Translater

03 دسمبر 2016

نوٹ بندی۔کرپشن اور بلیک منی۔۔۔(1)

وزیر اعظم نریندر مودی نے بلیک منی اور کرپشن کودور کرنے کیلئے نوٹ بندی کی ہے۔ اس کام میں انہیں دیش کی حمایت بھی ملی ہے۔ جتنے بھی سروے آئے ہیں ان میں زیادہ تر عوام نے ان کی حمایت کی ہے۔ عام طور پر جنتا خوش تھی لیکن یہ خوشی کیوں تھی؟ اس کی سب سے بڑی وجہ تھی ہمارا انسانی برتاؤ ۔ سوشل میڈیا میں ایک پوسٹ بالکل کھرا اترتا ہے۔ عام آدمی پریشان ہے ، پھر بھی خوش ہے کیونکہ نوٹ بندی سے غریب سوچتا ہے کہ دھنا سیٹھوں کی واٹ لگ گئی ہے، نوکر سوچتا ہے کہ مالک کی واٹ لگ گئی ہے۔ مریض سوچتا ہے ڈاکٹر کی واٹ لگ گئی ہے۔ کلرک سوچتا ہے صاحب کی واٹ لگ گئی ہے۔ جن سیوک سوچتا ہے کہ منتظم کی واٹ لگ گئی ہے، ایڈ منسٹریٹر سوچتا ہے کہ نیتاؤں کی واٹ لگ گئی ہے اور نیتا سوچتا ہے کہ اپوزیشن کی واٹ لگ گئی ہے۔ سبھی دکھی ہیں پھر بھی خوش ہیں ۔۔۔ دوسروں کو دکھی دیکھ کر خوش ہونا انسان کا مزاج جو ہے۔ آکسفورڈ انگلش ڈکشنری کرپشن کی کچھ ایسی تشریح کرتی ہے۔ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے ذریعے بے ایمانی یا نتیجے سے بھرپور برتاؤ، خاص طور پر جس میں رشوت کا تعلق ہو، دنیا کے زیادہ تر لوگ اس کی حمایت کریں گے لیکن ہم نے تشریح کا دائرہ بڑھا کر اس کی دھار ختم کردی ہے۔ اصلی اہمیت کے لفظ تو اقتدار میں بیٹھے اور رشوت ہیں۔ بھارت میں عام آدمی کا اقتدار میں ہونے سے دور دور کا کوئی واستہ نہیں ہے۔ ہم میں سے40 فیصدی سے زیادہ غریب ہیں۔ ہمارے درمیان مشکل سے دو فیصدی لوگوں کے پاس ٹیکس چکانے لائق وسائل ہیں۔ آج زیادہ تر بھارت کی عوام بینکوں کے باہر لائن میں اپنے ہی کمائے پیسوں کو لینے کے لئے کھڑی ہے۔ اس کرپشن کو دور کرنے کے لئے جو نوٹ بندی کی گئی تھی اس میں کرپشن ہو رہا ہے۔ دلالوں کی ایک نئی جماعت 8 نومبر سے پیداہوگئی ہے۔ اس میں بینک افسر، پولیس افسر، انکم ٹیکس افسر اور کالی کمائی کو سفید نوٹ میں تبدیل کرنے کی نئی خصوصیت پیشہ ور دلالوں کی ٹیمیں ہر شہر میں وجود میں آگئی ہیں۔ 100 روپے دیکر 70 روپے لینا عام بات بن گئی ہے۔ کرپشن کی شکل بدل گئی ہے۔ کرپشن اور کالا دھن ویسا ہی ہے جیسا 8 نومبر سے پہلے تھا۔ رہی بات مزدور، کسان، عام آدمی کی تو اس کا برا حال ہوگیا ہے۔ جہاں پہلے کام ملا ہوا تھا وہاں تک جانے کے لئے آج مزدور کے پاس کرایہ تک نہیں ہے اور اپنے علاقے میں اسے کام نہیں مل پا رہا ہے۔ گھر میں راشن نہیں ہے، کیونکہ روزانہ کما کر راشن لاتے تھے۔ دوکاندار بھی راشن ادھار نہیں دے رہا ہے بھوکے پیٹ دن گزارنے پڑ رہے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو کھانے کا سامان پڑوسیوں، رشتے داروں سے مانگ کر اپنے گھر والوں کا پیٹ بھر رہے ہیں۔ ایسی باتیں آج قریب قریب سبھی دہاڑی مزدور کرنے پر مجبور ہیں۔ روزانہ 150 سے 250 روپے کمانے والا رام لال نوٹ بندی کے بعد کھانے کے لئے لنگر پر منحصر ہے۔ اس کا کہنا ہے دو ٹائم کھانے پر 60 سے80 روپے خرچ ہوجاتے تھے حالات اتنے برے ہوگئے ہیں کہ اب گورو دوارے کے سہارے ہی رہنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ14 نومبر سے روز گورودوارہ بنگلہ صاحب آکر اپنا پیٹ بھر رہے ہیں۔ دہلی سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی سے ملی اطلاع کے مطابق9 نومبر کے بعد سے دہلی کے سبھی گورودواروں (بنگلہ صاحب، شیش گنج صاحب، رکاب گنج، نانک پیاؤ، مجنوں کا ٹیلہ) میں لنگر کھانے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ لگاتار نقدی کی قلت جھیل رہی عوام نے نوٹ بندی کے مضر نتائج اب سامنے آنے لگے ہیں۔
غازی آباد کے نیو آریہ نگر میں دوا کے لئے پیسہ نہ ہونے کے سبب ایک بزرگ کی موت ہوگئی۔ رشتے داروں کا کہنا ہے کہ نوٹ بندی کے چلتے گھرمیں نقدی نہیں تھی۔ جمعہ کو چیک سے روپے نکالنے کی کوشش کی گئی لیکن گھنٹوں بینک کے باہر کھڑے رہنے پر بھی بیرنگ لوٹنا پڑا وہیں پیر کو بھی یہی حال رہا۔ ایسے میں بزرگ کا علاج نہیں ہوسکا۔ منگلوار کو صبح ان کی موت ہوگئی۔ اس کے علاوہ گھر میں انتم سنسکار کے لئے بھی پیسہ نہ ہونے پر بزرگ کی پوتی بینک پہنچی تو بینک ملازم نے کیش دینے میں معذوری جتائی اور کہا کہ کیش ختم ہوگیا ہے۔ ایسے میں لوگوں نے 17 ہزار روپے اکھٹے کر متاثرہ خاندان کو دئے جب جاکر انتم سنسکار ہوسکا۔ نوئیڈا میں 70 سالہ بزرگ شخص اپنی بیوی کی لاش گھر میں رکھ کر دو دن تک کیش کے لئے بینک کے چکر کاٹتا رہا۔ دوسرے دن بھی جب بینک سے پیسے نہیں ملے تو وہ اپنی بیوی کی لاش کو لیکر احتجاج کے طور پر سڑک پر بیٹھ گئے۔ اتنا ہونے کے بعد سرکاری عملہ حرکت میں آگیا۔ حالانکہ بینک سے روپے ملنے میں شام ہوگئی۔ دوسرے دن بھی متوفی عورت کی لاش کا انتم سنسکار نہیں ہوسکا۔ دیش میں نوٹ بندی کا اثر مختلف علاقوں میں دکھائی دینے لگا ہے۔ قریب ڈھائی ہفتے سے زیادہ وقت ہوگیا ہے پر حالات ابھی تک پوری طرح نورمل نہیں ہوپا رہے ہیں۔ سب سے زیادہ پریشان کسان ہے۔ پیسے کی کمی سے لڑ رہے کسان چیزوں کے بدلے کا طریقہ اپنانے پر مجبور ہیں۔ اترپردیش، بہار، چھتیس گڑھ میں کسان کھیتی سے جڑی اپنی مشکلوں کا سامنا کررہا ہے۔ میں کل بتاؤں گا کہ آج کی تاریخ میں دھنا سیٹ تو خوش ہیں نہ تو وہ لائنوں میں لگ رہے ہیں ،نہ انہیں نوٹ بندی کا کوئی اثر ہوا ہے۔ زیادہ تر دھنا سیٹھوں نے اپنی بلیک منی نئی کرنسی میں بدل لی ہے۔ اس کرپشن کو جس کو لیکر یہ نوٹ بندی ہوئی ہے اسی میں کرپشن کا بول بالا نظر آرہا ہے۔ (جاری)
(انل نریندر)

02 دسمبر 2016

اڑی سے اب تک 72 دنوں میں ہمارے 43 جوان شہید ہوئے ہیں

پاکستان میں نئے فوج کے چیف قمر جاوید باجوہ کے کمان سنبھالتے ہی جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کا حوصلہ بڑھ گیا ہے۔ منگلوار کو صبح ساڑھے چار بجے جموں کے علاقہ نگروٹا میں واقع فوج کی 16 ویں کور کے ہیڈ کوارٹر کے قریب اسلحہ یونٹ پر پولیس کی وردی میں آئے دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ حملہ میں فوج کے دوافسروں سمیت 7 جانباز شہید ہوگئے۔ نگروٹا کے حملہ اڑی حملہ کے 72 دنوں بعد ہوا ہے۔ یہ حملہ اڑی کے بعد دوسری سب سے بڑا حملہ ہے۔ اڑی میں برگیڈ ہیڈ کوارٹر پر ہوئے حملے میں 19 جوان شہید ہوئے تھے۔ نگروٹا میں 2 افسروں سمیت 7 جوان شہید ہوئے۔ 14 گھنٹے کی مڈ بھیڑ کے بعد گھنٹوں چلی کارروائی میں آتنکیوں کو مار گرایا جاسکا۔ ادھر نگروٹا سے70 کلو میٹر دور چملیال میں ہوئے دوسرے آتنکی حملے میں تین آتنکیوں کو مار گرانے میں بی ایس ایف کامیاب رہی۔ بعد میں تلاشی کارروائی کے دوران ہوئے دھماکے میں بی ایس ایف کے ڈی آئی جی سمیت پانچ جوان زخمی ہوگئے۔ یہ دونوں حملے ٹھیک اسی دن ہوئے ہیں جس دن پاکستان کے نئے فوجی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کمان سنبھالی تھی۔ نگروٹا میں 16 ویں بٹالین کے قریب منگل کو آفسرس میس پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کا ارادہ نہتے جوانوں اور عورتوں بچوں کو یرغمال بنانے کا تھا۔ ڈیفنس کے ترجمان منیش مہتہ نے بتایا کہ خودکش حملے کے ارادے سے آئے دہشت گردوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ جان مال کو نقصان پہنچانا تھا۔ میس کے اندر دو عمارتوں میں اس وقت 12 نہتے جوان اور 2 عورتیں اور 2 چھوٹے بچے تھے۔ پولیس وردی میں آئے دہشت گرد انہیں یرغمال بنانا چاہتے تھے لیکن انہیں آگے نہیں بڑھنے دیا گیا۔ نگروٹا کے فوج کے دو افسروں کی بیویوں کی بہادری نے دہشت گردوں کو یرغمال بنانے کی منصوبے پر پانی پھیردیا۔ دہشت گرد فوجی اور افسروں کے کواٹروں میں گھس کر ان کے کنبوں کو یرغمال بنانا چاہتے تھے لیکن اپنے اپنے نوزائیدہ بچوں کے ساتھ کوارٹر میں موجودہ ان دو عورتوں نے دہشت گردوں کے منصوبو ں کو نا کام بنادیا۔ مڈ بھیڑ میں شامل فوج کے ایک افسر نے بتایا جس وقت یہ حملہ ہوا اس وقت ان دونوں عورتوں کے شوہر رات کی ڈیوٹی پر تھے۔ ان عورتوں نے اپنے اپنے کوارٹر کے مین گیٹ کو گھر میں موجود سبھی بھاری چیزوں سے جام کردیا جس وجہ سے دہشت گرد ان کے کمروں میں نہیں گھس پائے۔ عورتوں نے اگر یہ چوکسی نہ برتی ہوتی تو دہشت گرد انہیں یرغمال بنا سکتے تھے اور فوج اور ان کے کنبے والوں کو بڑا نقصان پہنچا سکتے تھے۔ ان کے بعد دہشت گرد دو عمارتوں میں گھس گئے جہاں کچھ افسر اور ان کے رشتے دار اور کچھ لوگ موجود تھے۔ اس سے یرغمال جیسی صورتحال پیدا ہوگئی لیکن فوج نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سبھی کو بچا لیا۔ جب سے بھارت نے سرجیکل اسٹرائک کی ہے پاکستان بری طرح بوکھلایا ہوا ہے اور پوری طرح سے خون خرابے پر اترا ہوا ہے۔ اڑی حملے سے لیکر نگروٹا و چملیال حملوں تک شاید ہی کوئی دن ایسا گیا ہو جب پاکستان نے ہندوستان کی چوکیوں پر حملہ نہ کیا ہو۔ اڑی حملے میں 19 جوان شہید ہوئے تھے تب سے 72 دنوں میں بھارت کے 43 جوان شہید ہوچکے ہیں اور 66 زخمی ہوئے ہیں۔ 
دیکھا جائے تو اس طرح پاکستان نے سرجیکل اسٹرائک کا بدلہ لے لیا ہے۔یہی نہیں دہشت گردوں نے دو جوانوں کی لاشوں کے ساتھ جو بربریت کا مظاہرہ کیا ، ایک جوان اب بھی پاک کے قبضے میں ہے۔ ہمیں سمجھ میں نہیں آرہا ہے پاکستان اور اس کے پٹھوں اتنی آسانی فوج کے کے محاذوں کو نشانہ بنا رہے ہیں؟ نگروٹا کے حملے نے ایک بار پھر فوجی عمارتوں کی سکیورٹی پر سوال کھڑے کردئے ہیں۔ پاکستان نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے وہ فوجی ٹھکانوں پر مسلسل حملے کررہے ہیں۔ اس کے پیچھے دو وجہ ہوسکتی ہیں۔ اس طرح کے حملوں سے ایک تو دہشت گرد صوبے کی عوام کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ عام شہریوں کو نہیں بلکہ ہندوستانی سکیورٹی فورس اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے بارڈر ایل او سی سے الگ سکیورٹی فورس کے ہیڈ کوارٹر ، میس اور ٹھکانوں پر سکیورٹی کے اتنے اتنظام نہیں ہوتے۔ کئی جگہ تو سی سی ٹی وی کیمرے تک نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد ان سافٹ ٹارگیٹ میں اندر تک جانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اگر پہلے سے نگروٹا حملے کے بارے میں خاص اطلاعات تھیں تو یہ اور بھی باعث تشویش معاملہ ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ہمارے فوجیوں نے بہادری کے ساتھ لڑتے ہوئے یرغمالوں کو بغیر کوئی نقصان پہنچانے آزاد کرانے میں کامیابی حاصل کرلی لیکن دو افسر اور پانچ جوان شہید ہوگئے۔یہ عام واردات نہیں مانی جاسکتی۔ اگر لشکر کے ذریعے حملہ کرنے کے بارے میں پہلے سے خفیہ اطلاعات ہونے کی خبر صحیح ہے تو دہشت گردوں کا اندر تک آجانا ایک بڑی خامی کہا جاسکتا ہے۔ 
یہ صحیح ہے کہ جموں و کشمیر میں کئی مقامات پر سرحدی لائن انتہائی پیچیدہ ہے لیکن آخر اس کا مطلب کیا ہے کہ اس طرح آتنکی رہ رہ کر تار کاٹ کر سرحد میں گھس آئے؟ اگر دہشت گرد کسی بھی جتن سے دراندازی کرتے رہیں ہوں گے تو جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ حملوں کا سلسلہ روکنے والا نہیں۔ دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کے لئے صرف سرحد پر ہی نئی حکمت عملی نہیں بنانی ہوگی بلکہ اس پر بھی توجہ دینی ہوگی کہ پاکستان میں پھل پھول رہی دہشت گرد تنظیموں کے حوصلے کو کیسے کچلا جائے؟ جب بھارت سرکار اس نتیجے پر پہنچ گئی ہے کہ پاک ایک دہشت گرد ملک کی طرح برتاؤ کررہا ہے تب پھراس طرح کے امکانات ظاہر کرتے رہنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ پاکستان سے بھارت کے رشتے بہتر ہوسکتے ہیں اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ پاک کو سبق سکھایا جائے۔
(انل نریندر)

01 دسمبر 2016

امریکن ہندوستانی نثراد امریکیوں کا بڑھتا دبدبہ

امریکہ میں ہندوستانی نثراد لوگوں کی آبادی محض ایک فیصدی ہے اس کے باوجود یہ فرقہ امریکی سیاست کا اہم رول نبھا رہا ہے۔ امریکہ میں حال میں اختتام پذیر عام چناؤ سیاست ہندوستانی نثراد خواتین کا بڑھتے اثر کا گواہ رہا ہے۔ پارلیمانی چناؤ میں ہندوستانی برادری کی خواتین نہ صرف کامیاب ہوئی ہیں بلکہ صدارتی امیدواروں کی کمپین کی حالت اور صرف طے کرنے میں بھی ان کا کردار رہا ہے، امریکی سیاست میں ساؤتھ کیرولینا کی گورنر نیکی ہلیری اب تک اس برادری کی عورتوں کا چہرہ رہی ہیں۔ ہیلری کلنٹن امریکہ کی پہلی خاتون صدر بن کر تاریخ بنانے کا موقعہ پا کر بھی چک گئی ہیں لیکن اب ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیلیفورنیا کی ہندوستانی نثراد اٹارنی جنرل کملا ہیریس میں ملک کی پہلی خاتون صدر بننے کی صلاحیت ہے۔51 سال کی کملا کیلیفورنیا سے امریکی سینٹ کے لئے منتخب ہوئیں ہیں سینٹ میں چنی جانے والی صوبے کی پہلی سیاہ فارم ایشیائی ممبر ہے ۔ کملا کی ماں چنئی کی ہے والد جمائیکارہنے والے ہے چناؤ جتنے کے ساتھ کملا نے ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن مخالف پالیسیوں اور بڑے پیمانے پر جلاوطنی کی پالیسی کے خلاف اپنی ملکی مہم شروع کردی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ میں لکھا ہے کملا ہیریس سے ملے جو پہلی خاتون صدر بن سکتی ہیں۔ کیلیفورنیا کی مقبول ترین اٹارنی جنرل کیپٹل ہل میں اپنی جگہ بنا چکی ہے وائٹ ہاؤس ان کی ا گلی منزل ہوسکتی ہے۔ نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹیم میں پہلی غیر سفید فام کو ذمہ داری سونپی ہے وہ ہندوستانی نثراد امریکہ خاتون نکی ہیلی ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے انتظامیہ کے سینئر عہدے کے لئے لوگوں کے ناموں کااعلان کیا ہے۔ ساؤتھ کیلورنیا کی نکی ہیلی اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر ہوں گی ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ ہیلی ایک اچھی معاہدے کرنے کی ماہر ہے اورہم سودوں کو آگے بڑھانے کے لئے بہت ہی پر امید ہے ۔صدارتی عہدے کی ڈور میں جم کر تلقین کرنے والی ہیلی ٹرمپ کی تقرری کو سینٹ میں اگرتوثیق کرا لیتی ہیں تو وہ پہلی خاتون بن جائے گی جن کو کیبنٹ میں سطح کا درجہ ملے گا۔ نکی ہیلی کے مخالفین کاکہناہے کہ انہیں خارجہ پالیسی کا تجربہ نہیں ہے اس لئے وہ اقوام متحدہ میں امریکی نمائندگی اچھی کرے گی۔ اس پر شبہ ہے نکی ہیلی نے یہ میرے لئے بہت بڑا اعزاز ہے اور مجھے فخر ہے کہ صدر نے مجھے اپنی ٹیم میں شامل ہونے کا موقع دیا ہے 44سالہ ہیلی 38 سال کی عمر میں ہی ایک اقلیتی طبقے سے خاتون گورنر بن گئیں تھی۔ کل ملا کر امریکہ کی سیاست میں ہندوستانی نثراد امریکیوں کا دبدبہ بڑھ رہا ہے امریکہ میں ہندوستانی نثراد امریکی سیاست پر گہرا اثر رکھتی ہیں۔
(انل نریندر)

شنگلو کمیٹی رپورٹ پر ایل جی۔ سی ایم آمنے سامنے

ایک بار پھر دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ اور وزیراعلی اروندکیجریوال آمنے سامنے آگئے ہیں۔ دونوں کے درمیان ٹکراؤ بڑھتا نظر آرہا ہے عام آدمی سرکار کے قیام سے 4دسمبر تک فائلوں کی اچھی بری کنڈلی وی کے شنگلو کی سربراہی والی تین نفری کمیٹی نے رپورٹ تیار کرکے سیل بند لفافے میں لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کو ایتوار کو سونپ دی ہے۔ کمیٹی نے کیا سفارش کی ہے یہ بھی سامنے نہیں آپایا ہے لیکن یہ طے ماناجارہا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر کی منظوری کے بغیر کئے فیصلہ وابستہ تمام فائلوں میں گڑ بڑی ہونے کاامکان ہے۔ کمیٹی سرکار سے بھیجی 400 سے زیادہ فائلوں کی جانچ کررہی تھی۔ کمیٹی کو نہ صرف گڑ بڑی تلاشنے بلکہ خلاف ورزی کو لے کر دہلی سرکار کے افسر پبلک سروینٹ کے رول پر ذمے داری طے کرنے سول یا کرمنل معاملہ بنتا ہے تو اس کی سفارش کرنے کی ذمہ داری بھی دی گئی تھی اتنا ہی نہیں افسر یا سرکاری عہدے داران اپنی طرف سے لئے گئے فیصلوں سے اگر سرکار کو مالی نقصان ہوا ہے تو متعلقہ افسر کے خلاف ایڈ منسٹریٹو یا کرمنل یا سول کارروائی کی سفارش بھی کمیٹی کو کرنی تھی۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ کمیٹی کی میعاد 2دسمبر تک ہے 30اگست کو تشکیل اور 14اکتوبر کو 6 ہفتے کی توسیع کے دوران دہلی حکومت سے منگائے گئے ماہر افسران نے قواعد کے حساب سے فائلوں کی پڑتال کی ہے اس میں تمام خامیاں پائی جانے کاذکر لیفٹیننٹ گورنر 14اکتوبر کو کرچکے ہیں۔ وزیراعلی اروند کیجریوال نے پریس کانفرنس کر شنگلو کمیٹی پر الزام لگایا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر غلط طریقے سے نائب وزیراعلی منیش سسودیا کو پھنسانے کی کوشش کی ہے۔ پی ا یم او اور ایل جی اپ منیش سسودیا کو گرفتار کرنے کی اسکیم بنا رہے ہیں۔ پنجاب چناؤ سے ٹھیک پہلے سسودیا کو گرفتار کرنے کی تیاری چل رہی ہے۔ وزیراعلی کیجریوال نے سابق کمٹرولر آڈیٹر جنرل وی کے شنگلو پر ڈی پی ایس سوسائٹی صدر صدارتی چناؤ میں گڑ بڑی کر چیئرمین بننے اور سوسائٹی کے پیسوں میں غپن کے سنگین الزام لگائے گئے ہیں ادھر دہلی حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا ہے کہ مرکز اور دہلی سرکار کے درمیان اختیارات کی لڑائی کے اشو پر کورٹ کا فیصلہ آنے تک شنگلو کمیٹی کی رپورٹ پر جلد بازی میں کوئی کارروائی کی جانی چاہئے۔ عدالت نے عرضی پر 5دسمبر کو غور کرنے کو کہاہے شنگلو کمیٹی کے ذریعے دہلی سرکار کے کام کاج سے متعلق 400 فائلوں کی پڑتال کے بعد ایل جی کو سونپی گئی رپورٹ میں ایک لاکھ روپئے سے زیادہ تنخواہ پر رہے درجن بھر مشیروں پر بجلی گرنا طے ہے۔ کئی مشیر کو رکھ کر ایڈمنسٹریٹیو گریڈ( ایچ ڈی) کے زمرے کی تنخواہ طے کی گئی ہے جو مرکزی حکومت کے سیکریٹری کے تنخواہ کے برابر ہے دہلی سرکار کے صحت وتعلیم محکمہ کے مشیر ایچ اے جی زمرے میں آتے ہیں۔ دہلی سرکار کے ا سکولوں میں اسٹیٹ منیجر کی تقرری میں بھی ضابطوں میں ایل جی سے منظور نہیں کرایا گیا ہے۔ اس منیجر کی تنخواہ 3ہزار روپئے ہے ساتھ ہی محکموں میں ڈیبوٹیشن پر کام کررہے افسر کا معاملہ بھی پیچیدہ ہے ڈیبوٹیشن پر تقرری کے متعلق فائل پر ایل جی کی اجازت ضروری ہے۔ سابق ہیلتھ سیکریٹری بھی ڈیبوٹیشن کام کررہے تھے اس کے علاوہ دہلی سرکار نے ہائی کورٹ میں سرکار کے معاملوں کی پیروی کے لئے وکیلوں کی تقرری کی ہے جن کی تنخواہ رکی ہوئی ہے۔ آدھا درجن وکیل دہلی سرکار کو ویٹ محکمہ اور محکمہ محصولات میں مقرر کئے گئے ہیں جن کے لاکھوں روپئے کے بلوں کی ادائیگی لٹکی ہوئی ہے اب سارے معاملوں پر شنگلو کمیٹی کی بنیاد پر کارروائی ہوگی ۔ ایل جی اور دہلی سرکار کے نئے ٹکراؤ پر اب سب کی نظریں سپریم کورٹ پر ہے دیکھئے عدالت اس مسئلے اور ٹکراؤ کاکوئی راستہ نکال سکتی ہیں؟
(انل نریندر)

30 نومبر 2016

اور 1000 کے بند نوٹوں کا اب کیا ہوگا 500

نوٹ بندی کے بعد پہلے ہی سے تکلیف کے دور سے گزر رہی عام جنتا کے لئے ریزرو بینک کے ذریعے جاری کردہ 500 کے نئے نوٹوں کو لے کر غلط فہمی اور زیادہ پیدا ہوگئی ہے بازار میں جو نئے نوٹ آئے ہیں وہ دو طرح کے ہے اس کی وجہ سے لوگوں کو لگ رہا ہے کہ نوٹ کی چھپائی میں خامیاں ہے تو کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ نقلی نوٹ ہے۔ انگریزی اخبار ٹائم آف انڈیا میں شائع خبر کے مطابق 500 سے نوٹ ایک دوسرے سے الگ پائے گئے ہیں۔توجہ سے دیکھنے پر پتہ چلتا ہے کہ ایک نوٹ میں گاندھی کے سر کے پیچھے اورچہرے کے آگے پرچھائی نظر آرہی ہے تو دوسرے نوٹ میں کم اس کے علاوہ قومی نشان کے الاٹمنٹ اور سریل نمبروں میں گڑ بڑی دکھائی دے رہی ہیں۔ نوٹوں کے بارے میں فرق پر آر بی آئی کے ترجمان الپناکلہ والا سے پوزیشن واضح کرتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ جلد بازی کے سبب وہ نوٹ جاری ہوگئے ہیں جن میں پرنٹنگ کی کچھ کمیاں رہ گئی تھی۔ لیکن لوگ آرام سے ان نوٹو ں کالین دین کرسکتے ہیں اتنا ہی نہیں اگر ان کو زیادہ گڑ بڑی لگتی ہے تو یہ نوٹ آر بی آئی کو لوٹا سکتے ہیں۔ ادھر 1000 اور 500 کے پرانے نوٹ جن کی تعداد تقریبا 1417943 ارب روپے ہے کو جنوری 2017 سے ضائع کرنے کا سلسلہ شروع ہوگا۔ آر بی آئی کو اتنی بڑی تعداد میں نوٹوں کو ضائع کرنے میں مشکل کا سامنا کرنا فطری ہے۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ جب اتنی زیادہ تعداد میں نوٹوں کو ضائع کیاجائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ سینٹرل بینک کے پاس 27تھریڈنگ اور وکرینگ سسٹم مشین ایس بی ایس ہے۔ یہ مشینیں کئی سینٹروں میں قائم ہے یہاں پرانے لوٹائے گئے نوٹوں کو پہلے ٹکڑے کئے جاتے ہیں اور پھر راکھ میں تبدیل کردیاجاتا ہے۔ ابھی تک ہر برس 13514 ارب روپے تک نوٹوں کو ضائع کیاجاتا رہا ہے۔ اس بار دوگنے سے زیادہ نوٹ ضائع کرنے ہوں گے اس میں دو رائے نہیں ہے ریزروبینک کے اہم کاموں میں نوٹوں کو ضائع کرنا بھی ایک خاص کام ہے ایک تشویش کا موضوع یہ ہے کہ تھانوں میں پڑے پرانے 500 اور 1000 کے نوٹ ہے۔ اس بارے میں بات کرنے پر دہلی پولیس کے ترجمان راجندر بھگت نے بتایا ہے کہ ایسے معاملے میں عدالت طے کرتی ہیں کہ اس رقم کاکیاہوگا؟ ایسے معاملے میں ملزم کو سزا ہونے کے بعد یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع کردی جاتی ہیں اور اتنے ہی نوٹ خود بدل بھی سکتی ہیں یا اسے کینسل کرسکتی ہے نئے سسٹم سے چلن سے باہر ہوئے وہ نوٹ جو مال خانے میں موجود تھے کے لئے انڈین ریزرو بینک ہدایت دینے کی ضرورت ہوگی کہ پورے دیش میں 2009 میں 12806 تھانے تھے اب ان کی تعداد اور بھی زیادہ ہوسکتی ہیں۔ اس حساب سے ان کے پاس موجود رقم اربوں میں ہوسکتی ہے۔ ریزروبینک عموما ایک سال میں 16کروڑ روپئے کے نوٹ ضائع کرتا ہے ان کے پاس اتنے بھر کا انتظام ہے لیکن اب اس کے سامنے 2203.3 کر وڑ روپئے کے نوٹوں کو ضائع کرنے کی چنوتی ہے۔
(انل نریندر)

13منٹ میں12لوگوں نے آتنکیوں گینگسٹرو کو چھڑایا

ابھی مدھیہ پردیش کے بھوپا ل میں سِمی سے وابستہ آٹھ قیدیوں کا سینٹرل جیل سے بھاگتے ہوئے مڈ بھیڑ میں مارے جانے کی خبر ابھی ٹھنڈی نہیں ہوئی تھیں کہ پنجاب کی نابھا جیل میں حملہ کرکے خونخوار دہشت گرد سرغنہ سمیت کچھ خطرناک جرائم پیشہ کو چھڑانے کی خبر چوکانے والی ہے۔ ایتوار کی صبح 12لوگوں نے جیل پر حملہ کیا اور دو خالصتانی دہشت گردوں اور 4بدمعاشوں کو چھڑا لے گئے۔ وہ بھی 13منٹ میں، چھ حملہ آور پولیس کی وردی میں آئے انہوں نے 100 راؤنڈ گولیاں چلائی لیکن جیل کے گارڈوں نے ایک بھی گولی نہیں چلائی۔صبح سے فار چونر کار سمیت دو گاڑیاں جیل کے سامنے کھڑی تھیں ان میں ڈرائیور بھی تھے تین دوسری کاریں گیٹ کے تھوڑی دور ی پر تھی ۔صبح ساڑھے 6 بجے ایک کار مین گیٹ پر آئی ۔سب انسپکٹر کی وردی میں بیٹھے لوگوں کو دیکھ کر گارڈ نے گیٹ کھول دیا۔ اندر پہنچتے ہی حملہ آوروں نے بیرکوں کے گیٹ پر تعینات گارڈ سے چابی مانگی۔ منع کرنے پر دھار دار ہتھیاروں سے گارڈ کو زخمی کردیا اور چابی چھین لی اور فائرنگ شروع کردی۔ شور سنتے ہی جیل کے اندر سے 6 قیدی گیٹ پر پہنچے۔ اور فائرنگ سے گھبرائے سیکوریٹی ملازمین چھپ گئے کسی نے بھی جوابی کارروائی نہیں کی۔ جیل کے باہر نکلے ملزمان نے کار میں بیٹھے ڈرائیور کو ڈکی کھولنے کو کہا اس میں ہتھیاروں کاذخیرہ تھا ایک حملہ آور نے رضائی میں لپٹے ہتھیار قیدیوں کو دیئے اور سب کار میں بیٹھ کر فائرنگ کرتے ہوئے بھاگ نکلے۔ ڈیڑھ کلو میٹر کی دوری پر ریلوے پھاٹک ملا تو واپس لوٹ کر جیل کے سامنے سے ہی نکل گئے۔ تشویش کاباعث یہ ہے کہ ہماری غیرمحفوظ جیلوں کایہ حال ہے تو باقیوں کا کیا حال ہوگا؟ یہ اس جیل کاحال ہے جہاں خالصتان لبرشن فورس کاسرغنہ ہرمندرسنگھ منٹو کا قید تھا۔ منٹوکے خطرناک پاک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے رشتے رہے ہیں ایسے میں اس کی فراری کو پاکستان کی سازش سے جوڑکر دیکھنا فطری ہے لیکن اس سے جیلوں کی سیکورٹی کے معاملے میں ہماری کمزوریاں نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔ جیل سے دہشت گردوں کے فرار ہونے کی کوئی واردات پہلی بار نہیں ہوئی ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی حالیہ رپورٹ کے مطابق قیدیوں کے جیل سے بھاگنے کے معاملے میں پہلے نمبر پر راجستھان کی جیلیں ہے۔ جہاں سب سے زیادہ قیدی بھاگتے ہے۔ دوسرا نمبر مدھیہ پردیش کا ہے نومبر کے ابتدا میں آئی اس رپورٹ میں دہلی کے لئے کافی راحت کی بات ہے کیونکہ اس کے مطابق راجدھانی میں 2001 سے لے کر اب تک کوئی قیدی جیل سے فرار نہیں ہوا ہے۔ یہ تھوڑی اطمینان کی بات ہے کہ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے ہرمندر سنگھ منٹو کو گرفتار کرلیا ہے باقی مفرور قیدیوں کو جلد سے جلد شکنجہ میں لینے کاکام تو ہوناہی چاہئے لیکن جیل اصلاحات کے محاذ پر اب بلاتاخیر توجہ دینی ہوگی۔ امید کی جاتی ہے نابھا جیل میں ہوئی اس غلطی کے بعد جیلوں کی سیکورٹی مضبوط کرنے کے سمت میں قدم اٹھانے کاموقعہ ملے گا۔
(انل نریندر)

29 نومبر 2016

پاکستان کے نئے آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ

پاکستان میں کئی دنوں سے جاری قیاس آرائیاں کہ فوج کے چیف جنرل راحیل شریف کو توسیع ملے گی یا نہیں ،ختم ہو گئی ہیں۔ جب وزیر اعظم نواز شریف نے سنیچر کو دیش کے نئے آرمی چیف کے نام کا اعلان کردیا اور بتایا کہ لیفٹیننٹ جنرل قبر جاوید باجوا پاکستان کے نئے فوجی سربراہ ہوں گے۔ وہ منگل کو اپنا عہدہ سنبھالیں گے اسی دن موجودہ آرمی چیف راحیل شریف ریٹائرہوجائیں۔بلوچ ریجمنٹ سے اپنا فوجی کیریئر شروع کرنے والے جنرل باجوہ کو پاکستان میں کشمیر امور کا ماہر مانا جاتا ہے۔ بھارت اور پاک کے پنجاب ریاست میں باجوہ فرقے کے کافی لوگ اپنے نام کے ساتھ باجوہ لکھتے ہیں۔ باجوہ لفظ کا مطلب باز رکھنے والے سے تھے۔باجوہ نام جاٹھ فرقے کے جڑے لوگوں کا ہوتا ہے۔ انہیں جٹ سکھ بھی بولا جاتا ہے۔ ان کی آبادی امرتسر ، جالندھر، چنڈ ی گڑھ میں ہے۔ پاکستان کے سیالکوٹ ، ملتان اور ساہیوال کے مسلمان بھی باجوہ لکھتے ہیں۔ پروفیشنل ساکھ رکھنے والے جنرل جاوید باجوہ کی تقرری کو بھارت کے ایکسپرٹ بھارت کے لئے پوزیٹو مان رہے ہیں کیونکہ دہشت گردی کو لیکر ان کا رویہ سخت ہورہا ہے۔ پچھلے دنوں انہوں نے کہا تھا پاکستان کو بھارت سے زیادہ بڑا خطرہ دہشت گردی سے ہے۔ باجوہ کا نام آرمی چیف کی ریس میں نہیں تھا ۔ ان کے بجائے بہاولپور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال اور ملتان کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم کے نام چل رہے تھے۔ جنرل راحیل شریف کے ریٹائرڈمنٹ کی خبر سے پاکستانی میڈیا حیران ہے۔ فوج نے ٹوئٹ کر جنرل راحیل شریف کے فوج کے عہدے پر 3 سال پورے ہونے پر 29 نومبر کو ریٹائر منٹ کی خبر دی تو میڈیا حیران ہوگیا کیونکہ پاکستان نے فوج نے کئی بار تختہ پلٹ کیا اور کئی بار فوج کے سربراہوں کو نوکری میں توسیع ملی ہے۔ ایسے میں راحیل شریف کو ریٹائر کرنے کے فیصلے سے لوگ حیران ہیں۔ اتنا ہی نہیں پاکستان کے سپریم کورٹ میں جنرل راحیل شریف کو فیلڈ مارشل بنانے کے لئے باقاعدہ ایک عرضی دائر کی گئی ہے۔ ایسی دو عرضیاں اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائرکی گئی تھیں جنہیں خارج کردیا گیا تھا۔ ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو ہی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ عرضی گزار نے کہا جنرل راحیل شریف نے امن اور جنگ کے وقت جس طرح تعمیل اور غیر معمولی اور پیش ور کار کردگی کا مظاہرہ کیا اور جس طرح کا انہوں نے وقف اور ایمانداری دکھائی جس وجہ سے انہیں صدر قابل قدر ایوارڈ دیا گیا اور ان کیشخصیت اس کے لئے پوری طرح اہل ہے۔ اب کیونکہ نئے پاک فوج کشمیرمعاملوں کے ماہر مانے جاتے ہیں ممکن ہے کہ وہ دہشت گردی کو اور بڑھاوا دیں۔ پاکستان کے ساتھ موجودہ وقت میں کشیدگی انتہا پر ہے۔ ایسے میں نواز شریف کا اپنا آرمی چیف بدلنا اہمیت کا حامل ہے۔ دیکھیں جنرل باجوہ لکیر سے ہٹ کر کچھ کرنے میں اہل ثابت ہوتے ہیں؟ ویسے یہ مانا جارہا ہے پاک فوج کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
(انل نریندر)

49 سال حکومت کی ،قتل کی 638 سازشیں کیں ناکام

پڑوس میں رہ کر قریب50 سال تک امریکہ کی آنکھوں میں کرکری بنے رہے کیوبا کے سابق صدر فیڈل کاسترو (90 سال) نے جمعہ کو ہمیشہ کیلئے آنکھیں بند کرلیں۔ کاسترو دنیا کے سب سے طویل عرصے تک حکومت کرنے والے لیڈروں میں شمار ہیں نہیں تھے بلکہ کمیونزم نظام کے ستون تھے جو سوویت یونین کے زوال کے بعد بھی ڈٹے رہے۔ فوجی ڈریس، لمبی داڑھی اور ہاتھوں میں سگار ان کی شخصیت کی پہچان تھی۔ امریکہ سے محض 90 میل دوری پر چھوٹے سے دیش کیوبا کا کمیونسٹ حکمراں امریکہ پرست فوجی ڈکٹیٹر فل خیریو بتستا کو7 سال تک لمبی لڑائی کے بعد اقتدار سے بے دخل کیاتھا۔ 1959ء میں امریکی مہادیپ میں پہلی کمیونسٹ حکومت بنائی۔ پانچ دہائی سے زیادہ عرصے تک اقتدار سنبھالا۔ وہ تھائی لینڈ کے مہاراجہ بھوسیبل اتلے تیج اور برطانوی مہارانی ایلزبتھ کے بعد سب سے لمبے وقت تک راج کرنے والے حکمراں رہے۔ اپنے عہد میں فیڈرل کاسترو نے 11 امریکی صدور سے لوہا لیا۔ سرد جنگ کے دوران انہوں نے کیوبا میں سوویت یونین کی نیوکلیائی میزائلوں کو اپنے دیش میں تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔ حالانکہ بعد میں سوویت یونین نے میزائلیں تعینات نہیں کیں۔ پچھلے سال امریکی صدر براک اوبامہ دوستی کا پیغام لیکر کیوبا پہنچے۔ وہ 1950 ء کے بعد کیوبا جانے والے امریکی صدر تھے۔ کہتے ہیں کہ امریکہ ان کا قتل کرانا چاہتا تھا۔ وہاں کی خفیہ ایجنسیوں نے انہیں مارنے کیلئے آپریشن مانگوج چلایا۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے کاسترو کو مارنے کے لئے 638 کوششیں کیں لیکن سب ناکام رہیں۔13 اگست 1926ء کو کیوبا کے زمیندار خاندان میں پیدا ہوئے فیڈرل نے 24 سال کی عمر میں کیوبا میں امریکی حمایتی سرکار کا تختہ پلٹنے کے لئے گوریلا ٹیم بنائی۔ کاسترو نے1952 ء میں فل خیریو بتستا کو ہٹانے کے لئے 81 لوگوں کے ساتھ انقلاب کا بگل پھونکا۔ کاسترو نے بتستا کو ہٹانے کے لئے ’دی موومنٹ‘ نام کی تنظیم بنائی۔ 1953ء میں ایک فوجی بیرک پر حملہ کیا لیکن کاسترو کو گرفتار کرلیا گیا، 15 سال کی سزا ہوئی لیکن وہ 19 مہینے بعد ہی رہا ہوگئے۔ کاسترو میکسیکو چلے گئے۔1956ء میں 80 ساتھیوں کے ساتھ لوٹے۔ بتستا کے خلاف گوریلا جنگ چھیڑی اور 1959ء میں بتستا کو ہٹا کر کیوبا میں کمیونسٹ اقتدار قائم کیا جو آج تک جاری ہے۔ کاسترو بھارت کے دوست تھے۔ انہوں نے 1973ء اور 1983ء میں بھارت کا دورہ کیا تھا۔ دہلی میں کاسترو کو نا وابستہ کانفرنس کے علامتی نشان ’گویل‘ میزبان وزیر اعظم اندرا گاندھی کو سونپنا تھا۔ دونوں اسٹیج سے اٹھے اور اندرا گاندھی نے ’گویل‘ لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا لیکن کاسترو کھڑے رہے، اندرا نے دوبارہ ہاتھ بڑھایا ،کاسترو مسکراتے رہے، اندرا نے جب تیسرے بار ہاتھ بڑھایا تو کاسترو نے انہیں گلے لگا لیا۔ کاسترو کی داڑھی ان کی پہچان تھی۔ 1961ء میں انہوں نے کہا تھا کہ میں داڑھی نہیں کاٹ سکتا میں اس کا عادی ہوں اور میری داڑھی دیش کے لئے معنی رکھتی ہے۔وہ کہتے تھے اگر آپ روزانہ 15 منٹ شیو کرتے ہیں سال میں 5 ہزار منٹ، میں اتنا وقت برباد نہیں کرسکتا۔ جب کیوبا خود بلیڈ بنانے لائق بن جائے گا تو میں شیونگ کرلوں گا۔ کیوبا کے مخالف امریکہ کے سابق صدر جان آف کینیڈی نے ایک بار کہا کہ کاسترو صرف لیٹن ڈکٹیٹر نہیں ہیں۔ اپنے ذاتی فائدے کے لئے ظلم ڈھا رہا ہے ۔ اس کی خواہشات اس کے اپنے سمندری ساحل سے بھی آگے ہیں۔ بل کلنٹن نے کہا تھا کہ کاسترو نے غیر قانونی طریقے سے امریکیوں کا قتل عام کیا۔ وہ غلط بھی تھا۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے بے قصور امریکیوں کو مارنے کے خلاف ناکہ بندی کی۔ امریکہ کے ہونے والے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کاسترو ایک ظالمڈکٹیٹر تھا۔ گولیاں چلانے والے دستے اور لوگوں کو اذیتیں دینے والے شخص کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اس نے صرف لوگوں پر ظلم کیا اور انقلاب کے دنوں میں فیڈرل کا نام دنیا میں بہت مقبول ہوا۔ وہ کہتے تھے کہ اس کو آگے نہیں بڑھنے دینا جب تک کامیابی نہ مل جائے۔ 2006ء سے کاسترو کی طبیعت خراب چل رہی تھی۔ دو سال بعد انہوں نے اقتدار اپنے چھوٹے بھائی راہل کاسترو کو سونپ دیا تھا۔ فیڈرل کاسترو کے دیہانت پر مغربی بنگال کی سبھی کمیونسٹ پارٹیوں نے گہرا دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہیں گلہائے عقیدت پیش کیا۔ لیفٹ فرنٹ نے ریاست بھر میں اپنے سبھی پارٹی کے دفتروں میں اگلے تین دنوں تک لال جھنڈا جھکا کر فیڈرل کاسترو کو آخری لال سلام کیا۔
(انل نریندر)

27 نومبر 2016

نہ بینکوں میں بھیڑ گھٹی نہ جنتا کی تکلیفیں گھٹیں، بڑھی ہے تو صرف سیاست

500اور 1000 روپے کے نوٹوں کی واپسی کے فیصلے پر حکمراں فریق اور اپوزیشن آمنے سامنے آچکی ہیں۔ وزیر اعظم دعوی کررہے ہیں کہ ان کی جانب سے ایپ کے ذریعے سے مانگی گئی رائے میں اب تک5 لاکھ میں سے 93 فیصدی لوگوں نے نوٹ بندی کے فیصلے کو صحیح مانا ہے۔ نوٹ بندی پر سیاسی واویلا رکنے کے بعد وزیر اعظم نے منگل کو ایک موبائل ایپ کے ذریعے سے عام جنتا سے اس بارے میں رائے دینے کوکہا تھا۔ اس سلسلے میں عوام سے 10 سوالوں کا جواب دینے کی اپیل کی گئی تھی۔ بدھوار کو ٹوئٹ پر جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 90 فیصد سے زیادہ نے نوٹ بندی کی حمایت کی ہے جبکہ صرف 2 فیصد نے اسے نا مناسب بتایا۔ نوٹ بندی کو لیکر پی ایم مودی کے ذریعے کرائے گئے سروے کو اپوزیشن نے یوں تو مسترد کردیا ہے لیکن اس سروے کو لیکر سیاسی اور سرکاری گلیاروں میں مباحثے جاری ہیں۔ اپوزیشن کو بحث کے ساتھ ساتھ تشویش بھی ہے کہ اگر یہ سروے صحیح میں ٹھیک ہے تو وزیر اعظم کی مقبولیت آسمان چھونے لگے گی۔ نوٹ بندی کے بعد اتنی پریشانیوں کے باوجود پی ایم کے تئیں لگاؤ اور کریز بنے رہنے کا توڑ کیا ہے؟ وہیں اپوزیشن یہ بھی مانتی ہے کہ سروے فرضی ہے۔ یہ بھی کہ بی جے پی کے 10 کروڑ ممبر دیش بھر میں پھیلے ہوئے ہیں ان ممبروں میں سے خاص کو ہی ایپس کا جواب دینے کے لئے لگایا گیا تھا اس لئے ایک ہی دن میں 5 لاکھ لوگوں نے اس میں حصہ لے لیا اور اس میں 93 فیصد نے پی ایم کے نوٹ بندی کے قدم کو پسند بھی کرلیا؟ کانگریس کے قومی سکریٹری جنرل اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی دگوجے سنگھ نے کہا ہے کہ500 اور 1000 روپے کے نوٹ بند ہونے سے دیش میں نہ تو کرپشن بند ہوگا اور نہ دہشت گردی و جعلی نوٹوں کا دھندہ اور نہ ہی کالا دھن بند ہوگا۔ انہوں نے کہا پچھلے 17-18 دنوں کے اندر کالا دھن رکھنے والا کوئی شخص بینک میں لائن میں کھڑا دکھائی نہیں دیا۔نئے نوٹ سے رشوت لینے کا دھندہ کافی سرگرم ہے۔ کل ہی ایکسس بینک کا منیجر ساڑھے تین کروڑ روپے کے پرانے نوٹ بدلنے کے عوض رشوت لیتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔ جموں و کشمیر میں پچھلے دنوں مارے گئے آتنکیوں کے پاس سے دو دو ہزارکے چار نوٹ برآمد ہوئے ہیں۔ جعلی نوٹوں کا دھندہ کرنے والے آج بھی اپنا کاروبار چلانے میں مصروف ہیں۔ جو لوگ مودی کی تعریف کریں انہیں تو دیش بھکت سمجھا جاتا ہے اور جو نہیں کررہے ہیں انہیں باغی کہا جارہا ہے۔ نوٹ بندی پر وہ شخص کھل کر بولے جو برسوں خاموش رہنے کے لئے مشہور ہیں۔ میں بات کررہا ہوں سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی۔ عام طور پر خاموش اور سنجیدہ رہنے والے سابق وزیر اعظم اور دنیا کے مشہور ماہر معاشیات منموہن سنگھ نے راجیہ سبھا میں بیٹے مودی سے کہا کہ نوٹ بندی بدنظمی کی جیتی جاگتی علامت بن گئی ہے۔ انہوں نے نوٹ بندی کو سرکار کی طرف سے منظم اور لوٹ قراردیا ہے۔ معیشت کے ماہر منموہن سنگھ نے مودی کو آگاہ کیا کہ نوٹ بندی کے فیصلے سے دیش کا جی ڈی ٹی 2 فیصدی تک گر گیا ہے۔ انہوں نے پی ایم سے پوچھا کہ کیا پی ایم اس دیش کا نام بتائیں گے جہاں نقدی جمع کرنے پر روک نہیں ہے۔ لیکن نقدی نکالنے پر روک ہے۔ اس کے بعد مایاوتی ایک قدم اور آگے بڑھ گئیں۔ مودی کے ایپ سروے پر طنز کرتے ہوئے بسپا چیف نے پی ایم مودی کو چیلنج دے ڈالا کہ وہ اگر اپنے سروے پر بھروسہ کرتے ہیں تو نوٹ بندی کے اشو پر ہی صحیح معنی میں لوگوں کے نظریات جاننا چاہتے ہیں تو لوک سبھا بھنگ کرکے نئے چناؤ کرائیں۔ بہن جی نے نوٹ بندی پر پی ایم کے سروے کو غلط بتاتے ہوئے کہا کہ یہ سروے نقلی اور اسپانسرڈ ہے۔ سپا نیتا نریش اگروال نے کہا نوٹ بندی کا فیصلہ اترپردیش کے چناؤ کے پیش نظر لیا گیا ہے اور دوسرے دیشوں میں جہاں بھی ایسافیصلہ لیا گیا ہے وہاں کے تاناشاہوں نے فیصلہ لیا ہے۔ جنتا اس فیصلے سے پریشان ہے اور چناؤ میں جنتا اس کا ضرور جواب دے گی۔ نوٹ بندی کے نفع نقصان پر چل رہی بحث کے درمیان سماج کا ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو اس فیصلے سے صرف اور صرف مسئلے ہی جھیل رہا ہے۔ دہاڑی مزدور، ریڑھی ،ٹھیلی یا فٹ پاتھ پر سامان بیچنے والا چھوٹا تاجر ہو یا پھر گنگا کنارے 10 روپے میں مچھلی کا دانا بیچنے والا ہو، ان سبھی کا کام دھندہ چوپٹ ہوگیا ہے۔ نوٹ بندی کے سبب دہاڑی مزدوری کرنے والوں کی زندگی مشکل ہوگئی ہے۔ روزانہ کام کی تلاش میں مزدوروں کا میلہ لگتا ہے۔ پہلے تو مزدوروں کی اتنی مانگ تھی کہ آدھے گھنٹے میں ہی سبھی کو مزدوری مل جاتی تھی لیکن نوٹ بندی کے بعد آدھے مزدوروں کو کام نہیں ملتا۔ ان کے سامنے روزی روٹی پر مشکل آ کھڑی ہوئی ہے۔ ہمارے دیہات میں کسان اس لئے پریشان ہے کہ پرانی کرنسی سے اسے بیج نہیں مل رہا ہے۔ بہت سی جگہوں پر سرکاری احکامات پہنچے نہیں ہیں تاکہ وہ بیج کے لئے پیسہ نکال سکیں۔ سرکار کے حکم کے باوجود 500-1000 کے نوٹ پر کسانوں کو کھاد بیج ملنے سے پریشانی آرہی ہے۔ سرکاری اداروں سے کسانوں کو کہیں نہ کہیں 500 کے نوٹ پر آسانی سے خرید بیج مل رہا ہے لیکن کہیں کہیں سرکار کی گائڈ لائن نہ آنے کا حوالہ دے کر پرانے نوٹ نہیں لئے جارہے ہیں۔ یہی صورتحال ڈیبٹ کارڈ اور کسان کریڈٹ کارڈ کو لیکر بھی یہ افواہ ہے یا سچ ہے سرکار کو بدنام کرنے کی سازش ہے؟ لیکن بازار میں کرنسی خوب چل رہی ہے۔باقی کے دھندے بیشک کمزور ہوںیہ دھندہ تیزی پکڑ چکا ہے۔ 10 لاکھ کے 7 لاکھ روپے ملیں گے۔ 13 لاکھ دو تو 10 لاکھ لے لو۔ ٹھگی کرنے والے الگ سے سرگرم ہیں۔ کچھ لوگ پکڑے بھی گئے ہیں۔ واقف کاروں کے مطابق پرانے نوٹ بدلنے کا کام بازار میں زوروں پر چل رہا ہے۔ شروع میں 20 پرسنٹ کم پر نوٹ بدلنے کا ریٹ تھا ۔ پھر یہ 25-30 ہوا اب یہ 35-40 فیصد ہوگیا ہے ۔ یعنی 100 روپے 60 روپے ملیں گے۔ یہ سب دھندہ چل رہا ہے۔ نئے نوٹ کہاں سے آرہے ہیں؟ جانکار مانتے ہیں کہ یہ بینکوں کے کچھ ملازمین اور دیش میں کئی مقامات کے چیسٹ ملازمین کی ملی بھگت سے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ اس طرح لگتا ہے کہ نوٹ بندی کے فوراً بعد ہی کالا دھن کمانے کا ذریعہ کچھ لوگوں نے بنا لیاہے۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے ایک افسر نے بتایا پرانے نوٹوں کی شکل میں موجودہ کالادھن دھڑلے سے سفید کیا جا رہا ہے۔ بڑے پیمانے پر حوالہ کاروباری سرگرم ہیں۔ ممبئی، دہلی میں کچھ بینک ملازمین کی مدد سے حوالہ کاروباری آرام سے پرانے نوٹوں کو نئے نوٹ میں بدلوا رہے ہیں۔ سونے میں بھی کالا دھن کھپایا جارہا ہے۔ فی الحال تو یہ نوٹ بندی نہیں ہے ، یہ نوٹ بدلی ہے۔ اس میں شبہ ہے کہ اس طرح نہ تو کالا دھن بند ہوگا اور نہ ہی کرپشن۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...