Translater

05 مارچ 2015

مفتی یہ دکھانے کی کوشش میں ہیں کہ ’’میں دہلی کا ایجنٹ نہیں‘‘

جموں و کشمیر کے وزیر اعلی اور پی ڈی پی کے صدر مفتی محمد سعید کے عہدہ سنبھالتے ہی متنازعہ بیانات کا کیا مطلب نکالا جائے؟ پاکستان اور حریت کانفرنس کو جموں و کشمیر میں بنا رکاوٹ کے چناؤ کا سہرہ دینا، افضل گورو کی لاش کو اس کے خاندان والوں کو لوٹا وغیرہ بیان کو ہمیں زیادہ سنجیدگی سے نہیں لینا چاہئے۔مفتی دراصل یہ جتانا چاہ رہے ہیں کہ بیشک انہوں نے بھاجپا کے ساتھ گٹھ بندھن سرکار بنائی ہے پر وہ آج بھی اس اسٹینڈ پر قائم ہیں جو انہوں نے چناؤ مہم کے دوران لیا تھا۔یعنی وہ اپنے ووٹروں کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ دہلی کے ایجنٹ نہیں ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ایک وزیر اعلی کے طور سے ایسے بیان دینا انہیں زیب نہیں دیتا۔یہ بہتر ہے کہ پردھان منتری نے یہ صاف کردیا ہے کہ انہوں نے پی ڈی پی سے کامن منیمم پروگرام کے تحت سرکار بنائی ہے۔کوئی شخص اپنی ذاتی حیثیت میں کیا کرتا ہے اس کا جواب وہ نہیں دے سکتے۔ جب تک سرکار کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاتی جو طے ایجنڈے سے الگ ہو تب تک بھاجپا اس پر رد عمل ظاہر نہیں کرے گی۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ وہی مفتی محمد سعید ہیں جنہیں 1989 میں بھاجپا نے الگاؤ وادی تک کہہ دیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب 1989ء میں مفتی وی پی سنگھ سرکار میں وزیر داخلہ تھے تو ان کی بیٹی روبیہ سعید کا اغوا ہوگیا تھا اور اپنی بیٹی کو چھڑوانے کے لئے آتنکیوں کی اس مانگ کو مان لیا گیا تھا کہ روبیہ کے بدلے میں پانچ آتنکیوں کو رہا کیا جائے گا۔مبصرین کا ماننا ہے کہ کشمیر گھاٹی میں یہیں سے آتنک واد شروع ہوا تھا ، جو اب تک چل رہا ہے۔مرکزی وزیر داخلہ اور ریاست کے وزیر اعلی رہے مفتی سے اتنی امید ناجائز نہیں ہوسکتی کہ وہ بولنے سے پہلے حقائق پر ذرا نظر ڈالیں۔ جس پاکستان کو انہوں نے چناؤ لائق ماحول بنانے کا سہرہ دیا ہے وہ جتنا خون خرابہ کر سکتا تھا اس نے کیا۔ آتنکیوں کی گھس پیٹھ، جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرحدی چوکیوں پر حملے، درجنوں سکیورٹی فورسز و سرپنچوں کی جان لینے کو اگر دوستانہ رویہ کہا جائے تو دشمنی کیا ہوگی؟ اگر جموں و کشمیر میں چناؤ کامیاب رہے ہیں تو اس کی وجہ وہاں کے عوام ہیں جنہوں نے بلٹ کی جگا بیلٹ کو ترجیح دی ہے۔
پاکستان ، الگاؤ وادیوں نے چناؤ میں رکاوٹ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کی اور اسے ناکام بنایا ہماری سکیورٹی فورسز نے۔ سوال کیا جاسکتا ہے کہ آخر مفتی نے بنا سوچے سمجھے اس قسم کے بے تکے بیان کیوں دئے ہیں؟قطعی نہیں وہ جس پی ڈی پی کی رہنمائی کرتے ہیں اس کے دل میں حریت اور پاکستان کے تئیں نرم کونا شروع سے ہی رہا ہے۔یہ ان کی پہلی سرکار کے دوران مختلف موقعوں پر ظاہر ہوتا رہا ہے۔ اس سارے واقعات میں اطمینان اس بات کا ہے کہ وزیراعلی کے عہدے کی حلف برداری کرتے وقت انہوں نے بھارتی آئین کی سرکشا کرنے کا حلف آئین کے تحت ہی لیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جو بھارتی آئین کے خلاف ہو۔ کڑوی سچائی تو یہ بھی ہے کہ مفتی کی پارٹی کا بھاجپا سے مل کر سرکار بنانا نہ تو ان کے ووٹروں کو پسند آرہا ہے نہ حریت کو اور نہ ہی پاکستان کو۔ حریت کبھی بھی سرکار کا سمرتھن نہیں کرسکتی۔سوموار کو حریت کے ترجمان اعجاز اکبر نے مفتی کے متنازع بیانوں کو بکواس اور غیر حقیقیقراردیا۔ اکبر نے کہا جہاں تک حریت کانفرنس کی بات ہے تو اس کی پوری لیڈر شپ کو سینکڑوں ورکروں اور معاونین کے ساتھ جیل میں ڈال دیا گیا تھا یا نظر بند کردیا گیا تھا۔ ایسے میں مفتی کو سپورٹ کرنا غیر حقیقی اور نامناسب ہے۔ یہ محض ایک سیاسی چال ہے۔ فی الحال مفتی کے بیان سے نئی بنی پی ڈی پی۔ بھاجپا سرکار کی بنیاد ٹیڑھی اور کمزور ہوئی ہے۔آخر کار دیر سویر انہیں غلطی سدھارنے کا حوصلہ دکھانا ہوگا۔ویسے اس گٹھ بندھن سرکار کو چلانا دونوں کے لئے چنوتی ہوگا۔
(انل نریندر)

ریاستوں میں حصے داری بڑھا کر مودی نے مثبت قدم اٹھایا

وزیر اعظم نریندر مودی نے یقینی دہانی کے مطابق ہے 14 ویں فائننس کمیشن کی سفارشیں منظور کرتے ہوئے مرکزی ٹیکسوں میں راجیوں کی حصے داری 10 فیصدی بڑھا کر42 فیصدی کرکے مرکزی سرکار نے تعاون کی جانب ایک اور قدم بڑھایا ہے۔ یہ اس لئے ممکن ہوسکا کیونکہ وزیر اعظم خود گجرات کے وزیر اعلی کے طور پر مرکز کی اس معاملے میں نا انصافی برداشت کرتے رہے ہیں۔جب وہ گجرات کے وزیر اعلی تھے تو اکثر مرکزی سرکار کے ذریعے راجیوں کو دباؤ میں لانے کے لئے ان کو مرکزی ٹیکسوں میں حصے داری صحیح سے نہیں دیتی تھی۔ یوپی اے سرکار نے راجیوں کی سرکاروں کو ایک طرح سے بلیک میلنگ کا اسے ہتھیار بنایا ہوا تھا۔ ذرائع کے ٹرانسفر کے نئے انتظام میں راجیوں کو مالی سال2015-16 میں 1.78 لاکھ کروڑ روپے زائد ملیں گے۔ مودی سرکار کا یہ قدم سابق سرکاروں کی سوچ اور طریق�ۂ کار سے ایک دم مختلف دکھ رہا ہے۔ جس کا پورا زور ذرائع پر کنڈلی مار کر بیٹھے رہنا اور پھر برسر اقتدار پارٹی اور پارٹیوں کی سیاسی سہولتوں کے مطابق چن چن کر ریوڑیاں بانٹنا رہتا تھا۔ اس سے راجیوں میں نہ صرف ناراضگی بڑھتی تھی بلکہ کچھ حد تک راجیوں کی ترقی بھی متاثر ہوتی تھی۔ ترقی کے پیمانوں پر علاقائی نا برابری کا جوکھم بھی کھڑا ہوتا ہے۔ ویسے یہ 10 فیصدی اضافے کے ساتھ ساتھ کچھ شرطیں بھی لا دی گئی ہیں۔ مرکزی وزارت مال نے کہا ہے کہ ریونیو گھاٹا اٹھانے والے کچھ راجیوں کو زیادہ انودان تبھی ملے گاجبکہ وہ مرکز کی شرطوں کو مانیں گے۔ اس کا تذکرہ چودھویں فائننس کمیشن کی رپورٹ میں ہے اور سرکار نے اس پر جو مزید رپورٹ دی ہے اس کے مطابق ان سفارشوں کو حقیقی طور پر مان لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریونیو گھاٹے والی ریاستوں کو یہ انودان تبھی ملے گا جبکہ وہ ریونیو بڑھانے اور مالیات میں اضافہ کرنے کے لئے اقدامات پر عمل کریں گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلے دن ہی راجیوں اور مرکز کے درمیان تعاون پر مبنی رشتوں کی پیروی کی اور راجیوں کو ہر طرح سے مضبوط کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔وزیر اعظم اس وچار کے ہیں کہ اگر راجیہ مضبوط ہوں گے تو دیش مضبوط ہوگا۔ جہاں تک راجیوں کے وکاس کی بات ہے تو یہ بہت حد تک راجیوں کے وزیر اعلی پر منحصر ہے کہ وہ پیسوں کا کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ ان کی اولیت کیا ہے؟ وزیر اعظم نے سیاسی اختلافات کو بھول کر وزرائے اعلی کے ساتھ ٹیم کے طور پر کام کرنے کا سجھاؤ رکھا ہے اور اس پر عمل بھی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہی جذبات مودی سرکار کے بجٹ میں بھی نظر آئے۔ یوپی اے کے دور میں اپوزیشن سرکاروں کو ان کے جائز حق سے محروم رکھا جاتا تھا اور اپنی پارٹی کی راجیہ سرکاروں سے خاص رشتے رکھے جاتے تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے بدلنے کی کوشش کی ہے۔
(انل نریندر)

04 مارچ 2015

Historical Government with Various Challenges

After a long wait, Jammu and Kashmir finally got a PDP-BJP government. It can also be termed as a historical initiative. With the formation of this coalition government political uncertainty and conjectures, continuing from last two months, ended completely. PDP Patron Mufti Mohammad Sayeed was sworn in as the state Chief Minister on Sunday. He is heading PDP-BJP coalition government.  Former separatist leader-turned-mainstream politician Sajad Loan took oath being inducted into state cabinet as a BJP nominee. After Sayeed, BJP leader Nirmal Singh took oath as Deputy Chief Minister of J&K. This the first time that BJP became a part of any government in Jammu and Kashmir. It can be said that coalition government in the state is merging of two opposite poles.  Quoting former Prime Minister VP Singh, Mufti Mohammad Sayeed said politics is an art to turn impossible into possible even in a paradoxical situation. Prior to it, Sayeed had dubbed possibility of alliance of both parties as the meeting of North and South Poles. It is meeting of two such parties which have different political agendas as well as ideologies. As of now, it is a big relief not only for the region but for entire nation also as both parties agreed to from alliance despite their disparate ideologies and political agendas. Sooner or later, it was sure to happen because no party got clear mandate in the 87- member state assembly. PDP got 28 seats in Kashmir region and BJP bagged 25 seats in Jammu region. Jammu-Kashmir consists of three regions viz. Valley, Jammu and Ladakh. However fractured mandate floated a possibility of another political equation that PDP, National Conference and Congress could form an alliance, but it could be possible only after interpreting the mandate arbitrarily. It was fair that first and second largest parties join their hands to make government so that all the three regions of J& K get share in government.  Since BJP and PDP together talked over in detail for two months before forming the government and came up with a common minimum programme, therefore it is expected that top priority of the government will be to realize public aspirations keeping party differences aside. BJP has relented on Article 370 whereas PDP softened on AFSPA. Several previous unanswered questions and few new questions will emerge out during the reign.  Ensuring return of Kashmiri Pandits, refugees coming from West Pakistan and their rehabilitation, separatism and its supporter Hurriyat Conference, terrorism and actions against it, development plans for Jammu-Kashmir and Ladakh and allocation of resources between these two regions are few key issues for which political conflict is possible.  Leaders of both parties are rightly and clearly saying that it should be better seen as a governance alliance rather than a political partnership. So will PDP abstain from its controversial acts or not, that’s a million dollar question, because first message of Mufti Mohammad Sayeed, immediately after taking oath, became a cause of concern for BJP. He thanked Hurriyat & Pakistan for smooth conduct of J&K Assembly Elections. They left no stone unturned to obstruct the fair and free elections. It is expected that BJP as an alliance of state government will have control over PDP. Of course, BJP disagreed with Sayeed and dissociated itself from his statement. Both PDP and BJP have challenge of running a successful and fair government that works in the public interest.

Anil Narendra

کیجریوال کے خلاف ’آپ‘ پارٹی میں بغاوت تیز

میں نے دیکھا ہے کہ چناؤ میں اگر کسی پارٹی کی بھاری جیت ہوتی ہے یا بھاری ہار ہوتی ہے تو اس کے کچھ اثرات بھی ہوتے ہیں۔ہم کراری ہار کی وجہ سے کانگریس میں اندرونی خلفشار کو آج کل دیکھ رہے ہیں۔ بھاری فرق سے جیتنے والی عام آدمی پارٹی میں بھی زبردست خلفشار کی خبریں آرہی ہیں۔ عام آدمی پارٹی میں بھی کانگریس کی طرح اندرونی خلفشار شروع ہوگیا ہے۔ عام آدمی پارٹی میں اروند کیجریوال کے خلاف بغاوتی آواز اٹھنے لگی ہیں۔ آپ کے اندرونی لوکپال ایڈمرل رامداس نے پارٹی میں اندرونی جمہوریت کی کمی و کیجریوال کے کام کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے ہیں۔انہوں نے اس سلسلے میں وزیر اعلی اروند کیجریوال اور پی اے سی کے ممبران کو خط لکھا ہے۔رامداس کا کہنا ہے کہ پارٹی میں جمہوریت نہیں ہے اس میں اور دوسری پارٹیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ پارٹی میں گٹ بازی بہت ہے۔ اعلی لیڈر شپ دو گٹوں میں بٹ گئی ہے۔ سرکار میں ایک بھی خاتون کو جگہ نہیں ملی ہے۔ ادھر پارٹی کی سیاسی معاملوں کی کمیٹی (پی اے سی) سے یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن کی چھٹی طے مانی جارہی ہے۔ دونوں نیتاؤں نے اس کی پیشکش کرڈالی ہے کہ انہیں اس کمیٹی سے ہٹا دیا جائے۔ ان دونوں نیتاؤں کے ساتھ ہی عام آدمی پارٹی کے فائننسر و سینئر لیڈر شانتی بھوشن نے بھی اروند کیجریوال کے کام کرنے کے طریقوں پر سوالیہ نشان لگائے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے بانیوں میں سے ایک اور سابق وزیر قانون شانتی بھوشن نے کیجریوال سے پارٹی کنوینر کے عہدے کو چھوڑنے کی مانگ تک اٹھائی ہے۔نجی کام کے لئے الہ آباد آئے شانتی بھوشن نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ پارٹی میں کوئی بھی شخص دو عہدوں پر نہیں رہ سکتا ہے۔اروند کیجریوال وزیر اعلی بن گئے ہیں، ایسے میں کنوینر کا عہدہ یوگیند یادو کو ملنا چاہئے۔ ادھر ان کے بیٹے پرشانت بھوشن نے پارٹی کی ایگزیکٹو کونسل کو بھیجے خط میں اروند کیجریوال پر الزام لگاتے ہوئے صاف کہہ دیا تھا کہ وہ پارٹی کے ذریعے اکثریت سے لئے فیصلوں کو بھی پلٹ دیتے ہیں۔ انہوں نے آگے لکھا کہ لوک سبھا چناؤ میں کراری شکست کے بعد کیجریوال وزیر اعلی بننے کے لئے کانگریس سے مدد کی فریادکررہے تھے۔ دہلی کے چناؤ میں بھی پارٹی ایک شخص(اروند کیجریوال)کے ارد گرد گھومتی دکھائی دے رہی تھی۔ ایسے میں یہ پارٹی دوسرے دلوں سے الگ ہونے کی بات نہیں کہہ سکتی ہے۔اس درمیان عام آدمی پارٹی کے دہلی کے سکریٹری دلیپ پانڈے نے قومی جنرل سکریٹری پنکج گپتا کو بھیجے اپنے خط میں یوگیندر یادو، پرشانت بھوشن و شانتی بھوشن پر پارٹی مخالف سرگرمیوں میں شامل ہونے کا الزام لگایا ہے۔ذرائع کے مطابق نیشنل ایگزیکٹو کی بیٹھک کے بعد پارٹی میں دو پھاڑ صاف نظر آنے لگی ہے۔سیاسی معاملوں کی کمیٹی (پی اے سی) سے پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو کی چھٹی ہونے کی خبریں آرہی ہیں۔پارٹی کے دونوں نیتاؤں نے ذہنی سطح پر پارٹی کی حکمت عملی طے کرنے میں بیشک یوگدان دیا ہو لیکن اب اختلافات کے چلتے ان کی چھٹی ہونا لگ بھگ طے مانا جارہا ہے اور پارٹی میں خلفشار کھل کر سامنے آگیا ہے۔
(انل نریندر)

ESSAR نے کئی نیتاؤں اخبار نویسوں کو فائدہ پہنچایا

کچھ لوگ ہمیشہ تنازعات میں گھیرے رہتے ہیں ان میں سے ایک ہیں مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری۔ ایسار گروپ کے مبینہ اندرونی ای میل لیک ہونے سے پتہ چلا ہے کہ دیش کے کئی بڑے لیڈر ، افسران اور اخبار نویسوں کو کمپنی نے کئی طرح سے فائدے پہنچائے ہیں۔ لسٹ میں سب سے زیادہ تنازعہ مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری کا نام سامنے آنے سے ہوا ہے۔الزام ہے کہ انہوں نے جولائی 2013 ء میں فرنچ ریویرا میں ایسار کمپنی کی ایک جدید ترین کشتی پر دو راتوں کیلئے (7 جولائی سے9 جولائی) پورے خاندان کے ساتھ چھٹیاں منائی تھیں۔سپریم کورٹ میں شکروار کو دائرایک مفاد عامہ کی عرضی میں مرکزی وزیر پر کمپنی سے فائدہ لینے کا الزام لگایا گیا ہے۔ایسے ہی تنازعے میں ایک بار بھاجپا صدر کا عہدہ چھوڑ چکے گڈکری نے فرانس میں کشتی میں سفر کی بات قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت وزیر، ممبر پارلیمنٹ یا ممبر اسمبلی کچھ بھی نہیں تھے۔
انہوں نے اس کا خرچ خود اپنے گھریلو کھاتے سے برداشت کیا تھا۔ بہرحال مفاد عامہ کی اپیل میں کمپنی کے جن خط و کتابت کا معاملہ ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح نتن گڈکری ، ان کی پتنی، دو لڑکوں، بیٹی نے ایسار کی شاہی کشتی میں دو راتیں بتائیں۔ یہ معاملہ 7 اور9 جولائی 2013ء کا ہے۔ یہ لوگ ایئر پورٹ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے فرنچ ریویرا میں لگے اس کروز میں گئے تھے اور اسی طرح لوٹے بھی۔ فائدہ لینے والوں میں سابق کوئلہ منتری شری پرکاش جیسوال ، کانگریسی نیتا دگوجے سنگھ اور موتی لال وہرا، بی جے پی کے سانسد ممبر پارلیمنٹ ورون گاندھی اور سرکاری نوکر شاہوں کا نام بھی شامل ہے۔یہ خلاصہ انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس نے کیا جس کے بعد پرشانت بھوشن نے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کر ایس آئی ٹی سے جانچ کرانے کی مانگ کی ہے۔ خلاصہ ہونے کے بعد ان تمام لیڈروں نے اپنے بیان میں فٹا فٹ دلیلیں دے ڈالیں۔ کانگریس نے اسے لیکر گڈکری پر نشانہ سادھا۔ پی سی چاکو نے کہا کہ کوئی بھی کمپنی بنا کسی مقصد کے کسی کو کچھ نہیں دیتی یا فائدہ پہنچاتی۔اس کے پیچھے ان کے کچھ نہ کچھ مفاد ضرور ہوتے ہیں۔ وہیں بی جے پی نے معاملے کو زیادہ طول نہیں دیا۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ ایسی خبریں تو لگاتار میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔ ہم اس پر نکتہ چینی کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔ ایسار کے ترجمان نے کہا کہ ہم ڈیٹا کی اس چوری کے بارے میں پہلے ہی افسر مجاز کے سامنے شکایت درج کرچکے ہیں۔ جانکاری چرانے والوں کے خلاف دہلی پولیس سخت کارروائی کرے گی۔نتن گڈکری نے یہ بھی کہا کہ ایسار نے مجھے یاچ دکھانے کیلئے بلایا تھا۔ میں روئیسا پریوار کو پانچ سال سے جانتا ہوں۔ میں نے کبھی کسی کارپوریٹ گروپ سے پیسے نہیں لئے۔ دورے کا خرچ خود کے کھاتے سے دیا گیا تھا۔
(انل نریندر)

03 مارچ 2015

تاریخی سرکار لیکن چنوتیاں کم نہیں

جموں و کشمیر میں لمبے انتظار کے بعد آخر کار پی ڈی پی اور بھاجپا گٹھ بندھن کی سرکار بن گئی ہے۔ اسے تاریخی پہل بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس گٹھ بندھن سرکار کے بننے سے دو مہینے سے جاری سیاسی غیر یقینی صورتحال اور اٹکل بازیوں پرروک لگ گئی۔ پی ڈی پی کے سرپرست مفتی محمد سعید کو ایتوار کو جموں وکشمیر کے وزیر اعلی عہدے کا حلف دلایا گیا۔ وہ بھاجپا کے ساتھ مل کر بنائی گئی گٹھ بندھن سرکار کی رہنمائی کررہے ہیں۔ الگاؤ وادیوں سے سرگرم سیاست میں آئے سجاد لون نے بھاجپا کوٹے سے کیبنٹ وزیر کے طور پر حلف لیا۔سعید کے بعد بھاجپا کے نرمل سنگھ نے حلف لیا۔ وہ ریاست کے ڈپٹی وزیر اعلی ہوں گے۔ یہ پہلی بار ہے جب بھاجپا جموں و کشمیر میں کسی سرکار کا حصہ بنی ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جموں و کشمیر میں دو مختلف خیال پارٹیوں کی سرکار بنی ہے۔ مفتی محمد سعید نے سابق وزیر اعظم وی پی سنگھ کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب اختلافات ہوں تو بھی انسان کو صبر سے کام لینے کی کلا کو سیاست کہتے ہیں۔اس سے پہلے دونوں پارٹیوں کے درمیان گٹھ بندھن کے امکانات پر سعید نے قطب شمالی و قطب جنوبی کا ملنا قراردیاتھایہ ایسی دو سیاسی پارٹیوں کا ملن ہے جن کا سیاسی ایجنڈا بھی الگ ہے اور نظریہ بھی۔فی الحال تو نہ صرف صوبے بلکہ ملک کے لئے یہ بڑی راحت ہے کہ نظریہ الگ ہونے ، سیاسی ایجنڈا الگ ہونے کے باوجود دونوں پارٹیاں گٹھ بندھن کے لئے رضامند ہوئیں۔دیر سویر یہ ہونا ہی تھا اس لئے کہ جس طرح کا مینڈینٹ آیا اس میں 87 سیٹوں والی اسمبلی میں کسی دل کو صاف اکثریت نہیں ملی۔ پی ڈی پی کوکشمیر علاقے میں28 اور بھاجپا کو جموں علاقے میں 25 سیٹیں ملیں تھیں۔ جموں و کشمیرمیں تین علاقے ہیں گھاٹی، جموں اور لداخ۔ حالانکہ بکھری ہوئی عوامی تائیدکے چلتے ایک سیاسی سمی کرن یہ بھی ہو سکتا تھا کہ پی ڈی پی اور نیشنل کانگریس ایک ساتھ آجاتے لیکن ایسا عوامی تائید کی منمانی تشریح کرکے ہی ہوسکتا تھا۔مناسب یہی تھا کہ پہلے اور دوسرے نمبر کی پارٹیاں ہی اکھٹی ہوکر سرکار بنائیں۔ اس سے تینوں ہی علاقوں کو سرکار میں حصے داری مل رہی ہے کیونکہ پی ڈی پی اور بھاجپا نے مل جل کر سرکار بنانے سے پہلے پورے دو مہینے غور و خوض کیا اور ایک کامن منیمم پروگرام لیکر بھی سامنے آئے ہیں۔ اس لئے امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے اختلاف بھلا کر عوامی امیدوں کو پورا کرنے کو اہمیت دیں گے۔ بھاجپا نے دفعہ 370 پر زور نہ دینا مان لیا ہے تو پی ڈی پی نے افسپا پر اپنے سر کو نرم رکھا ہے۔ پھر بھی بہت سے سوال پہلے کے بھی بچتے ہیں اور کچھ ایک حکومت کے دوران بھی ابھر کر آئیں گے۔ مثلاً کشمیری پنڈتوں کی واپسی یقینی بنانا، سرحد پار سے آنے والے شرنارتھیوں و ان کی بازآبادکاری، الگاؤ وادیوں و اس کی حامی حریت کانفرنس آتنک واد اور اس کے خلاف کارروائی کی حقیقی کمان جموں و کشمیر اور لداخ کے درمیان وکاس کے خاکے، ذرائع کا بٹوارہ وغیرہ کو لیکر رسہ کشی کا خدشہ شاید ہی ختم ہو اس لئے دونوں دلوں کے نیتاٹھیک ہی کرررہے ہیں کہ اسے سیاسی سانجھے داری نہیں بلکہ حکمت کے گٹھ بندھن کے طور پر دیکھنا ہی ٹھیک رہے گا۔ دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ پی ڈی پی اپنی پرانی حرکتوں سے اس بار بچتی ہے یا نہیں؟ کیونکہ حلف لیتے ہی مفتی کا پہلا پیغام بھاجپا کے لئے فکر کا باعث بن گیا ہے۔ مفتی محمد سعید نے حلف لینے کے فوراً بعد پریس کانفرنس میں چناؤ ہونے دینے کیلئے حریت اور پاکستان کی کارگزاری کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے تئیں شکریہ جتا دیا جبکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ ان دونوں نے غیر جانبدارانہ اور آزاد چناؤ روکنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ بھاجپا کے سرکار میں آنے سے امید کی جاتی ہے کہ وہ پی ڈی پی پر قابو رکھے گی۔ مفتی کا یہ بیان ہر لحاظ سے غیرمعمولی اور قومی مفاد کے لئے خطرہ بنے عناصر کو طاقت مہیا کرنے والا ہے۔ بیشک بھاجپا نے اس سے اپنی نااتفاقی جتائی ہے لیکن اس سے یہ تو صاف ہوہی جاتا ہے کہ اس کے سامنے کیسی کیسی مشکلیں پیدا ہونے والی ہیں۔بھاجپا اور پی ڈی پی دونوں کو ایک کامیاب صاف ستھری اور جنتا کے مفاد کے لئے کام کرنے والی سرکار چلانے کی چنوتی ہے۔
(انل نریندر)

وزیر اعظم کا کرارا جواب:اپوزیشن کی بولتی بند

لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اپنے پورے شباب پر تھے۔ مودی نے اگر میں یہ کہوں کہ اپوزیشن کی بولتی بند کردی تو شاید غلط نہ ہوگا۔ مودی نے فرقہ پرستی پر پہلی بار سنسد میں بولتے ہوئے کہا کہ میری سرکار کا ایک ہی دھرم ہے۔ بھارت اور ایک ہی مذہبی کتاب ہے۔بھارت کا آئین۔ ایک ہی بھکتی ہے۔ بھارت، ایک ہی پوجا ہے۔ سوا سو کروڑ دیش واسیوں کی بہبود۔ وزیراعظم نے دو ٹوک کہا کہ کسی کو بھی مذہب کی بنیاد پر کسی سے نا برابری کرنے یا قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا حق نہیں ہے۔ یہ میری ذمہ داری ہے کہ سرکار کیسے چلے۔ نریندر مودی نے اپنی سرکار کی حصولیابیاں گنائیں اور اپوزیشن پر چن چن کر حملہ بولا۔ مودی نے اب تک کہ سبھی الزامات کا سلسلہ وار جواب دیتے ہوئے کہ کسی کو بھی مذہب کی بنیاد پر بھید بھاؤ کرنے یا قانون کواپنے ہاتھ میں لینے کا اختیار نہیں ہے اور دیش آئین کے دائرے میں ہی چلے گا۔ مودی نے اپنی سرکار کی حصولیابیاں گناتے ہوئے منریگا، بلیک منی،سوچھ بھارت مشن اور فرقہ پرستی جیسے سبھی مدعوں پر کھل کر چرچہ کی۔ لوک سبھا میں اپنی75 منٹ کی تقریر میں مودی کبھی نرم تو کبھی گرم نظر آئے۔ مودی نے کہا کہ ان میں کچھ ہو نا ہو اتنی سیاسی سوجھ بوجھ تو ہے ۔ منریگا کو بند کرنے جیسی غلطی وہ نہیں کریں گے۔ اس کی جگہ وہ گاجے باجے کے ساتھ اس کا ڈھول پیتے رہیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا اکثر لوگ میری حیثیت کو لیکر کہتے ہیں کہ مودی یہ کرسکتے ہیں، یہ نہیں کرسکتے ہیں اور کچھ ہو یا نہ ہو میری سیاسی سوجھ بوجھ تو ہے۔ اور وہ سوجھ بوجھ کہتی ہے کہ منریگا بند مت کرو۔کانگریسی ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ ہی اس پر پورے ایوان میں ٹھہاکے گونجے ، لیکن اس کے فوراً بعد مودی نے جو کہا اسے سن کر کانگریس کے ممبر سکتے میں آگئے۔ مودی نے کہا ’’کیونکہ منریگا آپ (کانگریس) کی ناکامیوں کی جیتی جاگتی یادگار ہے۔ میں کہوں گا کہ دیش کی آزادی کے 60 سال بعد آپ نے لوگوں کو گڈھے کھودنے اور گڈھے بھرنے کے کام میں لگایا۔ مودی نے آگے کہا لوگوں کو پتہ تو چلے کہ ایسے کھنڈر کون کھڑے کر کے گیا ہے؟ وزیر اعظم نے ایک بار پھر صاف کیا کہ ان کی سرکار آئین کے حساب سے چلنے اور سب کو ساتھ لیکر سب کا وکاس کرنے کے لئے وقف ہے۔انہوں نے بے تکے سوال کرنے والوں کی بھی خبر لی لیکن اتنا ہی کافی نہیں ، انہیں یہ دیکھنا ہوگا کہ حکمراں جماعت کے ممبر پارلیمنٹ سرکار کے من کو سمجھیں اور اسی کے مطابق عمل کریں۔ زمین حاصل کرنے کے ایکٹ پر حسب اختلاف اور اہم حمایت کرنے والوں کی مخالفت کے مد نظرمودی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس بل سے کسانوں کا فائدہ ہوگا لیکن اگر اس میں کسانوں کے خلاف ایک بھی چیز ہے تو ہم اسے بدلنے کو تیار ہیں۔ سنسد میں پہلی بار حسب اختلاف کے ان ممبران پارلیمنٹ سے تعاون کی امید کرتے ہوئے کہا کہ اسے وقار کا سوال نہ بنائیں۔
(انل نریندر)

01 مارچ 2015

اس بار کیجریوال کی کتھنی اور کرنی میں کوئی فرق نہیں ہے!

ہماری جمہوریت میں ایک نیا باب لکھنے والی اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی نے اپنا سب سے بڑا چناوی وعدہ پورا کردیا ہے۔ اروند کیجریوال کی سرکار نے اپنی پہلے دور حکومت کی طرح ہی بجلی ،پانی سے متعلق چناوی وعدہ پورا کردیا ہے۔ عہدہ سنبھالتے ہی ’آپ‘ سرکار نے مہینے میں 400 یونٹ تک بجلی کھپت کا بل آدھا اور 20 ہزار لیٹر تک پانی کا بل معاف کردیا ۔ 49 دن کے اپنے پہلے دور حکومت میں کیجریوال سرکار نے 400 یونٹ تک بجلی کھپت کرنے پر سبھی صارفین کو 50 فیصدی کی چھوٹ دی تھی لیکن اس بار یہ سسٹم ختم کردیا گیا ہے۔ اب 401 یونٹ ہوتے ہی پورا بل بھرنا ہوگا۔ اس سے درمیانہ طبقے کے کنبوں کا بجٹ بڑھ سکتا ہے۔ پیک آور میں کھپت کو کنٹرول کرنا صارفین کیلئے چیلنج ہوگا۔ مفت پانی کا فائدہ اس بار گروپ ہاؤسنگ سوسائٹیز کو بھی ملے گا۔ اس میں کوئی دورائے نہیں ہوسکتی کہ ان دو سہولیات سے دہلی کے غریب اور نچلے دبے طبقے کو راحت ملے گی۔ اس سے جہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ عام آدمی پارٹی کی کتھنی اور کرنی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ وہیں جنتا یہ بھی کہنے سے نہیں کترا رہی کہ مرکز میں مودی سرکار کو آئے 9 مہینے ہوگئے ہیں اور اب تک کوئی بھی وعدہ پورا نہیں ہوا۔ بیشک مرکز اور راجیہ میں فرق ہوتا ہے لیکن ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ کیجریوال اینڈ کمپنی نے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی بجلی ، پانی مسئلے پر پورا ہوم ورک کر لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار میں آتے ہی انہوں نے دو سب سے اہم وعدے پورے کردئے ہیں۔ اب کی بار کیجریوال اطمینان کے ساتھ کام کرتے جارہے ہیں، بغیرکسی شور شرابے کے۔ ایک اور لائق تحسین پہل کیجریوال سرکار کی یہ بھی ہے کہ سرکار نے پرائیویٹ اسکولوں کے ذریعے من مانے ڈھنگ سے ایڈمیشن کے نام پر پیسے وصولنے پر روک لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لئے سرکار نے دہلی کی عوام سے اس طرح کی کسی بھی ڈیمانڈ کا اسٹنگ کرنے کی اپیل کی ہے۔سرکار کا یہ ماننا ہے کہ جنتا کی مدد سے ہی ایسی دھاندلیوں پر روک لگائی جاسکتی ہے۔ دہلی سرکار نے لوگوں سے اپیل کرکہا ہے کہ اگر کوئی اسکول داخلہ دینے کے عوض میں آپ سے ڈونیشن، کیپٹیشن فیس یا کسی دوسری قسم کے پیسے کی مانگ کرتا ہے تو اس کا آڈیو یا ویڈیو ریکاڈنگ کر پوری تفصیل کے ساتھ ڈپٹی سی ایم کی ای۔میل آئیڈی پر بھیجیں۔ ساتھ ہی ساتھ سرکارکو یہ بھی دھیان میں رکھنا ہوگا کہ گرمیوں میں پانی، بجلی دونوں کی مانگ زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ ایسے میں اگر عوام کو بجلی، پانی کی مسلسل دستیابی یقینی نہیں ہوئی تو ’آپ‘ کی اقتصادی راحت اس کے لئے بے مطلب ہوجائے گی۔ حالانکہ مفاد عامہ میں امید یہ ہی رکھنی چاہئے کہ کیجریوال سرکار اپنی کوششوں میں کامیاب رہے گی۔ خاص کر بجلی کمپنیوں کے آڈٹ میں اگر اس کی امید کے مطابق نتیجے نہ آئے تواس کی اصلاح پسند پالیسیوں پر نئے سرے سے سوال کھڑے ہوں گے۔
(انل نریندر)

بہت گہری ہیں جاسوسی کی جڑیں!

جس انہونی کا اندیشہ تھا وہ صحیح نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔ مرکزی وزارتوں سے حساس ترین معلومات کی چوری جتنی چونکانے والی ہے اس سے بھی زیادہ چونکانے والی معلومات یہ ہے کہ جاسوسوں کے گروہ صرف وزارت توانائی کے دفتر سے خبریں نہیں چرا رہے تھے بلکہ دیش کی وزارت دفاع تک یہ زہریلے ہاتھ پہنچنے لگے ہیں۔تیل، کوئلہ، بجلی وزارت یہاں تک کہ وزارت مالیات تک ان کی پہنچ رہی ہے۔ ان کے پاس وزیر مالیات کی بجٹ تقریر میں شامل ہونے والے کچھ معاملات سے وابستہ ان پٹ تک پائے گئے ہیں۔ خفیہ سرکاری دستاویزات کی چوری اور جاسوسی نئی بات بیشک نہ ہو، لیکن وزیر اعظم کے دفتر، کیبنٹ وزیر، سیکریٹری اور جوائنٹ سکریٹریوں کے مابین ہونے والی خط و کتابت کی زیروکس کاپیاں وزارت کے چھوٹے ملازمین کے ذریعے کنسلٹینسی کمپنیوں اور وہاں سے بڑی کمپنیوں کے حکام تک مسلسل پہنچنے کا تصور بھی حیران کردینے والا ہے۔ تیل، کوئلہ اور بجلی وزارت پر منڈراتے جاسوسوں کے کالے سائے اگر کارپوریٹ گھرانوں کی منافع خوری کی ہوس کا قصہ کھول رہے تھے تب اس عمارت میں ہوئی گھس پیٹھ کی کہانی کیا ہوگی جہاں دیش کو دشمنوں سے بچائے رکھنے کی حکمت عملی بنا کرتی ہے۔ وزارت توانائی سے اگر تمام حساس ترین دستاویزات پی ایم او پہنچنے سے پہلے ان جاسوسوں کے قبضے میں موجود ہوجاتے تھے تب ہماری ڈیفنس حکمت عملی اس کالی سرنگ کے ساتھ راستے کہاں تک اور کن ہاتھوں تک پہنچ رہی ہوگی، اس کے تصور سے ہی کپکپی آجاتی ہے۔ مرکزی سرکار کے سب سے محفوظ اور انتہائی حساس ترین چار وزارتوں پر جاسوسی کا جال دیش کی قابل رحم سکیورٹی نظام کی پول کھول رہا ہے۔دہلی پولیس نے جس کانڈ کو بے نقاب کیا وہ دو خاص وجوہات سے چونکاتا ہے۔ ایک تو یہ کہ یہ سب برسوں سے چل رہا تھا۔ دوسرے اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس معاملے کو کارپوریٹ جاسوسی کانڈ بھی کہا جاسکتا ہے۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ کی کارروائی سے جو سنسنی خیز حقیقت سامنے آئی ہے اس نے بہت سے سوال کھڑے کردئے ہیں۔ کئی وزارتوں کی فائلوں کی چوری کی وارداتوں نے سرکاری کام کاج کے بھروسے کو اعلی سطح پر ایسا نقصان پہنچا یا ہے جس کی دوسری مثال شاید ہی ملے۔ برسوں سے یہ گورکھ دھندہ چلتا رہا، تو اس کے پیچھے صرف نگرانی میں چوک ہی نہیں بلکہ یہ کارروائی کے لئے قوت ارادی کی کمی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے لائق تحسین کام کیا ہے، لیکن اس کی جانچ سی بی آئی کو سونپنے پر بھی غور کیا جانا چاہئے۔ یہ مان لینا نہایت بھولا پن ہوگا کہ سرکار کی ناک کے نیچے سارا کھیل صرف کچھ بچولئے اور کچھ ادنیٰ ملازمین کا تھا۔ کوئی چپڑاسی یا کلرک کیسے یہ جان سکتا ہے کہ وزارت کی کس فائل میں کیا ہے اور وزیر مالیات کی بجٹ تقریر کے کس حصے کو چراکر لانے سے منہ مانگی قیمت ملے گی؟ ظاہر ہے وزارت کے سینئر واقف کاروں کے آشیرواد کے بنا یہ ممکن نہیں تھا۔ اسی طرح صحافت کی آڑ میں جاسوسی کرنے والے اورانرجی کنسلٹینسی کو دھوکے کی نقاب پہنانے والے اس کرتوت گری میں معمولی بچولئے سے زیادہ کچھ نہیں تھے۔ کم و بیش یہ ہی رول پکڑے گئے چند کارپوریٹ گھرانوں کے افسران کا لگتا بھی ہے۔ اصل کھلاڑی تو کہیں دور بیٹھے اس گڑ بڑجھالے سے جڑے اپنے روابط جالوں کو تباہ کرنے میں لگے ہوں گے۔ مودی سرکار سے دیش کی توقعات ہے کہ وہ ان مگر مچھوں کے شکار میں جٹے گی۔ کارپوریٹ دنیا اور میڈیا کو بھی اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں کی پڑتال ضرور کرنی چاہئے۔ کہتے ہیں نہ ایک سڑی مچھلی پورے تالاب کو گندا کردیتی ہے اور یہ توبدبو پھیلاتی مچھلیوں کی پوری بارات ہی دکھائی دے رہی ہے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...