Translater

17 جنوری 2014

15 دنوں کا کیجریوال اینڈ سنز کا لیکھا جوکھا!

حالانکہ 15-20 دن کسی بھی حکومت کے لئے بہت کم وقت ہوتا ہے کچھ کر دکھانے اور اپنے ارادوں کو سامنے رکھنے کیلئے ۔ لیکن عام آدمی پارٹی سے جنتا کو ان 15 دنوں میں تھوڑی مایوسی ضرور ہورہی ہے۔ ایک کے بعد ایک تنازعے میں پھنستی جارہی ہے اروند کیجریوال کی سرکار سے افسر شاہ ہی نہیں بلکہ عام آدمی میں بھی الجھن کی حالت بنی ہوئی ہے۔ حال یہ ہے کہ سرکار کسی بھی کام کے لئے پہلے قدم بڑھاتی ہے اور پھر اپنے قدم واپس لے لیتی ہے اس لئے چند دنوں میں کیجریوال سرکار اپنے فیصلے کو پلٹ چکی ہے۔ فیصلے بدلنے کا یہ سلسلہ سرکار بننے کے پہلے دن سے ہی دکھائی دے رہا ہے۔ کچھ مثالیں ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرنے کا وعدہ، وزرا نے لیں گاڑیاں، سچیوالیہ میں میڈیا کے داخلے پرپابندی، دو گھنٹے میں واپس کیجریوال نے کہا فلیٹ میں رہوں گا پھر ڈپلیکس مکان قبول کیا۔ جنتا کے دباؤ میں اسے چھوڑا۔ نئے گھر کی تلاش ابھی جاری ہے۔666 لیٹرپانی مفت دینے کا اعلان، لیکن قیمت10 فیصدی بڑھا دی۔سڑک پر جنتا دربار لگایا ،اب کوئی دربار نہیں لگے گا۔ پہلے بولا سرکار عام آدمی کے بیچ جائے گی، اب کال سینٹر بنائیں گے۔بجلی کے دام آدھے کرنے کا اعلان، لیکن سبسڈی دے دی۔ ججوں کی میٹنگ بلانے کی کوشش، ہنگامے کے بعد منتری جی رکے۔ ایوان میں ممبر اسمبلی ٹوپی پہن کر پہنچے ،ہنگامے کے بعد ٹوپی اتر گئی۔ منتری راکھی برلا نے حملے کی رپورٹ درج کرائی، بچے کا خاندان دقت میں پھنسا،بعد میں کہا کہ حملہ نہیں تھا کرکٹ بال سے ٹوٹا شیشہ۔ پانی کے بلوں میں منمانی روکنے کے بجائے انہیں متنازعہ میٹروں کو لگانا شروع کردیا جنہیں کیجریوال نے خود فیل کیا تھا اور دعوی کیا گیا تھا یہ تو ہوا سے ہی چلتے ہیں۔ کرپشن ختم کرنے کے لئے اسٹنگ آپریشن شروع کردئے۔ جب چناؤ سے پہلے آپ نیتاؤں پر اسٹنگ آپریشن ہوئے تو انہیں مسترد کردیا اب اسی طرح کے اسٹنگ آپریشن کررہے ہیں۔ اب کرپشن روکنے کیلئے ہیلپ لائن شروع کی۔ بولے سبھی فون کالوں کا جواب ممکن نہیں، کہا سکیورٹی نہیں لیں گے لیکن پولیس بغیر بتائے دے رہے ہیں۔ پیر کو کئی محکموں میں اینٹی کرپشن چھاپہ مارنے کا دعوی، پھر بولے اسٹنگ اچھے نہیں تھے اس لئے چھاپہ نہیں پڑا۔ چناؤ سے پہلے بقایا بجلی کے بلی معاف کئے، پھر پلٹے ۔ کیجریوال خود بھی بار بار اس بات کو دوہرا چکے ہیں ان کی سرکار سے دہلی کی جنتا کو بہت امیدیں ہیں لیکن سرکار کے پہلے 15 روز میں ہیں جس طرح کیجریوال اپنے ہی فیصلوں کو پلٹ رہے ہیں اس سے عام آدمی میں تو غلط پیغام جا ہی رہا ہے ساتھ ہی افسروں کو بھی وزیر اعلی ارون کے وزرا کا کام کرنے کا طریقہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ حال یہ ہے تمام پالیسی ساز فیصلوں کو لیکر افسر بولنے کو تیار نہیں ہیں۔ آپ پارٹی کو سب سے بڑا چندہ دینے والے شانتی بھوشن، پرشانت بھوشن شاید اپنے آپ کو اروند کیجریوال اور آپ پارٹی سے اوپر سمجھتے ہیں۔ پچھلے15 روز میں پرشانت بھوشن نے دو ایسے متنازعہ بیان دئے جس سے کیجریوال کا گراف گرا ہے۔
پہلے تو انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہہ دیا اندرونی سکیورٹی کے معاملے میں اگر جموں و کشمیر سرکار ریفرنڈم کرا لے تو زیادہ اچھا رہے گا۔ اگر کشمیر کے لوگ چاہیں سکیورٹی کے لئے فوج کی تعیناتی نہ ہو تو بھارت سرکار کو رائے شماری کا احترام کرتے ہوئے وہاں سے فوج ہٹا لینی چاہئے۔ ابھی اس بے مطلب تبصرے پر واویلا رکا نہیں تھا کہ بھوشن نے نکسلی متاثرہ علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے لئے ریفرنڈم کرانے کی بات کہہ دی۔ پرشانت بھوشن نے کہا نکسلی متاثرہ علاقوں میں مرکزی اور نیم فوجی فورسز کی تعیناتی کے معاملے پر ریفرنڈم کرایا جانا چاہئے۔ ان کی ان مانگوں پر مچے ہنگامے کے سبب اروند کیجریوال کنارہ کرنے پر مجبور ہوگئے۔ انہوں ن ے کہا یہ پرشانت بھوشن کی ذاتی رائے ہوسکتی ہے پارٹی کی نہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ پرشانت بھوشن آخر کس حیثیت سے ایسے الٹے سیدھے بیان دے رہے ہیں؟ اروند کیجریوال نے یہ نہیں بتایا کے پرشانت بھوشن کی ’’آپ‘‘ پارٹی میں کیا حیثیت ہے۔ یا پھر ہم یہ سمجھیں کے یہ پارٹی کے ایجنڈے میں ہے جو بھوشن بول رہے ہیں؟ ابھی پرشانت بھوشن کا جھگڑا ختم نہیں ہوا تھا کہ کیجریوال اینڈ سنز ایک اور تنازعے میں پھنس گئے ہیں۔ دہلی کے وزیرقانون سومناتھ بھارتی پر پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں ایک معاملے کے دوران ثبوت سے چھیڑ چھاڑ کا الزام لگا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت کا ہے جب بھارتی اسٹیٹ بینک آف میسور کے وکیل ہواکرتے تھے۔ انہوں نے اپنے موکل جو کیس میں ملزم تھا ایک گواہ سے رابطہ قائم کر اس کی بات چیت ریکارڈ کی۔ کسی بھی گواہ سے ملزم کے وکیل کے ذریعے رابطہ قائم کرنا وکیل ایکٹ کے تحت ملی بھگت کا معاملہ بنتا ہے۔ پچھلے سال اگست میں سی بی آئی کے اسپیشل جج نے اس معاملے میں ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے پر سومناتھ بھارتی کو پھٹکار لگائی تی۔ معاملے میں سی بی آئی نے الزام لگایا تھا کہ گواہ سے فون پر بات کر انہیں متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے بعد جج نے بھارتی کے کلائنٹ کی ضمانت یہ کہتے ہوئے منسوخ کردی کہ انہوں نے کورٹ سے ملی چھوٹ کا فائدہ اٹھا کر گواہ کر توڑنے کی کوشش کی ہے۔ معاملہ ہائی کورٹ تک گیا اور فیصلہ بھارتی اور موکل کے خلاف گیا۔ اروند کیجریوال نے اپنے وزیر کا بچاؤ کرتے ہوئے کہا میں نے سومناتھ بھارتی اور پرشانت بھوشن سے بات کی ہے کوئی 100 کروڑ سے زیادہ کا معاملہ تھا جس میں فرضی خط میسور بینک میں دے کر نقدی دی گئی تھی۔ اس میں بڑے افسر بھی شامل تھے محض ایک چھوٹے افسر کو ہی پکڑا گیا تھا۔ اسی افسر نے ایک اسٹنگ کرلیا تھا اس اسٹنگ کی جانکاری کورٹ میں پیش کی گئی۔ انہوں نے کسی گواہ کو متاثر نہیں کیا بلکہ اسٹنگ آپریشن کرکے سچ سامنے لانے کی کوشش کی۔ اروند کیجریوال بیشک کچھ صفائی دیں لیکن ایسا داغی نیتا کیا ’’آپ‘‘کی سرکار میں وزیر قانون رہ سکتا ہے جس کے خلاف عدالتوں نے اعتراض آمیز ریمارکس دئے ہوں؟ کل ملاکر پچھلے15 دنوں کا اگر ہم لیکھا جوکھا دیکھیں تو اس سرکار اور خاص کر اروند کیجریوال کا گراف نیچے آرہا ہے۔ ایک طرف عام آدمی پارٹی لوک سبھا چناؤ کی تیاری کررہی ہے تو وہیں پارٹی کے اندر تضاد اور تنازعات سے پارٹی حاشئے پر آگئی ہے۔ مختلف نظریات کے لوگ ایک اسٹیج پر آنے کے سبب کیجریوال کو اپنی جاڑو پہلے پارٹی کے اندر ہی چلانی پڑ سکتی ہے۔ مبصروں کو لگتا ہے کہ ’’آپ‘‘ ایک ایسی پارٹی کے طور پر دکھائی دے رہی ہے جس میں کبھی بھی دھماکہ ہوسکتا ہے۔ جے رام رمیش نے کہا تھا کہ ’’آپ‘‘ پارٹی نہیں بلکہ یہ الگ الگ نظریات کے لوگوں کا ایک پلیٹ فارم ہے۔ پارٹی میں ایسے لوگ جگہ بناتے جارہے ہیں جس سے پارٹی کی مقبولیت کا فائدہ اٹھاکر اپنی سیاسی خواہشات پوری کرنا چاہتے ہیں۔ ’’آپ‘‘ کو ووٹ دینے والوں کا کیجریوال اینڈ سنز سے بڑی تیزی سے بھروسہ اٹھ رہا ہے۔ دیکھیں کیجریوال اس گرتے گراف کو لگام لگا پاتے ہیں یا نہیں؟
(انل نریندر)

16 جنوری 2014

نہرو گاندھی کنبہ پرستی کے خاتمے کیلئے آئے امیٹھی: کمار وشواس

1998ء کے چناؤ کو چھوڑ کر تقریباً تین دہائی سے کانگریس کی آندھی دیکھتی آئی امیٹھی نے ایتوار کو ہوا کا رخ بدلتا دیکھا۔ جس امیٹھی کی طرف بڑے بڑے سرکردہ لوگوں نے دیکھنے تک سے گریز کیا وہیں سال بھر پرانی عام آدمی پارٹی چناؤ نتیجوں سے بے پرواہ اپنی جڑیں جمانے کی جدوجہد میں لگتی دکھائی دی۔ آپ کے بڑے نیتاؤں کو لیکر ورکروں تک اس بات کا احساس کرانے میں کچھ حدتک کامیاب رہے۔ نتیجہ کچھ بھی ہووہ رکنے والا نہیں۔ 1977ء میں سنجے گاندھی کے چناؤ میدان میں اترنے کے بعد امیٹھی کو قومی پہچان ملی تھی۔ اس چناؤ میں ہار ملنے کے باوجود سنجے گاندھی نے علاقہ نہیں بدلا اور امیٹھی کی جنتا نے انہیں 1980ء میں بھاری ووٹ سے جتادیا۔ اس کے ساتھ شروع ہوا کانگریس کی فتح کا سلسلہ اور جنتادل پردھان شرد یادو ، مینکا گاندھی، بسپا کے بانی کانشی رام، مہاتما گاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی تک کو امیٹھی میں ہار کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ ایتوار کو اپنے پہلے دورہ میں ہی بھاری احتجاج کے درمیان عام آدمی پارٹی کے نیتا کمار وشواس راہل گاندھی کے گڑھ میں سیندھ لگانے امیٹھی پہنچے۔ وشواس نے ’جینا یہاں مرنا یہاں کی با ت کہہ کر صاف کردیا کہ وہ کالے جھنڈے اور ڈنڈے سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ رام لیلا میدان میں منعقدہ ریلی میں کئی باتیں ایسی کہیں جو کانگریس لیڈر شپ ، خاص کر کانگریس صدر سونیا گاندھی اور نائب صدر راہل گاندھی کو بہت چبھنے والی ہیں۔ ریلی کی جگہ تک پہنچے کی راہ میں بھاری احتجاج کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وشواس نے کہا کہ آخر ایسی بے چینی کیا ہوگئی ہے کہ انڈے پھینک رہے ہیں، ڈنڈے مار رہے ہیں۔ کمار وشواس واپس جاؤ کے نعرے لگا رہے ہیں۔ جہاں کہئے اکیلے جانے کو تیار ہوں۔ اگر مجھے مارنے سے دل ٹھنڈا ہو جائے تو اس کے لئے بھی تیار ہوں۔ انہوں نے آگے کہا کیا امیٹھی دیش کے باہر ہے کے یہاں آنے والوں کو پاسپورٹ ضروری ہے؟ وشواس نے کہا کہ آپ لوگوں نے بہت سے نوجوانوں ،مہاراجاؤں اور مہارانیوں کو جتایا ہے امیٹھی کے لئے انہیں کیا کیا؟ برسوں پہلے اعلان کردہ ترقیاتی اسکیمیں ادھوری پڑی ہیں۔ سڑکوں کا برا حال ہے۔ ایک بار صحیح بٹن دباکر نوکر چن کر دیکھئے۔ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں، ہم نے ہی مہارانی (سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا)کے کرپشن کا انکشاف کیا ۔ راہل کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ 10 سال میں انہوں نے لوک سبھا میں امیٹھی کے بارے میں ایک سوال تک نہیں اٹھایا۔ ٹو جی گھوٹالہ، کوئلہ الاٹمنٹ گھوٹالہ جیسے معاملوں پر خاموش رہے۔ جب دیش پریشانی میں تھا تو وہ اسپین میں تھے۔ دہلی میں کیجریوال پر سیاہی پھینکی گئی مگر لوگوں نے سیاہی پھینکنے والوں پر ہی سیاہی اونڈیل دی۔ بینی پرساد ورما کے ذریعے جوکر کہے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کمار وشواس نے بہت سنجیدہ انداز میں جواب دیا اور کہا جوکر تو لوگوں کے چہرے پر مسکان لاتا ہے کم سے کم دیش تو نہیں بیچتا۔ ونش واد(کنبہ پرستی) کے خلاف تلخ حملہ کرتے ہوئے کمار وشواس نے کہا کہ وہ کوئی اکیلا حملہ نہیں تھا یہ تو ’آپ‘ پارٹی کا پالیسی ساز فیصلہ ہے۔چندی گڑھ میں ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے آپ پارٹی کے نیتا یوگیندر یادو نے کہا کہ دیش کی سیاست میں خاندانی دوکانیں چل رہی ہیں۔ پنجاب میں بادل اینڈ سنز،ہریانہ میں بھجن لال اینڈ سنز، چوٹالہ اینڈ سنز، یوپی میں ملائم اینڈ سنز کی دوکانیں کھلی ہیں تو مرکز میں سنز ہی نہیں سن ان لو کی بھی دوکان چل رہی ہے۔ اب لوگوں کو چاہئے کہ وہ نیتاؤں کو نیچے بٹھا کر یہ کنبہ پرستی کی روایت کا خاتمہ کرے اور نیتاؤں کو آگے نہیں پیچھے لگاؤ۔ اس سے ان کا دماغ خراب نہیں ہوگا۔ ہماری رائے میں نہرو ۔گاندھی پریوار پر اس سے زیادہ تلخ حملہ کرنے کی آج تک شاید ہی کسی نے جرأت دکھائی ہو۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ اسطرح کے تلخ حملے کانگریس کب تک سہے گی؟ دہلی میں ’آپ‘ کی سرکار کانگریس کی حمایت پر ٹکی ہوئی ہے۔ عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ یہ نوٹنکی ہے، ملی بھگت ہے لیکن اگر آپ پارٹی اس طرح سے نہرو گاندھی پریوار کے خلاف اس سطح کے حملے کرے گی تو کانگریس کیا چپ بیٹھے گی؟ یہ ہنی مون جلد ختم ہوسکتا ہے اور یہ بات کیجریوال اینڈ کمپنی بھی جانتی ہے اس لئے وہ اپنے ترکش سے سارے تیر چھوڑ رہے ہیں۔ دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے؟ آخر میں وشواس نے سونیا گاندھی کے ذریعے بیرون ملک علاج کرائے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے طنز کیا کہ امریکہ کے صدر براک اوبامہ کا چیف میڈیکل افسر ہندوستانی ہے۔ مگر سونیا جی کو بھارت کے بیٹوں پر بھروسہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا اٹل جی نے اپنا پیچیدہ آپریشن (گھٹنے کا) دہلی میں ہی کروایا مگر سونیا جی کو بھارت کے بیٹوں پر بھروسہ نہیں ہے تو دیش کو ان کے بیٹے پر کیسے بھروسہ ہوگا؟
(انل نریندر)

سابق داخلہ سکریٹری آر ۔کے سنگھ کے وزیر داخلہ شندے پر سنگین الزام!

سابق داخلہ سکریٹری آر۔ کے سنگھ نے مرکزی وزیرداخلہ سشیل کمار شندے پر کافی سنگین الزام لگائے ہیں۔ پچھلے مہینے بھاجپا میں شامل ہونے کے بعد آر۔ کے سنگھ نے سشیل کمار شندے پرسنسنی خیز الزام لگایا ہے کہ انہوں نے دہلی پولیس کو انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کے قریبی مانے جانے والے ممبئی کے صنعت کار سے پوچھ تاچھ کرنے سے روک دیا تھا۔ انہوں نے وزیر داخلہ پر نہ صرف جھوٹ بولنے کا الزام لگایا بلکہ یہ بھی کہا کہ شندے نے مافیہ ڈان داؤد ابراہیم کے قریبی ٹوجی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھوٹالے کے ملزم شاہد عثمان بلوا سے پوچھ تاچھ کے لئے سکیورٹی و جانچ ایجنسیوں کو روکا تھا۔ کچھ چینلوں کو دئے گئے انٹرویو میں آر ۔ کے سنگھ نے کہا کہ دہلی پولیس آئی پی ایل اسپاٹ فکسنگ معاملے میں ممبئی کے صنعت کار شاہد عثمان بلوا سے داؤد کے رشتوں کے بارے میں پوچھ تاچھ کرنا چاہتی تھی لیکن شندے نے دہلی پولیس کو ایسا کرنے سے روک دیا۔ راجکمار سنگھ کے مطابق بلوا کو لیکر انٹیلی جنس بیورو نے داؤد سے تعلق ہونے کا اندیشہ جتایا تھا۔ بلوا پہلے ہی ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کا ملزم ہے اور سی بی آئی اسے گرفتار بھی کر چکی ہے۔ دہلی پولیس نے اپنی چارج شیٹ میں اسپاٹ فکسنگ کے لئے داؤد کو بھی ملزم بنایا ہے اور اس سلسلے میں اس نے سٹوریوں سے داؤد کی بات چیت کے ٹیپ بھی پیش کئے۔ چینلوں پر آر۔ کے سنگھ یہیں نہیں رکے اور بولے کے وزیر داخلہ کے دفتر سے پولیش کمشنر کے پاس ایس ایچ او کی تعیناتی تک چٹ جاتی تھی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس بارے میں اس وقت کے پولیس کمشنر نیرج کمارنے جانکاری دی تھی اور بتایا تھا کہ تھانے میں ایس ایچ او کی تعیناتی کے لئے وزیر داخلہ کے گھر سے ان کے اسٹاف کے ذریعے پرچیاں دی جاتی تھیں۔ سنگھ نے کہا کہ انہوں نے اس طرح کی پرچیاں خود اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں۔ آر۔ کے سنگھ نے تو شندے کے داؤد کو بھارت لانے کے دعوے کی بھی ہوا نکال دی ہے۔ شندے پچھلے چھ مہینے میں چار بار داؤد کے پاکستان میں چھپے ہونے اور امریکہ کی مدد سے جلد لانے کا بیان دے چکے ہیں۔ سنگھ کے مطابق وزیرداخلہ کے ساتھ امریکہ گئے نمائندہ وفد میں وہ خود بھی شامل تھے جس میں ایف بی آئی کے ساتھ داؤد کے بارے میں بات چیت ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا امریکی جانچ ایجنسی ایف بی آئی نے داؤد کو بھارت لانے میں مدد کرنے کا کوئی بھروسہ نہیں دلایا تھا۔ پچھلے مہینے بھاجپا کی ممبر شپ حاصل کرنے کے بعد سابق داخلہ سکریٹری کے شندے کے ساتھ اپنے اختلافات پر کئی بار بول چکے ہیں۔ پچھلے جمعہ کو ماہانہ پریس کانفرنس کے دوران شندے نے بھی سنگھ کے ساتھ اختلافات کو قبول کیا تھا۔ بہرحال سابق داخلہ سکریٹری کے الزام کافی سنگین ہیں اور آزاد بھارت کی تاریخ میں اس عہدے سے رخصت پائے کسی افسر نے کسی وزیرپر اب تک اتنا بڑا الزام نہیں منڈھا ہے۔ جب سابق پولیس کمشنر نیرج کمار سے ان الزامات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اتنا ہی کہا یہ دو نیتاؤں کا کھیل ہے۔ میں اس کھیل میں کہیں نہیں ہوں۔ وہ کھیلتے رہیں اپنا کھیل میں اتنا جانتا ہوں کہ میں نے اپنا کام ایمانداری سے کیا ہے۔ عہدے پر کام خفیہ ہوتا ہے میچ فکسنگ آپریشن بیحد خفیہ طریقے سے کیا گیا تھا۔ ہم نے اپنا کام کیا اب لوگ اپنا کام کریں۔ منگلوار کو وزیر اطلاعات و نشریات منیش تیواری نے کہا سنگھ پہلے کیوں نہیں بول جب وہ نوکری میں تھے اور سیاسی پارٹی میں شامل نہیں ہوئے تھے؟ میرا خیال ہے کہ انتہائی افسوس کا موضوع ہے۔ ریٹائرڈ ہونے کے بعد افسر شاہوں میں یہ ٹرینڈ بہت ہی خطرناک ہے جو کے میڈیا میں جگہ بنانے کیلئے الزام لگاتے ہیں۔
(انل نریندر)

15 جنوری 2014

شندے کا ’ٹرائل بیلون‘: پوار فار پی ایم

ہمیں تعجب نہیں ہوا جب مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے کہا کہ وہ نیشنل کانگریس پارٹی چیف شردپوار کو وزیر اعظم بنتا دیکھ خوش ہوں گے۔ انہوں نے مراٹھی اخبار کے مدیروں کے ساتھ بات چیت میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ کہا کہ ان کے سبب سیاست میں آیا ہوں انہوں نے مراٹھا لیڈر کو اپنا سیاسی گورو مانتے ہوئے کہا ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے ۔ وہ1992 سے ہی کوشش کررہے ہیں ہمیں تعجب اس لئے نہیں ہوا کے کانگریس پارٹی کے اندر لوک سبھا چناؤ 2014 ء کو لیکر اتھل پتھل جاری ہے۔ راہل گاندھی کی لیڈر شپ کو لیکر بہت سے سینئر کانگریسی لیڈر الجھن میں ہیں۔حالت ایسی بنتی جارہی ہے کے نہ تو راہل کو نگلتے بات بن رہی ہے اور نہ ہی اگلتے۔ کانگریس میں صرف سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی میں سے کسی ایک کی لیڈر شپ قابل قبول ہے۔ ایسے میں زیادہ تر مانیں یا نہ مانیں اپنے آپ کو اقتدار کی دوڑ سے باہر مان رہے ہیں اس لئے وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے یہ ’ٹرائل بیلون ‘ چھوڑا ہے۔ یہ بھی پکا ہے کہ وہ اس سے پلٹ جائیں گے اور ہوا بھی ایسا ہی۔ بیان سے مچے واویلے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد وزیر موصوف نے پلٹی کھائی اور انہوں نے صفائی دیتے ہوئے بعد میں کہا راہل گاندھی کو پی ایم بنانا ان کا بنیادی مقصد ہے۔ میرے بیان کا غلط مطلب نکالا گیا۔ شرد پوار میرے اچھے دوست ہے اور وہ مہاراشٹر کے بڑے نیتا ہیں اس ناطے سے میں نے ایسا کہہ دیا تھا۔ مرکزی وزیر مملکت ذراعت اور نیشنل کانگریس پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری طارق انور نے صاف کیا کے ان کی پارٹی کے سربراہ مرکزی وزیر شرد پوار پی ایم کی دوڑ میں شامل نہیں ہیں۔ شندے کے بیان کے بارے میں طارق انور نے کہاکہ شندے صاحب نے غیر رسمی طور پر ایسی بات کہی ہوگی کے پوار میں پی ایم بننے کی ساری صلاحیتیں ہیں۔ کیونکہ سیاست کے میدان میں جتنا لمبا تجربہ انہیں ہے دیش میں شاید ہی کسی نیتا کو ہوگا۔طارق کا کہنا تھا کے لوک سبھا میں صحیح معنوں میں کھیل نمبروں کا ہوتا ہے جو ان کے پاس نہیں ہیں۔ کانگریسی لیڈر اور وزیر داخلہ کے ذریعے دئے گئے ایک بیان پر شری شردپوار نے کیا تبصرہ کیا جانتے ہیں۔ ایتوار کی صبح ایک اخباری کانفرنس میں اس اشو پر پوچھے جانے پر پوار کا کہنا تھا یہ موقعہ کرشی بسنت نمائش کے بارے میں اعلان کرنے کا ہے اور میں لوک سبھا چناؤ نہیں لڑ رہا اس لئے کوئی تبصرہ نہیں اور ’نو کمینٹنس‘ کا سیاسی مطلب ہوتا ہے میرے سارے متبادل کھلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میں شندے کے بیان سے متفق نہیں ہوں گے اور نہ ہی وزیر اعظم کی دوڑ میں شامل ہوں۔ یہ کہنا ہے کہ میں لوک سبھا چناؤ نہیں لڑ رہا، یہ معاملے کو ٹالنے کی کوشش ہے۔کل کو پارٹی و اپنے ورکروں کے دباؤ میں وہ چناؤ لڑنے کو تیار بھی ہوجائیں گے؟ دلچسپ تبصرہ تو بھاجپا کے ترجمان پرکاش جاوڑیکر کا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ لگتا ہے اب کسی کانگریس کے وزیر اعظم بننے کاامکان نہیں ہے اس لئے شندے اب شرد پوار کو آگے لانے میں لگے ہوئے ہیں۔ مگر شندے کو اس بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی دیش کی واحدپسند ہیں۔ لوگ مودی کی اقتصادی ترقی صحیح معنوں میں انصاف اور توقعات کی تکمیل کی امید لگائے ہوئے ہیں۔ جاوڑیکر نے کہا کانگریس نیتاؤں کو اب پارٹی نائب صدر راہل گاندھی پر بھی بھروسہ نہیں رہا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب کانگریس کے لیڈر یوپی اے کی اتحادی پارٹیوں میں پی ایم امیدوار تلاشنے میں لگے ہیں۔
(انل نریندر)

عشرت آتنکی تھی یا نہیں؟ سی بی آئی اور آئی بی آمنے سامنے

گجرات میں فرضی مڈبھیڑ میں ماری گئی 26 سالہ عشرت جہاں کی اصلی پہچان حکومت نے اتنے برسوں بعد بھی واضح نہیں کی ہے۔ 15 جون2004ء کو جاوید ، امجد علی اور ذیشان گوہر نام کے تین مبینہ آتنک وادیوں کے ساتھ عشرت جہاں کی فرضی مڈبھیڑ میں ہتیا کردی گئی تھی۔ اس مڈ بھیڑ کو انجام دینے والی گجرات پولیس کے مطابق نریندر مودی کے قتل کے مقصد سے یہ تینوں آئے تھے لیکن معاملے کی جانچ میں پتہ چلا کہ پولیس نے خفیہ ایجنسیوں اور آئی بی کی گجرات برانچ کی مدد سے چاروں کو مہینے بھر پہلے اغوا کر رکھا تھا اور انہیں آتنک وادی ثابت کرنے کے لئے ان کی لاشوں کے پاس اے کے 56 جیسے خطرناک ہتھیار رکھ دئے گئے تھے۔ سی بی آئی کی پہلی چارج شیٹ کے مطابق ہتھیار آئی بی نے مہیا کرایا تھا۔ پورے واقعہ میں تین لڑکوں کے آتنکی ہونے پر کوئی سوال کھڑا نہیں ہوالیکن سی بی آئی کے ساتھ تمام ایجنسیاں اس نتیجے پر نہیں پہنچ پائیں ہیں کے عشرت جہاں آتنکی تھی یا نہیں؟ اب تک کی جانچ کے مطابق عشرت جہاں جاوید کے ساتھ کام کیا کرتی تھی اور کام کے سلسلے میں وہ جاوید کے ساتھ ممبئی سے باہر جایا کرتی تھی۔ آئی بی کا خیال ہے کہ اگر عشرت کو ان تینوں کے ساتھ نہیں مارا جاتا تو یہ معاملہ اتنا طول نہیں پکڑتا۔ ادھر معاملے کی جانچ کررہی سی بی آئی عشرت جہاں کو آتنکی نہ قرار دینے کا من بنا چکی ہے لیکن آخری فیصلے سے پہلے ایجنسی کو سرکار کی ہری جھنڈی کا انتظار ہے۔ وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے ایک ہندی اخبار ’امر اجالا‘‘ سے کہا کہ عشرت کے آتنک وادی ہونے یا نہ ہونے سے متعلق اتنا بڑا سوال ہے کہ وہ کھلے طور پر اس کا جواب نہیں دے سکتے اس لئے چھ مہینے سے وزیر داخلہ اس سوال کو ٹالتے رہے ہیں۔ عشرت کے سوال پر شندے نے بس اتنا کہا کہ نیتا اور وزیر سیاسی رنگ منچ پر اور اس کے پیچھے ایک ساتھ کئی رول نبھاتے رہتے ہیں۔ عشرت جہاں کو لیکر مرکزی سرکار بھلے ہی خاموشی اختیار کرلے لیکن اندر کی خبر یہ ہے کہ سی بی آئی عشرت کو آتنکی تنظیم لشکر طیبہ سے جوڑ کر نہیں دیکھ رہی ہے۔ سی بی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی فاضل چارج شیٹ میں عشرت کو آتنک وادی قرار دینے نہیں جارہی ہے۔ عشرت اور اس کے تین ساتھیوں کے فرضی مڈ بھیڑ پر فاضل چارج شیٹ جلد دائر کرنے والی ہے اس میں آئی بی کے سابق جوائنٹ ڈائریکٹر راجکمار کو بھی قتل اور سازش کا ملزم بنانے کافیصلہ کیا جاچکا ہے۔ کمار کے علاوہ آئی بی کے تین اور افسروں راجیو وانکھڑے، ایم کے متل اور سنیل سنہا کا نام بھی شامل کئے جانے کا امکان ہے۔ سی بی آئی کے مطابق گجرات ریاستی آئی بی برانچ کے حکام نے سابق ڈی آئی جی بنجارا کے ساتھ مل کر عشرت اور اس کے تین ساتھیوں کو فرضی مڈ بھیڑ میں مار ڈالا تھا۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے آتنک وادی ثابت کرنے کے لئے ان کی لاشوں کے پاس ناجائز طور پر اے کے ۔56 جیسے خطرناک ہتھیار رکھ دئے تھے۔ 15 جون2004 ء کی اس مڈ بھیڑ کی انتظامی رپورٹ کے مطابق مارے گئے تین لڑکوں میں سے دو پاکستانی ہیں۔ مڈ بھیڑ پر مچے واویلے کے درمیان ممبئی کے کسی علاقے میں رہنے والی 19 سالہ عشرت کی اصلی پہچان پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ سی بی آئی کا دعوی ہے اسے عشرت کے آتنکی ہونے کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں حالانکہ ایک جانچ افسر نے دعوی کیا کے امریکہ جیل میں بند آتنکی ڈونالڈ ہیڈلی نے کہا تھا کہ عشرت لشکر کی ممبر ہے اور اس نے یہ مانا تھا کہ عشرت اس کی ممبر تھی۔ اتنے تنازعے کے بعد بھی آج تک سرکار نے عشرت کی اصلیت پر خاموشی اختیارکی ہوئی ہے اور اس کیس کو لیکر سی بی آئی اور آئی بی آمنے سامنے آگئی ہیں۔
(انل نریندر)گجرات میں فرضی مڈبھیڑ میں ماری گئی 26 سالہ عشرت جہاں کی اصلی پہچان حکومت نے اتنے برسوں بعد بھی واضح نہیں کی ہے۔ 15 جون2004ء کو جاوید ، امجد علی اور ذیشان گوہر نام کے تین مبینہ آتنک وادیوں کے ساتھ عشرت جہاں کی فرضی مڈبھیڑ میں ہتیا کردی گئی تھی۔ اس مڈ بھیڑ کو انجام دینے والی گجرات پولیس کے مطابق نریندر مودی کے قتل کے مقصد سے یہ تینوں آئے تھے لیکن معاملے کی جانچ میں پتہ چلا کہ پولیس نے خفیہ ایجنسیوں اور آئی بی کی گجرات برانچ کی مدد سے چاروں کو مہینے بھر پہلے اغوا کر رکھا تھا اور انہیں آتنک وادی ثابت کرنے کے لئے ان کی لاشوں کے پاس اے کے 56 جیسے خطرناک ہتھیار رکھ دئے گئے تھے۔ سی بی آئی کی پہلی چارج شیٹ کے مطابق ہتھیار آئی بی نے مہیا کرایا تھا۔ پورے واقعہ میں تین لڑکوں کے آتنکی ہونے پر کوئی سوال کھڑا نہیں ہوالیکن سی بی آئی کے ساتھ تمام ایجنسیاں اس نتیجے پر نہیں پہنچ پائیں ہیں کے عشرت جہاں آتنکی تھی یا نہیں؟ اب تک کی جانچ کے مطابق عشرت جہاں جاوید کے ساتھ کام کیا کرتی تھی اور کام کے سلسلے میں وہ جاوید کے ساتھ ممبئی سے باہر جایا کرتی تھی۔ آئی بی کا خیال ہے کہ اگر عشرت کو ان تینوں کے ساتھ نہیں مارا جاتا تو یہ معاملہ اتنا طول نہیں پکڑتا۔ ادھر معاملے کی جانچ کررہی سی بی آئی عشرت جہاں کو آتنکی نہ قرار دینے کا من بنا چکی ہے لیکن آخری فیصلے سے پہلے ایجنسی کو سرکار کی ہری جھنڈی کا انتظار ہے۔ وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے ایک ہندی اخبار ’امر اجالا‘‘ سے کہا کہ عشرت کے آتنک وادی ہونے یا نہ ہونے سے متعلق اتنا بڑا سوال ہے کہ وہ کھلے طور پر اس کا جواب نہیں دے سکتے اس لئے چھ مہینے سے وزیر داخلہ اس سوال کو ٹالتے رہے ہیں۔ عشرت کے سوال پر شندے نے بس اتنا کہا کہ نیتا اور وزیر سیاسی رنگ منچ پر اور اس کے پیچھے ایک ساتھ کئی رول نبھاتے رہتے ہیں۔ عشرت جہاں کو لیکر مرکزی سرکار بھلے ہی خاموشی اختیار کرلے لیکن اندر کی خبر یہ ہے کہ سی بی آئی عشرت کو آتنکی تنظیم لشکر طیبہ سے جوڑ کر نہیں دیکھ رہی ہے۔ سی بی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی فاضل چارج شیٹ میں عشرت کو آتنک وادی قرار دینے نہیں جارہی ہے۔ عشرت اور اس کے تین ساتھیوں کے فرضی مڈ بھیڑ پر فاضل چارج شیٹ جلد دائر کرنے والی ہے اس میں آئی بی کے سابق جوائنٹ ڈائریکٹر راجکمار کو بھی قتل اور سازش کا ملزم بنانے کافیصلہ کیا جاچکا ہے۔ کمار کے علاوہ آئی بی کے تین اور افسروں راجیو وانکھڑے، ایم کے متل اور سنیل سنہا کا نام بھی شامل کئے جانے کا امکان ہے۔ سی بی آئی کے مطابق گجرات ریاستی آئی بی برانچ کے حکام نے سابق ڈی آئی جی بنجارا کے ساتھ مل کر عشرت اور اس کے تین ساتھیوں کو فرضی مڈ بھیڑ میں مار ڈالا تھا۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے آتنک وادی ثابت کرنے کے لئے ان کی لاشوں کے پاس ناجائز طور پر اے کے ۔56 جیسے خطرناک ہتھیار رکھ دئے تھے۔ 15 جون2004 ء کی اس مڈ بھیڑ کی انتظامی رپورٹ کے مطابق مارے گئے تین لڑکوں میں سے دو پاکستانی ہیں۔ مڈ بھیڑ پر مچے واویلے کے درمیان ممبئی کے کسی علاقے میں رہنے والی 19 سالہ عشرت کی اصلی پہچان پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ سی بی آئی کا دعوی ہے اسے عشرت کے آتنکی ہونے کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں حالانکہ ایک جانچ افسر نے دعوی کیا کے امریکہ جیل میں بند آتنکی ڈونالڈ ہیڈلی نے کہا تھا کہ عشرت لشکر کی ممبر ہے اور اس نے یہ مانا تھا کہ عشرت اس کی ممبر تھی۔ اتنے تنازعے کے بعد بھی آج تک سرکار نے عشرت کی اصلیت پر خاموشی اختیارکی ہوئی ہے اور اس کیس کو لیکر سی بی آئی اور آئی بی آمنے سامنے آگئی ہیں۔
(انل نریندر)

14 جنوری 2014

کیا کیجریوال ۔مودی فار پی ایم+ 272 کی اسکیم کو روک سکیں گے؟

2014 لوک سبھا چناؤ میں بمشکل تین مہینے بچے ہیں ایسے میں بھاجپا، کانگریس اور آپ نے اپنی اپنی تیاریاں تیز کردی ہیں۔ موجودہ سیاسی حالات میں اصل لڑائی بھاجپا بنام دیگر ہوتی جارہی ہے۔باقی پارٹیوں میں خاص طور سے آپ اور کانگریس کو شامل کرتا ہوں۔ میں علاقائی پارٹیوں کی بات نہیں کررہا ہوں۔ قومی سطح پر بھاجپا اور آپ میں مقابلہ ہوسکتا ہے۔ فی الحال اس دوڑ میں میں کانگریس کو ریس سے باہر مان رہا ہوں۔کل کو یہ حالت بدل بھی سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں مجھے نہیں لگتا کہ کانگریس 2014ء لوک سبھا چناؤ میں ایک بڑی کھلاڑی ہے۔ سب سے اہم سوال ہے کہ کیا آپ پارٹی اور اروند کیجریوال نرینادر مودی اور بھاجپا کو اقتدار میں آنے سے روک سکتے ہیں؟ پچھلے دنوں انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا نے ایک سروے شائع کیا تھا اس کے مطابق58 فیصدی لوگوں کی بطور اگلے وزیر اعظم کے طور پر نریندر مودی پسند یدہ ہیں۔ اروند کیجریوال 25 فیصدی لوگوں کی پسند ہیں، راہل گاندھی 14 فیصدی لوگوں کی پسند تھے۔ سبھی کا خیال تھا کہ آپ پارٹی کو کانگریس کی اینٹی کمبینسی ووٹ کا سیدھا فائدہ ملے گا اور یہ نقصان بھاجپا کو ہوگا یعنی کانگریس کے خلاف جو ووٹ پڑے گا اگر آپ نہ ہوتی تو اس کا سارا فائدہ بھاجپا کو مل جاتا جو اب آپ پارٹی اور بھاجپا میں تقسیم ہوتا نظر آرہا ہے آج آپ پارٹی اور اروند کیجریوال کے حق میں زبردست ہوا چل رہی ہے۔ا س میں کوئی دو رائے نہیں ہے اس ہوا کا پورا فائدہ بھی اٹھانے کے چکر میں ہیں۔ دہلی میں زبردست کامیابی سے گدگد عام آدمی پارٹی نے گذشتہ جمعہ سے ملک گیر ممبر شپ مہم شروع کردی ہے۔ آپ نے 16 جنوری تک کم سے کم 1 کروڑ ممبر بنانے کا نشانہ رکھا ہے۔ آپ کی ممبر شپ کے لئے پارٹی نے10 روپے کی فیس بھی ختم کردی ہے۔ خصوصی ممبر سازی مہم کی ذمہ داری سنبھال رہے پارٹی لیڈر گوپال رائے نے کہا کہ دہلی اسمبلی چناؤ کے بعد پارٹی کو 3 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے آن لائن اپنا رجسٹریشن کرایاہے اور آپ کی ممبر شپ حاصل کرنے کے لئے آپ مس کال سے بھی ممبر شپ حاصل کرسکتے ہیں۔ آپ کی ویب سائٹ پر بھی آن لائن فارم بھرنے کا متبادل ہے۔ عام آدمی پارٹی نے لوک سبھا چناؤ لڑنے کے لئے کم سے کم 250 کروڑ روپے کا چندہ اکٹھا کرنے کا نشانہ رکھا ہے۔ پارٹی نے لوک سبھا کی309 سیٹوں پر چناؤ لڑنے کا من بنا لیا ہے اس کے لئے سوا سو کروڑ روپے کی ضرورت ہوگی۔ اب بات کرتے ہیں بھارتیہ جنتا پارٹی اور ان کے مشن+272 کی۔ لوک سبھا چناؤ میں اپنے مشن کی کامیابی کو اب بھاجپا ’’آپ‘‘ کی سفید ٹوپی کو ٹکر دینے کے لئے پارٹی ورکروں کو جن سنگھ کے زمانے کی بھگوا ٹوپی پہنانے کی تیاری کررہی ہے۔ ’’آپ‘‘ کی سفید ٹوپی کا آئیڈیا نیا نہیں ۔ جنگ سنگھ اور آر ایس ایس برسوں سے ٹوپی پہنتی آرہی ہے۔ کانگریس بھی ٹوپی کا استعمال کرتی رہی ہے یہ مہم بھاجپا نچلی سطح پر12 جنوری سے’’ مودی فار پی ایم‘ ‘کے نام سے چلائی جائے گی۔ بھاجپا پارلیمانی بورڈ کی جمعہ کو دو گھنٹے چلی میٹنگ میں پارٹی کی 17-19 جنوری تک ہونے والی دہلی میں قومی ایگزیکٹو اور قومی کونسل کی حکمت عملی پر بحث ہوئی جس میں کہا گیا کہ بھاجپا کو+272 مہم کے لئے زمین سے جڑے ورکروں کے ساتھ زیادہ جوڑا جائے گا۔ یہ سچائی ہے کہ دہلی اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کے ذریعے زمینی ورکروں کو نظرانداز کرنا بہت بھاری پڑا ہے۔ مجھے کئی ورکروں نے بتایا کے اگر انہیں بھروسے میں لیا جاتا تو یقینی طور سے وہ جی جان لگاکر پانچ یا چھ سیٹیں اور زیادہ جتوا سکتے تھے۔ لیکن بڑے نیتاؤں نے زمینی سطح کے وفادار لیڈروں کو سرگرم کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی۔ اگر لوک سبھا چناؤ میں بھی یہ ہی رویہ اپنایا گیا تو ہمیں نہیں لگتا کے مشن+272 کو حاصل کرنے میں پارٹی کامیاب ہوگی۔ اگر زمینی ورکروں کو بھروسہ دلایا گیا تو یقینی طور سے وہ آخری مورچے تک ووٹروں کو بیدار کر اس کی حمایت جٹائیں گے۔میٹنگ کے بعد پارلیمانی بورڈ کے سکریٹری اننت کمار نے ’’آپ ‘‘ کو لیکر بڑی پارٹی کی تشویشات سے بچتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے ایک ہی چنوتی ہے کہ مودی کی لیڈر شپ میں 272 سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنا۔ اس کے لئے بھاجپا حکمراں ریاستوں کی زیادہ تر سیٹیں حاصل کرنی ہوں گی۔ ہمارے سامنے کانگریس ہی نہیں ہے اس کے میدان سے باہر ہونے سے خالی ہوئی جگہ کو بھاجپا کو بھرنا ہی ہوگا۔ شمالی ہندوستان میں بھاجپا حکمراں سیٹوں سے کام نہیں چلے گا۔ اترپردیش ،بہار، کرناٹک، مغربی بنگال، آندھرا پردیش وغیرہ ریاست بھی اہمیت کی حامل ہوں گی۔ ان میں سے بھی بھاجپا کو اچھی سیٹیں لانی ہوں گی یا پھر اپنی اتحادی پارٹیوں کے ذریعے سے اپنی سیٹیں بڑھانی ہوں گی۔ کرناٹک میں یدی یرپا کے واپس آنے سے پارٹی کو ریاست میں مضبوطی ملے گی۔ کیرل جیسی ریاست میں بھی بھاجپا کی موجودگی پہلے سے ہی ہے۔ ایک اور اہم قدم بھاجپا کو اٹھانا ہوگا انہیں دہلی کی ایم سی ڈی میں کرپشن سے پاک ماحول بنانا ہوگا۔ جس دھرے پر یہ تینوں ایم سی ڈی چل رہی ہیں اس سے پارٹی کی قومی سطح پر ساکھ خراب ہوتی ہے اور جنتا کو یہ کہنے کا موقعہ ملتا ہے کہ بھاجپا اپنے گھر میں تو شفاف انتظامیہ دے نہیں پاتی دیش کو کیا دے گی؟اگر ہم شیئر بازار کے سرمایہ کاروں کی بات کریں تو انہیں اب تک تو یہ نہیں لگ رہا کہ اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی بی جے پی کے مرکز میں اگلی سرکار بنانے کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ اکنامک ٹائمس کی ایک رپورٹ کے مطابق بیکرز اینڈ ٹریڈرز نے آپ کی اقتصادی پالیسیوں کی نکتہ چینی کی ہے لیکن یہ بھی کہا ہے کہ صاف ستھری ساکھ کے امیدوارکے زور پر پارٹی دیش کی سیاست کی سمت بدل سکتی ہے۔ ایک کاروباری کا کہنا تھا کہ آپ کی شروعات غلط ڈھنگ سے ہوئی ہے۔ اگر یہ پارٹی بڑھتی ہے تو دیش کی معیشت اور اسٹاک مارکیٹ کو کافی نقصان ہوگا۔ بازار آپ سے ڈرا ہوا ہے۔ دہلی اسمبلی میں جس دن ’’آپ‘‘ نے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا اس دن شیئر بازار نے پچھلے ڈیڑھ مہینے میں سب سے بڑی گراوٹ دیکھی۔ دہلی کی بجلی کمپنیوں کے شیئر گرتے جارہے ہیں بازار کا خیال ہے کیجریوال کا پرائیویٹ سیکٹر سے ٹکراؤ بڑھے گا اور سرکار کی مالی حالت خراب ہوگی۔ 
آخر میں اگر ’’آپ‘‘ نجومیت میں بھروسہ رکھتے ہیں تو مشہور نجومی پنڈت سریش کوشل کہتے ہیں کہ شری نریندر مودی کی کنڈلی (17 ستمبر1950،11-20 )کے مطابق ان کے وزیر اعظم بننے کے مضبوط آثار ہیں اگرچہ ’’آپ‘‘ کے لیڈر اروند کیجریوال نے 28 دسمبر کو عہدہ سنبھالا ہے جنتا کو ان سے لوک سبھا چناؤ میں بہت توقعات ہیں لیکن ان کے لئے 1سے2 فروری 2014 اور 3 مارچ سے4 مئی تک چنوتی بھرا ہوگااوران کا اثر کم کرنے میں اہل ہوگا۔ آخر کار بھاجپا کو نقصان پہنچانے میں اہل نہیں ہوں گے۔ محترمہ سونیا گاندھی و راہل گاندھی، منموہن سنگھ، دگوجے سنگھ وغیرہ کی کنڈلیاں بے اثر لگ رہی ہیں۔ دیگر لیڈروں جے للتا، ممتا بنرجی، نوین پٹنائک، نتیش کمار، ملائم سنگھ یادو وغیرہ کی کنڈلیاں زیادہ مضبوط ہیں لیکن پردھان منتری کے یوگ ان میں سے کسی میں بھی نہیں ہیں۔
(انل نریندر)

12 جنوری 2014

آخرکار:مرکزی سرکار نے مانا کوئلہ الاٹمنٹ میں گڑبڑی ہوئی!

کوئلہ بلاک الاٹمنٹ گھوٹالے میں تقریباً چار سال سے الزامات سے انکارکرتی آرہی مرکزی سرکار نے آخر کار یہ مان لیا ہے کہ اس سے کہیں نہ کہیں کول بلاک الاٹمنٹ میں چوک ہوئی ہے۔سرکار نے یہ قبول نامہ کہیں اور نہیں بلکہ ملک کی اعلی عدالت سپریم کورٹ کے سامنے کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل نے یہ بھی قبول کیا کہ الاٹمنٹ کا عمل مکمل طور سے ٹھیک نہیں تھا۔ اس سے زیادہ بہتر طریقے سے کام کیا جاسکتا تھا جبکہ پہلے سرکار کا کہنا تھا کہ الاٹمنٹ تومحض ارادے کا خط ہے اس سے قدرتی ذرائع پر کمپنیوں کو کوئی اختیار نہیں حاصل ہوتا۔ مگر الاٹمنٹ میں محدود کردار نبھانے والی 7 ریاستوں کے جواب کے بعد مرکز کا سر بدل گیا۔ جسٹس آر ۔ایم ۔لودھا کی صدارت والی تین ممبری بنچ کے سامنے مرکز کی جانب سے پیش ہوئے اٹارنی جنرل غلام ای واہنوتی نے کوئلہ کھدانوں کے الاٹمنٹ میں سرکار کی غلطی مانتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ کچھ غلط ہوا ہے۔واہنوتی نے یہ ردعمل اس وقت ظاہر کیا جب جسٹس موصوف نے کہا کہ یہ قواعد کہیں زیادہ بہتر طریقے سے کی جاسکتی تھیں۔اس معاملے میں مرکزی سرکار سچ بولنے اور اپنی غلطی قبول کرنے سے بچ نہیں سکتی ہے۔ صرف سچ قبول کرنا ہی کافی نہیں ہے۔سچائی قبول کرنے سے مسئلے کا حل نہیں ہوتا معاملہ ایک لاکھ کروڑ سے زیادہ کے گھپلے کا ہے، نقصان کا ہے۔ ضروری منظوری کے بنا ہی کوئلہ کھدانوں میں مختلف کمپنیوں کے ذریعے کی گئی 2 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ڈوب سکتی ہے۔ بنچ نے کہا کہ کوئلہ کھدانوں کے لئے سبھی منظوری حاصل کئے بنا فنڈ نویش کرنے والی کمپنیوں نے ایسا کرنے کا فیصلہ اپنے جوکھم پر لیا ہے۔واہنوتی نے دلیل دی کہ کوئلہ کھدانوں میں قریب 2 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے اور منظوریوں کے ابھاؤ میں ان کے لائسنس رد کرنا مشکل ہوگا۔ اس پر جسٹس نے کہا انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا ہی پڑے گا چاہے انہوں نے کتنی ہی سرمایہ کاری کیوں نہ کی ہو۔ مبینہ گھوٹالے سے سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس سنوائی کے بعد سی بی آئی نے وہ سارے مقدمے درج کئے اور مختلف جگہوں پر چھاپے مارے۔ یہ مقدمے 1993ء سے 2005ء کے درمیان کوئلہ بلاک الاٹمنٹ کے سلسلے میں ہیں۔یہاں اہم سوال یہ ہے کہ الاٹمنٹ میں غلطی کے لئے ذمہ دار لوگوں کی جوابدہی طے ہونی چاہئے کیونکہ الاٹمنٹ عمل میں کچھ زیادہ ہی منمانے طریقے سے کام کیا گیا تھا اور اسی کے چلتے اس عمل نے ایک گھوٹالے کی شکل اختیار کرلی۔ کسی نیتی پر صحیح ڈھنگ سے عمل نہ ہوپانا سمجھ میں آتا ہے لیکن آخر وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ان نا اہل لوگوں کو کوئلہ کھدانوں کی الاٹمنٹ کردی گئی؟ یہ معاملہ کوئی معمولی نہیں لاکھوں کروڑوں کا گھوٹالہ ہے جس میں پی ایم او، منتری، صنعت کار، نوکرشاہ اور سیاستداں سیدھے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ اگر ایسا گھوٹالہ دوسرے دیش میں ہوتا اور سرکار قبول کرلیتی کے اس میں غلطی ہوئی ہے تو اس سرکار کو استعفیٰ دینا پڑتا۔ لیکن کانگریسی اخلاقیات پر یقین نہیں کرتے اور وہ معاملے کو دبانے میں لگے رہتے ہیں۔ دھنیہ ہے ہمارا سپریم کورٹ جس نے معاملے کی جڑ تک جانے کا فیصلہ کیا۔
(انل نریندر)

مظفر نگر دنگا متاثرین میں لشکر طیبہ کا پھیلتا جال!

دہشت گردی کا خونی سایہ دیش پر کس قدر منڈرا رہا ہے کہ لشکر طیبہ کے مبینہ دہشت گردوں کی حالیہ گرفتاری سے پتہ چلا ہے کہ کچھ وقت پہلے کانگریس کے نائب صدر کے بیان سے سیاسی بھونچال سا آگیا تھا جب انہوں نے سنسنی خیز بیان دیا تھا کہ مظفر نگر کے کچھ فساد متاثرین نوجوان پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے رابطے میں ہیں۔ ان کی بات سچ ثابت ہوتی نظر آرہی ہے۔ دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے ہتے چڑھے دو مشکوک دہشت گردمحمدشاہد اور محمد راشد سے پوچھ تاچھ کے دوران یہ جانکاری سامنے آئی ہے کہ دہلی میں آتنک کا خون کھیل کھیلنے کی سازش 6 دسمبر کو رچی گئی۔ یہ خوش قسمتی ہے کہ سازش کی پول کھل گئی اور دہشت گردوں کی سازش ناکام ہوگئی۔ان سے یہ بھی خلاصہ ہوا ہے کہ مظفر نگر کے کچھ فساد متاثر نوجوان آئی ایس آئی کے رابطے میں ہیں حالانکہ ابھی تک وزارت داخلہ نے ایسا کوئی ثبوت ملنے سے انکار کیا ہے لیکن اتنا طے ہے کہ آئی ایس آئی کے گرگے فساد متاثر مظفر نگر تک نا صرف پہنچ گئے ہیں بلکہ فساد کی آڑ میں مقامی نوجوانوں کو دہشت گرد بنانے کی سازش بھی رچ رہے ہیں۔مظفر نگر اور شاملی کے فساد متاثرین راحت کیمپوں کا کنکشن لشکر طیبہ سے ہو یا نہ ہو لیکن کچھ نامعلوم لوگ یہاں آکر فساد متاثرین کو بھڑکاتے ضرور ہے۔ یہ کہنا ہے یہاں موجود کچھ فساد متاثرین کا۔امداد دینے کے بہانے ان کیمپوں میں کچھ نامعلوم لوگوں کے آنے جانے کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ لشکر کے فساد متاثر کیمپوں میں سرگرم ہونے کی خبر سے ہماری سکیورٹی ایجنسیاں بھی ہوشیار ہوگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی بی اور دیگر خفیہ ایجنسیوں میں مظفر نگر اور شاملی کے کئی مدرسوں کو جانچ کے گھیرے میں لے لیا ہے۔ جانچ کی جارہی ہے کہ کہیں پڑھائی کے بہانے مدرسوں سے جڑے مشکوک لوگ دہشت گردی میں شامل تو نہیں ہیں۔ ہریانہ کے میوات سے مشکوک آتنک وادیوں محمد شاہد اور محمد راشد کی گرفتاری سے لگتا ہے کہ میوات دہشت گردوں کی پناہ گاہ بن چکا ہے۔ اس کا پتہ تو خفیہ ایجنسیوں کو ایک ماہ پہلے لشکر آتنکی محمد شاہد کی گرفتاری کے ساتھ ہی چل گیا تھا۔یہیں عبدالکریم ٹنڈا، یٰسین بھٹکل اور یٰسین دربھنگہ بھی اپنا ٹھکانا بنا کر رہے ہیں۔ تینوں پردیشوں یوپی ،ہریانہ اور راجستھان کے سرحدی علاقے کے کئی گاؤں مشکوکوں کو ہتھیار مہیا کرانے کے محفوظ ٹھکانوں کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ میوات علاقے میں لشکر کے ابھی کئی گرگے پناہ لئے ہوئے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ نہیں کہ آئی ایس آئی اور لشکرطیبہ ان ہندوستانی لوگوں کو ورغلانے میں کامیاب ہورہی ہے بلکہ وہ فساد زدگان ہیں یا نہیں۔ بڑا سوال یہ ہے کہ ایسے حالات پیدا ہونے کی وجہ کیا ہے کہ ہمارے شہری دیش مخالف طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن رہے ہیں۔ اگر آج پاکستان قصاب کو بھیجے ہمارے ہی لوگوں کے ہاتھوں ہماری زمین کو لہو لہان کرنے میں کامیاب ہوتا دکھ رہا ہے تو یہ ہمارے تمام اندرونی تحفظ دائرے کے لئے بیحد تشویشناک بات ہے۔اس پورے معاملے سے آئی ایس آئی کے خطرناک منصوبے ایک بار پھر سامنے آئے ہیں کہ وہ کس طرح بھارت کے نوجوانوں کو آتنک وادی بنانے کے فراق میں رہتا ہے۔ دوسرے آتنک وادی اب اپنا نیٹورک ان علاقوں میں پھیلانے کی کوشش میں لگے ہیں جو اب تک ان کی سرگرمیوں سے اچھوتے رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں بہار کے بودھ گیا ، پٹنہ اور نریندر مودی کی ریل سمیت کئی جگہوں پر کئے گئے سیریل بم دھماکوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ہریانہ کے میوات اور اترپردیش کے مظفر نگر تک ان کی پہنچ ہوگئی ہے۔ لشکر کے پھیلتے جال کا مسئلہ خفیہ ایجنسیوں اور سکیورٹی سسٹم کے لئے ایک چیلنج بھی ہے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...