Translater

10 جنوری 2026

مادورو کو اچانک اقتدار سے ہٹایا تو کیا ہوگا؟



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعہ مادورو کو پکڑنے کیلئے فوجی کاروائی کومجازکرنے سے ٹھیک پہلے امریکہ کی خفیہ سروس، سی آئی اے نے ایک خفیہ تجزیہ پورا کیا جس میں یہ جانچ کی گئی کہ مادورو کو اچانک اقتدار سے ہٹایا جاتا ہے تو وینزویلا کی اندورونی صورت حال کیسی ہوگی؟نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کی مطابق ٹرمپ کے ذریعہ سیدھی کاروائی کے خطرات اور نتائج کا تجزیہ کرنے کے دوران سینئر انتظامی حکام نے خفیہ تجزیہ جائزہ کی درخواست کی تھی ۔رپورٹ میں امریکی قیادت میں تختہ پلٹ کے امکان پر کم اور مادورو کے لئے باقائدہ اخراج پس منظروں پر زیادہ توجہ مرکوز کی گئی تھی،جس میں بات چیت  کے ذریعے سےسمجھوتے مسلسل امریکی دباؤ اور عبوری قدم کی شکل میں طاقت استعمال شامل تھے۔خفیہ تجزیہ سے واقف لوگوں نے بتایا کہ سی آئی نے مادورو کو عہدہ چھوڑنے کیلئے ایک ہی امکانی نتیجہ کا تصور کرنے کے بجائے کئی متبادلوںپر بھی غور کیا ان میں بات چیت کے ذریعہ اقتدارمنتقلی شامل تھی،جس میں مادورو مرضی سے عہدہ چھوڑ تے، پابندیوںاور پراپرٹی ضبطی کے ذریعے سے دباؤ بڑھا نااوردیگر متبادل فیل ہونے پر زبردستی اخراج کا امکان شامل تھا۔اس تجزیہ کا مقصد ٹرمپ کے ذریعے وینزویلا کے ایک انتہائی محفوظ فوجی ٹھکانے کے خلاف بڑی خطرے والی مہم کی منظوری دینے پر غور کرتے وقت اعلی سطحی فیصلہ لینے میںمارگ درشن کرنا تھا۔رپورٹ سے واقف حکام نے کہا کہ اس نے صدر کے فائنل فیصلے کو متاثر کرنے میں اہم رول نبھایا۔سی آئی اے کی نظر میں سب سے ممکنہ جانشین کون تھا ؟اس تجزیہ کے سب سے اہم ترین نتیجوں میں ایک جانشین پر اس کانقطہ نظرتھا،نائب صدر ڈیلسی روڈرگز،روڈرگز کو اس شخص کی شکل میں پہچانہ جو مادورو کو ہٹائے جانے کی صورت میں فورا اقتدار سنبھالنے کےلئے موزوں تھی حالانکہ کچھ سانسدوں اوروینزویلا کے شہریوں نے اپوزیشن لیڈرماریہ کورینہ چمانڈو کو امکانی متابادل لیڈر کی شکل میں دیکھا ہے،لیکن خفیہ جائزوں نے اس بات پر شبہ جتایا ہے کہ کیا انکے پاس مادورو کے بعدکی حالت میں جلدی سے اقتدار سنبھالنے کیلئے تنظیمی ڈھانچہ یا سیاسی اثر ہے ؟خفیہ معلومات سے واقف حکام کے مطابق، سی آئی اے کو شبہ تھا کہ کیا اپوزیشن عوامی حمایت کو سرکاری اداروں فوج اور سکورٹی سروسزپر موثر کنٹرول میں بدل پائے گا؟یہ تشویش نظریاتی نہیں بلکہ ضروری سچائی تھی:صاف اور با قاعدہ جانشین کے بے غیر مادورو کو ہٹانے سےعدم استحکام کم ہونے کے بجائے اور بڑھ سکتا تھا سی آئی اے کا یہ تجزیہ صحیح ثابت ہوتا نظر آ رہا ہے۔ وینزویلامیںنہ تو اقتدار تبدیلی ہوئی اور نہ ہی موجودہ سرکار اور شہریوں میں امریکہ کے تئیں حمایت بڑھتی نظر آ رہی ہے نکولس مادورو کو ہٹا دیا لیکن فی الحال انکے جانشین ڈیلسی روڈریگز ویسے ہی باتیں کر رہی ہے جیسے مادورو کرتے تھے۔آگے چل کر بدل جائے تو اور بات ہے ابھی تو وینزویلاکے نگرا صدر ڈیلسی روڈرگزنے کہا ہے کے دیش پر وینزویلاکی سرکار، حکومت کر رہی ہے، نہ کہ کوئی غیر ملکی طاقت۔انہوںنے امریکی صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا جنہو ںنے کہا تھاکہ انہیںوینزوئلا تک پوری پہنچ چاہئےروڈرگز کا کہنا تھا یہاں کوئی جنگ نہیں ہےچونکہ ہم جنگ میں نہیں ہیں ہم ایک امن پسند لوگ ہیں ایک طاقتور دیش ہیں جس پر حملہ کیا گیاانکا یہ تبصرہ اس وقت آیا جب امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وینزویلاکے عبوری افسران 3 سے 5 کروڑبیرل ممنوعہ تیل امریکہ کو ٹرانسفر کریں گے۔
(انل نریندر)

08 جنوری 2026

انکیتا بھنڈاری کیس کا سچ سامنے آنا چاہئے!

انکیتا بھنڈاری ہتیا کانڈ میں وی آئی پی کا نام سامنے آنے کے بعد انصاف کی مانگ نے نئے سرے سے طول پکڑ لیا ہے۔سماجی انجمنوں اور کانگریس نے اتوار کو عدالت کی نگرانی میں سی بی آئی جانچ کو لیکر بڑے سطح پر مظاہرہ کیا ۔ورکروں نے دہرادون میں سی ایم ہاؤس تک جانے کی کوشش کی ۔ادھر دہلی کے جنتر منتر پر بھی انصاف کی مانگ پر مظاہرے کیلئے بڑی تعداد میں لوک جمع ہوئے ۔اس مسئلہ کو لیکر 11جنوری کو اتراکھنڈ بند کا اعلان کیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ آنے والے دنوں میں مشعل جلوس اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہنے کی امید ہے بتا دیں انکیتا بھنڈاری کیس کیا ہے ؟انکیتا بھنڈاری ونتارا روایزورٹ میں استقبالیہ کی حیسیت سے کام کرتی تھی ۔18 ستمبر 2022 کو وہ اچانک لاپتہ ہو گئی۔کچھ دنوں بعد اس کی لاش ندی سے ملی روایزورٹ کی مالک پلکت آریہ 2 ملازمین کو گرفتار کر لیا گیاکورٹ میں انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ انہیں قتل ،ثبوت مٹانے و دیگر سنگین الزامات کے تحت سزا ملی۔کورٹ نے انکیتا کے پریوار کو معاوضہ دینے کا حکم دیا۔حال ہی میں انکیتا کیس نے شوشل میڈیا اور کچھ ویڈیو آڈیو کلپ کی وجہ سے وی آئی پی کا نام سرخیوں میں آیا حالانکہ پولس نےایسے کسی بھی شخص کے رول سے انکار کیا ہے۔ارملا سناور نام کی عورت نے یہ کلپ شیئر کئے تھے ۔جس میں ایک شخص کو گٹو نام کا بتایا گیا۔ اس کے بعد بڑے نیتا یعنی وی آئی پی کا نام سامنے آیا۔الزام لگا کی وی آئی پی بی جے پی کا ایک سینئر لیڈر ہے اتراکھنڈ مہیلا منچ کے بلاوے پر 4 جنوری کو دہرادون میں زبردست مظاہرہ کیا گیا ۔احتجاج کو اتراکھنڈ کرانتی دل ،کانگریس اور کئی تنظیموں حمایت دےرہی ہے کنر بھی انصاف کےلئے سامنے آئے ہیں۔ اس پورے معاملے میںسی بی آئی جانچ ،وی آئی پی کا نام اور اتنے اندیشے بڑھ رہے ہیں انکی جانچ کرونے کو لیکر اتراکھنڈ مہلامنچ کے جانب سے کئے گئے مظاہرے میں ہزاروں لڑکوں نے بھی حصہ لیا۔دہرہ دون میں اس مظاہرے کے دوران پولس و کانگریس ورکروں کے دوران زبردشت ٹکراؤ ہوا وہی بھاجپا نے ضلع ہیڈ کواٹر میں انکیتا بھنڈاری معاملے کولیکر کانگریس پر جھوٹ پھیلانے کا الزام لگایا کانگریس کے پتلے جلائے گئے۔کانگریس اتراکھنڈ کرانتی دل مہلا منچ لیفٹ پارٹیوں اور سماجی تنظیموں کے ورکر پریڈ گراؤنڈ میں جمع ہوئے اور وزیر اعلی کی رہائش گاہ کے جانب بڑتے ہوئے قتل معاملے میں سفید پوس کے معاملے کا پتہ لگنے کے بعد اس کی جانچ سی بی آئی کو سونپنے کی اپنی مانگ کو دہرایااس احتجاجی مارچ میں شامل کمنسٹ پارٹی(مالے)کے ریاستی سکریٹری اندریش مخوری نے کہا قتل کانڈ کی جانچ میں لگے پولس افسر شیکھر سچال کے زریعے میں کسی وی آئی پی کے ملوث نہ ہونے کے متعلق بنان سے متفق نہیں ہوا جا سکتا۔ نکھوری نے کہا انکی مانگ ہے مانگے کی جانچ سپریم کورٹ کے جج کے نگرانی میں سی بی آئی سے کرائی جائے تاکہ وی آئی پی کا پتہ چلے ۔ہمارا بھی خیال ہے اب یہ معاملہ اتنا طول پکڑ چکا ہے کہ اصلیت کا پتہ چلنا چاہئے اگر سرکار اتنی غیر جانب دار ہے تو کیوں نہیں سی بی آئی جانچ کروا لیتی تاکہ دودھ کا دودھ پانی پانی کا پانی صاف نظر آئے ۔ادھر پشکر دھامی سرکار پر یہ الزام بھی نہیں لگے گاکہ وہ اس مبینہ شخص کو قصور وار کو بچانے کیلئے معاملے کی لپا پوتی کر رہی ہے ۔ انل نریندر

06 جنوری 2026

کیا شاہ رخ خاں غدار ہے؟

ایسا کہنا کچھ بی جے پی کے لیڈروں کا ہے کیوں کہ شاہ رخ خاں کی آئی پی ایل ٹیم کولکاتہ نائیٹ رائیڈر ٹیم میں بنگلہ دیش کے تیز گیندباز مستفیظ الرحمان کو اپنی ٹیم کے لئے خرید لیا ہے ۔مستفیظ الرحمان کو کولکاتہ نائٹ رائیڈرس نے آئی پی ایل 2026 کے لئے نو کروڑ سے زیادہ میں خریدا تھا ۔بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خاں اس ٹیم کے مالکان میں سے ایک ہیں ۔اب خبر آئی ہے کہ بی سی سی آئی نے کولکاتہ نائیٹ رائیڈرس کو بنگلہ دیش کے تیز گیندباز رحمان کو ٹیم سے ریلیز کرنے کے لئے کہا ہے ۔بی سی سی آئی کے سکریٹری دیو جیت سیکیا نے اے این آئی کو بتایا کہ یہ فیصلہ حالیہ واقعات کو دیکھتے ہوئے لیا گیا ہے ۔بورڈ نے کے کے آر کو رحما کے بدلے کسی دوسرے کھلاڑی کو رکھنے کی اجازت دے گا ۔اس سے پہلے بھارت کے ساؤتھ کٹر پسند تنظیم اور کچھ بی جے پی لیڈروں نے مستفیظ الرحمان کو ٹیم میں شامل کرنے پر شاہ رخ خاں پر جم کر نکتہ چینی کی تھی ۔رام بھدر چاریہ نے شاہ رخ خاں پر تنقید کرتے ہوئے پی ٹی آئی سے کہا تھا کے کے آر میں مستفیظ الرحمان کو شامل کرنا افسوس ناک ہے اس سے پہلے دیو کی نند ن ٹھاکر نے بھی بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر ہو رہے تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے کے کے آر کے فیصلے پر سوال اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کا بے رحمانہ طریقہ پر قتل کیاجارہا ہے، ان کے گھر جلائے جارہے ہیں ۔ان کی ماں اور بیٹیوں سے آبرو ریزی ہورہی ہے ۔اس طرح کی بے رحمانہ قتل کی وارداتوں کو دیکھنے کے بعد کوئی اتنا بے رحم کیسے ہوسکتا ہے کہ ا س دیش کے کسی کرکٹر کو اپنی ٹیم میں شامل کرے؟ وہیں بی جے پی نیتا اور یوپی میں سردھنا کے سابق ممبر اسمبلی سنگیت سنگھ سوم نے مستفیظ الرحمان کو کے کے آر میں شامل کرنے کے لئے شاہ رخ خاں کو غدار تک کہہ دیا تھا ۔انہوں نے کہا تھا کہ شاہ رخ خاں کو بھارت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔سنگیت سوم نے میرٹھ میں کہا تھا ایک طرف بنگلہ دیش میں ہندوؤں کا قتل عام ہورہا ہے ۔تو دوسری طرف آئی پی ایل نیلامی میں کرکٹروں کو خریداجارہاتھا۔مگر بنگلہ دیش میں بھارت مخالف نعرے لگ رہے ہیں۔وزیراعظم کو گالیاں دی جارہی ہیں مگر شاہ رخ خاں جیسے غدار 9 کروڑ خرچ کرکے ان کی مددکررہے ہیں ۔ان کھلاڑیوں کی اپوزیشن لیڈروں او رمسلم مذہبی تنظیموں نے بڑی مذمت کی ہے ۔کانگریس نیتا سپریہ شرینیت نے کہا کہ سب سے پہلے میں یہ پوچھا چاہتی ہوں کہ بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو اس پول میں کس نے ڈالا؟ یہ سوال بی سی سی آئی کے لئے ہے ۔وزیرداخلہ کے بیٹے جے شاہ کو جواب دینا چاہیے کہ بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو اس پول میں کس نے ڈالا۔جہاں آئی پی ایل کھلاڑیوں کی خرید وفروخت ہوتی ہے جہاں کھلاڑیوں کی نیلامی ہوتی ہے ۔کانگریس ایم پی من ی کپن ٹیگور نے شاہ رخ خاں پر ہوئے حملوں کو بھارت کی تہذیبی وراثت پر حملہ بتایا۔جمعرات کو اپنے ایکس پر لکھا سپر اسٹار شاہ رخ خاں کو غدار کہنا بھارت کی کثیر تہذیب پر حملہ ہے ۔نفرت اور قومیت کی تشریح نہیں ہوسکتی ۔آر ایس ایس کو سماج میں زہر گھولنا بند کرنا چاہیے ۔امام ایسوسی ایشن کے صدر مولانا ساجد رشیدی نے کہا کہ احتجاج مظاہرے اکثر صرف اس لئے ہوتے ہیں کیوں کہ ان میں مسلم نام شامل ہوتے ہیں ۔شاہ رخ خاں ایک مسلم ہیں ۔مستفیظ الرحمان بھی مسلم ہیں اس لئے احتجاج ہونا لازمی ہے ۔کیوں کہ مسلمانوں کے تئیں نفرت سامنے آتی ہے ۔ (انل نریندر)

04 جنوری 2026

ظہران ممدانی نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا!



ظہران ممدانی نے یکم جنوری 2026 کو نیویارک کے میئر کے طور پر عہدےکا حلف لیا۔وہ شہر کے 111 ویں میئر اور گزشتہ 100 سال میں سب سے کم عمر کے میئر بن کر تاریخ رقم کر چکے ہیں ۔شہر کے 111 ویں میئر کے طور پر ظہران ممدانی نے ایک پرانے سب وے میں منعقدہ پرائیویٹ تقریب میں قرآن کو ہاتھ میں لے کر حلف لیا ۔کوئنز صوبہ کے نمائند ہ رہ چکے 34 سالہ ممدانی اب امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیویارک کے میئر بننے والے جنوبی ایشیائی نژاد اور مسلم فرقہ کے پہلے شخص ہو گئے ہیں ۔ظہران ممدانی نے کبھی اپنے مسلم ہونے کو چھپایا نہیں بلکہ کھل کر کہا میں ایک مسلمان ہوں ۔34 سال کے ممدانی 100 سال سے بھی زیادہ عرصہ کے بعد نیویارک کے سب سے نوجوان و پہلے مسلم اور ساؤتھ ایشیائی نژاد کے میئر بنے ہیں ۔میئر عہد ے کے لئے اہم مقابلہ ظہران ممدانی اور اینڈریو کیومو کے درمیان تھا ۔ان کے چناؤ نے پروگریسو لوگوں کے لئے ایک بڑی تبدیلی لائی ۔جو شہر کے سیاسی مرکز میں تبدیلی کا اشارہ تھا ۔چناؤ جیتنے کے بعد ممدانی نے آدھے گھنٹے کی تقریر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر نکتہ چینی کی تھی ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چناؤ سے پہلے ممدانی کو ووٹ نہ دینے کی اپیل کی تھی انہوں نے فری بس سروس ،یونیورسل چائلڈ کیئر اور بڑھتی مہنگائی پر قابو پانے سمیت اپنے سبھی چناوی وعدوں کو پورا کرنے کی بات کہی ہے ۔ظہران ممدانی کی پیدائش 1991 میں یوگانڈا کی راجدھانی کمپالامیں ہوئی تھی ۔ان کے والد نے انہیں ایک انقلابی اور گھانا کے پہلے وزیراعظم کوامے اینکروما کے نام پر مڈل نام کوامے دیا تھا ۔ممدانی بتادیں کہ مشہور ہندوستانی -امریکی فلم ڈائرکٹر میرا نائر اور کولمبیا یونیورسٹی کے جانے مانے پروفیسر محمود ممدانی کے بیٹے ہیں۔ممدانی نے کہا تھا ان کے حلف برداری نیویارک کے لئے ایک نئے دور کی شروعات کی علامت ہوگی اس سے نیویارک کے ورکنگ طبقہ کو ضروری طور سے مرکز میں رکھا جائے گا ۔ظہران ممدانی نے دہلی کے جے این یو اسٹوڈنٹ لیڈر اور 2020 سے جیل میں بند عمر خالد کو ایک خط لکھ کر کہا کہ میں آپ کو یاد کررہا ہوں ۔اور آپ کے بارے میں سوچ رہا ہوں ۔ممدانی کے اس خط کی بھارت سرکار نے نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ہمارے انصاف نظام پر سوال اٹھا رہے ہیں ۔جو کہ انہیں کوئی اختیار نہیں ہے ۔ممدانی کی جیت معمولی جیت نہیں مانی جاسکتی ۔نیویارک کھرب پتیوں کا شہر ہے جہاں یہودی لابی بہت طاقتور ہے ۔تمام صنعتکاروں کی مخالفت اور یہودی لابی کے احتجاج کے باوجود ممدانی کی جیت تاریخی مانی جائے گی ۔ایک وقت تو خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممدانی کے خلاف کمپین میں اتر گئے تھے اور یہاں تک کہا تھا کہ دیکھتا ہوں یہ کیسے جیتتا ہے ؟ ٹرمپ نے انہیں کمیونسٹ تک کہہ دیا ہے ۔ممدانی کو داد دینی ہوگی کہ انہوں نے نہ تو اپنے نژادکو چھپایا اور نہ ہی اپنے مذہب کو ان کی جیت سے امریکہ کے اندر سیاسی تجزیہ بدلنے کا اندیشہ جتایا جارہا ہے ۔ان کے انقلابی وعدے جو کچھ کچھ عام آدمی پارٹی کے نعروں سے ملتے ہیں کیا رنگ لاتے ہیں ۔دیکھنا ہوگا یہ بھی دیکھنے لائق ہوگا کہ اب جب ممدانی نیویارک جیسے دنیا کے سب سے طاقتور شہر کے میئر بن چکے ہیں ۔صدر ٹرمپ ان کے ساتھ کونسا رویہ اپناتے ہیں ؟ ہم ظہران ممدانی کو ان کی غیر متوقع جیت پر مبارک باد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے وعدوں پر کھرے اتریں گے اور اپنے حمایتیوں کو مایوس نہیں کریں گے ۔لیکن راستہ آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے کانٹوں بھرا راستہ چنا ہے ۔
(انل نریندر)


میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...