Translater
24 جنوری 2026
میں ہی ہوں شنکر آچاریہ !
پچھلے کچھ دنوں سے بی جے پی انتظامیہ اور شنکر آچاریہ منی مکتیشور آنند جی مہاراج میں جم کر تنازعہ چھڑا ہوا ہے ۔ایک طرف شنکر آچاریہ جی اور دیگر سادھوسنت ہیں تو دوسری طرف اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور ان کا میلہ انتظامیہ ہے ۔سارا معاملہ شنکر آچاریہ سوامی ابھی مکتیشور آنند سرسوتی کے پریاگ راج میں گنگا اسنان نہ کرنے کو لے کر شروع ہوا ۔پریاگ راج میں چلے ماگھ میلے میں مونی اماوسیہ کے موقع پر ہونے والے روایتی شاہی اسنان کو لے کر جوتش پیٹھ کے شنکر آچاریہ سوامی ابھی مکتیشور آنند سرسوتی اور میلہ انتظامیہ کے درمیان سوامی جی کے پالکی پر سوار ہوکر اسنان کو لے کر شروع ہوا ۔انتظامیہ نے سوامی جی کی پالکی پر اسنان کرنے سے روکا اس پر انتظامیہ اور سوامی جی کے حمایتیوں میں ہاتھا پائی تک ہو گئی ۔سوامی جی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے حکام نے نہ صرف سوامی جی کی پالکی کو توڑنے کی کوشش کی بلکہ ان کے حمایتی سادھو بھکتوں کی جٹا سے پکڑ کر مارا ۔اور جیل میں ٹھونس دیا ۔اس کے احتجاج میں شنکر آچاریہ جی نے دھرنا شروع کر دیا جو اب بھی جاری ہے ۔سوامی جی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی معافی کے بغیر آشرم میں داخل نہیں ہوں گے اور موقع پر ہی دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں ۔اس درمیان میلہ انتظامیہ نے انہیں نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 گھنٹے میں یہ ثابت کرنے کو کہا ہے کہ وہ شنکر آچاریہ کیسے ہیں ؟ میلہ انتظامیہ نے شنکر آچاریہ جی سے پوچھا ہے کہ انہوں نے اپنے نام کے ساتھ شنکر آچاریہ کی ڈگری کیوں جوڑی ؟ نوٹس میں یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ایک معاملہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ہےا یسے میں کسی دھرم آچاریہ کو جوتش پیٹھ کا شنکر آچاریہ کی منظوری حاصل نہیں ہے باوجود اس کے سوامی نے میلہ زون میں لگے بورڈوں پر اپنے نام کے آگے یہ عنوان لکھوا دیا ، بتادیں کہ سوامی ابھی مکتیشورآنند کو ان کے گورو سوامی سوروپ آنند سرسوتی کے دیہانت کے بعد شنکر آچاریہ بنایا گیا تھا ۔سوامی مکتیشور آنند سرسوتی کا پہلا ابھیشیک بھی شنکر آچاریہ نے کیا تھا ۔اب سوامی ابھی مکتیشور آنند نے سپریم کورٹ کے وکیل اے کے مشرا کے ذریعے اتھارٹی کو پانچ صفحات کا جوابھیجا ہے ۔اپنے جواب میں سوامی ابھی مکتیشور آنند نے میلہ اتھارٹی کے الزامات کو سرے سے مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ شنکر آچاریہ ہیں ۔سوامی جی نے 15 نکات میں پریاگ راج میلہ اتھارٹی کو جواب دیا ہے ۔انہوں نے لکھا ہے ، پیر کو آنکیٹ میلہ کی جانب سے نوٹس بھیج کر عزت مآب ابھی مکتیشور آنند کو بدنام اور بے عزت کرنے کے برے ارادے سے جاری کیا گیا ہے ۔جو توہین اور امتیاز پر مبنی ہے ۔شاردھا پیٹھ دوراکہ کے جگت گورو شنکر آچاریہ سوامی سوروپ آنند سرسوتی مہاراج کی وصیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔تروینی مارگ کیمپ کے باہر پریس کانفرنس میں میلہ اتھارٹی کے نوٹس پر شنکر آچاریہ سوامی ابھی مکتیشور آنند سوامی نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ نوٹس میں سپریم کورٹ کے جس حکم کا حوالہ دیا گیا ہے وہ 14اکتوبر 2022 کا ہے ۔جبکہ 11 ستمبر 2022 کو شنکر اچاریہ سوامی سوروپ آنند سرسوتی برہم لین ہونے کے اگلے دن 12 ستمبر کو سوامی سوروپ آنند سرسوتی کے آشرم میں شنکر آچاریہ کے طور پر ان کی تاجپوشی ہو چکی تھی ۔جس طرح سے میلہ انتظامیہ نے شنکر آچاریہ اور ان کے ماننے والوں کے ساتھ جو برتاؤ کیا ہے اس کی توقع نہیں کی جاتی ۔دھرم گوروؤں کو اس طریقہ سے بے عزت کرنا شرمناک ہے ۔اور سادھوؤں کی جٹاؤں کو پکڑ کر پیٹنا اس سے بھی زیادہ قابل مذمت ہے ۔اب تو شنکر آچاریہ سوامی ابھی مکتیشور آنند جی کے حق میں اور شنکر آچاریہ اور سنت کھڑے ہو گئے ہیں ۔اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جو کچھ بھی چاہتے ہیں کو معاملہ نپٹانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔میلہ انتظامیہ شنکر آچاریہ ابھی مکتیشور آنند جی سے معافی مانگیں او انہیں باعزت گنگا اشنان کروادیں تو تنازعہ دور ہوسکتا ہے ۔اگر ایسانہیں ہوتا تو یہ تنازعہ بڑھتا جائے گا اور تمام سادھو سماج میدان میں اتر آئے گا ۔
(انل نریندر)
22 جنوری 2026
گرین لینڈ کو لے کر رہیں گے :ٹرمپ
پچھلے کئی دنوں سے گرین لیڈکو لے کر زبردست رسہ کشی جاری ہے ۔اس ڈرامہ کے تین اہم کردار ہیں ۔پہلے ہے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو کررہے ہیں کہ اب وقت آچکا ہے ، گرینڈ لینڈ لے کر ہم رہیں گے۔ٹرمپ جھکنے کے موڈ میں نہیں لگتے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈکو اپنی ناک کا سوال بنا لیا ہے ۔وہ کبھی گرین لینڈکی فوج کا مذاق اڑاتے ہیں تو کبھی وہاں فوجی کاروائی کی بات کرتے ہیں ۔ٹرمپ نے یوروپی ممالک کو کھل کر دھمکی دے ڈالی ہے کہ جو دیش گرین لینڈ سے جڑے امریکی ارادوں کی حمایت نہیں کریں گے ،انہیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔انہوں نے اب تو 8 یوروپی ملکوں پر دس فیصد ٹیرف لگانے کی بھی دھمکی دے ڈالی ہے ۔ٹرمپ کسی بھی قیمت پر گرین لینڈ حاصل کرنا چاہتےہیں وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر امریکہ نے گرین لینڈ پر اپنا قبضہ نہیں کیا تو روس یا چین اس پر اپنا قبضہ کر لے گا تو پہلا کردار تو ڈونلڈ ٹرمپ ہیں ۔دوسرا کردار یوروپی ممالک ہیں ۔گرین لینڈ مسئلے پر ٹرمپ نے یوروپ کے 8 ملکوں پر ٹیرف بڑھانے کی وارننگ پر یوروپی یونین نے سخت رخ اپناتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی دباؤ بنانے کے لئے ٹیرف لگایاجائے گا تو یوروپی یونین بھی جوابی کاؤنٹر میں ٹیرف لگائے گا ۔یوروپ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مفادات اور مختاری سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا ۔حالانکہ یوروپی یونین نے ابھی جوابی ٹیرف کی شرح طے نہیں کیا ہے ۔یوروپی یونین میں ٹرمپ کے گرین لینڈ بیان اور ٹیرف دباؤ سے یوروپی یونین -امریکہ ٹریڈ معاہدہ بھی مشکل میں پڑ گیا ہے ۔یوروپ کے لیڈر اس قدم کو دباؤ کی سیاست بتا رہے ہیں ۔اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اشارے دیے ہیں کہ یوروپ بلیک میل کے آگے نہیں جھکے گا ۔وہیں فرانس کے صدر امینوئل میکروں نے کہا کہ کوئی بھی دھمکی یوروپ کا راستہ نہیں بدل سکتی ۔وہیں تیسرا کردار گرین لینڈ کے لوگ ہیں اور ان کے حمایتی ۔گرین لینڈ کی راجدھانی نک میں سنیچر کو ہزاروں لوگ برف سے دبی سڑکوں پر مارچ کرتے نظر آئے ۔یہ مارچ گرین لینڈ پر قبضہ کو لے کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے خلاف تھا ۔حکمت عملی اور معدنی اثاثے سے بھرپور آرکیٹک جزیرہ گرین لینڈ پر امریکہ نے کنٹرول کی بات دہرائی ہے ۔مظاہرین نے گرین لینڈ کا قومی پرچم بھی لہرایا ۔ہاتھوں میں تختیاں اٹھائی اور نعرے لگائے -گرین لینڈ بکاؤ نہیں ہے ۔ امریکہ کے ذریعے یہ کہنا کہ گرین لینڈ اس کی قومی سلامتی کیلئے ضروری ہے ۔ ماناکہ بے دلیل نہیں کہا جاسکتا ۔ایسا ماننے والے ٹرمپ کوئی پہلے صدر نہیں ہیں ان سے پہلے بھی کئی امریکی صدور نے ایسی دلیلیں دیں تھی یہ بات دیگر ہے کہ وہ آگے نہیں بڑھ سکے ۔عالمی تجارتی نظریہ رکھنے والے شخص ہیں لیکن تجارت آدرش واد سے نہیں چلتی ۔یہ صحیح ہے کہ تجارت اور معیشت ہمیشہ سے حکمت عملی اوزار نہیں ہیں لیکن اس طرح سے سارے قاعدے قانون ، روایات طاق پر زبردستی کسی دوسرے دیش پر قبضہ کرنے کی دھمکی کہاں تک صحیح ہے ۔جس طرح سے امریکہ اور یوروپی ممالک آمنے سامنے آگئے ہیں اس سے ایک نیا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔ٹرمپ ایک کے بعدا یک نیا مورچہ کھولے جارہے ہیں ۔اس بار ان کے نشانے پر نیٹو ممالک ہیں ۔
(انل نریندر)
20 جنوری 2026
چاہ بہار پربھارت کے پیچھے ہٹنے کی قیاس آرائیاں!
ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ملکوں پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد سے ہی یہ سوال بناہوا تھا کہ بھارت پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟ ایران سے بھارت کی تجارت امریکی پابندیوں کے سبب بے شک وہاں نہیں ہے لیکن ایران حکمت عملی طور سے بھارت کے لئے کافی اہم ہے ۔ایران کے جنوبی ساحل پر سیستان -بلوچستان صوبہ میں واقع چاہ بہار بندرگاہ اسی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے ۔اسے بھارت اور ایران مل کر بنا رہے تھے تاکہ بھارت کو وسطی ایشیا اور افغانستان تک سیدھے پہنچ مل سکے ۔چاہ بہار بھارت کے لئے اس لئے بھی اہم ہے کیوں کہ اس کے ذریعے وہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے وسطی ایشیا پہنچ سکتا ہے ۔لیکن امریکہ کے مزید ٹیرف کے اعلان کے بعد سے بھارت کے چاہ بہار بندرگاہ سے باہر ہونے کی خبریں زور پکڑنے لگی ہیں ۔ان خبروں اور قیا س آرائیوں کو دیکھتے ہوئے بھارت سرکار نے گزشتہ جمعہ کو جواب دیا ہے ۔وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو یہاں کہا ،جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 28 اکتوبر ،2025 کو امریکہ کے محکمہ مالیات نے ایک خط جاری کیا تھا جس میں 26 اپریل، 2026 تک جائز اور مشروط پابندی چھوٹ کی سمت میں گائیڈ لائنس دی گئی تھیں ۔ہم نظام کو قطعی شکل دینے کے لئے امریکی فریق کے ساتھ رابطہ میں ہیں ۔ایران کے ساتھ ہمارا تعلق لمبے عرصے سے چلا آرہا ہے ۔ہم واقعات پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس ساجھیداری کو آگے بڑھائیں گے ۔پچھلے برس بھارت اور ایران کے ساتھ تجارت 1.6 ارب ڈالر تھی ۔ایران -بھارت کی کل تجارت کا 0.15 فیصد حصہ ہے ۔دراصل چاہ بہار کو لے کر ان قیاس آرائیوں کو ہوا ملی ۔اکنامک ٹائمس میں شائع ایک رپورٹ سے اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت نے چاہ بہار پروجیکٹ سے خود کو حکمت عملی طور سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق بھارت نے اپنی طے سرمایہ کاری رقم پہلے ہی ایران کو ٹرانسفر کر دی ہے۔اور اس پروجیکٹ کو چلانے والی سرکاری کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ نے باقاعدہ طور سے دوری بنا لی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی امریکی پابندی سے بچا جاسکے ۔اپوزیشن پارٹیاں ،سینئرصحافی اور یہاں تک کہ بین الاقوامی امور کے واقف کار بھی امریکہ کو لے کر بھارت کی پالیسی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے بھارت بار بار امریکہ کو ناراض نہ کرنے کے دباؤ میں چپ رہا ہے ۔اور اپنے مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے سوشل میڈیا ایکس پر سوال کیا ہے کہ بھارت آخر کب تک امریکہ کے دباؤ میں فیصلہ لیتا رہے گا۔انہوں نے لکھا اصل اشو صرف چابہار یا روس کے تیل کا نہیں ہے ۔اصلی سوال یہ ہے کہ مودی امریکہ کو بھارت پر دباؤ ڈالنے کیوں دے رہے ہیں ؟ فوجی امور کے ماہر ڈاکٹر برہما چیلانی نے ایکس پر لکھا 2019 میں جب امریکہ نےایران کے تیل پر پابندی لگائی ، تو بھارت نے اچانک ایران سے تیل خریدنا بند کر دیا اس سے بھارت اور ایران کے بیچ چلی آرہے توانائی رشتے تقریباً ختم ہو گئے ۔اور اس کا سیدھا فائدہ چین کو ملا ۔چاہ بہاربندرگاہ پاکستان کے گوادر پورٹ ، جسے چین چلارہا ہے اس کے مقابلے بھارت کا ایک حکمت عملی جواب ماناجاتا ہے ۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ایران کا چاہ بہار پورٹ بھارت کے لئے بے حد اہم ٹریڈ ہب ہے ۔اس پورٹ کو ڈولپ کرنے میں ہم نے 4700 کروڑ روپے کا سرمایہ لگایا ہوا ہے۔چاہ بہار بھارت کو پاکستان بائی پاس کر افغانستان اور سنٹرل ایشیا پہنچنے میں مدد کرتا ہے ۔ایران کو لے کر فی الحال ٹرمپ کا رویہ کبھی ہاں کبھی ناں والارہا ہے ۔فی الحال ڈپلومیٹک پہل کر بھارت امریکہ کے ساتھ اس مسئلے پر اپنی بات منوا سکتا ہے ۔ایسی توقع ہم رکھتے ہیں۔بھارت اپنے مفادات کو بالاتر رکھے اور کسی بھی باہری دباؤ میں نہ آئے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
مٹ جائیں گے ،پر جھکیں گے نہیں!
جنگیں ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں یہ جذباتوں سے جیتی جاتی ہیں۔ ایرانی عوام نے یہ ثابت کر دکھا دیا ۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...