Translater

23 نومبر 2019

پہلے چوری پھر سینا زوری

فرضی مسٹرول تیار کر گوتم بدھ نگر ہوم گارڈوں کی تنخواہ میں ہوئے لاکھوں کے گھوٹالے سامنے آئے ہیں ۔ایس ایس پی ویبھو کرشن اسی سا ل جولائی میں ایک ہوم گارڈ نے جعلسازی کر ہوم گارڈوں کی ڈیوٹی کا فرضی مسٹرول تیار کر لاکھوں کی ادائیگی کی شکایت کی تھی ،ایس ایس پی کی ہدایت پر ایس پی سٹی ،ونت جسوال نے ایف آئی آر درج کی تھی صرف مئی جون کی شہر کی سات کوتوالی کی ہوئی جانچ میں وسیع پیمانے پر ڈیوٹی کے مسٹرول میں گڑبڑیاں ملیں تھیں سات لاکھ سے زیادہ فرضی ادائیگی کا معاملہ پکڑا گیا تھا فرضی مسٹرول تیار کر کے ادائیگی میں قریب پچاس فیصدی سے زیادہ فرضی ڈیوٹی پکڑی گئی تھیں ۔فرضی مسٹرول بنانے میں فرضی مہروں کا استعمال بھی سامنے آیا تھا ،جس کے بعد ایس ایس پی نے اسے سارے معاملے کی شکایت ایڈمنسٹریشن سے کی تھی جس نے معاملے کی جانچ کے لئے کمیٹی بنائی تھی اس کمیٹی نے جانچ میں پایا کہ سورج پور میں واقع ہوم گارڈ کمانڈیٹ دفتر میں پیر کی رات مشتبہ حالت میں آگ لگ گئی اور آگ میں گھوٹالے سے متعلق فائلیں جل کر راکھ ہو گئیں لیکن ابتدائی جانچ میں پتہ چلا کہ سازش کے تحت ثبوت مٹانے کے لئے یہ آگ لگائی گئی ہے ۔محکمہ فائر کو آگ لگنے کی اطلاع منگل کی صبح دی گئی جب تک فائر کی ٹیم موقع پر پہنچی تب تک سبھی دستاویز جل گئے تھے ایس ایس پی نے بتایا کہ اطلاع منگل کی صبح پولس کو ملی کہ ہوم گارڈ کماڈور کے دفتر میں رکھے ایک باکس میں آگ لگ گئی ،موقع پر پہنچے افسروں نے پڑتال کی جس میں پتہ چلا کہ ملزمان نے مین گیٹ پھلانگ کر دفتر میں داخل ہوئے اور اس کے بعد دفتر کا تالا تورا اور الماری میں سیدھے سیدھے آگ لگا دی معاملے کو سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی سنجیدگی سے جانچ چلانے کی ہدایت دی ہے ۔پولس نے شک کی بنیاد پر تین ہوم گارڈوں کو حراست میں لیا ہے ۔ان سے پوچھ تاچھ شروع کر دی ہے ۔تینوں ملازمین سے پوچھ تاچھ کرنے کے ساتھ فورنسک ٹیم جانچ کر رہی ہے ۔پتہ چلا ہے کہ ملزمان نے دفتر میں ہوم گارڈوں سے متعلق حاضری رجسٹر و تنخواہ سے جڑے دستاویز اسی الماری کو توڑا اور آگ لگا دی ۔پورا معاملہ کچھ ایسا ہے کہ نوئیڈا میں ہوم گارڈوں کی تنخواہ نکالنے کو لے کر کروڑوں روپئے کے گھوٹالے میں فرضی مسٹرول تیار کر جن جگہوں پر اصل میں چا رپانچ ہوم گارڈ تعینات کئے جاتے تھے وہاں دس سے پندرہ گارڈوں کو تعینات دکھا کر فرضی تنخواہ دکھائی گئی۔تھانے دار کے نام کی فرضی مہر اور تھانے کی مہریں بھی بنوا کر استعمال کیا گیا ۔یہ جعلسازی 2014سے جاری رہنے کے بعد سامنے آئی ہے ۔بدھ کے روز کمانڈینٹ رام نارائن اور معاون کمانڈینٹ و تین دیگر عہدے داروں کو پولس نے اس معاملے میں گرفتار کیا ہے ۔جانچ جاری ہے ۔

(انل نریندر)

سنسکرت پڑھانے والے مسلم پروفیسر پر ہنگامہ افسوسناک

یہ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ خاص اہلیت رکھنے والے کسی شخص کی مخالفت صرف اس لئے کی جائے کہ اس کی مذہبی پہچان الگ ہے ،(مسلمان)وارانسی میں بنارس ہندو یونیورسٹی میں ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جو کسی بھی حصاص ترین اور ترقی پسند نظریہ رکھنے والے شخص کے لئے پریشان کرنے کے لئے کافی ہے ،بی ایچ یو میں سنسکرت شعبہ میں مقرر ہوئے ایک مسلم پروفیسر فیروز خان کو لے کر پچھلے ایک ہفتہ سے زیادہ وقت سے طلباءکا دھرنا مظاہرہ جاری ہے ،احتجاجی طلباءمسلم پروفیسر کو مذہب کی بنیاد پر ان کی تقرری منسوخ کرنے کی مانگ کر رہے ہیں ،ایسے یہ اشو ہندتو سے جڑتا جا رہا ہے ،وہیں بی ایچ یو کے سنسکرت شعبہ میں تقرری سے پہلے پروفیسر فیروز خان کا سوال ہے کہ میں ایک مسلم ہوں تو کیا میں طالب علموں کو سنسکرت سکھا نہیں سکتا؟سنسکرت میں میرا خاندانی ناتا ہے سوال اُٹھتا ہے کہ مسلمانوں کو ہندوستانیت کو لے کر آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے ان بیانوں کے باوجود کہ بی ایچ یو کے سنسکرت شعبہ میں مسلم پروفیسر فیروز خان کی تقرری پر سوال کھڑا کرنا کہاں تک جائز ہے ؟حالانکہ بی ایچ یو نے صاف طو ر پر کہہ دیا ہے کہ انہوںنے وائس چانسلر کی سربراہی میں ایک شفافیت اسکرینگ عمل کے ذریعہ اتفاق رائے سے اہل امیدوار کو چنا ہے ۔سر سنگ چالک موہن بھاگوت نے اڑیشہ میں دانشوروں کی ایک سمینار میں اس سال پچھلے مہینے ہی خطاب میں کہا تھا کہ دنیا میں سب سے سکھی مسلمان بھارت میں ملیں گے کیونکہ ہم ہندو ہیں اور پورا دیش ایک سوتر میں بندھا ہے ۔بھارت کے لوگ کثیر کلچر ،تہذیب ،زبان،او جغرافیائی خوبیوں کے باوجود خو دکو ایک مانتے ہیں اس درمیان بدھ کو سنت سماج فیروز کے گھر پہنچا اور ان کے والد رمضان سے ملاقات کی اور ایک آواز میں کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں ،تعلیم کو مذہب سے جوڑنا غلط ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ۔فیروز کے والد رمضان نے کہا کہ احتجاج پر آمادہ طلباءاگر میرے خاندان کے پس منظر کو سمجھیں گے تو وہ مطمئن ہو جائیں گے میرے آبا و اجداد سو سال سے رام کرشن کے بھجن گا رہے ہیں ۔میرے چاروں بیٹے سنسکرت یونیورسٹی میں پڑھے ہیں میری چھوٹی بیٹی دیوالی پر پیدا ہوئی جس کا نام لکشمی ہے ۔اسٹسٹنٹ پروفیسر کی شکل میں فیروز خان کو دیگر امتحان دینے والوں کے درمیان سب سے اہل پایا گیا اور اسی وجہ سے ان کی بحالی ہوئی اس طرح نہ صرف سنسکرت زبان کے دانشور ہونے کے ناطے بلکہ آئینی اور شہری حقوق کے ناطے اپنی تقرری والے عہدے پر خدمت کرنے کا ان کا حق ہے ۔لیکن سنسکرت کے استاد کی شکل میں کچھ لوگ قبول نہیں کر سکے جبکہ دوست مذہبی پہچان کے باوجود فیروز خان کی سنسکرت میں خاص اہلیت کو نہ صرف قبول کرنا چاہیے تھا بلکہ روایتی جڑ اور طالبات کے مقابلے زبان کے بڑھتے دائرے کی شکل میں بھی دیکھنا چاہیے تھا جو ہو رہا ہے وہ افسوسناک ہے اور امید کی جاتی ہے کہ بی ایچ یو کے طلباءاس تقرری کو سنجیدگی سے قبول کریں گے اور اپنی تحریک کو ختم کر دیں گے ۔

(انل نریندر)

22 نومبر 2019

عرش سے فرش تک انل انبانی کی کہانی

گزشتہ دنوں دیش کی دو بڑی ٹیلی کام کمپنیاں ائیر ٹیل اور ووڈا فون-آئیڈا کی دوسری سہہ ماہی کے مالی آمدنی کے نتیجوں سے بینکوں کی پریشانی بڑھنا فطری ہے ،ان نتیجوں میں دونوں کمپنیوں میں 23045کروڑ روپئے(ائیر ٹیل)اور 50921کروڑ روپئے(ووڈا فون-آئیڈا)کو اب تک کا سب سے بڑا گھاٹا ہوا ہے ایسے میں ان کمپنیوں کو قرض دینے والے بینکوں کی پریشانی اور بڑھ گئی ہے ۔دراصل پہلے سے ہی نون پرفارمنگ ایسٹ (ایم پی اے )کی وجہ سے مشکل میں چل رہے بینکنگ سیکٹر کو زیادہ ڈیفالٹر کرنے کا امکان ہے ۔اور اس سے بینکوں کا ایم پی اے بڑھنے کا خطرہ ہے اس کے علاوہ میوچول فنڈ انڈسٹری بھی متاثر ہوگی ۔ٹیلی کام کمپنیوں کی جب بات کر رہے ہیں تو انل انبانی کی قرض میں ڈوبی ٹیلی کام کمپنی رئیلائنس یعنی اور کوم کی بات کرنا بھی ضروری ہے ۔انل انبانی اکثر سرخیوں میں بنے رہتے ہیں اس مرتبہ وہ رئیلائنس کمیونکیشن کے ڈائرکٹر بورڈ سے استعفی دینے کے سبب سرخیوں میں ہیں ۔آر کوم کے چیر مین انل انبانی اور چار ڈائرکٹروں نے استعفی دے دیا ہے ۔دیوالیہ کے دور سے گزر رہی آر کوم نے رینیو ریگلیٹری فائلنگ میں یہ جانکاری دی کہ کمپنی دیوالہ ہونے کے چلتے نیلامی کا انتظار کر رہی ہے آخر ایسا ہوا کیا ہے کہ گیارہ سال پہلے 2008میں دنیا کے چھٹے سب سے امیر شخص رہے انل انبانی کا یہ حال ہو گیا ؟انل انبانی کی عرش سے فرش تک کی کہانی کچھ یوں ہے ۔مکیش امبانی اور انل انبانی میں بٹوارے کے وقت آر کوم انل انبانی کے حصہ میں آئی تھی 2010میں آر کوم اے جی گروپ کی بڑی کمپنی میں شمار ہوا کرتی تھی ۔اس وقت ٹیلی کمیونکیشن سیکٹر میں آر کوم کی 17فیصدی حصہ داری تھی اس دوران کمپنی نے فروغ کے لئے بازار سے قرض لینا شروع کر دیا۔صحیح انتظام نہ ہوپانے کے سبب کمپنی پر قرض بڑھتا چلا گیا ۔مالی سا ل2010میں آر کوم پر 25000کروڑ روپئے کا قرض تھا جو بڑھ کر 2019میں 48000کروڑ روپئے تک پہنچ گیا ۔2007میں انل انبانی کی 3.2لاکھ کروڑ روپئے کی پراپرٹی مانی گئی تھی ۔جو 2018میں 17.9ہزار کروڑ روپئے کی پراپرٹی بچی 2018-19میں انل انبانی نے 35000کروڑ روپئے چکائے ایک اندازہ ہے کہ آج کی تاریخ میں انل انبانی کی کمپنیوں پر 1.03لاکھ کروڑ روپئے کا قرض واجب ہے ۔ٹیلی کمیو نکیشن سیکٹر میں مقابلہ بڑھنے سے آر کوم کی بازار کی حصہ داری تیزی سے کم ہوئی انل امبانی جیسے تیسے حالات سے نمٹ رہے تھے ۔ان کے بڑے بھائی مکیش امبانی نے جیو کے ذریعہ ٹیلی کمیو نکیشن سیکٹر میں قدم رکھا جیو کے آنے سے ائیر ٹیل ووڈا فون جیسی بڑی کمپنیاں تو جیو کی آندھی کی وجہ سے گھاٹے میں جانے لگیں اور انل امبانی کی آر کوم کمپنی کو بھی زبردست جھٹکا لگا ۔انل امبانی کا پھسلنا اور تیز ہوگیا کچھ برسوں میں انل امبانی کو بڑے سنیما رئلائنس بگ براڈ کاسٹنگ اور بگ میجک جیسی کمپنیوں کو بیچنا پڑ رہا ہے ۔ذرائع کا اندازہ ہے کہ آر کوم گروپ کا کل محفوظ قرض قریب 33ہزار کروڑ کا ہے قرض دہندگان نے آر کوم سے 49ہزار کروڑ روپئے لینے کا دعوی کیا ہے ۔آر کوم نے اپنی پراپرٹیوں بکری کے لئے رکھا ہے ۔ان کمپنیوں کی پراپرٹیوں کی بکری کا کام دیکھ رہی قرض دہندگان کی کمیٹی ان کے لئے بولیاں 24نومبر کو کھولے گی اس کے علاوہ تین چینی بینکوں نے بھی 48سو کروڑ روپئے کا مقدمہ دائر کیا ہے ۔

(انل نریندر)

ایودھیا فیصلے پر نظر پٹیشن؟

ایوھیا معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے ذریعہ نظرثانی پٹیشن دائر کرنے کے فیصلے پر ہمیں کوئی حیرانی نہیں ہوئی ،بورڈ کی ایگزیکٹیو میٹنگ میں مسجد کے لئے پانچ ایکڑ زمین بھی نہ لینے کا فیصلہ ہوا ،بورڈ کے سیکریٹری ظفر یاب زیلانی نے کہا کہ نظر ثانی عرضی کا فیصلہ کسی سیاست کے چلتے نہیں لیا گیا ہے ۔بلکہ یہ آئین میں حاصل ہمارا حق ہے ۔بورڈ نے نظر ثانی پٹیشن کے لئے یہ بنیادیں بتایں ،سپریم کورٹ نے مانا ہے کہ بابر کے سپہ سالار میر باقی نے مسجد کی تعمیر کرائی ،1857سے 1949تک مسجد اور اندرونی حصوں پر مسلمانوں کا قبضہ مانا ،کورٹ نے مانا بابری مسجد میں آخری نماز 16دسمبر 1949کو پڑھی گئی ،22,23دسمبر 1949کی رات میں مورتیاں رکھی گئیں ،ان کا وہ وقار نہیں ہوا ،لہذا دیوتا نہیں مانا جا سکتا ۔گنبد کے نیچے پوجا کی بات نہیں کہی گئی پھر زمین رام للا کے حق میں کیوں دی گئی ؟عدالت نے رام جنم بھومی کو فریق نہیں مانا پھر اس کی بنیاد پر فیصلہ کیوں دیا گیا ۔عدالت نے کہا مسجد ڈھانا غلط تھا اس کے باوجود مندر کے لئے فیصلہ کیوں دیا ۔عدالت نے کہا ہندو سینکڑوں سال سے پوجا کرتے آرہے ہیں اس لئے زمین رام للا کو دی جاتی ہے ۔جبکہ مسلمان بھی عبارت کرتے رہے ہیں ۔وقف ایکٹ کو نظر انداز کیا گیا ۔مسجد کی زمین بدلی نہیں جا سکتی ،کورٹ نے مانا کہ کسی مندر کو توڑ کر مسجد نہیں بنائی گئی تھی یہ دکھ کی بات ہے کہ جو مسلم لیڈر فیصلے سے پہلے کہہ رہے تھے کہ جو فیصلہ آئے گا اسے قبول کریں گے اب وہی لیڈر اسے تسلیم نہ کرنے کے لئے طرح طرح کے بہانے گھڑنے لگے ہیں ۔ہمارا خیال ہے کہ بے شک یہ مسجد مسلم لیڈر نظر ثانی عرضی داخل کرنا چاہتے ہوں لیکن اس عرضی کے کورٹ میں قبول ہونے کی امید بہت کم ہے ۔واقف کاروں کا کہنا ہے کہ فیصلہ اتفاق رائے سے ہے جس میں احتجاج یا ناراضگی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس لئے نظر پٹیشن کا مستر د ہونا طے ہے ۔بلا شبہ کسی بھی معاملے میں نظر ثانی عرضی دائر کرنے کا سبھی کو حق ہے ۔اگر ایوھیا معاملے میں فریقین اس حق کا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ایک تو اہم فریق اقبال انصاری فیصلے کو چیلنچ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اور دوسرے جو لوگ ان سے الگ راستے پر چل رہے ہیں وہ اچھی طرح جان رہے ہیں کہ اب کچھ حاصل ہونے والا نہیں اس کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ایودھیا معاملے میں پانچ نفری آئینی بنچ نے اپنا فیصلہ اتفاق رائے سے سنایا آخر یہ جانتے ہوئے بھی ایودھیا فیصلے کو چیلنج کرنے کا مطلب ہے کہ اس سے کچھ ہاتھ لگنے والا نہیں ہے ۔یہ صرف وقت کی برباری ہی نہیں بلکہ ٹکراﺅ کے راستے پر جان بوجھ کر چلنے کی کوشش بھی ہے اگر کوئی نظر ثانی پٹیشن دائر ہوتی ہے تو اسے فیصلہ دینے والے جج ہی سنیں گے اس میں ایک جج کے بدلنے کی امید ہے کیونکہ فیصلہ دینے والی بنچ کے چیف جسٹس رنجن گگوئی 17نومبر کو ریٹائر ہو گئے ان کی جگہ نئے چیف جسٹس بوبڑے طے کریں گے نظر ثانی پٹیشن بلا وجہ ٹکراﺅ بڑھانے کی کوشش ہے ۔

(انل نریندر)

21 نومبر 2019

مہاراشٹرمیں سرکار کے قیام کی کنجی شرد پوار کے ہاتھ میں

مہاراشٹرمیں نئی سرکار کی تشکیل کی سمت میں منگل کے روز بھی کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو پائی اور کانگریس و این سی پی کے درمیان مجوزہ بیٹھک بدھوا ر کو بلائی گئی لیکن ابھی یہ پتہ نہیں چل سکا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوا؟24اکتوبر کو مہاراشٹراسمبلی چناﺅ کے نتیجے آنے کے بعد سے ریاست میں سرکار کے قیام کو لے کر کشمکش کی حالت بنی ہوئی ہے ۔حالانکہ ریاست میں صدر راج نافذ ہے پھر بھی سرکار کے لئے درپردہ کوششیں جاری ہیں اور اقتدار کی کنجی این سی پی نیتا شرد پوار کے ہاتھوں میں لگتی ہے ۔ریاست میں سرکار کا قیام لٹکا ہوا ہے ۔اور اتحاد بھی ابھی پوری طرح بن نہیں پایا جس وجہ سے فارمولے پر ابھی بھی پینچ پھنسا ہوا ہے ۔اس لئے مہاراشٹر میں کس کی حکومت بنے گی ابھی تصویر صاف نہیں ہو پائی ایسے میں لوگوں کی نگاہیں این سی پی چیف شرد پوار پر لگی ہوئی ہیں ۔لیکن وہ جس طرح سے ایک کے بعد ایک بیان دے رہے ہیں اس نے سیاسی لوگوں میں مزید کنفیوزن پیدا کیا ہوا ہے ۔ان کے دل میں کیا ہے اسے نہ تو شیو سینا اور نہ ہی کانگریس پارٹی اور نہ ہی سیاسی پنڈت سمجھے پار رہے ہیں مہاراشٹر کی سیاست کے کنگ میکر بن کر ابھرے شر دپوار باربار بیان بدل رہے ہیں ایسے میں مہاراشٹر کی سیاست کیا کروٹ لے گی یہ کہنا مشکل ہے ۔اس کا کسی کو ابھی تک پتہ نہیں لگ پارہا ہے پوار کا کہنا تھا کہ بی جے پی شیو سینا کو واضح اکثریت ملی ہے انہیں ہی سرکار بنانی چاہیے ۔ہم نتیجے کا احترام کرتے ہوئے اپوزیشن میں بیٹھیں گے ۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ سرکار بنانے کو لے کر شیو سینا سے ہمیں کوئی تجویز نہیں ملی ہے ۔میرے پاس نمبر نہیں ہے کیسے سرکار بنائیں ؟پچھلے دنوں شرد پوار کسانوں کی حالت جاننے کے لئے ناگپور گئے تھے وہاں انہوںنے ایک سوال کے جواب میں ریاست میں وسط مدتی چناﺅ کے امکانات کو سرے سے خارج کر دیا ،اور کہا تھا کہ سرکار بننے میں تھوڑی تاخیر ہو سکتی ہے اور ریاست میں پانچ سال کے لے پائیدار سرکار بنائی جائے گی ۔پیر کو جب ان سے سونیا گاندھی سے ملاقات کے بعد یہ امید تھی کہ مہاراشٹر میں سرکار کے قیام کو لے کر چھایے کالے بادل چھٹ جائیں گے لیکن شرد پوار نے ملاقات کے بعد صاف کہا کہ ریاست میں سرکار کے قیام پر سونیا گاندھی سے کوئی بات نہیں ہوئی ہے ۔حالانکہ کانگریس اور این سی پی نے ساتھ چناﺅ لڑا تھا ۔اس لئے دونوں پارٹی کے نیتا آگے کی حکمت عملی پر بات کر رہے ہیں ۔پوار کا کہنا تھا کہ ابھی ہمارے پاس چھ مہینے کا وقت ہے ۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ شیو این سی پی اور کانگریس کی اتحادی حکومت بن جائے گی ؟اس پر انہوںنے کہا کہ شیو سینا اور بی جے پی الگ الگ چناﺅ لڑے اس لئے انہیں اپنا راستہ خود طے کرنا ہوگا مہاراشٹر میں ہم نے سپا و سوابھیمانی شود کارت تنظیم سے بھی سمجھوتہ کیا تھا اس لئے انہیں بھی نظر انداز نہیں کر سکتے ہم سبھی کو بھروسے میںلینا چاہیں گے ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بی جے پی اور شیو سینا سے نئی سرکار کو لے کر سوال کا جواب مانگے ۔

(انل نریندر)

لٹے کا صفایا کرنے والے چین حمایتی گوتا بایا بنے نئے صدر

پڑوسی ملک سری لنکا میں صدر کے لئے ہوئے چناﺅ کے نتیجے اتوار کو آگئے اور بڑے اپوزیشن لیڈر گوتا بایا راج پکشے کو کامیاب قرار دیا گیا ۔ان کا چناﺅ جیتنا ہمارے لئے اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ ان کی ساکھ بھارت مخالف سے زیادہ چین ہمایتی رہی ہے ۔ساتھ ہی گوتا بایا نے 2009میں ڈیفنس سیکریٹر ہوتے ہوئے ملک میں لٹے کا صفایا کیا تھا اور ان ہزاروں بے قصور تمل آبادی کے لوگوں کے خلاف کارروائی کو لے کر انسانی حقوق خلاف ورزی کے ان پر کافی الزام لگے تھے ۔نیپال کے بعد سری لنکا اس خطے کا دوسرا دیش ہے جہاں ہوئے چناﺅ میں کسی ایسے شخص یا پارٹی کی جیت ہوئی ہے جس کی ساکھ بھارت حمایتی نہیں رہی ہے ۔نیپال میں بھارت مخالف ساکھ رکھنے والے کی پی شرما اولی کی لیڈر شپ میںسرکار بنی لیکن دونوں ملکوں کے رشتے بہتر ڈھنگ سے رفتار پکڑ رہے ہیں گوتا بایا کو لیبریشن ٹائیگرس آف تمل ایلم (لٹے)کے ساتھ تین دہائی سے چل رہی خانہ جنگی کو 2009میں خاتمہ کے لئے ان کو کریڈیٹ دیا جاتا ہے اس کے لئے انہیں ٹرمینیٹر کہا جاتا ہے ۔گوتا بایا کی سری لنکا میں کھلنایک اور نائک دونوں جیسی امیج ہے ۔ملک میں اکثریتی سنھالی بودھ انہیں جنگ کے نائک مانتے ہیں وہیں تمل اقلتیں انہیں کھلنائک مانتی ہیں۔سری لنکائی صدر چناﺅ میں گوتا بایا راج پکشے کی کامیابی کے بعد سری لنکا میں ایک بار پھر چین کی سرگرمیوں میں اضافہ ہونے کا اندیشہ جتا یا جا رہا ہے ۔دراصل پورے راج پکشے خاندان کا چین کے تئیں جھکاﺅ دنیا جانتی ہے ایسے میں ایک بار پھر اقتدار میں آنے کے بعد اس خاندان کا اسی طرح کے حالات کی امید کی جا رہی ہے ۔جیسے مہیندرا راج پکشے کے وقت تھی ۔گوتا بایا نے چناﺅ کمپین کے دوران کئی بار کہا تھا کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو چین کے ساتھ رشتوں کو مزید مضبوط بنائیں گے غور طلب ہے کہ ان کے بڑے بھائی مہندرا راج پکشے کے عہد میں سرکار نے چین کو خود بڑھاوا دیا تھا ،اور چین کو ہبن ٹوٹا بندر کا اور ائیر پورٹ کا ٹھیکا بھی دیا ۔مانا جاتا ہے کہ بھارت کو بحر ہند میں چاروں طرف سے گھیرنے کی چین کی اسکیم میں سری لنکا کے یہ پروجکٹ اہم حصہ ہیں۔گوتا بایا کہ اس کامیابی کے ساتھ راج پکشے خاندا ن کے پانچ سال بعد اقتدار میں واپسی ہو رہی ہے ۔اس سے پہلے مہندرا راج پکشے 2005سے 2015تک دیش کے صدر رہے تھے ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے گوتا بایا کو سری لنکا کا صدر بننے پر مبارکباد دی ہے ۔اس کے جواب میں راج پکشے نے کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے ملنے کے خواہش مند ہیں چناﺅ میں جیت کے بعد ستر سالہ لیفٹنینٹ کرنل (ریٹائرڈ گوتا بایا نے اپنے حمایتوں کی ساکھ اور ان کی تمنا کے ساتھ جیت کی خوشی منانے کی درخواست کی وہیں چناﺅ میں ہار کے ساتھ پریم داسا نے یو ایم پی کے ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے اسعفی دے دیا ہے ۔اس پارٹی کے نیتا و وزیر اعظم رانل وکرم سنگھے عہدہ چھوڑ سکتے ہیں اور گوتا بایا راج پکشے اپنے بڑے بھائی مہندرا راج پکشے کو دیش کا نیا وزیر اعظم بنائیں گے ۔دس برسوں تک سری لنکا کے ڈیفنس سیکریٹری رہے گوتا بایا نے سنہالی اکثریتی ملک کے جنوبی علاقوں میں ایک طرفہ جیت حاصل کی لیکن اقلیتی تمل اور مسلم اکثریتی علاقوں میں انہیں ہار کا سامنا کرنا پڑا ۔تمل اکثریتی نارتھ صوبے کے سبھی پانچ ضلعوں ،جافنہ ،وونیا ،اور منار وغیرہ میں وہ ہارے ہیں ۔مسلمان مشرقی صوبے کے تین ضلعوں ترنکو مالی ،بٹی کلوا اور پارا میں بھی یہی حالت رہی ہے ۔بھارت گوتا بایا کی پالیسیوں پر گہری نظر رکھے گا۔

(انل نریندر)

20 نومبر 2019

ملک کے مفاد میں لیا گیا فیصلہ !

بھارت نے آسیان ممالک کی مجوزہ مکت تجارت سمجھوتے آر سی پی ،یجنل جامع معیشت پارٹر شپ میں شامل نہ ہونے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے اسے دیش کے کسانوں او چھوٹے کاروباریوں کے حق میں ایک بڑی کامیابی کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے ۔آسیان کے دس ممالک اور اس کے چھ ساتھی ملکوں ،چین جاپان ،ساﺅتھ کوریا،بھارت ،آسٹریلیا،اور نیوزی لینڈ کے درمیان مجوزہ سمجھوتے کے وجود میں آنے پر یہ دنیا کا سب سے بڑا وعدہ کاروبار سمجھوتہ بن جائے گا ۔اس کے دائرے میں تقریبا پچاس فیصدی عالمی معیشت آجائے گی ،اس سے ہی آر سی ای پی کے اہمیت اور اس کے نہ صرف اس میں شامل ہونے والے ملکوں بلکہ عالمی سطح پر پڑنے والے اثرات کو سمجھا جا سکتا ہے ۔بینکاک میں ہوئی میٹنگ میں بھارت کو چھوڑ کر پندرہ ملکوں نے اس پر بات چیت پوری کر لی ہے اور بھارت کے لئے دروازے کھلے رکھے ہیں ۔بہر حال بھارت اس میں شامل ہونے سے پہلے اپنے مفادات کو یقینی کرنا چاہتا ہے ،بھارت کا اعتراض خاص طور سے اس بات کو لے کر ہے کہ اس کے موجودہ خاکے میں وجود میں آنے سے 80سے 90فیصدی چیزوں کی درآمدات ٹیکس ختم ہو جائے گا ،جس سے چین اپنے سامان سے ہندوستانی بازاروں کو بھر دے گا اس سے چین کے ساتھ تجارت اور بڑھ سکتی ہے ۔اس سمجھوتے سے باہر نکل کر وزیر اعظم نریندر مودی نے دیش کے مفاد میں بڑا فیصلہ لیا ،کانگریس نے اسے اس بنیاد پر اپنی جیت بتایا ہے کہ پارٹی اس فیصلے کے خلاف تھی آر سی ای پی سمٹ کے بعد شام کو بھارت کے وزارت خارجہ کی سیکریٹری (سابق )وجے ٹھاکر سنگھ نے بتایا کہ شرطیں موزوں نہ ہونے کے سبب قومی مفادات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بھارت نے اس میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا ،انہوںنے سمٹ میں پی ایم مودی کی طرف سے دیا گیا بیان بھی پڑھا جس میں انہوںنے گاندھی جی کے جنتر اور اپنی ضمیر کے سبب یہ فیصلہ لینے کی بات کہی تھی اس موزوں پر رائے زنی کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ ہندوستانیوں خاص کر سماج کے کمزور طبقوں کے لوگوں اور ان کی گزر بسر پر ہونے والے اثر کے بارے میں سوچ کر یہ فیصلہ لیا ،انہیں مہاتما گاندھی کی اس نصیحت کا خیال آیا جس میں انہوںنے کہا تھاکہ سب سے کمزور اور سب سے غریب شخص کا چہرا دیکھو،اور سوچو جو قدم اُٹھانے جا رہے ہو اس کا انہیں کوئی فائدہ پہنچے گا بھی یا نہیں ؟بھارت میں کافی عرصے سے تشویش جتائی جا رہی تھی کہ کسانوں اور تاجروں کی انجمنوں نے اس کا یہ کہتے ہوئے مخالفت کی تھی کہ اگر بھارت اس میں شامل ہوا تو پہلے سے پریشان چھوٹے تاجر و کسان تباہ ہو جائیں گے ،بلا شبہ آسیان اور آر پی ای سی میں مجوزہ ممالک کے ساتھ بھارت کا رشتہ باہمی ہے ۔لیکن جب تک بازار کی پہنچ اور سروسیز میں توازن نہیں بنتا اس لئے رشتے میں یہ مضبوطی نہیں آسکتی ۔

(انل نریندر)

ساتھیوں کے علیحدہ ہونے سے پریشان بھاجپا !

کرناٹک ہریانہ اور اب مہاراشٹر کے چناﺅ نتیجوں کے بعد سیاست دیش میں سیاسی اتحادوں کو لے کر بحث کو نیا موڑ دے دیا ہے ،اس میں آئیڈیا لوجی اور چناﺅ ی اشو بونے ہو گئے ہیں ،جنتا کی ہمایت پانے والی پارٹیاں اور مسترد پارٹی نیا اتحاد بنا سکتی ہے اور سرکار بھی اب چناﺅ سے پہلے اتحاد کی جیت پر بھی یہ ضروری نہیں کہ وہیں اتحاد ی سرکار بنائے ایسے میں جنتا کو کسی اتحاد کو ووٹ دینے سے پہلے سوچنا پڑ سکتا ہے ،مہاراشٹر میں بھاجپا کے ساتھ اتحاد میں چناﺅ جیتنے والی شیو سینا چناﺅ ہارنے کے بعد والی این سی پی اور کانگریس کے ساتھ اتحاد میں سرکار بنانے کی کوشش میں لگی ہے ۔یہ تب ہے جب بھاجپا شیو سینا کو اتحاد کو پوری اکثریت حاصل ہو گئی تھی ایسی پوزیشن کم ہی آتی ہے کہ چناﺅ جیتنے والا اتحاد ٹوٹ جائے اور ہارنے والوں کے ساتھ نیا اتحاد بن جائے چناﺅ سے پہلے اتحاد و سب سے بڑی پارٹی کی سرکار بنانے کے دعوے اور ان کو موقع دینے کا فارمولہ بھی بدل جائے گا ۔بھاجپا کے لئے اب یہ نئی چنوتی ابھر کر آئی ہے دو درجن سے زیادہ سیاسی ساتھیوں سے پہلی بار دہلی فتح کے ساتھ شروع ہوئی بھاجپا کی اقتدار میں آمد یاترا میں پارٹی نے ایک دہائی سے بھی کم وقفہ میں بھلے ہی اپنے دم پر دوسری بار مرکزمیں اقتدار پر قابض ہونے میں کامیابی پا لی ہو لیکن پارٹی کے اس اونچائی مرکز پر ایک ایک کر کے ساتھیوں کے علیحدہ ہونے سے اب بھاجپا سینر لیڈر شپ میں پریشانی لکیریں صاف دکھائی دینے لگی ہیں بات مہاراشٹر کی ہو یا جھارکھنڈ کی دونوں ہی جگہ بھاجپا کی اتحادی پارٹیوں نے جس طرح سے بھاجپا کے ساتھ عین موقع پر اپنا ناطا توڑا ہے اس سے پارٹی کے اندر اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کا دباﺅ بڑھ گیا ہے پہلا جھٹکا بھاجپا کو جھارکھنڈ میں لگتا ہوا دکھائی پڑ رہا ہے ،جھارکھنڈ میں 2019کے لوک سبھا چناﺅ سے بھاجپا کے ساتھ شروعات کرنے والی آل جھارکھنڈ اسٹوڈینٹ یونین (آجسو)نے ریاستی امسبی چناﺅ کے درمیان بھاجپا پر شیٹ بٹوارے میں طعنہ شاہی رویہ اپنانے کے الزام میں اتحاد سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے جھارکھنڈ میں نہ صرف آجسو نے بھاجپا کا ساتھ چھوڑا ہے بلکہ اس کی ایک اور اتحادی جماعت لو ک جن شکتی پارٹی نے این ڈی اے میں رہنے کے باوجود بھاجپا کے خلاف امیدوار کھڑا کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔یہی حال مہاراشٹر میں بھی ہے۔مہاراشٹرمیں بھاجپا کی پرانی اتحادی رہی شیو سینا نے بھی اپنا ناطہ توڑ لیا ہے ۔لیکن آج بھی بھاجپا کے سینر لیڈر یہ تکنیکی طور سے صاف کرنے کو تیار نہیں کہ شیو سینا این ڈی اے کا حصہ ہے یا نہیں ؟دراصل بھاجپا کا شیو سینا کو لے کر شش و پنج کی حالت اس لئے بھی بنی ہوئی ہے کہ بھاجپا اور شیو سینا نے مرکز اور ریاستی سطح پر بھلے ہی اپنی راحیں الگ چن لیں ہوں لیکن ممبئی بلدیاتی چناﺅ میں سات سے زیادہ مونسپل کارپوریشن ،ضلع پنچایتوں میں ان دونوں پارٹیوں کی حمایت والی مقامی حکومتیں ہیں ،بھاجپا ایک جھٹکے میں یہ بیان بازی کر کے مقامی سطح پر یہ اتحاد توڑنے کی غلطی نہیں کرنا چاہتی اسے معلوم ہے کہ اگر وہ باہر آتی ہے تو شیو سینا فوراََ مخالف پارٹیوں کے ساتھ یا تو اقتدار پر قابض ہونے کی کوشش کرئے یا پھر بھاجپا میں پھوٹ ڈلوا کر سرکار بنانے کی کوشش کرئے گی شاید اس خطرے کے سبب ہی بھاجپا لیڈر شپ شیو سینا پر تلخ حملے کرنے سے بچ رہی ہے ۔

 (انل نریندر)

19 نومبر 2019

امت شاہ نے مودی- ادھو میں دوری بنائی !

شیو سینا ،بھاجپا کے درمیان 35سال پرانا اتحاد تقریبا ختم سا ہو گیا ہے ،بھاجپا نیتا اس کے لئے شیو سینا کے ایک اہم پہلو مانے جا رہے ہیں ،شیو سینا نیتا اور پارٹی کے اخبار سامنا کے ایگزکیٹو ایڈیٹر سنجے راوت کو خاص طور سے ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں ،دوسری طرف سنجے راوت اور شیو سینا کے صدر وزیر اعظم نریندر مودی سے اختلافات کے لئے بھاجپا کے قومی صدر امت شاہ کو ذمہ دار ٹھہرانے لگے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ امت شاہ نے پی ایم مودی اور ادھو کے درمیان دوری پیدا کی ہے ،سنجے راوت کا موقوف شیو سینا کو ایسے موڑ کی طرف لے جاتا دکھائی دے رہا ہے جہاں سے بھاجپا کی طرف اس کی واپسی کے امکانات کم ہیں ،اب انہوںنے سیدھے طور پر امت شاہ پر کٹاس شروع کر دیا ہے ۔اپنی اینجیو پلاسٹی کروا کر اسپتال سے لوٹے راوت نے پریس کانفرنس میں پہلی بار امت شاہ پر سیدھا الزام لگایا لوک سبھا چناﺅ سے پہلے ادھو ٹھاکرے اور امت شاہ کے درمیان تنہائی میں ہوئی اتحاد کی شرطوں کو انہوںنے مودی تک نہیں پہنچایا راوت سے یہ بات شا ہ کے اس بیان کے جواب میں کہی کہ شاہ نے صاف کیا تھا کہ ڈھائی ڈھائی سال سی ایم کے عہدے پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی ،شاہ کے مطابق چناﺅ کمپین کے دوران انہوںنے اور وزیر اعظم نے سو سے زیادہ بار اتحاد کے اقتدار کے صورت میں دیوندر فڑنیوس کو ہی پھر وزیر اعلیٰ بنانے کی بات کہی تھی ،اس وقت شیو سینا نے ایک بار بھی اس کی مخالفت نہیں کی راوت نے شاہ کی اس بات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شیو سینا صدر ادھو ٹھاکرے بھی اپنی ہر ریلی میں شیو سینا کا وزیر اعلیٰ بنانے کی بات کرتے آرہے تھے ،بہر حال شیو سینا اور بھاجپا میں چل رہی سیاسی رسہ کشی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے ،ایک طرف جہاں کانگریس این سی پی ،شیو سینا ،کی سرکار بنتی دکھائی دے رہی ہے وہیں سرکار بنانے سے انکار کے بعد اب بھاجپا بھی سرکار بنانے کا دعوی کرنے لگی ہے ،ایسے میں سابق اتحادی پارٹی شیو سینا نے اپنے اخبار سامنا میں بھاجپا پر جم کر نکتہ چینی کی ہے ،اس کے ادارے میں لکھا ہے کہ ریاست میں نئے سیاسی تجزیے بنتے دکھائی دے رہے ہیں تو اس سے کئی لوگوںکے پیٹ میں درد شروع ہو گیا ہے ،پارٹی نے کہا ہے کہ کون کیسے سرکار بناتا ہے میں دیکھتا ہوں ،درپردہ طور سے اس طرح کی زبان اور حرکتیں شروع ہو گئی ہیں ،اور شراپ بھی دئے جا رہے ہیں ،کہ اگر سرکار بن بھی گئی تو کیسے اور کتنے دن ٹکے گی دیکھتے ہیں،ایسا مستقبل بھی دکھایا جا رہا ہے ،چھ مہینے سے زیادہ سرکار نہیں ٹک سکے گی ۔شیو سینا نے اپنے تلخ لہجے میں کہا کہ ہم مہاراشٹر کے مالک ہیں اور دیش کے باپ ہیں ،ایسا کسی کو لگتا ہوگا تو وہ اس ذہنیت سے باہر آئے اور ذہنی بیماری 105والوںکی صحت کے لئے خطرناک ہے ،ایسی حالت زیادہ وقت تک رہی تو ذہنی توازن بگڑ جائے گی اور پاگل پن کی طرف سفر شروع ہو جائے گا ،شیو سینا اور بھاجپا میں اتنے اختلافات ہو گئے ہیں کہ پھر ساتھ آنا ممکن تو نہیں مشکل ضرور لگتا ہے لیکن سیاست میں سب کچھ جائز ہو سکتا ہے ۔

(انل نریندر)

بھاجپا کے ہاتھ سے کہیں جھارکھنڈ بھی نہ کھسک جائے؟

جھارکھنڈ میں این ڈی اے کو بچائے رکھنے کے لئے استعمال تمام فارمولے ڈھیر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ۔اتحاد ٹوٹ چکا ہے ،بھاجپا آج سو کی راہیں الگ الگ ہو رہی ہیں لیکن دونوں ہی پارٹیاں اس پھوٹ کا ٹھیکرا اپنے سر لینے کو راضی نہیں جمعرات کو آج سو نے دھار شیلا سے کانگریس کے سابق صدر بلبومو پردیپ سمیت چھ امیدواروں کی ایک فہرست جاری کر بھاجپا کو ایک اور جھٹکا دے دیا ہے ،اِدھر آجسو سے چوٹ کھائی بھاجپا نے پلان بی پر عمل شروع کر دیا ہے ،خاص بات یہ ہے کہ سیٹیوں پر بھاجپا اپنے امیدواروں کا اعلان کر چکی ہے ۔اب دونوں پارٹیوں میں اتحاد تو با قاعدہ طور سے ختم ہو گیا ہے ،مگر دونوں اس کے اعلان سے بچ رہی ہیں ۔آج سو کی تازہ فہرست کے بعد اب کل 19سیٹوں پر پارٹی نے امیدوار اُاتا ر دیے ہیں اب بھاجپا آج سو پندرہ سیٹوں پر آمنے سامنے ہو گئی ہیں ۔ان میں تیرہ سیٹوں پر سیدھا مقابلہ ہے ،جبکہ دو سیٹوں پر دونون آزاد امیدواروں کو اپنی حمایت دی ہے ،آج سو نے حالانکہ اب تک یہ صاف نہیں کیا ہے کہ ہو کل کتنی سیٹوں پر چناﺅ لڑے گی؟مانا جا رہا ہے کہ ابھی پارٹی اور امیدواروں کی بھی فہرست جار ی کر سکتی ہے ،اُدھر جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ مدھو پوڑا کو سپریم کورٹ نے ریاستی اسمبلی چناﺅ لڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے ،2009کا لوک سبھا چناﺅ لڑنے کے خرچ کی تفصیل داخل نہ کرنے پر چناﺅ کمیشن نے 2017میں مدھو کوڑا کو 3سال کے لئے چناﺅ لڑنے سے نا اہل قرار دے دیا تھا ۔اب سپریم کورٹ نے انہیں نا اہل ٹھہرائے جانے کے فیصلے پر مہرلگا دی ہے ،ہریانہ اور مہاراشٹر میں سیٹیں کم ہونے کے بعد بھاجپا کو جھارکھنڈ بھی ہاتھ سے کھسکنے کا ڈر ستانے لگا ہے ،پارٹی کے اندرونی سروے میں سیٹیں کم ہونے کی بات ابھر کر سامنے آئیں ہیں،وزیر اعلیٰ رگھور کی شخصی ساکھ کو دو بڑے داغی نیتاﺅں کو ٹکٹ دینے اور 19سال پرانے دوست آل انڈیا اسٹوڈینٹ یونین کے ساتھ اتحاد ٹوٹنے سے پارٹی کو نقصان ہونے کا امکان ہے اس کے بعد پارٹی صدر امت شاہ نے خود کمان سنبھال لی ہے ،اور وہ اس کوشش میں ہیں کہ آجسو سے ٹوٹی بات پھر سے بن جائے ۔چناﺅ کے وقت بھاجپا اندرونی سروے کراتی ہے اسی حساب سے چناﺅ کی حکمت عملی بنتی ہے اور حالیہ ممبران اسمبلی ،وزراءکے ٹکٹ کاٹتی ہے ،اس بار چھ مہینے اور اب چناﺅ کے وقت کرائے گئے سروے میں فرق آگیا ہے ،بھاجپا کے ذرائع کے مطابق پارٹی کو 2104کے چناﺅ کے مقابلے میں کم سیٹیں مل رہی ہیں ۔پچھلی بار 81نفری اسمبلی میں بھاجپا نے 44سیٹیں اور آل انڈیا اسٹوڈینٹ یونین (آجسو )نے صرف تین سیٹیں جیتیں تھیں چناﺅ کے دوران ایک کرپٹ نیتا اور قتل کے ملزم کو ٹکٹ دینا بھاجپا کو بھاری پڑ رہا ہے ،جبکہ آجسو نے بھاجپا سے 19سیٹیں مانگی تھی ،لیکن بھاجپا دس کو تیار تھی اس سے ناراض ہو کر آجسو نے اپنے امیدوار اعلان کر دئے اور اکیلے چناﺅ لڑنے کا فیصلہ کر لیا ،امت شاہ نے منگل کے رو ز آجسو صدر سدیش مہیتو کو دہلی بلایا اور دیر رات تک بات چیت کی ذرائع کا دعوی ہے کہ مہتو دس سیٹوں پر چناﺅ لڑنے کو تیار ہو گئے ہیں ،وہیں لوگ جن شکتی پارٹی نے پچھلی مرتبہ بھاجپا کے ساتھ مل کر چناﺅ لڑا تھا ۔لیکن اس بار وہ بھاجپا سے الگ وہ گئی ہے ،ہریانہ مہاراشٹر کے بعد اگر جھارکھنڈ بھی بھاجپا کے ہاتھ سے کھسک جاتا ہے تو یہ پارٹی کے لئے بھاری دھکہ ہوگا۔

(انل نریندر)

17 نومبر 2019

کسانوں سے زائد یومیہ اجرت مزودر خودکشی میں لگے

رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی یعنی جولائی ستمبر میں جی ڈی اضافی شرح گھٹ کر 4.2فیصد پر آنے کا اندیشہ ہے ۔بھارتیہ اسٹیٹ بینک کی اقتصادی ریسرچ محکمہ کی رپورٹ نے اکنامی ریپوریٹ نے یہ اندازہ لگایا ہے ترقی شرح میں گراوٹ کے لئے بینک نے گاڑیوں کی فروخت میں کمی اور بنیادی سیکٹر میں اضافی شرح اور تعمیراتی و بنیادی سیکٹر میں سرمایہ کاری کی کمی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔آٹھ اہم سیکٹروں میں سے آٹھ سال میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ہے ۔نوٹ بندی ،جی ایس ٹی کی زیادہ مار دیہاڑی مزدوروں پر پڑی ہے سال 2016میں ریکارڈ 25164دیہاڑی مزدوروںنے خود کشی کی تھی یہ اعداد و شمار 2014سے 60فیصد زیادہ ہیں جب یومیہ اجرت والے 15737خود کشی کے معاملے درج ہوئے تھے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی حالیہ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ 2016میں کسانوں کے مقابلے دیہاڑی مزدوروں کے خود کشی کے دوگنے معاملے سامنے آئے 11379کے مقابلے میں 25164دیہاڑی مزدوروں نے خود کشی کی تھی ،حالانکہ کسان خود کشی کا 2016کا ریکارڈ 2014کے 12360معاملے سے کافی کم ہے دو سال دیر سے جاری یہ تفصیلات سامنے آئی ہیں ۔2016میں گھریلو عورتوں کی خود کشی کے معاملے 2014میں 20148سے بڑھ کر 21563ہو گئے ،دوسری بار گرہستنوں کے مقابلے دیہاڑی مزدوروں کی خود کشیاں زیادہ ریکارڈ کی گئی ہیں ۔جے این یو کے غی منظم امور کے ماہر پروفیسر انیتا رائے چودھری نے دعوی کیا ہے کہ دیہاڑی مزدوروں کی بدحالی کے لئے غیر زرعی سیکٹر کے نرماتا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں 2014اور 2015میں مسلسل دو سال سوکھا پڑنے غیر زرعی سیکٹر میں مزدوروں کی آمد بڑھ گئی اس کا سیدھا اثر نہ صرف مزدوری بلکہ کام کرنے کی آسامی پر بھی پڑا ڈاکٹر رائے چودھری کہتی ہیں کہ سماجی محنت فورس سروے ریکارڈ میں سال 2004سے 2011اور 17تک کے درمیان بھارت نے دیہاڑی مزدوروں کے اضافے پر کمی ہونے کا دعوی کیا یہ بھی دیہاڑی مزدوروں کی بڑھتی خود کشیوں کی وجہ ذمہ دار ہو سکتی ہے پھر دہلی این سی آر میں ہوائی آلودگی کی سبھی صورتحال کو دیکھتے ہوئے تعمیراتی کاموں پر پابندی لگی ہوئی ہے ۔جس وجہ سے اس سیکڑ میں استعمال ہونے والی مشینوں پر کام کرنے والے مزدوروں کے کام بند ہوگئے ۔اس سے دہلی ،غازی آباد ،نوئیڈا ،گریٹر نوئیڈا ،سونی پت گرور گرام ،فریدآباد وغیرہ شہروں میں بڑی تعداد میں مزدور بے روزگار بیٹھے ہیں ۔اور ان مزدوروں کو دیہاڑی کی تلاش نے سڑکوں پر چوراہوں پر بٹکتے دیکھا جا سکتا ہے ۔یہ لوگ دیہاڑی مزدوری کام نہ ملنے سے پریشان ہیں اور غازی آباد میں بڑی تعداد میں مزدور گھر لوٹنے لگے ہیں ۔یہ سبھی کے لئے خاص طور پر حکومتوں کے لئے تشویش کا باعث ہے ۔

(انل نریندر)

سوت نہ کپاس،جولاہے سے لٹھم لٹھا!

سوت نہ کپاس ،جولاہے سے لٹھم لٹھا کی کہاوت ایودھیا میں رام مندر ٹرسٹ کے سلسلے میں صحیح نظر آتی ہے ،کیونکہ ابھی مشکل سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سات آٹھ دن بھی نہیں گزرے کہ ابھی سے رام مندر ٹرسٹ میں جگہ پانے کے لئے سنتوں میں جھگڑا چھڑ گیا ہے ۔مرکزی حکومت جہاں عدالت کے حکم پر ٹرسٹ کو لے کر ابھی غور و فکر میں لگی ہے وہیں ایودھیا میں سنتوں کے درمیان نیا واویلا کھڑا ہو گیا ہے ۔اس واویلے کی بنیاد رام جنم بھومی نیاس کے صدر مہنت نرتیہ گوپال داس کی طرف سے دیا گیا بیان آیا ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ نئے ٹرسٹ کی ضرورت نہیں ہے پہلے سے ہی پرانا ٹرسٹ بنا ہوا ہے ۔جس میں کچھ لوگوں کو شامل کر کے معاملے کو آگے بڑھایا جائے ان کے اس بیان کے برخلاف وشو ہندو پریشد لیڈر شپ نے یہ کہہ کر معاملے میں پینچ پھنسا دیا کہ رام جنم بھومی نیاس کی پراپرٹی رام مندر تعمیر کے لئے تشکیل ہونے والے ٹرسٹ کو سونپی جائے گی وی ایچ پی نے یہ مانگ بھی رکھ دی ہے کہ اسے یا نیاس کے عہدیداران کو ٹرسٹ میں جگہ ملے یا نہ ملے رام مندر تحریک میں اہم رول نبھانے والے دھرماچاریوں کو ترجیح ضرور دی جائے ۔اس درمیان اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ہی ٹرسٹ کا چیر مین بنانے کی مانگ زور پکڑنے لگی ہے ۔اسی کے چلتے خود ساختہ صدر کا خواب سجانے والے سنتوں کی بے چینی بڑھ گئی ہے انہیں میں ایک سابق ایم پی مہنت ڈاکٹر رام ولاس داس ویدانتی بھی شامل ہیں ۔ویدانتی نے تپسوی چھاونی کے جانشین کے چہیتے پرم ہنس داس کو فون کر کے ان سے ٹرسٹ کے لئے ان کا نام تجویز کرنے کو کہا ہے اس بات چیت کا آڈیو وائرل ہو چکا ہے ۔اس میں پرم ہنس داس نے خود کہا کہ صدر کو کئی نازیب باتیں کہیں گئی ہیں ۔آڈیو کو ایک پرائیوٹ ٹی وی چینل نے دکھا بھی دیا ہے اُدھر ایودھیا میں رام مندر تعمیر کو لے کر بھوک ہڑتال کرنے والے تپسوی چھاونی کے جانشین مہنت پرم ہنس داس پر شری رام جنم بھومی نیاس کے پردھان مہنت نرتیہ گوپال داس کے سادھوں نے جمعرات کو حملہ کر دیا ۔اپنے آشرم کے کمرے میںچھپے ہونے کی وجہ سے وہ بچ گئے لیکن ناراض سادھوں نے ان کا گھر گھیر لیا اور کھڑکی دروازے توڑنے کی کوشش کی اس دوران موجود پولس افسران نے ناراض سادھوں کو سمجھا بجھا کر دور ہٹایا ،اور پرم ہنس داس کو گھر سے محفوظ باہر نکالا اور دوسری جگہ لے گئے ۔واضح ہو کہ ایک دن پہلے ہی پرائیوٹ نیوز چینل پر پرم ہنس داس نے مہنت نرتیہ گوپال داس پر نازیب تبصرہ کیا تھا ۔اس کے چلتے ان کے وفاداروں میں خاصی ناراضگی تھی پولس کی لاپرواہی سے ان کا غصہ بھڑک گیا ،اِدھر واردات کی جانکاری ملنے کے بعد سی او ایودھیا سریش پانڈے بھاری پولس کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے ،پرم ہنس داس کے گھر سے باہر نکلتے ہی ناراض سادھو لاٹھیاں لے کر پرم ہنس داس کے پیچھے دوڑے اور پولس کی بریگیٹنگ نہیں توڑ سکے جیسا کہ میں نے کہا کہ سوت نہ کپاس جولاہے سے لٹھم لٹھا ہے کہ نہیں ؟ابھی ٹرسٹ بنا نہیں اس میں بالا دستی کے لئے جنگ چھڑ گئی ہے۔

(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...