Translater

24 مارچ 2012

مسلم خواتین کی بدحالی پر کوئی سیاسی پارٹی بولنے کو تیار نہیں



Published On 24 March 2012
انل نریندر
دیش میں مسلمانوں کے شرعی قانون میں اصلاحات و مسلم پرسنل لاء قانون سمیت کئی اصلاحات کئے جانے کی مانگ زور پکڑ رہی ہے۔ ہندوستانی مسلم خاتون تحریک سے وابستہ مسلم مہلا شکشا، سلامتی، روزگار، قانون و صحت کے اشوز پر بیداری لانے کا کام کررہی ہے۔ اترپردیش کے کئی شہروں میں ہندوستانی مسلم خواتین تحریک و پرچم تنظیم مشترکہ طور سے مسلم خواتین کے درمیان جاکر انہیں مضبوط کرنے کی نئی راہ دکھا رہی ہیں۔ دیش میں مسلم خواتین کی حالت ہمیشہ سے زیر بحث رہی ہے۔ مسلم شرعی قانون میں اصلاح کرنے کا وقت آگیا ہے۔ 'دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے۔۔۔' ہندی فلم کا یہ گیت مسلم برادری کی خواتین کا درد بیاں کرتا ہے۔ ایک شوہر کے بھروسے ہی لڑکیاں اپنا مائیکہ چھوڑ کر سسرال آتی ہیں لیکن شوہر جب ایک کے علاوہ تین اور بیویاں رکھنے کا حق شریعت میں ا س صورت میں ہے اگر وہ شخص ایک سے زیادہ بیویوں کا خرچ برداشت کرنے کا اہل ہو اور صاحب حیثیت ہو۔اگر وہ شخص صاحب حیثیت نہیں ہے تو اس کی بیویاں پریشان ہوجاتی ہیں اور جس کے سبب انہیں اپنے لائق شوہر سے طلاق لینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔مذہب کی آڑ میں کچھ لوگ خود ہی اپنے فائدے کے لئے دس طرح کی باتیں گڑھ لیتے ہیں اور اسلام میں بتائے گئے حالات اور وجوہات کو نظرانداز کردیتے ہیں۔اور اپنی مرضی کے مطابق شرعی قانون کی تشریح کرتے ہیں۔ صوبہ یا ملک کی سیاسی پارٹیاں بھلے ہی ووٹ کی سیاست کی وجہ سے خاموشی اختیار کرلیتی ہیں لیکن دیش میں عورتوں کی حالت اتنی خراب ہے کے سیاسی پارٹیاں اقلیت کی شکل میں مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی وکالت تو کرتی ہیں لیکن عورتوں کے ساتھ ہورہے مظالم پر خاموشی اختیار کرلیتی ہیں اور پیچیدہ مسئلوں پر رائے زنی کے بعد ووٹ کھسکنے کے ڈر سے پارٹی اس سے کنارہ کرنا ہی مناسب سمجھتی ہے۔ ایسا نہیں کے سبھی مسلم گھرانوں میں حالات بدتر ہیں لیکن جتنے بھی معاملے پرسنل لاء بورڈ میں آتے ہیں وہ زیادہ تر مسلم خاندانوں سے ہی وابستہ ہوتے ہیں۔ 21 ویں صدی میں بغیر کسی اصلاح کے ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے قانون میں اصلاح ہونا ضروری ہے۔ شریعت کے آگے پولیس اور موجودہ انسانی حقوق اور دیگر تنظیمیں سبھی لاچار دکھائی پڑتی ہیں۔ ایک خاتون عظیم النساء کی حالت کچھ ایسی ہی ہے۔ وہ گاؤں سلیم پور ،تھانہ سعاد اللہ ،شہر بلرام پور کی باشندہ ہے۔ وہ بے زبان ہے اس کی شادی ایک شخص فیروز ولد کتاب اللہ موضع برگھاٹ،تھانہ بوانی گنج، شہر سدھارتھ نگر میں ہوئی تھی۔ فیروز روزی کمانے کیلئے سعودی عرب چلا گیا، وہاں جاکر اس نے دوسری شادی کرلی۔ عظیم النساء اپنے پانچ سالہ بیٹے کے ساتھ انصاف مانگ رہی ہے۔ مجبورہونے کی وجہ سے اپنی آنکھوں میں درد لئے گھومتی ہے۔ اب مہلا تھانے میں چلنے والے کنبہ جاتی صلاح مشورہ مرکز کے کونسلروں نعیم خان اور سنیتا پانڈے نے بیچ کا راستہ نکالتے ہوئے فیصلے کیا ہے کہ آنے والی یکم اپریل کو مہلا تھانے سے ہی عظیم النساء کی رخصتی ہوگی اور اس کی رخصتی اس کے جیٹھ سے اس بارے میں ایک حلف نامہ دینے کے بعد ہوگی کہ وہ اس کے شوہر کے آنے تک اس کی دیکھ بھال اور کھانے پینے کا انتظام کرے گا۔ دوسرا معاملہ حسینہ خاتون کا ہے۔حسینہ6 بچوں کی ماں ہے، اس کے شوہر عالم پر عشق کا بھوت سوار ہے وہ گاؤں کی ایک نابالغ لڑکی کو بھگا لے گیا ہے۔ بعد میں 376 کے تحت ملزم بناتے ہوئے جیل کی سزا کاٹ کر واپس آنے کے بعد اپنی بیوی حسینہ کو چھوڑنے کیلئے اذیتیں دینے لگا۔ اتنا ہی نہیں اس نے عدالت میں حسینہ پر طلاق کا دعوی بھی ڈال دیا ہے۔ تیسرا معاملہ شبنم کا ہے۔ موضع شہرت نگر کی باشندہ شبنم بانو کے والد محمد زکی کے دروازے پر ہاتھی باندھے جاتے تھے۔ اب وہ نہیں ہیں۔ شبنم کا نکاح محمد استخار ولد محمد کوثر موضع مینا،تھانہ اٹاوہ،شہر سدھارتھ نگر کے ساتھ ہوا۔ والدین کی اکلوتی اولاد شبنم کی رخصتی سے پہلے ہی استخار نے اپنی بیوی کے گھروالوں سے تین لاکھ روپے اور پوری زمین اپنے نام کرنے کی شرط رکھی تبھی ہم رخصتی کرکے لے جائیں گے۔ خاص بات یہ ہے کہ 20 سے30 سال کی عورتوں کا ہی گھر بکھر جاتا ہے۔شہر سمیت صوبائی علاقے میں یومیہ عورتوں کو اذیتوں سے متعلق واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور کسی کو ان کی کوئی فکر نہیں ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Muslim, Muslim Personel Law, Muslim Reservation, Muslim Women, Vir Arjun

کیا منموہن، پرنب اور مونٹیک سنگھ 28 روپے میں گزارہ کرسکتے ہیں؟



Published On 24 March 2012
انل نریندر
پلاننگ کمیشن پتہ نہیں کونسی دنیا میں رہتا ہے۔ اس کی غریبی کی نئی تشریح تو غریبوں کا مذاق اڑانے جیسی ہے۔ پلاننگ کمیشن کے مطابق دیہات میں 22.42 روپے اور شہروں میں 28.65 روپے یومیہ خرچ کرنے والا شخص غریب نہیں ہے۔ اگر وہ غریب نہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ امیر ہیں؟ پچھلے سال ستمبر میں پلاننگ کمیشن نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے غریبی کے جو پیمانے پیش کئے تھے اس کو لیکر کافی واویلا مچا تھا۔ اس وقت غریب کا جو پیمانہ تیار کیا گیا تھا اس کے مطابق شہروں میں 32 روپے اور دیہات میں 28 روپے خرچ کرنے والا شخص غریب نہیں مانا گیا تھا۔ اقتصادی ماہرین اور سیاسی پارٹیوں کے ہنگامے پر سرکار غریبی کے نئے پیمانے تیار کرنے کو راضی ہو گئی تھی لیکن پیر کو غریبی کے جو نئے پیمانے پیش کئے گئے وہ تو پچھلی بار سے بھی زیادہ بے تکے اور بے بھروسہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص غریب ہے اسے ماننے میں سرکار کیوں ہچکچارہی ہے؟ پارلیمنٹ سے لیکر سڑک تک پلاننگ کمیشن کے وائس چیئرمین اور منموہن سنگھ کے چہیتے مونٹیک سنگھ اہلووالیہ (جنہیں وزیر اعظم وزیر خزانہ بنانا چاہتے تھے) نشانے پر ہیں۔ پلاننگ کمیشن کے نئے اعدادوشمار بتا رہے ہیں کہ دیش میں غریبوں کی تعداد گھٹ گئی ہے اور شہروں میں جس کی جیب میں28 روپے ہیں وہ تو غریب نہیں ہے۔ ان عجیب و غریب اعدادو شمار پر پارلیمنٹ میں بھاجپا اور یا لیفٹ پارٹیاں سبھی نے سرکار اور مونٹیک سنگھ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ بھاجپا کے ایس ایس اہلووالیہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ کیا وزیر اعظم یا وزیر خزانہ یومیہ 28 روپے میں گزارہ کرسکتے ہیں؟ انہوں نے کہا میں نہیں جانتا کونسی لائن کھینچی جارہی ہے 28 روپے کے یومیہ خرچ کو بنیاد مان کر غریبی کی روک تھام کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ یہ خط افلاس کی لائن نہیں ہے بلکہ یہ بھکمری کی لائن ہے۔ جنتادل (یو) کے ایم پی شیوآنندتیواری نے الزام لگایا کہ پلاننگ کمیشن ورلڈ بینک کے اشاروں پر کام کررہا ہے۔ جنتا دل (یو ) کے شردپوار نے اس موضوع پر بولتے ہوئے کہا کہ پلاننگ کمیشن کے نئے پیمانوں کو دیش کے غریبوں کے ساتھ گھناؤنا مذاق ہے۔ پلاننگ کمیشن کے وائس چیئرمین مونٹیک سنگھ اہلووالیہ جب بھی بولتے ہیں تو دیش میں واویلا کھڑا ہوجاتا ہے اور مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔ پلاننگ کمیشن میں ایسے شخص کو بٹھایا جائے جو ورلڈ بینک کا سابق ملازم نہ ہوکر بنیادی حقیقت سے واقف ہو۔ شرد یادو نے کہا میری سرکار سے التجا ہے کہ پلاننگ کمیشن کو اس شخص (مونٹیک سنگھ) سے چھٹکارا دلائے یا پلاننگ کمیشن کو بند کردیں۔ سشما سوراج نے کہا کہ پلاننگ کمیشن کو کیا الزام دیں، قصور تو سرکار کا ہے جو مانتی ہے۔ رپورٹ میں کمیشن نے پہلے بھی مذاق اڑایا تھا۔ رگھوونش پرساد سنگھ کی رائے بھی اسی طرح کی تھی۔ غریبوں کے ساتھ اس طرح کا مذاق غربت کے خاتمے سے متعلق اسکیموں پر سوال کھڑے کرتا ہے۔ملائم سنگھ یادو کا کہنا ہے لکھا پڑھا نہیں ہوں لیکن حقیقی طور پر دور دراز کے گاؤں میں جاکر دیکھئے ،اگر اس کی سچائی کی نظر سے دیکھا جائے تو دیش کی آدھی سے زیادہ آبادی خط افلاس سے نیچے کی زندگی بسر کررہی ہے۔ حکومت نے جلد ہی نئے غذائی سکیورٹی قانون کے نفاذ کی بات کہی ہے۔ اس قانون کے تحت دیش میں ہر غریب کو 2 روپے کلو گیہوں اور3 روپے کلو چاول دیا جانا ہے۔ ایسے میں دیش کی آدھی سے زیادہ آبادی کو رعایتی شرحوں پر گیہوں اور چاول مہیا کرانے سے سرکار پر مالی بوجھ کافی بڑھ جائے گا۔ اس لئے سرکاریں غریبوں کی تعداد کم کرکے دکھانا چاہتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک وجہ اور بھی ہوسکتی ہے کہ حکومت اپنی اقتصادی اصلاحات کی پالیسی کی پائیداری کو ثابت کرنے کے لئے بھی غریبوں کی تعداد کم دکھانے کی کوشش کررہی ہے۔ جس حساب سے اس سرکار کی اقتصادی پالیسیاں جاری ہیں اس سے تو اگر غذائی اجناس کی قیمتیں صرف10 فیصدی بڑھتی ہیں تو میرے بھارت مہان میں تین کروڑ لوگ غریبی کی ریکھا سے نیچے آجائیں گے۔ ہماری تجویز ہے کہ ہمارے ماہراقتصادیات منموہن سنگھ ، مونٹیک سنگھ اور سی رنگاراجن جیسے درجنوں اس حکومت کے اقتصادی ماہرین دیش کے دور دراز دیہات کا دورہ کریں اور دیکھیں کے آج غریب آدمی کن حالات میں زندگی بسر کرنے کو مجبور ہے۔ ایسا کرنے کے بعد طے کریں غریبوں کی تشریح کی ڈیفی نیشن۔ یہ تشریح بکواس ہے، غریبوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Manmohan Singh, Montek Singh Ahluwalia, Poverty, Pranab Mukherjee, Vir Arjun

23 مارچ 2012

گڈکری کی ہٹّی پھل پھول رہی ہے، پارٹی جائے بھاڑ میں!



Published On 23 March 2012
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی کے ادھیکش نتن گڈکری کے کام کرنے کے طور طریقوں سے زیادہ تر بھاجپا نیتا راضی نہیں ہیں۔ گڈکری کو آر ایس ایس کا نمائندہ مانا جاتا ہے۔ وہ سنگھ کے سمرتھن سے ہی بھاجپا ادھیکش بنے۔ گڈکری ایک تاجر ہیں جو بھاجپا کو اپنی نجی دکان کی طرح چلا رہے ہیں۔ تازہ بوال راجیہ سبھا کی ٹکٹوں کے بٹوارے کو لیکر ہے۔ راجیہ سبھا میں پارٹی کے صحیح امیدواروں کو درکنار کرنے اور مبینہ طور سے پیسے کے زور پر ٹکٹ دینے کے مدعے پر منگلوار کو بھاجپا ممبر پارلیمنٹ کی میٹنگ میں جم کر بوال ہوا۔ یشونت سنہا نے ایک تاجر انشومان مشرا کو سمرتھن دینے کو لیکر سیدھے پارٹی رہنمائی پر سوال اٹھادیا ہے۔ سنہا نے کہا کہ پارٹی ودھائکوں کو ہورس ٹریڈنگ کی منڈی میں نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اس میں پارٹی کا انوشاسن بھنگ ہوتا ہے اور امیج خراب ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جھارکھنڈ میں موجودہ راجیہ سبھا چناؤ میں پالیسی کو نہیں بدلا گیا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ زیادہ تر ممبر پارلیمنٹ ایم ایس اہلووالیہ کو دوبارہ جارکھنڈ سے ٹکٹ دینے پر ناراض تھے۔ بتاتے ہیں کہ اہلووالیہ پر سنگھ نے ویٹو لگادیا تھا۔میٹنگ میں ہماچل سے ممبر پارلیمنٹ شانتا کمار نے کہا کہ اہلووالیہ ایوان میں ایک اثردار نیتا ہیں اور انہیں ایک اور موقعہ ملنا ہی چاہئے تھا۔ نوادہ کے ممبر پارلیمنٹ بھولا سنگھ نے کہا کہ پارٹی کا ضمیر مر چکا ہے اور وہ پیسے کے سامنے جھک رہی ہے۔ بھاولا سے ممبر پارلیمنٹ مینکا گاندھی نے مرکزی رہنمائی سے کرناٹک کے سنکٹ کو ختم کرنے اور یدی یروپا کی مانگ پر دھیان دینے کی اپیل کی۔ اہلووالیہ کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ نہ ملنے سے کانگریس اور مایاوتی کی مراد پوری ہوگئی ہے۔ اہلووالیہ یوپی اے سرکار کو تمام مدعوں پر سب سے زیادہ گھیرتے رہے ہیں جن کی وجہ سے سرکار کئی بار پریشانی میں پڑی ہے۔مایاوتی بھی چاہتی تھیں کہ اہلووالیہ کا راجیہ سبھا سے پتا صاف ہوجائے تاکہ ممبر پارلیمنٹ نہ رہنے پر ان کو (اہلووالیہ) اپنا سرکاری بنگلہ 10 گورودوارہ رقاب گنج خالی کرنا پڑے۔ گڈکری چاہتے تو اہلووالیہ کو بھیج سکتے تھے انہیں جیتنے کے لئے بس11 ووٹ کی کمی پڑ رہی تھی جسے وہ جنتا دل (یو) سے پورا کرسکتے تھے لیکن گڈکری اور سشیل نے مل کر وہ سیٹ جنتادل (یو ) کے لئے چھوڑدی ۔جس پر بہار جنتا دل (یو) ادھیکش وششٹھ سنگھ نے نامزدگی کردی جبکہ اہلووالیہ نے اس سیٹ پر گڈکری سے پہلے سے ہی بات کررکھی تھی۔ ممبر پارلیمنٹ کی میٹنگ میں سب سے نازک حالت اڈوانی جی کی تھی۔ پوری میٹنگ میں وہ ایک تماشائی بنے رہے۔
ممبر پارلیمنٹ کے بغاوتی تیور کا اثر فوراً دیکھنے کو ملا۔ کہا جارہا ہے کہ جھارکھنڈ میں جب پارٹی راجیہ سبھا چناؤ میں اپنے ودھائکوں کو کسی آزاد امیدوار کے ووٹ دینے کے لئے دباؤ نہیں دے گی بلکہ کوشش ہورہی ہے کہ بھاجپا ودھائک چناؤ کا ہی بائیکاٹ کریں۔ ادھیکش نتن گڈکری نے اترپردیش ودھان سبھا چناؤ میں ہٹلری اسٹائل سے چناؤ مہم چلائی۔ سب سے پہلے گڈکری نے سپا کے سمرتھن کے بل پر پارٹی کے قد آور نیتا اور گجرات کے مکھیہ منتری نریندر مودی کی مخالفت کے باوجود سنگھ کے پرچارک رہے سابق سنگٹھن منتری سنجے جوشی کو یوپی چناؤ پرچار کا انچارج بنا دیا۔ دوسرا گڈکری نے سبھی پارٹی نیتاؤں کی مخالفت کے باوجود بسپا سے نکالے ہوئے بابو سنگھ کشواہا اور بادشاہ سنگھ کو پارٹی میں شامل کیا۔
پارٹی نے بندیلکھنڈ سے جتنے بھی تجربے کئے سوائے اوما بھارتی کے سب فیل ہوئے۔ مسلم بھتوں کے پولارائزیشنکو روکنے کیلئے اپنے سبھی فائر برانڈ نیتاؤں ورون گاندھی،یوگی ادتیہ ناتھ کو جہاں اپنے حلقے تک محدود کردیا وہیں دوسری طرف ہندووادی چہرہ مانے جانے والے نریندر مودی کو دعوت نامہ بھیجا لیکن جب ان کی ناراضگی ظاہر ہوئی تو انہیں منانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔پارٹی کی سبھی کوششوں کے بعد بھی پارٹی مسلم بھتوں کا پولارائزیشنتو نہ روک سکی بلکہ اپنی اس کوشش میں اس نے اپنے روایتی ووٹ بھی گنوا دئے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پارٹی 2007ء کا بھی مظاہرہ نہ دوہرا سکی۔ چاہے معاملہ اتراکھنڈ کا رہا ہو یا پنجاب کا دونوں ہی راجوں میں بھاجپا کی حالت خراب ہوئی ۔ گڈکری جب سے ادھیکش بنے ہیں بھاجپا کا گراف گرتا ہی جارہا ہے لیکن اس میں نتن گڈکری کو کوئی فرق نہیں پڑتا وہ تو پارٹی کو بطور ہٹّی (دکان) چلا رہے ہیں۔جس کا واحد مقصد ہے پیسہ بنانا اور یہ کام وہ بخوبی کررہے ہیں۔ گڈکری کی ہٹّی تو پھل پھول رہی ہے ،پارٹی جائے بھاڑ میں۔
Anil Narendra, Babu Singh Kushwaha, BJP, Daily Pratap, Jharkhand, Narender Modi, Nitin Gadkari, RSS, Uttar Pradesh, Uttara Khand, Varun Gandhi, Vir Arjun

سپا ۔یوپی اے سرکار میں شامل ہوگی؟



Published On 23 March 2012
انل نریندر
ایتوار کو ایک نامہ نگار نے لکھنؤ میں مکھیہ منتری اکھلیش یادو سے سوال کیا کہ کیا سماجوادی پارٹی یوپی اے سرکار میں شامل ہوگی؟ جواب میں اکھلیش نے کہا کہ ہم یوپی اے سرکار میں شامل ہوں گے یا نہیں اس پر آخری فیصلہ پارٹی ادھیکش ملائم سنگھ یادو (نیتا جی) ہی کریں گے۔ سپا کے کیندریہ سرکار میں سہیوگی بننے کے متعلق دگوجے سنگھ کے بیان پراکھلیش نے کہا کہ نیتا جی دہلی جارہے ہیں، مرکز میں سپا کے کردار کا فیصلہ وہی کریں گے۔ ملائم سنگھ یادو (نیتا جی) سے جب دہلی میں یہی سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ نہ تو ہم سے کسی نے ایسا کرنے کی اپیل کی ہے اور نہ ہی ہم نے کسی سے اپیل کی ہے۔ نیتا جی کی باتوں سے ایسا لگا کہ وہ منموہن سرکار میں شامل ہونے کے لئے زیادہ پرجوش نہیں ہیں۔ مرکزی سرکار بیشک ممتا سے عاجز ملائم سنگھ کی طرف بھلے ہی حسرت سے دیکھ رہی ہو لیکن سپا کی اس میں زیادہ دلچسپی نہیں لگتی۔ یہاں تک کہ سپا نہ تو مرکزی سرکار میں شامل ہوگی اور نہ ہی اسے اپ سبھا پتی کے عہدے کی ضرورت ہے۔ حالانکہ یہ بھی صاف ہے کہ سپا منموہن سنگھ سرکار کو گرانے کی کوئی کوشش نہیں کرے گی اور سمرتھن جاری رکھے گی۔یوپی اے سرکار کو لیکر سپا کا نظریہ بالکل صاف ہے۔ ذرائع کے مطابق اترپردیش ودھان سبھا چناؤ میں بھاری بھرکم جیت کے بعد سپا اب آئندہ لوک سبھا چناؤ تک اس پر کوئی آنچ نہیں آنے دینا چاہتی۔ خاص طور سے اس حالت کے مدنظر جب گذرے سالوں میں بھرشٹاچار اور گھوٹالوں جیسے کئی مورچوں پر مرکزی سرکار کا دامن داغدار رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں پارٹی اترپردیش میں کسانوں کی بہتری کے کئی وعدوں پر بھی جیتی ہے جبکہ مرکزی بجٹ میں آنے والے وقت میں ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے اشارے ہیں۔ پارٹی کا ماننا ہے کہ ایسے میں مرکزی سرکار میں شامل ہوکر انہیں گناہوں کا حصہ دار بننا اس کے لئے نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے لہٰذا اس سے دور رہنے میں ہی بھلائی ہے۔
سپا کے اعلی ذرائع نے تو دعوی کیا ہے کہ کانگریس کی رہنمائی والی مرکزی سرکار میں شامل ہونے کا سوال ہی نہیں۔ اس کے پیچھے ایک ترک یہ بھی ہے کہ گذرے سالو ں میں سپا نے بھلے ہی کئی مورچوں پر آگے بڑھ کر مرکزی سرکار کا ساتھ دیا ہو لیکن اترپردیش کے گذرے ودھان سبھا کے چناؤ تک کانگریس نے بھی کبھی اس کے ساتھ دوستانہ رشتے کا ثبوت نہیں دیا۔ غور طلب ہے کہ اترپردیش کے گذرے ودھان سبھا چناؤ میں کانگریس۔بسپا اور مایاوتی کو چھوڑ کر سپا پر ہی سب سے زیادہ حملہ آور رہی تھی۔ایک دوسرے سپا نیتا نے یہ بھی صاف کیا کہ مرکزی سرکار میں شامل ہونے کیلئے کانگریس کی طرف سے کوئی ٹھوس پرستاؤ ویسے بھی ابھی تک نہیں آیا ہے۔کانگریس جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے سوموار کو ملائم سنگھ کی جم کر تعریف کی تھی۔سپا کی اولیت ہمیں تو صاف لگتی ہے ۔ سپا کی اولیت اترپردیش میں ایک اچھی سرکار چلانا اور اترپردیش میں پارٹی کو اور مضبوط کرنا ہے نہ کہ کسی دوسری پارٹی کی غلطیوں میں شریک ہونا۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, Samajwadi Party, UPA, Vir Arjun

22 مارچ 2012

Reminder: Mohsin Syed invited you to join Facebook...

facebook
Hi,
Syed wants to be your friend on Facebook. No matter how far away you are from friends and family, Facebook can help you stay connected.
Other people have asked to be your friend on Facebook. Accept this invitation to see your previous friend requests
Mohsin Syed
99 friends · 65 photos · 10 notes · 11 Wall posts
Accept Invitation
Go to Facebook
This message was sent to advertisement2.urdu@blogger.com. If you don't want to receive these emails from Facebook in the future or have your email address used for friend suggestions, please click: unsubscribe.
Facebook, Inc. Attention: Department 415 P.O Box 10005 Palo Alto CA 94303

کیا سید محمد کاظمی پر دہلی پولیس جھوٹا کیس بنا رہی ہے؟



Published On 22 March 2012
انل نریندر
اسرائیلی سفارتخانے کی کارمیں دھماکے کے معاملے میں گرفتار صحافی سید محمد کاظمی کیا بے قصور ہے یا انہیں زبردستی دہلی پولیس نے گرفتار کیا ہے یا یہ حملے میں ایک اہم کڑی ہے؟ یہ سوال کاظمی کی گرفتاری کے بعد سے ہی اخباروں میں بنا ہواہے۔ ایک سینئر صحافی نے کہا کہ دہلی پولیس نے اسرائیل او امریکہ کے کہنے پر کاظمی کو گرفتار کیا اور اس کی گرفتاری کی اصل وجہ تھی ۔وہ اپنی رپورٹوں میں مشرقی وسطیٰ کے صحیح حالات پیش کرتا تھا جس سے دونوں اسرائیل اور امریکہ ناراض ہیں۔ اسے روکنے کیلئے دہلی پولیس نے یہ ڈرامہ رچا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبر اور سرکردہ شیعہ عالم مولانا کلب جواد نے لکھنؤ میں کہا کہ دہلی پولیس کمشنراسرائیلی ایجنٹ ہیں اور ان کی پراپرٹی کی جانچ ہونی چاہئے۔ مولانا جواد نے میڈیا سے کہا دیش میں پچھلے قریب 20 برسوں سے بے قصور مسلمانوں کو دہشت گردی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ 13 فروری کو دہلی میں ہوئے دھماکے میں سینئر صحافی سید محمد کاظمی کی گرفتاری اس کی نئی کڑی ہے۔ دوسری طرف دہلی پولیس نئے نئے ثبوت پیش کررہی ہے۔ معاملے کی جانچ میں لگے ذرائع نے بتایا کاظمی کے ایران سے گہرے رشتے ہونے کے پکے ثبوت ملے ہیں۔ کاظمی کئی بار ایران گیا تھا۔ اس دوران اس نے دھماکے سے وابستہ دوسرے ایرانیوں سے ملاقات کی تھی۔ کاظمی نے پولیس کو بتایا کہ وہ 7 جنوری2011ء کو ایران گیا تھا۔ اس بار اس کی ملاقات سید علی اور علی رضا سے ہوئی تھی۔ سید علی نے اسے ایرانی سائٹ پر موت کا بدلہ لینے کی بات کہی تھی۔ سید نے اسے تہران میں 3 ہزار ڈالر اور ایک موبائل فون بھی دستیاب کرایا تھا اور واپس دہلی لوٹنے پر اس کی کئی بار سید سے فون پر بات چیت ہوئی۔مئی2011ء میں ایران سے اسے سید نے فون کر اسرائیلی ڈپلومیٹ کو نشانے بنانے کی بات کہی۔ اسے اس حملے کے لئے ایران سے آنے والے لوگوں کے لئے دہلی میں مدد کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔ پولیس کا دعوی ہے کہ پلاننگ کے مطابق ایرانی حملہ آوروں کو دہلی آنے پر کاظمی نے انہیں صرف قرولباغ میں واقع فیض روڈ پر ہوٹل میں ٹھہرایا تھا بلکہ اسرائیلی ڈپلومیٹ کے آنے جانے کا روٹ پتہ کرنے میں بھی ان کی مدد کی تھی اس کے لئے کرائے پر لی گئی موٹر سائیکلوں کا استعمال کیا گیا۔
خیال رہے کہ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے جور باغ کے کربلا علاقے میں مقیم اس فری لانس صحافی محمد کاظمی کو 6 مارچ کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کمشنر نے بتایا کہ 2011ء میں جب کاظمی ایران گیا تھا تو اس کی ملاقات سید علی مہدیانی اور محمد رضا و ایرانی افسر سے ہوئی تھی۔ ملیشیا میں سرگرم گینگ کے ماسٹر مائنڈ محمد مسعود کی ہدایت پر سید علی اور محمد رضا نے دہلی میں اسرائیلی سفارتکارپر حملہ کروانے میں کاظمی کو پیسے کا لالچ دیا اس کے لئے 5500 ڈالر دینے کی بات کہی گئی۔ کاظمی تیار ہوگیا اور پھر ایرانی افسر کے ساتھ دہلی آگیا۔ 10 فروری کو سید احمد، محمد رضا خان اور عبدالفجی مہدیانی بھی دہلی آگئے۔ تینوں کاظمی کے یہاں رکے ہوئے تھے ۔اگلے دن کاظمی کی آلٹو کار میں بیٹھ کر تینوں نے اسرائیلی سفارتخانے کے ساتھ ساتھ نئی دہلی رینج کے علاقے کا جائزہ لیا اور حملے کا خاکہ تیار کیا۔ ادھر افسر ایرانی نے قرولباغ میں رہنے والے ایک لڑکے کے تعاون سے ایک اسکوٹی خریدی تھی اس کا استعمال کار میں اسٹیکی بم لگانے کے لئے کیا گیا تھا۔ افسر ملیشیا میں بیٹھا اس کا آقا مسعود کے رابطے میں تھا۔ ادھر مسعود کی رضامندی پر 14 فروری کو بینکاک اور جارجیہ میں حملہ کیا گیا۔ حملے کو مرادی سعید اور محمد قاضی نے انجام دیا تھا۔ محمدقاضی کو بینکاک پولیس نے گرفتار کرلیا ہے وہیں ملیشیا پولیس کے ہتھے سبھی دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ مسعود بھی چڑھ گیا۔ دہلی میں ہوئے دھماکے کے 24 گھنٹے میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی ایک ٹیم دہلی پہنچ گئی تھی اور مسلسل جانچ کررہی ہے۔دہلی پولیس کے ذرائع کے مطابق موساد کے ایجنٹ جلد ہی ریمانڈ پر چل رہے کاظمی سے پوچھ تاچھ کرسکتے ہیں وہیں دہلی پولیس پورے معاملے سے پردہ اٹھانے کے لئے ملیشیا میں گرفتار مسعود سے بھی پوچھ تاچھ کرنے کے لئے ملیشیا سرکار سے رابطے میں ہے۔ اب دہلی پولیس صحیح کہہ رہی ہے یا یہ ساری کہانی زبردستی بنائی گئی ہے اس کا فیصلہ تو عدالت میں ہی ہوگا۔ امید ہے کہ سچائی کی جیت ہوگی۔ ویسے دہلی پولیس کویہ کیس عدالت میں ثابت کرنا ہوگا۔ اس سے دہلی پولیس کی ساکھ وابستہ ہے۔ یہ معاملہ اب پوری طرح سے بین الاقوامی رنگ اختیار کرچکا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Mohd. Ahmed Kazmi, delhi Police, Iran, Israil, Bomb Blast, Delhi Bomb Case,

وراٹ کوہلی اس وقت دنیا کے پہلے ون ڈے بلے باز ہیں



Published On 22 March 2012
انل نریندر
ایشیا کپ کرکٹ کے اہم میچ میں بنگلہ دیش نے سری لنکا کو ہرا کر پہلی بار فائنل میں اینٹری کی ہے۔ اب بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان فائنل ہوگا۔ بھارت تو باہر ہوگیا ہے۔ پاکستان کے خلاف اتنا اچھا کھیلنے کے بعد بھی ٹیم انڈیا کے باہر ہونے کا سبھی کو دکھ ہے۔ ایک سوال جو کیا جارہا ہے کہ کیا سری لنکا جان بوجھ کر بنگلہ دیش سے ہارا ہے ،تاکہ فائنل میں بھارت داخل نہ ہوسکے؟ جس سری لنکا کے ایک گیندباز نے بھارت کے ساتھ ایک برس پہلے ہوئے مقابلے میں آخری گیند پر جب بھارت کو جیت کے لئے ایک رن چاہئے تھا اور وریندر سہواگ 99 رن پر ناٹ آؤٹ تھے کی سنچری روکنے کے لئے جان بوجھ کر نو بال ڈال دی ہو تو اس سری لنکا سے عمدہ کھیل کے جذبے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ پورے دیش میں یہی بحث تھی کہ اس نوراکشتی کی مار بھارت پر ہی پڑے گی۔ سری لنکا نے بلے بازی ،گیند بازی اور فیلڈنگ میں محض خانہ پوری کرتے ہوئے جیت بنگلہ دیش کو دلا دی۔ وجہ ایک تھی کہ جس بھارت نے سری لنکا کو دھول چٹا رکھی ہے وہ فائنل میں نہ پہنچ سکے۔ بنگلہ دیش کی کامیابی کے ساتھ ہی پانچ بار چمپئن بھارت فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگیا۔ حالانکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے برابر 8 پوائنٹ ہیں لیکن جواں ٹیم نے چونکہ بھارت کو ہرایا تھا اس لئے اسے فائنل کا ٹکٹ مل گیا۔ بیشک ٹیم انڈیا فائنل میں نہیں پہنچ سکی لیکن اس سیریز میں بھارت کے کم سے کم دو بہت بڑے کارنامے رہے۔ پہلا سچن کا 100 ویں سنچری اور دوسرے وراٹ کوہلی جو ایک انتہائی اہم بلے باز کی شکل میں ابھرے ہیں۔ اس 23 سالہ مغربی دہلی کے نوجوان کھلاڑی کا نام اب دنیا کے سرکردہ بلے بازوں کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے۔جب وہ بلے باز کرتے ہیں تو مخالف کا بڑے سے بڑا اسکور بھی بونا پڑ جاتا ہے۔ تین ہفتے میں دو بار اکیلے اپنے دم خم سے وراٹ نے ٹیم انڈیا کو جیت کا سہرہ پہنایا ہے۔ ایتوار کو کوہلی کی 148 گیندوں میں 183 رن کی وجہ سے ٹیم انڈیا نے ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا۔ اس ریس میں 'برا نہ مانو کوہلی ہیں' یہ ایس ایم ایس پورے میر پور میں گونجتا رہا۔
پچھلے سال وراٹ کوہلی نے ون ڈے کا سب سے زیادہ اسکور بنایا تھا۔ اس سے پہلے وہ دوسرے نمبر کے سب سے زیادہ اسکور بنان والے کھلاڑی رہے اس لئے یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ اس وقت وراٹ کوہلی دنیا کے سب سے پہلے ون ڈے بلے باز بن گئے ہیں۔ حالانکہ وراٹ کوہلی کی اس شاندار فارم پر سب کو ناز ہے لیکن انہیں اپنے برتاؤ میں بہتری لانی چاہئے۔ غصہ ،غرور اچھے اچھے کو دھول چٹا دیتا ہے۔ کچھ نجومیوں کا کہنا ہے کہ ان کو غصہ اس لئے آتا ہے کہ وہ 18 نمبر کی جرسی پہنتے ہیں اس کا جوڑ ہوتا ہے9 یہ اچھا جوڑ نہیں ہے۔ ان کے مطابق وراٹ کو ایسی جرسی پہننی چاہئے جس جوڑ 5 ہو جیسے 14،321 ۔وراٹ کی پیدائش کا نمبر پانچ ہے۔ وہ23 برس کے ہیں جس کا جوڑ بھی 5 ہے۔ یہ سال 2012ء ہے جس کا نمبر بھی 5 بنتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ سال ان کے لئے خاص ہے۔ ان کے غصے اور غرور کے سبب انہیں ٹیم انڈیا کا 'اینگری ینگ مین' بھی کہا جارہا ہے۔
Anil Narendra, Cricket Match, Daily Pratap, India, Vir Arjun, Virat Kohli

21 مارچ 2012

ممتا نے ثابت کردیا کہ وہ اپنی ضد کی پکی ہیں!



Published On 21 March 2012
انل نریندر
14مارچ کو دینش ترویدی نے پارلیمنٹ میں ریل بجٹ پیش کیا تھا۔ اس میں انہوں نے مسافر کرایے میں اضافے کی تجویز رکھی تھی۔ اس تجویزکو لے کرترنمول کانگریس کی چیف ممتا بنرجی اتنی خفا ہوئیں کہ انہوں نے ترویدی سے فوراً اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینے کو کہہ دیا ۔انہوں نے اعلان کیاکہ ترویدی نے کانگریس کے کچھ لیڈروں سے سانٹھ گانٹھ کرکے مسافروں کا کرایہ بڑھانے کافیصلہ کرلیاہے جب کہ اس بارے میں انہوں نے کسی بھی سطح پر پارٹی سے مشورہ نہیں کیا۔ ایسے میں انہوں نے پارٹی کا اعتماد کھو دیا ہے۔ ناراض ممتا نے اسی دن وزیراعظم کو ایک فیکس پیغام کے ذریعہ کہاتھا کہ دینش ترویدی کی جگہ ان کی پارٹی سے مکل رائے کو وزیرریل بنادیا جائے۔ چاردن کے ہائی وولٹیج ڈرامے کے بعد دنیش ترویدی کو آخر کار استعفیٰ دینا پڑا جو منظور بھی ہوگیا۔ دینش ترویدی نے دراصل وہ کام کیا جو سابق وزیرریل ممتابنرجی خود لالو پرساد یادو کے آٹھ سال وزیررہتے کرایہ نہ بڑھانے کے فیصلہ کی روایات کو ہی توڑدیا۔ویسے دینش ترویدی ویسے ایک اچھے لیڈر ہیں۔ 61سالہ ترویدی ترنمول کانگریس کے قیام کے بعد سے ہی ممتا کے خاص رہے ہیں ان کی وفاداری کی وجہ سے ہی انہیں ممتانے اپنی جگہ مرکزی کیبنٹ وہ جگہ دلادی ہے۔ ممتا نے مغربی بنگال کا وزیراعلی بننے کے بعد وزیرمملکت خاندانی وبہود وصحت سے ترقی کرکے انہیں اپنی جگہ وزیرریل بنوایا ہے ۔ترویدی سیاست کے جرائم کرن کے خلاف برسوں سے لڑرہے ہیں اور انہوں نے کئی مفاد عامہ کی عرضیا بھی دائر کی ۔وہرہ کمیٹی کی وجہ سے ہی اطلاعات حق کاقانون بن سکا۔ یہ کمیٹی ترویدی کی عدالت میں دائر کردہ عرضی کی وجہ سے تشکیل دی گئی تھی۔ اناہزارے کے پچھلے پانچ اپریل کو جنترمنتر پر انشن شروع ہوا تھا۔ تو ترویدی نے انہیں خط لکھ کر عہدہ چھوڑنے کی بھی خواہش جتائی تھی۔ وہ انا ہزارے اور اروندگیجری وال سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ان سے دنیش ترویدی نے کہا کہ وہ کرپشن کے خلاف لڑائی کو مضبوطی دینے کو تیار ہے۔ راجیہ سبھامیں دوبار چنے گئے ترویدی نے 2009 کے لوک سبھاچناؤ کے مارکسوادی کے مضبوط امیدوار تارت توپ دار کو بیرک پور سے ہرایا تھا بنیادی طور سے کانگریسی رہے ترویدی وی پی سنگھ کی قیادت والے جنتادل میں بھی شامل ہوئے تھے۔ کولکتہ یونیورسٹی سے بی کام اور ٹیکساس یونیورسٹی سے ایم بی اے پاس ترویدی پائلٹ کابھی لائسنس حاصل کیاتھا۔ دنیش ترویدی کو ریل کا کرایہ بڑھانے میں اپنے بہادرانہ فیصلے کے سبب اپناعہدہ گنوانا پڑا۔ ترویدی نے اپنے ریل بجٹ میں سبھی زمروں کے ریل کرایے میں اضافی کی تجویز رکھی تھی۔ سب سے پہلے اس کی مخالفت انہیں کی پارٹی کے نیتا اور مرکزی وزیر سدیب بند اپادھیائے نے کی تھی۔وزیراعظم اور وزیرخزانہ دونوں نے ہی ممتا کو بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ بجٹ اجلاس ختم ہونے دیجئے پھر بدل دیں گے اس کے لئے ممتا تیار نہیں ہوئی۔ چار دنوں تک سیاسی ڈرامہ چلتا رہا۔ اپوزیشن کو بھی ہتھیار مل گیا۔ سرکار کو کٹگھرے میں کھڑے کرنے کا ۔دنیش ترویدی نے بھی کہہ دیا کہ مجھ سے لکھ کر استعفیٰ مانگا جائیگا تب دوں گا ۔ لیکن جب میں ممتا سے ان کی ٹیلی فون پر بات ہوئی تو استعفیٰ دینے کو تیار ہوگئے۔ اس سے ممتا نے ایک بار پھر ثابت کردیا وہ اپنی ضد کی پکی ہیں۔ اور ایک بار وہ جو کچھ ٹھان لے اسے پورا کروا کر ہی مانتی ہے۔ ایسا کرنے کی قیمت چاہے انہیں کچھ بھی چکانی پڑے۔ اب مکل رائے نئے وزیرریلوے بن گئے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Mamta Banerjee, Manmohan Singh, Prime Minister, Rail Minister, Vir Arjun

پان سنگھ تومر: ایک یادگارفلم



Published On 21 March 2012
انل نریندر
پچھلے دنوں میں نے ایک ایسی فلم دیکھی جس نے مجھے اندر تک ہلا دیا اور سوچنے پرمجبور کردیا کہ آخر پان سنگھ تومر جیسا شخص ڈاکو کیوں بنا؟ ماننا پڑے گا فلم ساز ہمانشوپھولیا اور یوٹی وی موشن فیکچر س نے عرفان خان اسٹار پانسنگھ تومر کو ایک مہان فلم کی شکل میں پیش کیا۔ بڑا لمبا سفر طے کیا ہے ہندی فلم اور بالی ووڈ نے سنیمائی برجوواد سے پانسنگھ تومر تک۔ بیچ میں اپنی زندگی میں ہی پھولن دیوی پر سنیما میں بینڈڈ کوئن بن گئی۔ اورلوک سبھا کی ممبر بھی بنی۔ پتہ نہیں پانسنگھ تومر نے کہیں اسی کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ فلم کے آغاز میں یہ مکالمہ بولا۔ بھیڑ میں تو باغی ہوتے ہیں اور پارلیمنٹ میں ڈکیت۔ تعجب یہ بھی ہے کہ سینسر بورڈ اس ڈائیلاگ کو کاٹانہیں۔ پانسنگھ تومر عام طور پر ایک خطرناک ڈاکو اور مان سنگھ، مانجھی سنگھ کی طرح چنبل کے ڈاکونہیں تھے وہ فوج میں بھرتی صوبے دار تھے اتفاق سے 1981میں مدھیہ پردیش کے وزیراعلی ارجن سنگھ ہوا کرتے تھے ان کے عہد میں ہی ڈاکو ملکھان سنگھ اور پھولن دیوی نے سرنڈر کیاتھا۔اسی پھولن دیوی کو شیکھر کپور نے بینڈڈ کوئن بنایا اور ہمانشو پھولیا اور اس کے معاون ہواکرتے تھے۔ ڈاکوؤں پر وقتاً فوقتاً فلمیں بنتی رہی ہیں۔ بلیک اینڈ وائٹ کے زمانے میں جے راج ڈاکو بنتے تھے۔راج کپور کی'' جس دیش میں گنگا بہتی ہے''یا سنیل دت کی ''مجھے جینے دو'' گنگا جمنا اور یہاں تک کے' مدر انڈیا' میں بھی سنیل دت نے ایک ویلن کا رول نبھایاتھا۔ پانسنگھ تومرمیں فلم کاہیرو پانسنگھ تومر مورینا کے ایک غریب کسان خاندان کالڑکا ہے جو بھر پیٹ کھانے کی خاطر فوج میں بھرتی ہوتا ہے۔ اس کو کھانے کی اتنی عادت تھی کہ اس کے ساتھیوں نے کہاکہ تم فوج کے کھلاڑی ونگ میں تبادلہ کرالو۔ اس کو دوڑنے کی پریکٹس کو دیکھتے ہوئے اسے ایک ایتھلٹ بننا ہوتا ہے اورگھوڑے کی طاقت کے ساتھ زورآزمائی کرتا ہے۔ اور بین الاقوامی اور قومی ایوارڈ جیتنے والے پانسنگھ کے خاندان کی زمین دادا گیری کرکے چھین لی جاتی ہے۔ اور جب پولیس انتظامیہ سے اسے کوئی مدد نہیں ملتی تو وہ ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔اپنے ساتھ ناانصافی کے لئے لڑنے کے لئے مجبور ہوجاتا ہے۔ پانسنگھ کے ساتھ آپ ہنستے ہے اور آخر کار آپ کو افسوس ہوتا ہے۔ ناانصافی کے خلاف لڑائی میں جان گنوانی پڑی۔ آج کی مستی کا سامان پیدا کرنے والے نوجوان بھی پانسنگھ تومر کی فلم دیکھ کر خوش ہوجائیں گے۔ کیونکہ فلم ساز نے اتنی کمال کی فلم بنائی ہے۔ آپ ایک لمحے کے لئے بھی پردے سے اپنی نگاہ نہیں ہٹاسکتے۔ فلم کے ڈائیلاگ اتنے دوراندیشی ہے کہ آپ کرداروں کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ پانسنگھ کے کردار میں عرفان خان نے زندہ دلی کے ساتھ یہ کردار نبھایا ہے۔ اداکاری کا کردار دکھانے والے اسے اسٹوری کی طرح بڑھا جاناچاہئے۔ آج کے وہ تمام لوگ جو اداکاری سکھانے والے ادارے میں اسے نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ اس فلم میں عرفان خان کی اداکاری اسی طرح کی یاد گار رہے گی۔ جس طرح دلیپ کمار کا کردار گنگا جمنامیں یاد کیاجاتا ہے۔ ان کی بے مثال ادا کاری تھی ۔اداکارہ ماہی گل کو اس فلم میں دیکھ کر یہ نہیں لگتا ہے کہ وہ پنجاب کی لڑکی ہے۔ وہ چنبل کی بیٹی کی طرح لگتی ہے۔ سبھی کو یہ فلم دیکھنی چاہئے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Films, Pan Singh Tomar, Vir Arjun

20 مارچ 2012

سچن کاکبھی نہ ٹوٹنے والا سینکڑوں کا ریکارڈ



Published On 20 March 2012
انل نریندر
جمعہ کادن اس لئے بھی تاریخی بن گیا اس لئے نہیں کہ اس دن پرنب مکھرجی نے بجٹ پیش کیا تھا۔ بلکہ اس لئے کہ اس دن سچن تندولکر نے اپنی مہاسینچری پوری کی۔ پتہ نہیں ان بجٹ کاان سنچریوں سے کیاتعلق ہے۔ کیونکہ انہوں نے پہلے بھی ریل بجٹ کے دن دوہری سنیچری پوری کی تھی۔دن کاآغاز پارلیمنٹ میں پرنب مکھر جی نے جنتا کو سخت بجٹ کادرددینے کے ساتھ کیاتھا۔لیکن شام ڈھلتے ڈھلتے سچن کی سینچری نے اس درد کو دور کردیا ۔بجٹ تقریب ختم ہونے کے بعد سبھی اپنے ٹی وی کے سامنے بیٹھ گئے۔ سچن کے بلے سے نکلنے والے ایک ایک رن پر ان کے پرستاروں کی دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی گئیں۔ میرپور کے شیر بنگلہ اسٹیڈیم میں جیسے ہی سچن کی سویں سینچری پوری ہوئی توپورا دیش جھوم اٹھا۔ اس میچ میں بھلے ہی دیش ہار گیا ہو۔ لیکن یہ دن دونوں ملکوں کے لئے اپنے اپنے اسباب سے تاریخی بن گیا ہے۔ کھیل میں ہارجیت تو چلتی رہتی ہے ۔ بیشک اس دن بنگلہ دیش نے کمال کا کھیل دکھاتے ہوئے ٹیم انڈیا کوہرا دیا۔ لیکن شاید ہی کوئی کرکٹ پریمی ایسا ہو جو یہ چاہتا ہو سچن 96-95 رن بناکر آؤٹ ہوجاتے اور میچ جیت جاتا اس میچ کو آخر کارسچن کی سویں سینچری کیلئے یاد کیا جائیگا نہ کہ بنگلہ دیش کرکٹ کے لئے۔ سیاست داں سیاست داں ہی ہوتے ہیں۔ اس دن بھی وزیرخزانہ پرنب مکھرجی پیچھے نہیں رہے۔ کہیں کہ پچھلے سال جب بھارتیہ ٹیم نے28 سال بعد کرکٹ کاورلڈ کپ جیتا تھا تب بھی میں ہی وزیر خزانہ تھا۔ اور آج بھی جب سچن نے سویں سنچری پار کی جب بھی میں ہی دیش کاوزیرخزانہ ہوں۔ مطلب وزیرخزانہ ہوناٹیم انڈیا کے لئے خوش قسمت ثابت ہوا۔ اب دیکھنایہ ہے کہ وہی قسمت فیکٹر منموہن سنگھ کو کتنا نصیب ہوتا ہے۔جنہیں فی الحال اس کی سخت ضرورت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ریکارڈ بنتے ہیں اورٹوٹتے ہیں لیکن کچھ ریکارڈ ایسے ہوتے ہیں جہاں تک پہنچنا خاص مشکل ہوتا ہے۔ سچن کی مہاسنچری کا ریکارڈ بھی کچھ ایسا ہی ہے اصل میں اس تک پہنچنے کے لئے کسی بھی کھلاڑی کو مسکسل دودہائی تک (کم سے کم) اچھی کارگردی دکھانے کی ضرورت پڑے گی اور موجودہ وقت میں ایسا کوئی کھلاڑی نظر نہیں آرہا ہے۔ سچن کے بعد رکی پونٹنگ ہے جنہوں نے شاید 71 سنچریاں بنائی ہیں اب وہ ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں۔ سچن پر اس سویں سنچری کا اتنابوجھ رہا ہوگا۔ا ن کے اس تبصرے سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔ جب یہ سنچری لگانے کے بعد سچن کہاکہ مجھے اب تک سویں سنچری کایقین نہیں ہورہا ہے لیکن یقینی طور پر میرے سر پر سے پچاس کلو کا بوجھ ہٹ گیا ہے۔ سچن کونیا ہیئراسٹائل زیب دے رہا ہے۔ سچن نے اپنے بین الاقوامی کرکٹ کیئریر کے دوران کئی مرتبہ اپنے بالوں کا انداز اوراپنا چہرہ بدلا ہے لیکن ان کا نیا ہیر اسٹائل شاید ان کی سویں انٹر نیشنل مہاسنچری کیلئے لکی ثابت ہوا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اب کھل کر کھلیں گے بغیرکسی دباؤ وکشیدگی کے۔ ویسے ان کے پرستار بھی انہیں ٹینشن فری نہیں رکھنا چاہتے ۔ایک سال چار دن کے انتظار کے بعد سویں سنچری پوری کرتے ہی سچن پر نیا دباؤ بننے لگا ہے۔ اب ان پر انٹر نیشنل ون ڈے میچوں میں ہاف سینچری کی سنچری بنانے کا دباؤآئے گا۔ بنگلہ دیش کے خلاف بنائی گئی سنچری ون ڈے میچوں میں ان کی ہاف 49 ویں سنچری ہے۔ اس کے ان کے فینس کے خواہشات فطری ہیں۔ وہ ان سے ون ڈے کی ہاف50ویں سنچری پوری کرائے اور اس طرح ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ ون ڈے میں بھی 50-50 سنچری کا ریکارڈ پورا کریں۔ سچن کو ہم دل سے مبارک باد دیتے ہیں ابھی انہیں لمبا سفر طے کرنا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Orissa, Italy, Naxalite,

معاملہ ماؤ وادیوں کے ذریعہ اطالوی شہریوں کے اغوا کا



Published On 20 March 2012
انل نریندر
اڑیسہ کے قبائلی علاقے میں گھومنے گئے اٹلی کے دوشہریوں کو ماؤوادیوں نے اغوا کرنے کی خبر نے تشویش پیدا کردی ہے۔ نکسلیوں کی جانب سے غیرملکیوں کو اغواکرنے کا یہ پہلا معاملہ ہے ۔ماؤوادیوں نے ایک آڈیو ٹیپ بھیج کر نکسلی مخالف آپریشن بند کرنے جیل میں بند نکسلیوں کو چھوڑنے سمیت تیرہ مطالبات رکھے ہیں۔ اور اتوار کی شام تک الٹی میٹم دیا تھا۔ چیف سکریٹری بی کے پٹنائک نے بھونیشور میں اخبار نویسوں سے کہاہے کہ اب پوری میں ٹورآپریٹر کے طور پر کام کرنے والے اٹلی کے سیاح سرحد پر ٹریکنک ٹور کررہے تھے۔ جن کو سنچر کو ماؤوادیوں نے اغوا کرلیا تھا۔انہوں نے کہا ہے کہ وہ پوری سے باہر آئے تھے اور درنک واڑی تھانے کی ماؤوادی خطرے کی وارننگ دیئے جانے کے باوجود وہ جنگلوں میں گئے۔ انہوں نے کہاکہ وہ پوری سے گاڑی سے آئے تھے۔ اور درنک واڑی تھانے کی وارننگ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے ڈرائیور کے ساتھ جنگلوں میں چلے گئے۔ ماؤوادیوں نے ڈرائیور اورباورچی کو توچھوڑ دیا لیکن اطالوی شہری اپنے قبضے میں لے لیا۔ ماؤوادیوں نے پہلی بار اپنی اس خانہ جنگی میں غیرملکی سیاحوں کو مہرا بنانے کی کوشش کی۔ اڑیسہ میں ماؤوادیوں نے پہلے بھی اغوا کو مہرہ بنایاہے لیکن وہ ایڈمنسٹریٹو افسر تھے۔ 2006میں گجا پتی ضلع کے ایک جیلر اور سب انسپکٹر کا اغوا کیا۔ 2010میں ایک سب انسپکٹر (جے پور ضلع) کااغوا ہوا تھا اور 2011میں ملکان گیری کے کلکٹر آر وینل کرشنا اور جونیئر انجینئر پی مانجھی کااغوا کیاتھا۔اس بار بھی ماؤوادیوں کی مانگیں تقریباً وہی ہیں جو 2011میں کلکٹر وینل کرشنا کے اغوا کے بعد رکھی گئی تھیں۔ اٹلی میڈیاکے مطابق تریم نژاد شہری بسٹکو ٹورسٹ گائیڈ ہیں وہ دس سال سے پوری میں رہ کر ایڈوانچر ٹورسٹ کا گائیڈ کا کام کررہے ہیں۔ وہ کلاڈیوں روم کے باشندے ہیں ماؤوادیوں نے ٹی وی چینلوں کو بھیجے ایک آڈیو ٹیپ میں دعوی کیا ہے یہ غیرملکی ممنوع علاقے میں ندی میں نہارہی قبائلی عورتوں کے فوٹو کھینچ رہے تھے۔ اڑیسہ کے وزیراعلی نوین پٹنائک ماؤوادیوں سے انسانی بنیاد پر غیرملکی سیاحوں کو رہاکرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے حکومت قانون کے دائرے میں بات چیت کو تیار ہے۔ وزارت خارجہ اٹلی کے مطابق افسران کے رابطے میں ہے تاکہ تعاون کیاجاسکے۔ اغوا کے معاملے میں اسے نئی جانکاریاں دی جاتی رہیں۔ پٹنائک نے کہا کہ میں انتہاپسندوں کے پھرا پیل کرتا ہوں وہ کوئی انتقامی قدم نہ اٹھائے۔ میں اس گھناؤنے جرائم کی مذمت کرتا ہوں۔ مہذب سماج میں کوئی اس طرح کی گندی حرکت معاف نہیں کرسکتا۔ اس درمیان اٹلی کے کونسل جرنل جے ایل میلاچواری بھونیشور گئے ہیں اورانہیں اڑیسہ کے حکام سے بات چیت کی ہے۔ انہوں نے دعوی کیاہے کہ ماؤوادیوں نے معیادطے کرتے ہوئے سیکورٹی فورس سے آپریشن روکنے کی مانگ کی ہے اور ان قبائلیوں کے خلاف معاملے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے جنہیں ماؤوادیوں کی شکل میں گرفتار کیاہے ۔ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں اٹلی کے سیاحوں کی رہائی جلد ہوجائے گی اور بین الاقوامی بدنامی سے بچا جائے گا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Orissa, Italy, Naxalite,

19 مارچ 2012

بجٹ اجلاس میں یوپی اے سرکار کی اگنی پریکشا



Published On 19 March 2012
انل نریندر
یوپی اے کی منموہن سرکاربالکل بے سمت ہوچکی ہے عام آدمی کے نعرے کو لے کر اقتدار میں آئی یہ حکومت آج عام آدمی سے کتنی دور ہوچکی ہے شاید اسے یہ معلوم نہیں ۔ یوپی اے سرکار کا سفر کرپشن ،گھوٹالوں اور تنازعوں اور گڑبڑیوں کا تنگ راستہ رکتا نظر نہیں آتا۔ ترنمول کانگریس اور ڈی ایم کے جیسی پارٹیوں کی بیساکھیوں کے سہارے عہد پورا کرنے کی منزل تک پہنچنے کی جگت میں لگی یوپی اے سرکار کی مشکل تو یہی ہے کہ اس کے تنگ راستے میں آگے کنواں تو پیچھے کھائی نظر آتی ہے۔ سیاسی تنازعوں کے جھمیلے میں بار بار ایسی پھنستی ہے کہ پھرنہ تو پیر واپس کھینچتے بنتا ہے اور نہ ہی قدم آگے بڑھاتے ۔اس حکومت کی حالت کیا ہے؟یہ حکومت کیسے چل رہی ہے کوئی نہیں جانتا ۔اترپردیش کے چناؤ کے دوران مرکز کے دووزیر چناؤ کمیشن کو للکارتے ہیں تودوسرا وزیر کانگریس کے ایک یوتھ لیڈر کو وزیراعظم کے عہدے کیلئے زیادہ قابل بناتا ہے۔ٹو جی معاملے میں خود وزیراعظم اوران کے دفتر کے درمیان شش وپنج کی حالت بنی ہوئی ہے اتنا ہی نہیں سرکار میں مایاوتی اورملائم کی مدد کیلئے سی بی آئی تک کا استعمال کیاگیا ۔آج بدقسمتی دیکھئے کہ انہیں ممتا اور ملائم اور مایا وتی تین ایم پر ٹکی سرکار کا مستقبل ٹکا ہے۔ ان تینوں میں دونے اگر سرکار کی حمائت نہیں کی تویہ حکومت بجٹ سیشن پار نہیں کرسکے گی۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی بے حد بھروسہ مند پارٹی کے اہم حکمت عملی ساز اور مرکزی سرکار میں ایک وزیر سپا چیف ملائم سنگھ یادو اوران کے اہم مشیر اور انوج رام گوپال یادو سے مسلسل رابطے بنائے ہوئے ہیں ۔
سپا ،بسپا کانگریس سمیت سبھی پارٹیوں میں برابرکی پیٹھ رکھنے والے کچھ صنعت کار بھی اس سیاسی آپریشن میں لگے ہوئے ہیں ۔ذرائع کے مطابق پہلے سپا کو سرکار میں شامل کرنے سے انکار کرنے والی کانگریس نے ملائم کو سرکار میں شامل ہوکر مرکز کو مستحکم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ 22ایم پی والی سپا کو 4اہم وزارتیں دینے کی بات بھی شروع ہوگئی ہے۔ ان میں پیٹرولیم بجلی فولاد اور ممتا کے الگ ہونے کی صورت میں ریل وزارت تک بھی شامل ہے۔ سپا نے اپنی طرف سے کم سے کم تین کیبنٹ وزیر ،دووزیر مملکت کی مانگ رکھی ہے۔ سپا کو شیشے میں اتارنے کے لئے کانگریس نے اپنے سینئر لیڈر موتی لال ووہرا اور پون بنسل کو اکھلیش کی حلف برداری تقریب میں بھیجا تھا ۔اتحادی دھرم کی دہائی دینے والی کانگریس پر آج اسی کو نہ ماننے کا الزام اتحادی پارٹیاں اس پر لگارہی ہیں۔ ممتا نے اس سرکار کی بار بار کرکری کرواکر ثابت کت دیا ہے کہ یہ سرکار کتنی کمزور اور مجبور ہے۔ ممتا نے پہلے ہی دن سے تیور دکھانے شروع کردئیے تھے۔ وزیراعظم کے ساتھ بنگلہ دیش دورے پر نہیں گئیں بلکہ تستا ندی کا معاملہ اٹھاکر وزیراعظم کی اس یاترا پر پانی پھیر دیا اور ترنمول کانگریس نے اندرا بھون کا نام بدل کر نذرالاسلام رکھ کر کانگریس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا۔ کانگریس اور ممتا کے رشتے آج ٹوٹنے کے دہانے پر ہیں۔ اسی پس منظر میں ترنمول کانگریس نے یکا یک لوک سبھا میں وسط مدتی چناؤ کی مانگ نے سب کو چونکا دیا ہے۔
اسی سیاسی ہلچل کو نیا موڑ یوپی اے کی اتحادی پارٹی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر شرد پوار نے دے دیا جب انہوں نے اترپردیش میں کانگریس کی ہار کا سہرا یووراج راہل گاندھی کے سر پھوڑدیا ۔ادھر ایک اور بیساکھی ڈی ایم کے نے اپنا ڈرامہ شروع کردیاہے۔ ترنمول کانگریس کو لے کر ابھی حالات قابو میں نہیں آئے کہ اب ڈی ایم کے نے بھی آنکھیں دکھانا شروع کردی ہیں۔ اس پارٹی کے نیتا پچھلے کئی دنوں سے سری لنکا کے تملوں کے مسئلہ پر اپنا موقف سخت کرنے کا دباؤ بناتے آئے ہیں۔ سرکار کی یقین دہانی کے باوجود ایم کروناندھی اکڑگئے ہیں ۔ناراضگی ظاہر کرنے کیلئے بجٹ پیش ہونے کے وقت ڈیم ایم کے کوٹے کے دووزیر پارلیمنٹ میں نہیں رہے یہاں تک کہ مرکزی وزیر مملکت پالن منے کم تو دہلی سے باہر ہی ہیں ۔ترنمول کانگریس کے بعد جس طرح سے ڈی ایم کے نے تمل اشو کے بہانے سرکار کو تیور دکھانے کی کوشش کررہی ہے ۔اس سے سیاسی عدم استحکام کا خطرہ اور بڑھ گیا ہے۔ ڈی ایم کے ایم پی نے کہا اگر سرکار کا رویہ تمل مسئلہ پر ٹھیک نہیں رہا تو ان کی پارٹی ترنمول کانگریس سے بھی زیادہ دباؤ بنانا جانتی ہے۔ یہ بات کانگریس لیڈر شپ کو نہیں بھولنی چاہئے دراصل یوپی اے کی اتحادی اور باہر سے حمایت دینے والی سیاسی پارٹیوں کو یہ واضح ہوچکا ہے کانگریس صدر سونیا گاندھی کا جادوبے اثر ہوچکا ہے ۔ممتا بنرجی کی حمایت واپس لینے کی صورت میں کانگریس نے سپا کو پٹانے کی کوششیں تیز کردی ہیں لیکن دنیش ترویدی معاملہ اور اتراکھنڈ میں وجے بہوگنا کو وزیراعلیٰ بنائے جانے سے ناراض ہریش راوت اتنی کوششوں اور لالچ دئیے جانے کے باوجود لائن پرنہیں آئے۔ اس سے سونیا گاندھی کی کوششوں کو اور دھکا لگا ہے ۔یوپی اے سرکار کے وجود کو لے کر چاروطرف تشویش کا ماحول بنا ہوا ہے ۔
یوپی اے کے لوک سبھا میں 255ایم پی ہیں ان میں ترنمول 19سپا 22 بسپا 21شامل ہیں ۔کانگریس کو 3ایم سے دوایم کی حمایت ضروری چاہئے۔ بجٹ راجیہ سبھا کے چناؤ اور جولائی میں صدر کے چناؤ تک کی چنوتی یہ سرکار کیسے پار کرے گی ؟ خاص کر صدراتی چناؤ میں کانگریس کو نہ صرف سپا بلکہ ترنمول کانگریس کی بھی ضرورت ہوگی۔ حکمت عملی سازوں کے تجزیہ کے مطابق یوپی اے کے پاس صرف 35%ووٹ ہیں۔ اس میں مغربی بنگال کے ووٹ بھی شامل ہیں ۔اگر ممتا یوپی اے سے الگ ہوتی ہے تو کانگریس کو اپنا امیدوار صدارتی عہدہ تک پہنچانے میں کافی مشقت کرنی پڑے گی ۔ ویسے صدارتی چناؤ میں تو ابھی وقت ہے۔ ابھی تو بجٹ اجلاس کو صحیح سلامت پار کرنے کی یوپی اے اتحادی سرکار کیلئے سب سے بڑی چنوتی ہے۔ اس اجلاس میں کانگریس کے حکمت عملی سازوں کی اگنی پریکشا ہونا طے ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, UPA, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...