Translater

16 ستمبر 2011

تہاڑ جیل میں کیسے گذار رہے ہیں اپنا وقت یہ وی آئی پی قیدی


Published On 16th September 2011
انل نریندر
دہلی کی تہاڑ جیل کا نام وی آئی پی جیل کردینا چاہئے۔پچھلے کچھ دنوں سے یہاں ایک سے ایک بڑا نیتا مہمان بن رہا ہے۔ سلاخوں کے پیچھے امرسنگھ ، اے راجہ، کلماڑی، کنی موجھی جیسے اپنا دن کیسے گذارتے ہیں سنئے ۔ پہلے بات کرتے ہیں امر سنگھ کی۔ امرسنگھ کے لئے جیل کے قاعدے قانون اور روایات طاق پر رکھ دی گئیں۔ صحت کا حوالہ دیکر امرسنگھ کو پیر کی دیر شام آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ بھیج دیا گیا۔ قاعدے کے مطابق انہیں پہلے دین دیال اپادھیائے اسپتال بھیجا جانا چاہئے تھا۔ یہ پہلا موقعہ ہے جب کسی قیدی کو علاج کے لئے براہ راست میڈیکل بھیجا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ امر سنگھ کو جیل میں سہولت دینے کو لیکر بڑھتے سیاسی دباؤسے عاجز آکر جیل کے ڈائریکٹر جنرل چھٹی پر چلے گئے ہیں۔ جیل کے ملازم بھی امر سنگھ کے نخروں سے پریشان ہوگئے تھے۔ڈی آئی جی جیل آر این شرما نے بتایا کہ تہاڑ میں کوئی وی آئی پی نہیں ہے۔ سبھی قیدیوں کو برابر حق اور سہولیات ہیں۔دراصل کلماڑی کے ساتھ اپنے دفتر میں چائے پلانے کے چلتے جیل سپرنٹنڈنٹ بھاردواج کوکالا پانی (پورٹ بلیئر) بھیج دیا گیا ہے۔ یہ سختی اسی کا اثر ہے۔ ایک وارڈن مسکراکر کہتا ہے کہ یہ وہی امر سنگھ ہے جنہیں کچھ دن پہلے تک امیتابھ بچن خود گاڑی چلا کر ہوائی اڈے سے اپنے گھر لاتے تھے۔ جنہوں نے اپنے گھر پر کروڑوں روپے کی سجا دھجا کرائی ہوئی تھی۔ وہی امر سنگھ آج 10X15 کے ایک سیل میں زمین پر سو رہے ہیں۔ جس میں ایک چھوٹا سا ٹی وی سیٹ اور پنکھا ہے۔ انہیں جیل سے چار کمبل، دو بیڈ شیٹ، ایک تھالی، کٹوری، چمچ، گلاس اور ایک مٹکا ملا ہوا ہے۔ بڑی پارٹیوں کے درمیان اربوں کھربوں کی سودے بازی کرنے والے امر سنگھ کی جیل میں 1500 روپے وہ بھی جیل کوپن کی شکل میں۔
صبح چھ بجے حاضری کے وقت ایک کے بعد ایک نام پکارے جاتے ہیں۔ امر سنگھ کا نام آتا ہے تو سنتری پکارتا ہے امرسنگھ جی، سریش کلماڑی، اے۔راجہ، کنی موجھی وغیرہ کئی بار خود بغیر نام کے پکارے رجسٹر پر صحیح نشان لگا دیتے ہیں۔ پھر پرارتھنا ’اے مالک تیرے بندے ہم‘ پچھلے 20 سال سے تہاڑ میں روزانہ صبح لتا منگیشکر کی آواز میں یہ پرارتھنا بجتی ہے۔ سبھی قیدی اسے دوہراتے ہیں۔ پھر چائے اخبار پھر کچھ دیر کے لئے ٹی وی ، پھر کچھ کا سیر کرنا، کچھ کا کام سانپ سیڑھی، لوڈو، کیرم اور شطرنج کھیلنا۔ پھر کھانا پینا اور سونا۔ راجہ کی اہلیہ پرمیشوری جمعرات کو ان سے ملنے پہنچیں لیکن کنی موجھی اتنی خوش قسمت نہیں تھیں ان سے ملنے کے لئے ایک تامل کوی نے ایک ممبر پارلیمنٹ کی معرفت عرضی دی تھی، جسے جیل حکام نے نامنظور کردیا۔ اسی طرح جیل نمبر 3 کے گیٹ پر سفید کرتا پائجامہ پہنے درجن بھر سے زیادہ لوگ جمع تھے۔ صبح11 بجے سے دیر شام تک کچھ ممبران اسمبلی اور دیگر خود کو بڑا نیتا بتا رہے تھے۔ ممبر پارلیمنٹ کلستے اور بھگورا سے ملنے مدھیہ پردیش اور راجستھان سے آئے تھے۔ جیل انتظامیہ نے انہیں منظوری نہیں دی تھی۔ جیل کے ترجمان سنیل گپتا بتاتے ہیں ساڑھے بارہ بجے قیدیوں میں صرف دو کے لئے گھر سے کھانا آتا ہے راجہ اور کنی موجھی۔ عدالت نے اس کی خاص اجازت دی ہوئی ہے۔ لیڈیز جیل میں کنی موجھی گھل مل گئی ہیں۔ خاتون سنتری انہیں دیدی کہہ کر بلاتی ہے۔ قاعدے کے مطابق ہفتے میں دو ملاقاتیں ہوسکتی ہیں وہ بھی گھر والوں سے۔ وہی کپڑے لیکر آتے ہیں ،ہفتے بھر کے لئے 1500 روپے دئیے جاتے ہیں۔ ان میں کینٹین سے کچھ پکوان مٹھائی خریدی جاسکتی ہے۔ راجہ ٹی وی چینل اور فلمیں دیکھ کر وقت گذار رہے ہیں۔ شاہد بلوا نے آئی پیڈ، کولر اور نرم تکیہ اور گدا بھی مانگا ہے۔ وہ ہندی فلمیں دیکھ کر وقت کاٹ رہے ہیں۔ ہاں جیل میں سیلون ، کپڑوں پر پریس، ڈرائی کلین اور سامان خریدنے کیلئے کینٹین کی سہولت ہے۔ کوپن کے ذریعے جو چاہے خریدلو۔ کلماڑی نے جھانسی کی رانی سیریل دیکھنے کے لئے ٹی وی مانگا تھا۔ سنتری کہتا ہے کلماڑی گھنٹوں رجسٹر میں کچھ لکھتے رہتے ہیں۔کیا لکھتے ہیں کوئی نہیں جانتا۔ کیا وہ کس کس کو کیا دیا اس کا حساب کتاب لکھ رہے ہیں کیونکہ ان کی یاد داشت آتی جاتی رہتی ہے؟ زیادہ تر وی آئی پی دو مرکزی وزیر، ایک سابق وزیر اعلی، چھ سابق ممبر پارلیمنٹ، دو سابق اعلی افسر،پندرہ صنعت کار زیر سماعت قیدی ہیں۔ ان سے جیل کا کام نہیں کروایا جاتا۔ جس جیل میں رہتے ہیں اس کی صفائی ملازم کرتے ہیں۔ امر سنگھ کے ساتھ تین قیدی اس لئے رکھے گئے ہیں تاکہ وہ پورا دن فنائل سے فرش صاف کرتے رہے ہیں تاکہ امر سنگھ کوکوئی انفیکشن نہ ہو۔ جیل کرمچاری بھی مانتے ہیں ایم پی تو آخر ایم پی ہے۔ باہر چاہے جتنی باتیں بنائی جائیں لیکن ایم پی کا لحاظ کرنا پڑتا ہے ۔تو اس طرح گذر رہی ہے ان وی آئی پی لوگوں کی تہاڑ جیل میں زندگی۔
A Raja, Amar Singh, Anil Narendra, Cash for Vote Scam, Daily Pratap, Kalmadi, kani Mozhi, Tihar Jail, Vir Arjun,

کشمیری عورتوں کا جہادیوں کیخلاف مارچ



Published On 16th September 2011
انل نریندر
آج کی تاریخ میں پاکستان بھی اتنا ہی جہادیوں سے پریشان ہوگا جتنی باقی دنیا۔ پاکستان کے اندر ان کٹر پسندوں نے ایک طرف حکومت کا ناک میں دم کررکھا ہے تو وہیں عام جنتا بھی ان سے عاجز آچکی ہے۔ آئے دن کراچی ، کوئٹہ،ایبٹ آباد میں دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔ کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ جب مسجدوں میں بم پھٹیں گے ، بچوں کا اغوا ہوگا تو جنتا میں سکیورٹی کا احساس کیسے ہوگا۔ پچھلے دنوں ایسی خبریں آئیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ان جہادیوں سے جنتا کتنی تنگ آچکی ہے اور ان کی پاکستانی سکیورٹی ملازمین میں کس حد تک گھس پیٹھ ہوچکی ہے۔ بی بی سی نے بتایا پچھلے ہفتے سینکڑوں لوگوں نے پاکستان مقبوضہ کشمیر جسے آزاد کشمیر بھی کہا جاتا ہے، درجنوں عورتوں نے جہادی گروپوں کی بڑھتی ہوئی کرتوت کے خلاف مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ کٹر پسندوں کو علاقے سے نکالا جائے۔ یہ مظاہرہ کشمیرکی نیلم وادی میں ہوا۔ ایک ہفتے کے اندر وادی میں کٹر پسندوں کے خلاف یہ دوسرا مظاہرہ تھا۔ نیلم وادی جہادیوں کا خاص مرکز ہے اور مقامی لوگوں کے مطابق اسی علاقے سے جہادی دراندازی کرتے ہیں۔ یہ مظاہرہ ایسے وقت کیا گیا جب نیلم وادی میں کنٹرول لائن پر ہندوستان اور پاکستان کے فوجیوں کے درمیان گولہ باری کے واقعات ہوئے تھے جس میں چار پاکستانی سمیت پانچ لوگ مارے گئے تھے اور ایک بھارتیہ فوجی زخمی ہوگیا تھا۔عورتوں نے تقریباً چار کلو میٹر مارچ کرتے ہوئے دعوی کیا کہ حالیہ دنوں میں نیلم وادی میں کٹر پسندوں کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں اور وہ مبینہ طور سے سرحد پار کرکے ہندوستان کے کشمیر میں داخل ہورہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کٹر پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے انہیں تشویش ہے۔ کنٹرول لائن پر ہندوستان۔ پاکستان کی فوجوں کے بیچ پچھلے آٹھ سالوں سے جاری جنگ بندی خطرے میں پڑ سکتی ہے اور پھر سے گولہ باری شروع ہوسکتی ہے۔ مظاہرین مطالبہ کررہے تھے کہ کنٹرول لائن پر امن قائم کیا جائے۔ جہادی گروپوں کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے اور انہیں وادی سے نکال دیا جانا چاہئے۔ ایک مظاہری خاتون چاند بی بی نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا ہمیں خطرہ ہے۔ مجاہدین کنٹرول لائن کے اس پارجاتے ہیں اور وہاں ہندوستانی فوج کو تنگ کرتے ہیں اور پھر بھارتیہ فوج ہم پر فائرنگ کرتی ہے۔ اس کا کہنا تھا کنٹرول لائن پر 2003 میں ہوئی جنگ بندی کے بعد ان کی زندگی دشوار ہوگئی ہے۔ لیکن اب کنٹرول لائن پر گولہ باری کو وہ برداشت نہیں کرسکتے۔
گذشتہ ہفتے پاکستان کے جنوب مغربی شہر کوئٹہ میں دو خودکش دھماکے ہوئے۔ ان میں کم سے کم 26 لوگوں کی موت ہوگئی اور 82 لوگ زخمی ہوگئے۔ یہ حملہ نیم فوجی فورس کے ڈی آئی جی کے گھر کو نشانہ بنا کر کیا گیا تھا۔ مرنے والوں میں برگیڈیر کی بیوی، فوج کے چار افسر اور دو بچے بھی شامل ہیں۔ اس سے پہلے خبر آئی تھی کہ افغانستان میں آتنکیوں نے پاکستان کے30 بچوں کو یرغمال بنا لیا۔ یہ بچے عید کے موقعے پر پکنک منانے گئے ہوئے تھے اور انجانے میں افغانستان کے مشرقی صوبے کے کنارے چلے گئے تھے۔ ایسی حرکتوں کے واقعات پاکستان میں ہوتے رہتے ہیں۔ جنتا پریشان ہوچکی ہے۔ دکھ اس بات کا ہے پاکستان حکومت کا کنٹرول آہستہ آہستہ ڈھیلا ہوتا جارہا ہے اور کٹر پسند حاوی ہوتے جارہے ہیں۔ کشمیری خواتین نے پاکستانی عوام کے درد کو ظاہر کرنے کی ہمت دکھائی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Jammu Kashmir, Jehadi, Vir Arjun, Women Demonstration in Kashmir,

15 ستمبر 2011

کیااڈوانی کی مجوزہ یاترا ایک ماسٹر سٹروک ہوگا



Published On 15th September 2011
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر83 سالہ شری لال کرشن اڈوانی ایک مرتبہ پھر رتھ یاترا پر نکلیں گے۔ انہوں نے یوپی اے سرکار کے اقتدار میں رہنے کا جواز کھو دینے اور اس کا جن آدیش ختم ہوجانے کا دعوی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اس کرپٹ حکومت کے خلاف نومبر سے پہلے ملک بھر میں رتھ یاترا کریں گے۔ ووٹ کے بدلے نوٹ جس طرح سے اس حکومت نے بربادکیا ہے اس کا بھی جنتا میں وہ رتھ یاترا کے دوران پردہ فاش کریں گے۔ بھاجپا کور گروپ کی میٹنگ میں مجوزہ رتھ یاترا پر غور و خوض ہوا۔ یاترا کے دوران تقریباً 6 ہزار کلو میٹر کا سفر طے کیا جاسکتا ہے۔ اڈوانی جی کا نظریہ ہے کہ یاترا کا زور صاف ستھری سیاست اور بہتر انتظامیہ پر ہونا چاہئے جبکہ کچھ بھاجپا نیتاؤں کا نظریہ ہے کہ اسے کرپشن مخالف یاترا ہونا چاہئے کیونکہ پورے دیش میں بدعنوانی کا اشو مرکز بنا ہوا ہے۔پنجاب، اتراکھنڈ، گوا اور اترپردیش جیسی ریاستوں کے کچھ لیڈر چاہتے ہیں کہ یاترا ان ریاستوں سے ہوکر ضرور گذرے کیونکہ ان ریاستوں میں اگلے سال چناؤ ہونے والے ہیں۔ وہیں کچھ لیڈر اس نظریئے سے متفق نہیں نظر آتے۔
اڈوانی جی کی اس مجوزہ یاترا کی حمایت اور تنقید دونوں ہی ہو رہی ہیں۔ پہلے تنقید کی بات کرتے ہیں۔ انا ہزارے اور ان کی ٹیم محسوس کرتی ہے کہ یہ یاترا ان کی تحریک کی اہمیت کم کرنے کے لئے کی جارہی ہے۔ انا نے خود یاترا کو دکھاوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تب تک بھاجپا کی حمایت نہیں کریں گے جب تک وہ پارلیمنٹ میں جن لوکپال بل کی حمایت نہیں کرتی۔ اس کی ریاستی حکومتیں لوکپال کی تقرری کا قانون نہیں بناتیں۔ انا نے ٹی وی چینلوں سے کہا کہ اگر کرپشن کے اشو پر اڈوانی سنجیدہ ہیں تو یاترا کرنے کے بجائے انہیں بھاجپا حکمراں سبھی ریاستوں میں لوک آیکت کی تقرری کے لئے قانون بنانے کو کہنا چاہئے۔ گذشتہ دنوں رالے گن سدھی میں انا کی ٹیم کی ایک اہم میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں میدھا پاٹیکر نے جم کر اڈوانی کی رتھ یاترا کی مخالفت کی ہے۔پاٹیکر نے صاف کہا کہ اڈوانی کی رتھ یاتراکو کسی بھی حالت میں انا ہزارے کی حمایت نہیں ملنی چاہئے۔میدھا پاٹیکر نے آگاہ کیا کہ یہ ایک سیاسی یاترا ہے، جس کا مقصد سیاسی ہے۔ سماجی بھلائی یا کرپشن کو دور کرنا نہیں ہے۔ جہاں تک کانگریس پارٹی کے رد عمل کا سوال ہے وہ اس سے ناخوش ہے۔ ایک نیتا نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ اڈوانی کا ماسٹر سٹروک ہے۔ انا ہزارے کی تحریک کے ٹھیک بعد مرد آہن کہے جانے والے بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا، عدالت عظمیٰ کے ذریعے نریندر مودی کو دی گئی راحت اور وسط مدتی چناؤ کی افواہوں نے کانگریس کے کان کھڑے کردئے ہیں۔ کرپشن کے اشو پر سرکار دباؤ میں ہے۔ پہلے گاندھی وادی انا ہزارے اور اس کے بعد بھاجپا نیتا ایل کے اڈوانی نے کرپشن کے مسئلے پر ایک رتھ یاترا کی بات کہہ کر حکومت اور کانگریس تنظیم دونوں کے لئے مشکلیں بڑھا دی ہیں۔ کانگریس کو اصلی فکر آنے والے مہینوں میں پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کی ہے۔ ان میں سب سے اہم اترپردیش ریاست ہے۔ پنجاب اور اتراکھنڈ میں بھی کانگریس اس مرتبہ سرکار کی امیدیں لگائے ہوئے ہے۔ کانگریس کو بڑی پریشانی یہ ہے کہ انا کی تحریک سے جنتا میں یہ پیغام گیا ہے کہ سرکار اور تنظیم ان کو لیکر سنجیدہ نہیں ہے اور یہ پارٹی کے ماتھے پرشکن ڈالنے کے لئے کافی ہے۔ پارٹی کو یہ فکر بھی ستا رہی ہے کہیں انا کی بوئی فصل کو کاٹنے کیلئے اڈوانی نے جو ماسٹر سٹروک کھیلا ہے وہ کامیاب نہ ہوجائے؟ حکومت کے لئے اور کانگریس کے لئے پریشانی میں ڈالنے والے اڈوانی اکیلے نہیں ہے۔ ادھرانا ہزارے بھی گاؤں گاؤں گھومنے کی اسکیم بنا رہے ہیں۔ یوگ گورو بابا رام دیو بھی حکومت سے خفا بیٹھے ہیں اور نئے سرے سے یاترا کرنے جارہے ہیں۔ تینوں کی یاترائیں کرپشن کے اشو پر ہیں، ایسے میں کرپشن کا اشو نہ صرف اسمبلی انتخابات تک زندہ رہے گا بلکہ اگر ان انتخابات میں کانگریس ہار جاتی ہے تو 2014ء میں ہونے والے عام چناؤپر بھی اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ اڈوانی جی بھی یہ ہی چاہتے ہیں سرکار اور پارٹی دونوں پر دباؤ بنا رہے ہیں۔ اڈوانی جی کی اس رتھ یاترا سے بھاجپا کی دوسری صف کے نیتا اندر خانے خوش نہیں ہیں انہیں لگتا ہے اگر2014 ء میں بھاجپا لیڈر شپ والے این ڈی اے کو اقتدار مل جاتا ہے تو ان کا وزیراعظم بننے کا خواب پورا نہیں ہوگا اور اڈوانی بھاجپا کے نمبر ون پسندیدہ شخص ہوں گے جبکہ بھاجپا ورکر اس یاترا سے خوش ہیں اور گرمجوشی سے اس کا استقبال کرے گا۔ یاترا کے دوران ورکر سرگرم ہوجائے گا جو اڈوانی کا ایک مقصد بھی ہے لیکن پارٹی کے اندر رام جیٹھ ملانی جیسے لیڈر بھی موجود ہیں جو یاترا شروع ہونے سے پہلے ہی اس کی ہوا نکالنے میں لگے ہوئے ہیں۔ تہاڑ جیل میں بند امر سنگھ کی پیروی کررہے رام جیٹھ ملانی نے پیر کے روز تیس ہزاری عدالت میں کہا کیونکہ یہ اسٹنگ آپریشن بھاجپا نے کرایا تھا اس لئے ممبران کو دئے گئے پیسے کا انتظام بھی اسی نے کیا ہوگا۔جیٹھ ملانی پہلے بھی بھاجپا کے لئے اس طرح کی دقتیں پیدا کرتے رہے ہیں۔ ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں ایک طرف بھاجپا یوپی حکومت کے خلاف مورچہ کھولے ہوئے ہے تو دوسری طرف جیٹھ ملانی تہاڑ جیل میں بندڈی ایم کے کی راجیہ سبھا ممبر کنی موجھی کی پیروی بھی کررہے تھے۔
ایک طرف تو اڈوانی اس مسئلے کو لیکر سڑکوں پر اترنے کا اعلان کرتے ہیں تو دوسری طرف انہیں کی پارٹی کا ممبر یہ الزام لگا تا ہے کہ ووٹ کے بدلے نوٹ معاملے میں پیسہ بھاجپا نے ہی دیا ہوگا۔ جیٹھ ملانی کی یہ دلیلیں اڈوانی کی یاترا کی دھار کو کمزور کرسکتی ہیں کیونکہ نوٹ کے بدلے ووٹ معاملے میں بھاجپا شروع سے ہی کانگریس یوپی اے سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کرتی رہی ہے۔ تہاڑ جیل میں بند اپنے دو سابق ممبران کو بھاجپا ’’وسل بلوور‘‘ بتاتی رہی ہے اور اڈوانی اس معاملے میں کہہ چکے ہیں کہ وہ جیل جانے کو تیار ہیں۔ البتہ مجوزہ رتھ یاترا کا مرکزی نکتہ تو رام مندر ہے اور نہ ہی ہندوتو بلکہ بدانتظامی اور صاف ستھری سیاست کے اشو کو لیکر ہے اور یہ اشو سبھی طبقوں ،مذاہب ،فرقوں کو پسند آئے گا۔ آخر اس یاترا کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اس کی دو وجوہات نظر آتی ہیں ایک کے بعد ایک گھوٹالوں نے یوپی اے حکومت کو دفاع میں لاکر کھڑا کردیا ہے۔ پھر انا کی تحریک نے اسے گھر گھر کا موضوع بنا دیا ہے۔ سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہونے کے ناطے بھاجپا کو لگتا ہے کہ اس ماحول کا سب سے زیادہ فائدہ اسی کو مل سکتا ہے۔ دوسرے ووٹ کے بدلے نوٹ کانڈ میں دہلی پولیس کی کارروائی نے بھاجپا کی بے چینی بڑھا دی ہے۔ اس کے دو سابق ممبران کو عدالت نے تہاڑ بھیج دیا ہے۔ پھر عدالت نے اس معاملے میں اڈوانی کے قریبی رہے سدھیندر کلکرنی کو نوٹس دیا ہوا ہے اور دہلی پولیس نے بھاجپا کے ایک موجودہ ایم پی کے خلاف کارروائی کے لئے لوک سبھا اسپیکر سے اجازت مانگی ہے جبکہ بھاجپا کا دعوی ہے کہ ان کے جن لوگوں کو ملزم بنایا گیا ہے وہ اصل میں تو خریدوفروخت کے ذریعے اکثریت حاصل کرنے کیلئے کانگریس کی سازش کو بے نقاب کرنے میں جٹے ہوئے تھے۔
بھاجپا لیڈرشپ کو یہ محسوس ہوا ہوگا کہ اگر پارٹی اس معاملے میں چپ بیٹھ گئی تو اسے کافی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اب اپنی سیاسی زندگی کے غروب ہونے کے دہانے پر کھڑے انہیں سینئر عہدے پر پہنچنے کیلئے ایک موقعہ ضرور نظر آرہا ہے۔ اس کے لئے انہیں اپنی پارٹی کو دوبارہ سے زندہ کرنے اور اس میں اصلاح کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ اڈوانی جی کے لئے سب سے بڑی چنوتی شاید یہ رہے گی کہ وہ بھارت کی جنتا میں یہ بھروسہ پیدا کریں کہ واقعی وہ کرپشن کے خلاف ہے اور وہ پوری ایمانداری سے کرپشن کو دور کرنے کیلئے حمایتی ہے۔ بیشک کچھ داغی لیڈروں کو حال ہی میں ہٹایا گیا ہے لیکن ابھی’’ تھیلی‘‘ لینے والے نیتا پارٹی میں موجود ہیں۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اڈوانی جیسی صاف ستھری ساکھ والے نیتا بھاجپا میں ضرور ہیں لیکن داغی بھی موجود ہیں۔ اڈوانی جی کو سب سے زیادہ خطرہ اندر سے ہے باہر سے نہیں۔
Amar Singh, Anil Narendra, Cash for Vote Scam, Corruption, Daily Pratap, L K Advani, Rath Yatra, Vir Arjun

14 ستمبر 2011

نریندرمودی کی اگنی پریکشا



Published On 14th September 2011
انل نریندر
گجرات کے وزیراعلی نریندر مودی کے سیاسی حریفوں کو بہت امیدتھی کہ سپریم کورٹ پیر کے روز مودی کو2002 کے گودھرا کانڈ کے بعد ہوئے دنگوں پرمقدمے میں لپیٹ لے گی اور انہیں کٹہرے میں کھڑا کردے گی۔ وزیر اعلی نریند مودی اور یگر 62 افسران پر الزام لگایاگیا تھا انہوں نے2002ء میں ہوئے گلبرگ سوسائٹی فسادات کو روکنے کیلئے جان بوجھ کر کوئی قدم نہیں اٹھایا اور تشدد کو فروغ دیا۔ لیکن مودی کو نیچا دکھانے کی کوشش کررہے ان کے حریفوں کو سپریم کورٹ سے مایوسی ہاتھ لگی۔ بڑی عدالت نے دنگا روکنے میں ان کے کردار میں لاپرواہی پر کوئی فیصلہ سنانے سے انکارکردیا۔جسٹس ڈی کے جین کی سربراہی والی تین ججوں کی ڈویژن بنچ نے مودی اور دیگر سرکاری افسران کے خلاف مقدمہ درج کرانے کیلئے کوئی بھی خاص ہدایت دینے سے انکارکردیا۔مودی اور ان سرکار حکام کو سابق کانگریس ایم پی احسان جعفری کی اہلیہ کے ذریعے شکایت میں بتایا گیا تھا جعفری کی احمد آباد فسادات میں گلبرگ سوسائٹی قتل عام میں جان چلی گئی تھی۔ جسٹس پی سداشیورام اور جسٹس آفتاب عالم کی بنچ نے بڑی عدالت کے حکم پر اسپیشل جانچ عدالت (ایس آئی ٹیٌ) کے ذریعے جانچ کی انترم رپورٹ مجسٹریٹ کے سامنے داخل کرنے کو کہا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی جانچ کے لئے مخصوص اسپیشل جانچ کمیٹی یعنی ایس آئی ٹی کو ہدایت دی کہ وہ اپنی رپورٹ گجرات کی نچلی عدالت کو سونپے۔ یعنی اب نچلی عدالت یہ طے کرے گی کہ گجرات دنگوں میں وزیر اعلی نریندر مودی کے خلاف معاملہ بنتا ہے یا نہیں؟ فیصلے پر اپنے اپنے ڈھنگ سے رد عمل سامنے آیا ہے۔ اس فساد میں مارے گئے احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری نے عدالت کے اس فیصلے پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بیحد مایوس کن ہے۔ میرے پاس ایک بار پھر اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ 2002ء میں جو بھی کچھ ہوا تھا اس کے بارے میں تفصیل میں نے ایس آئی ٹی کو دے دی تھی۔ اتنے برسوں کے بعد ایک ہی حقیقت کو میں کب تک دوہراؤں گی؟ ذکیہ جعفری کا کہنا ہے کہ ریاست کی عدالت کو اس معاملے کو سونپ دئے جانے کا مطلب یہ ہی ہے کہ نریندر مودی کے حق میں فیصلہ آئے گا۔ حالانکہ سماجی ورکر اور نریندر مودی کی کٹر حریف تستا سیتل واد نے کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا اس فیصلے کو کلین چٹ کی شکل میں نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا یہ لڑائی بہت لمبی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا غلط مطلب نکالا جارہا ہے۔ اب ہماری عرضی ایس آئی ٹی کی رپورٹ اور راجو رامچندر کی رپورٹ گجرات کے مجسٹریٹ دیکھیں گے۔ ایسا نہیں کہا جاسکتا کہ نریندر مودی اور دیگر لوگوں کے خلاف کوئی کیس نہیں ہے ۔ اگر مودی یا کسی اور کے خلاف معاملہ بند ہونے کی بات ہوتی تو ذکیہ جی اور ہماری دلیل سنی جائے گی۔ ہمیں بھروسہ ہے کہ گجرات کی عدالت اس معاملے میں جائز فیصلہ سنائے گی۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نریندر مودی نے محض تین لفظوں میں اپنا رد عمل ظاہر کیا۔ ’’ایشور مہان ہے‘‘ بھاجپا نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا پارٹی کو یقین تھا کہ مودی کو بدنام کرنے کی مہم زیادہ دن تک ٹک نہیں پائے گی۔ پارٹی کے ترجمان پرکاش جاویڈکر نے مسکراتے ہوئے کہا ’’مودی سے نفرت کرنے والوں اور انہیں نشانہ کی تاک میں رہنے والوں کی موجودہ حالات میں سمجھ سکتا ہوں۔ قانون نے وہ راستہ اپنایا ہے جو بالکل صحیح ہے۔ ‘‘کانگریس نے اس مسئلے پر بہت ہی سوجھ بوجھ والا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے مودی کو کلین چٹ نہیں دی ہے۔ ترجمان شاہد علوی نے کہا ’’اس سے مایوسی کی کوئی بات نہیں ہے ۔ نریندر مودی کو کلین چٹ تھوڑے ہی ملی ہے؟ ہماری قانونی کارروائی میں اصلاح کئے جانے کی ضرورت ہے ۔ذکیہ جی اور ان کے خاندان کے لئے میں ہمدردی جتانا چاہوں گا‘‘۔
 Anil Narendra, Arun Jaitli, Godhra, Gujarat, L K Advani, Narender Modi, Supreme Court, Sushma Swaraj

13 ستمبر 2011

جن لوک پال بل کی مخالفت کس کے اشارے پر؟




Published On 13th September 2011
انل نریندر
رام لیلامیدان میں کامیاب تحریک کے بعد بدعنوانی کی لڑائی پر آگے کی حکمت عملی طے کرنے اناہزارے کے گاؤں رالے گن سدھی میں ٹیم انا کی کور کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔ دوروزہ اس میٹنگ میں انا کے علادہ ارون کیجریوال ،پرشانت بھوشن، سنتوش ہیگڑے، کرن بیدی، میدھا پاٹیکر سمیت کور گروپ کے سبھی سینئر ممبروں نے شرکت کی۔ میٹنگ ختم ہونے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیجریوال نے کہاکہ ’’آندولن کی طرف سے اناہزارے وزیراعظم کو خط لکھیں گے۔ ان میں ممبران پارلیمنٹ کی کارگزاری کا سالانہ لیکھاجوکھا کرانے ، خارج کرنے کاحق، واپس بلانے کا حق اور زمین تحویل بل پر اپنے خیالات ظاہر کریں گے‘‘ اس کے ساتھ ہی ہزارے نے لوگوں سے ان سبھی پارٹیوں پر نظر رکھنے کو کہا جو کہ جن لوک پال بل کی مخالفت کررہی ہیں۔ انہوں نے اس بل کی مخالفت کررہے ممبران پارلیمنٹ کاگھیراؤ کرنے کی اپیل بھی کی۔ انا نے میٹنگ میں جانے سے پہلے میڈیا سے کہاکہ ہمیں اس بل کے خلاف جانے والی سبھی سیاسی پارٹیوں اور لوگوں پر توجہ دینی چاہئے ۔جن لوک پال بل کی مخالفت کررہے ممبران اور ان کی ٹیم کے ممبروں کو نشانے بنانے والے لوگوں کو لے کر دکھ ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بل کی مخالفت کررہے سبھی ممبران کے گھروں کو ہمیں گھیرنا چاہئے۔ ہمیں یہ یقینی کرناہوگا کہ جب تک یہ بل پارلیمنٹ میں پاس نہیں ہوجاتا ہے جب تک ہم یہ تحریک ختم نہیں کرنے دیں انہوں نے خبردار کیاکہ اگر مرکزی حکومت بل کو پاس کرنے میں کوئی تاخیر کرنے کی کوشش کریں گی تو جنتر منتر پر ایک اور تحریک چھیڑیں گے۔
اس دوران مرکزی حکومت نے انا کے خلاف کئی مورچے کھول دیئے ہیں۔ ایک طرف سرکار ٹیم انا کے ممبران کو انکم ٹیکس محکمے نے نوٹس تھما دیئے ہیں۔تو دوسری طرف رام لیلا میں بیان بازی کی بنیاد پرٹیم انا کو کئی ممبران پارلیمنٹ کے ذریعہ تحریک استحقاق کا نوٹس بھی دے دیا گیاہے۔ کل تک اناکی حمایت کررہے کانگریس ممبران پروین سنگھ نے ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ لوک سبھااسپیکر میرا کمار کولکھے خط میں ایرن نے کہا کہ ٹیم کی انا کی چنوتی کا مناسب جواب جنتا میں جا کر دیں گے۔ کیونکہ ان کے ارادے ٹھیک نہیں ہے۔ ٹیم انا ملٹی نیشنل کمپنیوں وکسی پارٹی کے لئے سیاسی مفاد حاصل کرنے کاکام کررہی ہے۔ جب کہ یہ لوگ جنتا کے درمیان بھی جانے کی بات کررہے ہیں۔ ایرن نے خط میں لکھاہے کہ ٹیم انا کے ممبر کرن بیدی ، ارون کیجریوال اورپرشانت بھوشن کاارادہ اورایجنڈا نیک نہ ہو کر اوچھی سیاست پر مبنی ہے۔ یہ لوگ کانگریس اور حکومت کو بدنام کرنے میں لگے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جنتا کی آواز اٹھانے کے نام پریہ لوگ اپنے یا کسی اورسیاسی صنعتی یا ملٹی نیشنل کمپنی کے ناجائز مفاد کی تکمیل کی مہم پر ہے۔یہ لوگ سماج اور انتظامیہ میں پیدا کرپشن سے دوچار عوام کی دلی خواہش کا غیراخلاقی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
ادھر دلت تنظیموں نے بھی انا کے عوامی جن لوک پال بل کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے۔دلت تنظیم اسے بے لگام ،آئین اور پارلیمنٹ مخالف بتا کر ریاستی سطح کی مہم چھیڑنے کی تیاری میں ہے۔ اس مہم کے پیچھے منصف اور دلت ٹوڈے کے مدیر ایس کے پنجم ہیں۔پچھلے دنوں اترپردیش کے سسیگھولی تحصیل ہیڈ کوارٹر پر بام سیف، ڈاکٹر امبیڈ کر وچار منچ، انصاف دلت ایکشن فورم، ارجک سنگھ، شوشت سماج دل، یادو مہاسبھا وغیرہ تنظیموں نے ایک کانفرنس کرکے جن لوک پال کے خلاف تحریک کااعلان کیا ہے۔ مدرارکشس نے اس سلسلے میں بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ جن لوک پال بھارتیہ سورن اور درمیانے طبقے کاایجنڈا ہے جو انتہائی جدید طور پر سنگھ کی فرقہ وارایت کو ا پنے میں سمیٹے ہوئے ہیں۔
دلت ایشیا کے مدیر ایس کے پنچم نے بتایاکہ جن لوک پال سورن ہندو ایک نیتا پینترا ہے۔ جن لوک پال بھارتی آئین، پارلیمنٹ پر سورن بالا دستی کا حملہ ہے انہوں نے کہاکہ لوک پال چاہے سرکاری ہو یاسول سوسائٹی کا دونوں مندروں اور ٹرسٹوں میں پیدا کرپشن کو اپنے دائرے میں لانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ کانگریس جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ پہلے ہی ٹیم انا کو نشانے بنا رہے ہیں۔ کیجریوال کو انکم ٹیکس کانوٹس ملنے پر دگ وجے سنگھ نے کہاکہ یہ نوٹس تو انہیں2005میں جاری کیا گیا ہے۔ بقول دگ وجے ان پر نہ صرف سرکاری سروس قاعدے توڑنے کاالزام ہے۔ بلکہ سیاست میں شامل ہونے اور این جی او کے ذریعے کروڑوں روپے کمانے کاالزام ہے۔ کیجریوال نے جواب دیتے ہوئے دگ وجے کو کہاکہ اگر میں نے کروڑوں روپے کا گھپلہ کیاہے ان کی پارٹی کی سرکار ایف آئی آر درج کیوں نہیں کراتی۔ کل ملا کر کانگریس ٹیم انا کے راستے میں روڑے اٹکانے سے باز نہیں آرہی دیکھنا یہ ہے کہ ٹیم انا آگے کا راستہ کیسے طے کرتی ہے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Daily Pratap, Digvijay Singh, Lokpal Bill, RSS, Vir Arjun

بابا رام دیو کے ٹرسٹوں کی ہورہی ہے چھان بین



Published On 13th September 2011
انل نریندر
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور سی بی آئی کے بعد اب ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سینٹر ایکسائز انٹیلی جنس نے بھی بابا رام دیو کی گھیرا بندی کرنا شروع کردی ہے۔ بابا کے ٹرسٹوں کے ذریعے دی جارہی یوگ تعلیم کو ہیلتھ اینڈ فٹنس کے دائرے میں رکھتے ہوئے ڈی جی سی ای آئی نے بابا کے دونوں ٹرسٹوں پر تین کروڑ روپے سروس ٹیکس دینداری نکال دی ہے۔ اس سلسلے میں ٹرسٹ کے سکریٹری جنرل آچاریہ بال کرشن کو سمن جاری کیا گیا ہے۔ مہینے بھر پہلے ایک نوٹس بھیج کر آچاریہ سے ان کے ٹرسٹ کی کمائی اور ڈونیشن کی کمائی کی جانکاری مانگی گئی تھی۔ ہری دوار میں واقعہ پتنجلی ٹرسٹ کے ذریعہ دویہ فارمیسی ،پتنجلی آیوروید،پتنجلی فوڈ اینڈ ہربل پارک لمیٹیڈ، ویدک براڈ کاسٹنگ وغیرہ کمپنیوں کو چلایاجاتا ہے۔ ڈی جی سی ای سی کے ذرائع کے مطابق فرم پروڈکٹس ٹیکس سے مسثنیٰ ہے۔مگر سروس کے ٹیکس کے دائرے میں آتی ہے۔ یوگا تعلیم ہیلتھ اینڈ فٹنس سروس کے دائرے میں ہے۔ جس پر دس فیصد ہی شرح سے سروسز ٹیکس واجب ہے۔ اس سلسلے میں 2007 سے پانچ برس تک ٹرسٹوں کے ذریعہ کی گئی کمائی کی تفصیل آچاریہ کونوٹس دے کر مانگی گئی ہے۔ خبر ہے کہ آچاریہ بال کرشن اس نوٹس کے جواب میں دونوں ٹرسٹوں کی بلینس شیٹ، عطیہ اور ممبران کے بارے میں جانکاری افسران کو دے دی گئی ہے۔ ان معلومات کی بنیاد پر یوگ تعلیم کے ذریعہ ہوئی کمائی کا تخمینہ لگایاگیا ہے تواس پر قریب تین کروڑ روپے سروس ٹیکس نکلتا ہے اس پر کانپور میں واقع دفتر کے ڈپٹی ڈائریکٹر سنجے لوانیا نے سروسز ٹیکس اور سینٹر ایکسائزڈ ایکٹ 1944 کی دفعہ 14کے تحت آچاریہ بال کرشن کو سمن بھیجا ہے اس میں 16 ستمبر کی صبح دس بجے دفتر میں حاضر ہوکر اس بارے میں جواب دینے کے لئے کہاگیا ہے۔
یوگ گرو بابا رام دیو کے قریبی ساتھی آچاریہ بال کرشن 265کروڑ روپے کے کاروبار کے سروے سروا ہیں وہ 34 کمپنیوں کے ڈائریکٹر ہے یہ معلومات حکومت کی طرف سے لوک سبھامیں دی گئی ۔ کارپوریٹ امور کے وزیر مملکت آر پی این سنگھ نے ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا کہ یوگ گرو رام دیو خودکسی بھی کمپنی بورڈ میں شامل نہیں ۔ تازہ دستیاب اعداد وشمار کے مطابق ،دیش کئی کمپنیاں ہے جو رجسٹرڈ نہیں ہیں جس میں بابا رام دیو سرمایہ کار ہو۔ وزیرموصوف نے کہا کہ بال کرشن اتراکھنڈ میں رجسٹرڈ 23 کمپنیوں کے سرمایہ کار ہیں جن کاکاروبار 94.84کروڑ ہے۔اس کے علاوہ 5کمپنیاں اترپردیش میں( کاروبار 5لاکھ روپے) 4 دہلی میں( کاروبار 163.6کروڑ روپے) اور مغربی بنگال میں (کاروبار 8کروڑ )رجسٹرڈ ہے۔ وہ مہاراشٹر کی ایک کمپنی میں سرمایہ کار بھی ہے جس کاکوئی کاروبار نہیں بتایا ہے۔ وزیرنے کہاکہ اتنے کم عرصے میں کمپنیوں کا کاروبار بڑھنے کے اسباب کی ابھی کوئی تشریح نہیں کی جاسکتی۔ بابا رام دیو پر ہرطرف سے سرکاری شکنجہ کستا جارہا ہے۔ ادھر بابا نے پھر سے تحریک کااعلان کردیا ہے۔ وہ جھانسی سے اپنی تحریک چھیڑیں گے آنے والے دن ان کے لئے خاص چیلنج بھرے ہوں گے۔ 
Anil Narendra, Baba Ram Dev, Bal Krishan, CBDT, CBI, Daily Pratap, ED, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...