Translater

22 فروری 2014

آسمان سے گرے کھجور پر اٹکے انا ہزارے!

گاندھی وادی سماجی رضاکار انا ہزارے نے سب کو چونکادیا ہے۔ جس ڈھنگ سے وہ اپنے دائیں ہاتھ مانے جانے والے اروند کیجریوال کو اپنا آشیرواد دے رہے تھے اس سے تو لگتا تھا کہ لوک سبھا چناؤ میں وہ انہیں اپنی حمایت دیں گے لیکن انا نے اعلان کردیا ہے کہ وہ لوک سبھا چناؤ میں ترنمول کانگریس کی سربراہ محترمہ ممتا بنرجی کو اپنی حمایت دیں گے۔ نئی دہلی کے کانسٹیٹیوشن کلب آف انڈیا میں ہوئی پریس کانفرنس میں انا نے کہا کہ آج بھی وہ پریوار واد پارٹیوں کے خلاف ہیں لیکن ترنمول کانگریس کی آئیڈیالوجی سے کافی متاثر ہیں۔ کسی پنتھ و پارٹی سے ہمیشہ دور رہنے والے انا ہزارے نے کہا کہ وہ لوک سبھا چناؤ میں ترنمول کانگریس کے لئے کمپین کریں گے۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال کی لوک سبھا چناؤ میں حمایت کرنے سے صاف انکارکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ صرف ترنمول کو ہی حمایت دیں گے اور اس کے امیدواروں کے لئے کمپین چلائیں گے۔ ترنمول کانگریس کو اپنی حمایت کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلی بار دیش اور سماج کے بارے میں سوچنے والا کوئی شخص دیکھا ہے تو وہ ہے دیدی۔ اس لئے وہ ان کی حمایت کررہے ہیں۔ انہوں نے سبھی پارٹیوں سے 17 اشو پر رائے مانگی تھی لیکن ممتا بنرجی کے علاوہ کسی اور نے جواب نہیں دیا۔ اروند کیجریوال نے بھی خط کا جواب نہیں دیا۔ میں معافی چاہوں گا لیکن میری رائے میں تو جو عزت احترام انا ہزارے کے لئے تھا ، اس میں کافی کمی آئی ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے الٹے سیدھے بیان جو آرہے ہیں ا س سے ان کی ساکھ گری ہے۔ ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے سیاست دکھاوے کے لئے کچھ کرنے کے لئے کچھ اور ہوتی ہے۔ یہ اسی طرح ہوا جیسے ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور ہوتے ہیں۔ انا ہزارے نے جب صرف ممتا کی ان کی سادگی کیلئے تعریف کی تھی تب کوئی بات نہیں تھی اب جبکہ انہوں نے ترنمول کانگریس کے سبھی امیدواروں کے لئے کمپین چلانے کا اعلان کیا تو سوال اٹھنا فطری ہے۔ سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ آخر ممتا بنرجی کی سیاست میں انا کو کیا ایسا دکھائی دیا کہ وہ ان کی پارٹی کی کمپین چلانے کے لئے تیار ہوگئے۔ اس دیش میں اور بھی وزیر اعلی اور نیتا ہیں جن کی سادگی ممتا سے کم نہیں بلکہ کہیں زیادہ ہی دیکھی جاسکتی ہے۔ جب سے ممتا بنرجی مغربی بنگال کی وزیر اعلی بنی ہیں انہوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس کی انہیں عوام کی حمایت ملے۔ الٹا ان کے راج میں لا اینڈ آرڈر ضرور خراب ہوا ہے اور اس پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔عورتوں کے ساتھ بڑھتے آبروریزی کے واقعات کو لیکر ہسپتالوں میں بچوں کی موت تک اور پارٹی نیتاؤں، ورکروں کے ذریعے کئے جارہے حملوں سے ممتا بنرجی اور ان کی سرکار کی نہ صرف کرکری ہوئی ہے بلکہ ان کی ایڈمنسٹریٹر رہی نامور مصنفہ شویتا دیوی تک نے ان کی تنقید کی ہے۔ممتا اور ان کی پارٹی دیگر پارٹیوں کے برابر ہی ہے۔ دکھ تو انا ہزارے کی سیاست پر ہورہا ہے انہیں اس طرح کا ڈھونگ نہیں کرنا چاہئے۔ اگر وہ کسی نیتا کی یا کسی پارٹی کی حمایت کرتے ہیں تو یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہوسکتا ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا لیکن ان کا فیصلہ تنقید کے دائرے میں ضرور آگیا ہے۔ جس طرح انا ہزارے کو ایک عزت ملی تھی وہ نیچے آجائے گی۔
(انل نریندر)

پارلیمنٹ سے لیکر اسمبلی تک عزت مآب کی بے ادبی!

تلنگانہ کے مسئلے کو لیکر جس ڈھنگ سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں انتہائی نا پسندیدہ برتاؤ ممبران پارلیمنٹ نے پورے دیش کے سامنے کیا ہے اس کا اثر دیش کی مختلف اسمبلیوں پر پڑنا فطری ہی تھا۔ بہت دکھ کی بات ہے کہ محترم لوگ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کی ساکھ کو تار تار کررہے ہیں۔ ان کی کرتوت سے جمہوریت کے یہ مندر شرمسار تو ہورہی رہے ہیں نہایت غلط روایت ڈال رہے ہیں۔ بدھوار کو راجیہ سبھا کے ساتھ یوپی اسمبلی اور جموں کشمیر اسمبلی بھی ان عزت مآب ممبران کی کارگزاریوں سے شرمسار ہوئی ہے۔تلنگانہ اشو کو لیکر راجیہ سبھا میں بدھوار کو ناپسندیدہ حالات پیدا ہوگئے۔ اس مسئلے پر ہنگامے کے درمیان ڈپٹی چیئرمین پی جے کرین نے ضروری دستاویز ایوان کی ٹیبل پر رکھوائے ۔اسی دوران راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل شمشیر کے شریف ڈپٹی چیئرمین کی ہدایت پر ایوان میں کوئی اعلان کرنے والے تھے تبھی ویل کے سامنے کھڑے تیلگو دیشم پارٹی کے وی سی ایم رمیش نے ان کے ہاتھ سے دستاویز چھیننے کی کوشش کی۔ رمیش نے حملہ آور انداز میں سکریٹری جنرل سے کاغذات چھین کر پھاڑ دئے۔ اس دوران سکریٹری جنرل کو چوٹ بھی لگی۔ لکھنؤ اسمبلی میں تو اور بھی زیادہ ناپسندیدہ حرکت دیکھنے کو ملی۔ وہاں گورنر کے ایڈریس کے دوران بڑی اپوزیشن پارٹی بہوجن سماج پارٹی کے ساتھ نیشنل لوک دل کے ممبران نے سرکار مخالف نعرے بازی کی۔ ہنگامے کے درمیان راشٹریہ لوک دل کے ممبر ویر پال اور سریش شرما نے تو ایوان میں اپنی قمیص تک اتار دی۔ بسپا کے ممبر بھی جوتے چپل پہنے ہی میزوں پر کھڑے ہوکر احتجاج جتانے لگے۔ رہی سہی کثر جموں کشمیر اسمبلی میں محترم ممبران نے پوری کردی۔ وہاں اپوزیشن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ممبر نے ایک مارشل کو ہی تھپڑ جڑ دیا۔ اسمبلی میں وزارت ذراعت کی گرانڈ پر بحث کے دوران پی ڈی پی کے ممبر سید بشیر بے سہاروں کو دئے جانے والی راشن کی کمی کو لیکر ویل میں آگئے۔اسمبلی اسپیکر منور گل نے مارشلوں کو نعرے بازی کررہے پی ڈی پی ممبر شمشیر بشیر کو ہٹانے کی ہدایت دی۔ مارشل جب بشیر کو ایوان سے باہر لے جارہے تھے تبھی پی ڈی پی کے دیگر ممبران بھی وہاں پہنچ گئے۔ اسمبلی اسپیکر نے ان ممبران کو بھی ایوان سے باہر چلے جانے کا حکم دیا۔ جب مارشل انہیں ہٹا رہے تھے تو مارشل نے تھپڑ مادیا۔ اس طرح کا غلط برتاؤ عوام کی بات رکھنے کے نام پر ایوان میں اول جلول حرکتیں کرنے والے ممبران پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی کو یہ خیال رکھنا ہوگا کہ وہ اخباروں اور ٹی وی چینلوں کی سرخیاں تو بٹور سکتے ہیں لیکن جمہوری نظریہ رکھنے والے ان کے ووٹر انہیں اس شکل میں قطعی پسند نہیں کریں گے اور نہ ہی اس طرح کے ڈرامے کرنے کے لئے انہیں چنا ہے۔
(انل نریندر)

21 فروری 2014

راجیو گاندھی کے قاتلوں کو چھوڑنے کی تیاری پر روک!

سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قاتلوں کو سرکار پھانسی کے پھندے تک نہیں پہنچاپائی۔ منگل کے روز سپریم کورٹ نے کانگریس کی قیادت والی یوپی اے سرکار کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے راجیو گاندھی کے تینوں قاتلوں کی پھانسی عمر قید میں بدل دی تھی۔ عدالت نے رحم کی عرضی نپٹانے میں ہوئی 11 سال کی تاخیر کو اذیت اور غیر مناسب مانتے ہوئے فیصلہ دیا۔ یہ پہلا موقعہ ہے جب دہشت گردوں کو پھانسی کی رحم کی عرضی نپٹانے میں تاخیر کو بنیادبنا کر معاف کیا۔ اس سے پہلے21 جنوری کو عدالت عظمیٰ نے 15 قصورواروں کی موت کی سزا کو عمر قید میں بدلا تھا۔ راجیو گاندھی کا قتل21 مئی 1991ء میں تاملناڈو کے علاقے سری پرم بدور لبریشن ٹائیگرز کے خودکش دستے نے بم دھماکہ کرکے کیا تھا۔ ٹاڈا عدالت نے چاروں قاتلوں سری ہرن عرف مروگن، ٹی ستیندر راجہ عرف سانتن، اے جی پیرا ریولن عرف عرق اور ایک عورت قصوروار نلنی کو پھانسی کی سزا دی تھی۔ عدالت نے 11 مئی 1999ء میں چاروں کی پھانسی پر مہر لگادی تھی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پی سداشیوم کی سربراہی والی بنچ نے مرکزی سرکار کی اس دلیل کو سرے سے مسترد کردیا جس میں کہا گیا تھا عرضی نپٹانے میں نامناسب تاخیر نہیں ہوئی ہے اور اس سے قصورواروں کو ذہنی اذیت نہیں جھیلنی پڑی۔ پچھلے ماہ بھی اپنے ایسے ہی فیصلے میں عدالت نے رحم کی درخواست نپٹارے میں ہوئی تاخیر کی بنیادپر موت کی سزا پائے 15 قصورواروں کو راحت دی تھی۔ عدالت کی اس دلیل سے متفق نہیں ہوا جاسکتا۔ موت کی سزا پر عمل برسوں ٹلتے رہنا غلط ہے۔ سرکار اب لاکھ دلیل دے لیکن اس کے پاس اس بات کا کوئی باقاعدہ جواب نہیں کہ کسی کی رحم کی درخواست کو نپٹانے میں 10 سال کا وقت کیوں لگتا ہے؟ عدالت کا کہنا بھی واجب ہے کے سرکار رحم کی عرضیوں کے سلسلے میں صدر کو مناسب وقت کے اندر صلاح دے ۔فیصلہ آتے ہی تاملناڈو کی جے للتا سرکار نے راجیوقتل کانڈ کے ساتوں مجرموں کی وقت سے پہلے رہائی کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس نائب پردھان راہل گاندھی اس فیصلے پر کافی دکھی ہیں اور جذباتی بھی نظر آئے لیکن ڈی ایم کے چیف کروناندھی نے اپنی کٹر سیاسی حریف جے للتا کے فیصلے کی تعریف کی۔جے للتا نے کہا تھا کہ سبھی قصوروار 27 سال جیل میں گزار چکے ہیں۔ سرکار نے انہیں رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی سرکار اس فیصلے کو منظوری کے لئے مرکز کے پاس بھیجے گی کیونکہ یہ معاملہ سی بی آئی نے درج کیا تھا ۔ ادھر اس فیصلے کے بعد کانگریس نائب پردھان راہل گاندھی نے امیٹھی چناؤ ریلی میں کہا کہ میں دکھی ہوں کہ قاتل رہا کئے جارہے ہیں اگر کسی شخص نے پردھان منتری کو مارا اور رہا کیا جارہا ہے تو عام آدمی کو انصاف کیسے ملے گا؟ اس دیش میں وزیر اعظم کو بھی انصاف نہیں ملتا اور یہ میرے دل کی آواز ہے۔ میں موت کی سزا میں یقین نہیں رکھتا کیونکہ اس سے میرے والد واپس نہیں آسکتے۔ لیکن یہ میرے والد یا خاندان کا نہیں دیش کا اشو ہے۔ ہم راہل گاندھی کے دکھ کو سمجھ سکتے ہیں اور ان سے ہمدردی بھی رکھتے ہیں لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ رحم کی عرضیوں کے نپٹارے میں 11 سال کی تاخیر کے لئے ذمہ دار کون ہے؟ کانگریس کی یوپی اے سرکار کیوں اس کے لئے ذمہ دار نہیں ہے؟ صدر اور وزارت داخلہ اگر چاہتے تو رحم کی عرضی کو جلد نپٹا سکتے تھے۔رہی بات سپریم کورٹ کے فیصلے کی تو پچھلے مہینے رحم کی عرضی میں تاخیر کی بنیاد پر پھانسی کی سزا پائے 15 قصورواروں کی سزا عمر قیدمیں تبدیل کی گئی تھی۔ ان میں خطرناک ویرپپن کا ساتھی بھی شامل ہے جنہوں نے ایک بہادر پولیس افسر سمیت کئی پولیس والوں کو مار ڈالا تھا اور مبینہ دیری کی بنیادپر پھانسی کی سزا پائے لوگوں کو راحت دینا ہندوستانی آئینی سسٹم پر جہاں سوالیہ نشان لگتا ہے وہیں ان لوگوں کی قربانی کو بھی نظر انداز کیا جو اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران خطرناک مجرموں کا شکار بن گئے۔ اس حالت کے لئے مشینری تو ذمہ دار ہے ہی جو رحم کی عرضیوں کا نپٹارہ تیزی سے کرنے کے بجائے ووٹ بینک کی سیاست کا فائدہ لینے میں تاخیر کرتی ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ ہم معافی چاہیں گے کہیں نہ کہیں سپریم کورٹ کی بھی جوابدہی بنتی ہے کہ جن لوگوں کو پھانسی کی سزا کی تردید خود سپریم کورٹ نے کی تھی وہ اب اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ پھانسی کی سزا پائے قصورواروں کی رحم کی عرضی کے نپٹانے میں برسوں کی دیری در حقیقت ان کے ساتھ ایک ظلم ہے۔تازہ ترین اطلاع ہے کہ سپریم کورٹ نے تاملناڈو سرکار کے ذریعے امکانی رہائی کے فیصلے پر روک لگادی ہے۔
(انل نریندر)

تیج پال پر بدفعلی کے الزام 2684 صفحات کی فرد جرم!

تفتیشی صحافی اور دہلی کے سوشل میگزین ’پیج۔3‘ کے سیلیبریٹی ترون تیجپال کے کیس میں پولیس نے ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ ’تہلکہ‘ میگزین کے بانی مدیر ترون تیجپال پر پنجی میں گوا پولیس نے پچھلے سال نومبر میں یہاں کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کی لفٹ میں ایک خاتون صحافی کے ساتھ آبروریزی ، جنسی اذیت اور اس کی آبرو خراب کرنے کا الزام لگایا ہے۔ جانچ افسر سنیتا ساونت نے تیجپال پر دفعہ 354,354-A (جنسی استحصال) 341,342 (غلط طریقے سے روکنا) ،376 (آبروریزی) 376(2)(f) اور 376(2)(K) (اپنی شہرت کا فائدہ اٹھانا اور اپنے تحویل میں عورت کے ساتھ آبروریزی کرنا) کے تحت الزامات لگائے گئے ہیں۔ چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ انوجا پربھو دیو سائیں کے سامنے داخل 2684 صفحات کے فرد جرم میں متاثرہ تہلکہ کے میگزین ملازمین اور معاملے کی جانچ افسر سمیت152 گواہوں کے بیان قلمبند ہیں۔ فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ یہ ثابت کرنے کے لئے بیان کافی ہیں کہ تیج پال نے آبروریزی، جنسی استحصال اور متاثرہ کی عزت سے کھلواڑ کرنے کی بات قبول کی ہے۔ جانچ افسر نے کہا کہ تیج پال کی معافی والے ای میل ہیں۔ متاثرہ سے آبروریزی ،جنسی استحصال اور اس کی عزت خراب کرنے کے بارے میں خطوط ہیں جو ان کے کہنے پر پھرسے تلاش کئے گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے متاثرہ نے اپنی شکایت میں کہا تیج پال نے پچھلی7 نومبر کو اس کا جنسی استحصال کیا اور8 نومبر کو اسے پنے میں دوہرایا۔ فرد جرم میں اس بات کی تفصیل بھی ہے کہ کیسے ترون تیج پال ہالی ووڈ اداکار رابرٹ ڈی نیرو کے سمجھانے کے باوجود نہیں مانے تھے۔ دستاویز میں اس بات کی بھی تفصیل بیان کی گئی ہے کہ کیسے متاثرہ کو ہالی ووڈ اداکار رابرٹ ڈی نیرو اور ان کی بیٹی ڈریناکا معاون بنایا گیا تھا۔ اس میں بتایا گیا کہ نیرو نے تیج پال کو ایسا کرنے سے منع کیا اور یاد دلایا کے وہ اس کی بیٹی کی سب سے اچھی سہیلی ہے لیکن اس کا تیج پال پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ ڈی آئی جی او۔پی مشرا نے بتایا کے جانچ افسر ڈی نیرو کے وکیل کے رابطے میں تھی لیکن اداکار کیونکہ دورہ کررہے تھے اس لئے انہوں نے جواب نہیں دیا۔ ان الزامات میں اگر ترون تیج پال قصوروار پائے جاتے ہیں تو انہیں7 سال سے زیادہ کی قید ہوسکتی ہے۔ ترون تیج پال نے ممبئی ہائی کورٹ کی گوا بنچ میں ضمانت عرضی لگائی تھی۔ تیج پال واردات کے بعد سے ہی جیل میں ہیں۔ ممبئی ہائی کورٹ سے بھی تیج پال کو کوئی راحت نہیں ملی ہے۔ ان کی عرضی پر اگلے ماہ پھر سماعت ہوگی۔حالانکہ ہائی کورٹ نے 50 سالہ تیج پال کوایک نچلی عدالت میں ضمانت عرضی دائر کرنے کی اجازت دے دی ہے کیونکہ چارج شیٹ داخل ہوچکی ہے۔ تیج پال خود کو بے قصور مانتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ انہیں سیاسی رقابت کے چلتے پھنسایا گیا ہے۔ میں نے کچھ غلط نہیں کیااور کہا کہ پوری سچائی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ہیں اور اس سے دنیا جان جائے گی کے معاملے کی سچائی کیا ہے۔
(انل نریندر)

20 فروری 2014

اروند کیجریوال بھگوڑا ہے، اروند کیجریوال دھوکہ ہے، دیش بچالو موقعہ ہے!

عام آدمی پارٹی کو بھلائی کے لئے آگے لائے اروند کیجریوال سرکار چلانے سے بھاگ گئے ہیں۔ اب وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں اور قومی سیاست میں اپنی قسمت آزمائیں گے۔ لوک سبھا چناؤ کا کیا نتیجہ ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا ان کے بھاگنے سے گلی گلی میں عام آدمی مایوس ہے۔ اروندکیجریوال کے بارے میں مختلف پارٹیاں کہتی ہیں کہ وہ سیاستداں نہیں وہ سیاسی شخصیت نہیں، انتظامیہ چلانا اور ایک منجھے ہوئے سیاستداں ہونا ایک خاص اہمیت ہوتی ہے۔ یہ قابلیت کیجریوال میں نظر نہیں آتی۔ جب یہ حال دہلی میں ہے تو قومی سیاست میں ان پر کون کتنا بھروسہ کرے گا؟ یہ سوال الگ ہے ایک سیاسی لیڈر کی ساکھ ان کے ذریعے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے سے بنتی ہے۔ ان کا بھروسہ اور نتیجہ دینا صرف ان کے ذریعے کئے کاموں سے آتا ہے۔ اعلانات سے نہیں، بھاگنے سے نہیں۔ سیاست سے کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے وعدے کے ساتھ دہلی کے اقتدار میں پہلی بار آئی عام آدمی پارٹی کی سرکار نے 18 وعدے کئے تھے۔ پہلا وعدہ بجلی کے دام آدھے کریں گے اور بجلی کمپنیوں کی لوٹ بند ہوگی۔ حقیقت ، اقتدار میں آنے کے کچھ گھنٹوں بعد ہی دہلی سرکار نے 372 کروڑ روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا اور گھریلو استعمال کیلئے 400 یونٹ تک کی کھپت میں 50 فیصدی تک دام کم کئے۔ بجلی تقسیم کمپنیوں کا سی اے جی آڈٹ کرانے کا معاملہ کورٹ میں ہے۔ ریلائنس اور ٹاٹا پاور کی جانب سے داخل معاملے کا کورٹ سے فیصلہ آنا ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ بجلی کمپنیوں کے تازہ بلوں نے کم از کم درمیانے صارفین کے ضرور ہوش فاختہ کر دئے ہیں کیونکہ جو بل ان کے ہاتھ میں آئے ہیں وہ کم ہونے کی جگہ بڑھ گئے ہیں۔ ان صارفین کے بل اپنے میں پانچ سے چھ ہزار روپے کے آتے تھے وہ اب سات سے آٹھ ہزار روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ انہیں لگتا ہے سرکار کی سستی بجلی اسکیم کا اعلان ان پر الٹا پڑا ہے۔ وہیں کیجریوال سرکار کے ذریعے جاتے جاتے چلے داؤ بھی اس پر الٹے پڑتے نظر آرہے ہیں۔ اس کے لئے جن صارفین نے اپنا جن آندولن کے دوران بجلی کا بل جمع نہیں کیا تھا ان بلوں کو آدھا معاف کرنے کی بات کہیں گئی ہے لیکن سرکار کا ہی محکمہ مالیات اس کے حق میں کھڑا نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے ایسا کرنے سے ایماندار صارفین اپنے میں مایوس ہوں گے جو ٹھیک نہیں ہے اور یہ مستقبل میں غلط روایت قائم ہوگی۔ اس مسئلے کو لیکر اسمبلی میں بھی ہنگامہ ہوا تھا۔ عام آدمی پارٹی کی تحریک میں کودے دہلی کے 24 ہزار لوگوں کو کیجریوال سرکار کے ذریعے دی گئی 50 فیصدی چھوٹ سمجھ سے باہر ہے۔ دہلی میں تو کئی لاکھ صارفین ہیں۔ خاص انتخاب کی بنیاد پر راحت قانونی نقطہ نظر سے بھی غلط ہے اور عدالتوں میں یہ فیصلہ یقینی طور سے غلط قراردیا جائے گا۔ وعدہ نمبر 2 صاف پانی ، ہر گھر تک ہر خاندان کو روز700 لیٹر مفت پانی، حقیقت، کیجریوال نے حلف لینے کے بعد ہی دہلی کے سبھی کنبوں کے لئے 20 ہزار لیٹر ماہانہ پانی مفت کرنے کا فیصلہ کیا لیکن ساتھ ہی زیادہ پانی استعمال کرنے والوں پر 10 فیصد سرچارج بھی لگادیا۔ سنگم وہار اور دیولی علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اب بھی 20-22 دنوں میں ایک بات پانی ملتا ہے اس کے بدلے میں 500 سے700 روپے دینے پڑتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کیجریوال سرکار آئے بھی اور چلی بھی گئی لیکن نہ تو پانی کا مسئلہ ختم ہوا اور نہ ہی پانی مافیہ کا قبضہ۔ وعدہ نمبر3 ، کرپشن سے چھٹکارا دلائیں گے، ہر کرپٹ کو جیل پہنچائیں گے اور عام جنتا کو روز مرہ بدعنوانی سے بچائیں گے۔ حقیقت: 8 جنوری کو کرپشن کی شکایت درج کرانے کے لئے ہیلپ لائن چالو کی گئی لیکن شکایت منظور کرنے کیلئے اسٹنگ کی شرط لگادی۔
شروعاتی20 دنوں میں تقریباً1 لاکھ سے زیادہ ٹیلی فون آئے جن میں سے50 فیصدی کالوں کو سنا گیا۔ محض1200 شکایتیں صحیح پائی گئیں۔ وعدہ نمبر4، اقتدار میں آنے کے 15 دن کے اندر رام لیلا میدان میں جن لوک پال بل پاس کرائیں گے؟ حقیقت:سرکار بنانے کے 49 ویں دن سرکار ایوان میں جن لوک پال لیکر پہنچی ۔ اس کے بعد کیا ہوا سب کو معلوم ہے۔ اسی طرح جنتا دربار لگانے ،شکایتیں سنیں کا وعدہ پہلے جنتا دربار کے بعد بند ہوگیا۔ اسکولوں کو نجی اسکولوں سے بہتر بنانے،500 نئے اسکولوں کا وعدہ بھی کیا تھا۔ وزیر تعلیم منیش سسودیا نے ہیلپ لائن کا آغاز کیا لیکن بات آگے نہیں بڑھ سکی۔ اسی طرح سرکاری ہسپتالوں کو ٹھیک کرنے کی بات کہی گئی تھی لیکن یہ محض وعدہ ہی رہ گیا۔ عورتوں ، بچوں ، بزرگوں کی سلامتی کے لئے ہر محلے میں مہلا کمانڈو فورس بنے گی۔ حقیقت جسٹس ورما کمیٹی کی سفارشوں اور مہلا کمانڈو فورس کے معاملے میں پھر ایک کمیٹی بنی۔ دہلی میں ٹھیکے کے ہر کرمچاری کو پکا کریں گے۔ حقیقت: سرکار ڈی ٹی سی ڈرائیور، کنڈیکٹر، اسکول ٹیچروں سمیت کئی محکموں کے ملازمین کو پکا کرنے کے لئے ایک اعلی سطحی کمیٹی بنائی گئی۔ اس کمیٹی کی سفارشوں کے آنے سے پہلے ہی کیجریوال استعفیٰ دے گئے۔
مکھیہ منتری اروند کیجریوال کے استعفے سے ان کی سرکار کے قریب ایک درجن فیصلوں کے مستقبل پر تلوار لٹک گئی ہے۔ اس سے کرپشن کے خلاف شروع ہوئی مہم پر روک لگنا طے مانا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ گھوٹالوں پر درج کرائی گئی ایف آئی آر کے تحت جانچ کارروائی ٹھپ ہونا بھی یقینی مانا جارہا ہے۔ اسی طرح بجلی ،پانی کے داموں پر دی گئی چھوٹ 31 مارچ کے بعد ملنے کا امکان کم ہے۔
کل ملا کر اروند کیجریوال سرکار کا عہد بے بھروسہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے ذمہ داری سے بھاگنے کا ٹرینڈ بھی سامنے آیا۔ جب وہ دہلی سے اس طرح بھاگ سکتے ہیں تو جنتا آگے انہیں کوئی بھی کسی بھی طرح کی ذمہ داری کیسے دے سکتی ہے؟ فیس بک پر کسی نے لکھا ہے اروند کیجریوال بھگوڑا ہے، انکم ٹیکس کی نوکری چھوڑ کر بھاگا، انا ہزارے کو چھوڑ کر بھاگا، سیاسی ذمہ داری سے بھاگا۔ اروند کیجریوال دھوکہ ہے دیش بچالو موقعہ ہے۔
(انل نریندر)

19 فروری 2014

20 سال بعد ایک بار پھر بنے لیفٹیننٹ گورنر دہلی کے سروے سروا!

چلو جاتے جاتے کیجریوال اینڈ کمپنی دہلی کے ممبران اسمبلی کا تو بھلا کر ہی گئے۔ ادھر میں لٹکے دہلی کے تمام ممبر اسمبلی جیت کر بھی ایم ایل اے نہیں بن پارہے تھے۔کیجریوال نے سرکار بنا کر کم سے کم ان کا تو بھلا کر ہی دیا۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی کی سرکار تو چلی گئی لیکن چنے ہوئے 70 ممبراسمبلی کو سرکار نہ رہنے سے کوئی پریشانی نہیںآنے والی ہے۔ انہیں پہلے کی طرح ڈولپمنٹ کے لئے کروڑوں روپے کا فنڈ ملے گا اور تنخواہ بھی باقاعدہ بینک کھاتے میں آتی رہے گی۔ خاص بات یہ ہے کہ استعفیٰ دینے کے بعد اروند کیجریوال تو اب وزیر اعلی نہیں رہے لیکن ان کی پارٹی کے ممبر اسمبلی منندر سنگھ دھیر فی الحال اسمبلی اسپیکر کی کرسی پر بنے رہیں گے۔ سرکار کے نہ رہنے کے باوجود ان کی کرسی پرکوئی آنچ نہیں آئے گی۔ دہلی اسمبلی کی معطلی کے دوران ممبران کو 54 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ بھتے ملتے رہیں گے۔ اس کے علاوہ 30 ہزار روپے دو ڈاٹا اینٹری آپریٹر رکھنے کے لئے دئے جاتے ہیں۔اسمبلی بھنگکرنے کے بجائے معطل رکھی گئی تو انہیں تنخواہ ملتی رہے گی۔ اسمبلی اسپیکر منندر سنگھ دھیر کو بھی تنخواہ و بھتہ ملتا رہے گا۔اب راجدھانی میں صدر راج نافذ ہونے کے بعد لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ دہلی کے سروے سروا ہوگئے۔ اب دہلی راجنواس سے چلے گی۔ یہ 20 سال بھی پہلی بار موقعہ آیا ہے جب بھاجپا یا کانگریس کو اکثریت نہیں ملی۔ پہلی اسمبلی میں بھاجپا کو اکثریت ملی تھی اور بعد میں تین چناؤ میں کانگریس کو اکثریت حاصل ہوئی۔ پچھلے سال ہوئے اسمبلی چناؤ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ کسی بھی پارٹی کو سرکار بنانے لائق نمبر نہیں مل پائے۔ لیفٹیننٹ گورنر کے سامنے تین متبادل تھے پہلا اسمبلی برخاست کرے، صدرراج لگائیں جو چھ مہینے تک رہ سکتا ہے لیکن نئے چناؤ اس سے پہلے بھی ہو سکتے ہیں۔ دوسرا اسمبلی کو بھنگ کرنے کے بجائے معطل رکھا جائے اور صدر راج لگا دیا جائے۔ اس درمیان سرکار بننے کے امکان تلاشے جائیں۔ تیسرا بی جے پی کو پھر سے سرکار بنانے کا موقعہ دیا جاسکتا ہے۔ بی جے پی اگر خود دعوی کرے تو اسے سرکار بنانے کے لئے کہا جاسکتا ہے۔ عام طور پر جب ایک سرکار استعفیٰ دے دے تو وزیر اعلی کو کام چلاؤ مکھیہ منتری بنے رہنے کو کہا جاتا ہے لیکن ایسی کوئی قانونی پابندی نہیں ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے اروند کیجریوال کو کام چلاؤ وزیر اعلی بھی بنانا مناسب نہیں سمجھا اور نہ ہی ان کی اسمبلی کو بھنگ کرنے کی تجویز کو مانا۔ اور اس کے لئے وہ پابند نہیں ہیں۔ عزت مآب لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کے سامنے کئی چیلنج ہیں۔ چیف ایڈمنسٹریٹر کے طور پر دہلی کی ترقی اور اسکیموں کو واپس پٹری پر لانا ہوگا۔ امکان ہے دہلی کے سسٹم کو ٹریک پر لانے کے لئے سب سے پہلے افسر شاہی میں وسیع ردوبدل کریں گے اور دیگر چنوتی میں دہلی کی کیجریوال سرکار نے سال 2014-15 کا بجٹ اسمبلی میں پیش کیا۔ اب لیفٹیننٹ گورنر کی ذمہ داری ہے کہ مصارف بجٹ کو پاس کریں تاکہ سرکار کے پاس سرکاری ملازمین کو تنخواہ اور ترقیاتی کاموں کے لئے فنڈ دستیاب ہوسکے۔ این ٹی پی سی نے بجلی تقسیم کمپنیوں کو بقایا ادائیگی کا وقت متعین کر الٹی میٹم دے رکھا ہے۔ انہیں بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو بقایا ادا کرکے دہلی کے شہریوں کو بجلی گل ہونے کے خطرے سے نکالنا ایک اہم چنوتی ہے۔ پچھلے چھ مہینے سے دہلی جل بورڈ کے بڑے پروجیکٹ ادھر میں لٹکے ہوئے ہیں کیونکہ ترقیاتی کاموں کی منظوری نہیں مل رہی تھی۔ جل بورڈ کو واپس پٹری پر لانا ہوگا۔ سنگم وہار جیسی کالونیوں میں پانی کو لیکر ہائے توبہ مچی ہوئی ہے۔ وہاں فوری طور پر پانی دستیاب کرانا ضروری ہے۔ دہلی اسمبلی کے 28 کالجوں کی گورننگ باڈی کے ممبر کیجریوال سرکار نے نہیں بنائے ہیں۔ اب لیفٹیننٹ گورنر کو کالج گورننگ باڈی کے 140 ممبران کی فوری تقرری کرنی ہوگی۔ سوراج بل کے ذریعے ایم ایل اے فنڈ کو محلہ سبھا میں بھیجنے کا کیجریوال سرکار کا فیصلہ تھا لیکن سوراج بل پاس نہیں ہوا پایا۔ اب لیفٹیننٹ گورنر کو سبھی ممبران کو ترقیاتی کام کے لئے فنڈ متعین کرنے کی چنوتی ہے۔ ٹرانس جمنا بورڈ کے ذریعے دہلی کے 20 اسمبلی حلقوں میں ہورہے ترقیاتی کام ٹھپ پڑے ہیں۔ بورڈ کو پھر سے سرگرم عمل کرنا اور ٹھپ پڑے کاموں کو آگے بڑھانا بھی ایک چنوتی ہوگی۔ دہلی کی سبھی آر ڈبلیو اے کو بھاگیداری ادارے سے فنڈ ملنا بند ہوچکا ہے۔ سبھی آر ڈبلیو اے فنڈ کی کمی کا شکار ہیں جس سے ترقیاتی کام میں تیزی آسکے۔ ہزاروں ٹھیکیدار ،کرمچاری اپنی نوکری کو پکی کروانا چاہتے ہیں اس لئے وہ دھرنا مظاہرے مہینے بھر سے کررہے ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر کے سامنے یہ اہم چنوتیاں ہیں۔ دیکھیں عزت مآب نجیب جنگ ان سے کیسے نمٹتے ہیں۔ آخر میں کیجریوال سرکار کے کئی فیصلے آپسی تنازعوں میں پھنس گئے ہیں۔ ان کا ذکر میں الگ سے کروں گا۔
(انل نریندر)

18 فروری 2014

مودی۔ پاویل ملاقات امریکہ کی مجبوری، چڑھتے سورج کو سبھی سلام کرتے ہیں!

آخر کار 13 فروری جمعرات کو 9:45 پر امریکی سفیر نینسی پاول نے گجرات کے وزیر اعلی اور پی ایم ان ویٹنگ نریندر مودی سے گاندھی نگر میں ان کی سرکاری رہائش گاہ پر حاضری دی۔ وہ طے وقت سے پانچ منٹ پہلے پہنچ گئی تھیں۔ ان کے ساتھ امریکہ کے بھارت میں مقیم تجارتی قونصلر اور دیگر افسران بھی تھے۔ یہ ملاقات قریب ایک گھنٹے چلی۔ امریکی سفیر کی مودی ملاقات کافی اہم ہے۔ بھارت میں سیاست کے امکانی بدلے رخ کو بھانپ کر اب امریکہ نے نریندر مودی سے گلے شکوے دور کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ رشتے بہتر بنانے کی یہ پہلی کڑی ہے۔ امریکہ کے رخ میں تبدیلی کی وجہ عام چناؤ میں مودی کی قیادت میں سرکار بننے کا امکان ظاہر کی جارہی ہے۔امریکہ نے اس ملاقات کو اپنے رشتوں میں فروغ کا حصہ مانا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے یہ ملاقات لوک سبھا چناؤ سے پہلے سیاسی لیڈروں اور کاروباریوں کے ساتھ اس کی مثبت پہنچ کا حصہ ہے۔محکمہ خارجہ کی ترجمان ییری ہرف نے کہا کہ بھارت میں چناؤ سے پہلے سفیر پاویل اورامریکی قونصل جنرل پورے بھارت میں سیاسی پارٹیوں کے سینئر لیڈروں اور کاروباری اداروں اور این جی او تک وسیع سطح پر پہنچ بجا رہے ہیں۔ معلوم ہو کہ امریکہ کا مودی کو لیکر 9 سال کا بائیکاٹ ختم کرتے ہوئے پاویل نے مودی سے گاندھی نگر میں ملاقات کی ہے۔ اس دوران پاویل نے مودی سے یہ بھی کہا بتایا جاتا ہے کہ امریکہ لوک سبھا چناؤ کے بعد بھارت میں اگلی نئی سرکار کے ساتھ قربت کے ساتھ کام کرنا چاہے گا۔ پاویل کے مطابق بھارت اور امریکہ سانجھے داری کافی اہمیت کی حامل اور پائیدار ہے۔دوسرے الفاظ میں نینسی پاویل نے مودی کو یہ بھی اشارہ دینے کی کوشش کی ہے کہ اگر وہ اگلے وزیر اعظم بنے تو امریکہ ان سے تعاون کرنے کو تیار ہے۔ امریکہ کے موقف میں تبدیلی ان کی مجبوری ہے۔ سال2002ء میں گجرات فساد ہوئے تھے اور2005ء میں امریکہ نے وزیر اعلی کو اپنے یہاں آنے کے لئے یہ کہہ کر ویزا دینے سے انکارکردیا کہ وہ مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کے لئے ایک طرح سے قصوروار ہیں۔ آج وہی مودی بھاجپا کے پی ایم امیدوار ہیں اور دیش بھر میں ان کے حق میں وسیع حمایت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یہ ہی نہیں عدالت نے مودی کو پچھلے دنوں فساد میں مبینہ کردار کو لیکر کلین چٹ دے دی تھی۔ ایسے میں کیا سیدھے سیدھے یہ نہیں مانا جائے کہ امریکہ جو بھارت میں بدلتے سیاسی حالات کا بخوبی احساس رکھتا ہے اور وہ لوک سبھا چناؤ کے بعد نئی بننے والی حکومت سے دوری بنا کر نہیں رکھنا چاہتا۔سیدھے سیدھے یوں کہیں کہ نریندر مودی کو لیکر امریکہ کے جھکاؤ کا اثر دونوں ملکوں کے رشتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ امریکہ کے لئے یہ خمیازہ ہوگا کہ وہ اس سے بچنے سے پہلے اپنی سرگرمی دکھانا چاہتا ہے۔ ایک بات اور کہی جارہی ہے کہ امریکہ بھارت سمیت دنیا بھر کے بڑے لیڈروں سے نئے سرے سے بات چیت کر اپنے رشتوں کو نئی بنیاد دینا چاہتا ہے۔ بھارت کے سلسلے میں یہ بنیاد مسلسل طور پر وسیع مفادات سے جڑی ہے۔آج امریکہ اقتصادی طور پر تمام طرح سے چنوتیوں کا سامنا کررہا ہے۔ ایسے میں کسی نئی مشکل میں وہ پھنسنا نہیں چاہتا۔ مودی کو لیکر اپنے پرانے موقف کو بھی اسی دباؤ میں بدلنے کو مجبور ہے۔ سفیر نینسی پاویل کو نریندر مودی سے ملاقات کے لئے دو مہینے کا انتظار کرنا پڑا۔ پچھلے سال دسمبر کے دوسرے ہفتے میں ہی وزارت خارجہ کے سامنے مودی سے ملاقات کرنے کی درخواست کی تھی۔ دراصل لوک سبھا چناؤ سے ٹھیک پہلے امریکہ کی طرف سے مودی کے ساتھ صلاح صفائی سرکار کو راس نہیں آئی۔ یہ ہی وجہ ہے ملاقات طے ہوجانے کے بعد خود وزیر خارجہ سلمان خورشید پبلک طور سے امریکہ کو نصیحت دیتے دیکھے گئے لیکن امریکہ بھی کیا کرے چڑھتے سورج کو سبھی سلام کرتے ہیں۔ دنیا جھکتی ہے جھکانے والا چاہئے۔
(انل نریندر)

ممبران کی پارلیمنٹ میں جانے سے پہلے تلاشی کا سوال!

جمعرات کو لوک سبھا میں جو کچھ ہوا وہ بیحد شرمناک تو تھا ہی ساتھ ساتھ اس سے ایک سنگین سوال بھی اٹھنے لگا ہے کہ ممبران کی پارلیمنٹ کے اندر پختہ حفاظت کا کیا انتظام کیاجائے؟اس دن تو مرچ اسپرے نہ جانے کیا کیا نکلا۔ مستقبل میں اگر کوئی ایم پی کوئی اور خطرناک ہتھیار لیکر داخل ہوگیا اور کوئی سنگین حملہ ہوگیا تو اس کی ذمہ داری کس کی بنے گی۔ اس حادثے کے بعد اب سرکار کے سامنے ایک بڑی چنوتی کھڑی ہوگئی ہے۔ سنسد کے اندر کی سلامتی اور تلنگانہ تنازعے کو لیکر ایک ایم پی نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ ایوان کے اندر سانپ لیکر آئے گا۔ ایک انگریزی اخبار نے تو سرخیوں میں لکھا تھا پارلیمنٹ انڈر اٹیک؟یعنی سنسد پر حملہ۔ سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ کمپلیکس میں داخل ہوتے وقت ممبران کی تلاشی لی جائے؟ کئی پارٹیوں کے ممبران نے دباؤ بنانا شروع کردیاہے کہ سب کی تلاشی لی گئی تو یہ ان کے وقار کے خلاف ہوگا۔ سیماندھر کے ایم پی کانگریس سے حال ہی میں نکالے گئے راج گوپال نے جمعرات کو لوک سبھا میں مرچ اسپرے کیا تھا اس پر وہ سبھی کے نشانے پر آگئے ہیں۔ تازہ سسٹم کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہوتے وقت ممبران کی تلاشی نہیں لی جاتی۔ دراصل ممبران کو مخصوص اختیار کا کوچ ملا ہوا ہے ایسے میں ایوان کے اندر کسی کی سرگرمی پر پولیس سیدھی کارروائی نہیں کرسکتی۔ اسپیکر کے حکم پر ہی پولیس مجرمانہ معاملہ درج کرسکتی ہے۔ لوک سبھا اسپیکر میرا کمار نے 17 فروری کو پارلیمنٹ کمپلیکس کی سکیورٹی امور کی کمیٹی کی میٹنگ بلائی ہے اس میں ممبران کی سلامتی کی جانچ سمیت دیگر متبادل پرغور کیا جائے گا۔ راج گوپال کی حرکت پر تلنگانہ کے کانگریس ایم پی پی پربھاکر نے اسپیکر کو شکایت کی ہے کہ راج گوپال اور ٹی ڈی پی ایم پی وینو گوپال ریڈی کے خلاف مجرمانہ کارروائی کی جائے۔ پارلیمنٹ سکیورٹی معاملوں کی کمیٹی کریا منڈا اس کے چیئرمین ہیں اور کانگریس سے پی سی چاکو ،بی ایس پی سے دارا سنگھ چوہان، بھاجپا سے کیرتی آزاد، سپا سے یش ویر سنگھ اور محبوب علی سمیت دیگر ایم پی کو اس مسئلے پر فیصلہ لینا ہے۔ ممبران پارلیمنٹ کی تلاشی کا فیصلہ کرنا آسان نہیں رہ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق باقاعدہ بات چیت سے پہلے اسپیکر میرا کمار نے اس معاملے میں بڑی پارٹیوں کو پوری طرح سے بھروسے میں لینے کی کوشش کی ہے۔ زیادہ تر پارٹیاں یہ ہی مشورہ دے رہی ہیں کہ سکیورٹی پختہ کرنے کے لئے تلاشی کے بجائے دوسرے متبادلوں پر غور ہونا چاہئے۔ پارلیمانی مریادا بنائے رکھنے کی ذمہ داری سبھی پارٹیوں کے ممبران کی ہے۔ ایسے میں یہ کہنا شاید ٹھیک نہیں کہ حکمراں فریق ہی حالات سنبھال سکتا ہے۔ جس پر ممبران کا کہنا ہے کہ جن ممبران نے اس دن یہ مجرمانہ فعل کیا ہے ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ لوک سبھا اسپیکر مجرمانہ مقدمہ درج کرا سکتی ہیں۔ اگر اس طرح کا کوئی سخت فیصلہ وہ لیتی ہیں تو اس کا اچھا پیغام جائے گا۔ پارلیمانی امور کے وزیر کملناتھ نے حکومت کی طرف سے لوک سبھا اسپیکر کو تحریری طور سے یہ صلاح دی ہے کہ ملزم ممبران کے خلاف سخت سے سخت قدم اٹھائے جائیں کیونکہ ان لوگوں کی کرتوت سے پارلیمنٹ کی ساکھ کو دھکا لگا ہے۔ 62 برس کی پارلیمانی تاریخ میں کبھی اتنی غیر اخلاقی تصویر سامنے نہیں آئی۔ لوک سبھا اسپیکر اور سکیورٹی کمیٹی کیا تجویز پیش کرتی ہے دیکھتے ہیں۔
(انل نریندر)

16 فروری 2014

بڑے بے آبرو ہوکے تیرے کوچے سے ہم نکلے!

8 دسمبر2013 کو دہلی کی سیاست میں اروند کیجریوال کا آنا کسی ہیرو کی طرح ہوا تھا۔ جس کی چمتکاری شخصیت کے پاس ہر مرض کی دوا تھی ۔وہ آدھی قیمت پر بجلی دے سکتا ہے، وہ پوری دہلی کومفت پانی دلا سکتا ہے، وہ بدعنوان شیلا سرکار کے سارے کالے کارناموں کا پردہ فاش کرکے قصوروار وزیر اعلی و ان کے وزرا کو جیل کی ہوا کھلا سکتا ہے، وہ بدعنوان بجلی کمپنیوں اور سرکاری ملازمین کو سبق سکھا سکتا ہے ، وہ بدعنوانی کو ختم کرسکتا ہے، سرکاری محکموں میں جزوقتی طور پر کام کررہے ساڑھے چار لاکھ ملازمین کو کل وقتی کر سکتا ہے، لیکن وہ اس سے پہلے کہ یہ سب وعدے پورے کرتے ڈرامائی انداز سے بھاگ لئے۔ دہلی میں نئی طرح کی سیاست کا مزہ چکھانے کا وعدہ کر اقتدار میں آئے مکھیہ منتری اروند کیجریوال 49 دنوں میں سرکار چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ 
شکروار کو لوک سبھا چناؤ میں اترنے کی جلد بازی میں عام آدمی پارٹی کے مکھیا نے جن لوک پال بل کو اس کا بہانا بنایا اور لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کو استعفیٰ دے دیا۔ کیجریوال ایک چالاک سیاسی لیڈر ثابت ہوئے۔کچھ لوگوں کو لگا کہ شاید وہ سیاست میں نوسکھیا ہیں لیکن شکروار کو جس ڈرامائی انداز میں انہوں نے شہید بننے کا ناٹک کیا اس سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ وہ ایک چالاک اور منجھے ہوئے سیاستداں ہیں۔سبھی مان رہے تھے کہ اس پہلی غیر کانگریس ، غیر بھاجپا اقلیتی سرکار کی عمر زیادہ لمبی نہیں ہے ۔ سرکار کو کب گرایا جائے گا یا خود کیجریوال میدان سے بھاگیں گے بس سوال اتنا سا ہی تھا۔ودھان سبھا اجلاس کے شروع ہونے سے پہلے ہی اس بات کا پختہ اندازہ مجھے تھا کہ اروند کیجریوال نے اپنی سرکار کی بدائی کا من بنا لیا ہے لیکن وہ اسے عام طریقے سے نہ کرکے شہادت کے طور پر کرتے ہوئے دکھنا چاہتے ہیں۔ جیسے کروکشیتر کے میدان میں ابھیمنیو کا ود ہوا ہو اور دگجوں نے فریب دیکر مار دیا ہو۔ 
عام آدمی کے حکمت عملی سازوں کا ماننا تھا کہ کانگریس کی بیساکھیوں پر اس سرکار کا زیادہ لمبے وقت تک چلنا ناممکن ہے۔اگر کسی بھی طرح سرکار چل بھی گئی تو اس کی عمر لوک سبھا چناؤ سے زیادہ نہیں ہے۔ وہیں اگر لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کے نریندر مودی کا تیر چل گیا تو حالات بد سے بدتر ہوسکتے ہیں۔ ان حالاتوں میں مرکز میں اگر سرکار کانگریس کی بنتی ہے یا خود گرجاتی ہے تو اس کا فائدہ پارٹی کو ملنے کی جگہ اس کا نقصان ہی ہوگا۔ پارٹی سپہ سالاروں نے اس کے لئے سیشن سے پہلے ہی شطرنجی ڈھنگ سے بساط بچھا رکھی تھی۔ انہیں اگلے قدم پر کیا کرنا ہے جس سے سرکار گرنے کا کوئی نہ کوئی راستہ بنانا اس کی حکمت عملی تھی جس کا موقعہ انہیں متحدہ اپوزیشن ، لیفٹیننٹ گورنر کے اسٹینڈ نے دے دیا ۔
اروند کیجریوال نے طے شدہ راجنیتی کے تحت ڈرامائی ڈھنگ سے استعفیٰ دے دیا اور اس کے لئے کناٹ پلیس میں ہمایوں روڈ پر واقع پارٹی دفتر میں پہلے سے ہی تیاری ہوچکی تھی۔پارٹی نے اپنے رضاکاروں کو پہلے سے ہی بتا رکھا تھا کہ وہ ہنومان روڈ پر پارٹی دفتر میں حاضر رہیں۔ پارٹی نے ایک چھوٹی اسکرین بھی لگا رکھی تھی تاکہ کارکن ودھان سبھا میں اروند کیجریوال کو دیکھیں اور سنیں۔ کیجریوال نے اسے پرتیکاتمک بنانے کے لئے اسی کھڑکی سے 15 منٹ کا بھاشن دیا جس سے انہوں نے دہلی ودھان سبھا چناؤ میں جیت کے بعدبھاشن دیا تھا۔ انا ہزارے کی طرف سے ملے مثبت پیغامات سے بھی اروند کیجریوال کو لگا کہ وقت آگیا ہے کہ بڑی بڑھت کے لئے چھوٹی قربانی دے دیں۔ اس سے مجھے شاہ رخ خان کی فلم ’’بازیکر‘‘ کا وہ ڈائیلاگ یاد آگیا ’’کبھی کبھی جیتنے کے لئے ہارنا ضروری ہوتا ہے، ہار کر جیتنے والے کو بازیگر کہتے ہیں‘‘ ۔ آپ سمرتھکوں کا تو یہ ہی کہنا ہے عام آدمی سمرتھک اروند کیجریوال کے استعفے کو صحیح مان رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سرکار بنی ہی اس لئے تھی کہ بھارت بھرشٹاچار مکت دیش بنے۔لیکن کانگریس، بھاجپا و مکیش انبانی ایسا نہیں چاہتے تھے۔ بھاجپا اور کانگریس نے جن لوک پال بل کی مخالفت کرکے اپنی اصلی تصویر دکھا دی ہے۔ 
مکیش انبانی کے خلاف معاملہ درج ہوتے ہی دونوں پارٹیاں تلملا گئیں۔ انہیں لگا کہ جن لوک پال بل پاس ہوگیا تو ان کی خیر نہیں اس لئے انہوں نے بل پاس نہیں ہونے دیا۔ دوسری جانب عام آدمی کو ووٹ دینے والے اپنے آپ کو چھلا محسوس کررہے ہیں۔ جنتا سوال کررہی ہے کہ اگر فی الحال جن لوک پال پاس نہیں ہوتا تو کیا آفت آجاتی؟ پہلے دہلی کی جھگی جھونپڑی میں رہنے والے غریب لوگوں کو مکان دینا ضروری نہیں تھا؟ کیا بجلی پانی کے انتظام کو چست درست کرنا ضروری نہیں تھا؟ اسپتالوں میں خراب حالات کو سدھارنا ضروری نہیں تھا؟ اگر مرکزی سرکار ان کا جن لوک پال پاس نہیں کرتی تو کیجریوال اس کے خلاف سیاسی لڑائی لڑ سکتے تھے لیکن وہ تو پہلے دن سے کہتے رہے کہ اگر یہ بل پاس نہیں ہوگا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ اصل میں کیجریوال کو معلوم تھا کہ وہ اپنے کسی بھی وعدے کو پورا نہیں کرسکتے اس لئے بھاگنے کا موقعہ دیکھ رہے تھے۔ وہ شہید بن کر جنتا کے سامنے جانا چاہتے تھے۔ عام آدمی پارٹی کی سرکار صرف49 دن ہی حکومت میں رہی اس دوران ایک دن بھی ایسا نہیں رہا جب کسی نہ کسی مدعے پر کیجریوال نے ویواد پیدا نہ کیا ہو۔ قانون منتری بھارتی کی کارکردگی پر لگتار سوال اٹھتے رہے۔ بہ نسبت اس کے بھارتی کو کچھ کہتے اروند کیجریوال آئین ، قانون و انتظام کی دھجیاں اڑاتے ہوئے خود دھرنے پر بیٹھ گئے۔
ہمارے مطابق اس سرکار کی الٹی گنتی اسی دن سے شروع ہوگئی تھی ۔کیجریوال کے استعفیٰ دینے کے بعد جنتا میں موضوع بحث ہے کہ بہتر ہوتا اگر انہوں نے اپنے قانون منتری سومناتھ بھارتی کے مدعے پر دہلی پولیس کے خلاف یوم جمہوریہ کی تیاریوں کے درمیان ریل بھون پر دھرنا نہیں دیا ہوتا۔ ان کے ووٹر بھی اس قدم سے حیران تھے۔ سرکار چلانا اور دھرنا دینا دونوں کام ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
بیشک ٹی وی چینلوں پر ان کے ہمدر یہ کہیں کہ کیجریوال کا استعفے کے بعد سیاسی قد بڑھا ہے پر ہمیں لگتا ہے کہ ان کے سمرتھکوں نے بھاری کمی آئی ہے۔جن لوگوں نے انہیں ودھان سبھا میں ووٹ دئے تھے ان میں پڑھا لکھا طبقہ ان کی حرکتوں اور ان کی انارکی سے مایوس ہوئے ہیں اور وہ اب دوبارہ انہیں ووٹ نہیں دیں گے لیکن یہ میرا اپنا خیال ہے ۔تاریخ کے صفحات میں جب کیجریوال کے ساشن کے 49 دنوں کی حکومت کا ذکر ہوگا تو پتہ نہیں انہیں ہیرو لکھا جائے گا یا زیرو؟ کبھی کبھی اقتدار کے 49 دن بھی سمرتھکوں کے بڑے حصے کو ورودھی بنانے کیلئے کافی ہوتے ہیں۔ دہلی سرکار کی بلی چڑھا کر آپ کو اب اتنی فرصت تو مل ہی جائے گی کہ وہ دیش کی بڑے پیمانے پر راجنیتی میں اپنی پوری توجہ دے سکیں اور جیسا اروند کیجریوال دعوی کررہے ہیں آئندہ چناؤ میں 50 سے زیادہ سیٹیں جیتیں گے پر پوری طاقت جھونک دیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...