25 فروری 2017

یہ پہلا چناؤ ہے جس میں سونیاگاندھی نہیں آئیں

پانچ دہائی تک گاندھی خاندان کا مضبوط گڑھ رہے رائے بریلی میں سپا اتحاد کے باوجود کانگریس کو بھاجپا اور بسپا کی چنوتی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 2 سیٹوں پر کانگریس اور سپا کے بیچ دوستانہ مقابلہ بھی ہے۔ لمبے عرصے کے بعد یہ پہلا چناؤ ہے جس میں کانگریس صدر سونیا گاندھی نے کوئی چناوی ریلی نہیں کی ہے۔ ایک وقت تھا جب مرکز اور صوبے میں کانگریس کی حکومت ہوا کرتی تھی تو رائے بریلی کے کانگریسیوں کا جلوہ رہتا تھا۔وقت کے ساتھ لوگوں میں پارٹی کے تئیں وفاداری کا جذبہ بھی ختم ہوگیا۔ گاندھی پریوار کا یہ قلعہ اب مضبوط نہیں رہا یا یوں کہیں کہ کھسکنے لگا ہے۔لوک سبھا چناؤ میں تو ٹھیک ہے لیکن اسمبلی انتخابات میں گاندھی پریوار اور جنتا کے درمیان رشتے کا بندھن کمزور ہوگیا ہے۔ سونیا مجبوری کے چلتے اس مرتبہ رائے بریلی امیٹھی نہیں جا سکیں۔ انہوں نے رائے بریلی اور امیٹھی پارلیمانی حلقے کے رائے دہندگان کو خط بھیج کر ووٹ اور حمایت مانگی ہے۔ 1999ء میں امیٹھی سے ایم پی چنے جانے کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے کہ جب سونیا گاندھی رائے بریلی میں کسی چناؤ ریلی میں نہیں آئیں۔ 2004ء میں وہ خود رائے بریلی سے ایم پی چنی گئی تھیں۔ 2006ء میں ان کے استعفے کے بعد ضمنی چناؤ ہوا تو سونیا پھر منتخب ہوئیں۔ 2009 اور 2014ء میں سونیا گاندھی رائے بریلی سے ہی ایم پی چلی آرہی ہیں۔ اس بار ان کے چناؤ کمپین کے لئے نہ آنے کے کئی معنی نکالے جارہے ہیں۔ حالانکہ کانگریس خیمے میں مانا جارہا ہے کہ رائے بریلی میں پرینکا ہی سونیا گاندھی کی وراثت سنبھالیں گی۔ اس بار کانگریس۔ سپا اتحاد کرکے چناؤ لڑ رہی ہے اس کے باوجود اہم سوال یہ ہے کہ کیا سپا سے دوستی کرکے کانگریس اپنے اس قلعہ کو محفوظ رکھ پائے گی یا بھاجپا اور بسپا اس میں سیندھ ماری کریں گی؟ پچھلے دو اسمبلی چناؤ کی بات کریں تو کانگریس نے پایابھی اور کھویا بھی۔ 2007ء کے چناؤ میں جہاں اونچاہار، سرینی،ہرمند پور، بچراواں، سلون اسمبلی حلقوں میں کانگریس نے پرچم لہرایا وہیں 2012ء کے چناؤ میں سبھی سیٹیں گنوا دیں۔ ان سیٹوں پر سپا کا قبضہ ہوگیا۔ یہ حال تب تک جب پرینکا واڈرہ نے گاؤں گلیوں کی خاک چھانتے ہوئے درجنوں نکڑ سبھائیں کیں اور ایم پی سونیا گاندھی نے بڑی ریلی کی تھی۔ اس بار اترپردیش اسمبلی چناؤ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کے نتیجے اترپردیش کا مستقبل تو طے کریں گے ہی بلکہ قومی سیاست کو بھی نئی سمت دے سکتے ہیں۔ کانگریس نے سپا سے اتحاد کرکے ایک طریقے سے چناؤ سے پہلے ہی گھٹنے ٹیک دئے ہیں۔ رہی سہی کثر سونیا گاندھی کی غیر موجودگی سے پوری ہوگئی ہے۔ کانگریس میں ایک ایسا خلا پیدا ہوگیا ہے جسے بھرنا پارٹی کیلئے انتہائی ضروری ہے۔
(انل نریندر)

جیل میں بند ہیں پھربھی داؤ ٹھونک رہے ہیں چناؤ میں

یوپی کی سیاست میں ہمیشہ جیلوں کا اہم رول رہا ہے۔ اسمبلی چناؤ2017ء میں بھی یوپی کی جیلوں میں بند کئی چناوی دنگل میں اپنے داؤ آزما رہے ہیں۔ کئی قیدی جہاں جیلوں میں رہ کر خود تال ٹھونک رہے ہیں تو بہت سے جیل میں بندقیدیوں کے رشتے دار چناؤ میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں ۔ یوپی کے چناؤ میں جیلوں سے چناؤ لڑنے والوں کی تاریخ لمبی ہے۔ مافیہ مختار انصاری اپنے سبھی چناؤ جیل میں رہ کر ہی لڑے ہیں۔ اس بار بھی وہ جیل میں ہیں۔ انہیں 17 فروری سے 4 مارچ تک کی پیرول ملی تھی لیکن چناؤ کمیشن کی عرضی پر تین دن کی روک لگادی گئی۔ وہ ہر وقت چناؤ کے دوران جیل سے چٹھی بھیج کر اپنے لئے ووٹ مانگتے ہیں۔ اس بار بھی وہ اپنے ساتھی بھائی سبغت اللہ اور بڑے بیٹے عباس انصاری کیلئے بھی ووٹ مانگ رہے ہیں۔ مدھو متا کانڈ سے پورے دیش میں سرخیوں میں آئے دبنگی نیتا امرمنی ترپاٹھی اور ان کی بیوی مدھو منی ترپاٹھی گورکھپور جیل میں بند ہیں ان کے بیٹے امن منی کو بھی چناؤ کے اعلان سے پہلے ہی سی بی آئی نے اس کی بیوی سارا کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا۔ امن منی کو پہلے سپا نے ٹکٹ دیا اور پھر کاٹ دیا ، اب وہ والد کی وراثت مہاراج گنج کی نوتنوا سیٹ سے چناؤ لڑ رہے ہیں۔ امن منی کی بہن تنوشری بھائی کے جیل میں ہونے کی دہائی دے کر ووٹ مانگ رہی ہیں۔ اترپردیش کے پوروانچل میں کئی ایسی سیٹیں ہیں جہاں جیل سے ہی ووٹوں کی فصل اگانے کی کوشش چل رہی ہے۔ دبنگی امیدواروں کے چناوی تجزیئے کے بجائے اپنے ہی لوگوں کی طاقت پر زیادہ بھروسہ ہے۔ چندولی کی سید راجا سیٹ سے بسپا امیدوار شام نارائن عرف ونیت سنگھ پر وارانسی ، بھدوہی کے ساتھ ہی جھارکھنڈ اور بہار میں قتل اور قتل کی کوشش اور پھروتی ،اغوا جیسے دو درجن سے زیادہ سنگین معاملے درج ہیں۔ سید راجا سیٹ سے بھاجپا کے سشیل سنگھ کو وارانسی ، بھدوہی ، چندولی اور دہلی میں قتل سمیت آدھا درجن معاملوں میں ملزم بتایا جاتا ہے۔ سینئر انجینئر قتل کانڈ میں بارہ بنکی جیل میں بند سابق بی ایس پی ممبر اسمبلی شیکھر تیواری کا ودیا پور سیٹ پر کافی اثر دیکھتے ہوئے جیل میں ان کی نگرانی کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ آگرہ جیل میں بند امت گرگ فیروز آباد کی صدر سیٹ سے چناؤ لڑ رہے ہیں۔ لکھنؤ جیل میں بند بھگوتی سنگھ کا بھتیجہ منیش سنگھ رائے بولی کے ہرچند پور سے چناؤ لڑ رہے ہیں۔ ایسے درجنوں معاملے ہیں جہاں یا تو بہوبلی یا دبنگی جیلوں سے چناؤ لڑ رہے ہیں یا پھر ان کے قریبی رشتے دار و خاص چناؤ میدان میں ہیں۔ ایڈیشنل جنرل جیل جی ایل مینا کا کہنا ہے کہ جیل انتظامیہ نے ان سبھی قیدیوں کی فہرست بنا رکھی ہے جو یا خود چناؤ لڑرہے ہیں یا ان کے رشتے دار میدان میں ہیں۔ ان پر گہری نظر رکھی جارہی ہے۔
(انل نریندر)

24 فروری 2017

نتائج کا اگلے صدارتی انتخابات پر براہ راست اثر

اتر پردیش سمیت ان پانچ ریاستوں کے انتخابات کے نتائج کے دور رس اثرات ہوں گے. صرف ان ریاستوں کے لئے ہی نہیں جہاں انتخابات ہے بلکہ پورے ملک کے لئے. ان کا براہ راست اثر اگلے صدارتی انتخابات کے لئے بھی فیصلہ کن ثابت ہوں گے. اس کے علاوہ راجیہ سبھا میں بھی براہ راست اثر پڑے گا. پانچ ریاستوں کے نتائج سے منتخب کر کے آنے والے ممبر اسمبلی صدارتی انتخابات کے لئے ووٹ دیں گے. ملک کا اگلا صدر اپنے دم خم پر منتخب کرنے کے لیے بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو ابھی تقریبا 65 ہزار قیمت کے ووٹوں کی ضرورت ہے. پانچ ریاستوں کی 690 سیٹوں پر ہو رہے اسمبلی انتخابات کے نتائج سے صدارتی انتخابات کے لئے ایک لاکھ تین ہزار 756 قیمت کے ووٹ تیار ہوں گے. بی جے پی اگر اتر پردیش میں اپنے طور پر اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو اسے تقریبا 32 ہزار قیمت کے ووٹوں کا فائدہ ہوگا. فی الحال لوک سبھا میں مکمل اکثریت اور ایک درجن ریاستوں میں حکومت کی بدولت بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کے پاس چار لاکھ 83 ہزار 728 قیمت کے ووٹ ہیں. وہیں کانگریس، لیفٹ اور ایس پی کے پاس چار لاکھ 11 ہزار 438 قیمت کے ووٹ ہیں. ترنمول کانگریس، بی جے ڈی کے علاوہ ٹی آر ایس اور وائی ایس آر کانگریس کے پاس صدارتی انتخابات میں 20 ہزار 728 قیمت کے ووٹ ہیں. جبکہ صدارتی انتخابات جیتنے کے لئے پانچ لاکھ 49 ہزار، 442 قیمت کے ووٹ ضروری ہیں. کانگریس کے ایک رہنما نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں این ڈی اے کے لئے اپنے طور پر صدر کے عہدے کا الیکشن مشکل ہے. بی جے پی نے یوپی میں اپنی پوزیشن بہتر بھی لی تو اسے پنجاب میں نقصان ہو سکتا ہے. اتراکھنڈ میں بھی پارٹی کو فائدہ نہیں ملے گا، یہاں اسمبلی کی 70 نشستوں میں سے 31 نشستیں بی جے پی کے پاس ہیں اور صدارتی انتخابات میں اس کی قیمت محض 1984 ہے. پانچ ریاستوں میں سے یوپی کے ممبر اسمبلی کے ووٹ کی قیمت زیادہ ہے. یوپی کے ایک رکن اسمبلی کے ووٹ کا صدارتی انتخابات کے لئے قیمت 208 ہے جبکہ پنجاب کے رکن اسمبلی کے مت کی قیمت 116 ہے. اتراکھنڈ کے ایک رکن اسمبلی کا ووٹ 64 قیمت کے برابر ہے. گوا کے ممبر اسمبلی کی قیمت ووٹ 20 تو منی پور میں ایک رکن اسمبلی کی قیمت ووٹ 18 ہے. ملک کے اسمبلی ارکان کی کل تعداد 4،120 ہے. 2007 کے صدر الیکشن کے لئے یوپی اسمبلی کے ارکان کے ووٹوں کی قیمت سب سے زیادہ (208) اور سکم میں ووٹوں کی قیمت سب سے کم (7) تھا. مجموعی طور پر ان پانچ ریاستوں کے نتائج بی جے پی اور دیگر جماعتوں کے لئے تو ہیں ہی پر بی جے پی کے لئے اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ اگر وہ اپنی پسند کا صدر بنانا چاہتی ہے تو اسے ان ریاستوں میں اچھی کارکردگی کرنا ہوگا. 
(انل نریندر)

بدعنوان افسروں پر کستا سی بی آئی کا پھندہ

اگر آج بھی کسی بھارتی جانچ ایجنسی پر انحصار کیا جاتا ہے تو اس کا نام مرکزی تفتیشی بیورو یعنی سی بی آئی ہے. جب بھی کسی معاملے کی آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے تو پہلی مطالبہ ہوتی ہے کہ سی بی آئی سے جانچ کرائی جائے. لیکن گزشتہ کچھ دنوں سے کچھ ایسے واقعات پیش آیا ہیں جس سے اس اعلی ترین تفتیشی ایجنسی کی ساکھ پر بٹہ لگا ہے. صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ سی بی آئی کو بدعنوانی کے الزام میں گھرے اپنے ہی سابق ڈائریکٹرز کی جانچ کرنی پڑ رہی ہے. پہلے مشتبہ حوالہ کاروباری معین قریشی سے جڑے معاملے میں رنجیت سنہا کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے سپریم کورٹ کے آرڈر بار سی بی آئی کے سابق سربراہ اے پی سنگھ کے خلاف کیس میں تعداد مارنا. یہ سب سے اوپر بیوروکریسی کے لئے شرمندگی کا سبب ہے. اے پی سنگھ پر بڑی مقدار میں فنڈز لینے اور خاموشی سے گوشت تاجر و حوالہ کاروباری کی مدد کرنے کے الزامات ہیں. ایف آئی آر بھی کسی معمولی شخص کے کہنے پر نہیں، بلکہ ئڈی کی شکایت پر درج کی گئی ہے. لگتا ہے کہ اب اونچے عہدوں پر بیٹھے افسروں کے مبینہ بدعنوانی پر بالآخر سی بی آئی نے پیچ کسنا شروع کر دیا ہے. منگل کو بدعنوانی کے الزام میں دو سینئر آئی اے ایس / آئی آر ایس افسر سمیت بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا گیا. ان میں چھتیس گڑھ حکومت کے پرنسپل سکریٹری بی ایل اگروال اور نفاذ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے سابق جوائنٹ ڈائریکٹر جے پی سنگھ شامل ہیں. بی ایل اگروال پر الزام ہے کہ 2010 میں جب وہ ہیلتھ سکریٹری تھے تو انہوں نے اپنے خلاف سی بی آئی جانچ آباد کے لئے انہوں نے رشوت دی. پی ایم او میں کام کرنے کا دعوی کرنے والے سید برہان الدین نام کے شخص نے کیس نمٹانے کے لئے ثالث خدا سنگھ کے ذریعہ ڈیڑھ کروڑ روپے رشوت مانگی. الزام ہے کہ اگروال نے حوالہ سے 60 لاکھ روپے دیئے. سی بی آئی نے بچولئے سے دو کلو سونے اور 39 لاکھ کیش برآمد کئے ہیں. ادھر ڈی کے جوائنٹ ڈائریکٹر رہے جے پی سنگھ پر آئی پی ایل بیٹنگ اسکینڈل کی تحقیقات کے دوران حوالہ آپریٹر سے رشوت لینے کا الزام ہے. سنگھ نے 2000 کروڑ کی 182 بیٹنگ، 5000 کروڑ روپے کے منی لاڈرگ کیس کی تحقیقات کی تھی. اس معاملے میں نافذ کرنے والے اہلکار سنجے اور دو دوسرے لوگوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے. ایک دن پہلے ہی سی بی آئی نے اپنے سابق چیف اے پی سنگھ کے خلاف کیس درج کیا تھا. اتنے اچچپدستھ حکام کی بدعنوانی میں شامل ہونا کافی تشویشناک ہے. ایسے عہدوں پر تقرری کافی چھان بین کے بعد کی جاتی ہے اور اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ صاف ستھری تصویر والا افسر ہی وہاں تک پہنچ سکے. آخر کس نکتے پر یہ کمی رہ جاتی ہے کہ وہاں ایسے مشتبہ کردار کے لوگ پہنچ جاتے ہیں؟ یہ درست ہے کہ مودی حکومت کے اعلی سطح پر بدعنوانی کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہو، لیکن ان کو نظر انداز بھی نہیں کی جا سکتی کہ نوکر شاہوں کی کرپشن میں ملوث ہونے کے معاملے مسلسل سامنے آ رہے ہیں. گزشتہ ماہ ہی سی بی آئی نے انکم ٹیکس محکمہ کے نو افسروں کے خلاف بدعنوانی کے تحت مقدمہ درج کیا تھا. ضروری صرف یہ نہیں ہے کہ بدعنوان افسروں کے خلاف کارروائی ہو، بلکہ ایسا نظام کی تعمیر بھی ہو جس میں یہ بدعنوان افسر اپنی من مانی نہ کر سکیں اور ایسا نظام انتظامی اصلاحات کو آگے بڑھانے اوربڑے افسروں کی سروس شرائط پر نئے سرے سے جائزہ لینے سے ہی ہو سکتی ہیں۔
(انل نریندر)

23 فروری 2017

کرکٹروں کی منڈی میں غیر ملکیوں کا بول بالا

بنگلورومیں پیر کو انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) کے 10 ویں ایڈیشن میں کرکٹ کھلاڑیوں کی منڈی لگی۔ جم کر بولیاں لگیں۔ اس بار کی نیلامی میں غیر ملکی کھلاڑی چھائے رہے۔ بولی کے لحاظ سے 1 سے8 تک غیر ملکی کھلاڑیوں نے جگہ بنائی۔ کرن شرما جو9ویں مقام پرتھے ممبئی انڈینس نے 3.2 کروڑ روپے میں خریدہ۔ ان کی بیس قیمت تھی 30 لاکھ۔ پہلے نمبر پر انگلینڈ کے آل راؤنڈ بین اسٹوکس کو سب سے مہنگے کھلاڑی کا خطاب ملا۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فائنل کے آخری اوور میں چار چوکے کھانے والے بین اسٹوکس سب سے مہنگے 14.5 کروڑ روپے میں بکے۔ انہیں پونے سپر جوائنٹس نے خریدہ۔ اسٹوکس کو ان کی بنیادی قیمت 2 کروڑ سے سات گنا زیادہ ملی۔ وہ اب تک کے سب سے مہنگے غیر ملکی کھلاڑی ہیں۔ یہی نہیں وہ آئی پی ایل میں کھیل رہے کھلاڑیوں میں رائل چیلنجرس بنگلورو کے کپتان وراٹ کوہلی (15 کروڑ) کے بعد سب سے بڑے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ حالانکہ آئی پی ایل کی تاریخ میں سب سے مہنگے کھلاڑی کا ریکارڈ یووراج سنگھ (16 کروڑ) روپے کے نام ہے جنہیں 2015 ء میں دلی ڈیئر ڈیولس نے خریدہ تھا۔ وہیں ہندوستانیوں میں لیگ اسپینر کرن شرما سب سے مہنگے رہے۔ انہیں کنگس الیون پنجاب نے 3.2 کروڑ روپے میں خریدہ۔ ہندوستانی تیز گیند باز اشانت شرما اور عرفان پٹھان کو خریدار نہیں ملے۔ اشانت شرما کی بنیادی قیمت 2 کروڑ اور پٹھان کی 50 لاکھ روپے تھی۔ آئی پی ایل میں پہلی بار افغانستان کے دو کرکٹروں کو بھی اپنا جلوہ دکھانے کا موقعہ ملا تھا۔ سنرائزرس حیدر آباد نے رشید خان کو4 کروڑ اور آل راؤنڈ محمد نبی کو بنیادی قیمت 30 لاکھ خرچ پر اپنے ساتھ جوڑا۔ راشدکی بنیادی قیمت 50 لاکھ روپے تھی۔ کنگس الیون نے نٹراجن کو 3 کروڑ روپے میں خریدہ ۔و ہ سب سے مہنگے بکنے والے انڈین کھلاڑیوں میں دوسرے نمبر پر رہے۔ نٹراجن کی ماں چنئی میں سڑک کے کنارے ٹھیلا لگا کر کھانے پینے کی چیزیں بیچتی ہیں ، پتا کپڑے کی دوکان میں کام کرتے ہیں۔ ماننا پڑے گا کہ آئی پی ایل ایسے کھلاڑیوں کو اپنا جوہر دکھانے کا موقعہ دیتا ہے جن میں ٹیلنٹ تو ہے لیکن موقعے نہیں ملتے۔ نٹراجن کے پریوار کی تو زندگی سنور گئی۔ آئی پی ایل پیسوں کی کھان بنتی جارہی ہے۔ 2008ء میں پہلے آئی پی ایل سے قریب40 کروڑ روپے کا محصول اکٹھا ہوا تھا وہیں 2016ء میں قریب2300 کروڑ روپے کا ریوینیو حاصل ہوا ۔یعنی 9 سال میں اس لیگ کی آمدنی میں 475 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس ٹائم پیریڈ میں ایسی تیزی دنیا کے کسی دیگر لیگ میں نہیں دیکھی گئی۔ حالانکہ ریوینیو کے معاملے میں ابھی بھی آئی پی ایل دنیا کی دیگر لیگ میں پیچھے ہے ۔ نیشنل فٹبال لیگ (این ایف ایل لیگ)کے معاملے میں دنیا میں سب سے بڑی لیگ ہے۔این ایف ایل (امریکہ) نے پچھلے سیزن میں 13 بلین ڈالر (87 ہزار کروڑ روپے) کا ریوینیو کمایا تھا۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر بھی امریکہ کی ایم بی اے (باسکٹ بال لیگ) ہے یہ امریکہ کی پہلی تین لیگ میں ہے۔ ہماری آئی پی ایل پانچویں نمبر پر آتی ہے۔ آئی پی ایل (انگلینڈ) چوتھے مقام پر ہے۔ آئی پی ایل میں ٹیموں نے 27 غیر ملکی کھلاڑیوں پر 66.4 کروڑ روپے خرچ کئے۔ 39 ہندوستانی کھلاڑیوں پر 24.75 کروڑ روپے خرچ کئے۔ گجرات لوائنس نے سب سے زیادہ11 کھلاڑی خریدے جبکہ رائل چیلنجر بنگلورو نے سب سے کم5 کھلاڑی خریدے۔ آئی پی ایل چیئرمین راجیو شکلا نے بتایا کہ میں اس بات کو لیکر باآور ہوں کہ آئی پی ایل 10 پچھلے سبھی ایڈیشن سے بہتر ہوگا۔ سبھی ٹیموں کو ہمارے شبھ کامنائیں۔ کل تک کے انجان نیلامی کے بعد مشہور ستارے بن گئے۔ اب ان کی پرفارمینس پر نظریں لگ جائیں گی۔
(انل نریندر)

آخر کار پاکستان نے بھی مان لیا حافظ سعید آتنکی ہے

آخرکار پاکستان نے پہلی بار ممبئی حملوں کے سازشی لشکر طیبہ کے سرغنہ حافظ سعید کو دہشت گرد مان لیا ہے۔پاکستانی اخبار ’ڈان‘ نیوز میں شائع رپورٹ میں ایک پولیس افسر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جماعت الدعوی کے چیف کو آتنک واد انسداد قانون کی فہرست میں ڈال دیاگیا ہے۔ خودپر گزری تو تھوڑا ہوش آیا۔ دہشت گردانہ واقعات میں 100 سے زیادہ لوگوں کے بعد ہی صحیح پاکستان نے بھارت کے اس گناہگار دہشت گرد کو دہشت گرد مان لیا ہے۔ اس کے چار دیگر ساتھیوں کو بھی اس فہرست میں شامل کئے جانے کی خبر ہے۔ آتنکی پاکستان کی اس کارروائی کو بھی اس کی منشا کے بجائے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کارروائی کا ڈر اور ہندوستان کی طرف سے بین الاقوامی اسٹیج پر گھیرا بندی کے دباؤ کی شکل میں دیکھا جارہا ہے۔ بہرحال اب بھارت کے لئے یہ ثابت کرنا آسان ہے کہ کس طرح تمام دہشت گردوں کو پاکستان پہلے بچاتا ہے اور پھر دباؤ پڑنے پر ان کے خلاف کارروائی کرتا ہے۔ اے ٹی اے (انسداد دہشت گردی ) قانون میں ڈالنے کا مطلب صاف ہے کہ یہ سبھی شخص کسی نہ کسی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شامل رہے ہیں۔ لہٰذا پاکستان اب قانونی طور پر یہ اعتراف کررہا ہے کہ حافظ سعید آتنکی ہے۔ پاکستان کے اس قانون کے مطابق اس فہرست میں شامل لوگوں کی پراپرٹیاں ضبط کرلی جاتی ہیں۔ ان کے پرانے سبھی دھندوں کی جانچ کی جاتی ہے۔ ان کے پیسے کے حساب کتاب کی جانچ کی جاتی ہے۔ ان کے کسی بھی باہری شخص سے ملنے جلنے پر روک لگ جاتی ہے ساتھ ہی ان کے خلاف دہشت گردی سرگرمیوں میں شامل ہونے کے الزامات کی جانچ کی جاتی ہے۔ سعید 30 جنوری 2017 ء سے نظر بند ہے لیکن پاکستان نے اس سے پہلے 2008ء میں بھی اسے گرفتارکیا تھا۔ فرق یہ ہے کہ اس بار جس قانون کے تحت اس کا نام شامل کیاگیا ہے وہ پہلے سے کافی سخت ہے۔ ہندوستانی سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق حافظ سعید اور قاری کاشف پچھلے کچھ عرصے سے کشمیر مسئلے پر لگاتار نہ صرف پبلک ریلیاں کررہے تھے بلکہ بھارت کو کھلے عام سرجیکل اسٹرائک اور کشمیر معاملے پر انجام بھگتنے کی دھمکی دے رہے تھے لیکن پاک آگے سعید کو لیکر سختی دکھائے یا نہ دکھائے ، بھارت اس کے خلاف جو باتیں کررہا تھا اسے پاکستان حکومت نے بھی ایک طرح سے منظور کرلیا ہے۔ ابھی تک توپاکستان ہمیشہ کہتا رہا ہے کہ سعید کی سرگرمیاں پوری طرح سے راحتی کام و سیاسی ریلیوں تک محدود ہیں۔ اس سے پاک میں پھل پھول رہی ان جہادی تنظیموں پر تھوڑا لگام لگے گی۔
(انل نریندر)

22 فروری 2017

تیسرے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد اب چوتھے دور پر فوکس

اسمبلی چناؤ میں اس مرتبہ اپنی سرکارچننے کا جوش کچھ زیادہ ہی ہی کیونکہ یوپی اسمبلی چناؤ کے تیسرے مرحلہ میں بھی ووٹر فرسٹ ڈویژن پاس ہوئے۔ تیسرے مرحلہ میں 12 ضلعوں میں 69 سیٹوں پر 61.16 فیصد ووٹ پڑے تھے۔ پولنگ پر امن رہی۔ جہاں بھی اکا دکا جھگڑے کی خبریں آئیں تھیں وہ پولنگ مرکزوں کے 20 میٹر کے دائرے کے باہر ہوئی تھیں۔ ایتوار کو ووٹنگ کے بعد سب بولے ہماری سرکار بنے گی۔ سماجوادی پارٹی کے سرپرست ملائم سنگھ یادو نے کہا کہ سپا۔ کانگریس اتحاد 300 سے زیادہ سیٹوں پر جیت کر سرکار بنائے گا۔ اکھلیش یادو وزیر اعلی بنیں گے۔ شیو پال کی سرکار میں نمبر دو کی حیثیت ہوگی۔ جسونت نگر اسمبلی حلقہ کے سفئی گاؤں کے ابھینو اسکول میں ووٹ ڈال کر نکلے ملائم نے کہا پورا کنبہ ایک ہے کوئی تضاد نہیں ہے۔ اکھلیش کو وزیر اعلی بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے پولنگ کے بعد اعتماد ظاہر کیا کہ اترپردیش میں بھاجپا کی مکمل اکثریت والی سرکار بننے جارہی ہے۔ وزیر اعظم مودی کو لیکر حریفوں کے ذریعے باہری بنام یوپی اشو پر سوال کئے گئے لیکن راجناتھ نے اس کا کوئی سیدھا جواب نہیں دیا لیکن کہا کہ 11 مارچ کا انتظار کریں۔ تیسرے مرحلہ کی پولنگ کے بعد بسپا چیف مایاوتی نے کہا دو مرحلوں میں جو ووٹ پڑے ہیں اس کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتی ہوں تیسرے مرحلہ میں بھی ووٹ کے معاملے میں بسپا نمبر ون رہے گی اور آگے کے مرحلوں میں بھی سب سے آگے رہے گی۔ مایاوتی نے کہا یوپی کی جنتا تبدیلی چاہتی ہے وہ سپا کے غنڈہ راج اور جنگل راج سے تنگ آچکی ہے۔ تیسرے مرحلہ کی پولنگ ختم ہونے کے بعد سیاسی پارٹیوں کی توجہ اور زور اب چوتھے دور پر ہے۔ بندیل کھنڈ سیاسی پارٹیوں کے ایجنڈے کا حصہ ہے اور یہ اتفاق ہے کہ چوتھے مرحلہ میں ویروں کی یہ زمین بھی مقابلے میں ہے۔ بندیل کھنڈ کے سات اضلاع سمیت بارہ ضلعوں کی 53 اسمبلی سیٹوں پر 23 فروری کو پولنگ ہوگی۔ نہرو ۔گاندھی پریوار کے اس گڑھ میں داؤ پر یوپی کے دو لڑکوں کی دوستی لگی ہوئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعے یوپی کو مائی باپ کا درجہ دے کر، خود کو گود لیا بیٹا بتائے جانے کے بعدرشتوں کی جنگ تیز ہوگئی ہے۔ گنگا جمنی جیسی ندیوں کے دائرے میں چوتھے مرحلہ کا علاقہ بسا ہے۔ بندیل کھنڈ کے علاوہ رائے بریلی، پرتاپ گڑھ، فتح پور، کوشامبی اور الہ آباد اس کے حصے ہیں اس لئے عام آدمی کے سر پر بھی سیاست چڑھ کر بولتی ہے۔ اس بار کے چناؤ میں رائے بریلی کا پورا تجزیہ بدل گیا ہے۔ یہاں کی کل7 سیٹوں میں سے پچھلی بار 5 سیٹوں پر سپا جیتی تھی۔ 1 کانگریس اور پیس پارٹی کے حصے میں 1 آئی تھی۔اس بار تلوئی سیٹ امیٹھی میں چلی گئی ہے کانگریس اور سپا کی دوستی کے بعد چناوی پیروکاروں کے دل اور زبان دونوں بدلے ہیں۔ پچھلی مرتبہ پیس پارٹی سے چناؤ جیتنے والے سنجے سنگھ نے اپنی بیٹی ادیتی سنگھ کو کانگریس کے ٹکٹ پر میدان میں اتارا ہے۔ وہ پچھلی بار سپا اور کانگریس دونوں پر حملہ آور تھے لیکن اس بار دونوں پارٹیوں کیلئے وفادار ہیں۔ اسی ضلع کی اونچاہار سیٹ پر سپا سے سرکار کے وزیر منوج پانڈے کی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔ یہاں سپا اور کانگریس دونوں پارٹیاں آپس میں مقابلے میں ہیں۔ اس سے بھی خاص بات یہ ہے کہ منوج پانڈے کے مقابلے میں بھاجپا نے یوپی لیڈر اپوزیشن سوامی پرساد موریہ کے لڑکے اتکرشٹ موریہ کو میدان میں اتارا ہے۔ باندہ ضلع بسپا کے لئے کئی معنوں میں اہم ہے۔ بسپا کے قد آور لیڈر نسیم الدین صدیقی کا یہ آبائی ضلع ہے۔ 4 سیٹ والے اس ضلع میں پچھلی بار 2 کانگریس،1 سپا،1 بسپا کو ملی تھی دیکھیں زبردست ووٹنگ کا یہ سلسلہ چوتھے دور کی پولنگ میں بھی رہتا ہے ؟
(انل نریندر)

ہم دوسروں سے کیا لڑیں، ہمارے اپنے ہی ہرانے میں لگے ہیں

اترپردیش اسمبلی چناؤ کا دور چل رہا ہے۔ وزیر اعلی اکھلیش یادو کے لئے یہ کسی اگنی پریکشا سے کم نہیں ہے۔ 25 سال کی عمر پار کررہی سماجوادی پارٹی نے ابھی تک سبھی چناؤ ملائم سنگھ یادو کی قیادت میں لڑے ہیں۔ یہ پہلا چناؤ ہے جس میں اکھلیش یادو نہ صرف پارٹی کا چہرہ ہیں بلکہ پارٹی کی کمان بھی انہی کے ہاتھوں میں ہے۔پارٹی کی ہار یا جیت دونوں کی ذمہ داری انہی کی ہوگی۔ پارٹی کے جیتنے کا سہرہ انہی کے سر پر بندھے گا لیکن ہار کا ٹھیکرہ بھی انہی پر پھوٹے گا۔ اس لئے یہ چناؤ اکھلیش یادو کے لئے کسی اگنی پریکشا سے کم نہیں ہوں گے۔ اکھلیش کوایک ساتھ کئی محاذ پر لڑنا پڑ رہا ہے۔ کبھی کبھی وہ حالات سے مایوس بھی ہوجاتے ہیں۔ بارہ بنکی میں سپا امیدوار اروند سنگھ گوپ کی حمایت میں ریلی کرنے پہنچے اکھلیش نے کنبہ پرستی پر اموشنل ہوتے ہوئے کہا کہ اپنے لوگ بھی مجھے ہرانا چاہتے ہیں، ہم کس کس سے لڑیں؟ وہیں بینی پرساد ورما پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کمال کے لیڈر ہیں جو پتا سے ہی جھگڑا کرادیتے ہیں۔ اگر ان کا بیٹا ہم سے ملتا تو ہم ان کے پریوار میں جھگڑا کرا دیتے۔ اکھلیش نے کہا اروند سنگھ گوپ نے سائیکل بچانے میں ہماری مدد کی ہم بسپا ۔بھاجپا سے کہاں تک لڑیں ہمارے تو اپنے ہی ہمیں ہرانے میں لگے ہوئے ہیں۔ گوپ کے لئے انہوں نے کہا خراب وقت میں کام آنے والے ساتھیوں کو ہم نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم نے تو وہ دن دیکھا ہے کہ ہمیں ہی پارٹی سے نکال دیا گیا۔ جن لوگوں نے ہمیں اپنوں سے دور کیا وہ اپنوں کے لئے ٹکٹ مانگ رہے تھے۔ میرے خلاف کئی سازشیں ہوئیں۔ کمال کے نیتا ہیں ہمارے پتا سے ہی ہمارا جھگڑا کروادیا۔ اب یوپی کے چوتھے مرحلہ میں 12 اضلاع کی 53 سیٹوں پر گھمسان مچا ہوا ہے۔ چوتھے مرحلہ میں 23 فروری کو ووٹ ڈالے جانے ہیں ۔ مگر اس مرحلہ میں سپا ۔بھاجپا۔ بسپا اور کانگریس پوری طاقت سے کمپین میں لگی ہوئی ہیں۔ سال2012ء کے چناؤ میں اس علاقہ سے سب سے زیادہ سیٹیں سپا کے کھاتے میں گئیں تھیں۔ سپا کو اکثریت ملنے کے سبب اس کی سرکار بنی تھی لیکن اس بار سپا کو چنوتی اپنوں سے مل رہی ہے۔ سماجوادی پارٹی میں اندرونی رسہ کشی کا چلن پرانا ہے۔ کئی ناکام ٹکٹ یافتگان نے 2012ء میں ہوئے اسمبلی چناؤ کے دوران اپنے ساتھیوں کے ساتھ کمپین کیا تھا۔ انہیں ہرانے کے لئے ورکروں کو متحد کرنے کی پر زور کوشش کی تھی۔ اس بات کا خلاصہ خود پروفیسر رام گوپال یادو نے اس وقت سپا کے پردیش ہیڈ کوارٹر پر ملائم سنگھ یادو کے سامنے کیا تھا۔ اسی پرانی رسہ کشی کو روکنے کیلئے اکھلیش ایڑھی چوتی کا زور لگائے ہوئے ہیں۔
(انل نریندر)

21 فروری 2017

فوج کے چیف کی وارننگ پر گھٹیا سیاست

ہمارے دیش کی یہ بدقسمتی ہے کہ ہم گھٹیا سیاست کرتے وقت یہ بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا اثر دیش کی سکیورٹی ایجنسیوں پر و دیش کے اتحاد و سالمیت پر کیا پڑے گا؟ بری فوج کے سربراہ جنرل وپن راو ت نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ کشمیر میں آئی ایس آئی اور پاکستان کا جھنڈا لہرانے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ فوج کے آپریشن کے دوران پتھر بازی یا دیگر طریقے سے رکاوٹ ڈالنے والوں کو دہشت گردوں کا ساتھی سمجھا جائے گا۔ آخر اس بیان میں کیا نامناسب یا قابل اعتراض ہے؟ ساؤتھ کشمیر میں ایتوار۔ پیر اور منگل کے واقعات صاف اشارہ دے رہے ہیں کہ کشمیر کی دہشت گردی نہ تو سرجیکل اسٹرائک سے ختم ہونے والی ہے اور نہ ہی نوٹ بندی سے۔ ایتوار کو کلگام ضلع میں 6 لڑکوں کے مارنے جانے سے وادی میں پھر کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ ایک طرف سکیورٹی فورس کو دہشت گردوں سے مڈ بھیڑ کرنے پڑ رہی ہے تو دوسری طرف جنتا سے پتھراؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن ویکن کا سہارا لے کر کانگریس سمیت کئی دیگر پارٹیوں کے لیڈروں نے فوج کے سربراہ کے خلاف افسوسناک مورچہ کھول دیا ہے۔ ایسا کرکے انہوں نے صرف گھٹیا اور خطرناک سیاست کا ثبوت دیا ہے بلکہ کشمیر کی پتھر بازوں اور سڑکوں پر اترنے والے پاکستان پرست عناصر کو نوازہ بھی گیا۔ کیا فوج کے براہ کے بیان پر احتجاج کرنے والوں میں نیتا یہی چاہ رہے ہیں کہ دہشت گردوں سے مڈ بھیڑ کے دوران سکیورٹی فورس ایک ٹائم پر دونوں مورچوں پر لڑے؟ اگر فوج ایسے موقعہ پر پتھر بازوں پر کارروائی کرتی ہے تو ان لوگوں کو بوکھلاہٹ ہوجاتی ہے۔ اس حالت کے لئے ہماری سرکاریں مرکز و ریاستی سرکار کچھ حد تک خود ذمہ دار بھی ہے۔ آپ نے فوج کو کھلے احکامات کیوں نہیں دئے کہ وہ ایسے موقعوں پر دونوں مورچوں پر سختی کرے اور ضرورت پڑنے پر ان دہشت گردوں کو مدد پہنچانے والوں پر بھی اسی طرح کی کارروائی کرے جیسے دہشت گردوں سے کی جاتی ہے۔ آپ نے تو فوج کو پیلٹ گنوں کے استعمال پر بھی تنازعہ میں کھڑا کردیا۔ کیا ہمارے جوان ہاتھ پیچھے بندھے ان خرافاتی عناصر سے نمٹ سکتے ہیں؟ آخر کب تک ہم اپنے بہادر جوانوں کی شہادت دیکھتے رہیں گے؟ آخر فوج کے سربراہ کے بیان کی مخالت کرنے والے یہ کیسے بھول سکتے ہیں کہ کشمیر میں صرف پچھلے ہفتے ایک میجر سمیت 6 جوان شہید ہوچکے ہیں۔ شاید ہی کسی نیتا نے ایسا کچھ کہا ہو کہ8 دہشت گردوں کو مارگرانے میں 6 فوجیوں کی شہادت قبول نہیں۔ فوج کے سربراہ کے خلاف طرح طرح کے تانے کس رہے ہیں۔نیتاؤں کو کیایہ پتہ نہیں کہ ہنڈوارہ میں دہشت گرد سے مڈ بھیڑ کے دوران زخمی میجر صحیح وقت پر ہسپتال نہیں پہنچایا گیا ہوتا تو اس وجہ سے بھی مشتعل بھیڑ نے نہ صرف فوج کی گاڑیوں کا راستہ روکا بلکہ ان پر پتھراؤ بھی کیا۔ یہ کتنی شرمناک بات ہے جب ایسے واقعات کے بعد پتھر بازو کی ایک آواز کی مذمت ہونی چاہئے تب ان کا حوصلہ بڑھانے کی الٹی کوششیں ہو رہی ہیں؟ لعنت ہے ایسے لوگوں پر جو فوجیوں کی شہادت پر منہ بند کرلیتے ہیں اور فوج اور سکیورٹی فورس کی ناک میں دم کرنے والے عناصر کو یہ آگاہ کئے جانے کے خلاف بلبلا جاتے ہیں۔ سیاست چلتی رہتی ہے لیکن سیاست کی بھی حد ہونی چاہئے۔ دیش کی سلامتی ،اتحاد و سالمیت کو برقرار رکھنے والے ان بہادر جوانوں کو ہم سلام کرتے ہیں اور ان کی شہادت پر سوال اٹھانے والوں کی پرواہ نہ کرکے اپنا کام جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہیں۔ ہم فوج کے سربراہ وپن راوت کی وارننگ کی پوری حمایت کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

دنیا کیلئے سب سے بڑا خطرہ بنتا پاکستان

پاکستان میں صوفی سنت لال بہادر شاہ باز قلندر کی درگاہ میں جمعرات کو ہوئے فدائی حملہ نے ایک بار پھر دنیا کو دکھا دیا ہے کہ دنیا کے لئے سب سے خطرناک ملک پاکستان ہے۔ اس حملہ کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ نے لی ہے۔ اس حملہ میں کم سے کم 100 لوگوں کی موت ہوگئی ہے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ سندھ صوبے کے سیہوان قصبے میں واقع اس درگاہ میں جمعرات کی شام کو صوفی رسم گھمال کے چلتے زائرین کی بھاری بھیڑ تھی اس وقت فدائی حملہ آور نے خود کو بلاسٹ کر اڑالیا۔ مرنے والوں میں بچے، عورتیں بھی شامل ہیں۔ لال شاہ باز قلندر 12 ویں صدی کے مشہور صوفی دارشنک اور کوی رہے ہیں اور ’دما دم مست قلندر‘ کی مشہور قوالی بھی ان کے بارے میں ہے۔ پاکستان ہی نہیں دنیا میں بھی سندھی سماج شاہ باز قلندر کا مرید ہے۔ پاکستان میں صوفی فرقے کے لوگوں کو نشانہ بنا کر اکثر حملے ہوتے رہتے ہیں۔ 2005ء کے بعد سے 25 سے زیادہ صوفی درگاہوں پر حملے ہوئے ہیں۔ اس میں زیادہ تر کی ذمہ داری تحریک طالبان نے لی ہے۔ جمعرات کے حملے کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ نے لی ہے۔ شام اور عراق میں جس آئی ایس آئی کے پیر اکھڑ رہے ہیں اس کی اس سیکٹر میں موجودگی کو ہلکے سے نہیں لیا جاسکتا۔ صرف یہی نہیں کہ قاتلوں نے اس درگاہ پر حملہ کر اصلاح پسند اسلام کے خلاف سخت پیغام دیا ہے بلکہ انہوں نے حملے کے لئے بھی وہ دن چنا (جمعرات) جب گھمال کے لئے وہاں بھیڑ اکھٹی ہوتی ہے۔ یہ حملہ پہلے سے ہی شورش زدہ پاکستان میں سندھیوں کی پہچان اور کلچر کو ٹھیس پہنچانے کی ایک اور کوشش ہے۔ ممبئی حملے کے بعد امریکہ کے سابق خارجہ سکریٹری میڈلن البرائٹ نے دسمبر2000 ء میں کہا تھا کہ دہشت گردی اور کرپشن ، غریبی اور نیوکلیائی ہتھیاروں کی وجہ سے پاکستان دنیا کے لئے درد سر بن گیا ہے لیکن اب یہ صرف درد سر نہیں رہا ہے۔ البرائٹ سے ایک دم آگے جاتے ہوئے امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ایک سابق افسر نے کہا پاکستان ممکنہ طور پر دنیا کے لئے سب سے خطرناک دیش ہے۔ پاکستان کی حالت آج کیا ہے اسی سے پتہ چلتا ہے ۔جمعرات کو شاہ باز قلندر کی درگاہ پر ہوئے دھماکہ اس ہفتے کا پانچواں بڑا آتنکی حملہ ہے۔ پہلے لاہور، کوئٹہ، پیشاور اور محمد قبائلی علاقے میں فدائی حملے ہوچکے ہیں۔ آئی ایس اور طالبان پاکستان میں شیعوں اورصوفی درگاہوں اور مساجد کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ سال 2005ء سے اب تک ملک میں قریب 25 درگاہوں پر حملے ہوچکے ہیں۔ اسلام آباد میں سی آئی اے کے سابق اسٹیشن چیف کیبن الورٹ نے خبردار کیا ہے پاکستان کا ناکام ہونا خفیہ کیلئے ایک سنگین وارننگ ہے۔
(انل نریندر)

19 فروری 2017

قیدی نمبر9435 ، عرش سے جیل کے فرش تک

تاملناڈو میں وزیر اعلی بننے کا انتظار کررہی انا ڈی ایم کے سکریٹری جنرل ششی کلا کی نئی پہچان بنگلورو سینٹرل جیل میں قیدی نمبر9435 ہے۔ یہاں پر 61 سالہ تاملناڈو کے اقتدار کے اعلی مقام پر پہنچنے کا انتظار کرتے کرتے 8x10 کی ایک کال کوٹھری میں پہنچ گئی ہیں۔ ششی کلا نے اپنی پہلی رات فرش پر سو کر بتائی ۔ انہو ں نے جج سے خاص سہولیات والی کوٹھری مانگی تھی جو نامنظور ہوگئی۔ دلچسپ یہ ہے کہ وہ سال2014ء میں بھی اگراہا جیل میں 21 دن گزار چکی ہیں۔ ششی کلی کے ساتھ جیل کی اس کوٹھری میں دو اور عورتیں بھی ہیں جن میں سے ایک خون کے الزام میں سزا کاٹ رہی ہے اس نے 6 خون کئے تھے۔ جیل یاترا کرنے سے پہلے ششی کلا جے للتا کی سمادھی پر گئی تھیں۔ یہاں ششی کلا نے کچھ ایسا رویہ اپنایا جس سے لوگ حیرت زدہ ہوگئے۔ بنگلورو کی عدالت میں سرنڈر کرنے کے لئے جاتے وقت ششی کلا مرین بیچ میں واقع جے للتا کی سمادھی پر شردھانجلی ارپت کرنے کے لئے کچھ دیر روکیں ۔ اس دوران انہوں نے سمادھی پر تین بار ہاتھ مارا۔ اس وقت ان کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ لگاتارکچھ بڑ بڑا رہی تھیں جسے سنا نہیں جاسکا۔ ششی کلا کے حمایتیوں کا کہنا ہے انہوں نے سمادھی پر تین بار ہاتھ مار کر تین عہد کئے۔
انا ڈی ایم کے کی جانب سے ٹوئٹ کرکے بتایا گیا ہے کہ ششی کلا نے باچھا، کپٹ اور اپنے خلاف سازش سے عبور پانے کاعہد کیا۔ کچھ لوگ اس بار قیاس آرائیاں لگا رہے ہیں کہ جے للتا کی پارٹی اور سرکار پر ششی کلا نٹراجن کا قبضہ ہوگیا ہے لیکن جے للتا کی بے حساب دولت کا کیا ہوگا؟ کیا یہ بے حساب دولت جو اس وقت کرناٹک حکومت کے پاس جمع ہے، تاملناڈو کے خزانے میں جائے گی؟ بتا دیں کہ کرناٹک سرکاری خزانے میں جمع 6 کروڑ روپے کی سونے اور ڈائمنڈ کے زیورات اور 20 لاکھ روپے کی چاندی کی مورتیاں اور 2140 ساڑیاں اور750 جوڑی جوتیاں چپلیں اور 15 لاکھ روپے سے زیادہ کا دیگر سامان اب تاملناڈوسرکار کے حوالے کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے اثاثہ سے زیادہ املاک کے معاملے میں اپنے حکم میں کہا ہے تاملناڈوکی سابق وزیر اعلی جے للتا پر لگائے گئے 100 کروڑ کے جرمانے کی رقم ان کی پراپرٹی سے وصولی جائے گی۔ جے للتا پر عائد 100 کروڑ روپے کے جرمانے سے 3 کروڑ روپے کرناٹک سرکار کو ملیں گے جو جے للتا اور ان کی قریبی سہیلی ششی کلا، سدھاکرن اور الاوراسی کے خلاف چلے مقدمے میں خرچ ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ششی کلا ، سدھاکرن اور الاوراسی تینوں پر 10-10 کروڑ روپے کا جرمانہ کیا گیا ہے جن کی وصولی ان کے کیش ڈپازٹ اور ان کی ضبط پراپرٹی سے ہوگی۔ ششی کلا فی الحال جیل میں موم بتی بنائیں گی۔ جس کے عوض میں انہیں 50 روپے مزدوری ملے گی۔
(انل نریندر)

جان لیوا آلودگی پر کنٹرول کیسے ہو

دہلی ۔ این سی آر میں ہوائی آلودگی پر اکثر تشویشات ظاہر کی جاتی رہی ہیں۔ کچھ قدم وقتاً فوقتاً اٹھائے بھی جاتے رہے ہیں لیکن تب بھی یہ قابو میں نہیں آرہی ہے۔ پیر کو سپریم کورٹ میں یہ معاملہ آیا اور کورٹ نے کہا دہلی میں آلودگی والی بیماریوں سے روزانہ اوسطاً 8 لوگوں کی موت ہوجاتی ہے۔ بڑھتی پریشانی کو دیکھتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے مرکزی سرکار کو حکم دیا کہ این سی آر میں انڈسٹریز میں استعمال ہونے والے سلفر ملے کیمیکل اور تیل پر چار ہفتے کے اندر روک لگائیں کیونکہ یہ آلودگی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے دہلی میں آلودگی روکنے کے لئے سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ، دہلی حکومت، ہریانہ ۔ یوپی اور راجستھان حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ دو ہفتے کے اندر میٹنگ کرکے کارگر منصوبہ تیار کریں۔ جسٹس ایم۔ بی ۔لوکر اور جسٹس پی۔ سی۔ گھوش کی بنچ نے مرکز کی اس دلیل کو بھی مسترد کردیا جس میں صنعتوں میں استعمال ہونے والے فنائل، تیل اور دیگر کیڑے مار دواؤں کو ہٹانے کے لئے 8 ہفتے کا وقت مانگا تھا۔ ہوائی آلودگی کا مسئلہ صرف دہلی۔ این سی آر تک ہی محدود نہیں ہے۔ امریکہ کی نامور ہیلتھ امپیکٹ انسٹی ٹیوٹ نے ویلنٹائن دے پر جاری اپنی رپورٹ میں بھارت کے ایئرپالوشن کنٹرول کو لیکر بڑی خطرناک تصویر پیش کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ آب و ہوا میں پی ایم 2.5 ذرات کی حد سے زیادہ موجودگی کے چلتے سن2015ء میں بھارت میں 11 لاکھ وقت سے پہلے اموات ہوئیں جو اسی وجہ سے چین میں ہوئی اموات کے برابر ہیں۔ پوری دنیا میں اس سال42 لاکھ لوگوں کی اچانک موت ہوئی جس میں آدھی سے زیادہ 22 لاکھ موتیں صرف بھارت اور چین میں ہوئیں تھیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کی شہری آب وہوا میں پی ایم2.5 ذرات کی موجودگی گھٹانے کے لئے ٹھوس قدم شروع ہوچکے ہیں لیکن بھارت میں کئی وزیر سرکاری طور پر بیان دیتے رہتے ہیں کہ ہوائی آلودگی یہاں کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ ایسے میں بھارت جلد ہی ہوائی آلودگی سے ہونے والی اموات کے معاملے میں چین کو کافی پیچھے چھوڑ دے گا اور اس معاملے میں دنیا کا کوئی بھی دیش اس کے آس پاس نظرنہیں آئے گا۔ سپریم کورٹ نے کہا دہلی میں آلودگی سے نمٹنے کے لئے دہلی سے زیادہ ایکشن لینے کی ا س لئے بھی ضرورت ہے کیونکہ سال2010ء کی بوسٹن کے ایک ادارے کی رپورٹ کے حوالے سے کورٹ نے کہا کہ قومی راجدھانی دہلی میں روزانہ 8 لوگوں کی آلودگی کی وجہ سے موت ہوجاتی ہے جو نہ صرف تکلیف دہ ہے بلکہ سبھی کے لئے باعث تشویش ہے۔
(انل نریندر)