Translater
07 جون 2025
عدلیہ میں کرپشن کا سوال!
سپریم کورٹ آف انڈیا کے چیف جسٹس وی آر گوائی نے کہا ہے کہ عدلیہ میں کرپشن اور دھاندلی کے واقعات کا جنتا کے بھروسہ پر منفی اثر پڑتا ہے اس سے پورے سسٹم کے یکجہتی میں بھروسہ کم ہوتا ہے ۔برطانیہ کے سپریم کورٹ میں جوڈیشیل جواز اور پبلک بھروسہ بنائے رکھنے پر ایک گول میز کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد سرکار کے ساتھ کوئی دیگر ذمہ داری لیتا ہے یا چناو¿ لڑنے کے لئے عدالتی بنچ سے استعفیٰ دیتا ہے ،تو یہ اہم ترین اخلاقی تشویشات پیدا کرتا ہے ۔اور اس کی پبلک جانچ ہونی چاہیے ۔سی جے آئی نے کرپشن کے مسئلے پر کہا کہ جب بھی کرپشن اور رویہ کے معاملے سامنے آئے ہیں ۔سپریم کورٹ نے مسلسل اپنے فرض سے تلانجلی دینے کے خلاف فوری اور مناسب قدم اٹھائے ہیں ۔اس کے علاوہ ہر سسٹم ،چاہے وہ کتنا بھی مضبوط کیوں نا ہو،پیشہ آور برتاو¿ کے مسئلوں کے لئے انتہائی حساس ہوتا ہے ۔سی جے آئی نے کہا کہ عدلیہ میں کرپشن کے معاملوں سے لوگوں کے دل میں اس کے تئیں بھروسہ کم ہوتا ہے حالانکہ اس بھروسہ کو ان مسئلوں پر فوری فیصلہ کن اور شفاف کاروائی سے دوبارہ قائم کیا جاسکتا ہے ۔بھارت میں بھی کئی ایسے معاملے سامنے آئے ہیں ۔سپریم کورٹ نے مسلسل اس لعنت کو دور کرنے کے لئے فوراً مناسب قدم اٹھائے ہیں ۔سی جے آئی کا یہ تبصرہ الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس یشونت ورما پر کرپشن کے الزامات کے پیش نظر آیا ہے ۔ورما کے دہلی میں سرکاری گھر سے بڑی تعداد میں نقدی برآمد کی گئی تھی ۔جسٹس گوائی نے کہا کہ ہر جمہوریت میں عدلیہ کو نہ صرف انصاف فراہم کرنا چاہیے بلکہ اسے ایک ایسے ادارہ کی شکل میں دیکھا جانا چاہیے جو اقتدار اعلیٰ کے سامنے سچائی کو رکھ سکے ۔ہم سی جے آئی کے الفاظ کے لئے ان کی تعریف کرتے ہیں ۔اگر ہم پچھلے چیف جسٹس کھنہ کو ہی لے لیں تو ان سے پہلے کئی چیف جسٹس پر اقتدار کی طرف جھکنے کے الزام لگتے رہے ہیں ۔کچھ کو تو اقتدار کے حق میں فیصلے دینے کے لئے ریٹائر ہونے کے بعد ایوارڈ سے بھی نوازہ گیا ۔چیف جسٹس گوائی نے ہندوستانی عدلیہ کے اندر جڑیں جمع یا جم چکی ہیں ان مسئلوں کو بڑے صاف الفاظ میں قبول کیا جنہیں لے کر انگلیاں اٹھتی رہی ہیں ۔پچھلے کچھ برسوں میں چیف جسٹس اور ہائی کورٹ کے کچھ ججوں کے سیاسی دباو¿ میں یا ذاتی مفاد کی تکمیل کے مقصد سے فیصلے سنانے کو لے کر کافی ناراضگی ظاہر کی جاتی رہی ہے ۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ سیاسی فائدے اور حکمراں اعلیٰ کے دباو¿ میں یا ذاتی مفاد کو لے کر کافی ناراضگی جتا رہی ہے ۔سچائی تو یہ ہے کہ سیاسی فائدے اور حکمراں اعلیٰ کے دباو¿ سے نجات پائے بغیر عدلیہ صحیح معنی میں اپنی ذمہ داری کو صحیح ڈھنگ سے نبھا نہیں سکتی۔اس لئے چیف جسٹس کی اس سمت میں کوشش قابل تحسین ہے ۔جمہوریت میں عدلیہ پر جنتا کا بھروسہ اس لئے بھی بنے رہنا بہت ضروری ہے کہ یہی ایک ستون ہے جس پر آئین کی حفاظت کی ذمہ داری اور سیاسی اور سسٹم میں کرپشن پر نکیل کسنے کا کافی اختیار ہے ۔چیف جسٹس گوائی نے یہ بھی صاف کر دیا کہ دیش میں نہ تو عدلیہ ،ایگزیکٹو اور میڈیا سب سے بالاتر ہیں ۔سب سے اوپر دیش کا آئین ہے اور دیش آئین سے ہی چلے گا ۔سی جے آئی کے بیان کی ہم تعریف کرتے ہیں ۔
(انل نریندر)
05 جون 2025
یوکرین نے روس میں 4000 کلو میٹر اندر گھس کر مارا !
قریب 3 سال پہلے چل رہی روس یوکرین جنگ میں یوکرین نے ا توار کو روس پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کیا ہے ۔اس میں یوکرین کے مطابق 41 روس کے فوجی جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔حملے سے ہوئے نقصان کی تخمینہ لاگت 1.5 ارب پاو¿نڈ (قریب 1.72 لاکھ کروڑ روپے ) سے زیادہ بتایا گیا ہے ۔یوکرین نے اس مہم کو آپریشن اسپائیڈرس ویو کا نام دیا ہے ۔ادھر روس پر ہوئے اس حملے کو روس کا پرل ہاربر کہا جارہا ہے ۔472 ڈرون اور سات میزائلیں داغی گئیں ۔اس حملے میں یوکرین کے 62 فوجی مارے گئے اور 60 سے زیادہ زخمی ہوئے ۔روسی میڈیا اور جنگ نوازوں نے اسے روس کے لئے ایویشن کا سب سے بڑا کالا دن قرار دیا ہے اور پوتن سے نیوکلیائی حملے کی مانگ کی ہے ۔ڈرون کو ٹرکوں میں کنٹینر کے ذریعے روس کے اندر لے جایا گیا ۔ایک ٹرک ایک پیٹرول پمپ پر رکا تھا جہاں سے ڈرون نکل کر ایئر بیس کی طرف بڑھے ۔ڈرون ایس پی دی تکنیک سیلس سے لیس تھے اور سیٹلائٹ سے کنٹرول ہو رہے تھے۔بعد میں اس کا کنٹینر کو بھی اڑا دیا گیا ۔روس کے بلایا ایئر بیس سمیت کئی ایئر فیلڈس کو نشانہ بنایا گیا ۔حملہ روس کے اروکتسک علاقہ میں ہوا جو یوکرین سے 4 ہزار کلو میٹر دور ہے جن جہازوں پر یوکرین نے حملہ کیا وہ نیوکلیائی ہتھیار لے جانے کے قابل تھے۔روس کی نیوکلیائی پالیسی کے مطابق اگر کسی حملے سے اس کی نیوکلیائی صلاحیت متاثر ہوتی ہے تو وہ نیوکلیائی جواب دے سکتا ہے ۔اس لئے پوتن کے حمایتی کھلے عام مانگ کررہے ہیں کہ روس یوکرین پر نیوکلیائی جوابی حملہ کرے ۔یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب استندول میں روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات ہونے ہیں ۔اس سے پہلے اس طرح کا بڑا حملہ روس پر دباو¿ بنانے کی حکمت عملی کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے ۔کچھ غیر مصدقہ رپورٹوں کے مطابق آر کریک میں قائم روس کے نیوکلیائی بیس پر بھی حملہ ہوا ہے یہ بیس روس کے شمالی فلیگ کا ہیڈ کوارٹر ہے ۔کولاجزیرہ پر ہوئے دھماکوں کے بعد کالے دھنویں کا ویڈیو بھی سامنے آیا ہے ۔حالانکہ یہ کلیئر نہیں کہ وہاں کیا نشانہ بنا ۔ایک یوکرینی فوجی افسر نے بتایا کہ یہ آپریشن قریب ڈیڑھ سال کی تیاری کے بعد انجام دیا گیا۔اس کی پلاننگ خود یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی نگرانی میں بنائی گئی تھی۔اس حملے میں استعمال ڈرون یوکرین میں تیار اور ڈولپ تھے ۔جو روس کی سرحد پر ٹھیک نشانہ بنانے میں کامیاب رہے ۔یہ حملہ روسی ڈیفنس کو کمزور کرنے کے لئے تھا ۔اس کے لئے روسی ایئر فورس کو اب تک کا سب سے بڑا نقصان ہونے کا بھی دعویٰ کیا جارہا ہے ۔اس حملے میں مگ اور سخوئی جیسے جدید ترین جنگی جہاز نگرانی ،جہا ز اور کچھ ٹرانسپورٹ جہازوں کو تباہ کرنے کی بات بھی سامنے آئی ہے ۔روس کو جو نقصان پہنچا ہے شاید تجزیہ نگار اس کا اندازہ لگا رہے ہوں یا نہیں کررہے ہوں لیکن آپریشن اسپائیڈرس ویب سے ایک اہم ترین پیغام نہ صرف روس بلکہ یوکرین کے مغربی ساتھیوں کو بھی گیا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غور کرہی رہے تھے کہ یہ یوکرین روس جنگ رکوانے کی پوری کوشش کررہے ہیں یہ الٹا ہی پڑ گیا ہے ۔اور نہایت ہی خطرناک دور میں پہنچ گیا ہے ۔اوپر والا دونوں یوکرین ،روس کو عقل دے اور اس جنگ کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کرے ۔
(انل نریندر)
03 جون 2025
ڈیفنس سودوں کی سپلائی میں دیری!
پاکستان کے خلاف آپریشن سندور کی کامیابی کو لیکر تینوں افواج کی ہو رہی تعریف کے درمیان ائر فورس کے چیف ائر مارشل ای پی سنگھ نے ایک بم چھوڑ دیا ہے ۔ائر فورس کے چیف نے ڈیفنس سودے ہونے کے باوجود سازو سامان کی سپلائی میں دیری ہو رہی ہے۔کھلے طور پر یہ سنگین تشویش کی کا اظہار ائر فورس کو لائٹ کمبیٹ ائر کرافٹ (ایل سی اے)تیجس کی سپلائی میں ہو رہی تاخیر کی طرف عشارہ کرتے ہوئے کہا کے کئی بار ہم ڈیفنس سودوں پر دستخط کرتے وقت جانتے ہیں کے یہ سازوسامان صحیح وقت پر نہیں مل پائے گے ائر فورس چیف نے یہ کہنے سے بھی گوریز نہیں کیا کے ایک بھی پروجیکٹ وقت پر نہیں ہوا ۔ڈیفنس سیکٹر سے وابستہ کمپنیوں اور ایجنسیوں کو کھلا پیغام دیتے ہوئے کے ہم ایسا وعدیٰ ہی کیوں کریں جو پورا نہیں ہو سکتا ۔ائر فورس چیف نے بڑی انڈسٹریل آرگنائیزیشن سی آئی آئی سالانہ میٹنگ کے ایک سیشن کو خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں ۔دنیا فی الحال جس سنگین دور سے گزر رہی ہے اب بھارت کے سامنے اپنے ہی کچھ پڑوسی دیشوں غیر سنجیدہ رخ کی جنوتیاں کھڑی رہتی ہیں ۔ویسے میں سکورٹی کا ہر مورچہ ہر وقت پوری طرح چوکس اور ٹھیک ٹھاک رہنا ایک ضروری تقاضہ ہے ان پروجیکٹوں میں تاخیر پر ائر مارشل ای پی سنگھ کی تشویش اور سوال واجب ہے باحمی مورچے پر لڑ رہی بھارتیہ فوج کو جدیدیت میں بدلنا انتہائی ضروری ہے ۔اس کے لئے صرف غیر ملکی سودوں پر منحصر نہیں رہا جا سکتا ۔میک ان انڈیا پروجیکٹ کے تحت بھی ڈیفنس پروڈکشن میں تیزی لانی ہوگی۔تلخ حقیقت یہ ہے کے پچھلے 10 - 11 برسوں سے مرکزی حکومت نے ڈیفنس سازو سامان کی پروڈکشن کی جانب توجہ ہی نہیں دی ہے ۔ہماری ائر فورس میں 200 فائٹر جیٹس کی کمی ہے جو کئی برسوں سے چلی آ رہی ہے ۔ائر مارشل اے پی سنگھ وقتاً فوقتاً آغاہ کرتے رہے ہیں ۔لیکن نا تو وزیر دفاع نے کوئی توجہ دی نہ مرکزی حکومت نے ہم ابھی 10 سال پہلے کے دور میں ہیں ۔جہاں ایک لڑاکا جنگی جہاز کا سوال ہے اور ہمارے دشمن چین نے 5 وی جنریشن کے فائٹر ائر کرافٹ بنا چکا ہے اور پاکستان کو دینے کو تیار ہے ۔انڈین ائر فورس کے پاس 42.5 اسکوائڈ رن جنگی جہاز ہونے چاہئے لیکن ہیں صرف 701 ہندوستان ایرو نوٹکس لمیٹڈ ابھی تک دیش میں بنا تیجس معرکہ کا جہاز نہیں دے سکا اس کی وجہ سے ائر فورس کی ڈیفنس تیاریوں پر اثر پڑ رہا ہے ۔بھارت کو آنے والے وقت میں اپنی دفاعی ضروریات کے لئے خود کفیل بننا ہوگا ساتھ ہی جس طرح چین نے اپنی فوج کو جدید کیا ہے بھارت کو بھی اسی راہ پر تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا ۔منصوبوں کے تحت اگر کسی سلسلہ میں وعدے کئے جاتے ہیں تو انہیں وقت پر پورا کرنے کو لیکر بھی اتنی ہی سنجیدگی دکھانی چاہئے ۔ڈیفنس سیکٹر میں تکنیکی اور وصائل کی ترقی کے معاملے میں خود کفیل ہونا سب سے بہتر حل ہے ۔لیکن فوری ضروریات کو پورا کرنے کے معاملے میں کوئی سمجھوتا نہیں کیا جانا چاہئے ۔ائر مارشل ای پی سنگھ کے درد کو ہم سمجھ سکتے ہیں ۔باوجود ان کمیوں کے ہمارے جوانوں نے دشمن کو منھ توڑ جواب دیا ہے ۔اور اس میں سب سے بڑا رول ہندوستانی ائر فورس کا ہی رول ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...