Translater

08 دسمبر 2018

فیول سے فرانس نے فائر ،خانہ جنگی کے حالات

ان دنوں دہائی کی سب سے خطرناک خانہ جنگی سے محاظ آرا ہے ۔مہنگائی اور پٹرول کے دام بڑھانے کے خلاف پیرس میں پچھلے دو ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ گذشتہ سنیچر کو کچھ نوجوانوں نے سینٹرل پیرس میں کئی گاڑیوں اور عمارتوں کو آگ کے حوالے کر دیا ۔ایسے میں سرکار امرجنسی لاگو کرنے پر غور کر رہی ہے ۔یہ جانکاری فرانس حکومت کے ترجمان نے دی ہے اس مظاہرے کو یلو ویسٹ کا نام بھی دیا گیا ہے۔فرانس کے وزارت داخلہ کے مطابق سنیچر وار پہلی دسمبر کو مظاہرے میں 36500ہزار لوگوںنے حصہ لیا تھا ۔پچھلے ایک ہفتہ ہوا اس میں لوگوں کی تعداد بڑھ کر 53000ہو گئی ۔اس کے بعد مظاہرین بڑھتے گئے اور یہ تعداد113000لاکھ ہو گئی تھی ۔فرانس کے صدر ایونول میکرون نے اپنے خلاف مظاہر ہ کرنے والوں کو بد امنی کا قدم مانتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی صورت میں تشدد برداشت نہیں کریں گے ۔ملک میں ایدھن کی قیمتوںمیں پہلے سے طے اضافے کے تحت اضافہ کیا گیا ہے ۔اس کے بعد لوگ تشدد پر اتر آئے ۔میکرون نے کمریشل کاروبار کو ٹھپ کرانا ،راہگیروں اور صحافیوں کو دھمکی دینا کسی بھی صورت میں دلائل آمیز نہیں کہا جا سکتا۔اس درمیان صدر میکرون ملک میں پھیلی بد امنی کے سبب اپنے بیرونی ملک دورے سے واپس وطن لوٹنے پر مجبور ہوگئے۔راجدھانی پیرس کے کئی عالی شان علاقوںمیں جنگ جیسے بربادی کا منظر تھا ،کاریں جلی پڑی تھیں،دکانیں لوٹی جا چکی تھیں،عمارتیں جل کر خاک ہو چکی تھیں ہر جگہ توڑ پھوڑ کی تھی۔بلوائیوںنے شہید میموریل آرک ڈی ٹرمف کو بھی نہیں بخشا مظاہرین اور پولس کے سیکورٹی فورس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں ان میں 23جوان بھی زخمی ہوئے ۔ان کے علاج کے دوران ایک جوان کی موت ہوگئی ہے۔پیرس میں پچاس سال بعد ایسے حالات بنے ہیں اس سے پہلے تقریبا یہی حالات ہوئے تھے ۔لیکن اس وقت لوگ سماجی تبدیلی کے لئے مظاہرے کے لئے سڑکوں پر اترے تھے ۔سنیچر اور اتوار کو مظاہروں کے بعد پولس نے 412لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔مظاہروں میں یلو ویسٹ نقاب پہنے لوگوں نے کئی اہم عمارتوں کو آگ لگائی تھی پیرس میں ایدھن کے دام بڑھانے پر اتنا مشتعل مظاہر ہوگا یہ کبھی سوچا نہیں جا سکتا تھا ۔لیکن بھارت نے تو ایدھن کے دام آئے دن بڑھتے رہتے ہیں ۔فرانس کی عوام نے کسی مسئلے کو لیکر بھاری ناراضگی رہی ہوگی جو تیل کی قیمتوں پر غصہ کی شکل میں باہر آگئیں ۔فرانس کے صدر ایمنیول میکرون کے عہد میں یہ پہلی اور اب تک کی سب سے بڑی چنوتی ہے ۔یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے ۔فی الحال جنتا کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے سرکار نے پیٹرولیم ایدھن کے دام میں اضافہ کو فی الحال ٹال ہی دیا ہے۔

(انل نریندر)

پورے مغربی یوپی میں فساد کرانے کی تھی سازش

بلند شہر میں ہوئے تشدد میں انسپکٹر سمیت ہوئے دو افراد کی موت کے بعد وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے سخت رخ اپناتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات دئے ہیں ۔ا س کے بعد پولس نے بھاجپا،بجرنگ دل،اور وشو ہندو پریشد کے عہدیداروں کے گھروں پر دبش دیتے ہوئے الزام میں چار نامزد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ملزم مانے جا رہے بجرنگ دل کے ضلع کنوئنر یوگیش راج نے واردات کے 48گھنٹے کے بعد ایک ویڈیو جاری کر خود کو بے قصور بتایا ہے۔بلند شہر تشدد کو لے کر اب مانا جا رہا ہے اگر یہ تشدد ایک گھنٹے بعد ہوتا تو پورے مغربی اترپردیش میں مظفر نگر دنگے جیسے حالات ہو سکتے تھے ۔تشدد کی چنگاری ایک بڑی آگ بن کر بھڑک سکتی تھی ۔روزنامہ ہندی ہندوستان کے نامہ نگار نشانت کوشک کی رپورٹ کے مطابق انتظامیہ کو بھیجی گئی خفیہ رپورٹ میں بھی یہی اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔پردیش سے لے کر دیش تک کی سیاست میں زلزلہ لا سکتی تھی ۔بلند شہر کے سیانہ کا واقعہ اچانک ہے یا پھر سازش؟اس کو لے کر ایڈیشنل ڈائیرکٹر جنرل انٹلی جینس اور ایس آئی ٹی جانچ میں لگی ہوئی ہے۔لیکن واردات کی جگہ سے جو ثبوت ملے ہیں پہلی نظر میں دیکھ کر حکام بھی ایک بڑی سازش کا اندیشہ جتا رہے ہیں ۔افسر اس پورے واقعہ کو اتفاقی ماننے کو تیار نہیں ہیں ۔انہیں اس میں سازش کی بو آرہی ہے ۔سئنیر افسران کی ذرائع کی مانے تو وہاں پر سارے حالات ایسے تھے کہ لوگوں کے جذبات بھڑک جائیں اور بلبہ ہو سکے ۔اس کےلئے ہی گﺅ کے باقیات کو وہاں پر ایسے پھینکا گیا تھا کہ وہ دور سے دکھائی دئیں ۔وہاں اگست سے ہی یہاں کے لوگ گﺅ کاٹنے کی شکایتیں مسلسل حکام اور عوام کے چنے ہوئے نمائندوں سے کر رہے تھے ۔ان میں گﺅ ونش کو لے کر غصہ بھی تھا ۔اور گﺅ ونش کے باقیات کو بڑی تعداد میں دیکھ کر ہی لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا اور انہوںنے سڑک پر جام لگا دیا ۔اگر ایہ جام آتش زنی کے واقعہ ایک گھنٹہ بعد ہوتا تو پھر اسے سنبھالنا آسان نہیں ہوتا ۔اس دوران وہاں سے اجتماع سے لوٹ رہے دوسرے فرقہ کے لوگوں کی گاڑیاں بڑی تعداد میں ہوتیں اور دونوں کے درمیان ٹکراﺅ بلند شہر سے ہی ہوکر پورے مغربی اترپردیش میں پھیلنے کے امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا تھا ۔کیونکہ اس اجتماع میں بڑی تعداد میں مغربی اترپردیش کے لوگ بھی شامل ہوئے تھے۔اس خطرناک سازش کرنے والوں کی اسکیم کو اس سے بھی دھکہ لگا کہ پولس انسپکٹر ثبوت کمار سنگھ کو گولی لگنے کے بعد پولس بھی پوری طرح چوکس ہوگئی اور اس کی مستعدی سے دنگا نہیں بھڑکایا جا سکا ۔واقف کار مانتے ہیں کہ انسپکٹر اور نوجوان کی موت 32بور کی پستول سے گولی لگنے سے ہوئی یہ ہتھیار کسی کا لائسنس یافتہ ہے یا بغیر لائسنس کا تھا اس کا ابھی پتہ نہیں چل سکا ۔اس پورے واقعہ میں یہ بات بھی پتہ کرنے کی ہے کہ انسپکٹر ثبوت کمار سنگھ کے پاس بھی نجی لائسنس والی ریوالور تھی ۔یہ ہتھیار واردات کے بعد سے ہی غائب ہے ۔معاملے میں کس ہتھیار سے گولی چلی اس کا پتہ تبھی چلے گا جب وہ مل جائے گا۔اور اس کی فورنسک جانچ ہوگی ۔واقف کاروںنے بتایا کہ اگر کسی کے پاس اپنا نجی لائسنس یافتہ ہتھیار ہے تو وہ ڈیوٹی کے وقت اپنے پاس رکھ سکتا ہے ۔چونکہ یہ بات شروع میں اُٹھی تھی کہ انسپکٹر کے پاس نجی ریوالور تھا جو واردات کے بعد سے ہی غائب ہے اس پورے معاملے کی جانچ انٹلی جینس اور ایس آئی ٹی کر رہی ہے ۔امید ہے کہ وہ پوری سازش کا پردہ فاش کریں گی۔دیش کو آخر پتہ تو چلے کہ کس نے اور کیوں یہ خطرناک سازش بنائی تھی ؟مظفر نگر کے بعد بلند شہر کی یہ واردات انتہائی سنگین ہے اور پورے مغربی اترپردیش کو دنگے کی آگ میں جھونکنے کی سازش تھی ۔لیکن شکر ہے یہ ٹل گئی ؟

(انل نریندر)

07 دسمبر 2018

ایودھیا کی اصل تاریخ

ایودھیا کی اہمیت اس بات کی علامت ہے کہ جب بھی قدیم بھارت کے تیرتھوں کا تذکرہ ہوتا ہے تب اس میں سب سے پہلے ایودھیا کا نام ہی آتا ہے میں نے بی بی سی میں پروفیسر ہرے بھاﺅ چترویدی سابق ہیڈ تاریخ الہٰ آباد یونیورسٹی کے ایک تحقیقی مضمون پڑھا پروفیسر چترویدی نے لکھا ہے کہ ایودھیا اور نپر (جھوسی )کی تاریخ کا عروض برہما جی کے مانس پتر منو سے ہی تعلق ہے جیسے پرتسٹھا نپر اور یہاںکے چندر ونشی حکمرانی کا قیام منو کے پتر ایل سے وابسطہ ہے جسے شیو کے جاپ نے ایلا بنا دیا تھا اسی طرح ایودھیا اور اس کا شوریہ ونس منو کے پتر سے آغاز ہوا ۔ہندوستانی قدیم گرنتھوں کے مطابق ایودھیا کا وجود قبل عیسیٰ مسیح 22سو کے آس پاس مانا جاتا ہے اس ونش میں راجا رام چندرجی کے والد دشرتھ 63ویں حکمراں ہیں ایودھیا کے مہاتمبھ کے بارے میں یہ اور واضح کرنا صحیح ہوگا کہ جین روایت کے مطابق بھی 24تیرتھ کاروں میں سے 22اکھوادو ونش کے تھے ان 24تیرتھ کاروں میں سے بھی سب سے اول تیرتھ کار آدتیہ ناتھ تریمے دیو جی (کے ساتھ)چا ر دیگر تیرتھ کاروں کا جنم استھان بھی ایودھیا ہی ہے۔بہت مانیہ تاﺅں کے مطابق بدھ دیو نے ایودھیا یا ساکیت میں سولہ برس تک قیام کیا تھا ۔میں ہندو دھرم اور اس کے حریف فرقوں جیسے اور بدھوں کو بھی پوتر دھارمک استھان تھا ۔سرسٹی کے آغاز سے تیرتا یوگن رام چندر جی سے لے کر قدیم دور مہا بھارت اور اس کے بہت بعد تک ہمیں ایوھیا کے سوریہ ونشی اکوواکوئں کا تذکرہ ملتا ہے ۔اس ونش کا بھرم ناتھ ،ابھنیو کے ہاتھوں مہابھارت کے یدھ میں مارا گیا تھا ۔پھر لبن بستی بسائی اس کا آزادانہ تذکرہ اگلے 8سو برسوں تک ملتا ہے ۔پھر یہ نگر مگد کے مورچوں سے لے کر انپتوں اور قنوج کے حکمرانوں کے ما تحت رہا ۔آخر میں یہ محمود غزنوئی کے بھانجے سید ستار نے ترک حکومت قائم کی وہ 1033قبل عیسوئی میں مارا گیا تھا ۔اس کے بعد تیمور،اس کے بعد جونپور میں ایکوں کی ریاست قائم ہوئی تو ایودھیا راکیوں کے ماتحت ہوگیا ۔خاص طور سے راک شاسک محمود شاہ کے عہد میں 1440عیسوئی میں 1526عیسوئی میں بابر نے مغل حکومت قائم کی اور اس کے سینا پتی نے 1528میں یہاں حملہ کر کے مسجد بنوائی تھی جو 1992میں مندر مسجد تنازع کے چلتے رام جنم بھومی آندولن میں ڈھہ گئی۔تاریخ رام جنم بھومی معاملے میں عزت معآب عدالت کے فیصلے میں بھی سب سے زیادہ بے چین ہے ایودھیا کے بنیادی باشندے ہونے کے ناطے فخر کے ساتھ اپنے نام سے پہلے سدد اود واسی لکھتے ہیں ۔یہ ہے مختصر میں ایودھیا کی تاریخ۔

(انل نریندر)

بھاجپا نے راجستھان کو بنایا وقار کا سوال

بھاجپا اور کانگریس نیتاﺅں کے درمیان تلخ الفاظ کے تیروں میں الجھا راجستھان چناﺅ پرچار ختم ہو چکا ہے ۔اور آج (جمعہ)کو ووٹ پڑیں گے دو سو سیٹوں پر کانٹے کی ٹکر بتائی جا رہی ہے ۔پرچار ختم ہونے کے آخری دن پی ایم مودی کانگریس صدر راہل گاندھی نے پھر سے ایک دوسرے کو نشانے پر لیا پی ایم مودی پر سیدھے نقطہ چینی کرتے ہوئے راہل گاندھی نے اپنے تلخ تیور دکھائے انہوں نے رافیل اور دیگر اشو کے سلسلہ میں چار دن پہلے مودی کے ہندتو گیا ن پر سوال کیا تھا جواب میں مودی نے الور کی ریلی میں جوابی حملہ کرتے ہوئے راہل کو بھارت ماتا کی جئے بولنے پر سوال اُٹھائے ۔وزیر اعظم نے سی کر میں لاکھوں لوگوں کی ریلی میں دس بار بھارت ماتا کی جئے بلوا کر راہل گاندھی کو جواب دیا تھا ۔راجستھان بھاجپا کے لئے وقار کا سوال بن گیا ہے۔راجستھان میں تاریخ رقم کرنے میں لگی بھاجپا کے لئے آخری لمہوں میں تسلی کی بات یہ ہے(بھاجپا کے مطابق )کہ وسندھرا سرکار کو لے کر جس طرح کی ناراضگی تھی وہ کافی حد تک اس پر قابو پا چکی ہیں لیکن کیا یہ قابو میں آچکا ہے اس کا پتہ تو گیا رہ دسمبر کو ہی ووٹوں کی گنتی کے دن ہی لگے گا ۔بھاجپا نیتاﺅں کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ وہ ناراض راجپوتوں کو منانے میں کافی حدتک کامیاب رہی ہے۔پارٹی کی اصل تشویش اب بھی راجستھان کے مشرق علاقوں میں جاٹ اکثریت بھرتپور اور پھولپور کو لے کر ہے ۔جہاں پر پارٹی کی لاکھ کوشش کے باوجود پارٹی نے ناراض ورکروں کو منانے میں کامیابی نہیں پائی ۔پارٹی کی پریشانی کا دوسرا سبب بھرتپور میں پردھان منتری کی ریلی میں کم بھیڑ آنا ہے ۔دونوں ہی بڑی پارٹیاں کانگریس اور بھاجپا کو پارٹی باغیوں سے سخت چنوتی مل رہی ہے ۔کانگریس کے سنئیر لیڈروں کے مطابق چار سابق وزراءچھ سابق ممبران اسمبلی سمیت کم سے کم 50باغی نیتا پارٹی کے امکانات پر پانی پھیر سکتے ہیں ۔بھاجپا میں بھی کم سے کم 20باغی امیدواروں کو کوشش ہو رہی ہے ان سبھی نے آزاد امیدواروں کی شکل میں نام زدگی داخل کی ہے۔کانگریس نے اس بار نئے چہروں پر داﺅچلا ہے ۔کانگریس نے ریاست میں ایک سے دس نئے چہرے اتارے ہیں اور 85کو دوبارہ ٹکٹ دیے ہیں ۔آخری وقت میں ہی دونوں پارٹیوں نے کئی سیٹوں پر امیدوار بدلے ہیں ۔ووٹوں کی گنتی 11دسمبر کو ہونی ہے لیکن سٹے بازوں نے سب کچھ ہلا کر رکھ دیا ہے۔روز نئے ڈبے کھل رہے ہیں اور نئے نئے ریٹ سامنے آ رہے ہیں ۔سٹے بازوں کا کہنا ہے کہ اس بار تین ریاستوں میں بھاجپا کے لئے کچھ بھی جھیلنے کی حالت بن گئی ہے ۔تو وہیں کانگریس جیت کی امید میں ہے ۔منگلوار کو جب سٹے بازوں کا ڈبہ کھلا تو راجستھان میں کانگریس کے کھاتے میں 127سے 129سیٹوں پر اس وقت بھاﺅ دیئے گئے ہیں وہیں بھاجپا کے کھاتے میں خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے صرف 55سے 57سیٹوں پر محدود دکھایا گیا ہے۔خیر یہ تو سٹے بازوںکا تجزیہ ہے بھاجپا دعوی کر رہی ہے کہ وہ راجستھان کی ہر پانچ سال سرکار بدلنے کا تاریخ اس بار رقم کرنے جا رہی ہے ۔دیکھیں 11دسمبر کو کیا ہوتا ہے۔

(انل نریندر)

06 دسمبر 2018

84کا دنگا دیش کے لئے سیاہ باب

1984میںمشرقی دہلی کے ترلوک پوری علاقہ میں ہوئے دنگوں میں 95سکھوں کی لاشیں ملیں تھیں اس معاملے میں 88لوگوں کو قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے ۔دہلی ہائی کورٹ نے 88لوگوں کی سزا برقرار رکھی تھی ۔ہائی کورٹ نے قصورواروں کی 22سال پرانی اپیل کو خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں نچلی عدالت کے ذریعہ دی گئی سزا پانچ پانچ سال کی قید صحیح ہے ۔بڑی بات یہ ہے کہ کسی بھی قصوروار پر قتل کی دفعات 302میں ایف آئی درج نہیں ہوئی ۔آخر کار پولس انتظامیہ ہمیں یہ تو بتا دے کہ ان 95سکھوں کے قتل کس نے کئے تھے؟دنگے کس نے بھڑکائے،کرفیو کس نے توڑا؟ان لوگوں کو سزا مل گئی لیکن ہمارے پتا ،بھائی بہن دادا دادی کو کس نے مارا ......کون ہیں وہ لوگ جنہیں بچایا جا رہا ہے؟یہ کہنا تھا متاثرہ کنبوں کے افراد کا ۔ہائی کورٹ نے 88قصورواروں کی اپیل پر 22سال بعد فیصلہ سنایا اور سبھی کی سزا کو بر قرار رکھا اور سبھی قصور واروں کو سرینڈر کرنے کو کہا وکیل صفائی کی باتوں میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ جو الزام لگائے گئے وہ جرم ہوا تھا ۔متاثرین اب تک انصاف کا انتظار کر رہے ہیں ۔کیا یہی ہمارا موثر عدلیہ نظام ہے ؟کیا ہماری انصاف مشینری اتنے بڑے معاملوں کی سماعت کے لئے اہل ہے؟کیا ہمیں عدلیہ عمل کے اس کڑوے تجربے سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے ؟یہ تلخ تبصرہ ہائی کورٹ نے 70 قصورواروں کی اپیل خارج کرتے ہوئے کیا ہے ۔جسٹس آر کے گابا نے فیصلہ میں کہا کہ اصل میں یہ معاملہ بے حد تکلیف دہ اشو ہے کہ رسوخ دار لوگوں کے ذریعہ کرائے گئے دنگوں کی سماعت کے لئے عدلیہ عمل میں آج تک کسی نے سنجیدگی سے ضرورت نہیں سمجھی جس طریقہ سے مقدمہ کی سماعت ہوئی ہے وہ دیش کی عدلیہ تاریخ میں ایک ایسے مقدمے کے طور پر یا د کیا جائے گا ۔جسٹس آر کے گابا نے 79صفحات کے فیصلہ میں کہا کہ معاملہ سماعت اور اپیل کے دوران جس طرح آج تک لٹک رہا ہے اس سے صاف ہے کہ قانون کی کارروائی دھیمی اور بے اثر اور بے حد غیر تسلی بخش رہی ترلوک پوری کے متاثر خاندان والوں نے کہا کہ ہم تو امید لگائے بیٹھے ہیں کہ انہیں پھانسی کی سزا ملے گی لیکن پولس کی لاچاری اور لاپرواہی کے چلتے ہمیں انصاف نہیں مل پایا ہمارے سامنے خاندان والوں کو مارا گیا گواہی ہوئی قصوروار پائے گئے لیکن ایف آئی آر میں صرف دنگا کرفیو کی دفعات شامل کی گئیں ۔آخر کار وہ کون لوگ تھے جنہوں نے 98سکھوں کا قتل کیا ؟

(انل نریندر)

گﺅکشی کے نام پر ہجومی بھیڑنے اپنا گھنونا چہرہ دکھایا

ایک بار پھرگﺅ کشی کے نام پر ہجومی بھیڑ نے اپنا گھنونا چہرہ دکھا دیا ۔بلند شہر چنگراوڑی گاﺅںمیں مبینہ طور پر گﺅ کشی کئے جانے کی افواہ سے غصہ میں بھیڑ کے تشدد میں ایک پولس انسپکٹر اور ایک نوجوان کی موت ہو گئی واردات سے پتہ چلتا ہے کہ کھیت میں مبینہ طور پر گﺅ کے اعضاءملنے کی شکایت پر تھانہ انچارج سبوت کمار سنگھ نے رپورٹ درج کر دیہاتیوں کو ایکشن لینے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن بھیڑ بے قابو ہو گئی اور اس پہلے تو ہائی وے پر جام لگایا اور پھر آگ زنی اور تشدد پر آمادہ بھیڑ نے کئی گاڑیاں جلا دیں تھانہ میں توڑ پھوڑ کی اس کے بدلے میں پولس نے بھی جوابی فائرنگ کی لکھنﺅ میں ایڈینشل ڈائرکٹر جنر ل نے بتایا کہ سیانہ کوتوالی علاقہ میں مہاب گاﺅں کے کھیتوں میں اتوار کی دیر رات نا معلوم لوگوں نے کچھ مویشی مار دئے تھے اس سے بھڑکے لوگ ان کے باقی بچے حصوں کو ٹرک پر لاد کر چنگراوتی چوکی پہنچے اور سڑک کے درمیان جام لگا دیا ۔کوتوالی کے انسپکٹر سبوت کمار نے فورس کے ساتھ قریب چا ر سو لوگوں کی بھیڑ کی بات سمجھنے کی پوری کوشش کی لیکن وہ نہیں مانے الزام تھا کہ پولس نے زبردستی جام کھلوانا چاہا تو بھیڑ نے پتھراﺅ شروع کر دیا پتھر بازی میں سبوت زخمی ہو گئے بعد میں ان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ،ان کے ساتھ گئے آٹھ پولس والوں کو بھی چوٹیں آئیں یہ دیکھ کر پولس نے لاٹھی چارج کیا ۔بتاتے ہیں کہ اس دوران بھیڑ سے گولیاں چلیں اور پولس کی جوابی فائرنگ میں سمت نا م کے لڑکے کو گولی لگی جس سے اس کی موت ہو گئی ۔بتایا جاتا ہے کہ انسپکٹر سبوت کو بلوائی زخمی حالت میں ان کی ہی جیپ میں کھیتوں میں لے گئے انہیں الٹا لٹا کر پیٹا اور بعد میں گولی مار دی گئی ۔جیپ کو بھی آگ لگا دی اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کچھ عناصر ایسے ہیں جو گﺅ ودھ انسداد قانون کو ناتلانجلی دیتے ہوئے گﺅ حتیا سے باز نہیں آرہے ہیں لیکن ان کے خلاف ناراضگی ظاہر کرنے اور انہیں سزا کا ساجھیدار بنانے کے لئے پولس انتظامیہ پر ایسا سلسلہ چلا جو ہر گز نہیں کیا جا نا چاہئیے ۔قانون و انتظام کے ساتھ سماجی بھائی چارے کے لئے خطرہ بن جائے ۔بلند شہر کے سیانہ میں جو کچھ ہوا اس میں کئی سوال کھڑے کر دئے ہیں کیا سیاسی کھیل کا حصہ ہے یا پھر کلی طور پر انتظامی لاپرواہی کا معاملہ؟ایسے تمام سوالوں کے بیچ ایک جانباز پولس افسر تو مارا گیا اور اس کے خاندان میں ماتم چھا گیا اس تکلیف دہ حادثہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔سوال یہ ہےکہ قریب ڈیڑھ گھنٹے تک تھانے کے سامنے تشدد اور لگانے کا کھیل چلتا رہا اور بہت سی گاڑیاں جلائی جاتی رہیں پولس پر گولیاں چلتی رہیں اس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ تشدد اچانک ہو گیا یا پہلے سے طے شدہ تھا ؟کون دے گا ان سوالوں کے جواب ؟حالات بگڑتے دیکھ لگاتار ضلع کنٹرول روم سے فورس مانگی جاتی رہی لیکن فورس موقع پر نہیں پہنچی جب معاملہ ٹھنڈا ہو گیا تھا تو حالات دوبارہ کیسے بگڑے ؟اترپردیش کی یوگی سرکار نے واردات کی جانچ کے لئے ایس آئی ٹی بنا دی ہے جس سے پورے معاملے کی اصلیت کا پتہ چل سکے گا ۔لیکن اس وقت ایسے عناصر پر سختی سے نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ساتھ ساتھ انسپکٹر سبوت کے اصل قاتلوں کی پہچان ہو اور انہیں گرفتار کر عدالت میں پیش کیا جائے ۔

(انل نریندر)

05 دسمبر 2018

کیا کرپشن کے ملزم کو عہدہ پر بنا رہنا چاہئیے؟سپریم کورٹ

سی بی آئی میں جاری گھماسان پر سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس نے سی وی سی کی روپورٹ پڑھ ضرور لی ہے لیکن اس پر کوئی رائے قائم نہیں کی ہے جمعرات کو سماعت کے دوران تین گھنٹے چلی بحث کے بعد عدالت نے کہا کہ سب سے پہلے وہ اس قانونی پہل پر غور کر رہی ہے سی بی آئی ڈائرکٹر کی تقرری کے وابسطہ کمیٹی کی رائے لئے بغیر سرکار کو ڈائرکٹر کی ذمہ داری لینے کا حق ہے یا نہیں ؟اس کے بعد سی بی سی رپورٹ پر غور کیا جائے گا۔دوسری طرف سی بی آئی کے ڈائرکٹر آلوک ورما سے ذمہ داری چھیننے کے اپنے حکم کو صحیح ٹھہراتے ہوئے سرکار نے کہا کہ سیلکشن اور تقرری میں فرق ہوتا ہے ۔تین نفری کمیٹی سی بی آئی کے ڈائرکٹر کے ناموں کا انتخاب کرتی ہے اور پینل تیار کر کے سرکار کو بھیجتی ہے ۔اس میں کسے چنا ہے یہ سرکار طے کرتی ہے اور سرکار ہی تقرری کرتی ہے سیلکشن کو تقرری نہیں مانا جاسکتا سی بی آئی میں کھینچ تان سے سپریم کورٹ کا کافی ناراض دکھائی پڑتی ہے ۔پچھلی بار پوشیدہ جوابوں کے سامنے آنے پر بڑی عدالت نے سماعت اچانک ملتوی کر دی تھی ۔جمعرات کو بھی سپریم کورٹ نے آلوک ورما کے سئینروکیل ایس نریمن سے سوال کیا اگر سی بی آئی ڈائرکٹر رنگے ہاتھ رشوت لیتے پکڑے جاتے ہیں تو کیا کیا جانا چاہئیے؟کیا ایسے میں بھی سیلکشن کمیٹی سے پوچھنے کی ضرورت ہے؟سوال تو یہ بھی ہے کہ کرپشن کے ملزم کو ایک منٹ کے لئے بھی عہدے پر بنے رہنے دینا چاہئے ؟کورٹ کے سوال پر نریمن نے کہا کہ تب بھی سرکار کو کمیٹی یا عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانہ چاہئیے۔ڈائرکٹر کی تقرری اور تبادلہ کرنے کا حق سیلکشن کمیٹی کے پاس ہے ۔کمیٹی میں وزیر اعظم ،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور اپوزیشن پارٹی کے نیتا ہوتے ہیں ۔چیف جسٹس رنجن گگوئی جسٹس سنجے کیوان کول اور کے ایم جوزف کی بنچ کے سامنے مرکز کی طرف سے پیش اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا کہ سی بی آئی ڈائرکٹر کی تقرری کرنے کا اختیار سرکار کا ہے سیلکشن کمیٹی کو صرف نام کی سفارش کا حق ہے وینو گوپال سے عدالت نے پوچھا کہ کس تقاضے کے تحت سرکار نے سی بی آئی ڈائرکٹر کو ان کے کام سے ہٹانے کا حکم دیا؟اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سرکار نے دہلی اسپیشل پولس اسٹیبلش منٹ ایکٹ کے تحت حکم جاری کیا تھا سماعت پانچ دسمبر کے لئے ٹالتے ہوئے بینچ نے کہا کہ پہلے اس پر غور کرئے گی کیا سرکار کے پاس سی بی آئی ڈائرکٹر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا اختیار ہے یا نہیں ؟ساتھ ہی کرپشن کے الزامات میں آلوک ورما سے حق چھیننے سے پہلے پی ایم کی سربراہی والی سلیکشن کمیٹی منظوری ضروری ہے یا نہیں ؟سپریم کورٹ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ میڈیا پر روک لگانے کی ہمایتی نہیں ہیں نہ ہی وہ اس طرح کی بات پر غور کرنے کی خواہشمند ہے جب آلوک ورما کے وکیل نریمن نے عدالت کے سابقہ حکم کا حوالہ دے کر کچھ عرصہ کے لئے التواءمعاملوں کی رپورٹنگ سے میڈیا کو روکنے کی بات کہی اور اس بارے میں غور کرنے کو کہا تو عدالت نے منا کر دیا سپریم کورٹ میں ایک بار پھر سماعت کی تاریخ آگے بڑھنے کے بعد آلوک ورما کی واپسی کی امیدیں تاریک ہوتی جا رہی ہیں ابھی تک تو سپریم کورٹ نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے جس میں ورما کو راحت ملنے کے آثار نظر آتے ہوں معاملہ لمبا ہونے سے آلوک ورما کے دو سالہ بچے ملازمت عہد میں مسلسل وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔ایس انہیں لگتا کہ ان کے رٹائر ہونے سے پہلے معاملہ نمٹ جائے۔

(انل نریندر)

مدھیہ پردیش میں ای وی ایم میں گڑبڑی کے الزام

مدھیہ پردیش اسمبلی چناﺅ میں ای وی ایم کی حفاظت بڑا اشو بن گیا ہے کانگریس کے ورکر جگہ جگہ ای وی ایم کی حفاظت کے لئے پہرا دے رہے ہیں بھاجپا کا کہنا ہے کہ کانگریس ہار رہی ہے اس لئے ای وی ایم کو اشو بنایا جا رہا ہے دراصل28نومبر کو ختم ہوئے چناﺅ کے بعد بھوپال کی سینٹرل جیل کے کنٹرول روم میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے قریب ایک گھنٹے تک بند رہے کانگریس کا الزام ہے کہ ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کے لئے ایسا کیا گیا ہے ۔ضلع کی ساتوں سیٹوں کی ای وی ایم جیل کے اسٹرانگ روم میں رکھی گئی ہیں ۔چناﺅ کمیشن نے جانچ کے بعد کہا کہ سی سی ٹی وی سسٹم بجلی کی سپلائی ٹھپ ہونے کے سبب پھیل ہو گئے تھے ۔دوسرا معاملہ ساغر ضلع کی کھورئی سیٹ کا ہے۔یہاں سے ریاست کے وزیر داخلہ و ٹرانسپورٹ بھوپیندر سنگھ امیدوار ہیں ۔ہنگامہ تب ہوا جب ایک ویڈیو وائرل ہوا اس میں صاف دکھائی دے رہا تھا کہ ایک بغیر نمبر والی بس میں ای وی رکھی ہوئی ہیں ان مشینوں کو پولنگ کے 48گھنٹے کے بعد کھرئی سے ساغر اسٹرانگ روم میں پہنچایا گیا تھا ۔جبکہ کھرئی سے ساغر کی دوری 40کلو میٹر ہے اس معاملے میں نائب تحصلیدار کو معطل کیا گیا ہے۔شاہجہاں پور میں تو چناﺅ ڈیوٹی کر رہے نوڈل افسر ای وی ایم کے ساتھ بھاجپا نیتا کے ہوٹل میں سوئے پائے گئے تھے ۔ای وی ایم معاملے میں بھوپال میں کانگریسیوں نے پرانی جیل کے اسٹرانگ روم کا جائزہ لینے پہنچے چیف الکٹرول آفسر وی ایل کانتا راﺅ کا گھیراﺅ کیا 29نومبر کے دن کی ڈیڑھ گھنٹے کی فوٹیج مانگی اس پر کانتا راﺅ نے کہا کہ اس وقت بجلی نہیں تھی ۔اس لئے فوٹیج مل نہیں سکتی ادھر ساغر کے انجئیرنگ کالج میں بنے اسٹرانگ روم کا جب سرخی سیٹ سے کانگریس امیدوار گووند سنگھ راجپوت نے و دیگر لیڈروںنے جائزہ لیا تو وہاں روم کے پیچھے کے چینل پر بغیر سیل کا تالا ملا کانگریسیوںنے ہنگامہ کر دیا اس کی شکایت ضلع مجسٹریٹ سے کی تو شام کو تالے پر سیل لگی پائی گئی کانگریس یہاں دیر رات تک ڈٹے رہے ۔قابل ذکر ہے کہ اسی روم میں وزیر داخلہ بھوپیندر سنگھ کے حلقہ کھرئی کی بھی ای وی ایم مشینیں رکھی گئیں ۔مدھیہ پردیش چناﺅ میں جہاں ایک طرف نیتاﺅں کے الزام تراشیوں اور بیان بازی دیکھنے کو ملی وہیں اب افسروں کے ذریعہ بیان بازی ہو رہی ہے تازہ معاملہ ریوا کی کلکٹر کا آیا بیان ہے انہوںنے ایسا بیان دے دیا جس سے کھلبلی مچ گئی ہے ۔انہوںنے اپنے سیکورٹی ملازمین سے کہا ہے کہ ای وی ایم کے پاس کوئی بھی آئے تو اسے گولی مار دینا اتنا ہی نہیں کلکٹر پریتی میکال نائک نے کہا کہ چناﺅ میرے لئے معمولی ہے اور اس فضول کے چکر میں 25سال کی ساکھ مجھے خراب نہیں کرنی ہے ۔مجھے آگے پرسنل سیکریٹری سے چیف سیکریٹری بننا ہے۔

(انل نریندر)

04 دسمبر 2018

گنگا جل سے سیاست ،ماں،مندر ،ذات،علی،سے لےکر بجرنگ بلی تک پہنچی

ادھر کچھ برسوں سے اسمبلی انتخابات کو بھی عام چناﺅ کی طرح لڑا جا رہا ہے ان میں تو نیتاﺅں کی چناﺅ ریلیوں میں تو ایسی زبان پھسلی ہے جیسا کہ کبھی پہلے نہیں دیکھی گئی ۔خود پردھان منتری نے راہل گاندھی کی نانی کواپنے ایک تقریر کا مضوع بنایا جبکہ کچھ کانگریسی نیتاﺅں نے اپنی چناﺅ ریلیوں میں وزیر اعظم کے ماں باپ کا ذکر کر کے ان کے جذباتی جوابی حملوںکے شکار ہوئے پارٹی صدر راہل گاندھی مندر جا کر خود کو کبھی شیو بھگت تو کھبی رام بھگت دکھانے میں لگے رہے ۔راجستھان میں ذات اور ہندتو پر بحث دکھائی دی ہے ۔لیکن مہنگائی بے روزگاری اورمیٹرو نہ دینے کسانوں جیسے اہم ترین موضوعات پر کوئی بات نہیں کر رہا ہے ۔چھتیس گڑھ ،مدھیہ پردیش اور راجستھان میں دونوں کانگریس اور بھاجپا نیتاﺅںنے ایک کے بعد ایک نئے اشو اچھالے رامپور میں پندرہ نومبر کو کانگریس کے تمام نیتاﺅں نے ہاتھ میں گنگا جل لے کر سوگندھ کھائی کہ اقتدار میں آنے پر محض دس دنوں میں کسانوں کا قرض معاف کر دیں گے ۔اجیت جوگی نے سبھی دھرموں کے دھرم گرنتھ ہاتھ پر رکھ کر کہا کہ انہیں موت منظور ہے وہ بھاجپا کو کبھی حمایت نہیں دیں گے ۔مدھیہ پردیش میں کانگریس صدر کمل ناتھ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک ریلی میں کہا کہ آپ کو علی مبارک ہوں ہمارے لئے تو بجرنگ بلی کافی ہیں ۔راج ببر نے 22نومبر کو کہا کہ روپیہ مودی جی کی پوجنیہ ماتا جی کی عمر سے بھی نیچے جا رہا ہے اس پر مودی نے کہا کہ مودی سے لڑنے کی ان میں طاقت نہیں ہے تو اب وہ میری ماں کو گالی دے رہے ہیں ۔انہوںنے لوگوںسے سوال کیا کہ کیا مودی کی ماں کی بے عزتی کرنے سے ان کی ضمانت بچی رہے گی ۔چھتر پور میں چناﺅ کمپین کے دوران ایک عام ریلی میں مودی نے کانگریس پر گرجتے ہوئے کہا کہ جب کانگریس کے پاس کوئی اشو نہیں رہا تو وہ تیر ی ماں میری ماں کہنے لگے ۔جواب میں راہل گاندھی نے کہا کہ سال 2019میں ہونے والے لوک سبھا چناﺅ میں ہار کے ڈر سے وزیر اعظم کے دماغ میں کانگریس کے تئیں نفرت پیدا ہو گئی ہے ۔مودی جی کمزور ہیں ان کے دل میں گھبراہٹ ہے وہ جانتے ہیں کہ لوگوں کا بھروسہ ٹو ٹ چکا ہے ۔اس لئے وہ غلط لفظ بولتے ہیں اور نفرت میں یہ استعمال کرتے ہیں ۔کانگریس نیتا سی پی جوشی نے 23نومبر کو کہا کہ مودی کی ذات کیا ہے؟دھرم کے بارے میں صرف برہمن ہی جانتے ہیں مودی نے اسے اگلے ہی دن اشو بنا لیا ۔یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا بجرنگ بلی بنواسی گرواسی دلت اور دلت ہیں جمعہ کو بھاجپا کے وزیر ستپال بولے کہ بجرنگ بلی آریہ تھے ۔اس طرح گنگا جل سے شروع ہوئی سیاست ماں،مندر،پتا،ذات،اور گوتر اور علی اور بجرنگ بلی تک پہنچ گئی ہے اب اس سے اور نیچے کہاں تک گرئے گی بھارت کی سیاست؟

(انل نریندر)

یوگی نے ہنومان جی کو گھسیٹ کر، اپنے پاﺅں میں ہی کلہاڑی ماری

بھگوان ہنومان جی کی ذات کو لے کر بحث پر گھماسان کے بیچ شنکر آچاریہ ،سوامی سروپ آنند سرسوتی نے بجرنگ بلی کو برہمن بتایا ہے ۔ان کا کہنا ہے تلسی داس جی نے ہنومان جی کے بارے میں لکھا ہے کہ( کاندے موج جنوﺅ ساجے )اس کا سیدھا مطلب ہے کہ وہ برہمن تھے نہ کہ دلت شنکر آچاریہ اس تنازع میں تب کودے جب اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک ریلی میں ہنومان جی کو دلت بتا دیا تھا ۔حالانکہ اگر پورے معاملے کو سنیں تو اس کا مطلب کچھ اور تھا لیکن حریفوں نے اسے اس طرح پرچار کیا کہ مانا یوگی آدتیہ ناتھ نے انہیں دلت کہا ہے۔اس پر سیاسی گھماسان مچنا لازمی تھا ۔اسے ہوا دیتے ہوئے کانگریس نیتا کی قیادت میں دلت سماج کے لوگوںنے جہاں ایک مندر پر آگرہ میں قبضہ کر لیا وہیں لکھنﺅ میں سنیچر کو اس وقت کھلبلی مچ گئی جب دلت اتھوانگ کے بینر تلے دلت سماج کے کچھ لوگوںنے ہنومان سیتو سمیت بجرنگ بلی کے مندروں پر اپنا حق جتایا ۔در اصل راجستھا ن میں یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک ریلی میں بجرنگ بلی کو دلت بنواسی بتایا تھا اس کے بعد سے پردیش کے کچھ شہروں میں ہندومان مندروں پر اپنا دعوی پیش کرنا شروع کر دیا ۔دلتوں کے دیوتا بجرنگ بلی کا مندر ہمار ا ہے جیسی تختیہ ہاتھوں میں لے کر حضرت گنج کے دکشن مکھی ہنومان مندر پہنچے لوگوںنے وہاں ہنومان چالیسا کا پاٹھ کیا اور بعد میں علامتی طور پر مندر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی ۔اس واقعہ کے بعد پولس چوکس ہوگئی اور شہر میں بنے کئی ہنومان مندروں کے باہر پولس فورس تعینات کر دی گئی ۔ادھر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے صاف طور پر کہا بجرنگ بلی سماج کے سبھی گروپوں کا پالنہار ہے ۔سنیچر کو راجستھان میں ریلی کے دوران یوگی نے کہا کانگریس کو اس بات پر اعتراض ہے کہ بجرنگ بلی محروم طبقوں کے تارنہار ہیں ۔راجستھان کے بانٹا ضلع اسمبلی حلقہ میں سنیچر وار کو یوگی جی نے عظیم الشان چناﺅی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس پر جم کر تنقید کی انہوںنے کہا کہ تمہارے ترنہار علی ہیں اور ہمارے ترنہار بجرنگ بلی ہیں ۔کانگریس کے نیتا اب ڈرنے لگے ہیں ۔یوپی سرکار کے ترجمان شری کانت شرما نے کہا کہ ہنومان جی سبھی کے آئیڈیل ہیں سب کو پوجا کا حق ہے جو چاہے ہنومان جی کی پوجا کرئے لیکن مندروں پر قبضہ کرنا غنڈہ گردی ہے ۔وہیں بھیم آرمی کے بانی چندر شیکھر نے کہا کہ بھاجپا سیاست کے تحت ہنومان کو دلت بتا رہی ہے۔دلت تو ہم ہیں ہنومان مندروں پر قبضہ کر چڑھاﺅے کی رقم دلتوں کی بھلائی پر لگائیں گے ادھر سنیچر وار کو یوگ گروبابا رام دیو نے بھی ہنومان کو لے کر کہا ہنومان گیانی اور چھتریہ تھے ۔بہتر ہوتا کہ یوگی جی ہنومان جی کو گھٹیا سیاست میں نہ کھینچتے یہ تو وہی بات ہوئی کہ آبیل مجھے مار۔
(انل نریندر)

02 دسمبر 2018

بچے سے بھاری بستہ

 خوشی کی بات ہے جلد ہی پہلی اور دوسری کلاس کے بچوں کو ہوم ورک سے نجات مل جائے گی وزارت انسانی وسائل ترقی نے سبھی ریاستوں اور مرکزی حکمراں ریاستوںکو اس کی گائڈ لائنس تیار کر لاگو کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ساتھ ہی وزارت نے دسویں کلاس تک کے طلباءکے بستوں کا زیادہ سے زیادہ بوجھ بھی طے کر دیا ہے ۔ان گائڈ لائنس کے مطابق پہلی اور دوسری کے بچوں کا بستہ ڈیڑھ کلو سے بھاری نہیں ہوگا جبکہ 10ویں کلاس کے طلباءکے لئے زیادہ حد وزن 5کلو گرام طے کیا گیا ہے ۔پہلے اور دوسری کلاس کے طلباءکو صرف حساب اور زبان پڑھانے کی اجازت ہوگی تیسری سے پانچویں کلاس کے طلباءکو این سی ای آر ٹی کی سفارش کے مطابق ریاضی لینگویج اور جنر ل سائنس پڑھانے کی ہدایت دی گئی ہے ۔اسکول کے طلباءکو فاضل کتابیں اور نسابی سامان لانے کی ہدایت نہیں دے سکتے ہیں ۔جس میں بستے کا وزن بڑے اسکولی بچوں کا بوجھ کم کرنے کی مانگ کئی برسوں سے اُٹھتی رہی ہے میں نے بھی کئی بار اسی کالم میں بچے سے بھاری بستہ عنوان سے یہ سوال اُٹھایا ہے کہا جا رہا تھا کہ اپنی پسند کے پبلشروں کی کتابیں چلانے کے لئے پرائیوٹ اسکول مسلسل بستہ بھاری کرتے جا رہے ہیں دہلی میں مرکزی سرکار کی طر ف سے اسکولی طلباء کے لئے بستے کو لے کر دی گئی گائڈ لائنس کو عمل میں لانے کا کام شروع بھی کر دیا گیا ہے ۔دہلی کے محکمہ تعلیم کے ڈائرکٹر سنجے گوئل نے حکام کو گائڈ لائنس پر اسٹڈی کرنے کے احکامات دئے ہیں ۔معصوم بچپن پر بستے کا بوجھ نہ پڑے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔اور نہ ہی اس کے جسم اور ذہن پر اثر کی پریشانی ۔سی بی ایس ای نے بھی کچھ سال پہلے ریٹائرڈ ٹیچروں اور والدین کو سجھاﺅ دے کر طلباءکے چھوٹے چھوٹے گروپ بنا کر پڑھانے کی صلاح دی تھی تاکہ بچے کو ہر دن ساری کتابیں نہ لانی پڑے اس لئے ہر بچے کا الگ کلنڈر بنانا تھا ۔دوسری کلاس تک ہوم ورک نہ دینے کی بھی بات کی تھی بد قسمتی شاید یہ ہے کہ ساری باتیں تب تجویز تک تھیں اور ہم تب تک کچھ نہیں مانتے جب تک ہمیں ہدایات کی حد میں نہ باندھا جائے ۔اسکول چاہے سرکاری ہو یا پرائیوٹ حقیقت یہ رہی ہے جس اسکول کا بستہ جتا زیادہ بھاری ہوتا ہے اسے اتنا ہی اچھا اسکول مانا جاتا ہے۔جسمانی پریشانی کی بھی وارنگ دے چکے ہیں کہ بھاری بستہ بچوں کی ہڈیوں میں دقت پیدا کرتا ہے اور بھاری ہونے پر وہ سنگین بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ماہر تعلیم بتاتے ہیں کہ چار سے بارہ سال تک کی عمر کے بچے کی جسمانی نشو نما بڑھنے کی ہوتی ہے اس لئے اس دوران پڑھائی کے لئے بستے کا زیادہ بوجھ نہ ڈالیں بلکہ سارا زور بچوں کے پھلنے پھولنے پر دینا چاہئیے ہم سرکار کے اس ہدایت کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ مرکزی سرکار کی بچوں کے بستوں پر جاری گائڈ لائنس پر جلد سے جلد عمل درآمد کیا جائے۔

(انل نریندر)

اس ریکارڈ پولنگ کا کس کو فائدہ ہوگا؟

مدھیہ پردیش میں 15ویں اسمبلی کےلئے بدھ کے روز 74.61فیصدی ووٹ پڑے یہ 2013کی 72.13فیصدی پولنگ کے مقابلے میں 2.48 فیصدی زیادہ رہے۔پچھلی بار 2008(69.28فیصدی)کے مقابلے میں 2.85فیصدی ووٹ زیادہ پڑے تھے تو بھاجپا کی سیٹیں بڑھ کر143سے 165ہو گئیں مدھیہ پردیش میں ہوئے ریکارڈ پولنگ کے بعد بھارتی جنتا پارٹی (بھاجپا)اور بڑی اپوزیشن کانگریس کے دعووں اور وضاہتوں کے درمیان سیاسی مبصرین نئی سرکار کی تشکیل کو لے کر اپنا پختہ اندازہ لگانے میں مصروف ہیں وہیں دونون پارٹیوں نے اب اپنی جیت کے دعوے کرنے شروع کر دیئے ہیں ۔کانگریس پردیش پردھان کمل ناتھ نے بھوپال میں میڈیا کو بتایا کہ لوگوںنے جس جوش خروش کے ساتھ ووٹ ڈالا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست میں کانگریس کی سرکار بننے جا رہی ہے ۔بھاری ووٹنگ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ آج دو چیزیں ہوئیں ہیں ۔ایک چناﺅ ختم ہو گیا اور دوسرا بے جی پی نمٹ گئی ۔پوری ریاست میں 1764ای وی ایم 2126وی وی پیٹ مشینیں بدلنی پڑیں ۔250پولنگ مرکزوں پر وقت بڑھانے کے سبب پولنگ کے اعدد و شمار میں 2فیصدی اضافہ ہوا ہے پارٹی نے چناﺅ کمیشن کو قریب 150شکایتیں کیں ہیں ۔انہوںنے دعوی کیا کہ پارٹی کی جیت یقینی ہے اور وہ اسمبلی میں 230میں سے 140سے زیادہ سیٹیں حاصل کرئے گی ۔ہم واضح اکثریت کے ساتھ سرکار بنائیں گے تقریباََ15روز تک چلی سیاسی لیڈروں کی تقریریں اور چناﺅ مہم کے باوجود وٹروں کی خاموشی اور ریاست کی 15سال پرانی بھاجپا سرکار کے خلاف ناراضگی اور مخالف رجحان کو لے کر انڈر کرنٹ جیسی خبروں کے درمیان ریکارڈ پولنگ کو کانگریس لیڈر تبدیلی کے لئے ووٹ اور سرکار کے خلاف ،تو بھاجپا اپنی ہی سرکار کے حق میں لہر ہونے کا دعوی کر رہے ہیں 5کروڑ سے زیادہ ووٹروں میں سے 75فیصدی یعنی 3کروڑ 75لاکھ سے زائد ووٹروںنے 2899امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں قید کر دئے ہیں اور 11دسمبر کو ووٹوں کی گنتی کے ساتھ ان کے مستقبل کا فیصلہ ہو جائے گا بھاجپا نائب پردھان پربھات جھا کا کہنا ہے کہ سال 2003کے ووٹ فیصد تقریباََ72فیصد کے مقابلے اس مرتبہ 75فیصد ووٹروںنے ووٹ ڈالے ہیں وہیں سال 2008میں 69فیصد سے زیادہ ووٹ پڑے تھے اس طرح 2008کے مقابلے میں 2013میں 3فیصد زیادہ ووٹ پڑے تھے اور بھاجپا کی سرکار بنی تھی ۔اس بار بھی زیادہ ووٹ پڑے اس کا فائدہ حکمراں پارٹی کو ہی ملے گا ان کا دعوی ہے کہ یقینی طور پر ریاست میں مسلسل چوتھی بار شیوراج سنگھ چوہان کی سرکار بنے گی وہیں سٹے بازوںنے کل230سیٹوںمیں سے بھاجپا کو (01-10)سیٹیں دی ہیں اور کٹر حریف کانگریس کو 114سے 116ملنے کے دعوے سٹے بازوںنے طے کئے ہیں ۔دیکھیں 11دسمبر کو کیا نتیجہ آتا ہے۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...