Translater

26 جنوری 2018

جج لویا کیس سنگین : ہم چپ نہیں رہ سکتے

سپریم کورٹ نے اسپیشل سی بی آئی جج بی ایم لویا کی موت کو لیکر کہا کہ ہم چپ چاپ نہیں بیٹھ سکتے۔ جج موصوف کی موت سے متعلق عرضیوں میں اٹھائے گئے اشوز کو سنگین بتایا گیا۔ حالانکہ بڑی عدالت نے معاملہ میں بھاجپا صدر امت شاہ کا نام گھسیٹنے کے لئے ایک سینئر وکیل کو پھٹکارلگائی۔ عدالت ہذا نے متعلقہ سبھی دستاویزوں کو پوری سنجیدگی کے ساتھ پڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت نے سینئر وکیل اندرا جے سنگھ کے تئیں ناخوشی بھی ظاہر کی جب انہوں نے ایک امکانی حکم کے بارے میں نتیجہ نکلا کہ بڑی عدالت معاملہ میں میڈیا پر لگام لگا سکتی ہے ۔ بتادیں کہ قصہ کیا ہے؟ جج لویا موت سے پہلے سہراب الدین شیخ فرضی مڈبھیڑ معاملہ کی سماعت کررہے تھے۔ ان کو 1 دسمبر 2014 کو ناگپور میں مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوگئی تھی۔ وہ اپنے ساتھی کی بیٹی کی شادی میں شرکت کرنے کے لئے ناگپور گئے تھے۔ سال 2014 میں ہوئی لویا کی موت پر دو مفاد عامہ کی عرضیوں پر سماعت کررہے چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم خان اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ کے پاس التوا دو دیگر عرضیاں اپنے پاس منتقل کرلی ہیں۔ بتادیں کہ چار سینئر ججوں نے پچھلے دنوں چیف جسٹس پر جو الزام لگائے تھے ان میں لویا کیس کی سماعت کا معاملہ بھی شامل تھا۔ بنچ نے دیش میں سبھی بڑی عدالتوں میں لویا کی موت سے متعلق کسی بھی عرضی پر غور کرنے پر بھی روک لگا دی تھی۔ بنچ نے کہا کہ لویا کی موت سے جڑے وہ سارے دستاویزات جوا بھی تک داخل نہیں کئے گئے ہیں ان کو فوری طور پر پیش کریں۔عدالت ان دستاویزوں پر اگلی سماعت کی تاریخ 2 فروری مقرر کرے گی۔ جسٹس چندرچوڑ نے جسٹس لویا کی موت کولیکر میڈیا رپورٹ کا بھی ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ہم چپ نہیں بیٹھ سکتے۔ ہم ریکارڈ اور موت سے متعلق حالات کے بارے میں بھی غور کرنا چاہیں گے۔ ان کی موت کو قدرتی بتایا گیا لیکن اس کے بعد سے موت کے اسباب کو لیکر تنازعہ کھڑا ہوا ہے۔ جسٹس لویا کی جگہ آئے سی بی آئی جج نے شاہ کو بری کردیا تھا۔ جسٹس لویا کے بھائی اور بہن ان کی موت کی جانچ کی مانگ کرچکے ہیں۔ حالانکہ ان کے بیٹے نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ جانچ نہیں چاہتے۔ اس سے پہلے اس معاملہ کی سماعت سے جسٹس ارون مشرا نے خود کو الگ کرلیا تھا۔ اس معاملہ میں مہاراشٹر کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل ہریش سالوے کی بحث پر بنچ نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آج کے حالات کے مطابق یہ قدرتی موت ہے بے تکے الزام نہ لگائیے۔
(انل نریندر)

دہشت گردی کے بڑھتے اثر سے دنیا اثر انداز

دہشت گردی کے شکار ممالک کی تعداد میں پچھلے سال سے اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ سال2015 میں جہاں 66 دیش اس کے شکار ہوئے تھے وہیں 2016 میں یہ بڑھ کر 77 ہوگئے۔ جاری عالمی آتنک وادی تفصیلات رپورٹ سے اس کا انکشاف ہوا ہے۔ جی ٹی آئی نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں دہشت گردی میںآتنک واد میں ہوئے اضافے کا جو ٹرینڈ ہے وہ پریشان کن ہے۔ وہیں رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ آئی ایس کے آتنکی عرا ق اور شام کے ساتھ ساتھ دیگردیشوں میں بھی اپنی پیٹ بڑھا سکتے ہیں۔ سال2016 میں انہوں نے افغانستان کی صورتحال کافی پیچیدہ بتائی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ طالبا ن نے جہاں شہریوں پر حملوں کی تعداد بڑھا دی ہے وہیں سرکاری افواج کے خلاف حملے تیز کردئے ہیں۔ جی ٹی آئی رپورٹ میں آگے کہا گیا ہے کہ امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر 11 ستمبر 2001 کو ہوئے حملہ کو چھوڑدیں تو امریکہ و دیگر ترقی یافتہ ممالک کے لئے 2016 سال 1988 کے بعدسے سب سے خطرناک ثابت ہوا ہے۔ یوروپ میں بڑھ رہے حملوں کے لئے آئی ایس کو ذمہ دار مانا گیا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 2014 کے بعد سے آئی ایس کے حکم سے یا اس سے متاثر ہوکر کئے گئے حملوں کے سبب ان دیشوں میں دہشت گردانہ حملوں میں مرنے والوں کی تعداد میں 75 فیصدی اضافہ ہوا ہے۔
ادھر ہمارے جموں و کشمیر میں پچھلے ایک عرصے سے دہشت گردی نے ایک نئی شکل اختیار کرلی ہے۔ جنوبی کشمیر کے علاقہ اننت ناگ، کلگام، ترال وغیرہ میں بڑی تعداد میں پڑھے لکھے نوجوان جنہیں ڈاکٹر، انجینئر و دیگر خدمات کے لئے جانا جاتا تھا، نے اے کے۔47 تھام لی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ وقت سے قریب تین درجن نوجوان گھروں سے بھاگ کر آتنک وادی بن گئے ہیں۔ موجودہ وقت میں 200 سے زائد آتنک وادی وادی میں سرگرم ہیں۔جن میں سب سے زیادہ تعداد ساؤتھ کشمیر میں گھر سے بھاگے نوجوانوں کی ہے۔ تکلیف دہ پہلو یہ ہے جہاں ایک طرف سکیورٹی فورس کو دہشت گردوں کو مڈ بھیڑ میں مارگرانے میں مسلسل شاندار کامیابی مل رہی ہے وہیں دوسری طرف کم عمر کے پڑھے لکھے نوجوان دہشت گردی کی طرف راغب ہورہے ہیں جبکہ وادی میں دہشت گردی کے ایک نئے خوفناک چہرہ سامنے آرہا ہے۔ آئی ایس کو بیشک بھگادیا گیا ہے لیکن اس سے متاثر آئیڈیا لوجی کی تنظیم کھڑی ہوچکی ہیں اور یہ آئے دن دھماکہ کرتے رہتے ہیں۔ دہشت گرد ی صرف بھارت کا مسئلہ ہی نہیں یہ آہستہ آہستہ پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔ اور اس پر جیت تبھی ہوسکتی ہے جب سارے مل کر اس کا مقابلہ کریں۔
(انل نریندر)

25 جنوری 2018

داؤس:اقتصادی دنیا کی پنچایت

منگل کے روز داؤس میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کئی اہم باتیں کہی ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی پنچایت کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا میں دہشت گردی، سرپرستی واد، تبدیلی ہوا سب سے بڑا خطرہ ہے۔ جن سے دنیا کو متحدہ ہوکر نمٹنا پڑے گا۔ورلڈ اکنامک فورم(WEF) کی 48 ویں سالانہ میٹنگ کا افتتاح کرتا ہوئے وزیر اعظم مودی نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو ہندوستان میں سرمایہ کاری کے لئے اپیل کی ہے۔ ڈبلیو ای ایف کی میٹنگ کو خطاب کرنے والے مودی پہلے ہندوستانی وزیر اعظم ہیں۔ اس سے پہلے 1997 میں اس وقت کے وزیر اعظم ایچ ڈی دیو گوڑا نے فورم کی میٹنگ میں شرکت کی تھی۔ سوئٹزر لینڈ کو ہم اس کے برفباری اور خوبصورت وادیوں کے لئے جانتے ہیں۔ کئی ہندی فلموں میں انہی وادیوں کے درمیان ہیرو ہیروئن کا رومانس پروان چڑھتا اور اترتا رہا ہے لیکن اس چھوٹے دیش کے چھوٹے سے شہر میں دنیا کے بڑے بڑے سیاسی اور کاروباری فیصلے پروان چڑھتے ہیں اس شہر کا نام ہے داؤس جو فی الحال ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ کی وجہ سے سرخیوں میں چھایا ہوا ہے۔ یہاں ورلڈ اکنامک فورم ہے اور اسی میں مودی شامل ہوئے ہیں۔ سال 1997 کے بعد کوئی وزیر اعظم یہاں پہلی بار گیا ہے۔ اس کی وجہ پوچھی گئی تو وزیر اعظم نے کہا دنیا اچھی طرح جانتی ہے داؤس معاشی دنیا کی پنچایت بن گیا ہے۔ داؤس دنیا کے لئے اتنا خاص کیوں ہے؟ کیوں پوری دنیا کی اقتصادی پالیسی وہاں سے متاثر ہوتی ہے؟ کیوں آسٹریلیا سے امریکہ تک سرکردہ لیڈر یہاں پہنچتے ہیں؟ یہاں دنیا بھر کے سیاسی اور کاروباری سرکردہ شخصیتیں سال میں ایک بار اکھٹی ہوتی ہیں اور آسان زبان میں اس اہم میٹنگ کو داؤس بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ سوئٹزر لینڈ کا سب سے بڑا برفیلا ریزارٹ بھی ہے۔ سال کے آخر میں یہاں سالانہ اسپیگلر کپ ، آئس ہاکی ٹورنامنٹ کا بھی انعقاد ہوتا ہے۔ جس کی میزبانی ایم سی داؤس لوکل ہاکی ٹیم کرتی ہے۔ داؤس یوں تو بیحد خوبصورت ہے لیکن اسے دنیا کے نقشے پر پہچان ملی ورلڈ اکنامک فورم کی وجہ سے۔ فورم کی ویب سائٹ کے مطابق اسے داؤس کلوسٹرس کی سالانہ میٹنگ کے لئے جانا جاتا ہے۔ پچھلے کئی سال سے کاروباری و حکومتیں اور سول سوسائٹی کے نمائندہ عالمی اشوز پر غور و خوض کے لئے یہاں اکٹھے ہوتے ہیں اور چنوتیوں سے نمٹنے کے لئے مسائل پر غور کرتے ہیں۔ ہر سال جنوری میں اس کی سالانہ میٹنگ ہوتی ہے اور دنیا بھر کے جانے مانے لوگ یہاں پہنچتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اہم ترین اشو اٹھائے ہیں اوربھارت میں سرمایہ کاری بڑھانے کی اپیل کی ہے۔ ان کے ہندی میں تقریر کرنے کا بھی سواگت ہے۔
(انل نریندر)

اپریل کے بعد بدل جائے گی راجیہ سبھا کی تصویر

پارلیمنٹ میں لوک سبھا کے بعد اکثریتی پارٹی بی جے پی اب راجیہ سبھا میں بھی سب سے بڑی پارٹی بننے جارہی ہے۔ ہندوستانی پارلیمنٹ کے ایوان بالا کی اصلی تصویر اپریل میں بدلے گی جب اس کے 55 ممبران کی میعاد پوری ہوگی۔ اپریل ماہ میں 53 ممبران کی میعاد ختم ہونے جارہی ہے اور اگر متعلقہ ریاستوں کی موجودہ اسمبلی کی تصویر پر نظر ڈالی جائے تو ان کی جگہ چن کر آنے والے ممبران میں بھاجپا کو 6 سیٹوں کا فائدہ ہوسکتا ہے اور کانگریس کو 4 سیٹوں کا نقصان جھیلنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے اپریل میں بھاجپا کے 23 ، کانگریس کے 8 اور دیگر پارٹیوں کے 21 ممبران جیت کر آسکتے ہیں۔ 27 جنوری کو کانگریس کے تین ممبران کی میعاد پوری ہو جائے گی۔ کانگریس کے جناردن دویدی، پرویز ہاشمی اور ڈاکٹر کرن سنگھ ریٹائر ہوگئے ہیں۔ تینوں راجیہ سبھا میں دہلی کی نمائندگی کررہے تھے۔ ان کی جگہ پر اب عام آدمی پارٹی کے تین ممبر سنجے سنگھ، نارائن داس گپتا اور سشیل گپتا کو آنا ہے۔ جبکہ فروری میں سکم میں ڈیموکریٹک فرنٹ کے لیڈر کیشو لاینگ پا 23 تاریخ کو ریٹائر ہوں گے۔ ان تینوں ممبران کے جانے کے بعد کانگریس کے ممبران کی تعداد گھٹ کر 54 رہ جائے گی۔ راجیہ سبھا میں حکمراں بی جے پی کے ساتھ ابھی تک نہ تو اکثریت تھی اور نہ ہی وہ سب سے بڑی پارٹی تھی۔ اپریل میں جن کی میعاد پوری ہوگی ان میں مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی ، جے پی نڈا، روی شنکر پرساد، پرکاش جاوڑیکر، کانگریس نیتا پرمود تیواری، راجیو شکلا، رینوکا چودھری اور نامزد ممبران ریکھا اور سچن تندولکر شامل ہیں۔ اگر ایوان بالا میں موجودہ تعداد کی طاقت پر نظر ڈالی جائے تو بھاجپا کے 58 ممبر اور کانگریس کے 57 ممبر ہیں۔ اپریل میں 55 ممبران کی جگہ نئے یا دوبارہ چنے ممبران کی آمد کے بعد بھاجپا ممبران کی تعداد بڑھ کر 64 اور کانگریس ممبران کی تعداد گھٹ کر 53 ہوسکتی ہے۔ اترپردیش اسمبلی کی موجودہ صورتحال کے مطابق راجیہ سبھا کی اس ریاست سے خالی ہوئی 9 سیٹوں میں سے 7 سیٹیں بھاجپا کو مل سکتی ہیں جبکہ 2 اپوزیشن پارٹیوں کے پاس جاسکتے ہیں۔ اکثریت کی کمی میں سرکار کو ایوان بالا میں کئی اہم ترین بلوں کو پاس کرانے میں مشکل آتی ہے۔ قابل ذکر ہے ایوان بالا ایک مستقل ایوان ہے جس میں ہر دو برس کے اندر دو تہائی ممبران کی میعاد پوری ہوجاتی ہے۔ کل ملا کر اپریل کے بعد راجیہ سبھا کی تصویر بدلے گی اور سرکار کو راجیہ سبھا میں درکار تعداد میں ممبران کی کمی سے جو مشکل ہوتی ہے وہ دور ہوجائے گی۔
(انل نریندر)

24 جنوری 2018

آپ کا کیا ہوگا جناب عالی

عام آدمی پارٹی کے 20 ممبران کو چناؤ کمیشن نے نا اہل قرار دے دیا ہے اور صدر جمہوریہ نے چناؤ کمیشن کی سفارش کو منظوری دے دی ہے۔ پارٹی کے پاس صرف کورٹ میں راحت کی امید بچی ہے۔ پارٹی کو دہلی ہائی کورٹ سے فوری راحت نہیں ملی لیکن وزیرا علی اروند کیجریوال کی مصیبتیں یہیں ختم نہیں ہوئیں ہیں۔ پارٹی کے 20 ممبران کو اس معاملہ کے علاوہ ایک اور کیس میں 27 ممبران کے خلاف بھی مقدمہ چل رہا ہے۔ یہ معاملہ بھی آفس آف پرافٹ سے جڑا ہوا ہے۔ یہ معاملہ عام آدمی پارٹی کی مختلف سرکاری اسپتالوں میں مریض کلیان کمیٹی سے جڑا ہوا ہے۔ یہ شکایت22 جون 2016 کو اس وقت کے صدر پرنب مکھرجی سے کی گئی تھی۔ وکیل کشور آنند نے اپنی اس شکایت میں کہا تھا کہ عاپ سرکار نے 27 ممبران کو دہلی کے مختلف سرکاری اسپتالوں کی روگی کلیان کمیٹی کا چیئرمین بنایا ہوا ہے جو آفس آف پرافٹ کا عہدہ ہے۔ انہوں نے عاپ کے ان ممبران کی ممبری ختم کئے جانے کی مانگ کی تھی۔ شکایت کے مطابق ممبران اسمبلی قانون سے کسی چھوٹ کے بغیر دہلی کے سرکاری اسپتالوں میں روگی کلیان سمیتیوں کے چیئرمین کے عہدوں پر نہیں بیٹھ سکتے۔ روگی کلیان سمیتی ایک طرح کی سوسائٹی یا این جی او ہے جو اسپتال کے انتظام کو دیکھتی ہے۔ اس میں ممبر اسمبلی چیئرمین نہیں ہوسکتا۔ اس پر چناؤ کمیشن نے 2016 میں 27 ممبران کو نوٹس جاری کر11 نومبر تک جواب مانگاتھا۔ کمیشن نے جانچ میں پایاتھا پارلیمنٹری سکریٹری بنائے گئے ممبران میں سے 11 روگی کلیان سمیتی کے چیئرمین بھی ہیں۔اپنے 20 ممبران کو آفس آف پرافٹ کے معاملے میں نا اہل قرار دئے جانے کولیکر عام آدمی پارٹی بھلے ہی چناؤ کمیشن اور اپوزیشن پارٹیوں پر سیاسی بندوق تان رہی ہو لیکن پارٹی کے اندر خانے زبردست کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ کمیشن کی سفارش کے دائرے میں آئے تمام ممبر اسمبلی سکتے میں ہیں تو دوسری طرف پارٹی کے باغی ممبران اسمبلی کو یہ احساس دلانے کی پوری کوشش ہورہی ہے کہ اس کی اکلوتی وجہ وزیر اعلی اروند کیجریوال کی زد اور اپنے مخالفین کو نپٹانے کی خاطر کئے گئے الٹے سیدھے فیصلے ہیں۔ادھر صدر کے ذریعے 20 ممبران اسمبلی کی ممبر شپ ختم کئے جانے کے بعد سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا سپریم کورٹ ممبران اسمبلی کی سماعت کرسکتا ہے اور کیا ممبری گنوا چکے ممبران کو اسٹے مل سکتا ہے؟ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کسی بھی شخص کو کورٹ میں اپیل کرنے کا آئینی حق ہے لیکن بڑا سوال یہی ہے کہ کیا ممبران اسمبلی کو کورٹ سے اسٹے مل سکتا ہے؟ ممبری گنوائے عاپ کے ایم ایل اے اور پارٹی کے نیتا صدر اور سینٹرل چناؤ کمیشن کے قدم کو جانبدارانہ بتا رہے ہیں۔ان کا الزام ہے کہ ممبران اسمبلی کا موقف جانے بینا یکطرفہ فیصلہ لیا گیا اس لئے وہ ہائی کورٹ کے علاوہ سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے اور انصاف کی مانگ کریں گے۔ آئینی ماہرین و لوک سبھا کے سابق سکریٹری ایس کے شرما کا کہنا ہے کہ جو شخص اپنے کو متاثر مانتا ہے اسے کورٹ جانے کا آئینی حق ہے۔ امکان ہے کہ سپریم کورٹ معاملہ کی سماعت کرلے لیکن پھر بھی اس کا امکان کم نظر آرہا ہے کورٹ سے ان کو راحت مل پائے۔ اصل میں اس مسئلے کو لیکر ممبر اسمبلی پہلے سے ہائی کورٹ جا چکے ہیں اور وہاں سے انہیں ریلیف نہیں ملی اس لئے کم ہی آثار ہیں کہ اب سپریم کورٹ انہیں اسٹے دے دے۔ ممبران کی ممبری چھن جانے میں رول ادا کرنے والے ہائی کورٹ کے وکیل پرشانت پٹیل مانتے ہیں کہ معاملہ آفس آف پرافٹ سے جڑا ہے جس میں کورٹ کا کوئی روڈ نہیں ہوتا۔ صدر یا چناؤ کمیشن ہی انہیں دیکھتا ہے۔ پٹیل کے مطابق ممبران کے لئے راحت کے سبھی دروازہ بند ہوچکے ہیں۔ وزیر اعلی اروند کیجریوال کے لئے آنے والے دن اور بھی چیلنج بھرے ہونے کا امکان ہے۔
(انل نریندر)

آدھار کی ضرورت کا سوال

پچھلے کافی وقت سے آدھار یعنی مخصوص پہچان نمبر سے جڑی تفصیلات محفوظ ہونے کو لیکر برابر سوال اٹھتے رہے ہیں۔ آدھار کی ضروریت اور سیکورٹی کو لیکر دائر مقدموں کی سماعت سپریم کورٹ میں چل رہی ہے۔لیکن اس بیچ کئی ایسی خبریں آئی ہیں جن سے لگتا ہے کہ آدھار اور اس سے وابستہ جانکاریاں محفوظ نہیں ہیں۔ آدھار کارڈ کی ضروریت کے خلاف دائر عرضیوں پر سماعت کے دوران عرضی گذار کی طرف سے پیش ہوئے وکیل نے کہا کہ ہمارے دیش میں حالات ایسے بنا دئے گئے ہیں کہ بغیر آدھار کارڈ کے شہری کے طور پر عاپ زندہ نہیں رہ سکتے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والی آئینی بنچ کے سامنے وکیل دیوان نے بمبئی ہائی کورٹ کے 2014 کے حکم کا تذکرہ کیا جس میں ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ مجرمانہ معاملوں میں وہ بایو میٹرک ڈاٹا شیئرکریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب بینک اکاؤنٹ ،موبائل نمبر،انشورینس پالیسی اور ٹرانزیکشن کیلئے ضروری کردیا گیا ہے۔ دیش میں کئی ایسے لوگ ہیں جو آدھار کارڈ کو بنوانے کے لئے آدھار کارڈ تک نہیں پہنچ پاتے۔ لوگ تین یا چار بار مسلسل فنگر پرنٹ دیتے ہیں ، ان کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ پہلی بار میں صحیح ویری فکیشن ہواہے یا نہیں۔ ایسے میں اس بات کا بھی اندیشہ رہتا ہے کہ ان کے اکاؤنٹ کو خالی نہ کردیا گیا ہو؟ سپریم کورٹ میں دوسرے دن آدھار معاملہ کے دوران فنگر پرنٹ فول پروف نہیں ہونے کا معاملہ اٹھا تھا۔ سپریم کورٹ نے بھی سرکار کے دعوے پر رائے زنی کی۔ اس نے کہا کہ سرکار کئی بار دعوی کرچکی ہے۔ شخصی ڈاٹا کو راز میں رکھا جائے گا لیکن حال میں دیکھنے کو ملا ہے کہ ایک کرکٹر کا ڈاٹا لیک ہوگیا۔ وکیل شام دیوان نے دلیل دی تھی کہ فنگر پرنٹ فول پروف نہیں ہیں۔ جسٹس وائی چندرچوڑ نے رائے دی کہ چار پانچ سال میں فنگر پرنٹ پہچان کے لائق نہیں رہ جاتا۔ انہوں نے ڈاٹا لیک پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ ایک کرکٹر کا ڈاٹا لیک ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔جسٹس اے ۔ کے۔ سیکری اور جسٹس چندر چوڑ کے سوا ل پر دیوان نے دلیل دی کہ جب ہم بینک یا دیگر کسی سروس پروائڈر کے سامنے دستاویز یا ڈاٹا دیتے ہیں تو ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ ہم کسے ڈاٹا دے رہے ہیں۔ آدھار کے لئے جو پرائیویٹ کمپنیاں ڈاٹا لیتی ہیں ان کے بارے میں عام آدمی جانتے تک نہیں ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ہندوستانی مخصوص پہچان اتھارٹی کی توجہ میڈیا کی رپورٹوں سے جنتا کی شکایتوں کی طرف گئی ہے۔ اور آدھار کی ویری فکیشن کے لئے انگلیوں کے نشان ، آنکھ کی پتلی کے ساتھ انسان کے چہرے کو بھی شامل کرلیاگیا ہے۔ یہ فیصلہ یقینی طور پر دیش کے بزرگ ، بیمار اور محنت کش عوام کے حق میں ہے۔ یہ معاملہ بیحد سنگین ہے۔ سپریم کورٹ میں پورے آدھار پروجیکٹ کو چنوتی دی گئی ہے۔ کوئی بھی جمہوری سماج اس طرح کے چلن کو قبول کرنے سے گھبرائے گا۔بایومیٹرک ڈاٹا پر بیرونی ممالک میں فیصلہ شہریوں کے حق میں گیا ہے۔ اگر سرکاری اسکیم کو منظوری دی جاتی ہے تو شہریوں کا آئین نہیں بلکہ سرکار کا آئین جیسا ہوگا۔ وکیل دیوان نے کہا کہ آدھار کارڈ آئینی ہے یا نہیں یہ آئینی بنچ کو طے کرنا ہے۔
(انل نریندر)

23 جنوری 2018

سرحد پر جنگ جیسے ماحول سے دہشت

مسلسل جاری پاکستانی فوجوں کی گولہ باری سے سرحد پر جنگ جیسا ماحول بن دیا ہے۔ سنیچر کو تو لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد سے لگے اسکول بھی بند رہے۔سرحدی علاقوں کے علاوہ گوا میں رہنے والوں کے درمیان دہشت ہے اور جنگ جیسی حالت پر پاک گولہ باری کا ہندوستانی فوج منہ توڑجواب دے رہی ہے۔ سنیچر کو مسلسل چوتھے دن بھی پاکستان کی طرف سے ہندوستان کی سیکورٹی چوکیوں و رہائشی بستیوں سمیت کٹھوہ کے پہاڑ پور سے لیکر پوری ہند۔ پاک سرحد سے علاوہ کنٹرول لائن سے لگے علاقہ راجوری اور پونچھ کو نشانہ بنایا گیا۔ جموں و کشمیر سے لگتی سرحد پر حالات کس قدر خراب ہورہے ہیں یہ ایک تو اس سے صاف ہے کہ پچھلے چار دنوں میں پانچ جوان سمیت 11 لوگ پاکستانی فائرننگ کا نشانہ بنے ہیں۔ اس سے بھی سرحدی علاقوں کے قریب 40 ہزار لوگوں کو اپنا گھر چھوڑ کر راحتی کیمپوں میں یا دیگر مقامات پر رہنا پڑ رہا ہے۔ سرحدی دیہات میں گھروں میں پھیلا خون اور کھڑکیوں کے ٹوٹے شیشے اور ڈھے گئی چھتوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے پچھلے چار دنوں میں پاکستانی گولہ باری نے ان علاقوں میں کتنا نقصان پہنچایا ہے۔ ان دیہات میں گن پاؤڈر کی بدبو بسی ہوئی ہے۔ ایک مقامی باشندہ خاتون رتنا دیوی کہتی ہیں ، ہم لوگ موت کے سائے میں جی رہے ہیں۔ ہماری چھتوں پر مورٹار بموں کی بوچھار ہورہی ہے۔ ایک بار تو ایسا لگا کہ ہم اب ہم سب مر جائیں گے لیکن پولیس ہم لوگوں کو باہر نکال لے آئی۔ دیوی نے بتایا کہ سائی خورد میں گولہ باری میں کئی مکان تباہ ہوگئے ہیں۔ کئی جانوروں کی موت ہوئی ہے۔ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے چلتے سرحدی بستیوں سے چار ہزار سے زیادہ لوگوں کو ہجرت کرنا پڑی۔ چونکہ پاکستانی فوج مسلسل گولہ باری کررہی ہے اس لئے حالات جنگ جیسے نظر آرہے ہیں۔ یہ حالات اس پراکسی وار کا حصہ ہے جو پاکستان نے کشمیر میں تھونپی ہوئی ہے۔ پاکستانی فوج نے پچھلے ایک ہفتے میں قریب100 دیہات کو نشانہ بنایا۔ عام طور پر جموں و کشمیر میں سال میں ایک بار دوہری صورتحال بن جاتی ہے جیسے آج نظر آرہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نہ تو سرحد کو پختہ بنایا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی ایسی اسکیم پر جس کے تحت جموں و کشمیر کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر بسایا جاسکے۔ جس طرح سے پاکستان گولہ باری کررہا ہے اس سے صاف ہے کہ اب دراندازوں کے ساتھ ساتھ پاک فوج بھی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ یہ جو گولہ باری ہورہی ہے یہ نہ تو کوئی جہادی تنظیم کرسکتی ہے اور جس طرح مورٹار ۔ بموں کا استعمال ہورہا ہے یہ صرف پاک فوج ہی کرسکتی ہے۔ آر ایس پورا سیکٹر کے ایس جی او سریندر سنگھ چودھری کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقہ حقیقت میں جنگی علاقہ میں بدل گئے ہیں۔ پاکستانی شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس سے مکانوں اور جانوروں کو کافی نقصان ہوا ہے۔ ہم سرحدی علاقوں کے گاؤں کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر لے جارہے ہیں۔ یہ سوال ہے کہ ہم صورتحال کو قابو میں لانے کے لئے کیا کررہے ہیں؟ آئے دن پاکستان کے حکمراں نیوکلیئر بم مارنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ انہوں نے ہمارے پانچ مارے اور ہم نے ان کے 10 مارے یہ مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ ذہنی نفر ت میں اندھا پاکستان بھارت کو نہ صرف سب سے بڑا خطرہ مانتا ہے، بلکہ اسے نقصان پہنچا کر اس کی برابری بھی کرنا چاہتا ہے۔ ایسا پاگل پن اوچھے نظریئے کی عکاسی ہے۔ معمولی طور طریقوں سے اس سے نہیں نمٹا جاسکتا۔ تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے کچھ کشمیری نیتا کہہ رہے ہیں کہ ان سے بات چیت کی جانی چاہئے۔ ان حالات میں بات چیت کیسے ہو؟ مودی سرکار کو اس برننگ اشو کا کوئی حل نکالنا ہوگا۔
(انل نریندر)

چھوٹی ریاستیں تو ہیں چناؤ سے بڑے سندیش نکلیں گے

عام طور پر کم مقبول رہنے والی نارتھ ایسٹ کی ریاستوں کے چناؤ اس بار زیادہ سرخیوں کاباعث بن سکتے ہیں۔ راجستھان، مدھیہ پردیش، کرناٹک کے چناؤ کو دیکھتے ہوئے یہ فروری میں ہونے جارہے ہیں۔ تریپورہ ،میگھالیہ اور ناگالینڈ کے چناؤ بھاجپا حکمراں ریاستوں کی تعداد بھی بڑھا سکتے ہیں یا کانگریس کے لئے حوصلہ افزا بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ ویسے نارتھ کی ساری ریاستیں چھوٹی ہیں پھر بھی اس وقت ان کی سیاسی نقطہ نظر سے کافی اہمیت ہے۔ کیرل کے بعد مارکسوادی پارٹی کی قیادت میں تریپورہ میں دوسری حکومت ہے۔ پچھلے پانچ برسوں سے وہاں مارکسوادی پارٹی کی قیادت والی لیفٹ جماعت ہی چناؤ میں کامیاب ہوتی آرہی ہے۔ نارتھ ایسٹ کی تین ریاستوں کے اسمبلی چناؤ دیش کی تینوں سیاسی پارٹیوں بھاجپا، کانگریس اور مارکسوادی پارٹی کے لئے بیحد اہم ہیں۔ نارتھ ایسٹ میں تیزی سے بڑھ رہی بھاجپا ان تینوں ریاستوں میں بھی اپنی پکڑ بنانے کی تیاری میں ہے۔ وہ تینوں ریاستوں میں مقامی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کرنے کے فراق میں ہے۔ وہیں کانگریس و مارکسوادی پارٹی کے سامنے اپنی سرکاریں بچانے کی چنوتی ہے۔ مشن 2019 کے پیش نظر ان تینوں ریاستوں میں لوک سبھا کی سیٹیں تو محض پانچ ہی ہیں لیکن ان ریاستوں کے نتیجوں کی سیاسی اہمیت زیادہ ہے۔ مرکز میں آنے کے بعد بھاجپا میں نارتھ ایسٹ میں تیزی سے پاؤں پھیلائے ہیں۔ سکم سمیت 8 ریاستوں میں سے آسام ، آروناچل اور منی پور میں اس کی حکومتیں ہیں۔ بھاجپا کے منصوبہ کافی اونچے ہیں ۔ اس کے ایک بڑے لیڈر نے کہا کہ وہ لوک سبھا چناؤ سے پہلے نارتھ ایسٹ میں این ڈی اے کی سبھی 8 ریاستوں میں اقتدار کے ساتھ جانے کی کوشش کریں گے۔ تریپورہ میں دیش میں پہلی بار کسی ریاست میں حکمراں لیفٹ پارٹی ، مارکسوادی پارٹی و ساؤتھ پنتھی بھاجپا کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے کیونکہ تریپورہ مارکسوادی پارٹی کا گڑھ رہا ہے اور وہ 1978 کے بعد سے 40 سال میں محض 5 سال 1988 سے 1993 کے درمیان ہی اقتدار سے باہر رہی ہے۔ سال 2013 کے چناؤ میں مارکسوادی پارٹی کو 60 میں سے 49 سیٹیں ملی تھیں لیکن اس بار تجزیئے بدلے ہوئے ہیں۔ بھاجپا کی کوشش اس لیفٹ گڑھ کو ڈھانے کی ہے۔ ناگالینڈ میں بھاجپا کی اتحادی این پی ایف اقتدار میں ہے اور دونوں پارٹیاں پھر سے مل کر چناؤ لڑنے جارہی ہیں۔ اگر لیفٹ گڑھ بچانے میں کامیاب رہی تو وہ مودی سرکار کے خلاف ناکہ بندی کے لئے زیادہ سرگرم ہوں گے۔ کانگریس کے سامنے اہم چنوتی تو کسی طرح میگھالیہ کی سرکار بچانے کی ہے کوئی پارٹی جیتے یا ہارے دیش تو یہی مانے گا چاہے گا کہ چناؤ پارلیمانی جمہوریت کے اصولوں کے مطابق ہی اصولوں سے بندھے ہوئے ہوں۔ نیتاؤں کے بیان سرحدوں سے باہر نہ جائیں اور سیاسی تلخی نہ ہو۔
(انل نریندر)

21 جنوری 2018

سیلنگ سے بازاروں میں دہشت

سپریم کورٹ کے ذریعے قائم کردہ مانیٹرنگ کمیٹی کی ہدایت پر ہورہی سیلنگ سے دہلی والوں کوجلد راحت ملنے کی امید نظر نہیں آرہی ہے۔ سیلنگ کے خلاف کاروباریوں میں ناراضگی مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ مانیٹرننگ کمیٹی کے ممبران نے صاف کردیا ہے کہ ابھی تک سیلنگ صرف کنورجن چارج کو لیکر ہورہی تھی۔ آنے والے دنوں میں ناجائز تعمیرات کو لیکر بھی سیلنگ کی کارروائی شروع کی جائے گی۔ راجدھانی دہلی میں اب افراتفری کا دور آنے والا ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے راجدھانی میں سیلنگ کی کارروائی جاری ہے۔ بازاروں میں ہائے توبہ مچی ہوئی ہے۔ اصل میں مرکزی سرکار کے ایک حکم کے بعد سپریم کورٹ کی مانیٹرنگ کمیٹی نے اپنے ایکشن کو روک دیا تھا لیکن اب وہ اس حکم سے آزاد ہوگئی ہے اس لئے اس نے ایکشن لینے کی ٹھان لی ہے۔ افسروں کو احکامات دئے گئے ہیں کہ وہ ناجائز تعمیرات پر ایکشن لیں ساتھ ہی کنورجن چارج نہ دینے والوں کی دوکانوں کو بھی سیل کرنا شروع کردیں۔ سیلنگ کا معاملہ دہلی کے بھاجپا نیتاؤں کے گلے نہیں اتررہا ہے۔ نئے کونسلروں کو جنتا کی ناراضگی بھاری پڑ رہی ہے۔ ایسے میں مرکزی وزیر شہری ترقی ہردیپ سنگھ پوری کے خلاف دہلی بھاجپا نیتاؤں کی ناراضگی بڑھی ہے۔ غور ہو کہ کیونکہ ہردیپ سنگھ پوری ایک افسر ہیں اس لئے ابھی تک دہلی کی جنتا کو سیلنگ سے نجات نہیں مل پارہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پوری کی جگہ کوئی پالیٹیکل شخصیت ہوتی تو اب تک ضرور سیلنگ سے دہلی کو راحت مل چکی ہوگی۔ نارتھ دہلی میونسپل کارپوریشن نے کانگریس کے لیڈر مکیش گوئل نے کہا کہ دوکانداروں و کاروباریوں کو سیلنگ سے راحت دلانے کے لئے بھاجپا اور عام آدمی پارٹی سنجیدہ نہیں ہے۔ ان پارٹیوں کے نیتا اس مسئلہ پر نہ صرف نورا کشتی کرتے دکھائی دے رہے ہیں بلکہ غلط بیانی کر لوگوں کو گمراہ بھی کرنے میں لگے ہیں۔ کانگریس سیلنگ سے دہلی کے شہریوں کو مستقل راحت دلانے کے حق میں ہے۔ اسی وجہ سے کانگریس ایم سی ڈی کے جنرل اجلاس میں اس اشوپر سنجیدہ بحث کر پائیدار فیصلہ یا پالیسی بنانا چاہتی ہے لیکن میٹنگ شروع ہوتے ہی عام آدمی پارٹی کے کونسلروں نے اس مسئلہ پر شور شرابہ شروع کردیا۔ ادھر عام آدمی پارٹی کے ترجمان دلیپ پانڈے نے الزام لگایا کہ بھاجپا حکمراں کارپوریشن نے کرجن ٹیکس کے نام پر کروڑوں روپے کا گھوٹالہ کیا ہے۔ کارپوریشن نے کاروباریوں کو لوٹنے کا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا برسوں سے بھاجپا حکمراں ایم سی ڈی کاروباریوں سے کنورجن چارج سمیت رجسٹریشن فیس اور پارکنگ چارجز کے نام پر ہزار کروڑ روپے سے بھی زیادہ کی رقم اکھٹی کر چکی تھی لیکن رقم کہاں گئی یہ بھاجپا کے نیتا بتا نہیں پا رہے ہیں۔ بھاجپا نے دہلی کے ایم سی ڈی کو اپنے کرپشن کا اڈہ بنا رکھا ہے۔پردیش بھاجپا نے دلیپ پانڈے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وصولہ گیا کنورجن چارج و پارٹی فیس بازاروں میں سہولیت پر خرچ کی گئی ہے۔ یہ رقم کہاں کہاں خرچ کی گئی اس کا بھی بھاجپا کے ترجمان اشوک گوئل نے و پروین شنکر کپور نے تفصیل پیش کی ہے۔ سیلنگ کو لیکر دہلی میں حالات بگڑنے کے امکانات بن رہے ہیں۔ کاروباری اب بازار بند کرنے لگے ہیں۔ سیلنگ نہیں روکی اور سرکار نے سیلنگ سے بچاؤ کے لئے صحیح قدم نہیں اٹھائے تو اگلے ہفتے پوری دہلی میں بند رکھنے پر غور ہورہا ہے۔ کاروباریوں کا کہنا ہے سیلنگ کی وجہ سے دہشت کا ماحول ہے۔ مقامی گراہک نہیں ہیں۔ باہر کے کاروباریوں کا بھی آنا بند ہوگیا ہے اس وجہ سے پورے شمالی بھارت میں اثر پڑ رہا ہے۔ پوری دہلی کے سیلنگ کی گرفت میں آنے کی وجہ سے کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے اس لئے سیلنگ کی کارروائی کے چلتے راجدھانی میں لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ بھی کھڑا ہوسکتا ہے۔
(انل نریندر)

اچھے اشاروں سے سینسیکس میں بھاری اچھال

اقتصادی محاذ پر اچھے اشاروں کے چلتے سینسیکس بدھوار کو ریکارڈ 35ہزار نمبر کے شمار کو پار کرگیا۔ شیئر بازار حالانکہ پچھلے کچھ دنوں سے اچھال بھر رہا تھا لیکن موجودہ مالی سال میں مزید ادھاری کا ٹارگیٹ 50 ہزار کروڑ روپے سے گھٹا کر 20 ہزار کروڑ روپے کرنے کے سرکار کے اعلان نے جیسے نئی جان پھونک دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی کئی وجہ ہو سکتی ہیں۔ فاضل ادھاری کا 50 سے گھٹ کر 20 ہزار کروڑ ہونے کے سبب بھی بازار میں تیزی آئی۔ پھر جی ایس ٹی، نوٹ بندی کے چلتے صنعتی پیداوار کے بڑھنے سے بھی بازار میں یہ اچھال دیکھنے کو ملا ہے ۔ وہیں پی سی ایس انفورسز وغیرہ کے بہتر نتیجوں کے سبب بازار ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے بھارت میں تیزی سے بڑھتی اقتصادی اصلاحات سے غیر ملک کے ساتھ گھریلو سرمایہ کاروں کا بھروسہ بڑھا ہے۔ ایسے میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ 2018 کے آخرتک 40 ہزار کے نمبر کو چھو سکتا ہے جبکہ نفٹی 12800 کے نمبر تک پہنچ سکتا ہے۔ اپریل ۔ مئی تک اسے سینسیکس 37 ہزار اور نفٹی 11300 نمبر تک جا سکتا ہے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی باقاعدہ پریشانیوں کا صنعتی کاروبار پر جو اثر پڑا ہے اب وہ آہستہ آہستہ کم ہورہا ہے ساتھ ہی سرکار جی ایس ٹی کو ضرورت کے مطابق گھٹا رہی ہے۔ اس سے بھی بازار میں جوش ہے۔ صنعتی پیداوار میں اضافہ اور آٹو موبائل سیکٹر میں بڑھتی بکری جیسے اعدادو شمار سے بھی معیشت کے تئیں امید بڑھی ہے حالانکہ شیئر بازار پوری معیشت کا آئینہ تو نہیں ہوتا بھارت جیسے ملکوں میں تو اور نہیں ، جہاں صرف 20 فیصدی آبادی کی ہی شیئر بازار میں موجودگی ہوتی ہے۔ ذراعت اور روزگار کے محاذ پر حالات بہت بہتر نہیں ہیں۔ اوپر جاتی افراط زر شرح اور کچے تیل میں آرہی تیزی بھی چنتا بڑھاتی ہے لیکن اقتصادی ڈسپلن کے محاذ پر سرکار کے کھرے اترنے اور پچھلے جھٹکوں سے نکلتے ہوئے معیشت کے پٹری پر لوٹنے کے اشارے امید تو جگاتے ہی ہیں کہ اقتصادی اصلاحات کے تئیں سرکار کے عزم میں سرمایہ کاروں کا بھروسہ بڑھایا ہے اس کے علاوہ بھاجپا کو ریاستوں میں ملی کامیابی اور مرکز میں استحکام نے بھی بازار میں بھروسہ پیدا کیا ہے۔اچھال میں آئی ٹی سیکٹر کی بہتر پرفارمینس بھی ایک وجہ رہی ہے۔ 13 مئی2014 کو سینسیکس 24069 تھا جو بڑھ کر 2018 میں 75681 ہو گیا۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...