Translater
11 دسمبر 2021
جانبازکو آخری سیلوٹ !
تامل ناڈو کے کنور علاقے میں ہیلی کاپٹر حادثہ نہ صرف حیران کن بلکہ سنگین تشویش کا موضوع بھی ہے اس ہیلی کاپٹر میں سی ڈی ایس جنرل وپن راوت ، و ان کی اہلیہ و ان کی سیکورٹی میں طعینات دیگر افسر سفر کرر ہے تھے ۔ پالیٹ ٹیم سمیت کچھ چودہ لوگ ان کے اس میں سوار تھے جنرل راوت کنوڑ کی ڈیفنس اکیڈمی میں لکچر دینے جا رہے تھے دہلی سے سلور تک ایئر فورس کے جہاز سے گئے اور وہاں سے ہیلی کاپٹر نے ولینٹن اکیڈمی کے لئے اڑان بھری تھی ۔ بیچ راستے میں ہیلی کاپٹر پر اصرار ڈھنگ سے تباہ ہو گیا خراب موسم اس کی وجہ بتائی جا رہی ہے لیکن اس کے اصل اسباب کا تبھی پتہ چلے گا اگر منصفانہ طور سے جانچ ہو ۔ فطری طور پر سوال اٹھ رہے ہیں کہ ایم آئی سریز کا انتہائی جدید ہیلی کاپٹر آخر حادثے کا شکار کیسے ہو گیا سینا کے اس فوج ہیلی کاپٹر کو بہت بھروسے مند مانتی ہے اس میں ایک نہیں دو انجن ہو تے ہیں نا گزیں حالات میں ایک انجن میں خرابی آنے کے بعد دوسرا انجن خود بخود کام کرنا شروع کر دیتا ہے اس طرح سے اس کے حادثے کا شکار ہونے کا امکان کم رہتا ہے اس کے علاوہ اس میں جدیدترین سازو سامان لگے ہیں جن کے ذریعے بہت ساری اطلاعات ایک دم دی جا سکتی ہیں ۔ خراب موسم ، برف باری وغیرہ میں یہ ہیلی کاپٹر اپنی کوالٹی کے حساب سے اڑان بھر اور اتر سکتا ہے ۔ بتاتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف سریجیکل اسٹرائیک میں بھی فوج نے اسی سریز کے ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا تھا جن کے ذریعے پاکستان سر حد میں ساٹھ فوجیوں کو اتار گیا تھا یہ اونچائی والے جگہوں پر بھی آسانی سے اڑان بھر سکتا ہے ۔ جنرل راوت اور دیگر کو لے جا رہا یہ ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار کیوں ہوا؟یہ سوال بڑے گلیاروں سے لے کر عام جنتا کے بیچ گھو م رہا ہے سبھی جانتے ہیں کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ سب سے بڑھیاں مانے جانے والے ہیلی کاپٹر میں دیش کے سب سے بڑے فوجی افسر اور باردہ دیگر افسران کے لئے یہ قیامت کا قہر ثابت ہو گیا یہ ہر جگہ یہی تذکرہ جاری ہے ۔ کہ انتہائی جدید ترین اور وسائل میں سب سے زیادہ محفوظ ایم آئی 17وی5جیسا ہیلی کاپٹر ایک جھٹکے میں تباہ کیسے ہو گیا مانا جا رہا ہے کہ اس کی صحیح وجہ جانچ مکمل ہو نے کے بعد ہی سامنے آ پائے گی ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس موقع سے بر آمد ہو گیا اور انسانی باقیات کی باریکی سے جانچ کی علاوہ ہیلی کاپٹر اور کنٹرول ٹاور کے درمیان ہوئے کمیونیکشن کی چھان بین بھی کی جائے گی فی الحال تامل ناڈو کے اس علاقے میں خراب رہنے والے موسم کو بھی ایک وجہ مانا جا رہا ہے لیکن کیا خراب موسم کی وجہ سے ہیلی کاپٹر میں کوئی تکنیکی خرابی آئی ؟کیا اس بارے میں کنٹرول روم کے ساتھ کوئی بات چیت ہو پائی؟ یہ جانچ بھی ہو نی چاہئے اس حادثے کا موازنہ کریں تو ماہرین اور شوشل میڈیا یوزرس تائیوان کے چین مخالف فوج کے چیف کے حادثے سے کر رہے ہیں جنوری 2020میں تائیوان کے فوج کی چیف کی اس وقت ہیلی کاپٹر حادثے میں مو ت ہو گئی تھی جب پورہ دیش نئے صدر کے لئے ووٹ دینے والا تھا اس خوفناک حادثے میں لیفٹیننٹ سین شن اور ساتھ دیگر سینئر افسران کی مو ت ہوگئی تھی ۔ شنگ بھی تائیپے کے علاقے میں ہیلی کاپٹر گر گیا تھا اس ہیلی کاپٹر کو جنرل راوت کی طرح کی سے تائیوانی فوج کے چیف کافی تجربے کے تحت مگ جہاز کو اڑا کر دیش کے مشرقی صوبے ملان کاو¿نٹی جا رہے تھے کہ اسی دوران راستے میں ان کے جہا ز کا بھی حادثہ ہو گیا ۔ جنرل راوت ہیلی کاپٹر تباہ ہونے کے بعد بھی زندہ تھے اور ان کی باڈی کو کافی مشقت کے بعد نکالے جانے پر انہوں نے ہندی میں اپنا نام بتایا تھا یہ جانکاری بچاو¿ ٹیم کے ایک ممبر نے دی تھی بھلے ہی کچھ بھی رہی ہو یہ بہت بڑی ٹریجڈی ہے دیش نے ایک جانباز فوجی کو کھو دیا ہے جنرل راوت کی کوششوں کو یہ دیش ہمیشہ یا درکھے گا۔
(انل نریندر)
10 دسمبر 2021
دیش میں 13اکھاڑے ،کروڑوں کی جائداد !
اکھاڑے کا مطلب سادھوو¿ں کا ایک ایسا دل جو استر اور شا ستر ودیا میں رنگا ہو تا ہے ۔ یہ روا یت ہزا روں برس سے چلی آئی ہے۔ روایت ہے کہ ہندو دھرم کی حفاظت کیلئے آدی گورو شنکر آچاریہ نے ہی پہلا اکھاڑا بنا کر سادھوو¿ں کو شاستر کلا کی شکشا دی تھی ۔ حال میں تسلیم شدہ 13اکھا ڑے ہیں یہ الگ الگ مت کو اپنا تے ہیں شیو مت ،ویشنو مت اور اداسین پنت ،زیا دہ تر اکھاڑوں کی بنیا د یو پی ،اتراکھنڈ اور گجرات میں ہے ۔ رپو رٹ کے مطا بق 2019میں کننر اکھاڑے کو بھی سرکاری منظور ی ملی تھی ۔ ایسے میں دیش میں خا ص طور پر 14اکھا ڑے کہے جا سکتے ہیں ۔ کئی بر س پرا نے ہونے کے سبب زیادہ تر اکھا ڑوں کے پاس کافی زمین ہیں کئی سارے اکھاڑے ہیں جو مندروں کو بھی چلاتے ہیں مندروں میں آنے والا چندا کروڑوں میں پہونچ جاتا ہے اس کے علا وہ اکھاڑے کو لاکھوں لو گ مانتے ہیں اسی وجہ سے ان کی سیا سی رسوخ بھی ہوتے ہیں جس وجہ سے دھرم گوروو¿ں کے پاس نیتا و¿ں کا آنا جانا لگا رہتا ہے ۔پروچن اور بھجن کرنے والے سنت ہو ں یا کوئی اور ان کے لاکھوں کروڑوں ماننے والے ہونے سبب پارٹیا ں ان اکھاڑوں سے اچھے تعلق بنا کر رکھتی ہیں ۔کمبھ ہو یا اردھ کمبھ جیسے دھارمک پروگراموں کے موقع پر سبھی ماننے والے اکھاڑوں میں حصہ لیتے ہیں ایسے دھارمک پروگراموں میں سادھو سنتوں کے ٹکراو¿ کے بڑھتے واقعا ت کو روکنے کیلئے اکھا ڑہ پریشد قائم کی اور اس کے اتفا ق رائے پر دھان چنا جاتا ہے ۔ مہنت نریندر گیر ی دو بار اکھاڑہ کونسل کے صدر رہے ہیں ۔
(انل نریندر)
اتر پر دیش میںچناوی ماحول گرمایا !
وزیر اعظم نریند ر مودی کے گورکھپور دورے اور سماجوادی پارٹی صدر اکھلیش یادو ،اور آر ایل ڈی کے چیف جینت چو دھری کی میرٹھ میں ریلی سے منگل کے روز یو پی کا سیا سی ماحول گرمایا گیا وزیر اعظم نے بغیر نام لئے سپا پر تلخ نکتہ چینی کی اور بولے اپنی تیجو ری بھر نے اور دہشت گردوں پر مہر بانی دکھا نے والے ریا ست کیلئے خطرے کی گھنٹی ہیں ۔ وزیر اعظم نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ لال ٹوپی والے ریڈ الرٹ ہیں انہیں صر ف لال بتی کیلئے اقتدار چاہیے انہوں نے آگے کہا کہ آج پورا یو پی جانتا ہے لال ٹو پی والوں کو صر ف لا ل بتی سے ہی مطلب رہا ہے۔ انہیں مافیا و¿ں کو چھو ٹ دینے کیلئے ،زمین قبضہ کر نے کیلئے اور دہشت گردوں جیل سے چھڑا نے کیلئے سرکار چاہیے ۔اپو زیشن پر بھی انہوں نے کہا کہ سب جانتے تھے کہ گو رکھپور کو یو ریا کارخا نے اور ایمس کی کتنی ضرور ت تھی اور آئی سی ایم آر کا زونل میڈیکل ریسرچ سینٹر کو قوم کو وقف کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پہلے کی حکومتوں نے کسانوں کے ساتھ چھل کیا کسان نہیں بھول سکتے کیسے ان کو پیسہ ادائیگی کیلئے رلا دیا گیا پیسہ قسطوں میں ملتا تھا اور پیسہ ملنے میں مہینو ں لگ جاتے تھے جب پیسوں کی مانگ کرتے تو انہیں لاٹھی گولی کھا نی پڑ تی تھی ۔ اب ڈبل انجن کی سرکا ر ہوتی ہے تو دوگنی تیزی سے کام ہو تا ہے قدرتی آفات بھی زیا دہ نقصان نہیں کر پاتی وہیں یو پی اسمبلی چنا و¿2022کیلئے اتحا دکے با قاعدہ اعلان کے بعد پہلی پریورتن سندیش ریلی میں ایس پی چیف اکھلیش یادو اور آر ایل ڈی کے چیف جینت چو دھری نے بھا جپا پر نکتہ چینی کی اور اکھلیش یا دو نے کہا کہ لال ٹو پی ہی بی جے پی کو یو پی کے اقتدا ر سے با ہر کرئے گی ۔ کسا نو ں کو حق ملے اور ایم ایس پی کیلئے جلد فیصلہ ہو بی جے پی کسانوں کے حق میں فیصلہ نہیں کر نا چاہتی اتحا د کسانوں کو ان کا حق دلا ئے گا ۔ انہوں نے الزام لگا یا کہ بی جے پی کے وزیر اور اس کے حمایتوں نے کسانوں کو گاڑی سے کچل دیا ،ہوائی اڈے بیچ دئے ریلوے اسٹیشن بیچ دئے انہوں نے سوال کیا کہ ہوائی چپل والے کو ہوائی جہا ز میں بٹھا نے کا کیا ہو ا آج تو موٹر سائیکل پر چلنا بھی بھار ی ہو گیا جینت چودھری نے الزام لگا یا کہ کسانوں پر حملہ ہوا لیکن بی جے پی میں رہ کر سیا ست کر نے والا چھو ٹے سے بڑے ورکر نے ایک لفظ بھی کسانوں کے حق میں نہیں کہا اب چنا و¿ قریب آتے ہی بی جے پی کو کسا نوں کی یا دآگئی جب جب بھی کوئی چنو تی آئی ہے میرٹھ کے بیٹے بیٹیوں نے آگے آکر مقا بلہ کیا جہاں ریلی ہے اسی گاوو¿ں کے ویر مانچند شر ما جی بھا رت پاکستان کی جنگ میں شہید ہو گئے تھے انہوں نے الزام لگا یا کہ بی جے پی ایک نکا تی پر وگرا م نفرت کی بات کر نا ہے ہماری سرکار بنے گی تو ہم پہلا کام میرٹھ میں شہید کسانوں کی یاد میں ایک یا دگار بنائیں گے ساتھ ہی چو دھری چرن سنگھ کی جینتی 23دسمبر کو علی گڑھ کے ایک میدان میں متحد ہونے کی دعوت دے گئے ہیں ابھی بے شک چنا و¿ میں تھوڑا وقت ہے لیکن سیا سی تجزیے شروع ہو گئے ہیں اور ساتھ ہی تلخ حملے جاری ہیں سیا سی ریلیوں سے چناوی ما حول ضرور گرما گیا ہے ۔
(انل نریندر)
09 دسمبر 2021
پاکستان میںسری لنکائی شہری کا پیٹ پیٹ کر قتل !
سری لنکا کی پارلیمنٹ اور وزیر اعظم مہیندر راج پکچھ نے پاکستان میں سری لنکائی شہری کو پیٹ پیٹ کر مار دیئے جانے کے واقعے پر مذمت کی ہے اور امید جتائی ہے کہ وہاں کے وزیر اعظم متاثر ہ کے خاندان کو انصاف دلانے کے لئے قصو ر واروں کوقانون کے شکنجے تک پہونچائیں گے اور باقی مقیم سری لنکائی شرہیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا اپنے عزم کو بنائے رکھیں گے سنیچر کو ایک بے رحمانہ واقعے میں کٹر پسند اسلامی پارٹی کے حمایتوں نے ایک سری لنکائی شہری تریلا کمارا دیوا وندنا کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کے بعد لاش کو جلا دیا تھا ان لوگوں نے توہین اسلامات کے الزامات کو لیکر پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ایک کپڑہ کار خانے پر حملہ کیا تھا وہاں سری لنکا کی باشندہ دیو وندنا لاہور کے قریب ہی سیال کوٹ ضلعے میں کپڑا کار خانے میں جنرل مینیجر کے طور پر کام کر تے تھے ۔ سری لنکائی سرکار اور اپوزیشن متحد ہو کر سری لنکائی حکام سے پاکستان میں سری لنکا کے باقی ورکروں کی حفاظت یقینی کرنے کے لئے اسلام آباد کے ساتھ بات چیت کرنے کی درخواست کر رہے تھے وزیر اعظم راج پکچھ نے ٹویٹ کیا پاکستان میں شدت پسند کے ذریعے پرینکا دیو وندنا پر بے رحمانہ اور خطرناک حملے کو دیکھ کر میں حیران ہوں میرا دل اور ان کی بیوی اور گھر والوں کو دل بیٹھا جا رہا ہے سری لنکا اور یہاں کے شہریوں کو یہ بھروسہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سبھی قصو ر واروں کو سزا دلانے کے لئے اپنے عہد پر عمل کریں گے ۔ خان نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ سیال کوٹ میں ایک کارخانے پر زبردست حملہ اور سری لنکائی شہرائی منتظم کو زندہ جلانے پاکستان کے لئے شرم کا دن ہے میں جانچ کی نگرانی کر رہا ہوں اور کوئی غلطی نہیں ہوگی قصو واروں کو قانونی طور پر سزا دی جائے گی اور حملوں میں شامل ملزمان کی گرفتاریاں کی گئی ہیں وہیں پاکستانی صدر عارف علوی نے ٹویٹ کیا سیال کوٹ میں جو واردات ہوئی ہے وہ بہت تکلیف دہ اور شرمناک ہے اور کسی بھی طرح سے یہ مذہبی نہیں ہے اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے موبلانچنگ کے بجائے نظریات انصاف کی مثالیں پیش کی ہیں وزیر تعلیم دنیش گنوردھن نے پارلیمنٹ کو بتایا ہمیں خوشی ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اس حرکت پر سخت مذمت کی ہے اور پارلیمنٹ کو بتایا گیا ہے کہ پوری تفصیل دی گئی ہے کہ اس معاملے میں تحریک لبیک پاکستان کے ورکروں کی کرتوت شامل ہے ۔
(انل نریندر)
عرش سے فرش تک ریلائنس کیپٹل کی کہانی !
قرض میں ڈوبے ہوئے صنعت کار انل امبانی کی مشکلیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں ریزروبینک آف انڈیا نے قدم اٹھاتے ہوئے ریلائنس کیپٹل کے بورڈ کو بھنگ کر کے بینک آف مہاراشٹر کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر نوگیشور رائے کو ایڈمنسیٹریٹر مقرر کر دیا ہے آخر وجہ کیا رہی ہے کہ 2007میں 3.87روپئے فی شیئر کے اونچی سطح پر پہونچنے والی کمپنی کے شیئر 2021آتے آتے صرف 1905روپئے ہی رہ گئے ستمبر تک چالیس ہزار کروڑ روپئے کا قرض ریلائنس کیپیٹل پر چڑھا ہوا ہے ۔ ریلائنس کیپٹل نے 27نومبر اسٹاک ایکسچنز کو جانکاری دی کی وہ ایکسیس بینک اور ایچ ڈی ایف سی کے 624کروڑ روپئے کے لون کے بیاض دینے میں لا چار ہے یہ بیاض اسے 31اکتوبر تک دینا تھا ایچ ڈی ایف سی کا 4.73کروڑ روپئے اور ایکسس بینک کا 71لاکھ روپئے کا بیاض دینا تھا ریلائنس کیپیٹل پر 28فروری 2021کو کمپنی پر کل بقایہ 20,643 کروڑروپئے کا تھا قابل ذکر ہے انل امبانی کی مالیاتی کمپنی ریلائنس کیپیٹل اچھی پر فارمینس کر تی رہی لیکن بعد میں اسے کمپنی نے کئی موقع پر گھاٹا اٹھایا ہے وہیں بیاض دن بدن بڑھا شری رام کیپیٹل جیسی کمپنیاں اچھا کرتی چلی آرہی ہیں نقدی کی قلت کے سبب انل امبانی کی کئی کمپنیاں دیوالہ کاروائی کا سامنہ کر رہی ہیں اس وجہ کئی کمپنیاں بک بھی گئی ہیں ریلائنس کیپیٹل کے تحت چار کمپنیوں کی پراپرٹی بیچنے کا کام چل رہا ہے ۔ آر بی آئی نے قرض میں ڈوبی ریلائنس کیپیٹل لمیٹیڈ کے خلاف دیوالیہ کاروائی شروع کرنے کے لئے نیشنل کمپنی لیگل اتھاڑتی سے منظوری مانگی ہے آر بی آئی نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے این سی ایل ٹی کی ممبئی عدالت کے بنچ کے سامنے دیوالیہ مقدمہ شروع کرنے کا حکم دیا ہے اس میں آر بی آئی نے آر سی ایل کے خلاف قرض ادائیگی اور و دیوالیہ سمیت کئی دفعات کے تحت کاروائی شروع کرنے کی منظوری مانگی ہے ۔ آر بی آئی نے گزشتہ 29نومبر کو ہی اس کمپنی کے ڈائریکٹر منڈل کو برخاست کرتے ہوئے اپنی طرف سے ایک ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا تھا انل امبانی کی قیادت والی آر سی ایل قرض ادائیگی میں چوک اور کمپنی چلانے سے متعلق کئی سنگین الزام ہیں ریلائنس کیپیٹل پر مقدمہ چلانے کے بعد انترم روک لگ جائے گی اس میں قرض دار کمپنی اپنے کسی بھی پراپرٹی کو بیچنے یا اسے اپنے نام نہیں کر پائے گی یہ ہے عرش سے فرش تک گھرنے کی انل امبانی کی کہانی ۔
(انل نریندر)
روس اور بھارت رشتے وقت کی کسوٹی پر کھرے اترے ہیں !
ویزر اعظم نریندر مودی اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان پیر کو 21ویں ہند روس سالانہ چوٹی ملاقات ہوئی دنیا بھر میں کورونا وائرس کے نئے ویریئنٹ اومیکرون کے دستک کے بعد بھی روسی صدر ولا دیمیر پوتن کا بھارت آنا اس لئے اہم ہے کیونکہ پچھلے دو برسوں میں انہوں نے صرف دو بار ہی بیرونی دورہ کیا ہے پوتن بھلے ہی کچھ گھنٹوں کے لئے بھارت آئے مگر ان کا دورہ دونوں ملکوں کے رشتوں کی مضبوطی اور مسلسل دلچسپی کو نشان دہی کرتا ہے ۔ پوتن کے دورہ بھارت ایسے وقت میں ہوا ہے جب ہند بحر الکاہل خطے میں کشیدگی بڑھی ہوئی ہے اور افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد سے شک و شبہات کا ماحول بنا ہوا ہے حالانکہ ان کا یہ دورہ بہت مختصر رہا لیکن اس کی اہمیت اس لئے بڑھ جاتی ہے کہ اسی موقع پر دونوں ملکوں کے وزراءخارجہ و وزراءدفعہ سطح پر بھی بات چیت ہوئی ہے دونوں ملکوں کے درمیان یہ عزم ان قیاس آرئیوں کو بے بنیاد ثابت کرنے والا ہے کہ بھارت امریکہ کی طرف کچھ زیادہ ہی جھک رہا ہے اور اسی سلسلے میں روس کو نظر انداز کر رہا ہے چین اپنی فروغ وادی پالیسیوں کو مسلسل انظام دے رہا ہے پچھلے کچھ دہائیوں میں کئی بنیادی باتوں میں تبدیلی آئی ہے نئے تجزیہ سامنے آئے ہیں تمام تبدیلیوں کے درمیان بھارت روس کے دوستی قائم رہی ہے دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کی مدد کی ہے ایک دوسرے کی حساسیت کا بھی خیال رکھا ہے وہیںپوتن نے بھارت کو بڑی طاقت اور وقت کی کسوٹی پر پر کھا ہے اور دوست بتایا ہے انہوں نے دہشت گردی اور نسیلی دواو¿ں کی اسمگلنگ اور منظم جرائم کو دونوں ملکوں کے لئے مشترکہ چیلینج بتایا۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاب روف نے کہا کہ بھارت نے ایس 400میزائل سسٹم کی ڈیل کو پورہ کر کے امریکہ کو مضبوطی سے جواب دیا ہے وہ ایک خود مختار ملک ہے اور فیصلہ لے سکتا ہے اس کو کس سے ہتھیار خریدنے ہیں امریکہ نے سودے کو لیکر پابندی تک کی وارننگ دے دی تھی ان سب کے درمیان دونوں ملکوں کے رشتوں میں پیر کے روز ایک نیا باب جڑ گیا ہے جب دونوں دیشوں کے وزراءخارجہ اور ڈیفنس وزراءنے بات چیت شروع ہوگئی اس سے پہلے بھارت کا ایسا رشتہ امریکہ جاپان اور اسٹریلیا جیسے ملکوں کے ساتھ ہی رہا ہے حقیقت یہ ہے کھلائی سائنس کے ساتھ ہی ڈیفنس معاملوں میں بھارت اور روس کے رشتے بے حد بھروسے مند رہے ہیں اس کا ثبوت پیر کو جدید ترین اسالٹ رائفل اے کے ۔ 203کی خرید کے لئے ہوئے سمجھوتے سے بھی ملتا ہے ۔ سمجھوتے کے تحت ان رائفلوں کو اپنی فیکٹریوں میں بنانے کے لئے روسی مدد سے پروڈیکشن ہوگا بھارت نے پہلے ہی روس سے لمبی دوری کے زمین سے ہوا میں مار کرنے والے ایئر ڈیفنس سسٹم ایس 400-کی خرید کے لئے معاہدہ کیا ہے جس کی سپلائی بھی شرو ع ہو چکی ہے اس سودے نے امریکہ کو بے چین کر دیا ہے لیکن روس اور بھارت کے باہمی رشتے وقت کی کسوٹی پر کھرے اترے ہیں جس میں پوتن کا دورہ سے اور مضبوطی ملی ہے یہ صحیح ہے کہ روس کی چین سے بھی قربت ہے لیکن امید کی جاتی ہے کہ ہندوستانی قیادت روسی صدر کے ذریعے سے اسے صحیح پیغام دینے میں کامیاب ہوگا۔
(انل نریندر)
08 دسمبر 2021
ریزیڈینٹ ڈاکٹرس کی ہڑتال !
کورونا کا نیا ویرینٹ اومیکرون دیش میں دستک دے چکا ہے اس پر دیش بھر کے ریزیڈینٹ ڈاکٹر سنیچر وار سے ہڑتال پر ہیں نیٹ پی جی کاو¿نسلنگ میں ہو رہی دیری کے خلاف یہ ہڑتال جاری ہے لیکن 27نومبر سے جاری ہڑتالی ڈاکٹر وزارت صحت کی یقینی دہانی کے بعد کام پر لوٹ آئے تھے لیکن ابھی بھی اسپتالوں میں او پی ڈی بند ہے جونیئر ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی مانگیں نہیں پوری ہوتی ہیں تو وہ بھی ہڑتال پر چلے جائیں گے دہلی کے صفدر جنگ اور جی ٹی بی اسپتالوں میں مریض پریشانی کا سامنہ کر رہے ہیں یہاں آج ریزیڈینٹ ڈاکٹروں نے او پی ڈی کے ساتھ ساتھ ایمرجنسی ڈیوٹی کا بھی بائیکاٹ کیا بہر حال ابھی پتہ نہیں لگ سکتا ہے کہ ہڑتال جاری ہے یا ختم ہوگیا وہیں ڈاکٹروں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم فورڈ کا کہنا ہے کہ دیش میں ڈاکٹروں کی کمی ہے جو ریزیڈینٹ ڈاکٹر ہیں ان پر کام کا بوجھ ہے اور اسپتال ان کے سہارے چل رہا ہے اس سے فیزیکل اور دماغی طور پر دکت پیدا ہوتی ہے اور لیکن نئے ڈاکٹروں کی بھرتی نہیں ہو رہی ہے نیٹ کاونسلنگ کا راستہ ہے جس سے ڈاکٹروں کی بھرتی آسان ہو جا تی ہے لیکن ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا تھا کہ جب تک نیٹ کاو¿نسلنگ پر فیصلہ نہیں ہوتا ریزیڈنٹ ڈاکٹر ہڑ تال پر رہے ہیں لیکن ابھی تک سرکار کی طرف سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ایسے وقت جب ہیلتھ سر وسیز میں اور خدمات پر بھاری دباو¿ پڑ رہا ہے اور اب اومیکرون کے دیش میں کئی معاملے سامنے آچکے ہیں ریزیڈنٹ ڈاکٹرس کا ہڑتال پر رہنا ٹھیک نہیں ہے سرکار کو فوراً اس معاملے میں جلد فیصلہ کرنا چاہئے ۔
(انل نریندر)
ڈرگ اسمگلنگ اور ڈارک نیٹ !
ناجائز ڈرگ کارو بار کے معاملے میں ڈارک نیٹ کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے سیکورٹی ایجنسیوں کو دھڑلے سے کیونکہ پکڑ بننے کے لئے زیادہ تر معاملوں میں اسمگلنگ کا اس کا استعمال ہو رہا ہے ایجنسیاں مافیہ گروپوں کی حکمت عملی کو دھیان میں رکھتے ہوئے اس طرح کے سافٹ ویئر اور تکنیکی اسپشیلٹی پر زور دے رہی ہیں جس سے اس چکرویو کا پتہ لگانے مین کامیابی ملے بھارت امریکہ سنگا پور سمیت مختلف دیشوں کے ڈارک نیٹ کے ذریعے نا جائز کاروبار پر کاروائی کرنے کا چلن بڑھ رہا ہے وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈرگ اسمگلر ڈارک نیٹ کے ذریعے کرپٹو کرنسی کا استعمال کر کے اپنا نا جائز کاروبار کر رہے ہیں سرکار کرپٹو کرنسی کے لئے مجوزہ نئے قوانین میں اس تشیوش کو شامل کر رہی ہے سیکورٹی ایجنسیاں بھی ٹریننگ پر دھیان دے رہی ہیں جس سے اس ٹول کو سمجھ کر ایسے جرائم پر نکیل کی حکمت عملی کے تحت دیگر ایجنسیاں قائم کی جا سکیں نا جائز ڈر گ نیٹ ورک سے جڑے جرائم پیشہ افراد ایسے سافٹ ویئر کا استعمال انٹر نٹ کے تحت کرتے ہیں جسے پکڑنا تیسرے فریق کے لئے استعمال نہیں ہوتا نئے سافٹ ویئر کے ذریعے ایجنسیوں کی پکڑ سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے ذرائع نے بتایا کہ آتنکی گروپ ان طریقوں کے ذریعے سیکورٹی فورسیز کے سامنے چنوتی پیش کر تے ہیں لہذ ا کاروبار اور آتنک کے نیٹورک پر نکیل کسنے کے لئے دہشت گرد انسداد ایجنسیاں بھی اس طرح کے معاملے کی چھان بین کر کے نئی حکمت عملی بنانے میں لگی ہیں مرکزی سرکار نے نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے دائرے اختیار کو بھی مضبوط کرنے والا قدم اٹھاتے ہوئے سبھی ریاستوں کو ہدایت جاری کر نشیلی چیزوں سے جڑے چار پانچ اہم معاملے این سی بی کو سونپنے کے لئے کہا ہے جمعرا ت کو جاری ہدایت میں پانچ ستمبر تک ایسے کرنے کو کہا گیا ہے ذرائع کے مطابق مرکز نے سبھی چیف سکریٹریوں اور سبھی ریاستوں کی پولس کے ڈائریکٹر جنرل کو خط بھیجا ہے جس میں ان سے نشیلی چیزوں سے وابسطہ امول کو ایجنسی کے ساتھ شیئر کریں اڈانی مدرا بندرگاہ سے تقریباً تین ہزار کلو گرام ہیروئن اور ممبئی کروز ڈرگ معاملے کا پردہ فاش ہونے کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ۔
(انل نریندر)
آسام رائفلس کی بھاری چوک !
نا گالینڈ کے ووٹنگ کے تریو علاقے میں سنیچر کی شام چار بجے آسام رائفلس کے جوانوں کی فائرنگ کے واقعے میں اب تک 17لوگوں کی جان جا چکی ہے اس میں ایک فوج کا جوان بھی شامل ہے ہم جانچ کر رہے ہیں یہ کہنا غلط پہچان کی وجہ سے ہوا یا کوئی اور وجہ ہے وہیں ناراض دیہاتیوں نے اتوار کو آسام رائفلس کے کیمپ پر حملہ بول دیا جوابی کاروائی میں تین اور شہریوں کی مو ت ہوگئی اور حملے میں فوج کا ایک جوان بری طرح زخمی ہو گیا تھا جس نے بعد میں دم توڑ دیا ادھر ، آسام رائفلس کے افسر کہتے ہیں کہ ہم انتہا پسند سر گرمیوں کو لیکر خفیہ اطلاع ملی تھی اسی بنیاد پر اسپیشل آپریشن کا پلان بنایا تھا مگر جو واقعہ ہوا اور اس کے بعد جو دنگا بڑھکا اسے لیکر بہت دکھ ہے معاملے کی اعلیٰ سپہی جانچ کی جا رہی ہے مارے گئے سبھی شہریوں کا پیر کی صبح انتم سنسکار کر دیا گیا اطلاع کے مطابق یہ واردات سنیچر کو میانمار سے لگے مون ضلع کے تری اور موٹنگ گاو¿ں کے درمیان ہوا جب گھات لگا کر بیٹھے آسام رائفلس کے جوانوں نے ایک کوئلہ کھدان میں مزدوروں کو واپس ان کے گاو¿ں لے جا رہے تھے تو ایک گاڑی پر فائرنگ کر دی گئی جس میں 13لوگوں کی مو ت ہوگئی اور کئی زخمی ہوگئے بلا شبہ سرحدی ریاستوں میں انتہا پسند تنظیموں کے سبب سیکورٹی فورسیز کو چوکس ہو کر کام کرنا پڑتا ہے لیکن اس سب کے درمیان ایک بڑا سوال ہمیشہ بنا رہتا ہے کہ ان کے آپریشن کے سبب مقامی لوگوں کو نقصان نہ ہو پھر یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں اسپیشل مصلح اختیار ایکٹ جیسے قانون کے سبب سیکورٹی فورسیز کو زیادہ اختیار بھی ملے ہوئے جن کے بیجا استعمال کی شکایت ملتی رہتی ہے ۔ نا گالینڈ کے مقامی لوگ اکثر سیکورٹی فورسیز پر باغی گروپووں کے خلاف اپنی انتہا پسند مخالف کاروائیوں میں انہیں غلط طریقے سے نشانہ بنانے کا الزام لگتے رہے ہیں ویسے نارتھ ایسٹ میں 2008-9کے بعد تشدد میں کمی آئی ہے مگر ان ایس سی این جیسے کوئی علیحدی پسند اب بھی سرگرم ہیں چونکہ نا گا لینڈ پہلے سے ہی سورش زدہ علاقہ ڈکلیئر ہے اس لئے یہ یقینی کیا جا نا چاہئے کہ اس واقعے کے بعد بد امنی و عدم استحکام پھیلانے والے عناصر بے لگام نہ ہونے پائیں ایسے عناصر کے ساتھ ان نیتاو¿ں سے بھی خبردار رہنا ہوگا جو اس واقعے کو لیکر سیاسی روٹیاں سینکنے کی کوشش میں لگی ہیں ۔ یہ پہلی بار نہیں جب سیکورٹی فورسیز سے غلطی ہوئی ہو پختہ جانکاری کے کمی کے علاوہ علیحدگی پسند و دہشت گردی کے خلاف کاروائیوں کی خانہ پوری کو نظر انداز کئے جانے کے سبب ایسی غفلت پہلے بھی ہوئی اس کے چلتے صرف بے قصور لوگوں کی جانیں ہی نہیں بلکہ کئی بار سیکورٹی فورسیز کو کافی نقصان ہوا اور انہیں جان گنوا نی پڑی ظاہر ہے میانمار کے ساتھ بات چیت کے ذریعے بھارت مخالف سر گرمیوں کو ختم کرنے کی کوشش تیز کرنے کی ضرورت ہے ، تاکہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو اس واقعے سے ناراض مقامی لوگوں نے توڑ پھوڑ آتش زنی کی ہے لیکن ایسے وقت سمجھداری سے کام لینے کی ضرورت ہے تاکہ مفاد پرست اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کر پائیں ۔
(انل نریندر)
07 دسمبر 2021
ایودھیا کیلئے پہلی تیرتھ یاترا ٹرین روانہ !
وزیر اعلی اروند کیجریوال نے مر کزی حکومت پر الزام لگا یا کہ مکھیہ منتری تیرتھ یو جنا کے تحت ایودھیا روانہ ہونے والے یا تریوں کیلئے سفدر جنگ ریلوے اسٹیشن پر منعقد پروگرام روک دیا ۔عام آدمی پارٹی کے ایم پی سنجے سنگھ نے ریل منتری سے سوال کیا کہ پروگرام میں اڑچن کس کے حکم پر ڈالی گئی ؟ اس سے پہلے قریب ایک ہزار یا تریوں کے ساتھ ریلوے اسٹیشن سے ایودھیا کیلئے جانے والی پہلی ٹرین پر جاکر وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے تیرتھ یا تریوں سے ملا قات کر خو شی ظاہر کر تے ہوئے کہا کہ بڑھا پے میں کسی کو تیرتھ یا ترا کا موقع مل جائے تو اس کی خوشی کا ٹھکا نہ نہیں رہتا ۔ کو رونا دور میں ملتوی اس تیرتھ یوجنا کو دوبارہ شروع کیا گیا اس کےلئے دہلی سرکار نے صفدر جنگ ریلوے اسٹیشن پر پر وگرام کیا تھا لیکن مر کزی حکومت نے ایسا کر نے سے منع کر دیا ۔ کیجریوال نے ٹویٹ کرکے کہا کہ مر کز کو ایسا نہیں کر نا چاہیے ۔ اسٹیشن پر خوشی کا ماحول تھا تیر تھ یاتریوں نے جم کر جے شری رام کے نعرے لگائے اور اس یوجنا کی تعریف کی اور کہا کہ ہم اروند کیجریوال اور دہلی سرکار کے حکام کے ذریعے تیر تھ یا ترا کے انعقاد کیلئے مبا رک با د دیتے ہیں اور یہ ایک شبھ کا م ہے اور ایودھیا کی یا تر اکا تو الگ ہی اہمیت ہے ۔ جے شری رام
(انل نریندر)
ممبر اسمبلی خو دکو قانون سے بالا تر مانتے ہیں!
الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پر دیش کے سابق ممبر اسمبلی حسرت اللہ شیر وانی کی ضما نت عرضی خارج کر دی ہے ۔ کاس گنج کی سیشن عدالت نے شیر وانی کو پولیس حوالات میں ایک شخص پر حملہ کرنے کا قصو روار قرا ر دیا تھا جج محمد اسلم نے شیر وانی کی ضما نت عرضی خارج کر تے ہوئے کہا کہ ممبر اسمبلی اور سیا سی لوگ خود کو قانون سے بالا تر مانتے ہیں اس مسئلے کو ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا اور اس سے سختی سے نمٹے جانے کی ضرور ت ہے اپیل کنندہ شیر وانی 30اکست 2012کو واردات کے وقت ممبر اسمبلی تھے عدالت نے کہا کہ قانو ن کے بے جا استعمال کا اشو اسمبلی میں اٹھا نا ان کی ذمہ داری تھی اس کے بجائے انہوں نے قانون کو ہی اپنے ہا تھ میں لے لیا اور متا ثر کو حوالات میں ڈلوا دیا یہ حرکت پولیس مشینری کا بجا استعمال ہے اس لئے ان کی حر کت ہمدردی برتنے لائق نہیں ۔ قابل ذکر ہے اپر ضلع و سیشن جج نے 25اگست 2021کو اپیل کنندہ شیر وانی اور دیگر سات لوگوں کو اقدام قتل کے جرم میں قصو ر وار قرار دیا تھا اور دو سال سخت جیل کی سزا سنا ئی تھی اور ایک ایک ہزار روپے جرمانہ بھی۔ مقدمے کے مطابق اسی معاملے میں شمشا دنا می شخص کو پولیس نے حوالات میں ڈالا تھا 30اگست 2012کو شیر وانی اپنے رشتہ داروں اور حمایتیوں کے ساتھ تھانے پہونچے اور پولیس کو شمشادکی بری طرح پٹائی کر نے کو کہا ا س کے بعد شیر وانی اور اس کے حمایتیوں نے شمشا دکی پٹائی کی لیکن کسی طرح مداخلت سے شمشاد کی جان بچ گئی ۔ اس واردات کے بعد شمشاد نے اپیل کنندہ اور دیگر سات لوگوں کے خلاف 14ستمبر 2012کو کاس گنج تھا نے میںاس معاملے کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کر ائی ۔ عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اپیل کنند ہ شیر وانی کے دباو¿ میں آکر گوا ہ جھگ گئے عدالت نے ضمانت اپیل پرسما عت 10جنوری 2022تا ریخ مقر ر کر دی ۔
(انل نریندر)
سپریم کورٹ نے پھا نسی کی سزا 30 سال قید میں بدلی !
سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قتل کے جرم میں مجرم قرار دو قصور واروں کے پھا نسی کی سز ا کو قید میں بدل دیا ۔ عدالتوں کو قصورواروں میں اصلاح پر غور کر نے مجبو ر کیا ہے ۔ بھلے ہی قصور وار خاموش رہے اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے جائیداد تنا زعے میں بھا ئی کے کنبے میں سات لوگوں کو قتل کرنے کے جرم میں دو قصور واروں شیر دل خان اور مبارک خان کی پھا نسی کی سزا سپریم کورٹ نے ختم کر دی یہ فیصلہ جسٹس ایل کے نا گیشور راو¿ اور بی آر گوئی اور بی بی نا گرتن کی بنچ نے ملزمان کی طرف سے پھا نسی کی سزا کے خلا ف داخل نظر ثانی عرضی پر سنا یا ۔ نچلی عدالت ،ہائی کورٹ اور یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے دونوں قصور واروں کے جرم کو گھنا و¿نا مانتے ہوئے مو ت کی سز ا سنا ئی تھی لیکن قصور واروں نے سزا کے خلا ف نظر ثانی عرضی داخل کی تھی جو 2015سے سپریم کورٹ میں لٹکی پڑی تھی اس پر نظر ثانی کر تے ہوئے عدالت نے کہا کہ یہ قانون تک کا اصول ہے کہ کسی بھی ملزم کو مو ت کی سزا دیتے وقت ان میں سدھرنے کے امکانا ت کو دیکھا جائے گا۔ اور اس چلتے سز اکو کم کرنے کیلئے اہم ترین پہلو کی طرح لیا جائے گا۔ عدالت کا فرض ہے کہ وہ سبھی حقا ئق پر ضروری جانکاری لے اور ملزمان میں اصلاحا ت کے امکانات کو دھیان میں رکھتے ہوئے ان کی پھا نسی کی سزا پر غور کرے بنچ نے کہا کہ اس معاملے میں نچلی عدالت اور ہائی کورٹ اور سپریم کو رٹ کے فیصلوں کا تجزیہ کرنے سے پتا چلتا ہے قصو رواروں کو سزا جرم کے گھنا و¿نے پن کو دیکھتے ہوئے دی گئی ہے ۔ملزمان میں اصلا حات کے امکانا ت پر غور نہیں ہوا اور نہ ہی ریا ستی حکومت نے ایسا کوئی ثبوت پیش کیا جس سے ثابت ہو کہ ملزما ن نے اصلا ح کا کوئی امکان نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس نے ملزمان کی سماجی اور اقتصا دی پس منظر پر غور کیا ہے۔ ان کے خلاف کوئی سابقہ جرم کا کوئی الزام نہیں ہے۔ یہ معاملہ 6جون 2007کا ہے جس میں جھارکھنڈ کے لو ہر ڈگا ضلع میں دونو ں ملزمان نے پروپرٹی کے جھگڑے کے چلتے اپنے بھا ئیوں کے بچوں سمیت پورے گھر کے آٹھ ممبروں کو مار ڈالا تھا ۔ نچلی عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک نے دونوں کو پھا نسی کی سزا سنا ئی تھی ۔ اس معاملے میں کل 11ملزمان تھے جن میں سے نچلی عدالت نے سات کو بری کر دیا تھا اور چار ملزمان صدام خان ،وکیل خان کی پھا نسی کی سزا عمر قید میں بدل دی تھی۔ اب باقی مو ت کی سزا پائے افراد کو بھی سپریم کورٹ نے پھا نسی کی سزا پر مہر لگا دی تھی لیکن اپنے ہی فیصلے پر نظر ثانی کر تے ہوئے دونوں کی سزا کو 30سال قید میں بدل دیا ۔
(انل نریندر)
05 دسمبر 2021
غریب بستیوں میں بے روزگاری !
دہلی کی غریب بستیوں میں رہنے والی ایک بڑی آبادی سے 36.01فیصدی لوگ بے روزگار ہیں یہی نہیں اس میں 48فیصدی ایسے ہیں جن کے گھر کا مہانہ خرچ دس ہزار روپئے سے بھی کم ہے بے روزگاری کے لئے ان لوگوں نے 11وجوہات بتائی ہیں جن میں سب سے زیادہ 24فیصدی نے کوویڈ اور اس کے خطرے کو ذمہ دار بتایا جبکہ 22فیصدی لوگوں نے کوویڈ کے چلتے سفر کرنے پر لگی پابندی کو بھی ذمہ دار مانا یہ اعدادو شمار دہلی سرکار کی طرف سے شہری غریب بستیوں میں سماجی اقتصادی صورتحال ، اسکل میپنگ ، بے روزگاری کو لیکر کرائے گئے اسٹڈی میں سامنے آیا ہے دہلی سرکار کے اقتصادی اور ٹیلی ڈائریکٹریٹ کی جانب سے مشرقی دہلی کے دس بڑی شہری بستیوں میں جولائی سے ستمبر2021کے درمیان اسٹڈی میں اسٹڈی کرائی یہ رپورٹ 50سے 60گھروں کے 20400لوگ جن کی زیادہ تر عمر 45برس تھی بات چیت کی بنیا دپر طیار کر دہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے بے روزگار ہونے والوں نے سب سے زیادہ عورتوں میں 60.61فیصد کل مردوں میں سے 21.05فیصد بے روزگار ہیں اس میں سب سے زیادہ 21سے 25برس والے 64.41 فیصدی نوجوان بے روزگار ہیں اسٹڈی میں لوگوں نے مہانہ کہ بے روزگاری کے چلتے گھر کا خرچ چلانا مشکل ہو گیا ہے ۔ اوسطاً 4سے پانچ لوگوں کے کنبے کے لوگ ہی محدود آمدنی پر خرچ چلا رہے ہیں ۔
بلوچستان کے گوادر میں عورتوں کی تحریک !
پاکستان کے بلوچستان صوبے کے گوادر میں 15نومبر سے جاری سرکار مخالف مظاہروں میں تشدد کے اندازے کے تحت عمران خان کی سرکار نے سیکورٹی بڑھا دی ہے بدھوار کو ایک حکم جاری کر ریاست کے الگ الگ اضلاع میں سیکورٹی فورسیز کو گوادر بھیجنے کے لئے حکم دیا گیا ہے یہ تحریک مبینہ طور پر چین پاکستان ایکونمک کوریڈور کے خلاف ہونے والی چین نے بھی مسترد کر دیا ہے اس نے کہا ہے کہ انٹر نیشنل میڈیا اسے چین کے خلاف بتا کر اس تحریک کو بڑھاوا دے رہا ہے جو فرضی نیوز ہے ایسی رپورٹس کی سی پی ای سی کے اہم ترین پروجیکٹ گوادر بندرگاہ پر چینی ٹرولرس کو مچھلی پکڑنے کے لئے اختیار دینے کے سبب مظاہر ے ہو رہے ہیں ان رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد چینی وزارت خارجہ نے یہ بیان جاری کیا ہے اس کے ترجمان ماو¿ لیزین نے کہا کہ کچھ میڈیا میں گوادر علاقے میں چینی مخالف مظاہروں کی رپورٹ بے بنیاد ہے خواتین نے گوادر کے حق میں ریلی نکالی جسے شہر کے تاریخ میں عورتوں کی سب سے بری ریلی بتائی جا رہی ہے گوادر کے ایک سینئر صحافی نے بہرم بلوچ نے ریلی میں شامل ہونے والوں کی تعداد کے لحاظ اس ریلی کو تاریخی بتایا ہے کچھ عورتوں کا کہنا ہے کہ وہ مجبور ہو کر اپنے گھروں سے باہر نکلتی ہیں کیونکہ مچھلی پکڑنے ٹرولر کے ذریعے نا جائز طور سے ایران سرحد پر پابندی کے بعد ان کے شوہروں کا روزگار ختم ہو گیاہے اور وہاں بے تحاشہ ظلم ہو رہا ہے ہم بھوکے ہیں ہم بے روزگار ہیں ہمارے پاس ہیلتھ اور تعلیم تک نہیں پہونچ رہی ہے یہاں نہ پانی نہ بجلی اور کچھ لوگ اپنی طاقت دکھا چکے ہیں اور اب اہم اپنی طاقت دکھائیں گے ۔
(انل نریندر)
یو پی اے جیسی کوئی چیز نہیں رہی !
مغربی بنگال جیتنے کے بعد اب ممتا بنرجی دیش بھر میں وزیر اعظم نریندر مودی کے مقابلے پر ایک متحدہ محاذ یا اپوزیشن بنانے میں لگ گئی ہیں ۔ گوا سے ہریانہ تک کے نیتاو¿ں کو پارٹی میں شامل کرنے کے علاوہ وہ الگ الگ ریاستوں کا دورہ کر رہی ہیں ممتا نے بدھ کے روز ممبئی میں کانگریس پر بڑا کٹاش کیا کہا کہ اب یو پی جیسے کوئی چیز نہیں رہی انہوں نے کہا کہ اپوزیشن حکمت عملی بنانے کے لئے ایک مشاورتی کونسل بنائی جائے اس میں سول سو سائٹی کی اہم شخصیتوں کو شامل کیا جائے لیکن افسوس اس بات کا ہے اسکیم کامیاب نہیں ہو پائی اسے عمل میں لانا ضروری نہیں سمجھا گیا ممتا نے کہا کہ چل رہے علاقائی پرستی کے خلاف کسی بھی لڑائی کی شکل میں ایک مضبوب متبادل راستہ بنایا جانا چاہئے ممتا نے سول سو سائٹی کے کچھ ممبران سے بات بھی کی اور کہا کہ اگر سبھی علاقائی پارٹیاں ایک ساتھ آجاتی ہیں تو بھاجپا کو ہرانا آسان ہوگا ہم کہنا چاہتے ہیں” بھاجپا ہٹاو¿، دیش بچاو¿“حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا بی جے پی کا اکیلے کوئی مقابلہ کر سکتا اکیلے وہی مقابلہ کر سکتا ہے اسے کرنا پڑے گا حا ل ہی میں ممتا بنرجی نے مغربی بنگال کے باہر کئی دورے کئے ہیں اور اپوزیشن کے لیڈروں سے ملی ہیں سیاسی ماہرین اسے ممتا کی اپوزیشن کی سیاست میں کانگریس کی جگہ لینے کے طور پر کوشش کی جگہ دیکھ رہی ہیں در اصل 2004میں بنے سیاسی حالات کے جواب میں کانگریس لیڈر شپ میں یو پی اے بنا تھا تب سے یو پی اے نے کئی چنوتیوں کا سامنا کیا ہے شروعات میں لیفٹ پارٹیاں اس کا اہم حصہ تھیں لیکن سال 2008میں وہ اس سے الگ ہو گئیں یہیں نہیں یو پی اے کے کئی اتحادی پارٹیوں نے اپنی بات منوانے کے لئے دباو¿ کی سیاست کا استعمال کیا۔ 2004سے 2014تک کے درمیان کانگریس لیڈر شپ میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سرکار بنی لیکن سرکار کا حصہ رہی کئی اتحادی پارٹیاں ساتھ چھوڑ گئی ہیں ۔ 2009کے چناو¿ میں یو پی اے نے غیر متوقع جیت حاصل کی وہیں 2014میں نریندر مودی کی قیادت میں لڑی بھاجپا کے سامنے اتحاد کو زبردست ہار ملی ۔ مغربی بنگال کا چناو¿ جیتنے کے بعد سے ممتا نے ایک نیا بدلاو¿ نظر آرہا ہے تو کیا یو پی اے اب نہیں ہے ؟ کانگریس کی لیڈر شپ میں اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگوں میں ٹی ایم سی شامل ہو تی رہی لیکن حال ہی میں ٹی ایم سی نے دوری بنانے کی کوشش کی ہے اتنی ہی پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے پہلے جب کانگریس کی لیڈر شپ نے اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ ہوئی تو ٹی ایم سی نے اس سے دوری بنالی اور ٹی ایم سی کے نیتا ڈائریک اوبراو¿ن نے تو ٹویٹ کر صا ف کیا کہ ٹی ایم سی کانگریس کی اتحادی نہیں ہے ۔ ممتا کے بیانوں سے صاف ہے انہیں کانگریس سے ناراضگی ہے لیکن یہ ناراضگی جائز ہے اور کیا اپوزیشن میں کانگریس کی جگہ لینے کی کوشش زیادہ ہے ایسا ہو سکتا ہے کہ ممتا بنرجی کے مشیر کار پرشانت کشور نے انہیں سمجھا دیا ہے کہ وہی اپوزیشن کے اتحاد کا مرکز اور لیڈر شپ کر سکتی ہیں اور وہ اسی کے لئے کوشش کر رہی ہیں ۔ شاید ممتا کے دماغ میں یہ چل رہا ہو کہ بھلے ہی کانگریس بڑی پارٹی ہو لیکن اپوزیشن کی لیڈر شپ کرنے کا موقع اسے دیا جائے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس کو نظر انداز کر کوئی بی جے پی کے خلاف کوئی اثر دار اتحاد بنایا جا سکتا ہے ؟
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...