Translater

14 مارچ 2020

مجرموں کے داﺅں پینچ جاری لیکن پھانسی کی تاریخ وہی رہے گی؟

دیش کو جھنجھوڑنے والے نربھیا کانڈ کے گنہگاروں کو پھانسی دینے کے لے چوتھی مرتبہ ڈیتھ وارنٹ جاری ہونا یہ چوتھا موقع ہے اس سے پہلے تین بار ایسے ہی ڈیتھ وارنٹ جاری کئے گئے لیکن وہ نا قابل عمل رہے ۔اس کے چلتے دیش کو یہی پیغام گیا ہے کہ انصاف میں دیری بھی ہے اور اندھیر بھی پتہ نہیں یہ چوتھا ڈیتھ وارنٹ آخری ثابت ہونے والا ہو یا گنہگاروں اور ان کے وکیل کے ذریعہ اب کوئی نیا داﺅں پینچ بچا ہے یا نہیں ؟نربھیا کے قصوروار مکیش کی جانب سے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر کیوریٹو پٹیشن دوبارہ داخل کرنے کی اجازت مانگی گئی ہے ۔جس پر سپریم کورٹ 16مارچ کو سماعت کرئے گی ۔باقی مجرموں کے وکیل اے پی سنگھ نے بتایا کہ آنے والے ہفتے میں ان کی طرف سے عرضی داخل کی جائے گی اور پھانسی پر روک کی اپیل کی جائے گی ۔اس طرح دیکھا جائے تو مجرم کوئی بھی قانونی داﺅن پینچ آزمانے سے نہیں چوک رہے لیکن قانونی واقف کار بتاتے ہیں کہ اب پھانسی کی تاریخ 20مارچ ساڑھے پانچ بجے نہیں بدلنی چاہیے ۔مکیش کے وکیل ایم ایل شرما کی طرف سے داخل درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسے سازش کا شکار بنایا گیا ہے ۔یہ اسے نہیں بتایا گیا کہ لیمٹیشن ایکٹ کے تحت کیوریٹو پٹیشن داخل کرنے کے لئے تین سال کا وقت ہوتا ہے اس طرح دیکھا جائے تو اس کے اخلاقی حق سے محروم کیا گیا ہے ۔اسی وجہ سے ریٹ داخل کیا گیا ہے اس معاملے میں فورا سماعت پر اپیل کی گئی ہے ۔سپریم کورٹ نے 16مارچ کی تاریخ طے کر دی ہے ۔اس درمیان ونے ،اکشے،اور پون کے وکیل اے پی سنگھ نے بتایا کہ ونے کی طر ف سے عرضی داخل کی جائے گی جس میں اس کی رحم کی درخواست خارج کرنے کی دہلی سرکار کی سفارش کو چنوتی دی جائے گی جبکہ ونے کی رحم کی عرضی دائر ہو گئی تھی تب دہلی میں چناﺅ چل رہا تھا ۔اور چناﺅی ضابطہ لاگو تھا ۔اس موقع پر کیسے دہلی کے وزیر نے اس کی رحم کی اپیل خارج کرنے کی سفارش کیسے کر دی ؟یہ سوال عدالت کے سامنے اُٹھایا جائے گا ۔کیا کہتے ہیں قانون کے جانکار کرن سنگھ کا کہنا ہے کہ چاروں گنہگاروں کی نظر ثانی کیوریٹو اور رحم کی پٹیشن خارج ہو چکی ہے اب آخری مرسی پٹیشن خارج ہونے کے چودہ دن بعد پھانسی کی تاریخ طے کی گئی ہے ۔شتر و گھن چوہان فیصلے کے تحت جو ضروریت تھی اس کو پورا کیا گیا ہے ایسے میں ایک پھانسی کی طے تاریخ 20مارچ کو ہی ہونی چاہیے ۔دوسرے وکیل منیش بھدوریا بتاتے ہیں کہ رحم کی اپیل خارج ہونے کے بعد پہلے بھی سپریم کورٹ میں ریٹ پٹیشن داخل ہوتی رہی ہے ۔لیکن ایسا سلسلہ ختم نہیں ہو سکتا ۔مرسی خارج ہونے کے بعد دوبارہ مرسی پٹیشن داخل ہوتی رہی تو وہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا ۔قصوروار کی مرضی پر ہے ۔کہ وہ عرضی داخل کرئے اور وہ آخری دم تک کوشش کر سکتا ہے ۔لیکن اب شاید ہی پھانسی کی تاریخ ٹل پائیے اگر سپریم کورٹ کو لگے گا کہ سماعت کے لئے پھانسی پر روک ضروری ہے تبھی پھانسی ٹل سکتی ہے ۔ورنہ نہیں ویسے موجودہ معاملے میں اب پھانسی 20مارچ ساڑھے پانچ بجے طے ہے ۔جس کے بدلنے کا بہت ہی کم امکان ہے ۔

(انل نریندر)

نزع سے معمولی بیداری کی طرف!

مدھیہ پردیش میں پچھلے دنوں شروع ہوئے سیاسی کھینچ تان کے درمیان بدھوار کو کانگریس کو بڑا جھٹکا لگا جب سرکردہ لیڈر جوتر آدتیہ سندھیا کانگریس چھوڑ کر بھاجپا میں شامل ہو گئے ۔دراصل حال ہی میں ریاست میں 22ممبران اسمبلی کی بغاوت اور استعفی کے بعد کملناتھ سرکار گرنے کے اندیشے کے بھی سبھی کی نظریں سندھیا مہاراج پر لگی تھیں کہ موجودہ سیاسی بحران کے لئے اصل کڑی وہی ہیں ،ریاست میں اندرونی تنازعہ کو نہ سلجھا پانے کی اپنی عدم صلاحیت کا خمیازہ کانگریس کو نہ صرف جوتر آدتیہ سندھیا جیسے تیز ترار نوجوان لیڈر کانگریس کو چھوڑنے کی شکل میں بھگتنا پڑا ہے ۔بلکہ 22ممبران کے استعفی سے 15سال کے بعد بھاجپا کا راج ختم کر کے بنی کملناتھ کی کانگریس سرکار ایک بار پھر اقتدار سے باہر ہونے کے دہانے پر ہے ۔ریاست میں کانگریس کے اندر جھگڑے کی بنیاد سرکار کی تشکیل کے ساتھ ہی پڑ گئی تھی ۔ریاست میں کانگریس کو اقتدار میں واپس لانے کے لئے کملناتھ ،دگ وجے سنگھ،اور جوتر آدتیہ سندھیا کا رول تھا ۔لیکن سرکار اور تنظیم دونوں میں ہی اپنے آپ کو نظر انداز کئے جانے سے خفا سندھیا نے بغاوت کا اشارہ دے دیا تھا ۔اس کے باوجود سندھیا کے بھاجپا میں شامل ہونے تک امید کی جار ہی تھی کہ شاید کانگریس کو اندرونی لیڈر شپ کے مسئلے کو دور کر سرکار بچا لینے کی کوشش ہو ۔لیکن ایسا لگتا ہے کہ نہ تو کانگریس کی طرف سے سندھیا کو روکنے کی سنجیدگی دکھائی گئی اور نہ سندھیا نے انتظار کرنا مناسب سمجھا ۔اب سندھیا بھاجپا میں شامل ہو گئے ہیں ۔اور جن ممبران اسمبلی نے بغاوت کا راستہ چنا ان کے سامنے نئے حالات میں اپنا موقوف طے کرنے کی مشکل ہے ۔کیونکہ دل بدل قانون کے تحت اگر ممبرشپ جانے کی نوبت آئی تو ان کو پھر سے چناﺅ لڑنا پڑ سکتا ہے ۔اب بھاجپا کی طرف سے ٹکٹ مل جائے سیاسی حساب کتاب میں ایک جیو کی طرح سیاسی پارٹی بھی جے وک مانے جاتے ہیں ۔انسانی بیداری کی ایک میڈیکل پوزیشن ہوتی ہے ،اور دوسرے وجیٹے ٹیرو اسٹیٹ ۔قوما میں شخص سویا لگتا ہے جسم او ردماغ اپنی کارروائی بند کر دیتا ہے لیکن صرف ریلکس ایکشن ہی اس کے زندہ ہونے کی صند ہے اور چوٹ لگنے پر بھی جسم حرکت نہیں کرتا لیکن کبھی کبھی انگلیاں ہلتی ہیں ۔سانسیں با قاعدہ طور سے چلتی رہتی ہیں ۔ویجریٹو اسٹیٹ میں آنکھیں کھلی رہنے سے ہلکی سی نزیت کا احساس ہوتا ہے ۔لیکن دماغ کام نہ کرنے کے سبب باہری دنیا سے وہ لا علم رہتی ہے ۔میڈیکل سائنس کے مطابق اس صورت میں لکویڈ آکسیجن چیمبر میں ہوتے ہیں ۔لہذا لیکوڈ مریض کو جانے نہیں دیتا اور آکسیجن مرنے نہیں دیتی ۔ایسی ہی حالت اب کانگریس کی طرف بڑھ رہی ہے ۔یعنی کانگریس کی پوزیشن ایک بیمار کے قوما جیسی ہے ۔مرکزی لیڈر شپ کو پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب آج کے ایک قدآور لیڈر نے پارٹی چھوڑ کر بھاجپا جوائن کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں تین دن بیٹھا رہا لیکن دہلی لیڈر شپ نہیں ملی ۔ایک بار جب بات ہوئی بھی تو اس طرح جس کے بارے میں غالب نے کہا تھا ۔غالب تمھیں کہو کہ ملے گا جواب کیا ؟مانا کہ تم کہا کئے اور وہ سنا کئے ۔اب موقع ہاتھ سے نکل گیا مدھیہ پردیش میں آج بحرانی پوزیشن ا س لئے پہنچی کہ لیڈر شپ نے موثر لگام نہیں کسی لیڈ ر شپ کو شاید اس بات کی بھی فکر نہیں کہ مدھیہ پردیش اس کے ہاتھ سے نکلا سمجھو ،راجستھان کا بھی یہی حال ہونے والا ہے ۔اگر کانگریس لیڈر شپ نزع سے باہر نہیں نکلی ۔پارٹی کی باگ ڈور فی الحال ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کی عمر 68سے 70برس سے زیادہ ہے چاہے وہ کملناتھ ہوں یا اشوک گہلوت یا موتی لال بہرا ہوں غلام نبی آزاد ہوں آنند شرما ہوں پی چدمبرم ،امبیکا سونی ،احمد پٹیل ،ایسے میں سندھیا ،سچن پائلٹ ،نتن پرساد،یا ملن دیوڑا جیسے نوجوان لیڈر کوئی ذمہ داری نہ ملتی دیکھ مایوس ہوتے جا رہے ہیں ۔اور نوجوان ورکر وں میں بھی مایوسی چھا رہی ہے ۔اس کی وجہ کانگریس کا ووٹ بینک ہے سب سے دکھ کی بات یہ ہے کہ 135سال پرانی پارٹی اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لئے لڑنے کو مجبور ہے ۔پورے معاملے میں ہمیں دکھ اس بات کا ہے کہ کسی بھی پایدار جمہوریت میں مضبوط حکمراں پارٹی ہونی چاہیے ۔لیکن اتنا ہی ضروری ہے مضبوط اپوزیشن بھارت میں اپوزیشن بکھرتی جا رہی ہے ۔او ر اب حکمراں پارٹی بغیر لگام کے تانا شاہی ہوتی جائے گی ۔کانگریس کی اس کمزوری کا بھاجپا فائدہ اُٹھاتی ہے تو دیش کی سب سے پرانی پارٹی اس کے لئے کسی کو دوش نہیں دے سکتی ۔

(انل نریندر)

13 مارچ 2020

ہم ہیں افغانستان کے اصل حکمراں:طالبان

حال ہی میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہوئے تاریخی سمجھوتے کی خبر آنے کے بعد سے ہی یہ اندیشہ جتایا جا رہا تھا کہ کیا اس سے طالبان کے رخ میں تبدیلی آئے گی ؟اور اب افغانستان میں بحالی امن کی سمت میں کوئی مثبت تبدیلی آئے گی ؟اب ایک ہفتے کے اندر طالبان کا جو رویہ سامنے آیا ہے اس سے سمجھ میں آرہا ہے کہ دنیا کی بڑی طاقت کے ساتھ ہوئے خود ساختہ تاریخی معاہدے کی اہمیت بھی طالبان کی نظر میں صفر ہے اس کے لئے اپنا نظریہ زیادہ ہی معنی رکھتا ہے طالبان نے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہوئے اس کے امن معاہدے کے بعد بھی یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ اس کے سپریم لیڈر افغانستان کے اصل حکمراں ہیں ان کے لئے مذہب نے یہ منظور کر دیا ہے کہ وہ غیر ملکی قابض فوجوں کی واپسی کے بعدوہ دیش میں اسلامی حکومت قائم کریں ۔طالبان کے اس بیان کے بعد امریکہ کے ساتھ ہوئے امن سمجھوتے کو لے کر بے یقینی مزید بڑھ گئی ہے ۔یہ واقعہ اس انکشاف کے بعد سامنے آیا ہے کہ امریکی حکومت کو اس بارے میں خفیہ رپورٹ ملی ہے کہ طالبان امریکہ کے ساتھ ہوئے معاہدے پر عمل بھی نہیں کر سکتا ۔طالبان کے تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اتھرایز لیڈر میر ملا ہیبة اللہ اخند زادہ کی موجودگی میں کوئی اور افغانستان کا حکمراں نہیں ہو سکتا ۔تنظیم نے کہا کہ غیر ملکی قبضے کے خلاف 19سال تک چلے جہاد جائز امیر کی کمان کے تحت ہی چلایا گیا ۔قبضے کو ختم کرنے کے معاہدے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہے ملا اخند زادہ کی حکمرانی ختم ہوگئی ہے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر ملکی فوجوں کی واپسی ہی ان کی بغاوت کا مقصد نہیں ہے ۔بلکہ چار غیر ملکی حملہ آوروں کی حمایت کرنے والے کرپٹ (افغان)عناصر کو امکانی سرکار کا حصہ نہ بننے دینے کے لئے بھی ہے ۔ایک بار پھر سے افغانستان سنگین خانہ جنگی کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 35منٹ تک فون کرنے کے بعد بھی طالبان نے 20افغان فوجیوں کو مار ڈالا ہے ۔طالبان کی اس کارروائی کے بعد امریکہ نے بھی زوردار حملہ کیا ہے ۔افغانستان میں 18سال تک چلی جنگ کے بعد امن کی امیدوں کو بڑا جھٹکا لگا ہے ۔دونوں فریقین کے حملوں کے بعد اب افغانستان میں ایک مرتبہ پھر سے بد امنی کا آغاز ہو گیا ہے ۔امن معائدہ کھٹائی میں پڑتا دکھای دے رہا ہے بتا دیں کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان محدود جنگ بندی معاہدے کے کچھ گھنٹوں کے بعد ہی یہ حملے کئے گئے ۔دراصل لمبے عرصے کی جد و جہد کے بعد اب جا کر امریکہ نے آخر کار افغانستان سے اپنی فوجوں کو واپس بلانے کی بات مانی ہے ۔اسی سلسلے میں امریکہ اور افغانستان کے درمیان معائدے کے تحت ہوا تھا چودہ مہینے کے اندر وہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلا لئے گا ۔امریکہ کو اب سمجھ میں آرہا ہوگا کہ افغانستان سے نکل جانے کی اس کی پلانگ خطرے بھری ہے ۔موجودہ حالات میں ہمیں نہیں لگتا کہ معاہدے کی کامیابی کوئی امید دکھا سکتی ہے ۔

(انل نریندر)

ملزمان کے شارع عام پوسٹر لگانے کا سوال

اترپردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ سرکار نے 19دسمبر پچھلے سال لکھنﺅ میں شہریت ترمیم قانون کے احتجاج میں ہوئے تشدد کے دوران پبلک پراپرٹی کو نقصان پہچانے کے لئے 57لوگوںکو قصوروار مانا تھا ۔نقصان کے ہرجانے کے لئے ان کے نام اور تصویر والے پوسٹر لگوائے تھے الہٰ آباد ہائی کورٹ نے سرکار کے اس قدم کا خود نوٹس لیا اور اتوار کو بھی سماعت کی اور حکم دے دیا کہ سی اے اے تشدد کے ملزمان کے بینر پوسٹر 16مارچ سے پہلے ہٹا دئے جائیں ۔لیکن اس کے لئے اس نے جو طور طریقے اپنائے وہ سوالوں کے گھیرے میں ہیں ۔دراصل ریاستی حکومت نے ملزمان کے خلاف جس طرح کے پبلسٹی اقدامات کا سہارا لیا ہے ان پر شروع سے ہی اعتراض جتایا جا رہا تھا ہائی کورٹ نے صاف کہا کہ ملزمان کے پوسٹر لگانا ان کی پرائیوسی میں سرکار کا غیر ضروری دخل ہے الہٰ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس گووند ماتھر اور جسٹس رمیش سنہا کی بنچ نے کہا کہ یوپی سرکار ہمیں یہ بتانے میں نا کام رہی ہے کہ چند ملزمان کے پوسٹر ہی کیوں لگائے گئے ۔جبکہ یوپی میں لاکھوں لوگ سنگین الزمات کا سامنا کر رہے ہیں ۔بنچ نے کہا کہ چنند ہ لوگوں کی معلوماتی بینر میں دینا یہ دکھاتا ہے کہ انتظامیہ نے حکمرانی کا غلط استعمال کیا ہے ۔چیف جسٹس گووند ماتھر اور جسٹس رمیش کی ڈویزن بنچ کے سامنے ریاستی سرکار کی طرف سے پیش ہوئے ثالی شیٹر جنرل راگھویند ر پرتاپ سنگھ نے دلیل دی تھی کہ عدالت کو اس طرح کے معاملے میں مفاد عامہ کی طرح مداخلت نہیں کرنی چاہیے ۔با قاعدہ اس کو چانچ پڑتال کے بعد ہی ان لوگوں کے نام قانون کے مطابق سامنے آتے تو اچھا رہتا ۔انہیں عدالت سے بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے ۔نوٹس کے باوجود یہ لوگ حاضر نہیں ہوئے تھے ایسے میں پبلک طور سے ان کے پوسٹر لگانے پڑے اس پر کورٹ نے جاننا چاہا کہ ایسا کون سا قانون ہے کہ جس کے تحت ایسے لوگوں کے پوسٹر پبلک طور پر لگائے جا سکتے ہیں ؟صاف ہے کہ سرکار نے جمہوریت اور قانون کے تقاضے کو در کنا ر کر شاید ہڑبڑی میں تحمل برتنا ضروری نہیں سمجھا غور طلب ہے کہ سی اے اے کے مسئلے پر ہوئے احتجاجی مظاہروں کے تشدد کی شکل لینے اور پراپرٹی کے نقصان کے لے ریاستی سرکار اور پولیس نے کئی لوگوں کو ملزم مانا تھا حالانکہ ابھی تک عدالت میں ان کے الزام ثابت نہیں ہوئے اور نہ ہی عدالت نے انہیں قصوروار مانا ہے ۔چونکہ ریاستی سرکار ملزمان سے وصولی کے راستے کو ہی ترجیحاتی حل مان رہی ہے اس لئے اس معاملے میں بھی 57لوگوں کی پہچان فوٹو سمیت پورا پتہ اور تعارف ہورڈنگ پر چھپوا کر ضلع کے چوک چوراہوں پر لگوا دئے ۔سرکار کی نظر میں نقصان کی وصولی کا یہ راستہ بے حد ضروری اور کارگر ہو سکتا ہے ۔لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ طریقہ جمہوری اور قانونی کسوٹی پر بھی پوری طرح مناسب ہے ؟یہ بھی سچ ہے کہ ریاستی سرکار نے ملزمان کی پوری تفصیل پبلک کرنے کا جو راستہ اپنایا ہے وہ نہ صرف ان کی پرائیوسی کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے ان کی سلامتی کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے ۔

(انل نریندر)

12 مارچ 2020

27برس بعد رام للا کو ملے گی کرپال سے نجات

دسمبر1992سے ہی ٹینٹ کے اندر بیٹھے رام للا کو 27سال بعد فائبر کے بلٹ پروف مندر میں شفٹ میں ہونگے ۔شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے نے بتایا کہ رام للا کو چیتر نو رام سے ایک دن پہلے یعنی 24مارچ کو ٹینٹ سے نکال کر فائبر کے مندر میں شفٹ کیا جائے گا اس مندر کو خاص طور سے کولکاتہ میں تیار کرایا گیا ہے مندر کو بلٹ پرورف شیشے سے بنایا گیا ہے رام جنم بھومی پر مندر کی تعمیر پوری ہونے تک رام للا فائبر کے اس مندر میں ہی رہیں گے آپ کو بتا دیں کہ دسمبر میں 1992سے ہی وہ ٹینٹ میں برجمان ہیں ۔ٹرسٹ کی دوسری میٹنگ رام نومی کے بعد چار اپریل کو ایودھیا میں ہوگی ۔اس کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں ۔اس میٹینگ میں رام مندرٹرسٹ کے سبھی ممبران کے ساتھ ہی ایودھیا کے ضلع مجسٹریٹ انوج کمار جھا بھی موجود رہیں گے ۔اس سے پہلے ٹرسٹ کی ایک میٹنگ دہلی میں ہو رہی ہے اس سے پہلے ایودھیا رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے دوسرے ٹرسٹ کی ڈاکٹر انل مشر ایودھیا کے ضلع مجسٹریٹ انوج جھا سنیچر صبح رام جنم بھومی مندر استھل پہنچے اور دفتر کے لئے رام کچہری مندر کا معائنہ کیا ۔اور ایک دفتر کھولنے کے لئے ٹرسٹ کا ایودھیا میں جگہ کا انتخاب کر لیا گیا ہے ۔رام جنم بھومی اینٹی گیٹ کے پاس واقع رام کچہری مندر میں ٹرسٹ کا دفتر ہوگا آخر برسوں کے انتظار کے بعد ایودھیا میں شاندار شری رام للا کے عظیم الشان مندر بنانے کی کارروائی آگے بڑھی ہے بہت جلد ایودھیا میں کروڑوں لوگوں کی آستھا کی علامت شری رام للا کا شاندار مندر دیکھنے کو ملے گا ۔جے شری رام

(انل نریندر)

بربادی کے دہانے پر پہنچا یس بینک

چھ مہینے بھی نہیں گزرے کہ پی ایم سی بینک گھوٹالے کے بعد اب پرائیوٹ سیکٹر کے دوسرے یس بینک کا جو حال سامنے آیا ہے اس نے کھاتے داروں کی نید اُڑا دی ہے ڈوبنے کے دہانے پر پہنچے یس بینک کے گراہک بھی اب اسی پریشانی میں ڈوبے ہیں ۔جو پچھلے کئی مہینوں سے دیش کے ہر بینک گراہک کو کھائی جا رہی ہے ۔یس بینک کے مشکل کے پھنسنے سے اس کے گراہکوں میں کھلبلی مچ گئی ہے ۔اور بد حواس حالت میں کھاتے دار بینک کے اے ٹی ایم پر پہنچ رہے ہیں ۔لیکن پیسہ نہیں نکل رہا ہے ۔برانچوں میں کھلبلی مچ رہی ہے ۔وہاں بھی نہ پیسے دیئے جا رہے ہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا کام ہو رہا ہے گراہکوں کو اپنے پیسے ڈوبنے کا ڈر ستار ہا ہے ۔ریزرو بینک کے ذریعہ یس بینک کے ڈائرکٹر بورڈ کو توڑ دیا گیا ہے اور اس پر پابندی لگا دینا اور بینک کے بحران میں مبتلا ہونے کے معاملے تک محدود نہیں ہے بلکہ دیش کے چوتھے سب سے بڑے پرائیوٹ بینک کا یہ حال دیش کے بینکنگ سیٹر کو سنگین بحران کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ریزرو بینک کو پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر پابندی لگانی پڑی ہے تو یہ بات عام نہیں ہے ۔معیشت کو بہتر چلانے میں بینک سب سے اہم ترین رول نبھاتے ہیں لیکن حالایہ برسوں میں ایک کے بعد ایک بینک کا مالی بحران میں پھنسنا ہماری معیشت کی سنگین بیماری کا ایک اثر ہے یس بینک پر پابندی لگ جانے سے اس کی شاخوں اور اے ٹی پر حیران پریشان گراہکوں کی لمبی لمبی قطاریں ہیں ۔ایک مشت پچاس ہزار تک کی نکاسی کی سہولت کے باوجود لوگوں کو نہ تو پیسہ مل رہا ہے بلکہ خدشات الگ ہیں یہ چھ مہینے پہلے ہی پی ایم سی پر مرکزی بینک کی پابندیوں کے بعد ایسے ہی مناظر سامنے آئے تھے ۔جو یس بینک اور سب سے زیادہ سود دینے اور اپنی لیڈیز اسپیشل اورایم ایچ ای برانچوں کے سبب سرخیوں میں تھا وہ بنیادی طور پر خاندانی رسہ کشی اور قواعد کی خلاف ورزی اور دیوالیہ کمپنیوں کو قرض دینے کے سبب ڈوبا ہے ۔یس بینک سے ہر اکاونٹ پچاس ہزار روپئے تک کہ نکالی طے کر دی گئی ہے ۔کوئی میڈیکل ایمرجنسی ہو یا تعلیم فیس دینی ہو یا پھر شادی ہو تو پانچ لاکھ روپئے تک نکال سکتے ہیں ۔ریزرو بینک پہلے بھی اسی طرح کی کارروائی کر چکا ہے ۔گلوبل ٹرس بینک ،اورینٹل بینک آف کامرس میں یونائیٹڈ اور ویسٹن بینک میں اور بینک آف انڈیا کو آئی سی آئی بینک میں ملایا جا چکا ہے ۔ریزرو بینک کے تحت آنے والے مالی اداروں میں پیسہ جمع کرنے والوں کو کچھ پریشانی بھلے ہو جائے لیکن ان کا پیسہ دیر سویر مل ہی گیا ہے ۔ریزرو بینک کی بات کریں تو کیا یس بینک اور آر بی آئی کے ڈپٹی گورنر این ایس وشو ناتھن کے استعفی کا کوئی تعلق ہے ؟کوئی مانے یا نہ مانے لیکن یہ سچ ہے کہ ریزرو بینک کے ڈپٹی گورنر کے استعفی اور یس بینک کے اندر چل رہی اتھل پتھل کے درمیان سیدھا تعلق ہے ۔کچھ دن پہلے صبح خبرا ٓئی کہ آر بی آئی کے ڈپٹی گورنر وشو ناتھن نے اپنی معیاد پوری ہونے سے پہلے ہی صحت کے اسباب کے تحت استعفی دے دیا ۔دراصل آر بی آئی کے چار ڈپٹی گورنر ہوتے ہیں ۔جن میں سے دو آر بی آئی میں رینک کی بنیاد پر چنے جاتے ہیں ۔ایک ڈپٹی گورنر کمرشیل بینکنگ سیکٹر سے ہوتا ہے ۔جو ابھی تک وشو ناتھن تھے چوتھا ڈپٹی گورنر کوئی جانا مانا ماہر اقتصادیات ہوتا ہے ۔جو ویر اچاریہ تھے ۔انہوںنے بھی آر بی آئی کے ڈپٹی گورنر سے استعفی دے دیا تھا ۔ان سے پہلے ارجت پٹیل بھی استعفی دے چکے تھے نومبر 2019میں ڈپٹی گورنر وشوناتھن نے بینکوں کو صلاح دی تھی کہ بینکوں کے لون جال سازی اور ان سے ہونے والے نقصان کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جانکاری دینی چاہیے ۔وشوناتھن کا کہنا ہے کہ اگر بینک ان کا بروقت انکشاف نہ کرتے تو رسک لینے کی صلاحیت گھٹے گی اور ایسے واقعات ماضی گذشتہ میں ہوئے ہیں ۔جب ریزو بینک کے معنی میں بینکوں کے این پی اے کا پتہ چلا ہے ۔ایسے میں بینکوں کی اپنی اپنا اثاثہ رکھنے کے لئے ریگولیٹری کے قواعد سے الگ ہٹ کر سوچنا ہوگا۔اب ان باتوں کے سلسلے میں آپ یس بینک کو ہی دیکھئے ۔جس پر پچھلے سال ریزرو بینک ایک کروڑ روپئے کا جرمانہ لگا چکا ہے ۔جس نے اپنی سہہ ماہی کے لین دین کی تفصیل اب تک سامنے نہیں رکھی ۔جبکہ دو مہینے سے اوپر گزر چکے ہیں یعنی اب تک کوئی فائنل حساب کتاب نہیں دیا گیا ہے ۔اور جسے یس بینک کا 316فیصدی کیپٹل بیڈ لون میں پھنسا ہوا ہے ۔جس کی ریکوری کی کوئی امید نہیں ہے ۔ہو سکتا ہے جیسے پی ایم سی بینک کے بارے میں بعد میں پتہ چلا کہ اس کا تو پورا سرمایہ ہی ڈوب چکا ہے ۔ویسے ہی کچھ دن کے بعد یس بینک کے ساتھ بھی ایسا معاملہ سامنے آئے ۔یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے اصلی قرض کا پتہ نہیں لگا ہے ۔اب یس بینک کو بچانے کے لئے ایس بی آئی کو آگے کیا جا رہا ہے ۔جو شخص ریزو بینک سے بنیادی طور سے بینکنگ ریگولیشن کے لئے ذمہ دار ہو وہ یہ کیسے دکھا سکتا ہے کہ ایسے پرائیوٹ بینک کو بچانے کے لئے دیش کے سب سے بڑے سرکاری بینک کو آگے لایا جا رہا ہے ۔یہ خبر سامنے آنے سے پہلے ہی ڈپٹی گورنر نے آر بی آئی کو استعفی دے دیا ہے ۔این ایس وشو ناتھن کی ہدایت پر آر بی آئی ،این پی ایف کے احتجاج میں وہ اپنے قدم پر ڈٹے رہے ۔اب یس بینک کا معاملہ اور سامنے آگیا ہے ۔بھارت کی بد حال ہو چکے بینکنگ سسٹم کی عدم صلاحیت بیان کرتی ہے اس سے یہ صاف ہوتا ہے کہ بد انتظامی کا تعلق صرف سرکاری بینکو ں سے ہی نہیں ہوتا بلکہ پرائیوٹ سیکٹر کے بینک بھی اس بد انتظامی کے شکار ہوتے ہیں اس لئے بینکوں کے کام کاج پر نگرانی کی ضرورت ہے ۔یہ بات بھی اس سے صاف ہوتی ہے کہ یس بینک کی بد حالی اچانک نہیں ہوئی ہے اس کے زوال کا رول کافی عرصے سے سامنے آرہا تھا ۔ریزرو بینک کو شاید امید تھی کہ کوئی راستہ نکل آئے گا ۔لیکن کوئی راستہ نہ نکلنے کی صورت میں ریزرو بینک نے اس کا کام کاج اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے امید کی جانی چاہیے کہ اس کے رقم جمع کنندگان کو مستقبل میں پریشانی کم ہوگی ۔

(انل نریندر)

10 مارچ 2020

آئی پی ایل پر کورونا کی چھایا

مرکزی وزارت صحت نے ایک ایڈوائزری جاری کر کے ریاستی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ آئی پی ایل 20-20جیسے پروگراموں کو ٹال دیا جاے یا اس کو منسوخ کر دیا جائے کیونکہ ایسے موقعوں پر کافی تعداد میں لوگ شامل ہوتے ہیں ۔ایسے میں الگ الگ ریاستوں کے 9شہروں میں ہونے والے ایل پی ایل میچوں پر سوالیہ نشان لگنا فطری ہے ۔کیونکہ کرونا وائرس کا ڈر وزارت کو ستا رہا ہے ۔کولکاتہ کے ای ڈین گارڈن میں سب سے زیادہ قریب 68ہزار اور جے پور سوائی مان سنگھ اسٹیڈیم میں سب سے کم 25ہزار کرکٹ ناظرین موجود ہوتے ہیں کورونا کی وبا کو دیکھتے ہوئے کیا اتنی بڑی بھیڑ کے لئے احتیاطی قدم اُٹھانا ممکن ہے ؟موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے کیا مقامی پولیس ،انتظامیہ میڈیکل ماہرین اتنی بڑی بھیڑ جمع ہونے کے لئے اجازت دیں گے ؟بی سی سی آئی کے چیر مین سوربھ گانگولی نے جمعہ کو کہا کہ انڈین پریمئر لیگ پہلے سے طے پروگرام کے مطابق ہی ہوگا اور تیزی سے پھیل رہے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے سبھی طرح کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ٹی 20لیگ 29مارچ کو ممبئی سے شروع ہوگی جس میں ہندوستانی اور بین الا اقوامی سطح کے کرکٹ کھلاڑی حصہ لیں گے ۔بھارت میں ابھی کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بہت کم ہے ۔اور جو ہے اس میں 16اٹلی کے سیاح شامل ہیں ۔گانگولی کا کہنا ہے کہ ہر جگہ ٹونا منٹ چل رہے ہیں انگلیڈ کی ٹیم سری لنکا میں ہے ساﺅتھ افریقہ کی ٹیم یہاں ہے کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ان کا دعوی ہے کہ کاﺅنٹی ٹیمیں دنیا بھر میں دورے کر رہی ہیں اور کھیلنے کے لئے ابو ظہبی متحدہ عرب امارات جا رہی ہیں اس لے کسی طرح کا کوئی مسئلہ نہیں ہے گانگولی کا کہنا ہے کہ وہ کھلاڑیوں اور کرکٹ دیکھنے والوں کی حفاظت یقینی کرنے کے لئے ہر طرح کے احتیاطی قدم اُٹھائیں گے ۔مجھے نہیں پتہ کہ مزید اقدامات کیا ہیں ؟میڈیکل ٹیمیں پہلے ہی اسپتالوں کے اندر چوکس ہیں تاکہ موقع پڑنے پر دستیاب رہیں ۔سبھی ٹورنامنٹ اپنے پہلے سے طے پروگرام کے مطابق ہی ہوں گے ۔

(انل نریندر)

سعودی عرب میں شہزادہ کی تختہ پلٹ کی سازش

سعودی عرب میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے تختہ پلٹ کی خبر آئی ہے ۔ایک اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے نا معلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شاہی گارڈ نے شاہ سلمان کے بھائی شہزداہ احمد بن عبدالعزیز السعود اور بھتیجے شہزادہ محمد بن نائف کو جمعہ کے صبح سویرے ان کے گھر سے حراست میں لے لیا گیا ان پر بغاوت کا الزام ہے اخبار نے لکھا ہے کہ سعودی عرب کی عدالت نے کبھی اقتدار کے امکانی دعویدار رہے دو لوگوں پر شاہ اور ولی عہد کو ہٹانے کے لئے تختہ پلٹ کرنے کی سازش کا الزام لگایا اور اس کے لئے عمر قید یا موت کی سزا سنائی جا سکتی ہے ۔نیویارک ٹائمس نے بھی حراست میں لئے جانے کی خبر دیتے ہوئے بتایا کہ شاہ نائف کے چھوٹے بھائی شہزادہ نواف بن نائف کو بھی حراست میں لیا گیا ہے ۔سعودی عرب کے حکام نے فوری طور پر اس بارے میں کوئی تفصیل دینے سے انکار کر دیا ہے ۔اس سے پہلے محمد بن سلمان نے اقتدار پر اپنی پکڑ مضبوط کرنے کے لئے سرکردہ مولاناﺅں اور رضاکاروں کے ساتھ ساتھ شہزادوں اور کاروباریوں کوبھی جیل میں ڈال دیا تھا ۔شاہ کے بیٹے شہزادہ محمد نے استبول سفارتخانے میں اکتبور2018میں تنقید نگار صحافی جمال خشوغی کے قتل کو لے کر عالمی برادری کی نکتہ چینیوں کا بھی سامنا کیا تھا ملک کی سلامتی سے لے کر معیشت تک سبھی امور کو دیکھنے والے ایک اچھے لیڈر کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں شہزادہ نے اپنے 84سالہ والد سلمان سے با قاعدہ طور سے اقتدار کے منتقلی سے پہلے اندرونی ناراضگی کو ختم کرنے کی راہ پر دکھائی دے رہے ہیں ۔شاہ سلمان کے بھائی احمد السعود خشوغی قتل کے بعد سے لندن میں تھے ۔ان کی کچھ لوگوں نے حکومت کے لئے حمایت پانے کی کوشش کی شکل میں دیکھا ۔بلکہ 2017میں شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان نے سابق شہزادہ محمد بن نائف کو در کنا رکر اقتدار حاصل کر لیا تھا ایسے میں دونوں شہزادوں پر پہلے سے تختہ پلٹ کرنے کا شبہ تھا ۔شہزادہ ولی عہد سلمان اپنے والد سلمان سے اقتدار منتقلی سے پہلے اندرونی رسہ کشی کو ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔انہوںنے صرف شاہ کو د ر پیش خطرات کو دور کیا بلکہ اقتدار کی مخالفت کرنے والوں کو جیل بھیجا یا ان کو قتل کروا دیا ۔امریکی تجزیہ نگار بوکا واسر نے کہا کہ یہ سب اس بات کا اشارہ ہے کہ کوئی انہیں ہٹانے کی ہمت نہ کرئے ۔بتا دیں کہ نومبر 2017میں بد عنوانی انساد کمیٹی کی سفارش پر شاہی خاندان و ان سے وابسطہ 150لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا اس میں 11 شہزاد ے چار وزیر اور کئی سابق وزیر شامل تھے یہ کمیٹی شاہ سلمنا نے قائم کی تھی ۔اس کا چیئرمین شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان کو بنایا تھا بعد میں کروڑوں ڈالر کا جرمانہ لگا کر ان سبھی لوگوں کو چھوڑ دیا گیا ۔

(انل نریندر)

سپریم کورٹ کے دروازے پر اقوام متحد ہ انسانی حقوق کمیشن

شہریت ترمیم قانون( سی اے اے )کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر عرضیوں کی سماعت سے پہلے اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن دفتر نے عدالتی انصاف دوست کی شکل میں مداخلت کرنے کی جو درخواست بڑی عدالت میں داخل کی ہے ۔وہ نہ صرف ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں اس طرح کی پہلی مثال ہے بلکہ اسے اقوام متحدہ کے ذریعہ غیر ضروری مداخلت کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے ۔سی اے اے کے مسئلوں کو لے کر اقوام متحدہ انسانی حقوق کمشنر مشل ویچلٹ جیریا نے مودی سرکار کو بین الا اقوامی قانون اور آئینی بنیاد پر کٹ گھرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے ۔بڑی عدالت کے ذریعہ اقوام انسانی حقوق کمیشن اس مسئلے پر ایک انصاف دوست کے طور پر اس کی کارروائی میں شامل ہونا چاہتا ہے حالانکہ اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے ۔لیکن وزارت خارجہ نے اس مسئلے پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اس پر فیصلہ حالانکہ سپریم کورٹ کو لینا ہے لیکن اس سے پہلے بھارت کے وزارت خارجہ نے فطری طور پر سخت ناراضگی جتاتے ہوئے کہا کہ دیش میں شہریت ترمیم قانون بھارت کا اندرونی مسئلہ ہے اور دیش کی سرداری سے جڑے مسئلے پر کسی تیسرے فریق کا کوئی دائر اختیار نہیں بنتا اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن نے حالانکہ سی اے اے کی پوری طرح مخالفت تو نہیں کی ہے لیکن اس نے کچھ لوگوں کو مذہبی بنیاد پر اذیت پہنچانے کے لئے سی اے اے کے مقصد پر انگلی اُٹھائی ہے ۔لیکن اذیت کے شکار مسلمانوں کے مختلف فرقوں کو اس قانون کے دائرے سے باہر رکھنے کا اشو بھی اس نے اُٹھایا ہے ۔دراصل پچھلے اگست میں جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370ہٹائے جانے کے بعد سے ہی پاکستان نے اقوام متحدہ اور اس کے اداروں میں بھارت کے خلاف مہم چھیڑی تھی لیکن اسے کامیابی ملی اس کے بعد سے ہی مغربی ممالک اور کچھ اداروں کے ذریعہ بھارت کے اندرونی معاملوں مداخلت کرنے کی کوششیں شروع کر دیں اور اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن کی دائر عرضی بھی اسی کا حصہ ہے ۔ہائی کمشنر جیریا کا یقین ہے کہ بھارت کے سپریم کورٹ کی غیر جانبداری اور آزادی کو لے کر اس کے من میں کافی احترام ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ بھارت میں اب تک جن بین الا اقوامی انسانی حقوق معاہدوں پر دستخط کئے ہیں وہ سی اے اے ان عالمی انسانی حقوق پیمانوں کی برابری کے اصولوں کے خلاف ہے ۔اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت نان ڈیفالٹ مینٹ کے اس اصول سے بندھا ہے جس کے مطابق اذیت کے شکار ہو کرآئے اس شخص کو اس ملک میں نہیں بھیجا جا سکتا جہاں سے وہ آیا ہے ۔کہہ سکتے ہیں کہ بین الا اقوامی ایجنسی کے ذریعہ اُٹھایا گیا یہ قدم حیرت انگیز ہے تو قع کی جاتی ہے کہ سپریم کورٹ اس عرضی کو خارج کر دے گا ۔حقیقت میں کسی بھی مسئلے پر انصاف دوست کی تقرری سپریم کورٹ کے دائر اختیار کے تحت ہے ۔اوپر سے کوئی نہیں تھوپ سکتا ۔اگر یہ عرضی منظور کر لی جاتی ہے تو کسی بھی متنازعہ اندورنی مسئلے پر اقوام متحدہ اور اس کے معاون ادارے انصاف دوست بننے کی کوشش کریں گے ۔جس کا بھارت کسی بھی قیمت پر اجازت نہیں دے سکتا ۔

(انل نریندر)

08 مارچ 2020

میں ہولی نہیں مناﺅں گا

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز کہا کہ انہوںنے کسی بھی ہولی ملن تقریب میں نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ماہرین نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے بڑی تعداد میں لوگوں کے اکھٹے ہونے کے پروگرام کو کم کرنے کی صلاح دی ہے ۔انہوںنے ٹوئٹ کیا کہ دنیابھر میں ماہرین نے کووڈ90-کرونا وائرس کے پھیلنے سے ایسے پروگراموں میں جانے سے منع کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔اس لئے میں اس سال کسی بھی ہولی تقریب میں نہیں جاﺅں گا اس سال دس مارچ کو ہولی ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی کی صلاح پر عمل کرتے ہوئے بھاجپا صدر جے پی نڈا وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ حالات کو دیکھتے ہوئے وہ اس بار ہولی میں نہیں شامل ہوں گے نڈا نے ٹوئٹ کیا کہ دنیا کے دیشوں میں اس بیماری کو پھیلنے سے روکنے کے لئے کوششیں جاری ہیں ۔انہوںنے کہا کہ نوبل کرونا وائرس سے دنیا جنگ لڑ رہی ہے دیش اور ڈاکٹر طبقہ اسے پھیلنے سے روکنے کے لے مل کر کوشش کر رہا ہے اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں نہ تو ہولی مناﺅں گا اور نہ ہی کسی ہولی پروگرام میں شامل ہوں گا ۔دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھی ہولی کے پبلک پروگرام میں شامل نہیں ہوں گے نارتھ دہلی میں ہوئے تشدد کے تئیں غم جتانے اور کرونا وائرس انفکشن کے پھیلاﺅ کے بارے میں لوگوں میں بیداری کے لئے وزیر اعلیٰ نے یہ فیصلہ لیا ہے ۔دہلی میں ہوئے دنگوں کی وجہ سے وزیر اعلیٰ سمیت دہلی کے وزیر اور ممبران اسمبلی اور پارٹی کے عہدیداران اور ورکر بھی ہولی نہیں منائیں گے اور نہ کسی ایسے پروگرام میں شامل ہوں گے ۔مشرقی دہلی میں اتنی زبردست ٹریجڈی ہوئی ہے کہ اس طرح ہولی کا کوئی پروگرام نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ کوئی عام دنگہ نہیں تھا ۔دہلی کے دنگوں میں زخمی مرضیوں کی موت کا سلسلہ جاری ہے اب تک مرنے والوں کی تعداد 53ہو گئی ہے ۔اِدھر اب تک پولیس نے دنگوں کے معاملے میں 654مقدمے درج کئے ہیں ۔اور 1820لوگوں کو گرفتار کیا گیا یا حراست میں لیا گیا نارتھ ایسٹ دہلی میں 493لوگ تشدد کے شکار ہوئے ہیں ۔اور سینکڑوں لوگ بے گھر ہوئے بہت سو کی دکانیں اور گھر جل گئے یعنی سب کچھ تباہ ہو گیا دہلی پولیس کی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ 493لوگ تشدد کے شکار ہوئے پولیس نے علاقے کے مختلف تھانوں میں درج ایف آئی آر ار ایم ایل سی کی بنیاد پر دنگے میں مرنے والے اور زخمیوں کی جانکاری اکٹھی کر کے یہ رپورٹ تیار کی حالانکہ ابھی مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سب سے زیادہ لوگ پتھراﺅ آگ زنی پیٹرول بم اور تیزاب بم کے شکار ہوئے ہیں ۔اور لوگوں کی تعداد 220کے آس پاس ہے ۔شکار ہونے والے دوسرے نمبر پر دھار دار اور خطرناک ہتھیاروں کے شکار ہوئے 117لوگ ہیں ۔تشدد کے معاملے میں سب سے سنگین معاملہ گولی کے شکار لوگ ہیں ۔ان کی تعداد 102ہے اس لئے یہ بڑے دکھ کا باعث ہے میں سب سے درخواست کروں گا کہ دنگوں کے متاثرہ لوگوں کو صبر اور مرے ہوئے لوگوں کو شردھانجلی دے کر اس بار ہولی نہ منائیں ۔

(انل نریندر)

انکت شرما کے قتل کے لئے ملزم طاہر ذمہ دار؟

شمال مشرقی دہلی میں دنگوں کے دوران آئی بی ملازم انکت شرما کے قتل سمیت تین دیگر معاملوں میں ملزم عآپ پارٹی سے معطل کونسلر طاہر حسین کو دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے دوپہر کو ہائی وولٹیج ڈرامے کے درمیان راﺅ ایونیو کورٹ کی پارکنگ سے گرفتار کر لیا ہے ۔وہ جمعرات کو عدالت میں سرینڈر کی عرضی لگانے کے لئے آیا تھا ۔لیکن عدالت نے عرضی خارج ہونے کے بعد طاہر واپسی کے لئے پارکنگ میں پہنچا تو ایس آئی ٹی نے اسے دبوچ لیا ۔پولیس اسے کرائم برانچ کے آفس لے گئی طاہر حسین خود کو بے قصور ہونے کا دعوی کر رہا ہے اور خود کو سازش کے تحت پھنسانے کی بات کر رہا ہے کرائم برانچ کے حکام کے سامنے اس نے 24فروری کی رات تقریبا 11بجے پولیس کے افسروں نے ہی اسے بھیڑ سے بچایا تھا ۔اور بچانے کے بعد اس کو اس کے گھر والوں کو سونپ دیا تھا ۔انکت شرما کے لا پتہ ہونے کا واقعہ 25فروری کی شام پانچ بجے کا ہے ۔آئی بی ملازم کے قتل کے معاملے میں ملزم نے کہا کہ میرا نام طاہر حسین ہے اور میں سیاسی پارٹی عام آدمی سے جڑا ہوں اس لئے سازش کے تحت مہرا بنایا گیا ہے ۔دوسری طرف انکت شرما کے پتا نے پولیس میں درج کرائے گئے کیس میں بیٹے کی موت کے لئے اسے ہی ذمہ دار بتایا ۔بہر حال رات 11بجے سے شام 5بجے کے درمیان 18گھنٹے کی جانچ میں طے ہوگا کہ اس قتل کی واردات میں کونسلر کا کتنا رول ہے ؟پولیس اب اتنے ہی گھروں کے ایک ایک پل کا حساب کونسلر سے جانے گی ۔کہ وہ اتنے وقت تک کہاں تھا ۔اگر کونسلر طاہر حسین اس درمیان خود کو موقع واردات سے دور ہونے کا کوئی ثبوت پیش کر پایا تو پولیس کے لے اسے کم سے کم قتل کے معاملے میں قصوروار ثابت کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا ۔اس کا دعوی ہے کہ 24فروری کے بعد سے وہ بلڈنگ میں نہیں گیا ایسے میں اس کے موبائل کی لوکیشن سے کافی حد تک پوزیشن صاف ہو جائے گی ۔اُدھر نارتھ ایسٹ دہلی میں ہوئے تشدد کے معاملے میں ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کو نوٹس دیا ہے کہ تشدد کے دوران لوگوں کا پتہ لگانے کے لئے سبھی طرح کی کوشش کریں اور ساتھ ہی دنگے میں مارے گئے لوگوں کی ان سبھی لاشوں کی تفصیل بھی سامنے لائیں جن کی پہچان نہیں ہو پائی ایک ویڈیو جو بہت زیادہ وائرل ہو ا تھا کہ طاہر حسین کی چھت پر اکھٹی بھیڑ کے بارے میں تھا جس پر طاہر حسین نے دلیل دی کہ یہ ویڈیو 24تاریخ کا ہے چھت پر وہ لگاتار پولیس حکام اور پارٹی سے جڑے نیتاﺅں کو فون پر حالات بتا کر جانکاری دے رہا ہے ۔انہیں بتا رہا تھا کہ گھر کے باہر ماحول ایک دم خراب ہو گیا تھا ۔اس نے یہ بھی کہا کہ میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا قانون پر پورا بھروسہ ہے ۔وہ نارکو ٹیسٹ کے لئے تیار ہے ۔اس ہائی پروفائل معاملے میں پولیس کو طاہر حسین پر لگے الزامات کو عدالت میں ثابت کرنا ہوگا وہ بے قصور ہے جیسا کہ وہ دعوی کر رہا ہے ۔اسے سازش کے تحت پھنسایا گیا ہے ۔یا پھر وہ غلط بیانی کر رہا ہے ؟اپنے آپ کو پاک صاف بتانے کی کوشش کر رہا ہے ؟اب سارا دارومدار ثبوتوں پر ہے ۔کیونکہ معاملہ اب عدالت میں جائے گا جہاں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...