتھ چین سمندر پر اپنا یکطرفہ حق اور بالادستی قائم کرنے کے لئے ایک لمبے عرصے سے سرگرم ہے اور اس نے اس سمندری علاقے میں ایک چھوٹا سا جزیرہ بھی بنانا شروع کردیا ہے۔ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ چین کے اڑیل رویئے سے متاثر اس کے پڑوسی اور دیگر متاثر دیش آگے کیا حکمت عملی اپناتے ہیں اور دنیا کے بڑے دیش کیسے یہ یقینی کریں گے کہ چین بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے، لیکن اس کی ساکھ ایک غیر ذمہ دار، مغرور دیش کی شکل میں ضرور سامنے آرہی ہے۔
(انل نریندر)

وسنت وہار کانڈ میں ساڑھے تین سال بعد فاسٹ ٹریک عدالت

ساڑھے تین سال پرانے سرخیوں میں چھائے وسنت وہار اجتماعی بدفعلی کانڈ کی فاسٹ ٹریک عدالت میں سماعت کی امید جاگی ہے۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ لیا ہے کہ اس کیس کی سماعت کے لئے عدالت طے میعاد سے زیادہ دیر تک بیٹھے گی۔ 18 جولائی سے ہر سنیچر اور جمعہ کو 2 بجے سے6 بجے تک اس کی سماعت کی جائے گی جبکہ عدالت کا وقت 4 بجے ختم ہوجاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے جمعہ کو اس بات کے اشارے دئے۔ پورے دیش کو دہلا دینے والے اس معاملے میں پھانسی کی سزا پا چکے چار قصوروار مکیش، پون، اکشے اور ونے کی اپیل سپریم کورٹ میں 2014 سے زیر التوا ہے۔ عدالت کے حکم پر فی الحال چاروں کی پھانسی پر روک لگی ہے۔ وہیں اہم ملزم ڈرائیور رام سنگھ تہاڑ جیل میں خودکشی کر چکا ہے۔ ایک نابالغ 3 سال اصلاح گھر میں سزا کاٹ کر رہا ہوچکا ہے۔ 16 دسمبر2012 ء کی رات چلتی بس میں درندوں نے 23 سالہ فیزیو تھیریپسٹ طالبا سے بدفعلی اور ظلم ڈھایا تھا ، جس کے بعد اس کی موت ہوگئی تھی۔ سارے دیش کی نظریں اس معاملے پر لگی ہوئی ہیں کیونکہ متاثرہ سمیت تمام دیش کے شہریوں کو یہ درد ستاتا ہے کہ ابھی تک ان درندوں کو پھانسی پر کیوں نہیں لٹکایا گیا؟ واردات کا اہم ملزم تو اپنی سزا کاٹ کر باہر کھلا گھوم رہا ہے۔ دیش میں اس طرح کے گھناؤنا واقعات کا سیلاب سا آگیا ہے۔ ان درندوں کو کسی طرح کا نہ تو کوئی احساس ہے نہ کوئی ہچکچاہٹ۔ سپریم کورٹ اب پہل کی ہے جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ نچلی عدالتیں بھی اس سے سبق لیں گی اور التوا میں پڑے ایسے گھناؤنے واقعات کے مقدموں میں جلد سے جلد فیصلہ ہوگا۔ اگر طے میعادمیں جرائم پیشہ کو سزا ملے تو اس سے خوف پیدا ہوگا۔ عدالتوں کو ایسے معاملوں میں ضمانت دینے پر بھی تھوڑی سختی برتنی ہوگی۔ ضمانت پر آسانی سے چھوٹ کر ایسے جرائم پیشہ پھرسے جرم کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ زیادہ تر واقعات میں متاثرہ کا ہاتھ تھامنے کیلئے کوئی آگے نہیں آتا۔
ایسے میں ان کی زندگی تباہ ہوجاتی ہے۔ بیشک ایسے واقعات میں نچلی عدالتوں نے سزا سنانے میں جرأت دکھائی ہے لیکن بعد میں کئی معاملے ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ میں جاکر اٹک جاتے ہیں اور انصاف ہونے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کو بھی اپنا سسٹم بہتر بنانا ہوگا۔ بیشک سارے معاملوں میں ایسا کرنا ممکن نہیں ہے لیکن کم سے کم گھناؤنے جرائم میں تو ایسا ہونا چاہئے۔ اگر ایسے التوا معاملوں میں جلدسے جلد فیصلہ آسکے گا اور سزا ہوگی تو اس سے نہ صرف سماج کا بھلا ہوگا بلکہ عدالتوں کے تئیں لوگوں کا نظریہ بھی بدلے گا۔ جرائم پیشہ میں خوف پیدا کرنا ضروری ہے اور یہ تبھی ہوگا جب ان کے ذریعے کئے گئے گھناؤنے فعل کے لئے جلد سے جلد سزا ملے گی۔
(انل نریندر)

14 جولائی 2016

برہان کی موت پر نواز شریف اور حافظ سعید ساتھ ساتھ

جس طرح سے حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کے قتل پر کشمیر وادی میں تشدد بھڑکا ہوا ہے، اس سے صاف نظر آتا ہے کہ کشمیر میں عدم استحکام اور شورش کا ماحول بنانے کی کوشش ہمارا پڑوسی ملک پاکستان کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ایسا کم ہی ہوا ہے کہ کسی بھی اشو پر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور لشکر طیبہ کا چیف ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ حافظ سعید ایک زبان بولے ہیں۔ بھارت سے دوستی کا دم بھرنے والے ،دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے والے میاں نواز شریف کے چہرے سے شرافت کا نقاب اترگیا ہے۔ دونوں نے کشمیر میں دہشت کے چہرے برہان وانی کی موت پر ایک آواز ملاتے ہوئے افسوس جتایا۔ اتنا ہی نہیں پاکستانی وزارت خارجہ نے ہندوستانی ہائی کمشنر گوتم بمباولے کو طلب کر وانی کی موت پر تشویش جتائی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سروپ نے بتایا کہ پاکستان کے موقف سے دہشت گردی سے پاکستان کی وابستگی ثابت ہوتی ہے۔ آتنکی عناصر کے ساتھ ہمدردی سے صاف ہے کہ دہشت گردی کو درپردہ حمایت دینا ان کی پالیسی کا حصہ ہے۔ دراصل حال میں لندن میں اوپن ہارڈ سرجری کراکر پاکستان لوٹے نواز شریف 10 لاکھ روپے کے انعامی آتنکی وانی کی موت پر اتنے دکھی ہوگئے کہ انہوں نے بھارت پر بے بنیاد الزام مڑھ دئے۔ پاکستان کے وزیر اعظم کے دفتر نے بیان جاری کر شریف کے حوالے سے کہا کہ کچلنے والے قدموں سے جموں و کشمیر کے لوگوں کو ریفرنڈم کا اختیار سے روکا نہیں جاسکتا۔ نواز شریف سے ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ اب اپنے حصے میں زبردستی قبضائے کشمیر جسے وہ آزاد کشمیر کہتے ہیں ، وہاں بھی ریفرنڈم کرانے کو تیار ہیں؟ اگر اقوام متحدہ کی ریفرنڈم کی وہ بات کررہے ہیں تو اس میں تو پورے کشمیر میں ریفرنڈم کی بات کہی گئی ہے؟ اس درمیان جماعت الدعوی اور لشکر طیبہ کے چیف حافظ سعید نے پاکستانی وزیر اعظم کے بیان پر سوال کرتے ہوئے کہا کہ اب شریف سرکار کو بین الاقوامی اسٹیج پر اس مسئلے کو اٹھانا چاہئے۔ حافظ سعید نے وانی کی حمایت میں ایتوار کوا یک ریلی بھی کی۔ اس کے ساتھ ریلی میں حزب المجاہدین کا چیف سید صلاح الدین بھی تھا۔ مقامی پولیس کے خلاف مورچہ کھولنا برہان وانی کے لئے مہنگا ثابت ہوا۔ برہان نے پچھلے مہینے ایک ویڈیو پیغام میں مقامی پولیس پر حملے کا اعلان کیا تھا اور دہشت گردی کا دور شروع ہونے کے بعد پہلی بار دہشت گردوں نے پولیس کو نشانہ بنایا ہے۔ کشمیر کے حالات پر نظر رکھنے والے سکیورٹی ماہرین اسے کافی اہم مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی پولیس کو نشانہ بنانے کے بعد دہشت گردوں کے لئے وادی میں ٹکنا آسان نہیں ہوگا۔ ایسا ہی پنجاب میں ہوا تھا۔ اب تک آتنکی صرف نیم فوجی فورس کو نشانہ بناتے تھے۔
(انل نریندر)

ڈونگری میں 3 کمروں سے چلتا ہے ذاکر کا فاؤنڈیشن

متنازعہ کٹر پسند مبلغ ذاکر نائیک گرفتاری کے ڈر سے پیر کو بھارت نہیں لوٹا۔ اب کب تک نائیک کی گھر واپسی ہوگی یہ ابھی طے نہیں ہے۔ نائیک پیرکو سعودی عرب سے لوٹنے والا تھا۔ منگل کو ممبئی کے ایک ہوٹل (پانچ ستارہ) میں اس کی پریس کانفرنس ہونی تھی لیکن یہ منسوخ ہوگئی۔ ذاکر نائیک کی کہانی اسی ڈونگری علاقے سے شروع ہوئی جہاں سے کبھی حاجی مستان، داؤد ابراہیم، چھوٹا شکیل ،ارون گاولی نے شروع کی تھی۔ اندھیری گلیوں اور سکڑتی سڑکوں سے گھری وہ آبادی ڈونگری جو کبھی انڈر ورلڈ کا گڑھ مانا جاتا تھا۔ حاجی مستان، داؤد ابراہیم، چھوٹا شکیل، ارون گاؤلی جیسے نام یہیں پیدا ہوئے بڑے ہوئے ہیں بدنام ہوئے ہیں۔ پھر ڈونگری سے دوبئی تک پہنچ گئے۔ اسی ڈونگری میں ایس ای پی روڈ کا پتہ ہے ڈاکٹرذاکر نائیک کا اسلامی ریسرچ فاؤنڈیشن ہے یہ ہی ذاکر حال ہی میں ڈھاکہ حملے کے آتنکی کے بیعت ہونے کی وجہ سے سرخیوں میں ہے۔ بڑی سڑک پر ایک پرانی سی عمارت میں تین کمروں کے اوپر انگریزی میں اسلام پڑھانے والی کلاس کا بورڈ لگا ہواہے۔ دروازہ بند ہے، باہر چار کرسیوں پڑی ہوئی ہیں۔ اس اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے کھاتے تھے 50 لوگوں کی تنخواہ ملتی ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے علاوہ ان کے بھائی محمد نائیک، بیوی فرحت نائیک بھی فاؤنڈیش کی ممبر ہیں۔ بیوی فرحت عورتوں کو اسلام کی تعلیم دیتی ہے۔ ان کا20 سال کا بیٹا فارق بھی لیکچر دیتا ہے۔ ذاکر کے بارے میں تھوڑا اور بتادیں۔ ذاکر دنیا بھر میں اب تک400 تقریریں کر چکے ہیں۔ 100 ملکوں میں ان کے لیکچرز کا وکاس کرنے والے پیس ٹی وی چینی ، بنگلہ، ہندی ، انگریزی اور اردو میں کام کرتا ہے۔ دعوی ہے کہ اس کے 10 کروڑ ناظرین ہیں۔ اس کی شروعات1991ء میں ہوئی تھی تب محض15-20 لوگ ہی ساتھ ہوا کرتے تھے۔ ذاکر کا خاندان بنیادی طور پر رتناگری کا رہنے والا ہے۔ انہیں ماننے والے کہتے ہیں ان کی یاد داشت غضب کی ہے وہ اپنے لیکچر میں قرآن، گیتا اور بائبل کی باتیں سناتے ہیں جو انہیں زبانی یاد ہیں۔ خود کو صحیح اسلام کا طالبعلم کہتے ہیں۔ اسلام کو سمجھانے والی 5 ہزار سے زیادہ کتابیں ان کے ڈونگری سینٹر میں رکھی ہوئی ہیں۔ دستاویزی فلم میکر مقصود 10 سال سے ذاکر کو فالو کررہی ہیں۔ موجودہ تنازعہ کو وہ غلط بتاتے ہیں۔ کہتے ہیں ویڈیو دکھایا کے ذاکر کہہ رہے ہیں کہ ہر مسلمان کو ٹیریرسٹ ہونا چاہئے لیکن اس کے آگے کا ویڈیو نہیں دکھایا گیا جس میں وہ سمجھا رہے ہیں کہ ٹیریرسٹ کیا ہے۔ ٹیریرسٹ یعنی جو اینٹی سوشل لوگوں کے لئے دہشت بنے۔ حالانکہ ذاکر پر برطانیہ، کینیڈا میں ہی پابندی لگ چکی ہے۔ پیر کو ممبئی کے پانچ ستارہ ہوٹل ٹرائیڈینٹ نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پریس کانفرنس منسوخ ہونے کے بعد ایک بیان جاری کیا گیا۔ جس میں کہا گیا کے میڈیا کسی کو بھی ہیرو بنا سکتا ہے اور کسی کو بھی ویلن۔ ان کی باتوں کو کاٹ چھانٹ کر دکھایا سنایا جارہا ہے۔ وہ تشدد یا دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتے اور سرکار کے ساتھ جانچ کو تیار ہیں۔
(انل نریندر)

13 جولائی 2016

کچھ نیتا لوٹ کھسوٹ و دبنگئی میں مصروف

اترپردیش میں اسمبلی چناؤ سر پر ہیں۔ سوا چار سال چلنے کے بعد سماجوادی پارٹی کی سائیکل کی رفتار دھیمی پڑ گئی ہے۔ شاید ایسا کوئی دن نہ جاتاہو جب نیتا جی ، ملائم سنگھ یادو اپنی پارٹی کے وزراء ، ممبران اسمبلی و ورکروں کو دھمکاتے نہ ہوں۔ وہ بھی سمجھ رہے ہیں کہ اگر سائیکل کی رفتار بڑھائی نہیں گئی تو آنے والے چناؤ میں پارٹی کی حالت خستہ ہوسکتی ہے۔ نیتا جی نے جمعہ کو صرف نصیحت دیتے ہوئے پارٹی لیڈروں کو سدھرجانے کی وارننگ دے دی۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ زمینوں پر قبضے، پیسوں کے لئے لوٹ کھسوٹ اور دبنگئی میں لگے ہوئے ہیں۔ ہمیں سب معلوم ہے کہ کون کیا کررہا ہے۔ انہوں نے سپا ہیڈ کوارٹر میں سابق وزیر اعظم چندر شیکھر کی نویں برسی پر منعقدہ شردھانجلی سماروہ میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا ہم نے محنت کرکے سپا بنائی۔ پارٹی کی تشکیل کے 11 ماہ بعدہی پردیش میں سرکار بنا لی۔ اب تک ریاست میں چار بار سپا کی حکومت بن چکی ہے۔
ملائم کو احساس ہے کہ پردیش کے تقریباً سبھی اضلاع میں پارٹی کا جھنڈا لگا کر زمین پرقبضے اور مجرمانہ وارداتوں میں لگے ان کے نیتاؤں ،ورکروں کے برتاؤ سے سماجوادی پارٹی کی ساکھ اور مقبولیت متاثر ہورہی ہے۔ اترپردیش میں سوا چار سال سرکارچلانے کے باوجود نیتا جی کی پریشانی کو سمجھ سکتے ہیں۔ ان کو اس بات کا علم ہوگیا ہے کہ صرف گاؤں گاؤں سائیکل کے پیڈل مارنے سے پارٹی کی صحت بہتر ہونے والی نہیں ہے۔ اس لئے انہوں نے واضح الفاظ میں خبردار کردیا ہے کہ یہ لوٹ کھسوٹ ،دبنگئی فوراً بند کی جائے۔ اس میٹنگ کا واحد ایک مقصد آنے والے چناؤ میں سپا کی سائیکل کی رفتار کو تیزی دینا تھا۔ نیتا جی کے بیان سے صاف ہے کہ انہوں نے اترپردیش کے ہر ایک ضلع میں سرگرم ایسے نیتاؤں کی دبنگئی کی رپورٹ تیار کروائی جنہوں نے زمین پر قبضے، مارپیٹ، مجرمانہ وارداتوں کو انجام دے کر سماجوادی پارٹی ،ملائم سنگھ یادو ، اکھلیش یادو کی ساکھ ملیا میٹ کرنے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی ہے۔ ہمارے پاس سب کی رپورٹ ہے کون کیاکررہا ہے؟ ہمیں پارٹی چلانی ہے، اس لئے بول نہیں سکتے، اشاروں اشاروں میں کہہ دیتے ہیں، کچھ نیتا مان لیتے ہیں اور سدھارکرلیتے ہیں۔ سپاکے ذرائع بتاتے ہیں کہ ایسے سینکڑوں سپائی نیتا ،ممبر اسمبلی ورکر ہیں جن پر جلد ہی سپا سخت کارروائی کرنے پر غور کررہی ہے۔ 40 سے زیادہ سپا کے موجودہ ممبران کا ٹکٹ کٹنے کا امکان جتایا جارہا ہے۔ ادھر وزیراعلی اکھلیش یادو الگ سے اپنی سرکار کی رپورٹ بنوانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی توجہ خاص طور پر ان محکموں پر لگی ہے جن کی اسکیموں کا شیلا نیاس انہوں نے پچھلے سوا چار سال کے دوران کیا ہے۔ اس بات کے قیاس بھی لگائے جارہے ہیں کہ اترپردیش میں چناؤ کی تاریخ کو لیکر شبہ ہے۔ لہٰذا میٹرو کے کام کو ایک مہینے میں پورا کرنے کا خفیہ فرمان جاری کیا گیا ہے۔ یوپی میں قانون و نظم کو درست کرنے کی بھی ہدایات سرکار نے جاری کردی ہیں۔
(انل نریندر)

بغیر وارننگ گرادینادیدہ دانستہ لاپرواہی

لاپروائی کی حد ہوگئی ہے۔ میرٹھ میں بنگلہ نمبر 210 بی کے آر آر مال کو چھاؤنی بورڈ کی ٹیم نے سنیچروار کو صبح سویرے بغیر کسی وارننگ کے گرادیا۔ عوام چلاتی رہی۔ عمارت کے اندر زندہ لوگ ہیں لیکن حکام نے ایک نہ سنی اور عمارت گرا دی گئی۔ عمارت گرانے کی کارروائی 13 منٹ چلی۔ اس دوران مال کے ملبے میں پانچ لوگ دب گئے جس کے بعد وہاں چیخ پکار مچ گئی۔ قریب دوگھنٹے تک چلے راحت و بچاؤ کے کام کے بعد چار لاشیں باہر نکالی گئیں جبکہ ایک کی حالت نازک ہے۔ بنگلہ نمبر210 بی گزشتہ22 برسوں سے متنازعہ بنا ہوا تھا۔ 3 جون کو وزارت دفاع نے میرٹھ چھاؤنی بورڈ کے سی ای او کو بنگلہ نمبر 210 بی کے کمپلیکس میں بنے آر آر مال کو مسمارکرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ گزشتہ19 جون کو مال کو توڑنے پہنچی کینٹ بورڈ کی ایک ٹیم کو مخالفت کے چلتے جانا پڑا۔ جس کے بعد سی ای او نے ضلع مجسٹریٹ کو خط لکھ کر 9 جولائی کی کارروائی کے لئے فورس مانگی تھی۔ اس دوران جمعہ کی رات خبر پھیلنے پر بلڈر آنند پرکاش نے خود ہی مزدور لگا کر مال توڑنا شروع کردیا تھا۔ صبح اندھیرے 4.15 منٹ پر چھاؤنی بورڈ پولیس اور انتظامی افسران آر آر مال پہنچنے شروع ہوگئے۔ قریب سوا پانچ بجے جے سی بی مشینوں نے تین منزلہ مال کی دوسری منزل کے پلر کو توڑنا شروع کیا۔ 13 منٹ کے اندر اوپر کی دونوں منزلیں چرمراکر نیچے گر پڑیں۔ تبھی پتہ چلا کہ مال کے پچھلے حصے میں واقع شرما نان والے کی دوکان میں دیپک شرما ، ان کا لڑکا اور دوکان کے کاریگر سو رہے تھے۔ اتنا سنتے ہی چھاؤنی بورڈ کے افسر اور ملازم موقعہ سے فرار ہوگئے۔ جے سی بی ڈرائیور بھی مشن چھوڑ کر بھاگ گئے۔ لوگوں کی موت کے بعد عوام میں ناراضگی بڑھنا فطری ہی تھا۔ اس معاملے میں چھاؤنی بورڈ کے 6 افسران کے خلاف رپورٹ درج کرائی گئی ہے۔ ایتوار کو پولیس نے چیف انجینئر انوج سنگھ کو کورٹ میں پیش کیا۔ عدالت نے انوج کو 14 دن کی جوڈیشیل حراست میں جیل بھیج دیا۔ میرٹھ میں سنیچر کو جو کچھ ہوا وہ سرکاری مشینری کی مکاری ،لاپروائی، پیسے کے آگے خود کے ضمیر کو ماردینا جیسا ہے۔ دو اسباب سے میرٹھ کا یہ واقعہ بے چینی اور نفرت دونوں پیدا کرتا ہے۔ پہلا تو یہ کہ بلڈنگ میں سو رہے لوگوں کو باہر نکالنے کے بجائے بلڈوزر چلادینا کہاں کی سمجھداری ہے؟ دوسرایہ آخر ناجائز طریقے سے شہر کے درمیان میں اتنی بڑی عمارت کیسے اور کس کی ملی بھگت سے بنی؟ اس ناجائز کارگزاری کے لئے جو بھی ذمہ دار ہیں وہ سبھی ان اموات کے لئے ذمہ دار ہیں۔ عمارت کو گرانے سے پہلے حکام کو اتنا تو دیکھنا چاہئے تھا کہ عمارت پوری طرح سے خالی ہے۔ افسران اتنے بے حس تھے کہ انہوں نے آس پاس بنے گھروں کو خالی کرنے تک کا پیغام یا وارننگ نہیں دی۔ اس طرح کے حادثے مستقبل میں نہ ہوں اس پر سبھی کوتوجہ دینی چاہئے۔
(انل نریندر)

12 جولائی 2016

چوطرفہ تشدد سے امریکہ میں خانہ جنگی جیسے حالات

جیسے جیسے امریکہ میں صدارتی چناؤ قریب آتا جارہا ہے وہاں کی اندرونی حالت بدسے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ آج حالت یہ بن گئی ہے کہ امریکہ کی زیادہ تر ریاستیں تشدد کی زد میں ہیں۔ کچھ ریاستوں میں تو تقریباً خانہ جنگی جیسی حالت بنی ہوئی ہے۔امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں جمعرات کو ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران اسنائپروں کے ذریعے گھات لگاکر حملے میں پانچ پولیس ملازمین کی موت ہوگئی ۔ حملے میں 7 لوگ زخمی ہوگئے جبکہ 1 ہزار سے زیادہ لوگوں کو چوٹیں آئی ہیں۔ حملے کا اہم بنیادی ملازم پولیس کے حملہ میں مارا گیا۔ جمعہ کو پولیس نے امریکی پارلیمنٹ کا راستہ تک بند کردیا۔ ٹیکساس کے ڈیلاس شہر میں یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب کچھ لوگ سیاہ فام کو گولی مارے جانے کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ اس حملے کو امریکی سکیورٹی ملازمین پر ہوا اب تک کا سب سے بدتر حملہ بتایا جارہا ہے۔ پچھلے پانچ برسوں میں امریکہ میں نسلی تشدد میں قریب 16 فیصدی کا اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے سال 250 سے زیادہ سیاہ فام مارے گئے۔ سب سے زیادہ سیاہ فاموں کا قتل کیلیفورنیا میں ہوا۔ اس کے علاوہ ایک سال میں100 سے زیادہ نفرت کرنے والے گروپ بھی بڑھ گئے۔ سب سے زیادہ ہیٹ گروپ نیویارک میں ہے۔ یہ تعداد جلد ایک ہزار ہونے کا اندیشہ جتایا جارہاہے۔ ایسے میں دیش میں آتنکی حملے نہ ہونے سے بھی بڑی چنوتی دیش میں اندورنی تشدد بن گئی ہے۔ڈیلاس پولیس کے چیف ڈیوڈ براؤن نے بتایا کہ دو سیاہ فاموں کی پولیس فائرننگ میں موت ہونے کے احتجاج میں یہاں قریب 800 لوگ مظاہرہ کرنے کے لئے اکھٹے ہوئے تھے۔ احتجاج کو دیکھتے ہوئے موقعہ پر 100 پولیس افسر تعینات کئے گئے تھے۔ مظاہرین کے درمیان کسی اونچے مقام سے چار بندوقچیوں نے گھات لگاکر پولیس والوں پر فائرنگ کردی۔ بندوقچیوں نے 11 پولیس والوں پر بھی گولیاں چلائیں۔ مشتبہ میں سے ایک کو پولیس نے روبو بم کے ذریعے دھماکہ سے اڑادیا۔ اس سے پہلے پولیس اور بندوقچیوں کے درمیان 45 منٹ تک فائرننگ ہوتی رہی۔ انہوں نے بتایا کہ مارے گئے حملہ آور نے پولیس سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ گورے لوگوں کا قتل کرنا چاہتا تھا۔ خاص طور سے پولیس والوں کا۔ حالانکہ کافی دیر بعد بھی پولیس کے سامنے اس نے سرنڈر نہ کرنے پر اسے روبو بم کے ذریعے اڑادیا گیا۔ دراصل امریکہ میں اسی بدھوار کو سینوٹا میں فلینڈو کیسٹائل نام کے لڑکے کی پولیس فائرننگ میں موت ہوگئی تھی۔ فیلینڈو کو پولیس افسر نے اسی کی کار میں گولی ماری تھی۔ واراد ت کے فوراً بعد اس کی منگیتر ڈائمنڈ ریٹرلز نے فیس بک پر واقعہ کی ریڈیو ڈال دی۔ اس سے ڈائمنڈ کی چارسال کی بیٹی کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر سارا منظردیکھ رہی تھی۔ منگیتر کے مطابق پولیس نے کار کو محض ایک لائٹ ٹوٹی ہونے کی وجہ سے روکا تھا۔ لوئسیانا میں منگلوار کو دو پولیس افسروں کے ساتھ ہوئی جھڑپ کے بعد ایلٹن نام کے شخص کو مار دیا گیا۔ اس کا ویڈیو بھی سوشل میڈیا میں آگیا۔ ان دونوں واقعات کے بعد ڈیلاس میں احتجاجی مظاہرہ تھا جس میں پولیس والے مارے گئے۔ امریکی صدر براک اوبامہ نیٹو سمٹ میں شریک ہونے پولینڈ کی راجدھانی وارسا گئے ہوئے ہیں۔ فائرننگ کے بعد انہوں نے کہا کہ یہ نفرت پیدا کرنے والا حملہ ہے۔ امریکہ اس سے سہم گیا ہے میں حملہ آوروں کو انصاف کے کٹہرے میں لاؤں گا۔ وارسا پہنچنے سے پہلے انہوں نے کہا تھا کہ سیاہ فاموں پر کی گئی خطرناک فائرننگ نسلی امتیاز ظاہر کرنے والی ہے۔ اوبامہ نے یہ بھی کہا تھا کہ گورو کے مقابلے میں افریقی امریکی لوگوں کو روکے جانے کا امکان 30 فیصدی زیاہ ہے۔ روکے جانے کے بعد ان لوگوں کی تلاشی کا امکان 3 گنا زیادہ ہے۔ بتادیں کہ 2015 ء میں قریب100 سیاہ فاموں کو پولیس نے اپنی گولی کا شکار بنایا۔ ان میں سے 37فیصدی لوگ نہتے تھے۔
(انل نریندر)

کشمیر میں ماتم کو بہانہ بنا کر تشدد

کشمیرمیں 10 لاکھ روپئے انعام کے مطلوب دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین کے پوسٹر بوائے برہان وانی کی موت پر ماتم منانے کے بہانے جس طرح سے بلوا کیاگیا اس سے یہی پتہ چلتا ہے کہ کشمیر وادی میں کس طرح شورش اور عدم استحکام پیدا کرنے والے لوگ سرگرم ہیں اور توڑ پھوڑ کا بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ ویسے یہ پہلی بار نہیں ہوا جب کسی آتنک وادی کی موت پر ماتم منانا اور اس دوران سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت توڑ پھوڑ کرنا اور سکیورٹی فورس پر نشانہ لگا کر حملے کرنا۔ لیکن پچھلے کچھ وقت سے ایسے واقعات میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔ ان تازہ جھڑپوں میں اب تک 23 لوگوں کے مارے جانے کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ سکیورٹی فورس کے 96 جوانوں سمیت126 لوگ زخمی ہوگئے۔ حالات پر کنٹرول کرنے کے لئے کرفیو جیسی پابندیاں لگائی گئی ہیں اور موبائل، انٹرنیٹ سروس پرروک لگادی گئی ہے۔ حساس ترین حالات کو دیکھتے ہوئے امرناتھ یاترا بھی روک دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے مسافروں کی سلامتی یقینی ہونے کے امکانات پر یاترا کو بحال کردیا جائے گا۔ کشمیر کے کئی حصوں میں کرفیو کے باوجود جم کر ہوئے تشدد میں بہت سے لوگ زخمی ہوئے ہیں اور کئی مقامات پر پولیس نے گولیاں بھی چلائیں۔ حزب کمانڈر برہان وانی کے جنازے میں 20 ہزار سے زائد لوگ جمع ہوئے تھے۔ جنازے میں شامل لڑکوں نے وانی کے راستے پر چلنے کا عزم کیا اور اسلام اور آزادی تک اپنی لڑائی جاری رکھنے کی بات بھی کی ہے۔ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے برہان کی موت کے بعد وادی میں دہشت گردی بڑھنے کا اندیشہ جتایا ہے۔ اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ میری بات یاد رکھنا، برہان نے سوشل میڈیا کے ذریعے جتنے آتنک وادی بھرتی کئے تھے اب ان کی قبر سے اس سے کہیں زیادہ بھرتیاں ہوں گئی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ناراض لوگوں کو برہان کی شکل میں نیا ماڈل مل گیا ہے۔ برہان کے انکاؤنٹر میں مارے جانے کوسکیورٹی فورس کشمیرمیں دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے لیکن اس کے جنازے میں جس طرح کی بھاری بھیڑ شامل ہوئی اس سے مقامی لوگوں کو ڈھال بنا کر علیحدگی پسند اور دہشت گرد تنظیم کے ناپاک منصوبوں کو آگے بڑھانے کی سازش صاف دکھائی دے رہی ہے۔ کشمیر میں ان کمزور کرنے والی طاقتوں کو یہ پیغام دینے کی سخت ضرورت ہے کہ پولیس و سکیورٹی فورس کے ساتھ ساتھ کشمیر اور بھارت سرکار کی طرف سے نرمی برتنے اور رعایت دینے کی بھی ایک حد ہے۔کشمیر کی جنتا کی نمائندگی کرنے والے لوگوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ عدم استحکام اور شورش کا راستہ انہیں کہیں نہیں لے جائے گا۔ تشویش کا باعث یہ ہے کہ اودھم پور میں مشتعل بھیڑ نے امرناتھ شردھالوؤں کی کئی گاڑیوں پر بھی حملہ کیا۔ پتھراؤ میں درجنوں گاڑیاں تباہ ہوئیں اور کئی بھکت زخمی ہوگئے۔ کئی مسافروں سے ’پاکستان زندہ بعد‘ کے نعرے بندوق کی زور پرلگانے کوکہا گیا۔وادی کشمیر کے ساتھ جموں بھی اب دہشت کی زد میں آرہا ہے۔
(انل نریندر)

11 جولائی 2016

کیا لوک سبھا اسمبلی چناؤ ایک ساتھ ہونے چاہئیں

دیش میں لوک سبھا اسمبلی انتخابات ایک ساتھ کرانے کی مانگ وقتاً فوقتاً اٹھتی رہی ہے۔ اس کے حمایتی کہتے ہیں کہ یہ محض آسانی کے نقطہ نظر سے نہیں بلکہگڈ گورننس کے کروڑوں لوگوں کو بنیادی سہولیات دینے کی نظرسے بھی اہم ہے۔ عام طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ چناؤ ایک پردیش میں ہوںیا کچھ زیادہ پردیشوں میں اس میں پورے دیش کی سیاست الجھ کر رہ جاتی ہے۔ ہر برس کہیں نہ کہیں چناؤ ہوتے رہتے ہیں۔ ابھی پانچ ریاستوں کے چناؤ سے نمٹے اور اس کے بعد اگلی پانچ ریاستوں چناؤ تیاری شروع ہوگئی ہے۔ آہستہ آہستہ اب ہماری جمہوریت ہی چناؤ مشینری بنتی جارہی ہے۔ بھارت کے چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی نے بتایا کہ اگر سبھی سیاسی پارٹیوں میں عام رائے بنے اور اس سلسلے میں آئینی ترمیم ہوتو انڈین چناؤ کمیشن عام چناؤ ،ریاستی اسمبلی چناؤ کو ایک ساتھ کروانے کے لئے تیار ہے۔ زیدی نے کہا ایک چناؤ کمیشن اور قانون منترالیہ کو ہماری سفارش ہے کہ دیش میں ریاستی اسمبلی اور لوک سبھا کے چناؤ ایک ساتھ کرائے جائیں۔ ان چناؤ کو ایک ساتھ کروانے کیلئے ہمیں اور زیادہ الیکٹرانک مشینیں خریدنے اور عارضی ملازمین کو مقرر کرنے اور چناؤ کی تاریخوں میں تبدیلی جیسے کچھ انتظام کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایسی ہی ایک سفارش اس اشو کی جانچ کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کو بھی کی تھی۔ کمیٹی نے یہ تجویز رکھی تھی کہ اس مسئلے پر سبھی سیاسی پارٹیوں کے درمیان مفصل بحث ہونی چاہئے۔ کیونکہ کچھ ریاستوں کی تاریخوں کو آگے بڑھانے اور کچھ کو پیچھے کھسکانے کیلئے عام طور پر ترمیم کرنی ہوگی۔ چناؤ کا خرچ مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔ 
بھارت کے پہلے چناؤ پر ایک روپیہ فی شخص خرچ آیا تھا۔ اب یہ 22 روپے فی شخص ہوتا جارہا ہے۔ چناوی خرچہ 22 گنا بڑھ گیا اور آبادی 35 کروڑ سے 125 کروڑ ہوگئی ہے۔ اگر ہم پارٹیوں کے امیدواروں کے خرچ کی بات کریں تو یہ لاکھوں کروڑوں میں پہنچتا ہے۔ ان میں زیادہ تر کالا دھن ہوتا ہے۔ اگر چناؤ پانچ سال میں ایک بار ہوں تو لاکھوں کروڑوں روپے کی بچت ہوگی اور جمہوریت پر کالی کمائی کی سیاہی بھی پانچ بار کے بجائے ایک بار لگے گی۔ ایک ساتھ چناؤ ہونے پر سرکار کا پیسہ تو بچے گا ہی پارٹیوں اور امیدواروں کے کروڑوں روپے بھی بچیں گے۔ آج کا پس منظر بدل رہا ہے۔ وہیں دوسری طرف کروڑوں لوگ پیسوں کی کمی کی وجہ سے نکل نہیں پاتے۔
(انل نریندر)

تین طلاق کا اشو پھرگرمایا

سپریم کورٹ نے حال ہی میں کہا کہ مسلم فرقے میں تین بار طلاق کہہ کر ازدواجی رشتہ توڑناایک بہت اہم موضوع ہے جو لوگوں کے ایک بڑے طبقے کو متاثر کرتا ہے۔ اسے آئینی ڈھانچے کی کسوٹی پر کسے جانے کی ضرورت ہے۔ عدالت عظمی کے ججوں نے کہا کہ ہم سیدھے سیدھے ہی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہے ہیں کیونکہ دونوں طرف بہت مضبوط خیال ہے۔ یہ اس بات پر غور کرے گی کہ اشو کا نپٹارا کرتے وقت پچھلے فیصلوں میں کیا غلطی ہوئی ہے اور اس بارے میں فیصلہ کرے گی کہ کیا اسے اور بڑی یا پانچ رکنی آئینی بنچ کے سامنے بھیجا جاسکتا ہے۔ چیف جسٹس جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اور جسٹس اے۔ ایم خان ولکر کی ممبر شپ والی ایک بنچ نے کہا کہ ہم سیدھے ہی کسی نتیجے پرنہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا آئینی بنچ کے ذریعے قانون پر کوئی غور کئے جانے کی ضرورت ہے؟ تین طلاق کے اشو کے درمیان قانون وزارت کی طرف سے آئینی کمیشن کو لکھے گئے اس خط کی اہمیت بڑھ جاتی ہے کہ وہ یونیفارم سول کوڈ کے مسئلے پر اسٹڈی کرے اور اپنی رپورٹ دے۔ آئینی کمیشن دی گئی ہدایت یہ اشارہ دیتی ہے کہ مرکزی سرکار یکساں سول کوڈ کی سمت میں قدم اٹھانا چاہتی ہے لیکن یہ بھی صاف ہے کہ یہ آسان کام نہیں۔ یکساں سول کوڈ کے مقصد کو تو تبھی حاصل کیا جاسکتا ہے جب سبھی سیاسی پارٹیاں، مذہبی پیشوا اس پر سنجیدگی سے غور کریں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس پر غور تو ہوتا ہے لیکن ووٹ بینک کے تنگ نظریئے سے ، اور یہی وجہ ہے کہ ایسے الفاظ سنائی دینے لگے ہیں کہ مودی سرکار دیش پر یونیفارم سول کوڈ تھونپنے کی تیاری میں ہے۔ زیادہ تر سیاسی پارٹیاں یونیفارم سول کوڈ کی ضرورت تو جتاتی ہیں اور اس کے تئیں اصولی طور پر رضامندی بھی ظاہر کرتی ہیں لیکن یہ کہنے سے بھی نہیں چوکتیں کہ اس کے لئے وقت نہیں آیا ہے۔ بتا دیں مسلمانوں کی تین طلاق کیساتھ ہی مذہبی طلاق کا اشو بھی سوالوں کے گہرے میں ہے۔ سپریم کورٹ اس کے جواز پر بھی غور کررہا ہے۔ عدالت میں ایک مفاد عامہ کی عرضی التوا میں ہے جس میں مذہبی سے ملی طلاق کو قانونی حیثیت دئے جانے کی مانگ کی گئی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ مذہب سے ملی طلاق پر سول کورٹ کی مہر لگانے ضروری نہ ہو۔ بنگلور کے رہنے والے سینئر وکیل کلیرینس پائس کی اس مفاد عامہ کی عرضی پر سپریم کورٹ نے پچھلے برس اگست میں غور کرنے کے لئے منظور کرلیا تھا۔ معاملہ یہ ہے کہ عیسائیوں کے مذہبی شریعت کے مطابق کیتھولک چرچ میں مذہبی عدالت نے پادری کے ذریعے طلاق و دیگر ڈگریاں دی جاتی ہیں۔ سپریم کورٹ میں عرضی گزار کی طرف سے پیروی کررہے وکیل اے ۔ ایس مسین کا کہنا ہے کہ چرچ کے ذریعے دئے جانے والے طلاق کی ڈگری کے بعد کچھ لوگوں نے جب دوسری شادی کرلی تو ان پر کثیر شادی کا مقدمہ درج ہوگیا۔ ایسے میں سپریم کورٹ یہ اعلان کرے کہ پرسنل لاء میں چرچ کے ذریعے دی جارہی طلاق کی ڈگری قابل تسلیم ہوگی اور اس پر سول عدالت سے طلاق کی مہر ضروری نہیں ہے۔ حالانکہ حکومت نے عرضی گزار کی عرضی کی مخالفت کی ہے۔ سرکار کی طرف سے داخل جواب میں کہا گیا ہے کہ مانگ قبول نہیں کی جاسکتی کیونکہ طلاق قانون لاگو ہے اور اسے کورٹ جائز بھی ٹھہرا رہی ہے۔
(انل نریندر)

10 جولائی 2016

ماحولیات سے چھیڑ چھاڑ :گومکھ گلیشیئر کا حصہ ٹوٹا

پچھلے کچھ برسوں سے اتراکھنڈ میں ماحولیات سے چھیڑ چھاڑ کی وجہ سے قدرتی آفات کے واقعات مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔ حال ہی میں پٹھوڑا گڑھ ۔چمولی میں بادل پھٹنے سے حادثہ ہوا۔ اس سے پہلے کیدار ناتھ ٹریجڈی کو کون بھول سکتا ہے۔ ابھی گزشتہ ہفتے گو مکھ گلیشئر میں ایک حصہ کے ٹوٹنے کی خبر آئی ہے۔ گومکھ گلیشیئر کے بائیں طرف کا حصہ ٹوٹ گیا اور اس کے ٹکڑے بگھیرتی میں بہاؤ کے ساتھ گنگوتری تک پہنچ گئے۔ بگھیرتی کے ٹورازم مقام یعنی گو مکھ تک جانے پر فی الحال پابندی لگادی گئی ہے۔ یہاں جانے والوں کوبھوج باسا سے تین کلو میٹر تک آگے ہی جانے کی اجازت ہوگی۔ سکیورٹی پہلوؤں کے پیش نظر کوہ پیمائیوں اور تیرتھ یاتریوں کے لئے گنگوتری نیشنل پارک انتظامیہ نے نئی گائڈ لائنس جاری کی ہیں۔ ادھر گلیشیئر کی اصلی پوزیشن کا پتہ کرنے کے لئے وہاں اسٹڈی کے لئے موجود سائنسدانوں کی ٹیم اپنی رپورٹ تیار کررہی ہے۔ گو مکھ گلیشیئر کے ٹوٹنے کا پتہ چلنے کے بعد سے ہی گنگوتری نیشنل پارک انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی ہے۔ پچھلے ایتوار کو گنگوتری میں بھگیرتی کے بہاؤ کے ساتھ برف کے ٹکڑے پہنچنے سے گلیشیئر ٹوٹنے کی بات سامنے آئی تھی۔ حالانکہ گلیشیئر سائنسداں عام طور پر عام واقعہ بتا رہے ہیں۔پھر بھی پارک انتظامیہ نے پیر کو موجود سسٹم میں تبدیلیاں کردی ہیں۔ پارک کے ایک افسر نے بتایا کہ گرمی کے سبب گو مکھ گلیشیئر پر کافی دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ایسے میں گلیشیئر کے حصے کس وقت اور کہاں سے ٹوٹ جائیں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اگرچہ گو مکھ میں وارننگ بورڈ پہلے ہی لٹکائے جاچکے تھے لیکن تب گلیشیئر ٹوٹنے کا خطرہ کم لگ رہا تھا۔2012ء میں بھی گو مکھ گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ گیا تھااس وقت گو مکھ کے آدھے کلو میٹر پہلے لگایا گیا گیج اسٹیشن بھی بہہ گیا تھا۔ اس سے پہلے 25 جولائی 2010ء میں دو کانوڑیوں کی گلیشیئر کے ٹکڑوں کے نیچے دب جانے سے موت ہوگئی تھی۔ کانوڑیہ ادگم استھل پر پانی بھر رہے تھے۔ رڑکی میں واقعہ نیشنل واٹر سائنس انسٹی ٹیوٹ کے مطابق گلیشیئروں کا ٹوٹنا عام واقعہ تو ہے ہی لیکن اس بار کچھ جلدی رو نما ہوگیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ 15 سال پہلے ساڑھے چھ فٹ برف دیکھنے کو ملا کرتی تھی لیکن اب برف کی یہ تہہ گھٹ کر ساڑھے چار فٹ ہی رہ گئی ہے۔ جب تازہ برف کی پرت پتلی ہوگی تو بنیادی گلیشیئر پگھلنا شروع ہوجائے گا۔ اس کارروائی کو سائنسداں منفی بیلنس کہتے ہیں۔ اس کے عام لفظوں میں معنی ہیں گلیشیئر بڑھنے کے بجائے سکڑ رہا ہے۔ این آئی ایم کے ڈائریکٹر بارش اور برفباری کے پیٹرن میں آئی تبدیلی کو حالانکہ مستقل نہیں مانتے ۔ وہ کہتے ہیں یہ صورتحال کبھی بھی بدل سکتی ہے۔ تب گلیشیئر نگیٹو بیلنس سے پوزیٹو بیلنس کے بڑھنے کی کارروائی میں آجائیں گے۔
(انل نریندر)

جرم کے مشہور کھلاڑی

سابق بلیڈ رنر کے نام سے عالمی شہرت یافتہ ایتھلیٹ آسکر پیسٹوریس کو اپنی گرل فرینڈ کے قتل کے معاملے میں 6-7 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ 29 سال کے پسٹوریس نے تین سال پہلے ریوا اسٹان کیم کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ ایک سال جیل کاٹنے کے بعد پچھلے سال اکتوبر میں پسٹوریس کو رہا کردیا گیا تھا تب سے وہ نظربند تھے۔ مانا جارہا تھا کہ انہیں کم سے کم 15 سال کی سزا ہوگی لیکن جج نے رعایت دے دی تھی۔ بتادیں کہ پسٹوریس جب چھوٹے تھے تبھی سے ان کے دونوں پیروں کے نچلے حصے خراب ہوگئے تھے۔ وہ ریس کے دوران فائبر کے دونوں نقلی پیر لگا کر دوڑتے تھے اسی وجہ سے ساؤتھ افریقہ اور پھرساری دنیا میں وہ بلیڈ رنر کے نام سے جانے جانے لگے۔ پسٹوریس ایسے اکیلے کھلاڑی نہیں جو سنگین جرائم کی لسٹ میں رہے ہوں۔ کچھ اور نامی کھلاڑی بھی جرائم میں پھنس چکے ہیں۔ تازہ مثال دنیا کے سب سے بڑے فٹبال کھلاڑی لیونیل نیسی ہیں، جنہیں اسپین کی ایک عدالت نے 21 مہینے کی جیل کی سزا سنائی ہے ساتھ ہی 15 کروڑ روپے کا جرمانہ بھی لگایا ہے۔ میسی دنیا کے سب سے امیر کھلاڑی ہیں۔ ارجنٹینا کے میسی کے خلاف سال 2007 ء سے 2009ء کے درمیان اسپین میں 31 کروڑ روپے کی ٹیکس چوری کا الزام ہے۔ اس کے لئے انہوں نے ارودوے اور بیلج میں فرضی کمپنی بنا کر گھوٹالے کئے۔ معاملے میں میسی کے والد جارج کو بھی برابر کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس بارے میں میسی نے کہا میں تو صرف فٹبال کھیلتا ہوں مجھے اقتصادی معاملوں کی کوئی جانکاری نہیں ہوتی۔ اسپین کے قانون کے مطابق عدم تشدد کے معاملوں میں دو سال سے کم کی سزا ملنے پر جیل نہیں جانا پڑتا۔ اس دوران انہیں صرف نگرانی میں ہی رہنا ہوتا ہے۔ وہ اس فیصلے کو اسپین کی سپریم کورٹ میں چیلنج کرسکتے ہیں۔ لیونل میسی کی سالانہ کمائی 543 کروڑ رو پے بتائی جاتی ہے۔ جرمانہ 31 کروڑ ٹیکس کی چوری کا ہے۔ باکسنگ کی دنیا کا جرائم سے قریبی رشتہ رہا ہے۔ امریکہ کے نیو جرسی شہر میں 1966 میں ہوئے تین قتلوں میں امریکن مکے باز کاٹر کو بھی ملزم بنایا گیا ہے اور 20 سال کی قید کی سزا ہوئی ہے۔ 1985ء میں عدالت نے فیصلہ پلٹا اور کہا کاٹر نسلی امتیاز کے شکار ہوئے ہیں۔ قتل کے الزام میں کاٹر کو 1967 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد محمد علی، باب ڈائلن جیسے باکسروں نے ان کا کافی بچاؤ کیا۔ اپریل 2014ء میں 76 سالہ عمر میں کینسر سے ان کی موت ہوگئی۔ مائک ٹائسن نامی مشہور مکے باز کو 1991ء میں بدفعلی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ڈوسی واشنگس نامی لڑکی نے ان پر بدفعلی کا الزام لگایا تھا جو اسوقت ایک بیوٹی مقابلے کی امیداو تھی۔ حالانکہ ٹائسن کا کہنا تھا کہ اس وقت جو ہوا وہ ڈے سی ٹی کی رضامندی سے تھا۔ 26 جنوری 1992 ء سے 10 فروری 1992 تک معاملے کی سماعت چلی ۔ عدالت نے ٹائٹسن کو چھ سال کی سزا سنائی۔ امریکہ میں ایک اور فٹبال کھلاڑی و ہالی ووڈ کے مشہور اداکار اوجھے سمپسن کا کیس اخباروں کی سرخیاں بنا۔ اوجھے سمپسن کو2008 میں اغوا اور لوٹ مار کے الزام میں 33 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ ان چھ لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے2007 ء میں لاس وگاس کے ایک ہوٹل میں دو تاجروں کو بندوق کی نوک پر یرغمال بنایاتھا۔ اس سے پہلے 1995 میں سمپسن کو قتل کے ایک دوسرے معاملے میں بری کردیا گیا تھا۔ سونیا ہائڈن نامی امریکی آئس اسکیٹر نے 1994ء میں مقابلے میں نینسی کیرنگسن کے پیر توڑنے کے لئے سپاری دی تھی۔ تب نینسی ونٹر اولمپک کی سلور میڈل ونر تھی۔ انکشاف ہونے پر سونیا پر جرمانہ لگایا گیا اور انہیں تین سال کھیل سے دور رکھا گیا۔ برازیل کے فٹبال کھلاڑی گرنوفرنانڈیز سابق گرل فرینڈ ایلزا سیمیوڈیو کے قتل کے الزام میں 22 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ایلزا نے برونو کے بچے کو جنم دیا تھا جسے وہ اپنا نام دینا نہیں چاہتے تھے اس لئے فٹبالر نے بیوی اور 8 لوگوں کے ساتھ مل کر ایلیزا کا اغوا کیا پھر اسے شہر سے دور لے جاکر مار ڈالا اور لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر کتوں کو کھلادئے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...