Translater

28 دسمبر 2024

بدلے قواعد سے کیا شفافیت پر اثر پڑے گا ؟

مرکز کی مودی سرکار نے چناو¿ کمیشن کی اس سفارش کو لاگو کیا اس کے بعد کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیاں اس پر سوال اٹھارہی ہیں ۔دراصل مرکزی سرکار نے چناوی قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے دستاویزوں کے ایک حصے کو عام جنتا کی پہنچ سے روک دیا ہے ۔حکومت کے آئینی و انصاف وزارت نے گزشتہ جمعہ کو چناو¿ کمیشن کی سفارشوں کی بنیاد پر سی سی کیمرہ اور ویب کاسٹنگ فوٹیز کو جنتا کے سامنے لانے پر جنتا کے سامنے پابندی لگا دی ہے ۔کانگریس نے اس قدم کو آئین اور جمہوریت پر حملہ بتایا ہے ۔کانگریس صد ر ملکا ارجن کھڑگے نے ایکس پر لکھا مودی سرکار کے ذریعے چناو¿ کمیشن کی آزادی کو کم کرنے کی نپی تلی کوشش آئین اور جمہوریت پر سیدھا اٹیک ہے اور ہم ان کی حفاظت کے لئے ہر قدم اٹھائیں گے۔چناو¿ کرانا قاعدہ 1961 کی قواعد 93(2) (A) میں ترمیم سے پہلے لکھا تھا کہ چناو¿ سے متعلق دیگر سبھی پبلک جانچ کے لئے کھلے رہیں گے۔ترمیم کے بعد اس قواعد میں کہا گیا ہے کہ چناو¿ سے متعلق ان ضابطوں میں درج دیگر سبھی کاغذات پبلک کئے جانے کے لئے کھلے رہیں گے ۔اس تبدیلی سے چناوی قواعد کے الگ الگ سہولیات تحت چناوی پیپر (جیسے نامزدگی نامہ وغیرہ ) ہی پبلک جانچ کے لئے کھلے رہیں گے ۔امیدواروں کے لئے فارم 17-Cجیسے دستاویز دستیاب رہیں گے لیکن چناو¿ سے متعلق الیکٹرانک ریکارڈ سی سی ٹی وی فوٹیج پبلک طور سے دستیاب نہیں ہوں گے الگ الگ میڈیا رپورٹس میں چناو¿ حکام سے بات چیت کی گئی ۔انڈین ایکسپریس سے چناو¿ کمیشن کے ایک افسر نے نام نا بتانے کی شرط پر کہا کہ پولنگ مرکز کے اندر سی سی ٹی وی فوٹیج کے بیجا استعمال کو روکنے کے لئے قاعدہ میں ترمیم کی گئی ہے ۔سی ٹی وی فوٹیج شیئر کرنے سے خاص طور سے جموں کشمیر ،نکسل متاثرہ علاقوں میں سنگین نتائج ہوسکتے ہیں ۔جہاں رازداری اہم ہے۔ترمیم سے کچھ دن پہلے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے 9 دسمبرچناو¿ کمیشن کو ہدایت دی تھی کہ وہ وکیل محمود پراچہ کو ہریانہ اسمبلی چناو¿ سے متعلق ضروری دستاویز دستیاب کرائیں۔مدعاعلیہ نے ہریانہ اسمبلی چناو¿ سے متعلق ویڈیو گرافی سی سی ٹی وی فوٹیج اور فارم 17-Cکی کاپیاں دستیاب کرانے کے لئے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا ریٹرننگ افسر کے لئے جاری بک میں یہ سہولت ہے کہ امیدوار یا کسی شخص کے ذریعے درخواست دئیے جانے پر ایسی ویڈیو دستیاب کرائی جانی چاہیے۔عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے چناو¿ کمیشن کے وکیل نے کورٹ میں کہا کہ مدعالیہ اس نے نہ تو ہریانہ کا باشندہ ہے اور نا ہی انہوں نے کسی اسمبلی حلقہ سے چناو¿ لڑا ہے ایسے میں ان کی مانگ جائزنہیں ہے ۔مدعالیہ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ چناو¿ منعقد قاعدہ 1961 کے مطابق امیدوار اور دوسرے شخص کے درمیان یہ فرق ہے کہ امیدوار کو دستاویز مفت دئیے جانے ہیں جبکہ کسی دوسرے شخص کو اس کے لئے مقرر فیس دینا ہوگی ۔وکیل نے کہا تھا کہ وہ مقرر فیس کی ادائیگی کرنے کے لئے تیار ہے۔خواہشمند ہے معاملے میں جسٹس ونود ایس مہاراج کہا تھا کہ چناو¿ کمیشن چھ ہفتے کے اندر ضروری دستاویز دستیاب کرائے اس حکم کو دو ہفتے کے اندر مرکزی سرکار نے چناو¿ کمیشن کی سفارشوں کو ہی لاگو کر دیا ۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے یہ ترمیم چناو¿ کمیشن کے طریقہ کار پر ایک اور سوال کھڑا کرتا ہے ۔ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ عرضی گزار کو متعلقہ ڈیٹا دے دیجئے اور اس حکم کے کچھ دن بعد یہ ترمیم کی گئی ہے تاکہ ڈیٹا دستیاب نا کرایا جاسکے۔اس کی ٹائمنگ اپنے آپ میں سوال کھڑا کرتی ہے اور یہ ترمیم پارلیمنٹ سے تو پاس نہیں ہوئی ہے لوگ لگاتار چناو¿ کمیشن کی شفافیت پر سوا ل کھڑے کررہے ہیں اور اب یہ فیصلہ آگیا ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کا الزام ہے کہ چناو¿ کمیشن شفافیت سے ڈرررہا ہے ۔کانگریس نے اس کو قانونی طور پر چنوتی دینے کی بات کہی ہے ۔دیش کا چناو¿ کمیشن آئینی ادارہ ہے اور وہ آرٹیکل 324 کے مطابق دیش بھر میں چناو¿ کرانے کے لئے قائم کیا گیا ہے ۔گزشتہ کچھ برسوں سے چناو¿ کمیشن کے طریقہ کار کو لے کر مفاد عامہ کی عرضیاں عدالتوں میں دائر کی جاتی رہی ہیں اور اس کی شفافیت کو لے کر طرح طرح کے تنازعہ کھڑے ہوتے رہے ہیں چناو¿ کمیشن پر الزام لگتے رہتے ہیں مودی سرکار کی وہ کٹھ پتلی بن کر رہ گیا ہے ۔اپوزیشن پارٹیاں تو یہاں تک الزام لگا رہی ہیں کہ چناو¿ کمیشن بھاجپا کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے ۔پچھلے سال بھی چناو¿ کمشنروں کی تقرری کو لے کر ہنگامہ کھڑا ہو گیا تھا ۔اور معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا تھا ۔چناو¿ کمیشن کی مختاری کو لے کر سمجھوتہ کرنا مناسب نہیں کہا جاسکتا ۔اگر یہ بلا شبہ مناسب بھی ہے تو شفافیت کی آڑ میں رازداری بھنگ کئے جانے کی چھوٹ جاری رہنے دی جائے ۔کمیشن کو اپنی مختاری کا بھی خیال رکھنا چاہیے ۔چناو¿ کمیشن آخر شفافیت سے اتنا کیوں ڈرتا ہے؟ کانگریسی نیتا جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ کمیشن کے اس قدم کو جلد قانونی طور پر چنوتی دی جائے گی۔وہیں عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے لکھا اس کا مطلب ہے کچھ تو گڑ بڑی ہے۔ٹی ایس آر کے سابق ایم پی جبار نے سرکار سے پوچھا کہ مودی سرکار کا کیا چھپا رہی ہے ؟ آخر چناو¿ قواعد میں اچانک تبدیلی کرکے جنتا کو چناو¿ ریکارڈ اور ڈیٹا کے بارے میں پوچھنے اور جانچ سے کیوں روک دیا گیا ہے؟ (انل نریندر)

24 دسمبر 2024

کسانوں کی مدد کے لئے ہمیشہ چوٹالہ یاد رہیں گے!

سابق نائب وزیر اعظم چودھری دیوی لال کی وراست کو چوٹی تک لے جانے والے چودھری اوم پرکاش چوٹالہ کو زندہ جاوید ،اچھا مقرر اور کسانوں اور ورکروں پر مضبوط پکڑ کے لئے ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ان کا شمار ان لیڈروں میں ہوتا ہے جو بنیادی ورکروں کے نام تک یاد رکھتے تھے ۔اور کئی بار تو ان کے گھر میں جاکر ٹھہرتے تھے ۔ہری پگڑی اوم پرکاش چوٹالہ کی پہچان بن گئی تھی۔ایک جنوری 1935 کو پیدا ہوئے اوم پرکاش چوٹالہ چودھری دیوی لال کے سب سے بڑے بیٹے تھے ۔ان کا سیاسی صفر کا آغاز ایک غیر متوقہ سے ہوا ۔1968 میں چھوٹے بھائی پرتاپ سنگھ کے دل بدلنے پر کانگریس نے ان کو ٹکٹ دے دیا اور اوم پرکاش چوٹالہ کو سرسہ کے اعلان آباد اسمبلی حلقہ سے چناﺅ میدان میں اتارا مگر وہ ہار گئے ۔چناﺅ میں دھاندلی کو لیکر وہ سپریم کورٹ بھی گئے اور چناﺅ منسوخ کرایا اور 1970 میں پھر وہ اعلان آباد اسمبلی حلقہ میں ضمنی چناﺅ میں کانگریس کے ٹکٹ پر پہلی بار ممبر اسمبلی بنے 1989 میں جب چودھری دیوی لال دیش کے نائب وزیر اعظم بنے تو انہوںنے اپنی سیاسی وراست کے لئے اپنے بڑے بیٹے اوم پرکاش چوٹالہ کو چنا اور وہ ہندوستانی سیاست میں ایک قد آور شخصیت اور جاٹ فرقہ کے ایک بڑے نیتا بن کر ابھرے وہ کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اپنی ذبردست سیاسی سوجھ بوجھ اور حاضر جوابی کے لئے جانے جاتے تھے ۔انہوںنے اپنے والد کے ذریعہ بنائے گئی انڈین نیشنل لوک دل کے چیف تھے اور چودھری دیوی لال کے وزیر اعظم رہنے کے علاوہ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ بھی رہے تھے انہیں کسانوں کا مسیحا کہا جاتا تھا۔چودھری اوم پرکاش چوٹالہ بھی اپنے والد کے نکشہ قدم پر چلے اور 1989 میں پہلی بار ہریانہ کے وزیراعلیٰ بنے ۔یکم جنوری 1935 کو پیدا اوم پرکاش چوٹالہ ریاست کے 5 بار وزیراعلیٰ رہے ۔وہ 1989 سے جولائی 1999تک بیچ بیچ میں وزیراعلیٰ بنتے رہے سن 2000 سے 2005 تک اپنا 5 سالہ میعاد پوری کی اس دوران بھاجپا انڈین نیشنل لوک دل کی ساتھی پارٹی تھی حلانکہ وہ سرکار حصہ نہیں تھی 1989 میں جب چودھری دیوی لال جنتا دل سرکار میں نائب وزیر اعلیٰ بنے تو تب اوم پرکاش چوٹالہ وزیر اعلیٰ بنے وہ 6 بار ممبر اسمبلی رہے 1970 میں پہلی بار ممبر اسمبلی بنے۔یہ چوٹالہ پریوار کا گڑ مانا جاتا تھا ۔وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اپنے پوری میعاد میں چوٹالہ کی سرکار آپ کے دوار پروگرام میں ایک بڑی کامیابی اور پہل تھی جب وہ وزیراعلی تھے تب وہ ہر گاﺅں کا دورہ کرتے رہتے تھے اور ان کی ضرورتوں کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے ان کی مانگوں پر عمل کرتے ہوئے انہیں کے بیچ فیصلے لیتے تھے ۔سنیچر وار کو ان کی انتم یاترہ میں لاکھوں کی بھیڑ انہیں شردھانچلی دینے پہنچی تھی ۔یہ اب کی مقبولیت کی علامت ہے ۔ہمارے پریوار کے چودھری دیوی لال کے خاندان سے قریبی تعلقات رہے ہیں ۔چودھری اوم پرکاش چوٹالہ اور چودھری دیوی لال کئی مرتبہ پرتاپ بھون آئے اور پتاجی اور چوٹالہ جی خود ملے ہمارے لئے یہ اچھے خیالات رکھتے تھے ۔دخ کی گھڑی ہے ۔بھگوان ان کی آتما کو شانتی دے ۔اور غم زدی پریوار کو صبر تحمل دے ۔ (انل نریندر)

موہن بھاگوت کا بیان قابل خیر مقدم

مندر مسجد کے روز نئے تنازع سے نکلر کوئی ہندو نیتا بننا چاہتا ہے تو ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ہمیں دنیا کو دکھانا ہے کے ہم ایک ساتھ رہہ سکتے ہیں ۔یہ باتیں آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت نے بدھوار کے روز پنے میں ہندو سیوا مہوتسو کے دوران کہیں اس کے لئے شری بھاگوت نے کئی اہم معاملوں پر اپنی بات رکھی ان کا بیان اس لئے موضوع بحث بنا ۔کیوں کے اس وقت دیش میں سنبھل ،متھرا، کاشی جیسی کئی جگہوں کی مساجد کے دورہ قدیم سے مندر ہونے کے دعویٰ کئے جا رہے ہیں ۔اور ان کے سروے کی مانگ ہو ر ہی ہے اور کچھ معاملے تو عدالتوں میں لٹکے ہوئے ہیں ۔بھاگوت نے کہا ہمارے یہاں ہماری ہی باتیں صحیح باتیں سب غلط یہ نہیں چلے گا ۔الگ الگ اشو رہے تب بھی ہم سب ملکر رہےں گے ۔ہماری وجہ سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو اس بات کا خیال رکھےں گے۔جتنی شردھا میری خد کی باتوں میں ہے اتنی شردھا میری دوسروں کی باتوں میں بھی رہنی چاہئے۔رام کشن مشن میں 25 دسمبر کو بڑا دن بناتے ہیں کیوں کے یہ ہم کر سکتے ہیں کیوں کے ہم ہندوں ہیں اور ہم دنیا میں سب کے ساتھ مل جل کر رہہ رہے ہیں ۔یہ بھائی چارہ اگر دنیا کو چاہئے تو انہیں اپنے دیش میں یہ ماڈل اپنانا ہوگا۔انکا کہنا ہے کے مندر مسجد لڑائی ایک فرقہ وارانہ اشو ہے ۔جس طرح سے یہ مسلے اٹھ رہے ہیں کچھ لوگ نیتا بنتے جا رہے ہیں ۔اگر نیتا بننا ہی ہے اس کا مقام ہونا چاہئے اور اس طرح سے لڑائی جھگڑے مناسب نہیں ہیں ۔لوگ محض ہندو نیتا بننے کے لئے اس طرح کی تحریک چلا رہے ہیں ۔تو یہ صحیح نہیں ہے ۔آر ایس ایس چیف کے اس بیان کے مرید ہوئے مسلم مذہب کے علما اور مسلم مولانا اور لیڈروں نے بھاگوت کے بیان پر خوشی جتائی انہوںنے کہا آج کے ماحول میں ایسا بیان آنا بے حد معائنے رکھتا ہے شیعہ مسلم عالم کلب سبط نوری نے کہا بھاگوت کا بیان بہت مناسب ہے 18-20 کروڑ لوگ مسلمانوں کو الگ تھلگ کرکے بھارت ورلڈ گرو نہیں بن سکتا ۔ڈاکٹر نوری نے بھاجپا نیتاﺅ سے درخواست کی کے وہ آر ایس ایس کے چیف کے سندیش کو آگے بڑھایا جائے اور دیش کا ماحول خراب کرنے کی کوششوں کو روکیں ۔کیرانہ سے سپا ایم پی چودھری اقرا حسن نے بھی آر ایس ایس چیف کے بیان کی حمایت کی ہے انہوںنے کہا پہلی بار ان کے بیان سے اتفاق رکھتی ہوں اور ان کا بیان موجودہ حالات میں صحیح ہے ۔اور اس ضرورت بھی تھی اور مدے بند ہوں۔ دوسرے سپا ایم پی افضال انصاری نے کہا بھاگوت کا بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔کچھ نیتا مشہور ہونے کے لئے اوچھے ڈھنگ سے ایک مذہب مخالف بیان دیکر نیتا بننے کی کوشش کرتے ہیں ۔اب بھاگوت بولے ہیں ہم استقبال کرتے ہیں ۔کانگریس ایم پی ششی تھرور نے بھی بھاگوت کے بیان سے متعلق اپنے ایکس پر لکھا ہے آر ایس ایس چیف کہتے ہیں یہاں سب برابر ہے اور اس دیش کا رواج یہی ہے کے ہم سب اپنے مرضی سے عبادت کرسکتے ہیں۔اس سے بہتر بیان کیا ہو سکتا ہے ۔امید ہے کے ہر مسجد کے نیچے مندر تلاش کرنے والے بھی موہن بھاگوت جی کے بیان کو مانےں گے اور احترام کریں گے۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...