Translater

31 مئی 2014

مودی نے ثابت کیا کہ وہ جو کہتے ہیں کرتے بھی ہیں!

ملک سے باہرجمع ہندوستانیوں کی کالی کمائی واپس لانا ہوگی۔ مودی حکومت نے اپنی سرکار کے پہلے فیصلے کے تحت جس طرح سے کالی کمائی کی جانچ و نگرانی کے لئے خصوصی جانچ ٹیم بنانے کی تجویز کو اپنی منظوری فراہم کی اس سے نہ صرف ان کے ارادوں کی جھلک ملتی ہے بلکہ مسائل کے حل کے تئیں ان کی سنجیدگی کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔ دیش کے مفاد سے جڑے اثر دار فیصلے کیسے لئے جاتے ہیں اس کی بانگی مودی سرکار نے کرسی سنبھالنے کے 24 گھنٹے کے اندر دکھا دی۔ حکومت نے اپنا پہلا فیصلہ دیش سے لیکر غیر ملکی بینکوں تک چھپائی گئی بلیک منی کی تلاش اور اس پر روک کے لئے اسپیشل ٹاسک فورس کی شکل میں پہلا قدم اٹھایا ہے۔ آزادی کی قریب 7 دہائی میں یہ پہلا موقعہ ہے جب دیش کو اندر سے کھوکھلا کررہی کالی کمائی کے لئے کوئی اثر دار پہل کی گئی ہو۔ اس فیصلے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کس طرح سرکار بدلتے ہی ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ کالی کمائی کے کاروبار پر نکیل کسنے کے لئے سپریم کورٹ نے اس ٹیم کا فیصلہ 2011 ء میں لیا تھا اور وہ بھی اس لئے کہ اس وقت منموہن سرکار اس معاملے میں آنا کانی کررہی تھی۔ مانا جارہا تھا کہ سرکار سپریم کورٹ کے فیصلے کو اپنی رضامندی فراہم کرے گی لیکن اپنے تمام کنتو پرنتو کے ساتھ یہ کہنا شروع کردیا کہ اس طرح کی کوئی جانچ ٹیم بنانا ٹھیک نہیں ہوگا۔ عام جنتا کو یہ عجب بھی لگا لیکن سرکار ٹال مٹول کرتی رہی۔ اتنا ہی نہیں اس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی عرضی بھی دائر کردی۔ یوپی اے۔II حکومت نے معاملے کو ٹالنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن سپریم کورٹ نے پچھلے مہینے ہی حکم دیا تھا کہ حکومت کالی کمائی پر ایس آئی ٹی بنانے کا نوٹی فکیشن جاری کرے۔ یہ خصوصی جانچ ٹیم عدالت کے خاکے کی بنیاد پر قائم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔ مودی سرکار نے عدالت کی گائڈ لائنس کے مطابق ایس آئی ٹی بنائی ہے اور اس کا سربراہ ایم وی شاہ کو بنایا گیا ہے۔ جسٹس پسایت کو اس کا وائس چیئرمین مقرر کیا گیا۔ اس ایس آئی ٹی میں ریزرو بینک، راء و سی بی آئی ایجنسیوں کے لئے اعلی افسروں کو ممبر کے طور پرشامل کیا گیا ہے۔ ایس آئی ٹی کو نشانے دیا گیا ہے کہ وہ کالے دھن کے معاملے میں نگرانی کے لئے ایک مضبوط مکینزم تیار کرے تاکہ بزنس مین، سیاستداں، بڑے افسر اپنی موٹی ناجائز کمائی کو بیرونی بینکوں میں جمع نہ کرا پائیں۔ جس دن عام چناؤ کے نتیجے آرہے تھے ان میں بھاجپا سرکار کے امکانات بڑھتے جارہے تھے اسی دن یوپی اے سرکار سپریم کورٹ کے چکر لگا رہی تھی تاکہ وہ جانچ ٹیم کا معاملہ ختم کردے لیکن سپریم کورٹ اس جارہی سرکار کی نیت کو پوری طرح بھانپ چکی تھی اور اس نے ایسا کرنے سے صاف انکار کردیا۔ نریندر مودی اپنی چناؤ تقریروں میں ملک سے مسلسل وعدے کررہے تھے کہ وہ بلیک منی کی شکل میں بیرونی بینکوں میں جمع کردہ اربوں کی دولت واپس لائیں گے۔ سرکار بنانے کے بعد انہوں نے اپنے فیصلے میں بھی ایس آئی ٹی بنا کر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کرتے بھی ہیں۔
(انل نریندر)

وزیر اعظم نریندر مودی سے دہلی کے شہریوں کی توقعات!

اب لگتا ہے کہ دہلی اسمبلی چناؤ جلد ہونے کے امکانات ہیں لیکن دوبارہ چناؤ سے بچنے کے لئے ضروری ہے ایک اکثریتی سرکار بنے۔ اس کے لئے ’آپ‘ پارٹی میں تقسیم ہونا ضروری ہے۔ ایک تہائی ممبر اسمبلی اگر پارٹی چھوڑدیں اور بھاجپا کی حمایت کردیں تبھی جاکر دہلی میں چناؤ ٹل سکتا ہے۔ ممکن ہے دہلی کو مکمل درجہ دلانے کی پہل کر بھاجپا اسمبلی چناؤ جیتنے کی تیاری کررہی ہے اس لئے راجدھانی کے ممبران پارلیمنٹ کو نئی مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی سے پہلی مانگ دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کی ہوسکتی ہے۔ حالانکہ پارٹی مرکز کے سامنے دہلی سے وابستہ دیگر ایشو بھی اٹھائے گی۔ دہلی کے شہریوں کو وزیر اعظم سے پانچ خاص توقعات ہیں۔ دہلی ایک ایسی ریاست ہے جس کے ماتحت نہ تو ڈی ڈی اے(زمین ) ہے اورنہ پولیس (سکیورٹی) اور نہ ہی کارپوریشنیں۔ مکمل ریاست کا درجہ نہ ہونے کی وجہ سے دہلی کی ریاستی سرکار کو تمام فیصلوں کے لئے مرکزی سرکار کی نہ صرف اجازت لینی ہوتی ہے بلکہ مرکز سے ملنے والے پیسے میں بھی دہلی کو زیادہ حصہ نہیں ملتا۔ دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ ملنے سے سرکار میں ترقیاتی اسکیمیں بنانے اور دیگر فیصلوں میں آسانی ہوگی۔ شیلا سرکار نے دہلی میونسپل کارپوریشن کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے مرکز پر دباؤ ڈال کر ایم سی ڈی کو تین حصوں میں بانٹ دیا لیکن کارپوریشنوں کی تقسیم سے ساؤتھ، نارتھ میونسپل کارپوریشن کی مالی حالت بد سے بدتر بنتی جارہی ہے لیکن مشرقی دہلی کی حالت بھی کافی خراب ہورہی ہے۔ ملازمین کو وقت پر تنخواہ دینے میں کافی دقت آرہی ہے۔ زونوں کے ذریعے پہلے کام چل رہا تھا ویسا ہی اب بھی چل رہا ہے۔ان سب کے یونیفائڈسے کارپوریشن کے شہر کے ہر ضروری حصے کو درکار فنڈ مل سکے گا۔ دہلی میں مہنگی بجلی سب سے اہم اشو ہے۔ دہلی میں کئی بجلی گھر گیس نہ ملنے کی وجہ سے بند پڑے ہوئے ہیں یا جنہیں گیس مل بھی رہی ہے ان کی پیداوار کم ہے اس وجہ سے بجلی گھروں سے بجلی خریدنے اور اس کو تقسیم کرنے والی کمپنیاں بالکل سکڑتی جارہی ہیں اس لئے اس کا بوجھ صارفین پر پڑتا ہے۔ اگر مرکزی سرکار بجلی گھروں کو سستی گیس مہیا کرائے گی تو ظاہر ہے دہلی میں بجلی خودبخود سستی ہوجائے گی۔عوام بجلی ، پانی کے مسئلے سے لڑ رہی ہے۔دہلی و ہریانہ کے درمیان ایک معاہدے کے تحت دہلی نے منک نہر کو پکا کرنے کے لئے ہریانہ حکومت کو کروڑوں روپے کی ادائیگی کی اور کام وقت پر پورا ہوگیا لیکن اب پانی چھوڑنے کی باری آئی تو ہریانہ پانی کی کمی کا بہانہ بنانے لگا جبکہ بہتی ندی کے پانی پر ان سبھی ریاستوں کا حق ہے جہاں سے ندی گزرتی ہے۔ ہریانہ نے کوٹے سے زیادہ جمنا کے پانی کو روک رکھا ہے جبکہ اسے طے معاہدے کے مطابق 80 ایم جی ڈی پانی چھوڑنا چاہئے ۔ نئی سرکار کو جلد مداخلت کر دہلی کے حق کا پانی دلانا چاہئے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دہلی یونیورسٹی میں گریجویشن کورس کو چار سالہ بنانا کامیاب نہیں رہا۔ اس سے طلبا کا ایک سال برباد ہورہا ہے۔ کورس سے پہلے برس میں فاؤنڈیشن میں کورس کے نام پر طلبا کو اسکولی کورس کا رویژن کرایا جارہا ہے۔ ایک سال سے زیادہ نہ صرف وقت برباد ہورہا ہے بلکہ اقتصادی بوجھ بھی بڑھ گیا ہے۔ ویسے تو دہلی کے مسئلے بہت ہیں لیکن کچھ اہم مسائل کا میں نے تذکرہ کیا ہے۔
(انل نریندر)

29 مئی 2014

نواز شریف کو آتنک واد پر نریندر مودی کی کھری کھری!

وزیر اعظم نریندر مودی نے منگلوار کو عہدہ سنبھالتے ہی سارک ممالک کے سربراہ مملکت سے ملاقاتوں کا دور شروع کردیا اور اس کے لئے وہ حیدر آباد ہاؤس گئے۔صبح سوا نو بجے سے ماریش اور سارک ممالک کے سربراہوں سے ملاقاتیں شروع ہوئیں ۔ ان میں سب سے پہلے نریندر مودی صاحب نے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات 12:10 منٹ سے شروع ہوئی ۔ اس ملاقات میں پاک وزیر اعظم کے ساتھ 14 نکاتی ایک نمائندہ وفد بھی آیا تھا اس میں نواز شریف کے صاحبزادے بھی تھے۔ وہ ایک بڑے بزنس مین ہیں۔ یہ پہلے ہی سے طے تھا کہ نئی حکومت کی حلف برداری تقریب میں نواز شریف کی جب ہندوستانی وزیر اعظم سے ملاقات ہوگی وہ محض دو سربراہوں کے درمیان عام بات نہیں ہوگی۔نریندر مودی نے نواز شریف سے اپنی پہلی ملاقات میں دہشت گردی کو لیکر دو ٹوک بات کی اور مقررہ وقت سے زیادہ چلی بات چیت میں انہوں نے پاک وزیر اعظم سے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ دوستانہ رشتے چاہتے ہیں لیکن ان کو آگے بڑھانا ہے تو پاکستان کو یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ ہندوستان مخالف دہشت گردی اور تشدد کو ختم کرے۔نواز شریف کے ساتھ مودی کی ملاقات کے لئے35 منٹ کا وقت طے تھا لیکن دونوں کی ملاقات50 منٹ تک چلی۔ مودی نے نواز شریف سے یہ بھی کہا کہ 26/11 کے دہشت گردانہ حملوں کی پاکستان میں چل رہی جانچ میں کوئی پیش رفت نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے افغانستان کے شہر حیرات میں واقع ہندوستانی قونصل خانے پر ہوئے حملے کا بھی ذکر کیا اور پاکستان میں رہ رہے ہندوستان کے بھگوڑے ڈان داؤد ابراہیم کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ نواز شریف نے بات چیت کے بعد یہ رائے زنی کی ہم دونوں اس بات پر متفق تھے کہ یہ میٹنگ دونوں ملکوں کے لئے ایک تاریخ موقعہ ہے۔ میں نے درخواست کی ہے کہ ہم مل کر خطے میں استحکام اور بدامنی سے چھٹکارہ دلانا چاہئے جو دہائیوں سے ہمیں گھیرے ہوئے ہے۔ میں نے1999ء میں اٹل بہاری واجپئی کی لاہور ملاقات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ لاہور اعلانیہ جاری ہونے کے بعد رشتوں کو ہم وہیں سے آگے بڑھانا چاہیں گے۔ شاید ہی کوئی ہوگا جس نے نریندر مودی اور نواز شریف کی اس پہلی ملاقات سے امیدیں نہیں لگا رکھی ہوں۔ ہم تو اتنے خوش تھے کہ شریف نے اپنی فوج اور کٹر پسندوں کی مخالفت کا خطرہ مول لیتے ہوئے ایک بھاجپا وزیر اعظم کے حلف برداری تقریب میں شرکت کرنے کی ہمت دکھائی۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اپنی حلف برداری میں سارک ممالک کے لیڈروں کو مدعو کرکے مودی نے ڈپلومیسی کی پہلی گیند پر ہی چھکا مار دیا کیونکہ پاکستان سے جس سرد جنگ میں دیش الجھا ہوا ہے، اس میں نواز شریف کو الگ سے بلانے کی گنجائش نہیں تھی۔ چناؤ مہم کے دوران بھی مودی نے ایسے ہی واضح الفاظ میں اپنا موقف رکھا تھا اور اب اس کااحساس نواز شریف کو بھی ہو گیا ہوگا۔ یہ ضروری بھی تھا۔ پاکستان کے سامنے یہ بات بغیر لاگ لپیٹ کے رکھی جائے کیونکہ وہ نہ تو اپنے یہاں سرگرم ہند مخالف عناصر پر لگام لگانے میں سنجیدگی کا ثبوت دے رہا ہے اور نہ ہی ممبئی حملوں کے سازشیوں کو سزا دلا پا رہا ہے۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے افغانستان کے شہر حیرات میں جو حملہ ہوا اس کے پیچھے بھی آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا۔ پاکستان یہ دلیل نہیں دے سکتا کہ افغانستان کی سرگرمیوں سے اس کا لینا دینا نہیں کیونکہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے یہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں کی کہ اس حملے کے پیچھے پاکستان میں سرگرم لشکر طیبہ کا ہاتھ ہے لیکن اس کے علاوہ یہ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں ممبئی حملے کے قصورواروں کے خلاف جو قانونی کارروائی چل رہی ہے وہ کتنی دھیمی اور مایوس کن ہے۔ دونوں وزرائے اعظم کی بات چیت کے بعد خارجہ سکریٹری سطح کی بات چیت پر رضامندی ہونا کوئی حرج کی بات نہیں لیکن پاکستان کو اعتماد پیدا کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی پہل تو کرنی ہوگی چاہے وہ آتنکی سرغنہ حافظ محمد سعید کے خلاف کارروائی کرے یا داؤد ابراہیم کوبھارت کو سونپے۔ دونوں لیڈروں کے درمیان بات چیت میں کاروباری رشتے بھی بہتر بنانے پر بات چیت ہوئی۔ کارباری رشتے سدھرنے چاہئیں لیکن سبھی جانتے ہیں کہ جہاں یہ بات ہو کہ کوئی آتنکی واردات کرکے ایک مثبت پہل کو نقصان کر جاتا ہے۔ کاروباری رشتے دہشت گردی کی قیمت پر نہیں قائم ہوسکتے۔ نواز شریف کی پریشانی کو ہم سمجھ سکتے ہیں جہاں انہیں پاکستانی فوج کا خیال رکھنا ہوگا وہیں کٹر پسند تنظیموں کے دباؤ کو بھی جھیلنا پڑ رہا ہے۔ مودی کے پیچھے جو بھاری مینڈیٹ ہے وہی ان کی ہمت ہے اور اس کا احساس بھی شریف کرانے میں چوکے نہیں۔ نریندر مودی نے عہدہ سنبھالتے ہی اپنی ترجیحات ظاہر کردی ہیں ۔ یہ ایک اچھے اشارے ہیں۔
(انل نریندر)

داؤ پر لگا18 گورنروں کا مستقبل؟

بھرپور اکثریت کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرکز میں اقتدار پر قابض ہونے سے ایک سوال جو اٹھے گا وہ ہوگا کانگریس یوپی اے سرکار کے ذریعے مقرر کئے گئے18 سے زیادہ گورنروں کے مستقبل کا۔ ان پر اب ہٹنے کی تلوار ضرور لٹک گئی ہے۔ کچھ ماہرین اورتبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ مودی سرکار کے لئے ان کو ہٹانا آسان نہیں ہوگا۔ اگلے چھ سے آٹھ مہینے میں جن گورنروں کی میعاد پوری ہونے جارہی ہے ان میں کملا بینیوال، ایم کے نارائنن (مغربی بنگال) جے بی پٹنائک (آسام) شیو راج پاٹل (پنجاب) اور ارملا سنگھ (ہماچل پردیش) خاص ہیں۔ ریاست میں لوک آیکت کی تقرری کے اشو پر گجرات میں مودی سرکار کے ساتھ کملا بینی وال کا جھگڑا کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ دہلی کی سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت کی تقرری اسی سال مارچ میں کیرل کے گورنر کے طور پر ہوئی تھی۔ جموں و کشمیر کے گورنر این این ووہرا کی میعاد اپریل2012ء میں بڑھا دی گئی۔ سابق داخلہ سکریٹری وی کے دگل کو دسمبر 2013ء میں منی پور کا گورنر مقرر کیا گیا۔ نئی این ڈی اے سرکار کے جائزے کے دائرے میں دیگر جو گورنر آسکتے ہیں ان میں بی ایل جوشی(اترپردیش)دوسری میعاد سنبھال رہے ہیں۔ وی وی وانچو( گووا) شنکر نارائنن (مہاراشٹر) دوسری میعاد ،کے روسیا(تاملناڈو) رام نریش یادو(مدھیہ پردیش) ڈی وائی پاٹل (بہار) سرینواس دادا صاحب پاٹل (سکم) عزیز قریشی (اتراکھنڈ) اور وقوم کرونے (میزورم) اور سید احمد(جھارکھنڈ ) کے نام ہیں۔ سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے مئی 2010ء میں دئے گئے فیصلے میں کہا ہے کہ گورنر کو ہٹانے کے لئے سرکار کے پاس ٹھوس جواز ہونے چاہئیں۔ عدالت نے یہ کہتے ہوئے ایک عرضی پر یہ رائے رکھی کہ وہ محض اس بنیاد پر مداخلت نہیں کرے گی کہ اسے ہٹانے کے احکامات کی کچھ اور وجہ بیان کی گئی ہیں۔ایسے میں ہٹائے گئے گورنروں کے لئے عدلیہ کا راستہ بہت مایوس کن نہیں ہے۔ یوپی اے نے 2004ء میں اقتدار میں آنے کے بعد این ڈی اے کے تمام مقرر گورنروں کو ہٹا دیا تھا اور کچھ نے خود ہی استعفیٰ دے دیا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بات کا پورا امکان ہے مودی سرکار بنتے ہی کچھ گورنر خود ہی استعفیٰ دے دیں اور ہٹانے کی شرمندگی سے بچنا چاہئیں گے۔ جب یوپی اے نے2004ء میں این ڈی اے کے ذریعے مقرر گورنروں کو ہٹایا تھا تبھی انہیں احکامات کو بھاجپا کے ایم پی رہے وی پی سنگھل نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس پر یہ فیصلہ آیا اس وقت کی کانگریس سرکار نے گورنر کو ہٹانے کا بچاؤ کیا تھا اور کہا تھا کہ صدر (مرکزی کیبنٹ) کا فرمان بنے رہنے تک گورنر عہدے پر رہ سکتا ہے۔ جب معاملہ سیاسی ہے تو ظاہر ہے کہ کورٹ میں آنا بہت حوصلہ افزا نہیں رہتا۔ آئین کی دفعہ 156.1 میں گورنر کو ہٹانے کا کوئی قائدہ نہیں ہے۔ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ جن کی تقرری اسی سال ہوئی تھی ان پر بھی تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ ایک افسر نے بتایا کہ یہ ایک عام چیز ہے کہ نئی سرکار راج بھون میں جمے کچھ گورنروں سے استعفیٰ دینے کو کہے کیونکہ شاید اس کے خاکے میں وہ فٹ نہیں ہوسکتے ہیں۔
(انل نریندر)

28 مئی 2014

میں نریندر دامودر داس مودی ایشور کی شپتھ لیتا ہوں۔۔۔

میں نریندر دامودر داس مودی ایشور کی شپتھ لیتا ہوں کہ آئین سازیہ کے ذریعے قائم ہندوستان کے آئین کے تئیں سچی عقیدت اور وفاداری رکھوں گا۔ کچھ ان سطور کے ساتھ ہی پیر کے روز شام 6 بجے راشٹرپتی بھون کے احاطے میں منعقدہ حلف برداری تقریب میں تالیوں کی گڑ گڑاہٹ کے درمیان دیش کے15 ویں وزیر اعظم کی شکل میں مودی نے حلف لیا۔ جس شان سے نریندر مودی چناؤ جیت کر آئے اسی انداز میں ان کا راج تلک بھی ہوا۔ پاکستان کے وزیر اعظم سمیت 7 پڑوسی ملکوں کے سربراہ یا نمائندوں کے درمیان مودی نے پوری دھوم دھام کے ساتھ حلف تو لیا لیکن اپنی کیبنٹ کے چہروں سے بہت نہیں چونکایا۔ ان کی کیبنٹ چھوٹی ہے لیکن غیر سیاسی نہیں۔ ذات ،فرقہ تجزیئے کو ذہن میں رکھتے ہوئے آدی واسی ، دلت، پسماندہ، اقلیتیں سبھی کو نمائندگی ملی ہے۔ کانگریس سے بھاجپا میں آئے دو لیڈروں کو بھی مودی نے اپنی ٹیم میں جگہ دے کر تال میل کا اشارہ دیا ہے۔ چناوی ریاستوں کے لئے بساط بچھاتے ہوئے کل 45 وزرا کو حلف دلوایا۔ سرکار 83 وزیر بنا سکتی ہے لیکن زیادہ سے زیادہ کام کے وعدے پر اقتدار میں آئے مودی نے اپنے طریقہ کار سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ یوپی اے حکومت کے بھاری بھرکم کیبنٹ کے برعکس اس حکومت کا آغاز چار درجن سے بھی کم وزرا سے ہوا ہے۔ حالانکہ کل ملاکر نریندر مودی کی کیبنٹ متوازن ہے لیکن پھر بھی کچھ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیبنٹ میں کونسا لیڈر کس محکمے کا منتری بنا ہے یہ اتنا اہم نہیں بلکہ اہم یہ ہے کہ کیا وہ اس عہدے کے لائق بھی ہے؟ مودی سرکار کے لئے سب سے اہم یہ ہے کہ وہ ان امیدوں پر کھری اترے جس کی وجہ سے عوام نے انہیں اتنی بڑی کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ کسی بھی حکمراں کی کامیابی کی پہلی بنیاد یہ ہی ہے کہ اس کے وزیر ایک ٹیم کی شکل میں کام کریں۔ دیش بہت سی مشکلات سے دوچار ہے انہیں دیکھتے ہوئے یہ ضروری ہی نہیں بلکہ اہم بھی ہے کہ وزیر اعظم کی طرح ان کے ساتھ سبھی ساتھی ہر طرح کی چنوتی کا مقابلہ کرنے میں اہل ہوں۔ راجناتھ سنگھ کا مودی کیبنٹ میں نمبر دو کی پوزیشن ملنا اس بات کا واضح اشارہ دیتا ہے کہ مودی بھی دباؤ میں آگئے ہیں۔ یہ نمبر دو اور تین چار کے چکر سے نہیں بچ سکے۔ اگر ہم وزراء اور ان کے محکموں کی بات کریں تو راجناتھ سنگھ کو وزارت داخلہ دیا گیا ہے۔ ارون جیٹلی کو وزارت خزانہ اور ڈیفنس دیا گیا ہے۔ اقلیتی چہرہ نجمہ ہیبت اللہ ہیں سوال کیا جاسکتا ہے کہ کیا راجناتھ سنگھ جیسے ہوشیار سیاستداں وزارت داخلہ کے لئے صحیح پسند ہیں؟ ارون جیٹلی ایک بہترین وکیل مانے جاتے ہیں لیکن وہ خزانہ کے امور میں کتنے ماہر ہیں ہمیں نہیں معلوم؟ نریندر مودی نے اپنی کیبنٹ میں 7 عورتوں کو بھی شامل کیا ہے۔ ان میں دو نام زیادہ زیر بحث ہیں نجمہ ہیبت اللہ اور ٹی وی اسٹار اور دو بار چناؤ ہار چکی اسمرتی ایرانی کو کس بنا پر کیبنٹ کا درجہ دیا گیا ہے یہ ہماری سمجھ سے تو باہر ہے۔ اسی طرح مودی حکومت میں اقلیتی چہرہ نجمہ ہیبت اللہ کا ہے۔ بیشک وہ ایک صاف ستھری ساکھ والی خاتون ہیں اور مولانا آزاد کی رشتہ دار ہیں لیکن بھاجپا میں مختار عباس نقوی، شاہنواز حسین زیادہ دکھائی دینے والے چہرے ہیں۔ بہتر ہوتا نقوی یا شاہنواز کو بھی کیبنٹ میں شامل کرلیا جاتا۔ اقلیتوں میں مودی کو اپنے تئیں بھروسہ پیدا کرنا ہوگا۔ اس چناؤ میں بدقسمتی سے پولارائزیشن کے سبب جوخلیج پیدا ہوگئی ہے اس کو بھرنا انتہائی ضروری ہے۔ مودی کو سارے دیش کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا۔ اس نقطہ نظر سے دیش کی اقلیتیں زیادہ اہم ہیں۔ اب مودی صرف ان کے نیتا نہیں رہ گئے ہیں جنہوں نے انہیں ووٹ دیا ہے۔ مودی کو ہر قدم پر یاد رکھنا ہو گا کہ وہ ان لوگوں کے بھی وزیر اعظم ہیں جنہوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا۔ لیکن یہ بھی غور کرنا ہوگا کہ عوام نے تبدیلی کے لئے رائے دی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں اپنے وعدوں پر کھرا اترنا ہوگا۔ اس کیبنٹ میں مودی نے یہ یقین کرلیا کہ ان کے انتخاب سے چناؤ میں جانے والی ریاستوں اور کھل کر بھاجپا کے لئے ووٹوں کی برسات والی ریاستوں کو مایوسی نہ ہو۔ ہریانہ، مہاراشٹر میں اسمبلی چناؤ ہونے ہیں لہٰذا ہریانہ جیسی چھوٹی ریاست سے بھی دو وزیر بنائے گئے ہیں جبکہ مہاراشٹر سے 6۔ بدقسمتی یہ رہی کہ اس راجستھان سے جہاں وسندھرا راجے نے25 میں سے25 سیٹیں جیت کر ممبران کو پارلیمنٹ بھیجا، وہا ں سے ایک بھی ایم پی کو وزارت میں جگہ نہیں مل پائی۔ وسندھرا کے بیٹے دشینت سنگھ مسلسل تیسری بار لوک سبھا چناؤ جیتے ہیں۔ انہیں کیبنٹ میں جگہ ملتی تو اچھا رہتا۔ اترپردیش میں دیش کی 20 فیصد آبادی رہتی ہے تو مودی کی ٹیم میں 20فیصد حصہ یوپی کو ہی ملا ہے۔ یہاں سے9 وزیر بنائے گئے ہیں۔ بہار سے بھی 5 وزیر بنائے گئے ہیں جس میں دو اتحادی پارٹیوں کے حصے میں گئے ہیں۔ مدھیہ پردیش اور راجستھان کو بہت بڑا حصہ نہیں ملا۔ 
بھاجپا کی رہنمائی میں تیسری بار بنی مودی سرکار میں پہلی پوڑی غائب ہے۔ یعنی سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے ساتھ رہے لال کرشن اڈوانی، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کو اس لئے کاٹ دیا گیا کہ وہ 75 سال سے زیادہ کی عمر کے ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں نہ صرف ایک کامیاب وزیر رہے بلکہ ان کا تجربہ بھی فائدہ مند رہتا۔ وزارت داخلہ میں اگر الگ سے انٹرنل سکیورٹی وزارت بنائی جاتی تو دہشت گردی سے لڑنے میں یہ حکومت زیادہ مضبوط ثابت ہو سکتی تھی۔ مودی مخالف تیو وں کے لئے مشہور سشما سوراج کو وزارت خارجہ کی اہم ذمہ داری سونپ کر مودی نے جہاں متوازن سیاست کا چہرہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے وہاں اس سے یہ بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مودی بھی دباؤ میں آگئے ہیں۔ ارون جیٹلی کو تو ذمہ داریوں سے لال دیا گیا ہے۔ انہیں ایک ساتھ وزارت خزانہ، سکیورٹی اور کارپوریٹ افیئرس کے انتہائی بھاری بھرکم محکمے بھی دے دئے گئے ہیں۔ ان تینوں وزارتوں کی چنوتیاں نہ صرف دیش کی اقتصادی بدحالی بڑی وجہ رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے جیٹلی دیش کو اس دلدل سے نکال کر مودی کا وعدہ کیسے پورا کرتے ہیں؟ دیش کی سلامتی نظام خاص کر فوج کی خستہ حالی موجودہ بین لاقوامی پس منظر میں پھیلتی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے انتہائی تشویش کی بات ضرورت ہے۔ 7 ممالک کے سربراہوں کو بلا کر مودی نے نئی خارجہ پالیسی کے اشارہ دئے ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کا حلف برداری تقریب میں آنا بڑی بات ہے۔ تمام دباؤ کے باوجود وہ یہاں آئے ان کا خیر مقدم ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں پڑوسیوں میں رشتوں میں بہتری ہوگی۔ پڑوسی دیشوں کے تئیں دوستانہ اور نریندر مودی کی پہل بھارت کے بڑکپن کی ایک مثال تو ہے ہی وہ ملک و بیرون ملک میں امیدوں کو فروغ دینے والی بھی ہے۔
  1. (انل نریندر)

27 مئی 2014

نریندر مودی کوہندوستان کی تصویر ہی نہیں تقدیر بھی بدلنی ہوگی!

تبدیلی کی لہر پر سوار ہوکر نریندر مودی ایسے وقت میں ہندوستان کے وزیر اعظم بنے ہیں جب تمام دیش واسی پریشان ہیں ،فکر مند ہیں۔ مارچ میں جاری ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ 70 فیصد ہندوستانی ملک کی سمت سے غیر مطمئن ہیں۔ وہ مہنگائی، بے روزگاری اور سرکار کے کام کاج کو لیکر فکر مند ہیں۔ مودی اور بھاجپا کو ووٹ دینے والے کروڑوں عوام چاہتے ہیں دیش کے سامنے چھایا اندھیرا چھٹے اور امید کی کرن کی شکل میں آئے وزیر اعظم نریندر مودی ان کو ان مسائل سے نجات دلوادیں۔ اس کے لئے معیشت کو چست درست کرنا ضروری ہے۔ امید ہے کہ مودی نے اپنی چناوی تقریروں میں بے روزگاری، مہنگائی، کرپشن جیسے برننگ اشوز کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ کانگریس پارٹی کی ہار کی اہم وجہ رہی بڑھتی مہنگائی، ڈگمگاتی معیشت اور اعلی عہدوں پر بیٹھے لوگوں سے متعلق گھوٹالے۔ لیکن رائے دہندگان کانگریس صدر سونیا گاندھی اور ان کے صاحبزادے راہل گاندھی کی گھسی پٹی لچر سیاست سے اکتا گئے تھے۔ اس چناؤ میں پہلی بار ووٹ ڈالنے والے کروڑوں نوجوانوں کے لئے وراثت یا کسی سیاسی خاندان کے تئیں وفاداری سے زیادہ اہم پرفارمینس تھی۔ لوگوں نے اس چناؤ میں کنبہ پرستی کو پوری طرح مسترد کردیا ہے۔نریندر مودی کو اختلافات کے باوجود سبھی طبقوں سے حمایت حاصل ہوئی ہے۔ بیشک مودی نے اپنی تقریروں میں کہیں بھی ہندوتو کو اشو نہیں بنایا لیکن ان کی ساکھ کے سبب دیش کے اقلیتی طبقے میں مودی کی دہشت ضرور پیدا ہوگئی ہے۔ مسلمانوں غیر مسلموں سمیت دیش کی خودساختہ سیکولر طاقتوں کو بھی یہ ڈر ہے کہ مودی کی سرکار ہندوتو کے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھائے گی جس سے مذہبی پولارائزیشن بڑھ سکتا ہے۔ ان کی نکتہ چینی کرنے والے سمجھتے ہیں کہ ان کی لیڈر شپ ایک کٹرطریقہ کار کو نرم زبان میں ایک فیصلہ کن لیڈر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ 16 ویں لوک سبھا چناؤ میں پہلی بار ووٹ ڈالنے والے 2.31 کروڑ نوجوانوں میں سے 39 فیصد نوجوانوں نے مودی کو ووٹ دیا۔ انہوں نے یہ ووٹ اپنے روشن مستقبل کے لئے دیا۔ انہیں امید ہے کہ مودی معیشت کو بہتر بنائیں گے تاکہ ان کو اچھے روزگار کے مواقع مل سکیں۔ مودی کو سب سے بڑی چنوتی معیشت میں دوبارہ سے روح پھونکنا ہے۔ 2005 سے2007 کے درمیان ہندوستان کی ترقی شرح9 فیصد تھی۔ اب یہ بمشکل5فیصد ہے۔ بھارت میں ہر برس لاکھوں نوکریوں کی ضرورت پڑتی ہے۔مہنگائی کی شرح8.6فیصدی تک پہنچ گئی ہے اور مالی خسارہ آسمان چھو رہا ہے۔ یوپی اےII- حکومت نے ایسی الٹی سیدھی اسکیمیں شروع کرکے خزانے کو خالی کردیا ہے۔ کانگریس کی نا اہلی اور اقتصادی اصلاحات کو ٹھیک طرح سے نافذ نہ کرنے کی سزا اسے بھگتنی پڑی۔ مودی کا آگے کا راستہ مشکل ہے اور کانٹوں بھرا ضرور ہے لیکن معیشت میں نئی جان ڈالنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔ مودی کا آغاز تو اچھا ہے سارک ممالک کے سربراہوں کو حلف برداری میں بلا کر اپنی آگے کی خارجہ پالیسی کی سمت کی طرف اشارہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے تقریب میں شامل ہونے سے ایک نئی امید جاگی ہے لیکن اقتصادی مورچے پر مودی حکومت کا مستقبل کافی حد تک ٹکا ہوا ہے۔ آج بھی ہندوستانیوں کے لئے روٹی، کپڑا اور مکان سب سے بڑی ترجیح ہے۔
(انل نریندر)

ہار کے بعد کانگریس میں نشانے پر راہل اور ان کی ٹیم!

لوک سبھا چناؤ میں کراری شکست کے بعد کانگریس میں شروع ہوا الزام تراشیوں کا دور تیز ہوگیا۔ پارٹی کے نائب پردھان راہل گاندھی کو لیکر پارٹی کے اندر اور باہر اختلافی زبانی جنگ تیز ہوتی جارہی ہے۔ ہار کے لئے ٹیم راہل کے بہانے خود ان پر درپردہ حملے ہو رہے ہیں۔ کانگریس کے لیڈروں کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ قیادت والے عہدے انہیں لوگوں کو دئے جائیں جنہیں زمین پر کام کرنے کا تجربہ ہو۔ ان لیڈروں نے ٹیم راہل پر درپردہ حملہ کرتے ہوئے کہا کانگریس کو اگر پھر سے کھڑا ہونا ہے تو اسے اپنی پالیسیوں کا محاسبہ کرنا چاہئے۔کانگریس لیڈر ملنددیوڑا کا کہنا تھا کہ راہل کے مشیر ہوا کا رخ نہیں بھانپ پائے۔ جن لوگوں کو چناؤ کا تجربہ نہیں تھا وہی اہم کردار نبھا رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے تئیں گہری وفاداری کی وجہ سے یہ سب کچھ کہہ رہے ہیں۔ سونیا سے مل کر آئیں پریہ دت کا بھی کہنا تھا کہ پارٹی عام لوگوں سے کٹ گئی تھی۔ دیوڑا کا مزید کہنا تھا زمینی سچائی کو سمجھنے کے لئے زمین پر کام کرنا اور چناوی لڑائی میں تعلیم لینا ضروری ہے۔ پارٹی میں اگر کسی کو لیڈر شپ کا عہدہ دے دیا جائے تو یہ ہی اس کی بنیاد ہونی چاہئے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر ستیہ ورت چترویدی بھی دیوڑا کی اس رائے سے اتفاق رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غلطیوں کو سدھارنے کے لئے ایک پختہ اور ایمانداری سے محاسبہ کی ضرورت ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملند نے جو کہا وہ بھلے ہی پوری طرح سے صحیح نہیں ہو لیکن اس سے کافی حد تک سچائی ضرور سامنے آتی ہے۔ پارٹی میں ایسے لوگوں کی رائے پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہئے۔ کیونکہ لوگوں کے درمیان یہ ایک خیال پیدا ہوچکا ہے کہ چناوی مہم میں ایسے لوگوں کوذمہ داری سونپی گئی جنہیں چناؤ لڑنے تک کا بھی کوئی تجربہ نہیں تھا۔ چناؤ مہم اور اتحاد کے معاملے میں پارٹی کو نو سکھیوں کی صلاح پر منحصر رہنا پڑا۔ کانگریس کی اتحادی پارٹی این سی پی کے لیڈر نواب ملک نے کہا کانگریس کے بڑے لیڈروں کے انگریزی میں بولنے کی وجہ سے ہی چناؤ ہار گئی کانگریس۔ انہوں نے کہا بھاجپا کے لیڈر یوپی اے سرکار کی پالیسیوں کے خلاف یوپی میں جارحانہ طریقے سے بولتے تھے جس سے ان کی بات زیادہ لوگوں تک پہنچتی تھی لیکن بھاجپا نیتاؤں کے حملے پر منموہن سنگھ، سونیا گاندھی اور پی چدمبرم کا رد عمل انگریزی میں لوگوں کے سامنے آتا تھا۔ جیسی امید تھی کچھ کانگریسی لیڈروں نے پرینکا گاندھی کو آگے لانے کی وکالت بھی کی۔ یوپی اے۔II میں وزیر خوراک رہے کے ۔ وی تھامس نے کہا کہ ایک کانگریسی ہونے کے ناطے ہماری خواہش ہے کہ پرینکا کو اہم دائرہ کار میں آنا چاہئے۔ یہ اس لئے ضروری ہے کہ پرینکا میں جنتا سے جڑنے کی فطری صلاحیت ہے۔ انہیں اپنی ماں سونیا گاندھی اور بھائی راہل گاندھی کے ساتھ ایک ٹیم کی شکل میں کام کرنا چاہئے۔ لوک سبھا چناؤ میں کراری ہار کے بعد پارلیمنٹ کے نچلے ایوان کے لیڈر اپوزیشن چننے کے مسئلے پر کانگریسی ہستیوں اور راہل برگیڈ کے درمیان کھینچ تان شروع ہوگئی ہے۔ راہل برگیڈ نے پارٹی کے سینئر لیڈرکملناتھ کو اس عہدے پرمقرر کرنے کے کسی بھی قدم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا میں پارٹی کا چہرہ کانگریس اپ پردھان راہل گاندھی ہوں گے۔ پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ کملناتھ کو پارٹی کے کچھ ایسے پرانے لیڈروں کی حمایت حاصل ہے جو لوک سبھا چناؤ کے دوران خود کو نظر انداز کرنے کیلئے راہل کو مزہ چکھانا چاہتے ہیں۔ دراصل کانگریس کے اندر کی لڑائی اب باہر آگئی ہے۔ سابق وزیر پیٹرولیم ویرپا موئلی کا کہنا ہے کہ وہ لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر کے طور پر راہل گاندھی کے نام کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے پارٹی کے ناراض لوگوں نے کملناتھ کوہمارے اوپر تھونپنے کی کوشش کرنے کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے۔اگر چناؤ کمپین کے درمیان راہل گاندھی پارٹی کا چہرہ تھے تو انہیں اپوزیشن لیڈر نہیں ہونا چاہئے؟ کیا اس سے یہ پیغام نہیں جائے گا جیسے ہم نے اپنے نیتا کو کنارے کردیا۔ کیونکہ وہ امیدوں پر کھرے نہیں اترے۔ ادھر کانگریس کی نوجوان برگیڈ کے کچھ نیتا کملناتھ کا نام آگے بڑھانے کے لئے پارٹی کے کچھ ایسے باغیوں کی سازش مان رہے ہیں جو راہل کو بدنام کر ان کو نقصان پہنچا نا چاہتے ہیں۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف44 سیٹیں حاصل کر سکی کانگریس خود اپنے دم پر لیڈر اپوزیشن کا عہدہ حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اگر لوک سبھا پردھان پورے یوپی اے کو ایک گروپ مان لیں تو ایسا ممکن ہوسکتا ہے۔ یوپی اے کے 56 ایم پی ہیں۔ چناؤ جیتنے کی صورت میں جو کانگریس راہل گاندھی کو پردھان منتری بنانا چاہتے تھے ہارنے پر سونیا گاندھی کو پارلیمانی پارٹی کا نیتا چن لیا۔
(انل نریندر)

25 مئی 2014

ان آتنکیوں کے بلند حوصلے کا کرارا جواب دینا ہوگا!

وزیر اعظم بننے کے بعد شری نریندر مودی کو ایک بندو پر خاص طور سے توجہ دینی ہوگی وہ ہے آتنک واد اورپرتشدد سیاست آتنک واد۔ پہلے زمرے میں تو یہ جہادی گٹ آتے ہیں جنہیں پاکستان پورا سمرتھن دے رہا ہے۔ چاہے وہ بھارت کے اندر ہوں یا باہر۔ دوسرے زمرے میں نکسلی آتے ہیں جو الگ الگ وجوہات سے موت کا ٹانڈو مچائے رہتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نریندر مودی اور بھاجپا سرکار کے اقتدار میں آنے سے پاکستان دہشت میں ہے ، پر دیش کے اندر ان جہادی آتنکیوں کا حوصلہ آسمان پر ہے۔ دراصل گذشتہ دس سالوں سے ان کا سامنا ایک کمزورفیصلہ نہ لے سکنے والی یوپی اے سرکار سے ہوا اور انہیں یقین ہوگیا کہ کچھ ٹھوس کرنا تو دور رہا یہ سرکار تو ووٹ بینک کے چکر میں ہماری مدد ہی کرتی ہے۔ اسی کمزور نیتی کا نتیجہ ہے کہ بھوپال کی عدالت میں پیشی کے بعد سیمی کے آتنکیوں نے جس طرح دیش کے ہونے والے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف قابل اعتراض نعرے بازی کی وہ ان کے بلند حوصلے کو ظاہر کرتا ہے۔یہ واقعہ تب ہوا جب ممنوعہ سیمی کے گرفتار آتنکیوں کو عدالت میں پیش کرنے کے بعدجیل کی گاڑی کی طرف لے جایا جارہا تھا۔ تبھی کھانڈوا جیل سے فرار آتنکی ابو فیصل نے مودی کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔ پولیس نے بتایا کہ اس نے نریندر مودی کو دھمکی دیتے ہوئے نعرے لگائے’’اب کی بار مودی کا نمبر ہے‘‘۔اس کے علاوہ ان سیمی آتنکیوں نے یہ بھی نعرے لگائے کہ ’’دنیا کی ایک ہی طاقت اللہ ہے، طالبان آئے گا اور نریندر مودی جائے گا‘‘۔ اور ’’اب کی بار مودی کا نمبر ہے‘‘ جن سیمی آتنکیوں کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا ان میں کھانڈوا جیل سے فرار ابو فیصل جسے بعد میں بٹواری سے پھر پکڑا گیا تھا،عقیل خلجی،شکیب صادق، حبیب اسرار، خالد احمد، عرفان ناگوری، عبدالعزیز، عبدالواحد، محمد خالد، عبدالماجد و زبیر شامل تھے۔ ویسے دیش ووٹ کے ذریعے سے ان آتنکیوں اور ان کے آقاؤں کو کرارا جواب تو دے ہی چکا ہے پر مودی سرکار سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اس طرف خوصی توجہ دیں۔ میری رائے تو یہ ہے کہ پھر سے اندرونی تحفظ کی الگ وزارت بنائی جانی چاہئے جو مختلف انٹیلی جنس و سرکشا ایجنسیوں میں بہتر تال میل قائم کرے۔ این آئی اے جیسی بکواس ایجنسی کو یا تو اوور حال کرکے موثر بنایا جائے یا پھراسے ختم کرکے نئی فورس تیار کی جائے۔آئی بی، را و دیگر انٹیلی جنس ایجنسیوں میں خالی جگہوں کو بھرا جائے اور فیلڈ اسٹاف بڑھایا جائے۔مخبر کے رول کو پھر سے موثر بنایا جائے۔ یہ سب وزارت داخلہ کے تحت موثر انداز سے نہیں ہوسکتا۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ پاکستان کو سخت سندیش دیا جائے کہ اگران کی زمین کا استعمال ان جہادی گٹوں نے کیا تو بھارت کڑا جواب دے گا۔سیما پر سینا و نیم فوجی دستوں کو جوابی کارروائی کرنے کی کھلی چھوٹ دی جائے۔مودی حکومت میں پاکستان کو یہ سمجھانا ہوگا کہ اگر ان کی زمین سے آئے آتنکیوں نے چاہے وہ کسی بھیس میں کیوں نہ ہوں نے ہمارے جوانوں کے سرکاٹے تو بھارت خاموش تماشائی نہیں بنا رہے گا۔ بھارت اس کا سختی سے جواب دے گا۔
(انل نریندر)

مودی کے خوف سے20 سال بعدسب سے بڑے مخالف لالو سے ہاتھ ملایا!

سیاست میں نہ تو کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ ہی مستقل دشمن۔ مستقل ہوتا ہے تو وہ ہے خود کامفاد۔ سیاست میں خاص کر بھارت کی میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔نریندر مودی کی بڑھتی طاقت کے خوف سے قریب دو دہائی تک ایک دوسرے کے زبردست مخالف رہے لالو پرساد یادو اور نتیش کمار نے ہاتھ ملا لیا ہے۔لالو پرساد یادو کے راج کے خلاف ہی نتیش کمار نے جنتادل (یو)نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مورچہ بنایا تھا اور راشٹریہ جنتادل کے کوشاسن کو مدعا بنا کر لالو پرساد یادو کو بے دخل کیا تھا۔ کسی وقت میں لالو اور نتیش دونوں جنتادل میں ساتھ تھے اس کے بعد دونوں مخالف خیموں میں چلے گئے اور اب قریب20 سال بعد پھر دونوں ساتھ ہوگئے ہیں۔لالو کے سمرتھن سے نتیش کے جانشین بہار کے نئے مکھیہ منتری جتن رام مانجھی نے ودھان سبھا میں وشواس مت جیت لیا ہے۔مانا تو یہ جارہا ہے کہ لوک سبھا چناؤ کے بعداپنی سیاسی زمین بچانے کے لئے دونوں دلوں کے پاس بیحد محدود متبادل بچے تھے۔ایسے میں بھاجپا کو روکنے اور اپنے اپنے کنبوں کو محفوظ رکھنے کے لئے دونوں کے پاس ساتھ آنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ دونوں دلوں کے ساتھ آنے کی چرچا تو چناؤ بعد ہی شروع ہوگئی تھی لیکن اس کا راستہ نکالا نتیش نے۔ انہوں نے استعفیٰ دیکر مہا دلت طبقے کے جتن رام مانجھی کو وزیر اعلی بنانے کا اعلان کردیا۔ دلت طبقے کے نیتا کو سمرتھن دینے کے نام پر راشٹریہ جنتا دل نے بھی فوراً دوسری کا ہاتھ آگے بڑھادیا۔ ایسی بھی خبریں آرہی تھیں کہ لوک سبھا چناؤ میں تگڑی ہار کے بعد جنتادل(یو) کے کئی ممبر اسمبلی بغاوت کے موڈ میں ہیں۔پارٹی میں ایسے نیتاؤں کی تعداد کافی ہے جو یہ مانتے ہیں کہ نتیش نے بھاجپا کے ساتھ گٹھ بندھن توڑ کر ایک غلط فیصلہ کیا۔ جنتادل(یو) اور بھاجپا کی ملی جلی سرکار کو تین چوتھائی بہومت حاصل تھا اور شاید لوک سبھا چناؤ ساتھ میں لڑتے تو بھی اچھی سیٹیں مل سکتی تھیں لیکن نتیش کمار نے نریندر مودی کو پردھان منتری عہدے کا امیدوارکے اعلان کی مخالفت میں اچھا بھلا چلتا ہوا گٹھ بندھن توڑدیا۔ لالو یہ جانتے ہیں کہ ان کے سمرتھن کے بنا جنتادل (یو) سرکار کے زیادہ دن چلنے کی امید نہیں تھی۔اتر یہ گرتی ہے تو فوراً چناؤ ہوتے ہیں تو مودی لہر کے اثر میں بھاجپا سب سے بہتر پردرشن کرسکتی ہے۔یہ گٹھ بندھن سیاسی مجبوری کی وجہ سے بنا ہے۔ یہاں نتیش کمار نے لالو کے جنگل راج کے خلاف مورچہ بندی کرکے ہی کامیابی حاصل کی تھی۔ چھوٹے دلوں میں سماج کے کچھ ورگوں خاص کر مسلم ووٹوں کے لئے مقابلہ بھی ہے لیکن نتیش کمار نے بھاجپا سے رشتہ توڑ کر اپنی آگے کی راج نیتی کا رخ صاف کردیا ہے کہ وہ اتی پچھڑوں، مہا دلتوں اور اقلیتوں میں اپنا اثر بنانا چاہتے ہیں۔ایسے میں لالو اور نتیش ایک دوسرے کے متبادل بھی ہوسکتے ہیں ۔ یہ گٹھ بندھن محض مفاد اورسیاسی زندگی بچانے کے لئے بنا ہے اور یہ کتنے دن ٹک پاتا ہے یہ دیکھنے کی بات ہوگی۔ 237 ممبری بہار اسمبلی میں جنتادل (یو) کے117 ممبر، راشٹریہ جنتادل کے 21، کانگریس کے4، بھاگپا کا1، آزاد2 اور بھاجپا کے 85 ممبر ہیں۔اس سے نتیش کمار کی نیتکتا و سدھانتوں کی پول تو کھل ہی گئی ہے ساتھ ہی ساتھ وہ اکیلے مودی سے نہیں لڑ سکتے یہ اشارہ بھی صاف ہے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...