Translater
23 نومبر 2024
منی پور میں این ڈی اے ممبران اسمبلی کا الٹی میٹم !
منی پور میں بگڑے حالات کے درمیان حکمراں این ڈی اے سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی نے اپنی سرکار کو ہی الٹی میٹم دے دیا ہے ۔منی پور تشدد کی آگ میں اب وزیراعلیٰ این بیرن سنگھ کی قیادت والی بھاجپا سرکار بھی جھلستی نظر آرہی ہے ۔بھاجپا سرکار پر سنکٹ کم ہوتا نظر نہیں آرہا ہے ۔وزیراعلیٰ کی کرسی خطرے میں آرہی ہے ۔ریاست کی صورتحال کا تجزیہ کرنے کے لئے وزیراعلیٰ بیرن سنگھ کی سربراہی میں بلائی گئی اہم میٹنگ میں 37 میں سے 19 ممبر اسمبلی بی جے پی شامل نہیں ہوئے ،میتئی سماج سے آنے والے ایک کابینہ وزیر بھی میٹنگ میں شامل نہیں ہوئے ۔ممبران اسمبلی نے ایک اہم میٹنگ کرکے پرستاو¿ پاش کیا اس میں جری بام ضلع میں تین عورتوں اور تین بچوں کے قتل کے ذمہ دار کوکی علیحدگی پسندوں کے خلاف اجتماعی کاروائی کی اپیل کی گئی ہے ۔اگر ان تجاویز پر عمل نہیں کیا گیا تو این ڈی اے کے سبھی ممبران اسمبلی منی پور کے لوگوں کے مشورے کے بعد آگے کی کاروائی کریں گے ۔منی پور تشدد کا دور رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے اب تو پہلی بار وزراءایم ایل اے گروپوں کے گھروں پر بھی حملے ہوئے ہیں ۔امپھال مغرب میں بھیڑ نے ایک بھاجپا ممبر اسمبلی کا گھر پھونک دیا۔وہیں جربام میں بھاجپا کانگریس کے دفتر اور ایک آزاد ممبر اسمبلی کی بلڈنگ کو نقصان پہنچایا اور کئی وزراءاور 9 ممبران اسمبلی کے گھروں پر حملہ ہو چکاہے ۔بھیڑ نے ایم پی پی ممبر اسمبلی رامیشور سنگھ کو گھر سے نکال کر پیٹا تھا ۔دہشت کے چلتے کئی وزیر اور ممبران اسمبلی نے رشتہ داروں کو ریاست سے باہر بھیج دیاہے وہیں وزیراعلیٰ این ویرن سنگھ کی رہائش گاہ پر سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے ۔کئی ضلعون میں انٹرنیٹ سیوا بند ہے ۔اس درمیان 565 دن سے جاری تشد دکی آگ ریاست کی بھاجپا سرکار تک پہنچ گئی ہے ۔سرکارمیں شامل این پی پی نے بیرن سرکار سے اپنی حمایت واپس لے لی ہے بھاجپا صدر جے پی نڈا کو خط لکھ کر مطلع کر دیاہے ۔ریاستی اسمبلی میں این پی پی کے سات ممبر ہیں ریاست کے ایک ممبر نے بتایا کہ بھاجپا 14 اور 5 دیگر ممبر استعفیٰ دینے کی تیاری میںہیں ۔ایک دن پہلے ہی اسمبلی اسپیکر سمیت بھاجپا کے 19 ممبران کا ایک خط سامنے آیا تھا جنہوں نے بیرن سنگھ کو فوراً استعفیٰ دینے کی مانگ کی تھی ۔این پی پی کے ایک ممبر اسمبلی نے بتایا کہ ہمیں کچھ دن مرکز کے فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا ۔بیرن سنگھ کی جگہ نیا نیتا نہیں بنا تو ہم فلور ٹیسٹ کی مانگ کریں گے کیوں کہ سرکار اقلیت میں ہے او ر دوسری طرف منی پور کانگریس کے صدر کیشو مدھے چندر نے بھی کہا ہے کہ اگر جنتا کہے گی تو ہمارے سبھی ممبر اسمبلی استعفیٰ دیں گے ۔ریاستی اسمبلی میں کانگریس کے 5 ممبر ہیں دیکھنا یہ ہے کہ اب مرکزی سرکار منی پور کو لے کر کیسا فیصلہ کرتی ہے۔
(انل نریندر)
گوتم اڈانی پر دھوکہ دھڑی ورشوت کا کیس!
گوتم اڈانی پر امریکہ میں جعلسازی کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے ۔ان پر امریکہ میں ایک کمپنی کو کٹریکٹ د لانے کے لئے 25 کروڑ ڈالر کی رشوت دینے اور معاملے کو چھپانے کا الزام لگایا گیا ہے ۔نیویارک کی کورٹ میں دائر کیا گیا مجرمانہ معاملہ بھارت کے سب سے امیر افراد میں سے ایک 62 سال کے گوتم اڈانی کے لئے ایک بڑا جھٹکا ہے ۔اڈانی گروپ نے بیان جاری کر الزامات کی تردید کی ہے اور انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے ۔آپ کو پورا معاملہ تفصیل سے بتاتے ہیں کہ آخر دھوکہ دھڑی کے یہ الزام کس سلسلے میں ہیں؟ جانچ کے دائرے میں کون کون آئے ہیں؟ گوتم اڈانی پر کیا الزام لگے ہیں؟ امریکہ کے سیکورٹی اینڈ ایکس چنج کمیشن نے گوتم اڈانی کے بھتیجے ساگر اڈانی سمیت گرین اینرجی لمٹڈ کے حکام سمیت دیگر ملازمین اور گلوبل پاور لمٹڈ کے ایگزیکٹو سٹول کیپ نیس کے خلاف رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ گوتم اڈانی ساگر کے ساتھ دیگر افراد نے اپنے رینوبل اینرجی کمپنی کو کنٹریکٹ دلانے اور بھارت کی سب سے بڑی سولر اینرجی پلانٹ پروجیکٹ لگانے کے لئے بھارتیہ سرکاری حکام کو تقریبا 235ملین ڈالر کی رقم دینے پر رضامندی جتائی تھی ۔دراصل امریکہ کے اٹارنی جنرل امریکی قانون لاگو کرنے والی ایجنسی ہے اس کے مطابق 2020 سے 2024 کے درمیان اڈانی کو بھارت میں اپنے ہی سولر اینرجی پروجیکٹ کے لئے بھارت سرکار سے کنٹریکٹ چاہیے تھے جس کے لئے اڈانی نے ہندوستانی حکا م کو 265 ملین ڈالر کی رشوت دینے کی بات کہی تھی ۔اڈانی کو اس پروجیکٹ سے 20 سال میں تقریباً 2 بلین ڈالر سے زیادہ منافع کمانے کی امید تھی ۔الزام ہے کہ اڈانی نے اس پیسہ کو اکٹھاکرنے کے لئے امریکی سرمایہ کاروں اور بینکوں سے جھوٹ بولا اور ان سے 175 ملین ڈالر لے لئے ان پیسوں کو رشوت کے لئے استعمال کیا گیا تھا ۔امریکی جانچ ایجنسی ایف بی آئی کے پاس ان الزمات کو ثابت کرنے کے پختہ ثبوت ہیں ۔صفائی دی جارہی ہے کہ جب جرم بھارت میں ہوا ہے تو کیس امریکہ میں کیسے چل سکتا ہے ۔ہندوستانی عدالتوں میں چلنا چاہیے ۔اس کا جواب یہ ہے کہ اڈانی نے پیسے اکٹھا کرنے کے لئے امریکی سرمایہ کاروں اور امریکی بینکوں سے جھوٹ بول کر غلط تفصیل دے کر پیسہ اکٹھا کیا جو امریکہ میں ایک جرم ہے ۔امریکی محکمہ انصاف نے خود کہا ہے کہ چارج شیٹ میں لگائے گئے الزام فی الحال الزام ہیں اور جب تک قصوروار ثابت نہیں ہو جاتے تب تک شامل لوگوں کو قصوروار نہیں مانا جاسکتا۔اڈانی گروپ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ سبھی ممکنہ قانونی کاروائی کی جائے گی ۔بھارت میں لمبے عرصہ سے اپوزیشن پارٹیاں الزام لگاتی رہی ہیں کہ سیاسی تعلقات کے سبب اڈانی کو فائدہ ملتا رہا ہے ۔عام رائے یہ بنی ہوئی ہے کہ مودی جی ،امت شاہ ،گوتم اڈانی کے قریبی مانے جاتے ہیں ۔حالانکہ اڈانی نے الزامات کو مسترد کیا ہے ۔امریکہ میںصدر اٹارنی جنرل کی تقرری کرتا ہے ۔یہ معاملہ تب آیا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ ہفتے پہلے چناو¿ جیتا ہے۔ٹرمپ نے امریکی جسٹس ڈپارٹمنٹ کافی تبدیلی کی بات کہی ہے ۔پچھلے ہفتے گوتم اڈانی نے نا صرف گوتم اڈانی کو جیت کی بدھائی دی لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی یقین دلایا تھا کہ ان کا گروپ امریکہ میں دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گااور 15 ہزار نوکریاں بھی دیں گے ۔دیکھیں یہ کیس آگے کیسے بڑھتا ہے ۔
(انل نریندر)
21 نومبر 2024
فائدہ کے عہدے سے وابستہ ممبران پارلیمنٹ کی ڈسکوالی فائی
سرکار 65 سال پرانے اس قانون کو منسوخ کرنے کا پلان بنا رہی ہے جو فائدے کے عہدے پر ہونے کے سبب ممبران پارلیمنٹ کو ڈسکوالی فائی کرنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے ۔وہ ایک نیا قانون لانے کا پلان بنا رہی ہے جو حالایہ ضروریات کے مطابق ہو ۔مرکزی آئینی وزارت کے آئین ساز محکمہ نے 16 ویں لوک سبھا میں کل راج مشر کی صدارت والی فائدے کے عہدوں پر بنی جوائنٹ کمیٹی کے ذریعہ کی گئی سفارشوں کی بنیاد پر ایم پی (نہ اہلیت روک تھام)بل ، 2024 کا مسودہ پیش کیا ہے اس مجوزہ بل کا مقصد موجودہ ایم پی (نہ اہلیت روک تھام)ایکٹ 1959 کی دفعہ - 3 کو نہ قابل عمل بنانا اور آرٹیکل میں دئے گئے عہدوں کی نگیٹیو فہرست سے ہٹانا ہے جس کی وجہ سے کسی عوامی نمائندوں کو نہ اہل ٹھہرایا جا سکتا ہے اس میں موجودہ ایکٹ اور کچھ دیگر قوانین کے درمیان تضاد کو دور کرنے کی بھی تجویز ہے جس سے نہ اہل قرارنہ دئے جانے کی واضح سہولت ہے۔ ڈرافٹ بل میںجنتا کی رائے سے اس قانون کی جگہ پر مرکزی سرکار کے نوٹیفکیشن سے آرٹیکل میں ترمیم کرنے کا حق دینے کی بھی تجویز ہے ۔مسودہ بل پر جنتا سے رائے مانگتے ہوئے محکمہ نے یاد دلایا کے ایم پی (نہ اہلیت روک تھام )ایکٹ ،1959 اس لئے بنایا گیا تھا کی سرکار کے ما تحت آنے والے فائدے کے کچھ عہدے اپنے اتحادیوں کو ایم پی بننے یا چنے جانے کے لئے نہ اہل نہیں ڈھرائےں گے ۔حالانکہ ،ایکٹ میں ان عہدوں کی فہرست شامل ہے جن کے اتحادی نہ ایل نہیں ڈھرائےں جائےں گے اور ان عہدوں کا ذکر بھی ہے جن کے اتحادی نہ اہل قرار دئے جائیں گے ۔پارلیمنٹ نے وقتافوقتا اس ایکٹ میں ترامیم کی ہیں ۔16 ویں لوک سبھا کے دورنا جوانٹ پارلیمنٹری کمیٹی نے قانون منترایہ کے موجودہ قانون کی بوسیدہ تقاضوں کو دھیان میں رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ۔اس کی ایک اہم سفارش یہ تھی کے فائدے کے عہدہ لفظ کی وسیع طریقہ پر تشریح کی جائے ۔مسودہ بل میں کچھ معاملوں میں نہ اہلیت کے آرضی معطلی سے متعلق موجودہ قانون کی دفعہ - 4 کو ہٹانے کا بھی پرستاﺅ ہے ۔اس میں اس کی جگہ پر مرکزی سرکار کا نوٹیفکیشن جاری کرکے آرٹیکل میں ترمیم کرنے کا حق دینے کا بھی پرستاﺅ ہے ۔
(انل نریندر)
وقت سے پہلے ہو سکتے ہیں دہلی اسمبلی چناﺅ!
دہلی اسمبلی چناﺅ کا بگل وقت سے پہلے بج سکتا ہے ۔واضح ہو کے پچھلی مرتبہ اسمبلی چناﺅ 8 فروری کو ہوئے تھے ریاستی چناﺅ کمیشن نے ابھی سے تیاری شروع کر دی ہے راجدھانی میں فروری2025 میں نئی اسمبلی کی تشکیل ہونی ہیں اسلئے جنوری کے آخر میں یا فروری کے شروع میں چناﺅ کی امیدیں ہیں لیکن ذرایع کی مانے تو چناﺅ دسمبر میں ہو سکے ہیں اس کے لئے ووٹر فہرست میں نظر ثانی کا کام شروع ہو چکا ہے 2019 میں اسمبلی چناﺅ 8 فروری کو ہوئے تھے اور اس کے بعد 11 فروری کو ووٹوں کی گنتی ہوئی تھی ۔یہ چناﺅ پہلے ہو سکتا ہے اس کا اشارہ دہلی چیف الیکٹرول افیسر دفتر کے خط نے قیاس آرائیوں کو ہوا دے دی ہے خط میں سبھی محکموں کے سربراہو ں سے اسٹاف کی پوزیشن مانگی گئی ہے اس سے چناﺅ ڈیوٹی طے کی جائے گی 10 سال سے دہلی کے اقتدار پر قابض عام آدمی پارٹی نے قبل از وقت چناﺅ کے امکان کو دیکھتے ہوئے چناﺅ کمپین بھی شروع کر دی ہے پارٹی لیڈر پدیاترائے کر رہے ہیں ۔اور بوتھ میپنگ بھی شروع کر دی ہے ادھر بھاجپا آپ کے نیتاﺅ کو توڑ کر اپنی پارٹی میں شامل کر رہی ہے تازہ مثال اشوک گہلوت کی ہے ۔قیاس لگائے جا رہے ہیں کے عام آدمی پارٹی اور اعتماد سے لبریز کانگریس کے ساتھ جانے کے بجائے میدان میں تنہا اترے گی ۔ادھر بی جے پی بڑی تعداد میں نئے امیدواروں پر داﺅ لگانے کے چکر میں ہے یہاں تک دعویٰ کیا جا رہا ہے کے پارٹی دسمبر کی درمیان پارٹی کا چناﺅ منشور بھی جاری کر سکتی ہے اس لئے وہ دہلی چناﺅ جیتنے کے لئے کوئی کثر نہیں چھوڑنا چاہتی گزشتہ 4 اسمبلی چناﺅ کی بات کریں تو دہلی میں ایسے 24 اسمبلی حلقے ہیں جہاں ایک بار بھی بھاجپا امیدوار کامیاب نہیں ہو پائے اس لئے بھاجپا کے لئے 70 اسمبلی سیٹوں میں 36 سیٹیں جیتنے کی بڑی چنوتی ہے کیوں کے پہلے ہی 24 اسمبلی حلقوں میں پارٹی ہارتی رہی ہے ۔ایسے میں جیت کے لئے کیا حساب کتاب لگائی گی یہ بات اہم ہے جہاں مرکز میں نریندر مودی سرکار اور اس بار جیت کر آئی ہے ایسے میں وہاں 3 بار مسلسل عام آدمی پارٹی کی سرکار بھی دہلی کے اقتدار پر قابض ہے ۔ایسے میں دہلی بھاجپا کا خواب اسمبلی چناﺅ جیت کر ڈبل انجن کی سرکار بنانے کا خواب پورا ہو پائے گا یا نہیں یہ تو نتیجہ ہی طے کرے گا لیکن بھاجپا کے لئے بنیادی سطح پر اتر کر جنتا میں اپنی پکڑ بنانا بیحد ضروری ہے ۔حالانکہ دہلی اسمبلی چناﺅ کے وقت بھی بی جے پی کی جیت کے با وجود عام آدمی پارٹی نے اچھی کامیابی دہلی میں درج کی تھی لیکن اس بار سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اپنی نیتاﺅ کو زیادہ اعتماد اور آپسی رسہ کشی سے بچنے کی صلاح دی ہے ۔اور یہ نصیحت دی ہے کے یہ چناﺅ ہلکے میں نہ لیں اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کے حالایہ چھٹکوں سے پارٹی کا بھروسہ کہی نہ کہیں گھٹا ہے اور وہ اپنے ورکرو ں کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے فی الحال کانگریس کا ابھیان ڈھنڈے بستے میں پڑا ہوا ہے۔
(انل نریندر)
19 نومبر 2024
جھارکھنڈ میں زیادہ پولنگ سے کس کو فائدہ ملے گا!
جھارکھنڈ میں پہلے مرحلے کی اچھی پولنگ قابل ستائش ہے اس پٹھاری ریاست میں پولنگ کے قطعی نمبر دیر سے آے جو بہت جوش بھرنے والے ہیں جھارکھنڈ کے مغربی سنگھ بھوم ضلع کے نکسلی متاثرہ علاقہ میں ماﺅ وادیوں کے چناﺅ بائیکاٹ کے با وجود پولنگ بوتھو ں پر لمبی قطاروں سے صاف ہے کے وہاں کی جنتا نے نکسلیوں کی دھمکی کی پرواہ نہیں کی اور کھل کر ووٹ ڈالا پہلے مرحلے میں 43 سیٹوں پر ہوئے پولنگ کا جائزہ سبھی پارٹیاں اس لحاظ سے کر رہی ہیں کے یہ چناﺅ 2019 کے مقابلے 20 فیصد زیادہ ہے 43 اسمبلی حلقوں میں پولنگ کا جوش نظر آیا چناﺅ کمیشن کے مطابق 66.48 فیصدی پولنگ درج کی گئی پچھلی مرتبہ ان سیٹوں پر 63.9 فیصد ووٹ پڑے تھے چناﺅ کمیشن کے مطابق نکسلی متاثرہ سیٹوں پر نکسلیوں کی دھمکیاں بے اثر رہی پہلے مرحلے میں پچھلی بار جے ایم ایم کانگریس اتحاد بی جے پی سے زیادہ سیٹیں لایا تھا لیکن اس مرتبہ 3فیصد زیادہ پولنگ کس کو جیتائے گی اس پر غور اور دعوی ہو رہے ہیں بی جے پی کا ایم ڈی اے اتحاد میں اسے اپنے لئے اور اس کا مخالف اتحاد اپنے لئے فائدے مند بتا رہا ہے ۔2019 میں پہلے فیز میں 38 سیٹ پر 63.75 پولنگ ہوئی تھی اس بار 38 اور باقی 5 سیٹوں کا اندازہ بوتھ کے حساب سے لگانے کی کوشش کر رہے ہیں اس کی بنیاد پر 20 نومبر پر 38 سیٹوں کے لئے زیادہ پولنگ کرانے کی حکمت عملی پر کام ہو رہا ہے ۔اس درمیان پہلے مرحلے کے لئے پی ایم مودی نے گوڈا اور دیو گھر ریلی میں ماٹی ،بیٹی اور روٹی بچانے کا چناﺅی وعدہ کہہ کر قبائلیوں اور دیگر ووٹروں کو راغب کرنے کی کوشش کی ہے یوگی نے بٹیں گے تو کٹیں گے اپنے الفاظ کے ساتھ ہی اب پی ایم مودی کے ایک رہیں گے تو سیف رہیں گے کو بھی بولا ادھر ہیمنٹ سورین اور کلپنا سورین بھی گرج رہی ہیں اور بی جے پی اتحاد کی قلعی کھول رہی ہیں۔قبائلی علاقوں میں بھاری پولنگ سے انڈیا اتحاد اب اپنی جیت کا دعوی کر رہے ہیں ۔آئین بجاﺅ ریزرویشن بجاﺅ ،اپنی زمین صنعت کاروں کو دینے سے بجاﺅ کے نعرے دئے جا رہے ہیں ہیمنت سورین نے جیل سے ڈالنے سے بھی قبائلیوں میں ان کے ہمدردی بڑھ رہی ہے کہا تو جا رہا ہے کے دونوں اتحادوں میں کاٹیں کی ٹکر ہے اس چناﺅ میں کس کا پلڑا بھاری ہوگا یہ کہنا سیاسی تجزیہ نگاروں کے لئے مشکل ہو رہا ہے سیاسی تجزیہ نگاروں کی مانیں تو چناﺅ میں جس طرح کی ٹکر ہے ووٹ فیصد میں ایک سے دو فیصد کا فرق کسی کے حق میں کھیل بگاڑ دیگا خاص کر جب ان چناﺅ میں این ڈی اے کئی پارٹیاں ہیں جنہوںنے 5.5 فیصد ووٹ دیکر تین سیٹیں اپنے خاتیں میں کرنے والی بھاجپا میں شامل ہو چکی ہیں دیکھیں کے پولنگ کس طرف جا رہی ہے عام طور پر مانا جا رہا ہے کے پہلا مرحلہ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے حق میں جاتا نظر آ رہا ہے ۔باقی تو مشینیں کھلنے پر ہی پتہ چلے گا۔
(انل نریندر)
مہاراشٹر کا اقتدار کس کے ہاتھ میں؟
23 نومبر کو مہاراشٹر کے اقتدار میں کون آئے گا یہ سوال مہاراشٹر اور سیاست میں دلچسپی رکھنے والے ہر آدمی جاننا چاہتا ہے اسمبلی چناﺅ میں کیا بحث چھڑی ہے اور چناﺅ میں کونسا فیکٹر کام کرے گا ۔کن برادریوں کا حساب کتاب چلے گا ۔مہاراشٹر میں کیا ہوگا مقابلے میں کون آگے ہے وغیرہ وغیرہ سوال پوچھے جا رہے ہیں کچھ ہی مہینے پہلے لوک سبھا چناﺅ میں مہا وکاس ادھاڑی کو ملی چیت کا سلسلہ وہ برقرار رکھے گا ۔دوسری جانب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت والی مہایوتی سرکار نے ریاست بھر میں مختلف اسکیموں کو لاگو کرکے چناﺅ میں واپسی کی کوشش کی ہے ۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کے بی جے پی 2014 کے بعد مہاراشٹر میں بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے ۔اسلئے وہ اس چناﺅ میں بھی بڑی پارٹی کی شکل میں ابھرنے کی کوشش کرے گی ریاست میں کئی چھوٹی پارٹیاں بھی میدان میں ہے ۔ان کے علاوہ باغی بھی میدان میں ہیں یہ دونوں ہی اتحادیو ں کا تجزیہ بدل سکتی ہیں ۔مہایوتی (بھاجپا اتحاد)میں نظریات کی بھی تلخی بھی کھل کر سامنے آ رہی ہے ۔مہایوتی کے ساتھی اجیت دادا پوار اور ان کی پارٹی این سی پی کھل کر بی جے پی لیڈروں کے بیانوں کی مخالفت کر رہی ہے ۔شندے اور دویندر فڈنویس میں آپسی کھیچ تان ہے ۔ایسے میں سوال اٹھتا ہے کی ووٹنگ کے دن کیا یہ اتحاد کے ورکر ایک دوسرے کی پارٹی کو ووٹ ٹرانسفر کرا پائے گیں ؟چناﺅ کے دوران گوتم اڈانی کا بھی اشو بیچ میں آ گیا ہے میا وکاس ادھاڑی پارٹی جہاں ایک طرف یہ پرچار کر ہی ہے کے اب صنعت کار میز پر بیٹھ کر سرکاریں بناتے ہیں اور توڑ رہے ہیں وہیں مہاراشٹر میں لگنے والے کئی صنعتیں گجرات لے جا رہے ہیں جس سے مہاراشٹر کی ساخ کو دھکا لگا ہے ۔شرد پوار اور ادھو ٹھاکرے کی پارٹیوں کو توڑنے سے بھی جنتا کی ہمدردی ایم وی اے کے ساتھ ہے ۔دوسری طرف ایکناتھ شندے کی فلائی اسکیمیں اور یوجنائے ،تھوک بھاﺅ میں پیسوں اور طاقت کا استعمال کرنا بھی ایک چناﺅی فیکٹر ہے ۔پھر آر ایس ایس کیوں کے مہاراشٹر میں اس کا ہیڈ کواٹر ہے کئی سیکٹروں میں خاص کر ودربھ میں اہمیت رکھتا ہے اور آر ایس ایس کھل کر بھاجپا کے لئے بیٹنگ کر رہا ہے ۔حالانکہ ودربھ کی بات کریں تو نتن گڈکری کو پوری طرح سے نظر انداز کرنا مہایوتی کو بھاری پڑ سکتا ہے ہمیں لگتا ہے کے بھاجپا کی کوشش یہ بھی ہوگی کے وہ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے تاکے گورنر میں سرکار بنانے کے لئے بلائے ۔اگر ایک بار سرکار بن گئی تو پھر کھیل کھیلنے میں بھاجپا ماحر ہے ۔دوسری طرف تجزیہ نگاروں کا یہ بھی خیال ہے کے مہاوکاس ادھاڑی کا چناﺅ کے بعد کا اتحاد ہے اور گورنر کو سب سے پہلے بات کے سب سے بڑے اتحاد کو موقع دینا چاہئے ہوا کے رخ کو مہاوکاس ادھاڑی کی طرف لگ رہا ہے لیکن ہمارے سامنے ہریانہ کا چناﺅ نتیجہ ہے جہاں دعویٰ تو کانگریس کی جیت کا کیا جا رہا تھا اور نتیجہ بھاجپا کی رکارڈ جیت کے ساتھ سامنے آیا ۔اس لئے چناﺅ میں کسی کی بھی پیش گوئی کرنا ٹھیک نہیں ہوتا ۔دیکھیں کی ای وی ایم میں کس کی قسمت کھلتی ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...