Translater

18 جنوری 2025

راہل اور کیجریوال کے ایک دوسرے پر حملے !

دہلی کے سیلم پور میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے دہلی اسمبلی چناو¿ کے لئے منعقد کردہ پہلی ریلی کے دوران سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی حکمت عملی کو بی جے پی جیسا بتایا ۔علاقائی سطح پر کانگریس نیتا اروند کیجریوال کے خلاف بولتے رہے ہیں لیکن یہ پہلا موقع تھا جب راہل گاندھی نے سیدھے کیجریوال پر وار کر دیا ۔پچھلے کئی دنوں سے دونوں ہی سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے پر بی جے پی سے ملے ہونے کا الزا م لگا رہی ہیں اس پر اروند کیجریوال نے جوابی وار کیا ہے اور کہا کہ راہل گاندھی نے انہیں گالی دی ۔کیجریوال نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے راہل گاندھی پر ایک لائن نہیں بولی لیکن جواب بی جے پی والوں کی طرف سے آرہا ہے ۔قریب 7 مہینے پہلے دونوں پارٹیاں لوک سبھا چناو¿ ایک ساتھ اتحاد کرکے لڑی تھیں ۔حالانکہ اس کے بعد ہریانہ اسمبلی چناو¿ میں دونوں الگ الگ لڑیں ۔لیکن اعلیٰ کمان کی سطح پر ایسے زبانی جملے پہلی بار سنائی پڑرہے ہیں ۔کیجریوال نے اپنے شوشل میدیا اکاو¿نٹ ایکس پر لکھا ،کیا بات ہے ۔۔۔۔میں نے راہل گاندھی جی پر ایک ہی لائن بولی تو جواب بی جے پی سے آرہا ہے ۔بی جے پی کو دیکھیے کتنی تکلیف ہو رہی ہے ۔سیلم پور میں اپنی پہلی دہلی اسمبلی چناو¿ ریلی میں راہل گاندھی نے کہا کیجریوال جی آئے اور کہا کہ دہلی صاف کر دوں گا ۔کرپشن مٹا دوں گا ۔پیرس بنا دوں گا۔اب حالات ایسے ہیں زبردست آلودگی ہے ۔لوگ بیمار رہتے ہیں باہر نہیں نکل پاتے ۔جب میں ذات پات مردم شمار ی کی بات کرتا ہوں تو نریندر مودی جی او رکیجریوال جی کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکلتا ۔ایسا اس لئے ہے کہ دونوں چاہتے ہیں کہ دیش میں پسماندہ دلتوں و آدی واسیوں اور اقلیتوں کو حصہ داری نا ملے ۔اس بیان کے کچھ دیر بعد ہی اروند کیجریوال نے اپنے ایکس پر لکھا آج راہل گاندھی جی دہلی میں اترے اور انہوں نے مجھے بہت گالیاں دیں لیکن میں ان کے بیانوں پر کچھ تبصرہ نہیں کروں گا ۔ان کی لڑائی کانگریس بچانے کی ہے میری لڑائی دیش بچانے کی ہے ۔دونوں لیڈروں کے بیچ اس جواب در جواب حملے میں بی جے پی بھی اپنا رد عمل دینے سے نہیں چوکی ۔بی جے پی کے آئی ٹی سیل چیف امت مالویہ نے کہا دیش کی چنتا بعد میں کرنا ابھی نئی دہلی کی سیٹ تو بچا لو ۔راہل گاندھی دہلی میں کانگریس کی کھوئی ہوئی زمین کو پھر سے تلاشنے کی کوشش کررہے ہیں ۔شیلا دکشت کے جانے کے بعد سے دہلی میں کانگریس فرش پر آگئی ہے۔پچھلے دس گیارہ سالوں سے کانگریس کا دہلی سے صفایا ہو گیا ہے ۔اس لئے ہم راہل گاندھی کی حکمت عملی کو صاف سمجھ سکتے ہیں ۔پھر ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ کس طرح کیجریوال نے شیلا دکشت پر مختلف سطح کے کٹاش کئے ۔اور انہیں بے عزت اور ذلیل کیا تھا۔ان کے لڑکے سندیپ دکشت اب گن گن کر اپنے بیانوں کے ذریعے بدلا لے رہے ہیں ۔یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کس طرح عام آدمی پارٹی نے ہریانہ ،گوا ،گجرات وغیرہ ریاستوں میں اپنے امیدوار زبردستی کھڑکے کرکے کانگریس کو ہروا دیا تھا ۔اب لگتا ہے کانگریس کو نا تو انڈیا اتحاد کی پرواہ ہے اور نا ہی اس بات کی فکر ہے کہ اگر دہلی کانگریس اور عآپ کے ووٹوں میں تقسیم ہوتی ہے تو اس کا سیدھا فائدہ بھاجپا کو ہوگا ۔اب دہلی کی چناوی بساط دلچسپ ہوتی جارہی ہے ۔ (انل نریندر)

بھاگوت کے بیان پر راہل کا پلٹ وار!

آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے سچی آزادی والے بیان پر زبردست تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے ۔پہلے بتاتے ہیں کہ آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے کہا کیا تھا ۔انہوں نے سوموارکے روز اندور میں جو وہاں کہا وہ رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے کو قومی دیوی اہلیہ پرسکار دینے کے لئے موجودہ تھے اس پرسکار سماروہ میں بھاگوت نے کہا رام مندر کی پران پرتیشٹھا کو سدرشی کے طور پر منایا جانا چاہیے۔اسے ہی نہیں اسے ہی بھارت کا سچا یوم آزادی مانا جانا چاہیے ۔موہن بھاگوت نے کہا تھا پرتیشٹھا دادشی ، پوشکل ایکادشی کا نیا نام کرن ہوا۔بھارت آزاد ہوا 15 اگست کو سیاسی آزادی آپ کو مل گئی ۔انہوں نے آگے جو کہا اس کا مقصد یہ تھا کہ آصل آزادی تو ہمیں پربھو رام کے رام مندر کی پرتیشٹھا کے ساتھ ملی ۔موہن بھاگوت کے اس بیان پر کانگریس کا سخت رد عمل سامنے آیا ۔پارٹی کے نیتا راہل گاندھی نے نئی دہلی میں بدھوار کے روز کانگریس کے نئے ہیڈ کوارٹر کے افتتاح کے موقع پر موہن بھاگوت کے اس بیان کا جواب دیا ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ہیڈ کوارٹر ایک خاص سبھا میں ملا ہے ۔میرا خیال ہے اس کی ایک علامتی اہمیت ہے ۔کیوں کہ کل آر ایس ایس چیف نے کہا تھا بھارت 1947 میںآزاد نہیں ہوا تھا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو سچی آزادی اس دن ملی جب رام مندر بنا ۔وہ کہتے ہیں کہ آئین ہماری آزادی کی علامت نہیں ہے ۔راہل گاندھی نے مزید کہا کہ موہن بھاگوت نے یہ ہمت ہے کہ ہر دو تین دن میں وہ دیش کو یہ بتاتے رہتے ہیں کہ آزادی کی تحریک کو لے کر وہ کیا نظریہ رکھتے ہیں ۔راہل گاندھی نے کہا کہ موہن بھاگوت یہ کہہ رہے تھے کہ آئین بے معنی ہے ۔ان کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ برطانوی راج کے خلاف لڑکر حاصل کی گئی ہر میم بے معنی ہے ۔اور ان کے اندر اتنا حوصلہ ہے کہ وہ پبلک طور پر یہ بات کررہے ہیں ۔موہن بھاگوت نے اگر یہ بیان کسی اور دیش میں دیا ہوتا تو ان کے خلاف کاروائی ہوتی ۔اور انہیں دیش دشمن قرار دے دیا جاتا اور وہ گرفتار بھی ہو جاتے ۔بھاگوت کہہ رہے ہیں کہ بھارت کو 1947 میں آزاد ی نہیں ملی ۔ایسا کہنا ہر ہندوستانی کی توہین ہے ۔آزادی کے لئے لڑے شہیدوں کی بے عزتی ہے۔آگے راہل گاندھی نے کہا ہماری آئیڈیا لوجی ہزاروں سال سے آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی سے لڑتی آرہی ہے ۔لیکن آپ سمجھتے ہیں کہ ہم صرف بی جے پی آر ایس ایس جیسی سیاسی تنظیموں سے لڑرہے ہیں تو آپ یہ سمجھ نہیں رہے ہیں کہ آخر ہو کیارہا ہے۔ہم بی جے پی آر ایس ایس اور اب خود انڈین اسٹیٹ سے لڑررہے ہیں ۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے موہن بھاگوت نے رام مندر کی پران پرتیسٹھا کے دن کو سچی آزادی کا دن بتا کر اپنی غلطی سدھارنے کی کوشش کررہے ہیں ۔بھاگوت نے کچھ وقت پہلے کہا تھا کہ ایودھیا میں رام مندر تعمیر کے بعد کچھ لوگوں کو لگنے لگاہے کہ وہ ایسے مسئلے اٹھا کر ہندوو¿ں کے نیتا بن سکتے ہیں ۔اس کے بعد کہا تھا کہ ہمیں ہر مسجد کے نیچے مندر تلاشنا بند کر دینا چاہیے لیکن اب مندر کی پران پرتیشٹھا کے دن کو سچی آزادی بتا کر اپنی غلطی سدھارنے کی کوشش کررہے ہیں ۔اس بیان میں موہن بھاگوت نے ایک تیر سے دو نشانے تاکنے کی کوشش کی ہے ۔ایک طرف بھاگوت نے بی جے پی سے سنگھ کے مبینہ ٹکراو¿ کو کم کرنے کی کوشش کی ہے تو دوسری طرف ہندو حمایتیوں کو یہ بتا دیا ہے کہ رام مندر کے بعد آر ایس ایس کلچر راشٹر واد کی لہر کی وجہ سے ہی بی جے پی کو چناوی کامیابی ملی ہے ۔اس دیش میں اپنی سرکار چاہیے تو اس لہر کو دھیما نا پڑنے دیں ۔ (انل نریندر)

16 جنوری 2025

آستھا کے مہاکمبھ ہر ہر گنگے!

پریاگ کے تریوینی سنگم میں آستھا کا کمبھ میلہ شروع ہو گیا ہے۔پورا شہر خیموں میں تبدیل ہو چکا ہے ۔جس کی آبادی کچھ دنوں میں دنیا کے بڑے بڑے ملکوں کے پیچھے چھوڑ دیں گی ۔آستھا کے اس سنگم میں ڈکی لگانے کو کروڑوں لوگ پہنچ چکے ہیں ۔تریوینی سے نظر اٹھاﺅ تو ایک طرف کشتیوں کی لمبی قطاریں دوسری طرف خیموں کی دنیا نظر آتی ہے ۔پریاگ راج میں 13 جنوری سے شروع ہوا مہاکمبھ صرف آستھا کا ہی سنگم نہیں ہے ۔بلکہ یو پی انتظامیہ کی صلاحیت کا امتحان بھی ہے ۔کمبھ کا اختتام مہاشیوراتری 26 فروری کو ہونے والا ہے ۔سرکار کا دعویٰ ہے کی اس بار کمبھ میں 40 کروڑ لوگ کے شامل ہونے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔چپہ چپہ پر پولس نگاہ رکھ رہی ہے ۔ڈرون سے نگرانی ہو رہی ہے۔بم ناکارہ اسکوائڈ لگائے گئے ہیں۔اس کے علاوہ این ایس جی کے جوان بھی تعینات ہیں۔الگ الگ اکھاڑوں کے سادھوں سنت شاہی انداز میں کمبھ میں شرکت کر رہے ہیں۔اس دوران ان کے ساتھ ہاتھی گھوڑے ہونٹھ اور ناج گانا گاتے سینکڑوں بھگت ہیں۔سینکڑوں کی تعداد میں الگ الگ اکھاڑوں میں اپنے شاندار ٹینڈ لگائے ہیں ۔جہاں وہ پوجا پاٹ کر رہے ہیں ۔اس کے علاوہ جونا اکھاڑا میں ناگاہ سادھو بدن پر بھسم اور گلے میں رودرراکش کی مالائے پہنے ہیں ۔بی بی سی کی بات چیت میں ایک ناگاہ سادھو کہتے ہیں جب ساتھنا میں آ جاتے ہیں تو ٹھنڈ کی کوئی بات نہیں رہ جاتی بھکتی میں شکتی ہوتی ہے پھر ڈھنڈ نہیں لگتی وہ کہتے ہیں کے ہم مدہوٹی بابا ہیں ہم کپڑوں کی جگہ جسم پر بھسم لگاتے ہیں اس سے سردی کم لگتی ہے ۔اور یہ ہمارا جسم کا کپڑا ہے ۔ادھر کئی ایسے با با کمبھ میں آئے ہیں جن کا دعوی ہے کے انہوںنے کئی برسوں سے اپنا ایک ہاتھ اوپر اٹھا رکھا ہے وہ خود کو اردباڈ کہتے ہیں ۔ایسے ہی ایک آسام کے کام کھیا پیٹ سے آئے گنگا پوری مہاراج ہیں ۔جو 3 فٹ 8 انچ قد کے ہیں انکا کہنا ہے وہ 32 سالوں سے نہیں نہائے ۔شہر کے اے ڈی جی بھانو بھاسکر کے مطابق میلہ زون میں پردیش کے لئے الگ الگ سنتوں سے آنے والے 7 بڑے راستے بنائے گئے ہیں ان روٹو ں پر گاڑیوں کے لئے میلہ زون میں قریب 100 سے زیادہ پارکنگ بنائی گئی ہیں 1000 کے قریب سپیشل ٹرینیں چلائی گئی ہیں ۔کمبھ میں رکنے کے لئے کئی لاکھ لوگوں کا انتظام ہیں ۔اس میں مفت رین بسیروں سے لیکر 5 ستارہ لگژری کیمپ تک موجود ہیں ۔جن کا ایک رات کا کرایہ ایک لاکھ روپے سے بھی زیادہ ہے ۔انڈین ریلوے نے کھانے پینے اور ٹوریزم کارپوریشن نے سینٹر زون میں مہاکمبھ گرام نام سے ایک ٹینڈ سٹی بسائی ہے ۔جہاں شردھالوﺅ کے لئے سوپر ڈیلکس کمرے اور ویلا بنائے گئے ہیں ۔ان کمروں کا یومیہ کرایہ 16-20 ہزار روپے یہاں کھانے ناشتا ڈنر وغیرہ کے ساتھ ساتھ گرم پانی کا بھی انظام ہے ۔اس کے علاوہ ایک ڈوم سٹی بنایا گیا ہے یہاں شیشہ کے گمبد نما کمرے بنائے گئے ہیں ۔جو زمین سے 18 فٹ اوپر ہے ۔ایک 5 ستارہ ہوٹل میں جو سہولیت ہوتی ہے وہ سبھی سہولیات اس میں ملیں گی ۔دیش وہ بیرونی ملک سے شردھالو پریاگ راج آتے ہیں ۔بھیڑ کی وجہ سے وہ دھار تک نہیں آ پاتے اس لئے ہم نے اس پروجیکٹ کو ڈیزائن دیا ہے ۔میلہ منتظم سنگھ بتاتے ہیں کے ہمارے یہاں شاہی اسنان کے دن ایک دن کا یومیہ کرایہ ایک لاکھ گیارہ ہزار پے وہیں عام دنوں میں 81 ہزار روپے ہے اس میں مہاراجا بینڈ کے ساتھ ساتھ ٹی وی اور الگ سے اٹیچ باتھ روم کی بھی سہولت ہے اس پورے پروجیٹ میں قریب 57 کروڑ روپے لگے ہیں ۔کمبھ میں 7 دن شاہی اسنان ہوں گے ۔ان دنوں میں ہمارے یہاں ایک ڈبل بیڈ والے کمرے کا کرایہ 20 ہزار وپے عام دنوں میں یہ 10 ہزار روپے رکھا گیا ہے۔وہیں دوسری طرف شہر میں میونسپل کارپوریشن نے جگہ جگہ پر عارضی رین بسیرے بنائے ہیں یہاں مفت رہنے کی سہولت ہے ۔کمبھ میں لاکھوں لوگ کلپواس کرتے ہیں انہیں کلپواسی کہتے ہیں ۔پچھلے کئی دنوںسے بھگتوں کا پریاگ راج پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے ۔یہ لوگ ماگھ کے پورے مہینے تمبو لگاکر پوجا پاٹھ کرتے ہیں ۔اپنے ساتھ ضرورت کا سبھی سامان گھر سے لیکر آتے ہیں ۔ہم سانسرک بھامہ موح اور بھوتک چیزوں سے دور رہے بس کھانا اور بھجن کرے ،ٹھنڈی اور گرمی کا احساس نہ ہو یہی کلپواس ہے ۔پریاگراج کی باشندہ شیاملی تواری پچھلے 7 ورشوں سے کلپواس کر رہی ہیں ۔وہ ماگھ گنگا کا نام لیتے ہوئے رونے لگتی ہے ۔وہ کہتی ہیں یہاں گنگا جی نہانے آئے ہیں ،جو گلتیاں ہوئی ہیں انہیں گنگا ماں دور کریں گی۔ہم یہاں ایک مہینہ رہیں گے اور یہاںبھوجن کریں گے ،لہسن وپیاز اور سرسوں کے تیل کے استعمال سے دور رہتے ہیں اور نمک بھی ہم سیندھا کھاتے ہیں ۔(انل نریندر)

14 جنوری 2025

کیا اندیا اتحاد میں درار پڑ گئی ہے؟

دہلی اسمبلی چناو¿ سے پہلے اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد انڈیا میں درار پڑتی نظر آرہی ہے۔اس چناو¿ نے ایک بار پھر اپوزیشن اتحاد کے اندر رسہ کشی کی قلعی کھول دی ہے۔لوک سبھا چناو¿ کے بعد ویسے تو ہریانہ ،مہاراشٹر ،جھارکھنڈ اور جموں وکشمیر میں چناو¿ ہوچکے ہیں لیکن دہلی کا یہ ایسا چناو¿ ہے جب اتحاد کے اندر فی الحال کانگریس پوری طرح الگ تھلگ پڑی ہوئی ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ باقی جن ریاستوں میں چناو¿ ہوئے وہاں کی بڑی علاقائی طاقتوں نے انڈیا اتحادکا حصہ بن کر چناو¿ لڑا تھا ۔اس لئے ووٹوں کا بکھراو¿ کم ہوا۔دہلی کے چناوی دنگل میں عام آدمی پارٹی اور کانگریس دونوں ہی اہم کھلاڑی ہیں لہذا قومی سطح پر بنے اتحاد کی پیوند پوری طرح سے اکھڑ چکی ہے ۔انڈیا اتحاد کے پور ی طرح سے اتحادی پارٹیوں کی آپسی تجزیہ پہلے سے ہی دلچسپ اور تضاد بھرے رہے ہیں۔عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے رشتہ کو ہی لے لیجئے ۔دونوں پارٹیوں نے دہلی میں ساتھ مل کر 2024 کا لوک سبھا چناو¿ لڑا لیکن پنجاب میں الگ الگ اور یہ اور بات ہے کہ دہلی کے لو ک سبھاچناو¿ میں دونوں پارٹیوں کو بری ہار ملی ۔ساتوں کی ساتوں سیٹیں ہار گئیں۔موصول اطلاعات سے لگ رہا ہے کہ کئی اتحادی پارٹیاں کانگریس کوالگ تھلگ کرنے کے موڈ میں ہیں ۔تبھی تو انڈیا اتحاد میں لیڈرشپ تبدیلی کی بات ہوتی ہے تو کبھی خود ممتا بنرجی کہتی ہیں کہ میں انڈیا اتحاد کی قیادت کرنے کو تیار ہوں ۔اب دہلی کے چناو¿ کو لے کر کانگریس کو الگ تھلگ کرنے کی باتیں ہورہی ہیں ۔سماج وادی پارٹی کے بعد ترنمول کانگریس نے بھی دہلی اسمبلی چناو¿ میں عام آدمی پارٹی کو حمایت دینے کا اعلان کیا ہے ۔عآپ قومی کنوینر اروند کیجریوال نے ایکس پر لکھا ٹی ایم سی نے دہلی چناو¿ میں عآپ کو حمایت دینے کا اعلان کیا ہے ۔میں شخصی طور سے ممتا دیدی کا شکر گزار ہوں انڈیا اتحاد میں شامل پارٹیوں کی حمایت پر نئی دہلی سے بی جے پی امیدوار پرویش ورما نے کہا دہلی میں اندیا اتحاد کی دیگر سبھی پارٹیوں بے وجود ہیں ۔ان کے پاس کوئی ووٹ بینک نہیں ہے۔شیو سینا (ادھو گروپ کے لیڈر)سنجے راوت کے ذڑیعے عآپ اور کانگریس کو حد میں رہ کر چناو¿ لڑنا چاہیے ۔کانگریس نیتا پون کھیڑانے جمعرات کو کہا کہ لوک سبھا چناو¿ کے لئے قومی سطح پر انڈیا اتحاد قائم کیا گیا تھا۔کئی ریاستوں کی حالت کی بنیاد پر چاہے وہ کانگریس ہو یا علاقائی پارٹیاں وہ آزادانہ طور سے فیصلہ لیتی ہیں ۔ایک ساتھ لڑنا ہے یا الگ تھلگ ۔وہیں جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر اتحاد صرف پارلیمانی چناو¿ کے لئے تھا تو اسے ختم کر دینا چاہیے آگے کہا عام آدمی پارٹی کانگریس اور دوسری پارٹیوں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ بی جے پی کا مقابلہ کیسے کیا جائے اور اہم بات یہ ہے کہ یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ دہلی میں بی جے پی کو ہرانے میں سب سے اہل کون ہے ؟ ادھر بی جے پی نے دہلی چناو¿ کو وقار کا سوال بنا رکھا ہے ۔پچھلے 26 سال سے بی جے پی دہلی حکومت بنانے سے دور ہے ۔مودی شاہ کی ناک کے نیچے بی جے پی کسی بھی صورت میں دہلی جیتنا چاہتی ہے ۔دیکھیں چناو¿ کمپین آگے کیسے کیسے بڑھتی ہے ۔ (انل نریندر)

کیلیفورنیا میں آگ سونامی !

امریہ کے لاس اینجلس کے کچھ حصوں میں جنگل میں لگی آگ مسلسل پچھلے کچھ دنوں سے پھیلتی جارہی ہے۔اس سے اب تک درجنوں لوگوں کی موت کی خبریں ہیں اور سینکڑوں عمارتیں جل کر راکھ ہوچکی ہیں ۔یہاں قریب دو لاکھ لوگوں کوآگ سے متاثرہ علاقہ خالی کرنے کے احکامات دئیے گئے ہیں ۔فائر ملازمین کی تمام کوششوں کے باوجود لگی آگ پر قابو نہیں پایاجاسکا ہے ۔لاس اینجلس کاو¿نٹی میں مقیم قریب 179000لوگوں کو اپنے گھر خالی کرنے پڑے ہیں ۔جو لوگ کچھ اٹھا کر گھر سے نکل سکتے ہیں وہ نکل رہے ہیں ۔پولیس کا کہنا ہے کہ علاقہ میں اب تک موصولہ اطلاع کے مطابق کم سے کم 11 لوگوں کی موت ہو گئی ہے اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے ۔لا اینجلس کاو¿نٹی کے شیرف لابٹ رونا نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ وہاں بم گرایا گیا تھا ۔انہوں نے بتایا کہ خالی کرائے گئے کچھ علاقوں میں لوٹ مار اورچوری کے واقعات بڑھ گئے ہیں ان معاملوں میں اب تک بیس لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے اس درمیان ہالی وڈ ہلس علاقہ میں پھیلی آگ کم ہونے تو لگی ہے لیکن ابھی تک پوری طرح اس پر قابو نہیں پایا جاسکا ۔ہالی ووڈ ہلس علاقہ میں پانچ ہزار تین سو زیادہ عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں ۔ان میں گھر ،اسکول اور سنسیٹ ولے وارڈ پر واقع کمرشیل بلڈنگیں شامل ہیں ۔جن مشہور ہستیوں کو اس آگ میں اپنا گھر کھونا پڑا ہے ان میں کچھ دن پہلے گولڈن گلوب ایوارڈ یافتہ لسٹر نیشٹر اور اینم برانڈی کے علاوہ مشہور ہالی ووڈ اداکارہ پیرس ہلٹن بھی شامل ہیں ۔امریکی بیمہ صنعت کو ڈر ہے کہ یہ امریکہ کی تاریخ میں جنگلوں میں لگی آگ سب سے مہنگی ثابت ہوگی کیوں کہ آگ کے دائرہ میں آنے والی املاک کی قیمت بہت زیادہ ہے ۔اس آگ کی وجہ سے بیمہ یافتہ قریب آٹھ ارب ڈالر تھی ۔پراپرٹی کے نقصان ہونے کا اندیشہ ہے ۔فی الحال کم سے کم اگلے ہفتے تک اس علاقہ میں بارش کا کوئی امکان نہیں ہے ۔اس آگ سے لاس اینجلس کے بڑے حصے میں بجلی سپلائی ٹھپ ہو گئی ہے ۔ٹی وی پر دیکھا کہ سڑکوں کے نیچے گیس پائپوں میں بھی آگ لگ رہی ہے ۔جس کے سبب آگ تیزی سے پھیلتی جارہی ہے ۔اب تو سڑکوں کو بھی کھودا جارہا ہے تاکہ گیس پائپوں میں آگ نا لگ پائے ۔آگ سے لڑنے کی تیاریوں کو لے کر سیاسی تنازعہ بھی شروع ہو گیا ہے ۔یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کچھ فائر ملازمین کی پائپوں میں پانی تک نہیں ہے ۔اس مہینے کی 20 تاریخ کو امریکہ کے نومنتخب صدر کا عہدہ سنبھالنے جارہے ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس مسئلے کو اٹھایا ہے ۔کیلیفورنیا کے فائر سروس بٹالین کے چیف ڈیوڈ اکیونا کے مطابق اس علاقہ میں قریب 95 فیصد جنگلی جانور بھی انسان لگتے ہیں ۔حالانکہ حکام نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ موجودہ آگ کیسے لگی ۔امریکی سرکار کی تحقیق میں صاف طور سے کہا گیا ہے کہ مغربی امریکہ میں بڑے پیمانہ پر جنگلوں میں لگی خوفناک آگ کا تعلق اب ماحولیاتی آب وہوا کی تبدیلی ہے ۔اس آگ کے پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ ہوائیں ہیں جو زمین سے سمندر ی ساحل کی طرف بہتی ہیں ۔ماناجاتا ہے کہ قریب 100 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زیادہ چلنے والی ان ہواو¿ں نے آگ کو بھڑکایا ہے ۔کیلیفورنیا کی یہ آگ بھارت جیسے ترقی یافتہ ملکوں و دنیا کے تمام غریب ملکوں کے لئے بھی ایک وارننگ ہے کہ قدرت سے اتنا کھلواڑ نا کرو کہ آگ کی سونامی آجائے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...