Translater

20 فروری 2016

کشمیری علیحدگی پسند و نکسلیوں کاگٹھ جوڑجے این یو پر حاوی

جے این یو میں صرف ملک مخالف نعرے ہی نہیں لگے یہ جو جے این یو میں کیا چل رہا ہے اس سے آہستہ آہستہ پردہ اٹھنا شروع ہوگیا ہے۔ کئی برسوں سے یونیورسٹی میں طالب علم ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ یہ اب صاف ہوتا جارہا ہے پچھلے سات آٹھ دنوں کی جانچ سے یہ صاف ہوگیا ہے کہ تنازعہ کشمیری علیحدگی پسندوں اور نکسلیوں کی گٹھ جوڑ کانتیجہ ہے ہندوستانی اقتدار کو اکھاڑ پھینکنے خواب دیکھنے والے علیحدگی پسندوں چاہے وہ کشمیرکے ہوں یا پھر نارتھ ایسٹ کے ہوں انہوں نے نکسلیوں کے ساتھ ہاتھ ملا لئے ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق کافی عرصے سے جے این یو کیمپس میں سرگرم ہے اور اس کے لئے انہوں نے ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس یونین( ڈی ایس یو) کے نام سے اپنی طلبہ انجمن بھی بنا رکھی ہے۔ فی الحال اس تنظیم سے اب تک صرف دس طالب علم ہی جڑے ہیں پچھلے سال گڑھ چیرولی میں گرفتار ہیم مشرا اسی ڈی ایس یو سے جڑا ہوا تھا۔ کچھ وقت پہلے چھتیس گڑھ میں جب ستر سے اوپر سی آر پی ا یف کے جوان نکسلیوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے تو اس انجمن نے جے این یو میں جشن منایا تھا۔ ڈی ایس یو کے علاوہ نکسلیوں نے کشمیری اور نارتھ ایسٹ کے علیحدگی پسند گروپوں کے ساتھ مل کر کمیٹی فور ریلیز آف پالیٹکل پریزنرس نام سے ایک انجمن بنائی تھی اس کا کام سرکار کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ کرنا اور جیلوں میں بند نکسلی و علیحدگی پسند کی لیڈروں کی رہائی کے لئے ماحول بنانا ہے۔ اس بات کی تصدیق خود گرفتار یونین کے لیڈر کنہیا نے کی ہے۔ کنہیا نے بتایا کہ متنازعہ پروگرام کو سید عمر خالد نے پلان کیا تھا۔ اس نے بتایا کہ عمر کشمیر میں سرگرم تنظیموں کا ساتھی ہے اس کے پاس کشمیر کے مشتبہ نوجوان آتے رہتے ہیں۔ 9 فروری کو افضل گروہ کی پھانسی کی تیسری برسی پر جے این یو میں منانے کا پلان عمر نے ہی ان لوگوں کے ساتھ مل کر تیار کیاتھا۔ کنہیا نے بتایا پروگرام کے دوران بھارت کے ٹکڑے کے کرنے اور افضل گروہ شہادت کے نعرے عمر اور کشمیر سے آئے اس کے ساتھیوں نے لگائے تھے۔ 
کچھ سال پہلے تک کوئی نکسلی لیڈر ہی اس کمیٹی کا صدر ہوا کرتا تھا، لیکن بعد میں ایس آر گیلانی کو اس کا چیف بنا دیا گیا ایس آر گیلانی کی رہنمائی میں دہلی کے پریس کلب میں منعقدہ دیش مخالف پروگرام میں نعرے لگائے گئے۔ اس دیش مخالف پروگرام میں الگ الگ یونیورسٹیوں اور انجمنوں کے طلبہ کا کردار سامنے آیا ہے پریس کلب کی وابستگی کے بھی جے این یو سے مل رہی ہے۔ پولیس نے کورٹ میں خلاصہ کیا ہے کہ دیش مخالف طاقتیں بھارت کی اہم یونیورسٹیوں کے کچھ طلباء گروپ کے ذریعے بڑی سازشیں رچی جارہی ہیں۔ اس لئے ایسے معاملوں کی چھان بین کی ضرورت ہے۔ 9 فروری کے متنازعہ احتجاجی مظاہرہ جے این یو کمپلیکس میں واقع سابرمتی ڈھابہ کے پاس ہوا تھا۔ وہاں سے برآمد پوسٹر میں کشمیر کے سلسلے میں لکھا ہے۔۔۔ ایک دیش جہاں ڈاکٹر ہی نہیں ہے اقتدار کے خلاف لوگوں کی جدوجہد میں یادداشت کا سنگھرش ہے کہ وہ اس معاملے کو نہ بھول جائے۔ اسی پوسٹر کے پیچھے چھپا ہے برہمن واد کی اجتماعی ولولے کے خلاف افضل گروہ اور مقبول بھٹ کی جوڈیشل قتل کے خلاف و کشمیر کے لوگوں کے ذریعے کی جارہی جدوجہد اور اپنے لئے فیصلے کرنے کے لئے ان کے جمہوری حقوق کی حمایت میں شامل ہونے کے لئے مدعو کرتے ہیں۔ دہلی پولیس کے ذریعے کی گئی ایف آئی آر میں عمر خالد کی قیادت میں لگے نعروں کا بھی ذکر کیاگیا ہے۔ ڈی ایس یو کو سرکاری طور پر سی پی آئی ( ماؤ وادی) کا بھی سنگھٹن ماناجاتا ہے۔ 2014 کو اس وقت کے وزیرمملکت داخلہ آر پی این سنگھ نے راجیہ سبھا نے ایک سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ ڈی ایس یو سی پی آئی( ماؤ وادی) سے وابستہ تنظیم ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق جے این یو اور پریس کلب میں افضل گروہ کی شہادت کی شکل میں منانے کافیصلہ انہی لوگوں کا تھا اور بھارت مخالف نعرے بھی انہوں نے لگائے تھے۔9 فروری اس پروگرام میں ایک کشمیری فلم دکھانے کابھی پروگرام تھا لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ ظاہر ہے کہ ملک کی بغاوت کے پیچھے کشمیری علیحدگی پسند عناصر اور کچھ سرگرم نکسلیوں کا گٹھ جوڑ ہے۔
(انل نریندر)

ہائی کورٹ نے جج نے سپریم کورٹ سے ہی جواب مانگ لیا ہے؟

ہندوستانی عدلیہ میں پیر کو کچھ ایسا ہوا ، جو اس سے پہلے دیش کی عدلیہ کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا۔ دوپہر پیر کو سپریم کورٹ نے مدراس ہائی کورٹ کے ایک جج کو کسی طرح کے عدلیہ کام دینے پر روک لگا دی تھی لیکن اس کے کچھ دیر بعد مدراس ہائی کورٹ کے اسی جج نے سپریم کورٹ چیف جسٹس سے ہی تحریری جواب مانگ لیا۔ سپریم کورٹ نے مدراس ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سی ایس کارن کو کوئی بھی عدلیہ کام نہ دینے کی ہدایت دی تھی۔ دراصل کارن کاتبادلہ کلکتہ ہائی کورٹ کردیا گیا ہے۔ لیکن جج موصوف نے اس تبادلہ کے حکم پر بھی روک لگا دی۔ اس کے بعد جسٹس کارن کوئی عدلیہ کام دینے پر روک لگائی گئی تھی۔ مدراس ہائی کورٹ کے جسٹس یہی تک نہیں رکے انہوں نے سپریم کورٹ کے ان دونوں ججوں کے خلاف بھی ایس سی ؍ ایس ٹی کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کی دھمکی دی جنہوں نے جسٹس کارن کو کوئی بھی عدلیہ کام نہ دینے کی ہدایت دی تھی۔ اپنی عدلیہ اختیارات کاعلاوہ دیتے ہوئے جسٹس کارن نے کہا کہ وہ خود نوٹس لیتے ہوئے چنئی پولیس کمشنر کو سپریم کورٹ کے دونوں ججوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے جوڈیشل حکم دیں گے انہوں نے ایک بار پھر خود کو ذات پات امتیاز جانچ کاشکار بتایا ادھر سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا جسٹس کارن کسی معاملے میں خود نوٹس لے کر حکم نہیں دے سکتے ا ن کو جوڈیشل یا انتظامی کام کاج دینا یا نہ دینا مدراس ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پر منحصر کرے گا۔ وہ چاہے تو انہیں آگے کام کاج دیں یا نہ دیں ۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب جسٹس کارن تنازعوں میں آئے ہیں۔ اس سے پہلے بھی اپنی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نچلی عدالت میں تقرری کو لے کر جاری حکم پر خود نوٹس لے کر سماعت شروع کردی تھی۔ گزشتہ برس مئی میں سپریم کورٹ نے اس معاملے میں روک لگائی تھی۔ جسٹس کارن نے اپنے تبادلہ روکنے حکم میں چیف جسٹس کو نوٹس دیتے ہوئے باقاعدہ اس کا جواب مانگا ہے یہی نہیں انہوں نے اس حکم کی کاپی رام ولاس پاسوان، بسپا چیف مایا وتی اور کانگریس صدر سونیا گاندھی کو بھی بھیجی ہے۔ معاملہ کیونکہ عدالتوں سے متعلق ہے اس لئے اس پر کوئی رائے زنی نہیں کی جاسکتی ہیں ہاں ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں ا یسا قصہ پہلے نہیں رونما نہیں ہوا ۔
(انل نریندر)

19 فروری 2016

بھارت کا کسان بدحال و پریشان

بھارت ایک زراعت کفیل ملک ہے۔ ہندوستانی معیشت کی بنیادزراعت ہے۔گھریلو پیداوار میں زرعی اور اس سے متعلق میدانوں کا اشتراک 2007-08 اور 2008-09 اور 2010-11 کے دوران بسلسلہ 17.8 ، 17.1 اور 14.5 فیصد رہی۔ ہندوستانی زرعی پیداوار ابھی بھی مانسون پر منحصر کرتی ہے کیونکہ تقریباً55.7فیصد زراعت بارش پر منحصر ہے۔ ہندوستان کا کل جغرافیہ حدودربا 3287 کروڑ ایکڑ ہے جس سے 14.03 کروڑ ہیکٹیر میں کھیتی کی جاتی ہے۔ اس نظریئے سے بھارت کے کسان کو دیش کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہا جائے تو کوئی قباحت نہیں ہوگی۔ آج کسان کھیتی باڑی چھوڑنے پر مجبور ہورہا ہے۔ خسارے کا سودا ہونے کی وجہ سے ہر روز ڈھائی ہزار کسان کھیتی چھوڑ رہے ہیں اور تو اور دیش میں ابھی کسانوں کی کوئی ایک بھی تشریح نہیں ہے۔ مالیاتی منصوبوں میں، قومی جرائم ریکارڈ بیورو اور پولیس کی نظر میں کسان کی الگ الگ تشریح ہے۔ ایسے میں کسان مفادات سے وابستہ لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کچھ ہی وقت بعد پیش ہونے والے عام بجٹ میں گاؤں ، کھیتی اور کسان کو بچانے کیلئے ہندوستانی وزیر مالیات کیا پہل کریں گے؟ اتار چھڑاؤ کے درمیان زرعی ترقی رفتار نہیں پکڑ رہی ہے۔ وزارت زراعت کے اعدادو شمار کے مطابق 2012-13 میں زرعی ترقی شرح 1.2 فیصد تھی جو 2013-14 میں بڑھ کر 3.7 ہوگئی اور 2014-15 میں یہ گھٹ کر 1.1 فیصد پر آگئی۔ پچھلے کئی برسوں میں بوائی کے رقبے میں18 فیصد کی کمی آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق کئی رپورٹوں کو دھیان سے دیکھنے پر زرعی علاقے کی بدحالی کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلی دو دہائی میں بھاری تعداد میں کسان خودکشی کر چکے ہیں۔ زیادہ تر خودکشی کی وجوہات قرض ہے جسے چکانے میں کسان لاچار ہے جبکہ 2007 سے 2012 کے درمیان قریب3.2 کروڑ گاؤں والے جس میں کافی کسان ہیں، شہروں کی طرف ہجرت کر پائے ہیں۔ ان میں سے کافی لوگ اپنی زمین اور گھر بار بیچ کر شہروں میں چلے گئے ہیں۔ گاؤں سے ہجرت کرنے کے بعد کسانوں اور کھیتی مزدور کی حالت یہ ہے کہ کوئی ہنر نہ ہونے کی وجہ سے ان میں سے زیادہ تر کو مزدوری یا یومیہ دہاڑی کرنی پڑتی ہے۔ 2011ء کی مرد م شماری کے مطابق ہرروز ڈھائی ہزار کسان کھیتی چھوڑ رہے ہیں۔ بھاری تعداد میں گاؤں سے لوگوں کی ہجرت ہورہی ہے جس میں سے زیادہ تر کسان ہیں۔ قومی کرائم بیورو، این سی آر بی کے پچھلے پانچ برسوں کے اعدادو شمار کے مطابق 2009 ء سے 17 ہزار، 2010ء میں 15 ہزار، 2011ء میں 14 ہزار ،2012 ء میں 13 ہزار، 2013ء میں 11 ہزار سے زیادہ کسانوں نے کھیتی باڑی سے جڑی دشواریوں سمیت دیگر وجوہات سے خودکشی کی راہ چنی۔کسانوں کے لئے مشکل کی بات یہ ہے کہ پوری دنیا میں اناج کے بھاؤ کم ہوئے ہیں۔ اگر پیداوار گھٹے گی تو کسان کو اقتصادی تنگی کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ کسان کی پریشانیوں کو اور بڑھا سکتا ہے۔بندیل کھنڈ وکاس آندولن کے لیڈر آشیش ساگر نے بتایا کہ کھیتی کسان کا خرچ بڑھا ہے لیکن کسانوں کی آمدنی کم ہوئی ہے جس سے کسان اقتصادی تنگی کے چکر میں پھنس گیا ہے۔ کسانوں کی آمدنی قومی سطح پر اوسطاً کم ہے۔ ایسے میں کسان سرکار سے کسی طرح کی مالی امداد نہیں مانگ رہا ہے، وہ اپنی فصلوں کیلئے کم ازکم مناسب قیمت مانگ رہا ہے تاکہ دیش کے لوگوں کے ساتھ ساتھ اپنے پیٹ بھی ٹھیک سے بھر سکے۔اس سنگین مسئلے پر بروقت مرکز اور ریاستی حکومتوں کو سنجیدہ ہونا پڑے گا اور ان پر باقاعدہ حکمت عملی بنانی ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والی دہائیوں میں غذائی ضروریات میں اضافے کے چلتے متبادل غذائی اجناس مثلاً دودھ ، مکھن اور انڈے وغیرہ کی پیداوار کے متبادل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ کھیتی کے برابر روزگار کے لئے نئے متبادل کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔
(انل نریندر)

ضمنی چناؤ کے سندیش اور سبق بھی سمجھنا ضروری ہے

عام طور پر لوک سبھا یا اسمبلی کے ضمنی چناؤ نتیجوں سے دیش کی سیاست پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا مگر ان کے ذریعے رائے دہندگان کے موڈ کو سمجھنے کا ضرور اشارہ ملتا ہے۔ یہی بات 13 فروری کو 8 ریاستوں میں اسمبلی کے ضمنی چناؤ کو لیکر کہی جاسکتی ہے جن کے نتیجے مختلف پارٹیوں کے لئے ملے جلے رہے ہیں۔ اگر ان نتیجوں کو ریاستی سطح پر دیکھیں تو ان میں کچھ ایسے سندیش ضرور چھپے ہوئے ہیں جن میں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ ہوا کس طرف بہہ رہی ہے۔ بہار میں عوام میں قریب2 مہینے پہلے زبردست کامیابی والے جے ڈی یو ۔ آر جے ڈی اتحاد کو مسترد کردیا ہے تو اترپردیش میں حکمراں سماجوادی پارٹی کی حالت خراب کردی ہے۔بھاجپا کے لئے تشفی کی بات یہ رہی ہے کہ مدھیہ پردیش کے میہر اسمبلی حلقے میں پارٹی نے جیت کا پرچم لہرایا ہے۔ اس کامیابی سے وزیر اعلی شیو راج چوہان کا بلڈ پریشر ضرور بہتر ہوگا۔ اگر ہم بہار کی بات کریں تو جے ڈی یو۔ آر جے ڈی اتحاد اور راشٹریہ لوک جن شکتی پارٹی کے امیدوار کی جیت کو بھلے ہی ہمدردی ووٹ سے کامیابی کہیں لیکن کچھ مہینے کی حکومت کی بنیاد کو مان لیں تو یہ جیت اس سے آگے کی کہانی بیان کرتی ہے۔اس وقت نتیش کمار اور لالو پرساد دونوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے شاید ایسا کچھ اترپردیش میں سماجوادی پارٹی کیلئے بھی ہے۔ نازک وقت میں عام سندیش بھی خدشہ پیدا کردیتے ہیں۔ سب کو سیکھنے کا اشارہ دیتا ہے۔ ایسی ہی کچھ حالت اترپردیش اسمبلی ضمنی چناؤ میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ تین سیٹوں پر دوبارہ چناؤ ہوئے تینوں ہی سیٹوں پر پہلے سپا کا قبضہ تھا یوں تو ضمنی چناؤ میں ہار کے بہت معنی نہیں ہوتے۔ اس سے یہ بھی ظاہر نہیں ہوتا کہ اگر اسمبلی چناؤ میں اونٹ کس کرونٹ بیٹھے گا پھر بھی تازہ نتیجوں سے کئی اشارے مل رہے ہیں۔ مظفر نگر میں بھاجپا امیدوار کامیاب ہوا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اکثریتی ووٹ سپا کے خلاف ہے۔ دیوبند سے کانگریس کے امیدوار کی جیت یہ اشارہ دیتی ہے کہ مسلم ووٹروں نے پوری طرح سپا کی حمایت نہیں کی ہے۔ مگر کیا ہوتا مغربی ہندوستانی کی دونوں سیٹیں ان کے پاس ہوتیں۔ بسپا کی غیر موجودگی کا فائدہ سپا اٹھانے میں ناکام رہی۔ خاص بات یہ ہے کہ ضمنی چناؤ جیتنے کے لئے سپا نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا۔ دوسری طرف پنجاب میں جہاں کچھ مہینے بعد اسمبلی چناؤ ہونے ہیں کھنڈور صاحب اسمبلی سیٹ سے حکمراں اکالی دل کے امیدوار نے ریکارڈ جیت درج کی ہے۔ مگر یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ کانگریس اور عام آدمی پارٹی دونوں ہی اس چناؤ میں میدان میں نہیں تھے۔ جنوبی ریاست کرناٹک میں ایک بار پھر کمل کھلانے کا موقعہ ہاتھ لگا ہے۔ شیو سینا نے مہاراشٹر میں پالدھر سیٹ پر جیت حاصل کر اپنا دبدبہ برقرار رکھا ہے۔ کل ملا کر این ڈی اے ان نتائج سے خوش ہوگا۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ ضمنی چناؤ نے سندیش بھی دیا اور سبق بھی۔
(انل نریندر)

18 فروری 2016

بہار میں حکمراں ممبران اسمبلی نے اڑائیں قانون کی دھجیاں

اس مرتبہ بہار میں لالو پرساد یادو کی آر جے ڈی اور نتیش کمار کی جنتا دل (متحدہ) کا اتحاد بھاری اکثریت سے اقتدار میں آیا تو بہت سے لوگوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ ریاست میں کہیں پھر سے لالو یادو سرکار کے وقت کا ماحول نہ بن جائے اور بہار میں پھر سے جنگل راج نہ لوٹ آئے۔ مگر اقتدار میں آتے ہی ماحول ویسا ہی بنتا جارہا ہے۔ بھوجپورمیں گزشتہ جمعہ کو ہتھیاروں سے مسلح جرائم پیشہ افراد نے بھاجپا کے پردیش نائب پردھان وشیشور اوجھا کو گولیوں سے بھون دیا۔ ان کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔ حملے میں بکسر ضلع کے مکھیہ سمیت بھاجپا نیتا کی گاڑی کا ڈرائیور زخمی ہوگیا۔ باجپا نیتا کو10سے11 گولیاں لگیں۔ ایک ہفتے کے اندر تین قتلوں نے بہار میں لا اینڈ آرڈر کو پھر سے کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔ جمعہ کی شام کو آرا کے شاہ پور تھانہ علاقے کے تحت سونبردا بازار میں وشیشور اوجھا اپنی گاڑی سے اتر کر لوگوں سے ان کی پریشانی سن رہے تھے اسی دوران اچانک ڈیڑھ درجن سے زائد نامعلوم رائفلوں سے مسلح جرائم پیشہ نے ان پر اندھادھند گولیاں داغنی شروع کردیں۔ وشیشور اوجھا پچھلے بہار اسمبلی چناؤ میں شاہ پور سے بھاجپا کے امیدوار تھے۔ اوجھا کے قتل کے احتجاج میں پارٹی لیڈروں کا شاہ آباد بند ایتوار کو پوری طرح سے کامیاب رہا اور اس قتل کے احتجاج میں جگہ جگہ مظاہرے کئے گئے۔ پارٹی ورکروں نے جنگل راج کی واپسی اور نتیش کمار مردہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے ریلوے ٹریک جام کردیا۔صوبے میں بڑھ رہی جرائم کی واردات اور انتظامی ناکامیوں کا حوالہ دیتے ہوئے این ڈی اے کے لیڈروں نے ایتوار کو گورنر رامناتھ گووند کو میمورنڈم سونپ کر ان سے معاملے میں مداخلت کرنے کی درخواست کی۔ این ڈی اے کے 21 لیڈروں نے ایک ساتھ مل کر حال ہی میں ہوئے قتل کی وارداتوں اور جرائم کی مفصل تفصیلات دے کر صوبے میں صدر راج نافذ کرنے کی اپیل کی۔ بھاجپا کے پردیش پردھان منگل پانڈے نے کہا کہ پردیش میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں رہ گئی ہے۔ پردیش میں بدامنی کے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔ بہار میں آئے دن قتل کی وارداتوں سے عوام میں دہشت ہے اور بدامنی کے حالات روکنے کیلئے گورنر سے بہار کے وزیر اعلی اور ڈائریکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دینے کی درخواست کی۔ سابق نائب وزیر اعلی سشیل کمار مودی نے کہا حکمراں پارٹی کے ممبران اسمبلی میں جرائم کی دنیا میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ جے ڈی یو کے ممبر اسمبلی چلتی ٹرین میں خاتون مسافر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں تو کانگریس کے ممبر اسمبلی لڑکی کا اغوا کر لیتے ہیں۔گٹھ بندھن کا بڑا بھائی ہونے کے ناطے آر جے ڈی ممبر اسمبلی دو قدم آگے بڑھ کر نابالغ لڑکی سے آبروریزی کر سب سے آگے نکل جاتے ہیں۔ کل ملاکر بہار میں جرائم پیشہ لوگوں کا دبدبہ بڑھتا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

شام میں اگر سعودی عرب نے فوجی بھیجے تو چھڑ سکتی ہے عالمی جنگ

سعودی عرب، شام میں جلد میدانی جنگ کی تیاری کررہا ہے۔حال ہی میں جاری رپورٹس کی مانیں تو سعودی عرب شام بارڈر سے لگے ترکی کے انکپلنگ ہوائی اڈے پر اپنے جنگی جہاز اور فوجیوں کو بھیج رہا ہے۔ ترکی کے وزیر خارجہ میولت کابوسوگل نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ شام میں زمینی جنگ کے لئے فوجی بھیجنے کی سعودی عرب اور ترکی کے ارادوں پر روس بھڑک اٹھا ہے۔ جرمنی پہنچے روس کے وزیر اعظم دیمیتری میدوف نے جمعہ کو دھمکی دی تھی کہ ایسا کرنے سے زمین پر ایک اور عالمی جنگ چھڑسکتی ہے۔دراصل ایسے امکانات جتائے جارہے ہیں کہ شام میں زمینی فوج بھیجنے کی سعودی عرب اور ترکی کی پہل کے بعد امریکہ بھی اس میں شامل ہوسکتا ہے۔ صدر بشر الاسد کی قیادت والی شامی فوجوں کے علاقے میں بڑھت بنانے سے چڑھے سعودی عرب اور ترکی نے یہ رخ دکھایا ہے۔ الیدھوں کے آدھے حصے پر آئی ایس ، النصرہ فرنٹ، اہران الشام جیسی کئی باغی تنظیموں کا قبضہ ہے۔ سعودی عرب، ترکی ، شام میں اسد مخالف باغی گروپوں کی چپ چاپ مدد کررہے ہیں۔ دوسری طرف روس اسد کی حمایت میں کھڑا ہوا ہے۔ شام پر مذاکرات کیلئے میونخ پہنچے روسی وزیر اعظم نے آگاہ کیا کہ زمینی فوج اتارنے کی کوئی بھی کوشش باقاعدہ جنگ کی طرف لے جائے گی۔ سب کو پتہ ہے کہ افغانستان اور لیبیا میں کیا ہوا ہے۔ سبھی فریقین کو میز پر بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالنا چاہئے۔ روسی ہوائی حملوں کی مددسے کرد باغیوں نے ترکی۔ شام سرحد پر ہوائی ٹھکانوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ میدوف نے کہا کہ امریکہ اور اس کے عرب ساتھیوں کو اچھی طریقے سے سوچنا چاہئے کیا وہ مستقل جنگ چاہتے ہیں؟ کیا انہیں لگتا ہے کہ وہ اتنی جلد جیت جائیں گے؟ دوسری طرف برطانیہ کے وزیر خارجہ فلپ ہیلمینڈ نے کہا کہ سمجھوتہ تبھی کامیاب ہوگا جب روسی کٹر پسند باغی گروپوں پر بمباری بند ہوگی۔ ترکی نے بھی کہا ہے کہ روس شہریوں پر حملہ کرنا بند کرے۔امریکی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے بھی کہا کہ گزشتہ مہینوں میں اسد انتظامیہ کے تئیں روسی حمایت اور حال ہی میں الیدھوں کی گھیرا بندی نے جنگ اور تیز کردی ہے۔ جنگ بندی کرانے کے لئے دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان شام نے حالانکہ ایک ہفتے میں جنگ بندی پر اتفاق اور باغیوں کے قبضے والے علاقوں میں امداد پہنچانے کی ایک اسکیم پر گزشتہ جمعہ کو میونخ میں رضامندی بنی تھی لیکن نیٹو تنظیم کے مشتعل بیانوں سے ایسا ہونا فی الحال مشکل ہی لگتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ میدوف سمیت 17 ملکوں کے نمائندے میونخ میں ہوئی اس بات چیت میں شامل ہوئے۔ دوسری طرف جنگ بندی کیلئے بڑھتے عالمی دباؤ کے درمیان شام کے صدر بشر الاسد نے پورے دیش شام پر اپنا کنٹرول بحال کرنے کا عہد دوہرایا ہے ساتھ ہی انہوں نے جنگ ختم کرنے کیلئے بات چیت کے ساتھ ساتھ دہشت گردی سے لڑائی جاری رکھنے کا بھی عزم جتایا ہے۔ اسد نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی سرکار کا مقصد پورے دیش پر پھر سے اختیار حاصل کرنا ہے۔ فرانس کے وزیر اعظم مینلوالسن کا خیال ہے کہ یوروپ میں ابھی آئی ایس اور بڑے دہشت گردانہ حملے کرسکتا ہے۔ آتنکی تنظیم آئی ایس کے بارے میں ایک اور خطرناک جانکاری سامنے آئی ہے۔ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن نے ایک نیوز چینل سے بات چیت میں خلاصہ کیا ہے کہ آئی ایس نے کیمیائی ہتھیار بنا لئے ہیں اور کچھ مورچوں پر ان کا استعمال بھی کیا ہے۔ ان کے مطابق آئی ایس نے کلورین اور مسٹرڈ گیس بھی تیار کرلی ہے۔ عراق اور شام کے جنگی محاذ سے جو اطلاعات ملی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ آئی ایس نے وہاں کچھ موقعوں پر کیمیاوی ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا ہے۔
(انل نریندر)

17 فروری 2016

راہل گاندھی کی دیش دشمن طلبا کو حمایت

جواہر لال نہرو یونیورسٹی تنازع بڑھتا ہی جارہا ہے۔ اب لڑائی کیمپس سے نکل کر عدالت پہنچ گئی ہے۔ پیر کے روز ملکی بغاوت کے الزام میں گرفتار اسٹوڈینٹ یونین لیڈر کنہیا کمار کی پیشی پٹیالہ ہاؤس عدالت میں تھی۔ اسے دیکھتے ہوئے کئی طالبعلم لیڈر، ٹیچرس و جے این یو حمایتی لوگ لنچ بریک میں ہی متعلقہ مجسٹریٹ کے کمرے میں جاکر بیٹھ گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ کچھ لوگوں نے وہاں موجود جے این یو طلبا کو شناختی کارڈ چیک کرکے باہر نکالنے لگے۔ اس کے بعد ہاتھاپائی نعرے بازی شروع ہوگئی۔ اس ہاتھاپائی میں کچھ میڈیا ملازم بھی پھنس گئے اور ان کے چوٹیں بھی لگیں۔ دہلی پولیس کمشنر بی ۔ ایس بسی نے واردات کو ہاتھا پائی بتاتے ہوئے کہا کہ کسی کو شدید چوٹ نہیں آئی ہے۔ زور زبردستی دونوں طرف سے کی گئی تھی۔ پولیس نے اس معاملے میں نامعلوم لوگوں کے خلاف دو ایف آئی آر درج کی ہیں۔ میڈیا میں ایک فوٹو چھپی ہے جس میں بی جے پی ممبراسمبلی او۔ پی شرما کو ایک سی پی آئی ورکر کی پٹائی کرتے دکھایا گیا ہے۔ او۔پی۔ شرما نے دعوی کیا ہے کہ ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگا رہے کچھ لوگوں نے ان پر حملہ کیا تھا۔ کنہیا کی گرفتاری کو صحیح قرار دیتے ہوئے پولیس کمشنر بسی نے کہا کہ کنہیا ملک دشمنی نعرے لگا رہا تھا۔ اس درمیان عدالت نے کنہیا کی پولیس ریمانڈ بدھوار تک بڑھا دی۔ بسی سے جب بھارت مخالف نعرے لگانے والے مبینہ اے بی وی پی سے تعلقات رکھنے والے طلبا کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا، جہاں تک میری جانکاری ہے اے بی وی پی طلبا ملک مخالف نعروں کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے۔ ہمیں پورے معاملے میں سب سے زیادہ دکھ اور حیرانی اس بات پر ہوئی کہ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی جی این یو کیمپس پہنچ گئے اور ملک دشمنی کے ملزم طلبا کی حمایت کرنے لگے۔ کیا وہ یہ بھول گئے تھے کہ انہی کی سرکار میں افضل گورو کو پھانسی دی تھی؟ راہل کے برتاؤ سے بیوجہ بیان بازی سے کچھ کانگریسی بھی پریشان ہوگئے ہیں۔
راہل نے اچانک جی این یو پہنچ کر دیش دروہیوں کی حمایت کیسے کردی، کانگریسیوں کو یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کانگریس کو زمینی سطح پر کھڑا کرنے میں لگے عام کانگریسی ورکر اب پریشان ہیں۔ لیکن معاملہ کیونکہ اعلی کمان سے وابستہ ہے اس لئے کوئی کھل کر بولنے کی ہمت نہیں دکھا رہا ہے۔ دہلی کے ایک سینئر کانگریسی لیڈر نے نام نہ شائع کرنے کی شرط پر بتایا کہ دیش اور خاص طور پر دہلی و دیش کے عام لوگوں کو راہل گاندھی کی بیان بازی کے پیچھے کی حکمت عملی سمجھ میں نہیں آئے گی لیکن وہ راہل گاندھی کو دیش دروہیوں کی حمایت ضرور سمجھ بیٹھیں گے۔ راہل گاندھی کے ذریعے ان کی حمایت میں دئے گئے اس بیان سے سوشل میڈیا میں بھی ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ راہل گاندھی آخر اس بیان بازی سے کیا کہنا چاہتے ہیں؟ کس نے انہیں وہاں جا کر بھاشن بازی و ملک دشمنوں کی حمایت کرنے کو کہا؟ خیال رہے کہ سنیچرکی شام راہل گاندھی اچانک جواہر لال نہرو یونیورسٹی پہنچ گئے، وہاں انہوں نے کہا کہ ادارے کی آواز دبانے والے لوگ ملک دشمن ہیں اور طلبا کی گرفتاری کو لیکر مودی سرکار پر تلخ نکتہ چینی کرتے ہوئے راہل گاندھی نے درپردہ طور سے ہٹلر کے عہد کا موازنہ کردیا اور این ڈی اے پر طلبا کی آواز دبانے کا الزام لگایا اور طلبا کو ان کی دھونس نہ چلنے دینے کیلئے کہا۔ 
معلوم ہو کہ ملکی بغاوت کے الزام میں جی این یو کیمپس میں افضل گورو کی حمایت میں اسٹوڈینٹ یونین صدر کنہیا کمار کو جمعہ کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اس پر ملک سے بغاوت کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ 5 دیگر ملزمان اننت پرکاش، رما ناگر، اشوتوش، عمر خالد اور انیبردھن فرار ہیں۔ عمر خالد کے بارے میں بتا دیں کہ انہوں نے ’ٹائمس ناؤ‘ کے ارنب گوسوامی اور زی نیوز کے روہت سردانا کے پروگرام میں نہ صرف نعرے بازی کو جائز قراردیا بلکہ باقاعدہ ایسا کرنے کے لئے دلائل بھی پیش کئے۔ نعرے بازی کا یہ سلسلہ پریس کلب میں بھی ہوا۔ پریس کلب نے دعوی کیا ہے کہ ایس ۔ آر ۔گیلانی کے پروگرام میں نعرے بازی ہوئی، کیلئے کلب کے ہال کو بک کرانے والے کلب کے ممبر و دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر جاوید علی کی ممبر شپ ختم کردی گئی ہے۔ کلب میں بھی معاملے کی جانچ کیلئے تین نفری کمیٹی بنائی گئی ہے۔ پریس کلب آف انڈیا کے سکریٹری جنرل ندیم اے کاظمی کا کہنا ہے کلب کی ساکھ خراب نہیں ہونے دیں گے۔ کلب کو ملک دشمن سرگرمیوں کا اسٹیج نہیں بننے دیا جائے گا۔ بدقسمتی یہ بھی ہے کہ کنہیا نے میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ لولین کے سامنے کہا کہ میں نے نہ تو نعرے بازی کی اور نہ ہی پروگرام کا انعقاد کیا تھا۔ اے بی وی پی کے منتظمین سے جھگڑہ ہونے پر بیچ بچاؤ ہوگیا تھا۔ اس پر پولیس نے ویڈیو دکھایا۔ تب مجسٹریٹ نے کہا لگتا ہے کہ ان طلبا کو بھارت میں رہنے کا دکھ ہے۔ پھر کنہیا سے پوچھا کس طرح کی آزادی چاہئے آپ کو؟ دیش کے پہلے وزیر اعظم کے نام پر راجدھانی میں بنی جواہر لال نہرو یونیورسٹی بدقسمتی سے آج ملک دشمن عناصر کا گڑھ بن گئی ہے۔ اتنے نامور ادارے کو مٹھی بھر لیفٹ پارٹیوں نے آج بربادی کے دہانے پر لاکر کھڑا کردیا ہے۔ اظہار آزادی سب کو ہے لیکن کشمیر کو آزاد کرانے سے ہندوستان کو برباد کرنے تک کے نعرے کیسے برداش کئے جاسکتے ہیں؟ ایسے عناصر پر سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ جے این یو کو بچانے کی کوشش ہونی چاہئے۔ سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی ووٹ بینک کے چکر میں مودی سرکار کی ہر حالت میں تنقید کرنے پر آمادہ ہیں۔ آج دیش دروہیوں کی حمایت کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔
(انل نریندر)

16 فروری 2016

پھر ہوا امریکہ کا دوہرا چہرہ بے نقاب

دہشت گردی کو پالنے اوراسپانسر کی شکل میں بدنام پاکستان کو امریکہ کے ذریعے سب کچھ جانتے اور سمجھتے ہوئے 86 کروڑ ڈالر مالیت کی فوجی امداد دینے پر آمادگی سے امریکہ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا ہے۔ اوبامہ انتظامیہ نے کہا ہے کہ اس نے پاکستان کو تقریباً 70 سے80 کروڑ ڈالر قیمت کے 8 ایف 16- جنگی جہام فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیوکلیائی ہتھیار لے جانے میں استعداد رکھنے والے ان جنگی جہازوں کی فروخت کی تجویز کو ریپبلکن ممبران والی کانگریس میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ مدد کیلئے ایمرجنسی فنڈ کا سہارا اس لئے بھی لیا گیا ہے تاکہ اس پر روک لگانے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکے۔ حال ہی میں پاکستان کو ایف۔16 جنگی جہاز کی سپلائی دینے کی تجویز پر امریکی سینیٹ رکاوٹ ڈال چکی ہے لیکن اس کے باوجود اوبامہ پاکستان کو یہ مدد کرنے پر آمادہ ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ پاکستان کو دی جانے والی امریکی سکیورٹی مدد دہشت گردوں کے ذریعے پاکستانی سرزمیں کا استعمال پناہ گاہ کی شکل میں کئے جانے کی صلاحیت کو کم کرتی ہے۔ ہم ان موصوف افسر سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا پاکستان ان ایف۔16 جنگی جہازوں کا استعمال حافظ سعید ، مسعود اظہر و زکی الرحمان لکھوی کے خلاف کرے گا؟ اس فیصلے سے دہشت گردی کے خلاف چھیڑی گئی عالمی جنگ میں امریکی ارادوں اور سنجیدگی کی قلعی کھل گئی ہے۔ آج جب دنیابھر میں انتہاپسندوں کے مالی ذرائع کو بند کرنے یا منجمد کرنے کی بات زور شور سے کی جارہی ہے تب پاکستان پر امریکی مہربانی حیران اور پریشان کرنے والی ہے۔ادھر پاکستان کی سرگرمیوں کو بڑا مسئلہ بتاتے ہوئے ریپبلکن پارٹی کے ایک بارسوخ سینیٹر نے 8 ایف ۔16 جنگی جہاز اس دیش کو بیچنے پر روک لگانے کا عہد کیا ہے جو دھوکے باز ساتھیوں کی شکل میں کام کررہا ہے اور دہشت گرد گروپوں کو محفوظ پناہ گاہ مہیا کراتا ہے۔ ایک انگریزی میگزین وال اسٹریٹ جرنل میں شائع رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ جان کیری کو لکھے خط میں سینیٹر باب کوٹکر نے کہا کہ وہ اوبامہ انتظامیہ کو ٹیکس دہندگان کے گھر کا استعمال جیٹ کی بکری کرنے میں نہیں دے سکتے جبکہ حقانی نیٹ ورک جیسی دہشت گردتنظیم پاکستان میں پناہ لئے ہوئی ہیں۔ افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملہ کرتے ہیں۔9 فروری کو اس لکھے خط میں کوٹکر نے کہا کہ پاکستان کی سرگرمیاں بیحد بحران کن ہیں اور اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ پاکستان دھوکے باز ساتھی ہے جو علاقے میں چیلنجوں کو حل کرنے میں آگے آنے کے بجائے کنی کاٹتا ہے۔ وزیر خارجہ نے امریکی کانگریس کو بھیجے سالانہ بجٹ میں پاکستان کو 859.8 ملین ڈالر کی مدد دینے کی تجویز کی ہے۔ جس میں 265 ملین ڈالر کا فوجی سازو سامان ہے۔ اعلانیہ طور پر یہ مدد پاکستان کو دہشت گردی سے لڑنے ،کٹر پسند تنظیموں کے صفائے اور نیوکلیائی ہتھیاروں اور اداروں کو محفوظ رکھنے، افغانستان میں امن عمل اور بھارت سے رشتے بہتر بنانے کیلئے دی گئی ہے۔ لیکن اس کا ایک تہائی حصہ صرف فوجی سازو سامان کیلئے ہے۔ جس افغانستان کی فکرمندی میں امریکہ اتنا دبلا ہوتا جارہا ہے اسے طالبان کے ذریعے دہشت گردی کی عالمی پناہ گاہ بنانے میں خود اس کی اور اس کے ہمنوا پاکستان کا ناپاک کردار کی تاریخ کا ایک سیاہ باب بن چکی ہے۔ امریکہ کی شکاگو جیل میں بند ڈیوڈ ہیڈلی کے انکشافات سے بھی اوبامہ انتظامیہ پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ ہمیشہ کی طرح پاکستان سارے سازو سامان کا استعمال بھارت یا افغانستان کے خلاف ہی کرے گا۔ تجربہ تو یہی بتاتا ہے کہ پاکستان نے امریکی مدد کا استعمال اپنے یہاں آتنکی اسٹرکچر تباہ کرنے میں کم اور بھارت کے خلاف فوجی برتری بنائے رکھنے کیلئے زیادہ کیا ہے۔اپنے نیوکلیائی پروگرام کا مسلسل فروغ اور لمبی دوری کی میزائلیں بناتے رہنے کے بارے میں دنیا جانتی ہے۔ پاکستان اب تک خود کو دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار بتا کر عالمی برادری کی توجہ اپنی طرف اپنی کارستانیوں سے ہٹانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہے ، ایک طرف امریکی مدد دوسری طرف چینی دوسری۔ نشانے پر ہے بھارت۔
(انل نریندر)

اب خواتین کو قاضی بنانے پر تنازع

خواتین کے قاضی بننے کو لیکر ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ جے پور کی دو عورتوں نے دعوی کیا ہے کہ وہ پہلی مہلا قاضی ہیں۔ ان کے مطابق اب وہ ایک قاضی کے طور پر نکاح بھی پڑھا سکتی ہیں۔ عورتوں کے اس دعوے کو لیکر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ جے پور کی یہ دونوں عورتیں پچھلے دنوں ہی ممبئی سے قاضی کی ٹریننگ لیکر لوٹی ہیں۔ دونوں عورتوں اور مسلم سماج میں عورتوں کی بھلائی کا کام کرنے والے ان خواتین کا کہنا ہے کہ وہ پہلی خاتون قاضی ہیں۔ ادھر علماء اور مسلم سماج کے مذہبی پیشواؤں نے دلیل پیش کی ہیں کہ عورتیں قاضی نہیں بن سکتیں۔ جے پور میں چاردروازہ کی باشندہ جہاں آرا اور داس بدنپور کی باشندہ افروز بیگم نے خود کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ممبئی کے مدرسہ دارالعلوم نسواں سے ہندوستانی مہلا تحریک کے تحت دو سال کا مہلا قاضی کورس کیا ہے۔ان کے مطابق نہ صرف وہ نکاح پڑھا سکتی ہیں بلکہ طلاق کے معاملے بھی دیکھ سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا طلاق جیسے معاملوں کو قریب سے جاننے کیلئے اور عورتوں کو انصاف دلانے کیلئے انہوں نے یہ ٹریننگ لی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ راجستھان میں قریب5 ہزار مدرسوں کی کمان پہلی بار خاتون کو ملی ہوئی ہے۔ مدرسہ بورڈ کی چیئرپرسن مہروالنساء ٹانک بنائی گئی ہیں۔ جے پور کے مفتی عبدالستار نے بتایا قاضی کی ٹریننگ لینا الگ بات ہے ، خواتین چاہے جتنا علم حاصل کرلیں کوئی پابندی نہیں لیکن وہ قاضی نہیں بن سکتیں۔ قرآن کے مطابق مرد ۔عورت پر حاکم ہے اگر خواتین قاضی بنیں گی تو وہ حاکم ہوں گی جس کی قرآن اجازت نہیں دیتا۔ اجمیر میں واقع خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کے خادم عبدالرؤف کا کہنا ہے امامیت و قرایت جیسے کام مردوں سے متعلق ہیں اس لئے اللہ نے کسی عورت کو نبی نہیں بنایا۔صحابہ اکرام کے دور سے آج تک کسی معظم عالم نے عورتوں کی امامیت کا فتوی نہیں دیا۔جمعیت العلمائے ہند کے سکریٹری محمد مفتی شریف نے بتایا کہ شریعت اور پیغمبر حضرت محمدؐ کی سنت کے مطابق خواتین قاضی نہیں بن سکتیں۔ نکاح ۔ طلاق جیسے امور کا حل عورت کیسے نکال سکتی ہے۔ عوام قبول نہیں کرے گی۔ ادھر دارالعلوم کے ترجمان اشرف عثمانی کا کہنا ہے کہ اسلام عورت اور مرد دونوں کیلئے علم پانے کی دعوت دیتا ہے۔ اس لئے ایک عورت کا اچھا عالم دین ہونے میں انکارنہیں ہے ۔اشرف علی تھانوی نے عورت کی دینی تعلیم کیلئے بہشت زیور بھی لکھا ہے۔ تاریخ اسلام میں بڑی عالماؤں کا ذکر ملتا ہے۔ کچھ شرطوں کے ساتھ ایسا ہوسکتا ہے۔ ہندوستان میں عورتوں کو عالما بنانے کیلئے بہت سے مدرسے چل رہے ہیں۔ عورت کے لئے مذہبی پیشوا کی گنجائش نہیں ہے۔ عورت اگر قرآن اور حدیث سے واقف ہوتی ہے تو اسلام اس کی مخالفت نہیں کرتا۔
(انل نریندر)

14 فروری 2016

ہیڈلی نے تصدیق کی،عشرت لشکر کی فدائین دہشت گرد تھی

ممبئی پر26/11 حملے کے سلسلے میں گواہی دے رہے پاکستانی نسل کے امریکی دہشت گرد ڈیوڈ کول مین ہیڈلی نے جمعرات کو سنسنی خیز خلاصہ کیا کہ 2004ء میں مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں ماری گئی کالج اسٹوڈنٹ عشرت جہاں آتنک وادی تنظیم لشکر طیبہ کی فدائین ممبر تھی اور وہ بھارت میں تباہی مچانے کے مقصد سے بھرتی کی گئی تھی۔سال 2013 ء میں بھی ہیڈلی نے این آئی اے افسران کو دئے بیان میں یہ دعوی کیا تھا، لیکن تب کی کانگریس کی یوپی اے سرکار نے سیاسی وجوہات سے بیان کے اس حصے کو ہٹا دیا تھا۔ عشرت پر نام نہاد سیکولر نیتاؤں نے خاصی سیاست کی تھی، لیکن ممبئی کی عدالت کے سامنے ہیڈلی کے تازہ بیان سے اس کے دہشت گرد ہونے پر لگا سوالیہ نشان ختم ہوگیا۔ یہ ایک ایسا کیس تھا جس پرنام نہاد سیکولر نیتاؤں نے اپنی سیاست چمکانے کی خاطر ساری حدیں پار کردی تھیں۔ انہوں نے نہ تو سیاستدانوں کو چھوڑا نہ ہی اعلی پولیس افسران کو چھوڑا اور نہ ہی خفیہ و جانچ ایجنسیوں کے افسروں کو۔ یہ انکاؤنٹر جب ہوا تھا تب امت شاہ گجرات کے وزیر داخلہ تھے۔ سیاسی حملوں کے چلتے انہیں نہ صرف وزارت کے عہدے کو چھوڑنا پڑا تھا بلکہ مہینوں جیل میں گزارنے پڑے تھے۔ جیل سے چھوٹنے پر ضمانت کی شرطوں کے مطابق گجرات سے باہر رہنا پڑا تھا۔ مئی2014ء میں سی بی آئی نے امت شاہ کو کلین چٹ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خلاف کافی ثبوت نہیں ہیں۔ ان پر کیس نہیں چلایا جاسکتا۔ عشرت جہاں معاملے میں ملزم سابق آئی پی ایس ڈی جی ونجارا نے کہا کہ ہیڈلی کی گواہی سے گجرات کی پولیس کا رخ صحیح ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے جمعرات کو کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عشرت ایک دہشت گرد تھی اور جس مڈ بھیڑ میں وہ ماری گئی وہ صحیح تھا۔ونجارا احمد آباد کی اس کرائم برانچ کے ڈی سی پی تھے جس نے عشرت جہاں اور دیگر کو مبینہ مڈ بھیڑ میں مار گرایاتھا۔ ونجارا فی الحال ضمانت پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مڈبھیڑ پر سیاست گرم کرکے اسے غلط سمت میں لے جایا گیا جبکہ مڈ بھیڑ حقیقی تھی اور پولیس کے افسروں پر کیس فرضی تھے۔ ادھر انٹیلی جنس بیورو کے سابق اسپیشل ڈائریکٹر راجندر کمار نے جمعرات کو دعوی کیا کہ کسی نے عشرت معاملے میں ان کا نام گھسیٹ کران کا استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔یہ پوچھے جانے پر کیا سی بی آئی نے مبینہ فرضی مڈ بھیڑ معاملے میں انہیں ملزم بناکر جان بوجھ کر پریشان کرنے کیلئے مہم چلائی، تو کمار نے کہا کہ میں سی بی آئی کے ذریعے جان بوجھ کر پریشان کرنے کی مہم کا شکار نہیں ہوں۔ کسی نے دیش میں جمہوریت کو ختم کرنے کے لئے میرا استعمال ایک پیادے کے طور پر کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام ہوگئے۔ میں ان کا پیادا نہیں بنا۔ غور طلب ہے کہ سی بی آئی نے راجندر کمار اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے تین دیگر افسران کے خلاف چارج شیٹ دائر کی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ وزارت قانون کے انکار کے باوجود 1979 بیچ کے آئی پی ایس راجندر کمار کے علاوہ آئی بی کے تین افسروں کے خلاف سی بی آئی نے دفعہ302 (قتل)، مجرمانہ سازش 120(B) ، قتل کے لئے اغوا 346 ،364،368 (غلط ارادے سے قیدی بنایا ) اور آرمس ایکٹ کی دفعہ29 لگائی گئی تھی۔
ہیڈلی کی گواہی سے اس وقت کے وزیر داخلہ پی چدمبرم و سی بی آئی ڈائریکٹر رنجیت سنہا پر سنگین سوال ضرور کھڑے ہوں گے۔گرہ منترالیہ نے عشرت کو آتنکی بتانے والے حلف نامے کو واپس لے لیا تھا، وہیں سنہا نے عشرت کے گروپ کے منصوبوں کے بارے میں ہوشیار کرنے والی خفیہ بیورو (آئی بی) کے افسران کو ملزمین بنانے کی کوشش کی تھی۔ ممبئی کورٹ میں سرکاری وکیل اجول نکم نے ہیڈلی سے پوچھا کیا لشکر میں خاتون ونگ ہے؟ ہیڈلی :ہاں۔ نکم: اس کا مکھیہ کون ہے؟ ہیڈلی: ابوہنجر کی ماں ابورومین۔ نکم: کیا لشکر میں خاتون فدائین ہیں؟ ہیڈلی: میں نہیں جانتا۔ نکم: کیا تم ان فدائین کا نام بتا سکتے ہو؟ ہیڈلی: میں نہیں بتا سکتا۔ نکم: کیا انڈیا میں کوئی آپریشن کرنا تھا؟ ہیڈلی: ہاں، میں نے (لشکر کمانڈر) لکھوی کو مزمل بٹ سے کہتے سنا تھا کہ ایک خاتون فدائین کی وجہ سے آپریشن ناکام ہوگیا۔ میرا ماننا تھا کہ وہ بھارتیہ تھی، پاکستانی نہیں۔ لیکن لشکر کی ممبر تھی۔ نکم:اس لشکر میں کتنی خواتین تھیں؟ ہیڈلی: مجھے یاد نہیں ہے۔ لیکن خاتون تھیں جو ناکے پر پولیس مڈ بھیڑ میں ماری گئی تھی، انکاؤنٹر کس ریاست میں ہوا مجھے پتہ نہیں۔ نکم: میں آپ کو تین نام بتاتا ہوں، ان میں سے وہ کون تھیں؟ نور بیگم، عشرد جہاں اور عشرت جہاں ۔ ہیڈلی: عشرت جہاں۔ قابل ذکر ہے کہ 15 جون 2004ء کو گجرات پولیس سے ہوئی مڈ بھیڑ میں ممبئی کی رہنے والے19 سالہ عشرت جہاں، جاوید شیخ ، امجد علی ، اکبر علی رانا اور ذیشان مارے گئے تھے۔یہ آتنکی گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی کا قتل کرنے کی سازش کررہے تھے۔ہیڈلی کے مطابق آئی ایس آئی اور میجر اقبال اسے مستقل طور پر پیسہ بھیجتا تھا۔ ستمبر2006 میں اس نے 25 ہزار ڈالر اور 2008 میں نقلی بھارتیہ نوٹ بھی دئے تھے۔ ہیڈلی کے انکشافات کے بعد بھی کانگریس اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہی ہے۔پارٹی نیتا منیش تیواری نے کہا کہ اگر ہیڈلی کے بیان کو مان بھی لیا جائے کہ عشرت آتنکی تھی تو بھی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا ہے کہ فرضی مڈ بھیڑ میں اسے مارا جائے۔ قانون کہتا ہے کہ اسے گرفتار کر کارروائی ہو، جس طرح اجمل قصاب کے معاملے میں ہوا۔منیش نے کہا کہ اہم سوال یہی ہے کہ وہ مڈ بھیڑ فرضی تھی اور کورٹ نے بھی یہی مانا ہے۔ دوسری جانب ہیڈلی کی گواہی کے بعد بھاجپا زیادہ حملہ آور ہوگئی ہے۔ مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے ہیڈلی کے خلاصے کے بعد بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار پر نشانہ سادھتے ہوئے کہاووٹ کی راج نیتی کے لئے نتیش بابو نے دیش کے تحفظ سے کھلواڑ کیا۔ عشرت کو بہار کی بیٹی بتانے والے نتیش معافی مانگیں۔ بھاجپا نیشنل سکریٹری شری کانت شرما نے کہا کہ سونیا گاندھی، راہل گاندھی، پی چدمبرم جیسے کئی نیتاؤں نے عشرت کی موت پر بھی سیاست کی تھی۔ کانگریسی نیتاؤں کی تو یہی روایت ہے کہ وہ دیش بھکت جوان کی شہادت کو بھلا کر آتنکیوں کی موت پر آنسو بہاتے ہیں۔ ایسا ہی بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے وقت بھی ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے بھی ہیڈلی نے جب عشرت کو لشکر کی فدائین بتایا تھا تو کانگریس نے اس حقیقت کو چھپا دیا تھا۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...