Translater

14 مارچ 2026

نیتن یاہو نے ٹرمپ کو برا پھنسایا!

ایران جنگ کے بعد دنیا بھر میں ماہرین اب یہ بات کرنے لگے ہیں کہ اصل میں اسرائیل نے اپنے مفادات کے لئے امریکہ کو بری طرح پھنسا دیا ہے یعنی کہ نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایسا پھنسایا ہے کہ اب انہیں پیچھے ہٹنے کا بہانہ مل رہا ہے ۔نہ صرف امریکہ کو ہی پھنسایا ہے بلکہ خلیجی ممالک کے دیگر عرب ملکوں کو بھی پھنسا دیا ہے ۔اس سے آہستہ آہستہ خلیج میں امریکہ کے معاون ساتھی دیش بھی اس سے ناراض ہو رہے ہیں ۔امریکہ میں ہوئے حالات کہہ رہے ہیں کہ امریکی عوام اس ایران جنگ کو غیر ضروری مان رہی ہے ،جو امریکہ پر بری طرح سے مالی بوجھ بڑھائے گی ۔امریکہ اور اسرائیل کے ذریعے مل کر ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ کو لے کر کئی تجزیے سامنے آرہے ہیں ۔جنگ اب 15ویں دن میں داخل ہو چکی ہے اسرائیل نے امریکہ کو ایسا پھنسایا ہے کہ ٹرمپ کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آگے کیا کریں؟ تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے امریکی مفادات کے بجائے اسرائیل کے مخصوص مقاصد کو پورا کرنے کے لئے امریکہ کو جنگ میں کھینچ لیا ۔کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل نے ایران کے نیوکلیائی پروگرام کو خطرے کی شکل میں پیش کر ٹرمپ کو جنگ میں الجھا دیا ہے ۔حقیقت میں اسرائیل کے مفادات کہیں اور ہیں ۔وہ اس جنگ کے ذریعے سب کو دھمکانا چاہتا ہے ۔حقیقت میں اسرائیل کا اس حملے کے ذریعے اہم مقصد ایران کے ساتھ امریکی حکمت عملی میں رخنہ ڈالنا اور غزہ میں اسرائیلی کاروائیوں سے عالمی توجہ بھٹکانا تھا ۔نیتن یاہو کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ان پر چل رہے کرپشن کے مقدموں سے اسرائیلی عوام کی توجہ بھی ہٹانا ۔امریکی صدر ٹرمپ کو اسرائیل کی کاروائی میں کریڈٹ لینے کی چاہت نے پھنسایا ہے ۔شروع میں الگ تھلگ رہنے والے ٹرمپ ایران پر حملے سے بچتے رہے لیکن نیتن یاہو کے پاس پتہ نہیں ٹرمپ کی کون سی خفیہ کنجی ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی ٹرمپ نے ایران جنگ چھیڑ دی ۔مجبوری میں ٹرمپ اب دعوے کررہے ہیں کہ ہم ایران کے آسمان پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں ایسے دعوے کررہے ہیں کہ جو اسرائیل کی جارحانہ جارحیت کو بڑھاوا دے رہاہے وہ زبردستی امریکہ کے ساتھ لمبی کروائی میں جھونک رہا ہے ۔جو امریکی مفادات کو نقصان پہنچائیں گے ۔دراصل امریکہ ایران کا صحیح تجزیہ نہیں کرپایا ۔اسرائیل اور امریکہ نے سوچا تھا کہ ایران جلد ی ٹوٹ جائے گا لیکن ایرانی میزائلوں کے حملوں اور درپردہ گروپوں کی سرگرمی نے لڑائی کو زونل بنا دیا۔ سپریم لیڈر اور ایران کے رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل جیسے قدموں نے نہ صرف دنیا کے شیعہ مسلمانوں کو متحد کیا بلکہ تمام سنی بھی امریکہ اسرائیل کے خلاف ہو گئے ہیں ۔امریکی ٹھکانوں پر یہ پورے وسطی ایشیا میں عرب ملکون کے اوپر ایران تابڑ توڑ حملے کررہا ہے ۔امریکہ کے 17 فوجی اڈوں کو تباہ کر دیا ہے اور اسرائیل کا تو یہ حال ہے کہ وہاں کے اخبار یروشلم پوسٹ نے اعتراف کیا ہے کہ 11 دن کی لڑائی میں اسرائیل پر 9115 میزائل ،راکٹ حملے ہوئے ہیں اور وہاں کی انشورنش کمپنیوں پر جو معاوضہ کے دعوے ہوئے ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حزب اللہ حملوں سے 6586 عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک عمارت میں کتنے لوگ رہتے ہوں گے جو یاتو مارے گئے یا پھر زخمی ہوئے ۔اسرائیل میں 1485 گھروں کو تباہ کر دیا گیا ہے ۔1044 کارخانے بھی تباہ ہو گئے ہیں بتادیں کہ اسرائیل میں نقصان کی خبروں پر سنسر لگا ہوا ہے اس لئے صحیح پتہ نہیں چل پارہا ہے کہ اصل میں کتنا نقصان ہوا ہے ۔یہ تو یروشلم پوسٹ کے دعووں کا حوالہ ہے ۔ٹرمپ اب باہر نکلنے کے راستے تلاش رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

12 مارچ 2026

خامنہ ای کبھی مرتے نہیں ہیں!

ایران نے اپنا سپریم لیڈر چن لیا ہے ۔آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر چنے گئے ہیں ۔دنیا کے خود ساختہ بادشاہ سلامت ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کا اگلا سپریم لیڈر کون ہوگا ؟ یہ میں ان ۔۔۔۔ایران نے ٹرمپ کو منہ توڑ جواب دیا ہے اور صاف بتادیا ہے کہ ایران ٹرمپ ،نیتن یاہو کے سامنے جھکنے والانہیں ہے ۔ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ اسمبلی آف ایکسپرٹس 88 ممبری دھارمک ادارہ ہے جس کی ذمہ داری سپریم لیڈر کو چننے کے ادارے کے ایک بیان کو ایرانی ٹی وی پر اینکر نے پڑھ کر سنایا ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ میں بےحد سنگین حالات اور ہمارے ادارے کے خلاف دشمنوں کی سیدھی دھمکیوں کے باوجود اور اسمبلی آف ایکسپرٹس کے سچیوالے کے دفاتر پر بم باری سے اس کے کئی ملازمین اور سیکورٹی ٹیم کے ممبران شہید ہو جانے کے باوجود اسلامی نظام کی قیادت کے انتخاب اور اس کے اعلان کی کاروائی ایک پل کے لئے بھی نہیں رکی ۔اس کے بعد اینکر نے ایک نعرہ لگایا -اللہ اکبر ،اللہ اکبر خامنہ ای ہی رہبر ۔امریکی اسرائیل ہوائی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد کئی لوگوں کو اندیشہ تھا کہ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای بھی مارے گئے ہیں ۔کئی دنوں تک مجتبیٰ کے بارے میں کوئی خبر نہیں آئی لیکن تین مارچ کو ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا مجتبیٰ زندہ ہیں اور انہیں ایران کا سپریم لیڈر چن لیا گیا ہے ۔ بتادیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے تو کبھی کوئی پبلک بیان دیا کوئی سرکاری عہدہ سنبھالانہ کوئی انٹرویود یا ان کی بہت کم تصویریں اور ویڈیو نشر ہوئے ہیں۔ امریکی سفارتی دستاویز میں انہیں پردے کے پیچھے اصلی طاقت بتایا گیا تھا۔ ان کو حکومت کے اندر ایک اہل اور مضبوط لیڈر ماناجاتا ہے ۔8 ستمبر 1969 کو ایران کے نارتھ ایسٹ شہر یشہد میں پیدا مجتبیٰ ، امام علی خامنہ ای کے چھ بچوں میں دوسرے مقام پر ہیں ۔میڈیا کے مطابق 17 سال کی عمر میں مجتبیٰ نے ایران -عراق جنگ کے دوران فوج میں خدمات انجام دی تھیں ۔مدرسوں کے انتظام میں آیت اللہ کی ڈگری ہونا اور مذہبی اسلامی کلاسز کو پڑھانا کسی شخص کی کافی صلاحیت اور علم کا ثبوت ماناجاتا ہے ۔یہ مستقبل میں نیتا چنے جانے کی ضروری شرطوں میں سے ایک ہے ۔الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جیسے ہی نام کا اعلان ہوا ،ایران کی فوج ،اسلامی ریبولیوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی )اور سیاسی لیڈروں نے فوراً مجتبیٰ خامنہ ای کے تئیں وفاداری کا حلف لیا ۔آئی آر جی سی نے بیا ن جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم نئے لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے حکم کی تعمیل کرنے خود کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں ۔فوج کی سرکردہ لیڈر شپ نے بھی اپنی پوری وفاداری کا وعدہ کیا ہے ۔ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سب سے طاقتور عہدہ سنبھالتے ہی ایران نے اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ کیا ۔مانا یہ پہلے سے طے تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے بھی اس کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ یوں کہیں کہ ایران اب اور طاقت سے حملہ کرے گا ۔یہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں اس جنگ کی زبردست نئی میزائلوں سے حملہ کیا ۔دیکھنا یہ ہے کہ کیا آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کے اس فتویٰ کو بدلیں گے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کوئی نیوکلیائی ہتھیار نہیں بنائے گا؟ (انل نریندر)

10 مارچ 2026

ایران حملے کی قیمت ؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف تو نیتن یاہو کے اکسانے پر جنگ شروع تو کر دی لیکن انہیں شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ لڑائی لمبی اور مہنگی پڑ سکتی ہے ۔جو لڑائی چار دن میں ختم ہونے کی پیشگوئی کی جارہی تھی وہ آج دسویں دن بھی ختم ہونا تو دور کی بات ہے یہ بڑھتی جارہی ہے ۔یہ امریکہ کو دونوں فوجیوں کی موت اور مالی تنگی کی مار جھیلنی پڑرہی ہے جس کا اس نے کبھی اندازہ نہیں لگایا ہوگا ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اب اشارہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی یہ لڑائی چار پانچ ہفتے تک چل سکتی ہے ۔واشنگٹن میں موجود تھنک ٹینک سی ایس آئی ایس اور کرسپارک کے ذریعے کئے گئے تجزیہ کے مطابق ایران کے خلاف آپریشن ایپک تھیوری کے تحت جنگ کے پہلے 100 گھنٹوں میں امریکہ کو تقریباً 3.7 ارب ڈالر (قریب 31 ہزار کروڑ روپے ) خرچ اٹھانا پڑرہا ہے ۔رپورٹ کے مطابق جنگ کے شروعاتی 100 گھنٹوں میں امریکہ کا اوسط خرچ تقریباً 891 ملین ڈالر یومیہ یعنی قریب 90 کروڑ ڈالر روز رہا ہے ۔شروعاتی مرحلے میں سب سے زیادہ خرچ مہنگی میزائلوں ، ہتھیاروں اور بموں کے استعمال پر ہوا ہے ۔اس لئے شروعاتی دنوں میں لاگت سب سے زیادہ ہے ۔تھنک ٹینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1.7 ارب ڈالر جیسے ایئر ڈیفنس انٹرسپٹرس سسٹم پر خرچ کئے گئے ہیں جبکہ 1.5 ارب ڈالر میزائلوں اور دیگر جارحانہ ہتھیاروں پر خرچ کئے گئے ہیں اس کے علاوہ 125 ملین ڈالر جنگی جہازوں اور ہوائی آپریشن کے چلانے پر خرچ کئے گئے ہیں ۔سی ایس آئی ایس کے مطابق خرچ میں سے صرف تقریبا200 ملین ڈالر ہی پہلے سے امریکی ڈیفنس بجٹ میں شامل تھے جبکہ قریب 3.5ارب ڈالر کا خرچ فاضل ہوا ہے ۔جس کے لئے الگ سے فنڈ کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی ڈیفنس وزارت کو جلد ہی جنگ جاری رکھنے کے لئے مزید بجٹ کی مانگ کرنی پڑ سکتی ہے ۔اس کے علاوہ قطر ،جارڈن ،یو اے ای میں جو ایئر ڈیفنس کے راڈار اور دیگر مشینری جو تباہ ہوئی ہے جن کی قیمت اربوں ڈالر میں ہے کا تو حساب ہی نہیں ہے ۔رپورٹوں کے مطابق اندازہ کے مطابق جنگ کے پہلے 100 گھنٹوں میں امریکہ نے 2000 سے زیادہ طرح کے ہتھیار اور میزائلوں کا استعمال کیا ہے ۔ان ہتھیاروں کے اسٹاک کو 2 بار بھرنے میں تقریباً 3.1 ارب ڈالر خرچ ہو سکتے ہیں ۔تھنک ٹینک نے اپنے تجزیہ میں کہا ہے کہ جنگ کا انسانی نقصان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ایران میں ہی تقریباً 1500 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے ۔ان میں 180 چھوٹی بچیاں بھی شامل ہیں جن کے اسکول پر امریکہ نے بحرین سے بم مارا ۔امریکہ کے کتنے فوجی مرے ہیں یہ تعداد بہت زیادہ ہوسکتی ہے ۔امریکہ نے فی الحال 6-7 فوجیوں کے مرنے کی تصدیق کی ہے ۔لیکن ایرانی دعویٰ کررہے ہیں یہ تعداد سینکڑوں میں ہے ۔خرچ کے علاوہ ، کویت میں فرینڈلی فائر کے واقعہ میں 3 امریکی اور 1 ایف -15 امریکی جنگی جہاز گر گئے ۔ بتادیں کہ ایک ایف -15 جو انتہائی جدید اس فائٹر جیٹ کی قیمت تقریباً 800 کروڑ روپے ہے ۔ایران پر حملہ کرتے وقت امریکہ اور ڈونلڈ ٹرمپ نے شاید یہ سوچا بھی نہیں ہوگاکہ یہ جنگ اسے کتنی مہنگی پڑے گی ۔ لڑائی لمبی کھچنے سے اور ایرانی جوابی کاروائی سے ٹرمپ کی نیند اڑی ہوئی ہے ۔آئے دن وہ دھمکیوں پر اتر آتے ہیں ۔ٹرمپ تو پھنس گئے ہیں لیکن باہر کیسے نکلیں انہیں سمجھ نہیں آرہا ہے۔خرچ کےعلاوہ اندرونی سیاسی دباؤ ،ایپسٹین فائل ، ساتھ ہی عرب ممالک کا دباؤ یہ سب امریکہ ٹرمپ پر بھاری پڑرہا ہے۔ پریشان ہو کر ٹرمپ کوئی ایسا قدم نہ اٹھا لیں جس سے پوری دنیا سکتے میں آئے؟ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...