Translater

29 نومبر 2025

ایک بار پھر سرخیوں میں افغانستان!

پچھلے کچھ دنوں سے ایک بار پھر افغانستان سرخیوں میں ہے ۔دو واقعات رونما ہوئے ہیں جنہوں نے افغانستان کو سرخیوں میں لا دیا ہے ۔پہلی واردات امریکہ کی ہے ۔امریکی راجدھانی واشنگٹن ڈی سی میں دل دہلا دینے والی واردات ہوئی ۔وائٹ ہاؤس سے کچھ دوری پر بدھوار کی دوپہر دو بجے ویسٹ ورجینیا نیشنل گارڈس کے جوانوں پر اچانک کی گئی فائرنگ نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ۔وائٹ ہاؤس میں تالا بندی کر دی گئی۔دونوں فوجیوں کی تکلیف دہ موت ہو گئی ۔واشنگٹن کی میئر نیورل بگوچر نے اسے وارگیٹڈ شوٹنگ بتایا ہے ۔صدر ٹرمپ نے حملہ آور کو جان کر بتاتے ہوئے انجام بھگتنے کی وارننگ دی ہے ۔یہ فائرنگ اس وقت ہوئی جب گارڈ کے ممبر ایک میٹرو اسٹیشن کے پاس تعینات تھے ۔حملہ آور اچانک بھیڑ سے آیا اور بغیر کسی وارننگ کے گولی چلانے لگا وہیں آس پاس موجود دیگر فوجیوں نے فوراً بھاگ کر موقع پر پہنچے اور حملہ آور پر قابو کر لیا ۔گولی چلانے والے کا نام رحمت اللہ لکن وال ہے ۔(29)سال کا بتایا جاتا ہے کہ یہ افغانستان کا شہری ہے ۔جو 2021 میں امریکہ آیا تھا کہاجارہا ہے کہ یہ افغانستان میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے لئے بھی کام کر چکا ہے۔صدر ٹرمپ نے بائیڈن سرکار کے تحت امریکہ میں آئے افغانستان کے ہر شہری کی پھر سے جانچ کرانے کا بھی وعدہ کیا ۔ٹرمپ نے فلوریڈا سے شوشل میڈیا پر رائے زنی کرتے ہوئے حملہ آور کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت بڑی قیمت چکائے گا ۔حملہ آور نے حملہ کیوں کیا اس کی معلومات ابھی نہیں آئی ہے اس لئے اس کی پہلی سرخی افغانستان کی تب بنی جب وہ وائیٹ ہاؤس کے باہر گولی چلانے والا ایک افغانی نکلا ۔دوسری سرخی تب بنی جب تین دن پہلے افغانستان کے ایک میڈیا چینل نے یہ خبر چلائی کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف پارٹی کے چیف عمران خان کو جیل میں مار ڈالا گیا ہے ۔اس خبر کے آتے ہی پاکستان میں آگ لگ گئی ۔بتادیں کہ عمران خاں پچھلے دو سال سے راول پنڈی کی عدیالہ جیل میں کرپشن کے الزامات میں بند ہیں ۔عمران خان کی سیکورٹی کو لے کر کئی طرح کی باتیں کہی جارہی ہیں ۔اس درمیان عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے بھی اپنے والد کی حفاظت کو لے کر ایکس پر ایک پوسٹ لکھا ۔میرے والد 845 دن سے جیل میں ہیں پچھلے چھ ہفتوں سے انہیں ایک ڈیتھ سیل میں تنہائی میںرکھا گیا ہے جہاں کسی طرح کی صاف صفائی نہیں ہے ۔عدالت کے واضح حکم ہونے کے باوجود ان کی بہنوں کو ہر ملاقات سے محروم رکھا گیا ہے ۔نہ کوئی فون نہ کوئی ملاقات نہ ہی ان کے زندہ ہونے کا کوئی ثبوت اور میرے بھائی ہم دونوں اپنے والد سے کوئی رابطہ نہیں کر پائے ۔قاسم نے لکھا ہے کہ یہ پوری طرح سے بلیک آؤٹ کوئی سیکورٹی پروٹوکول نہیں ہے ان کی حالت کو چھپانے اور ہمارے خاندان کو یہ جاننے سے روکنے کا ایک سوچی سمجھی کوشش ہے ۔اور میرے والد کی حفاظت اور اس غیر انسانی تنہائی سنٹرکے ہر نتیجہ کے لئے پاکستان سرکار کو اخلاقی اور بین الاقوامی سطح پر پوری طرح جوابدہ ٹھہرایا جائے گا ۔ہم امید کرتے ہیں کہ عمران کی موت محض افواہ ہو اور وہ صحیح سلامت ہوں ۔ (انل نریندر)

25 نومبر 2025

بہار میں محکمہ داخلہ سمراٹ چودھری کو ملے گا!

نتیش سرکار کے وزراءکے قلمدان کے بٹوارے کے ساتھ جمعہ کو بہار کے اقتدار اعلیٰ میں بڑی تبدیلی نظر آئی ۔2005 کے بعد مسلسل محکمہ داخلہ وزیراعلیٰ نتیش کمار ہی سنبھالے ہوئے تھے جوعام طور پر سبھی وزیراعلیٰ اپنے پاس ہی رکھتے ہیں لیکن تازہ ذمہ داری تقسیم میں یہ اہم ترین محکمہ ان سے چھینا گیا ہے اور مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے نور نظر سمراٹ چودھری کو دے دیا گیا ہے ۔اس سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی ہے کہ بہار میں بی جے پی کا سرکار پر پورا کنٹرول ہوچکا ہے ۔نتیش کمار محض ایک ریموٹ وزیراعلیٰ بن گئے ہیں۔بی جے پی کی برسوں سے یہی کوشش رہی ہے کہ بہار کا کنٹرول بی جے پی کے ہاتھ میں آجائے اسی مقصد سے چناو¿ سے پہلے بھاجپا نے یہ اعلان نہیں کیا تھا کہ نتیش ہی اگلے وزیراعلیٰ ہوں گے ۔بی جے پی کے اس مقصد کی حصولی میں ابھی پوری کامیابی نہیں ملی ہے ۔چناو¿ نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ بہار میں نتیش آج سب سے بڑے قدآور لیڈر ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اس مجبوری کے چلتے نتیش کو بی جے پی کی یہ شرط ماننی پڑی کہ محکمہ داخلہ ان کے پاس نہیں ہوگا ۔بی جے پی کے پاس رہے گا ۔اور نتیش کو آخر جھکنا پڑا اور امت شاہ کے بھروسہ مند سمراٹ چودھری کو نائب وزیراعلیٰ کے ساتھ ساتھ وزارت داخلہ بھی مل گیا ۔اگر یہ کہا جائے کہ اب نتیش کمار ریموٹ وزیراعلیٰ ہیں تو شاید غلط نہ ہو ۔اصل کنٹرول تو دہلی سے ہی ہوگا ۔ اب تمام انتظامی پولیس لاءاینڈآرڈر وغیرہ سمراٹ چودھری کے ہاتھ میں ہی ہوگا ۔بہار میں لالو راج ختم ہونے کے بعد نتیش کمار نومبر 2005 سے اقتدار میں چل رہے ہیں اس کے بعد لگاتار 20 سال سے محکمہ داخلہ ان کے پاس تھا ۔لالو کے راج کو جسے جنگل راج کی بات اس چناو¿ میں لاءاینڈآرڈر اور دہشت کے طور پر پیش کیا گیا کہ اس دور کو ختم کیا اب امن و امان لاگو کروانے میں نتیش کا خاص اشتراک رہا ۔کرائم پر نکیل کسی ،فاسٹ ٹریک کورٹ بنائی گئی۔پولیس کو کھلی چھوٹ دی اور سخت قانون و نظام کے ذریعے یہ خیال بنا کہ جرائم پیشہ چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو سیاسی دبدبہ بھی رکھتا ہو، قانون کی نظر سے کوئی بچ نہیں سکتا۔گڈ گورننس کی حکمرانی میں ایسا ماحول بنا کہ نتیش کمار گڈ گورننس بابو کہلانے لگ گئے ۔دو دہائی کے دوران بہار میں کوئی بڑا فساد بھی نہیں ہوا ۔نتیش کمار سے اس بار محکمہ داخلہ ملنا چونکانے والا ضرور ہے ۔لوگ اس کے مطلب کئی نکال رہے ہیں کیا بی جے پی یہ اشارہ دے رہی ہے کہ مجبوری کے چلتے نتیش کو وزیراعلیٰ تو بنا دیا لیکن کتنے د ن تک وہ اس عہدے پر ٹکے رہیں گے۔اس پر قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے لیکن حلف برداری سے پہلے نتیش کمار کو یہ سمجھا دیا گیا تھا کہ چونکہ بی جے پی کی سیٹیں جے ڈی یو سے زیادہ ہیں اس لئے یہ محکمہ داخلہ ہمارے پاس ہی رہے گا ۔نتیش کمار نے اپنے پیروں پرپہلے ہی کلہاڑی مار لی اس لئے اسے قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے اور نہ ہی متبادل ہوگا لیکن نتیش منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں وہ اتنی آسانی سے ہار ماننے والے نہیں ہیں ۔کیا مستقبل قریب میں بہار میں کوئی نیا کھیلا بھی ہونے والا ہے اور دیکھنے کو مل سکتا ہے ؟ویسے بی جے پی کو محکمہ داخلہ ملنے سے ریاست میں جرائم پیشہ پر تو نکیل کسے گی ہی لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو اس کا الٹا اثر بھی ہوسکتا ہے ۔محکمہ داخلہ بی جے پی کو ملنے سے پارٹی مخالفین خاص کر آر جے ڈی کانگریس میں بے چینی بڑھنا فطری ہے۔آخر میں جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت نے الزام لگایا کہ بہار میں نتیش کمار سرکار کی نئی کابینہ کرپٹ اور جرائم پیشہ سے بھری ہے ۔یہ کابینہ بہار کے لوگوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے ۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...