Translater

02 اکتوبر 2015

دہلی میں بجلی شرحوں پر روک لگانے کا کریڈٹ کیجریوال سرکار کو ہے

دہلی کے شہریوں نے تب راحت کی سانس ضرور لی ہوگی جب دہلی الیکٹری سٹی ریگولیٹری کمیشن( ڈی ای آر سی) نے اپنا فیصلہ سنایا کہ دہلی میں بجلی کے داموں میں اضافہ نہیں ہوگا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے پچھلے چار برسوں میں 2011 سے یہ پہلی بار ہے جب ڈی ای آر سی نے عوام کو راحت دی ہے۔ بڑھتی مہنگائی کے اس دور میں بجلی بلوں کی مارنے پہلے ہی بوجھ سے دبے دہلی کے شہریوں کی کمر توڑ رکھی ہے۔ ان بجلی کمپنیوں کو تو دہلی کے شہریوں کو لوٹنے کا لگتا ہے کھلا لائسنس ملا ہوا ہے۔ ہمیں کہنے میں کوئی قباحت نہیں کہ ان بدلے حالات کا کافی کریڈٹ عام آدمی پارٹی کو جاتا ہے۔ عام آدمی پارٹی کا یہ دعوی صحیح تھا کہ بجلی کمپنیاں اناپ شناپ طریقے سے خرچے بڑھا کر دکھاتی ہیں اور اسی کو بنیاد بنا کر اپنا خسارہ بھی بڑھا دیتی ہیں۔ حال ہی میں سی اے جی کی لیک ہوئی رپورٹ میں وزیر اعلی اروند کیجریوال نے بجلی کمپنیوں پر جو الزام لگائے تھے وہ پے در پے سو فیصدی صحیح ثابت ہوئے ہیں۔ اب تک بجلی کمپنیاں جھوٹا خسارہ دکھا کر جبلی کے دام بڑھا لیا کرتی تھیں۔ جس کے بارے میں بدقسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ نہ تو کانگریس احتجاج کیا کرتی تھی اور نہ ہی بھاجپا۔ کیجریوال کا سخت موقف اور سی اے جی کی رپورٹ نے ان بجلی کمپنیوں کے گورکھ دھندے کا پردہ فاش کردیا ہے۔ ان میں ریلائنس کمپنی، ٹاٹا پاور دونوں شامل ہیں۔ حیرانی تو ٹاٹا جیسے صنعت کار کے ذریعے دھاندلی کرنے کے الزامات پر ہے۔ ٹاٹا ہاؤس سے یہ کبھی امید نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ بھی ایسے گورکھ دھندے میں شامل ہوگی۔ بجلی کمپنیوں کے خسارے میں اس سال کروڑوں روپے کی کمی آئی ہے۔ اس سے بھی صاف ہے کہ بجلی کمپنیوں کو نقصان کی وجہ دہلی میں بجلی کے دام کی وجہ سے نہیں ہورہا تھا بلکہ انتظام کی خامیوں اور بجلی چوری سے ہورہا تھا۔ اس میں ایک اہم وجہ مہنگی بجلی کی خریداری بھی تھی۔ اس میں کوئی نہ کوئی گڑ بڑی ضرور تھی نہیں تو بغیر ڈی آر سی ’’نو آبجیکشن‘‘ سرٹیفکیٹ حاصل کئے یا دادری پلانٹ سے وہ مہنگی بجلی کیوں خریدتی؟ کیا وجہ ہے کہ اب بجلی کمپنیوں کو موجودہ بجلی شرح پر بجلی سپلائی کرنے سے سال2015-16 میں قریب445 کروڑ روپے کا فائدہ ہونے کی امید ہے۔ کیا ہم اس سے یہ نتیجہ نکالیں کے بجلی کمپنیاں زبردستی خود کو خسارے میں دکھا رہی تھیں اور بہت غور کرنے والی بات یہ ہے کہ دہلی ودیوت بورڈ کے قریب25 ہزارملازمین کی پنشن کا بوجھ صارفین پر کس حساب سے ڈالا جارہا ہے؟ جب سرکار نے2002ء میں بجلی کا نجی کرن کرتے وقت ان کی پنشن کے لئے ایک پنشن ٹرسٹ فنڈ بنا کر اس میں اتنی رقم جمع کردی تھی کہ وہ زندگی بھر پنشن پا سکیں۔ پھر اس رقم کو کس دیگر مد میں کیسے خرچ کیا گیا؟ اس کے لئے ذمہ دار کون ہے؟ معاملہ اب عدالت میں زیر سماعت ہے۔ پھر پنشن کی رقم کا بوجھ صارفین پر کیوں ڈالا گیا؟ ڈی آر سی کے صارفین اور جنتا کے مفادات کے لئے بنایا گیا ہے نہ کے آپ بجلی کمپنیوں سے مل کر جنتا کولوٹیں۔ ڈی آر سی کی تشکیل نو ہونی چاہئے اور ایماندار عوام کے تئیں ہمدردی رکھنے والے افسران کو اس میں شامل کیا جانا چاہئے۔ ڈی آر سی کی لاپرواہی اور بجلی کمپنیوں کی دھاندلے بازی کا خمیازہ بجلی صارفین بھگت رہے ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ راحت کا یہ سلسلہ آنے والے برسوں میں بھی دہلی کے شہریوں کو ملتا رہے گا اوراس لوٹ مار پرپوری طرح لگام لگے گی۔
(انل نریندر)

گوڑ گاؤں پولیس کمشنر اور جوائنٹ سی پی میں ٹھنی

بدفعلی کے ایک ہائی پروفائل معاملے میں ہریانہ پولیس کے دو سینئر پولیس افسر آمنے سامنے آگئے ہیں۔ گوڑ گاؤں کے سابق ڈپٹی کمشنر کے بیٹے اجے بھاردواج پر لو ان پارٹنر سے آبروریزی کے الزام کی جانچ کو لیکر پولیس کمشنر نودیپ سنگھ ورک جوائنٹ کمشنر (ٹریفک) بھارتی اروڑہ نے میڈیا کے سامنے ایک دوسرے پر سنگین الزام لگائے۔ بھارتی اروڑہ نے شکایت ڈی جی پی سے بھی کی ہے۔ سرکار نے ڈی جی پی کرائم کو پورے معاملے کی جانچ کرنے کو کہا ہے۔ جانچ اب نئے سرے سے چلے گی۔ تنازعے کی جڑ سابق آئی ایس ،آر پی بھاردواج کے خاندان سے متعلق ہے۔ دراصل آبروریزی کے معاملے کی جانچ بھارتی اروڑہ کررہی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ پولیس کمشنر متاثرہ لڑکی کی مرضی کے مطابق رپورٹ بنانے کیلئے دباؤ بنا رہے ہیں اور انہیں پریشان کررہے ہیں۔ کیریئر خراب کرنے تک کی دھمکی دے رہے ہیں۔ سارا معاملہ کچھ اس طرح ہے۔ اجے بھاردواج گوڑ گاؤں کے سابق ڈپٹی کمشنر آر پی بھاردواج کا بیٹا ہے اور ایم اینفی میں کام کرتا ہے۔ مس چنڈی گڑھ رہ چکی لو ان پارٹنر نے الزام لگایا ہے کہ اجے نے آر ڈی سٹی میں واقع گھر میں تین سال سے بھی زیادہ وقت تک آبروریزی کی۔ اس نے وعدہ کیا تھا کہ بیوی سے طلاق لے کر اس سے شادی کرے گا۔ دفعہ376 اور 506 کے تحت26 جولائی 2014ء کو معاملہ درج کیا گیاتھا۔ بھارتی نے پورے معاملے کی سی بی آئی جانچ کرانے کی مانگ کی ہے۔ بھارتی کا کہنا ہے کہ ورک کے اشارے پر اجے و ان کے گھروالوں کو ملزم بنایا گیا ہے۔ اجے اور وہ عورت دونوں سات سال سے لو ان ریلیشن میں تھے۔ ان کے دو بچے بھی ہیں۔ ایسے میں ریپ کا معاملہ نہیں بنتا۔ ورک اقدام قتل کا معاملہ درج کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہم نے مخالفت کی ،ڈی جی پی نے جانچ سونپی اس سے پہلے ورک نے معاملہ کورٹ میں پہنچادیا۔ پولیس کمشنر کے اشارے پر اجے کی طرفداری ہوئی۔ ادھر ورک نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی ریپ کے ملزم کو بچا رہی ہے۔ الزام بے بنیاد ہے۔ معاملہ میں کوئی دخل اندازی نہیں کی گئی۔معاملہ 26 جولائی 2004 کو درج ہوا۔ 28 جولائی کو ملزم گرفتار ہوا۔ معاملہ23 نومبر کو میرے جوائن کرنے کے کچھ ہی ماہ پہلے ہوا تھا۔ متاثرہ نے الزام لگایا ہے کہ بھارتی ملزم کی بہن ہے اس لئے وہ ملزم کو بچا رہی ہے۔ معاملے کی رپورٹ ڈی جی پی کو بھیج دی گئی ہے۔ وزیر اعلی منوہر لال نے ریاستی پولیس چیف ڈی جی پی یشپال سنگھل سے پوری رپورٹ مانگی ہے۔ ادھر ڈی جی پی سنگھل نے دونوں آئی پی ایس افسران کی شکایت ملنے کا دعوی کرتے ہوئے شعبہ جاتی جانچ کے بعد کسی نتیجے پر پہنچنے کی بات کہی ہے۔ ایسے معاملے کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں جب ریاست کے سب سے سینئر پولیس افسران اس طرح کے معاملے کو لیکر آمنے سامنے آگئے ہوں۔
(انل نریندر)

01 اکتوبر 2015

مودی کے نکتہ چیں بھی مانیں گے کہ انہوں نے ہندوستان کی شان بڑھائی ہے

میں وزیر اعظم نریندر مودی کا دیوانہ نہیں ہوں اور نہ ہی نکتہ چیں۔ میں نہ تو ان کی ہر بات کی آنکھ بند کرکے تعریف کرتا ہوں اور نہ ہی ہر بات میں خامیاں ہی ڈھونڈتا ہوں۔ مجھے جو بات اچھی لگتی ہے وہ کہہ دیتا ہوں اور جو نہیں وہ بھی کہہ دیتا ہوں۔ اس بات کو تو ان کے نکتہ چینی کرنے والے بھی مانیں گے کہ نریندر مودی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد دنیا میں بھارت کی ایک نئی پہچان بنائی ہے اور ہندوستانیوں کا سر شان سے دوبالا کیا ہے۔ نہیں تو بیرونی ممالک میں بھارت کی ساکھ یہ بن گئی تھی کہ بھارت تو سپیروں کادیش ہے جہاں سڑکوں پر ہاتھی چلتے ہیں۔ جس طرح سے امریکہ سمیت دنیا کے تمام ممالک میں جہاں بھی مودی گئے ہیں ، ان کا خیر مقدم ہوتا ہے یہ بہت اہم ہے۔یہ خیر مقدم کوئی اسٹیج کے ذریعے انتظام کیا ہوا نہیں ہے۔ انہوں نے ہمیشہ بھارت کے مفاد کی بات کی ہے اور دیش کو آگے رکھا ہے۔ حالیہ امریکی دورہ پر جس طرح سے ان کا گرمجوشی سے خیر مقدم ہوا ہے ایسا کسی بھی پی ایم کا نہیں ہوا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ جنہیں امریکہ کا پٹھو مانا جاتا تھا ، انہیں بھی کبھی اتنا شاندار خیر مقدم نہیں ملا۔بھارت تو تب بھی اتنا بڑا تھا اور اتنی ہی بڑی مارکیٹ تھی لیکن ان سب کے باوجود وہ دنیا کے پس منظر پر کوئی چھاپ نہیں چھوڑ پائے۔ نریندر مودی بھلے ہی ہندوستان کے اندر نکتہ چینیوں کا سامنا کررہے ہوں، اپنے دیش میں مودی کی تنقید ہورہی ہے اور پوچھا جارہا ہے کہ ان اچھے دنوں کا کیا ہو جس کے ڈھیر سارے وعدے انہوں نے کئے تھے؟ چناؤ میں شرمناک پٹخنی کھا چکی کانگریس اپنی خفت میں انہیں ہوا باز اور این آر آئی پی ایم جیسے لقب سے نواز رہی ہو لیکن اندر خانے وہ بھی جانتے ہیں کہ مودی نے دنیا میں بسے ہر ہندوستانی کو نئی پہچان اسی دیش میں دی ہے۔ گوگل ، فیس بک اور مائیکرو سافٹ و ایپل کمپنیوں کے سی ای او کوئی معمولی شخص نہیں ہوتا یہ اس وقت دنیا کے سب سے اچھی دماغدار شخصیتیں ہیں تبھی تو اربوں روپے کی کمپنیاں چلا رہے ہیں۔ ان سرکردہ بزنس مین ہستیوں سے بیٹھ کر انہی کی زبان میں بات کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ان سے ان کی سطح پر بات کرنے کے لئے آپ کو بھی ان کے برابر صلاحیت چاہئے ،معلومات چاہئے۔ سلی کوم ویلی میں جاکر پی ایم نے بھارت کو آج دنیا کو ڈیجیٹل ورلڈ سے جوڑنے کی کوشش کی ہے اور میں یہ سب سرکردہ نامی گرامی کمپنیاں ڈیجیٹل انڈیا میں مدد کرنے کو آج اگر بے چین ہیں تو اس کی وجہ نریندر مودی ہیں۔ راجیو گاندھی پہلے وزیر اعظم تھے جنہوں نے کمپیوٹر لانے کی بعد کہی تھی، ان کے بعد اب مودی ہی ہیں جنہوں نے راجیو گاندھی کے ویژن کو آگے بڑھایا ہے۔ مودی میں زوردار تقریر کرنے اور اچھے مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرے کے دل کو چھونے والی بات کرنے کا فن ہے۔ مودی جب فیس بک ہیڈ کوارٹر گئے وہاں کے سی ای او مارک جکربرگ کے ساتھ انہوں نے یہاں کے لوگوں کے سوالات کے جواب دئے۔ سوالات کے سیشن کے دوران مارک نے بتایا کہ ایک ایسا وقت تھا جب فیس بک خریدنے کے لئے لوگوں کے فون آیا کرتے تھے ۔ میں بھی پریشان چل رہا تھا ، تب میں اسٹیل جابس کے پاس گیا ۔ انہوں نے کہا بھارت جاؤ تو مندر ضرور جانا۔ میں بھارت گیا مندر گیا مجھے مندر سے آگے کا راستہ ملا۔ دیکھئے آج میں کہاں آگیا۔ جکر برگ نے ڈیجیٹل انڈیا کو سپوٹ کرنے کے لئے پروفائل پکچر کو ترنگے کے رنگ میں رنگ دیا۔ فیس بک کے ہزاروں، لاکھوں لوگوں نے اپنی پروفائل پکچر ترنگے میں رنگ دی۔ کیا یہ بھارت اور مندر کے بڑکپن اور احترام کو بھی دکھاتا ہے؟ سوال جواب کے دور میں مارک نے مودی کی ماں کا ذکر کیا۔ مودی نے کہا میں غریب پریوار سے ہوں۔ بچپن میں چائے بیچی ہے۔ میرے پتا جی نہیں رہے میری ماں کی 90 سال سے زیادہ عمر ہے اور آج بھی وہ اپنے سارے کام خودکرتی ہیں۔ جب ہم چھوٹے تھے تو گزر بسر اور ہماری پرورش کرنے کیلئے میری ماں گھروں میں برتن صاف کیا کرتی تھیں۔ یہ کہتے ہوئے ان کا گھر بھر آیا۔ یہ بات وہاں موجود سینکڑوں فیس بک ملازمین، جن میں زیادہ تر ہندوستانی نژاد تھے ، کے دل کو چھو گئی۔ یہ خاصیت مودی میں ہے کہ وہ ایسی بات کر جاتے ہیں کہ جس سے ہر سامع اپنے آپ کو ان سے جوڑ لیتا ہے۔ اسی وقت مارک جکر برگ کے ماں جو ہال کے اندر موجود تھے کھڑے ہوکر تالیاں بجا کر ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ ایک سوال آیا کہ کیا دنیا بھارت کو امید بھری نظروں سے کیوں دیکھے؟ مودی نے جواب دیا بھارت دنیا کا سب سے بڑا جمہوریہ ہے اور دنیا میں سب سے تیزی سے بڑھنے والی معیشت ہے۔ پچھلے سوا سال میں آپ کسی ہندوستانی سے پوچھیں تو ان کا نظریہ بدلا ہے۔ وہ بھارت کو بڑے فخر کے جذبے سے دیکھتا ہے؟ بھارت سرمایہ کاری کے لئے ایک بہتر متبادل کی شکل میں ابھر رہا ہے۔ ہم بھارت کو 8 ٹریلین سے 20 ٹریلین کی معیشت بنانا چاہتے ہیں۔مودی نے امریکی دورہ کے آخری دن سیمپ سینٹر میں دہشت گردی کو لیکر پاکستان پر زبردست تنقید کی۔ انہوں نے یہاں ہندوستانی نژاد 18 ہزار لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا دنیا میں اچھی اور بری دہشت گردی کو لیکر بحث چل رہی ہے۔ دہشت گردی دہشت گردی ہوتی ہے ہم دنیا کو دہشت گردی کے بارے میں سمجھا رہے ہیں اور دنیا ہم پر ہی سوال کھڑے کررہی ہے۔ دہشت گردی دنیا کے کسی بھی حصے میں پہنچ سکتی ہے۔ امریکہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردی کی تشریح کو واضح کرے تاکہ دنیا طے کرلے کے کس راستے پر چلنا ہے اور دنیا میں امن ہو۔ انہوں نے کہا اقوام متحدہ نے 70 برسوں میں دہشت گردی کے بارے میں کوئی تشریح نہیں کی ہے۔ ایسے میں تو دہشت گردی کو ختم کرنے میں کتنے سال لیں گے آپ۔ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میں نے دنیا کے سبھی ملکوں کو خط لکھ کر دہشت گردی پر سخت قدم اٹھانے کی اپیل کی ہے۔ آخر میں بتادوں کے جس وقت مودی امریکہ میں تھے اسی وقت پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف بھی وہاں اقوام متحدہ میں خطاب کرنے گئے تھے۔ اب سنئے پاکستانی میڈیا کی اس دورے کے بارے میں وہ کیا کہتا ہے۔ پاکستان کے ایک اخبار میں مودی کو ایک راک اسٹار ، چالاک سیاستداں بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکہ میں ان کا ہر جگہ ایک راک اسٹار کے طور پر خیر مقدم ہوا۔ پاکستان کے ایک دوسرے نامور اخبار ’دی نیشن‘ نے اپنے اداریہ میں جہاں وزیر اعظم مودی کی جم کر تعریف کی وہیں ان کے بہانے اپنے وزیر اعظم کو بھی کوسا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ ہر طرف بھارت کے مودی کئی تقریب اور پروگراموں میں شرکت کررہے ہیں اور اپنی بات رکھتے ہیں، وہیں ہمارے وزیر اعظم(شریف) کے پاس اپنی بات رکھنے کے لئے صرف اقوام متحدہ ہی ایک اسٹیج ہے۔ اداریہ میں مودی کے گوگل اور فیس بک ٹاؤن ہال جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اخبار نے پوچھا ہے کہ مودی سلی کوم ویلی کے سی ای او کو بھارت کی تعمیر نو کرنے کی دعوت دے رہے ہیں لیکن ہمارے وزیر اعظم کیا کررہے ہیں؟
(انل نریندر)

30 ستمبر 2015

بہار اسمبلی چناؤ : بھاجپا ٹکٹ 2 کروڑ میں

بہا کے بھاجپا ایم پی آر کے سنگھ نے اسمبلی چناؤ کے عین موقعہ پر ٹکٹ بٹوارے کو لیکر اپنی ہی پارٹی کو کٹہرے میں لا کھڑا کردیا ہے۔آرا سے ایم پی اور سابق داخلہ سکریٹری آر کے سنگھ نے پارٹی پرپیسے لیکر ٹکٹ بانٹنے کا الزام لگایا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کی موجودہ صاف ستھری ساکھ کے ممبران اسمبلی اور وفادار ورکروں کو نظرانداز کر جرائم پیشہ افراد کو ٹکٹ بیچا گیا۔ سنگھ نے سوا ل کیا کہ جرائم پیشہ کو ٹکٹ دینے سے بھاجپا اور لالو پرساد یادو میں کیا فرق رہ گیا ہے جن پر پارٹی جنگل راج کو لیکر تنقید کرتی رہی ہے۔ سنیچر کو بھاجپا ایم پی آر کے سنگھ کے پیسے لیکر ٹکٹ دینے سے متعلق الزام کے بعد پارٹی ابھی بھی ڈیمیج کنٹرول میں لگی تھی کہ ایتوار کو سیوان کے رگھوناتھ پور سے ممبر اسمبلی وکرم کنور نے پارٹی پر دبنگ نیتا محمد شہاب الدین کے شوٹر کو 2 کروڑ روپے میں ٹکٹ بیچنے کا الزام لگا کر کھلبلی مچا دی ہے۔ دراصل وکرم کنور کو اس بار چناؤ لڑنے کیلئے پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا۔ ان کی جگہ منوج سنگھ کو ٹکٹ دے دیا گیا ہے۔ وکرم نے کہا کہ جس منوج کو ٹکٹ دیاگیا ہے وہ مافیہ ہے۔ آر کے سنگھ نے بھی کنور کے الزامات کو صحیح بتایا۔ کنور کا کہنا تھا کہ منوج سنگھ ان کا قتل کروا سکتا ہے۔ وکرم نے پی ایم مودی کو بھی نہیں بخشا۔ کہا کہ نریندر مودی کا نعرہ لگانا مہنگا پڑا۔ بھاجپا نے آر کے سنگھ کے الزامات کو سرے سے مسترد کردیا ہے۔ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد سنگھ اور سابق نائب وزیر اعلی سشیل کمار مودی نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہرچناؤ میں ٹکٹ بٹوارے کے بعد اس طرح کے الزامات لگتے ہیں۔ جو بھی ہے ایسے الزامات لگانے سے پہلے حقائق کے ساتھ بات رکھنی چاہئے۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا بھاجپا نے سبھی پہلوؤں کو دھیان میں رکھتے ہوئے غیر جانبدارانہ طریقے سے ٹکٹ تقسیم کئے گئے ہیں۔ آر کے سنگھ اور وکرم کنور کے بیانوں نے اپوزیشن پارٹیوں کو گھر بیٹھے بٹھائے اشو دے دیا ہے۔ بہار اسمبلی چناؤ میں پارٹی کی سب سے بڑی مخالف پارٹی جنتا دل (یو) نے اس موقعے کو نہ گنواتے ہوئے الزام لگایا کہ بھاجپا صدر امت شاہ کسی بھی طریقے سے چناؤ جیتنا چاہتے ہیں۔ آرکے سنگھ نے ورکروں کے جذبہ کا اظہار کیا ہے۔ بھاجپا نے نہ صرف ٹکٹوں کو بیچا ہے بلکہ دبنگیوں کو بھی تھوک بھاؤ میں امیدوار بنایا ہے۔ وہیں تیسرے مورچے میں شامل پپو یادو نے کہا مجھے چھوڑ کر سب کی دوکان کھلی ہے۔ ہر پارٹی پیسہ لیکر جرائم پیشہ کو ٹکٹ دے رہی ہے۔ بھاجپا کی ساتھی لوک جن شکتی پارٹی نے بھی آر کے سنگھ کے اس بیان سے اتفاق جتایا ہے کہ خراب ساکھ کے لوگوں کو ٹکٹ نہیں ملنا چاہئے۔ ایل جے پی لیڈر چراغ پاسوان نے کہا کہ وہ بھاجپا ایم پی کی اس تشویش سے اتفاق رکھتے ہیں کہ جرائم پیشہ پس منظر کے لوگوں کو ٹکٹ نہیں ملنا چاہئے۔ ایسے لوگوں کو سیاست میں شامل ہونے سے روکا جانا چاہئے۔ ادھر آر کے سنگھ نے وکرم سنگھ کنور کے الزامات میں کتنی سچائی ہے یہ تو وہی جانیں یا بھاجپا جانیں لیکن اس طرح کے پروپگنڈے سے پارٹی کو نقصان پہنچتا ہے۔ پارٹی ود اے ڈیفنس کو ایسے ہتھکنڈے نہیں اپنانا چاہئے۔ یہ بیٹھے بٹھائے اپوزیشن کو سیاسی طاقت فراہم کرتا ہے۔ ایک طرف تو وزیر اعظم امریکہ میں دھوم مچا رہے ہیں دوسری طرف محض چناؤ جیتنے کے لئے پارٹی جرائم پیشہ اور مافیاؤں کو ٹکٹ بانٹ رہی ہے۔
(انل نریندر)

سی بی آئی کی کارروائی پر اعتراض نہیں، وقت کو لیکر ہے

ہماری رائے میں ہماچل پردیش کے وزیر اعلی ویر بھدر سنگھ کے گھر پر سی بی آئی کا ان کی لڑکی کی شادی کے دن چھاپہ ماری کرنا صحیح نہیں مانا جاسکتا۔ چھاپہ مارنے کی کارروائی اپنی جگہ ہے لیکن جس دن ان کی لڑکی کی شادی ہو رہی ہو اسی دن چھاپے کی تاریخ ملے یہ سمجھ سے باہر ہے۔’اٹ ازڈیفینیٹ لی ان بیڈ ٹیسٹ‘(یہ یقیناًایک ذائقے میں کرکرا پن ہے)سی بی آئی نے ویر بھدر سنگھ کے شملہ میں واقع سرکاری مکان اور دیگر 12 مکانات پر سنیچر کے روز چھاپے مارے تھے۔ پچھلی دو دہائی میں یہ ہماچل کے کسی بھی افسر کے خلاف چھاپہ ماری سب سے بڑی تھی۔ مبینہ طور سے آمدنی سے زیادہ املاک کے معاملے میں یہ چھاپے مارے گئے تھے۔ ابتدائی جانچ سے پتہ چلا ہے کہ ویر بھدر نے 2009-12 (یو پی اے عہد کے دوران) عہدے پر رہتے ہوئے مبینہ طور پر 6.03 کروڑ روپے اپنے اور اپنے رشتے داروں کے نام سے اکھٹے کئے اور ان کی آمدنی نامعلوم ذرائع سے زیادہ ہے۔ ایسا کہنا ہے سی بی آئی کے ترجمان دیو پریت سنگھ کا۔ جب سی بی آئی کے ڈی آئی جی کی سربراہی میں25 افسر اور ملازمین کی ٹیم ہولی لاج پہنچی تو اس وقت وزیراعلی اپنی بیٹی کی شادی کی تقریب میں سنکٹ موچن مندر جانے کی تیاری کررہے تھے۔وزیر اعلی ویر بھدر سنگھ ہولی لاج میں اپنی بیٹی کی شادی پر آئے رشتے داروں اور براتیوں کو لنچ بھی دے رہے تھے۔ اسی دوران انہوں نے سی بی آئی کے لوگوں سے کہا کہ یو آر انوائٹڈ گیسٹ( آپ بھی مدعو مہمان ہیں) لیکن بیٹی کی شادی ہے آپ بھی لنچ کرلیں۔ حالانکہ سی بی آئی کی ٹیم نے لنچ کرنے سے انکارکردیا۔ اپنے گھر پر چھاپہ پڑنے کے ایک دن بعد ویر بھدر سنگھ نے ایتوار کو کہا ان کے پاس چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے۔ میں نے شادی تقریب کے لئے گھر کے دروازے سی بی آئی کے لئے کھول دئے اور ان سے کہا وہ جو کچھ بھی چاہتے ہیں تلاش کرلیں کیونکہ میرے پاس چھپانے کو کچھ نہیں ہیں۔ اپنے عہدے پر موجود کسی وزیر اعلی کے خلاف ایک غیر متوقع کارروائی کرتے ہوئے سی بی آئی نے شملہ میں سنگھ کے سرکاری مکان پر اور دیگر12 مقامات پر چھاپہ مارا۔ پچھلی دو دہائی میں ریاست کے کسی بڑے حکمراں پر سی بی آئی کی یہ دوسری بڑی چھاپہ ماری ہے۔19 سال پہلے منڈی علاقے میں سی بی آئی نے اس وقت کے مرکزی وزیر ٹیلی کمیونی کیشن سکھرام کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے چھاپہ مارا تھا۔ ہماچل سرکار کے پانچ وزرا نے سنیچر کو شملہ میں اخباری کانفرنس میں وزیر اعلی کی حمایت میں کھڑا ہونے کا دعوی کیا۔ ان وزرا نے ویر بھدر سنگھ کی رہائش گاہ پر سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ کے چھاپوں کے وقت پر سوال کھڑے کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مرکزی سرکار ویر بھدر سنگھ حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے اسے عوامی حکومت کا قتل قرار دیتے ہوئے ایسے غیر اعلانیہ ایمرجنسی قراردیا۔ ہمیں سی بی آئی کی کارروائی پر اعتراض تو نہیں ہے لیکن کارروائی کیلئے جو وقت چنا گیا ہے وہ ایک طرح سے صحیح نہیں قرار دیا جاسکتا۔
(انل نریندر)

29 ستمبر 2015

سپا اور بھاجپا میں دنگا کرانے کی دوڑ لگی تھی: جسٹس سہائے

اترپردیش کے مظفر نگر میں 2013 ء میں دنگوں کی جانچ کرنے والی جسٹس وشنو سہائے نے اپنی رپورٹ گورنر رام نائک کو سونپ دی ہے۔ وشنو سہائے کمیشن نے اترپردیش میں حکمراں سماج وادی پارٹی اور مرکز میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کو عوامی کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے۔ حالانکہ کمیشن کے نتیجوں کے بارے میں سرکاری طور پر ابھی کچھ تو نہیں بتایا جاسکتا لیکن میڈیا سے ملی اطلاعات سے اشارہ ضرور ملتا ہے کہ کمیشن نے بھاجپا اور سپا کے کچھ لیڈروں کو تشدد بھڑکانے کا قصوروار پایا ہے۔ رپورٹ تیار کرنے کیلئے سہائے کمیشن پر کوئی سیاسی دباؤ نہیں تھا۔ پوری رپورٹ عدالت کی کارروائی کی طرح حقائق کی باریکی سے جانچ پڑتال کرنے کے بعد ہی بنائی گئی ہے۔ مظفر نگر فسادات کی جانچ کیلئے تشکیل کمیشن کے چیئرمین ریٹائرڈ جسٹس وشنو سہائے نے پچھلے ہفتے یہ بات کہی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ بال ٹھاکرے سے لیکر مایاوتی تک کے مقدموں کی سماعت کرچکے ہیں لہٰذا کسی طرح کے دباؤ میں آنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ اترپردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے گذشتہ جمعہ کو جے پور میں آل انڈیا یوتھ مہا سبھا کے دو روزہ سمیلن کے بعد اخبار نویسوں سے کہا کہ جسٹس وشنو سہائے کمیشن کی رپورٹ سرکار کو ملی ہے اور سرکار اب اسے اسمبلی میں پیش کرے گی۔ غور طلب ہے کہ سال2013ء میں ان فسادات کو روکنے میں ناکامی کو لیکر سپا سرکار تنقید کے مرکز میں آئی تھی۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے بھی دنگا متاثرین کی بازآبادکاری کے معاملے میں اکھلیش یادو سرکار کو پھٹکار لگائی تھی، لیکن اب سپا کو زیادہ مشکل سوالات کے جواب دینے ہوں گے۔ سہائے کمیشن کی تشکیل اکھلیش سرکار نے ہی کی تھی۔ اسے اگر دنگوں کے پیچھے کچھ سپا لیڈروں کے بھی ہاتھ ہونے کے ثبوت ملیں ہیں تو اس سے پارٹی کے لئے اپنا بچاؤکرنا بیحد مشکل ہوسکتا ہے۔ لوک سبھا چناؤ سے پہلے ہوئے ان فسادات کے بعد یوپی میں بھاجپا اور اس کے ساتھیوں نے 80 میں سے73 سیٹوں پر قبضہ جمایا تھا۔ جسٹس سہائے کا کہنا ہے کہ اگر دنگے نہ ہوتے تو سیاسی تصویر بدل سکتی تھی۔ سوشل میڈیا میں ایک ویڈیو بڑے وسیع پیمانے پر چھایا ،وہ بھی دنگوں کا بڑا سبب تھا۔ یہ جانتے ہوئے کہ ویڈیو باہر کا ہے اسے جان بوجھ کر چلایاگیا۔ خاص فرقے کے لوگوں کے گھروں اور آس پاس کی دیواروں پر رات بھر بھڑکیلے نعرے کیوں لکھے جارہے تھے؟ افواہ پھیلائی گئی کہ پاکستان کے خاص آتنکی چھپے ہوئے ہیں۔ اس بنیاد پر اکثریتی فرقے کو منظم کیا گیا۔ 27 اگست2013ء کو کوال گاؤں میں ایک لڑکی سے ایک لڑکے نے چھیڑ خانی کی تھی۔ اس پر لڑکی کے دو بھائیوں نے اس کا قتل کردیا تھاجواب میں کارروائی میں مارے گئے شخص کے بھائیوں نے قتل کرنے والے لڑکی کے دونوں بھائیوں کو بھی مار دیا تھا۔ ملک برادری کے کھاپ پنچایت نے 7 ستمبر کو مہا پنچایت بلائی۔ اس کے انعقاد میں حصہ لینے والوں پر ہوئے حملوں اور جوابی کارروائی کے بعد وسیع پیمانے پرفساد بھڑک گیا اور65 لوگ مارے گئے۔ سینکڑوں اقلیتی افراد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور کیمپوں میں رہنے لگے۔ مظفر نگر میں اس سے پہلے کبھی دنگا نہیں ہوا تھا۔ 1947ء میں ملک کی تقسیم کے وقت بھی یہ ہی علاقہ فساد سے آزاد تھا۔ اترپردیش میں دنگوں نے نئے ریکارڈ توڑے ہیں۔ قطعی رپورٹ تک130 سے اوپر دنگے ہوچکے ہیں۔ سپا سرکار کے طاقتور وزیر اعظم خاں بھی اس معاملے میں کٹہرے میں تھے۔ ان پر لڑکی کے بھائیوں کا قتل کرانے میں شامل ملزمان کو تھانے سے چھڑانے کا الزام ہے۔ یہ رپورٹ جاری کرنے میں دیری ہوئی تو قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہوگیا۔ اس لئے اترپردیش سرکار کو اس کو عام کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں کرنی چاہئے۔ اگر اس سچ مچ وہی نتیجہ ہے جیسے خبر آئی ہے تو دونوں بھاجپا اور سپا کو بھروسے مند وضاحت پیش کرنی چاہئے۔ اس سے توقع رہے گی کہ جن نیتاؤں کا ان دنگوں میں کردار شبہ کے گھیرے میں ہے ان پر سخت کارروائی ہوگی۔ انتظامی ملازمین پر بھی خاص توجہ دینی چاہئے۔سپا سرکار کی ساکھ داؤ پر ہے۔
(انل نریندر)

بدقسمت سائیکل سوار مزدور نریند کو انصاف ملے گا

بات16 ستمبر سنیچر کی رات تقریباً9.45 بجے کی ہے۔ سدرشن چینل پر ایک مباحثے میں حصہ لینے کے بعد میں گھر لوٹ رہا تھا کہ پرانے قلعہ کے سامنے جہاں بوٹنگ ہوتی ہے، ایک سنتری رنگ کی کلسٹر بس کھڑی تھی اور ساتھ میں میرا ڈرائیور راجیش تھا، اس نے گاڑی سائڈ میں کھڑی کردی اور اترکر پوچھا کہ کیا ہوا؟ تب اس نے دیکھا کہ شراب کے نشے میں ایک آدمی کو بھیڑ نے گھیرا ہوا ہے۔ وہ اس بس نمبرDLPC5782 کا ڈرائیور تھا ، جو نشے میں دھت تھا۔ پتہ چلا کہ شراب کے نشے میں ایک نوجوان جو سائیکل پر آئی ٹی او تلک مارگ پر واقع ہنومان کی مورتی کے سامنے ڈبلیو پوائنٹ سے گزر رہا تھا تبھی آئی ٹی او سے نو سروس لکھی ا س کلسٹر بس کے نشے میں دھت ڈرائیور نے 24 سالہ سائیکل سوار کو ایسی ٹکر ماری کے نریند اور اس کی سائیکل بس کے نیچے آگئے۔ بس ڈرائیور شراب کے نشے میں اتنا دھت تھا کہ اسے یہ بھی نہیں پتہ چلا کہ نرین کی لاش بس کی ٹکر کے بعد کچھ دور تک گھسٹتی رہی اور سائیکل تو بس میں ہی الجھ کر پراناقلعہ کے پاس واقع بوٹ کلب تک پہنچ گئی۔ حادثہ کرنے کے بعد وہ ڈرائیور بس کو بھگاتا چلا گیا۔ جب وہ پرانا قلعہ کے پاس پہنچا تو پیچھا کرتے ہوئے آٹو ڈرائیور اور جنتا نے اسے زبردستی روکا۔ نریند کی لاش کو کسی طرح بس کے نیچے سے نکالی گئی لیکن سائیکل پھنسی رہی۔ نئی دہلی کے تھانہ تلک مارگ کے تحت 24 سالہ نرین اپنی تائی کے پاس رہتا تھا اور سکیورٹی گارڈ کی نوکری کیا کرتا تھا اور 16 ستمبر کی رات وہ اپنی ڈیوٹی ختم کر گھر لوٹ رہا تھا۔ تلک مارگ تھانے نے ڈرائیور کے خلاف آئی پی سی کے دفعہ279,304(a) کے تحت مقدمہ درج کر ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈرائیور کی پہچان تھانہ دادری ضلع شاملی ،اترپردیش کے راجندر کی شکل میں ہوئی ہے۔ اس معاملے میں سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنا بڑا حادثہ ہونے کے باوجود نہ تو کسی اخبار میں اور نہ کسی ٹی وی چینل میں اس حادثے کے بارے میں ایک لفظ یا رپورٹ نہیں دکھائی گئی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مزدور کا قتل ہمارے میڈیا کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اگر اس بدقسمت نرین کی جگہ کوئی بڑا نامی گرامی آدمی ہوتا تو آپ حادثے کی کوریج کو دیکھتے۔ ہم نریند کو انصاف دلانے کیلئے عہد بند ہیں اور ہر سطح پر اس کو حق دلانے کے لئے پابند ہیں۔ سے مناسب معاوضہ ملنا چاہئے۔ پچھلے دنوں دہلی میں ایک موٹر حادثے کا دعوی جسٹس (ایم ٹی سی) نے ٹکر مارنے والے ٹرک کا بیمہ کرنے والی کمپنی نیشنل انشورنس کو ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔2008ء میں سڑک حادثے میں مارے گئے دہلی کے باشندے گووند رائے اروڑہ خاندان کے افراد کو 500298 (پانچ لاکھ دو سو اڑتالیس) روپے ادا کئے جائیں۔ ایم اے سی ٹی کے سٹنگ جج برکھا گپتا نے کہا کہ ایسا کچھ بھی نہیں دکھائی دیا کے متوفی اپنے اسکوٹر پر تیزی سے یا لاپرواہی سے گاڑی چلا رہا تھا۔ حادثہ متوفی کی غلطی کی وجہ سے ہوا تھا اور اس کے بجائے ریکارڈ یہ دکھائی دیا کہ ٹرک ڈرائیور لاپرواہی سے گاڑی چلا رہا تھا اس کی وجہ سے ہی یہ حادثہ ہوا جس میں متاثرہ کی موت ہوگئی۔ شراب پی کر گاڑی چلانے والوں کے خلاف دہلی ٹریفک پولیس وقتاً فوقتاً کارروائی چلاتی رہتی ہے لیکن گاڑی ڈرائیوروں کو لگتا ہے اس کا بھی کوئی خوف نہیں ہے۔ جہاں پچھلے پورے برس میں شراب پی کر گاڑی چلانے والوں کے خلاف18645 لوگوں کے چالان کاٹے گئے تھے وہیں اس سال اب تک17992 ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کے معاملوں میں چالان کاٹا جا چکا ہے۔ شراب پی کر گاڑی چلانے والوں کی بڑھتی تعداد کی خاص وجہ اس کے لئے زیادہ سخت سزا نہ ہونا ہے۔ ایسے ڈرائیوروں کو پتہ ہے کہ وہ جرمانے اور کچھ مہینے کی سزا کے بعد آسانی سے چھوٹ جائیں گے۔ ایسے میں پولیس کا ان میں کوئی خوف نہیں رہتا۔ پولیس بھی ایسے حادثوں کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتی جب تک پولیس اور قانون ایسے معاملوں میں سختی نہیں برتتے نریندر جیسے غریب مزدور بسوں اور ٹرکوں کے نیچے پستے رہیں گے۔ (انل نریندر)

27 ستمبر 2015

پہلی بار حج حادثہ سے شروع ہوا اور حادثہ پر ختم

یہ دن دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے سب سے مقدس دنوں میں سے ہے۔ان دنوں لاکھوں کی تعداد میں دنیا بھر سے مسلمان حج کرنے کیلئے سعودی عرب واقع مقدس مکہ جاتے ہیں۔ وہ وہاں اس امید میں جاتے ہیں کہ ان کی جیون بھر کی آرزو پوری ہو۔ پر جب ان میں سے کچھ کیلئے یہ زندگی کا آخری سفر بن جائے تو ان کے خاندان والوں کے دکھ کو ہم سمجھ سکتے ہیں۔ کچھ کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ مقدس مسجد کے نزدیک ہوئی زبردست بھگدڑ نے عید الاضحی کی خوشیوں کو ماتم و غم میں بدل دیا۔ مکہ کے قریب مینا میں حج سفر کے آخری دن جمعرات کو مچی بھگدڑ میں کم سے کم717 لوگوں کی موت ہوگئی۔ یہ اعدادو شمار شروعاتی ہیں اور یہ بڑھ بھی سکتے ہیں۔ بیشک یہ حج سفر کے دوران گزشتہ 25 سال میں ہوئے حادثوں میں سب سے بڑا حادثہ بن سکتا ہے۔شیطان کو پتھر مارنے کی جگہ جمرات کے قریب ایک چوراہے پر ایک ساتھ دو طرف سے بھاری تعداد میں زائرین کے آنے سے گلی میں بھگدڑ مچ گئی۔ اس سال ڈیڑھ لاکھ بھارتیوں سمیت دنیا بھر سے 20 لاکھ سے زیادہ زائرین سفر حج کے لئے مکہ پہنچے ہیں۔ پہلی بار حج کے دوران دو بڑے حادثے ہوگئے۔
حج شروع ہونے سے ٹھیک پہلے 11 ستمبر کو مکہ کی مسجد الحرام میں کرین گرنے سے115 لوگوں کی موت ہوگئی اور اب حج کے آخری دن اس بھگدڑ میں سینکڑوں زائرین اللہ کوپیارے ہوگئے۔ 1990 ء سے لیکر 2006ء تک 7 حادثے ہو چکے ہیں جس میں کل 2460 زائرین کی موت ہوچکی ہے۔اپنے90 شہریوں کی موت پر خفا ایران نے حادثہ کے لئے سعودی عرب کو سیدھا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ایران کی حج تنظیم کے چیف سید مہدی نے کہا کہ بنا کسی معلوم وجوہات کے شیطان کو پتھر مارنے کی علامتی جگہ کے نزدیک دو راستوں کو بند کردیا گیا۔ اسی وجہ سے یہ دردناک حادثہ ہوا۔ایسا لگتا ہے کہ اوپر والا سعودی عرب پر قہر ڈھا رہا ہے۔ بھولنا نہیں چاہئے کہ اس حادثے سے کچھ دن پہلے مکہ میں ہی ایک کرین کے گرنے کی وجہ سے100 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔ یہ ٹھیک ہے کہ چھوٹی سی جگہ پر لاکھوں کی تعداد میں آئے حاجیوں کا انتظام کرنا آسان بات نہیں ہے۔اس سال ہی قریب20 لاکھ زائرین حج مکہ پہنچے ہیں مگر کہیں کچھ خامیاں تو ضرور رہ گئی ہوں گی جس کی وجہ سے بھگدڑ کو روکا نہیں جاسکا۔ی یہ سچ ہے کہ دنیا بھر میں قدرتی آفات سے ہوئے نقصان کو کافی حد تک روکنے کا سسٹم تیارکرلیا گیا ہے مگر مذہبی مقامات پر ہونے والے حادثوں پر قابو کرنے کا کوئی سسٹم اب تک تیار نہیں ہوسکا ہے۔ دنیا کی ساری قدیم مذہبی سفر اوررسمیں تب بنیں جب دنیا بالکل الگ تھی۔ گزشتہ تقریباً100 سال سے دنیا کی آبادی تیزی سے بڑھی ہے۔اس سے مذہبی مقامات کے انتظام کی چنوتیاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ مذہبی سفرآستھا خوشی اور شانتی کے لئے ہوتے ہیں ۔ انہیں حادثات میں بدلنے سے روکنے کیلئے سبھی کو کوشش کرنی چاہئے۔
(انل نریندر)

پھر تنازعات میں گھری راہل کی ودیش یاترا

کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کے غیر ملکی دوروں اور تنازعات کا چولی دامن جیسا ساتھ ہوگیا ہے۔اصل میں پچھلی بار جب راہل 56 دنوں کی چھٹی پر گئے تھے تب پارٹی کی خاموشی کی وجہ سے تنازعہ ہوا تھا۔ اس لئے اس بار راہل کے غیر ملکی دورہ پر اٹکل شروع ہوتے ہی کانگریس نے بدھوار کو رسمی بیان جاری کر کہا کہ راہل امریکہ میں کالریڈو کو اسپین میں ایک کانفرنس میں حصہ لینے گئے ہیں ، جس کا انعقاد جانے مانے جرنلسٹ چارلی دون کرتے ہیں۔بھاجپا نیتا جی وی ایل نرسمہا نے امریکی ویب سائٹ امریکن بازار کے حوالے سے کہا کہ اسپین آئیڈین فیسٹول کا انعقاد 25 جون سے4 جولائی کے درمیان ہوچکا ہے۔ ایسے میں کانگریس اس پروگرام کا نام لیکر دیش کو بہکا رہی ہے۔ایک اور ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ویب سائٹ نے منتظمین سے بات کی تو پتہ چلا کہ 2005 سے اب تک ہر سال ہونے والے ’ویک اینڈ ود چارلی ‘ کانفرنس میں کبھی راہل نام کے شخص نے حصہ نہیں لیا۔ بھاجپا جہاں راہل کی امریکی یاترا کو بہار چناؤ سے جوڑ کر سہیوگیوں کے دباؤ میں لیاگیا دیش نکالا بتا رہی ہے وہیں کانگریس کو نئے نئے حقائق اور ترکوں کے ساتھ صفائی اور بچاؤ کرنا پڑ رہا ہے۔ بہار میں کانگریس لالو اور نتیش کمار کے گٹھ بندھن کی بھاگیدار ہے اس ناطے راہل گاندھی کی ضرورت اس وقت بہار میں ہونی چاہئے۔ان کی پارٹی کو سیٹیں بھی اس کی زمینی حقیقت و حیثیت سے زیادہ ملی ہیں لیکن ان امیدواروں کو جتانے کی فکر چھوڑ کر راہل امریکہ چلے گئے ہیں اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا جب سیاسی مجبوریوں کو درکنار کرتے ہوئے راہل وقت پر کھسک گئے ہیں۔اسی طرح پارلیمنٹ کے بیحد اہم سیشن کو چھوڑ کر وہ 50 دنوں کیلئے ’ایکانت واس‘ پر چلے گئے تھے۔ راہل کی تازہ ودیش یاترا کی جو وجوہات ان کی پارٹی بتا رہی ہے ان میں کوئی سچائی نہیں لگتی۔ جیسا کہ بھاجپا نے ثابت کردیا ہے۔ پھر بھلا راہل چناؤ چھوڑ کر کیوں ودیش یاترا پر گئے ہوئے ہیں؟ ان کی یہی حرکتیں شاید ان کی لیڈر شپ کو جمنے نہیں دیتیں اور اس دلیل کو طاقت ملتی ہے کہ شاید بہار میں ان کے مہا گٹھ بندھن کے ساتھی نہیں چاہتے کے راہل پرچار کرنے بہار آئیں۔ چمپارن میں ان کی پہلی اور زبردست ریلی کا منچ سانجھا کرنے سے جس طرح لالو اور نتیش نے کنارہ کیا تھا اس سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ راہل کے پچھلے چناوی ریکارڈ سے سہیوگی بھی سہمے ہوئے ہیں اور انہی کے دباؤ میں راہل امریکہ گئے ہیں۔ویسے یہ معاملہ صرف کانگریس پارٹی کے اندر کا ہے۔ راہل جو چاہے وہ کریں پر اگر راہل کو آگے چل کر کانگریس کی رہنمائی کرنی ہے تو ایسی حرکتیں نہیں چلیں گی۔ ویسے بھی کانگریس پارٹی زمین پر ہے اور خود پارٹی کے نائب صدر چنوتیوں سے ایسے بھاگیں گے تو ہوچکا پارٹی کا بھلا۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...