Translater

09 مارچ 2019

بیک فٹ پر اپوزیشن کو دستاویز چوری سے ایک اچھا اشو ملا

رافیل ڈیل پر سرکار کو کلین چٹ دینے والے فیصلے کے خلاف نظر ثانی عرضی پر سپریم کورٹ میں ہائی کلاس ڈرامہ ہوا ۔عرضی گزار پرشانت بھوشن نے ڈیل میں گڑبڑیوں سے وابسطہ نئے دستاویر پیش کرنےکی اجازت مانگی جس کا مرکزی حکومت نے مخالفت کی اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا کہ یہ دستاویز وزارت دفاع سے چوری ہو گئے ہیں کورٹ انہیں ریکارڈ پر نہ لے ۔ انہوںنے پاکستان کے پاس موجود ایف جنگی جہازوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دشمنوںسے دیش کی سلامتی کے لئیے ہمیں رافیل کی ضرورت ہے اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ جب کرپشن کے الزام لگے ہوں تو حکومت قومی سلامتی کی آڑ نہیں لے سکتی کچھ یوں ہوا ۔اب سپریم کورٹ کا واقعات کے سلسلے میں پرشانت بھوشن (عرضی گزار)سرکار نے سیل بند لفافے میں بند کاغذات میں غلط اطلاع دی تھی میں نئے دستاویزات رکھنا چاہتا ہوں اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال وکیل پرشانت بھوشن کی دلیلیں وزارت دفاع سے چرائے گئے آٹھ صفحات پر مبنی ہے ۔وزارت کے ملازم کے ذریعہ چوری کروائی گئی ہے اور اسی حکمت عملی کے تحت سماعت سے پہلے انگریزی اخبار دی ہندو میں یہ سنسنی خیز معلومات چھپوائی گئیں ۔یہ جرم ہے عدالت کی توہین ہے ۔چیف جسٹس رنجن گگوئی وزارت دفاع سے دستاویزات چوری پر حکومت نے کیا کاروائی کی ؟وینو گوپال نے ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں کروائی ایف آئی آر ہوتی تو اس میں عرضی گزار پرشانت بھوشن ارن شوری ،یشونت سنہا کا نام بھی ہوگا ۔پرشانت بھوشن ،اٹارنی جنرل ہمیں ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں 2جی اور کوئلہ گھوٹالے میں بھی وہسل بلور سے دستاویز لایا گیا تھا ۔ وینو گوپال:قومی سلامتی سے جڑے دستاویز پبلک کے سامنے نہیں آنے چاہیں ۔بیک فٹ پر اپوزیشن کو دستاویز چوری سے ایک اچھا اشو ملا !کیا یہ جانتے ہیں کہ ہمارے پاس کتنے جنگی جہاز ہیں ؟سی بی آئی جانچ ہوئی تو پوری کارروائی دوبارہ شروع کی گئی تو دیش کو نقصان ہوگا ۔جسٹس جوزف:کیا یہ کہہ کر ثبوت ہٹا سکتے ہیں کہ انہیں غیر قانونی طریقہ سے حاصل کیا ہے؟سنگین الزامات کی جانچ کی مانگ پر آپ سیکورٹی کی آڑ لے رہے ہیں ۔وینو گوپال:ہر چیز کورٹ کی اجازت سے ہونا ضروری نہیں ہے کیا کورٹ حکم دے سکتی ہے کہ جنگ کرنا ہے یا امن کے لئے بات چیت ؟عرضی گزار بتائیں کہ دستاویزات کہاں سے ملے ؟چیف جسٹس کوئی ملزم بے گناہی سے جڑے دستاویزات کورٹ میں پیش کرتا ہے کیا جج کو وہ دستاویز لینے چاہیں یا نہیں ؟وینو گوپال پہلے اسے کورٹ کو بتانا ہوگا کہ دستاویزات کہاں سے ملے ؟مجرمانہ سرگرمیوں سے حاصل دستاویز ریکارڈ پر نہیں لینے چاہیں ۔اس اشو کے ذریعہ اپوزیشن سرکار کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔پرشانت بھوشن:کرپشن کے الزامات کی جانچ تو کروانی ہی چاہیے جانچ میں کچھ نہ ملے تو کلوزر رپورٹ بھی دائر کی جا سکتی ہے ۔چیف جسٹس کورٹ مرکز کی دلیلیں مانتی ہے تو متنازع دستاویزات قبول نہ کئے جائیں کیا ڈیفنس وزارت دفاع کاغذات چوری ہونے کا حلف نامہ دائر کر سکتی ہے ؟وینو گوپال :جمعرات تک حلف نامہ دیں گے ۔رافیل سودے کاغذات چوری ہونے کی دلیل نے پھر سے کانگریس اور باقی اپوزیشن کی امیدیں بڑھا دیں ہیں پلوامہ آتنکی حملے کے بدلے میں بالا کورٹ میں ہوائی حملے کے پیشے نظر رافیل اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں اشو کو بھلانے میں لگنے لگے تھے ۔بدھ کو کاغذات چوری ہونے کا معاملہ سپریم کورٹ میں اجاگر ہونے کے بعد بی جے پی اور سرکار فی الحال بیک فٹ پر آتی نظر آرہی ہے ۔دی ہندو پر چوری کرنے کا الزام لگنے سے تقریبا تمام میڈیا سرکار کے خلاف ہو گیا ہے اخبارات کے ایک گروپ نے وزارت دفاع سے چوری ہوئے دستاویز کی بنیاد پر رافیل سودے پر آرٹیکل شائع کرنے کے لئے دی ہندو اخبار پر سرکاری راز قانون کے تحت کارروائی کرنے کی سرکار کی دھمکی پر جمعرات کو تشویش جتاتے ہوئے پریس کلب آف انڈیا،انڈین ومین پریس کلب،اور ایڈیٹر س گلڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ہم مانتے ہیں کہ وقت آگیا ہے کہ سرکاری راز قانون کی چوتھے ستون کے خلاف امکانی بے جا استعمال کے پش نظر جائزہ لیا جائے جمہوریت کے چوتھے ستون صحافت دہری ذمہ داری سے بندھی ہوئی ہے اس کا کام سوال اُٹھانے کے ساتھ ساتھ عوام کے مفاد میں کیا ہے اس کی رپورٹنگ کرنا ہے ۔چاہے کوئی بھی سرکار اقتدار میں ہو یہ اس کی اخلاقی ذمہ داری ہے یہ بے حد افسوسناک ہے کہ سرکار سنئیر افسران اس ذمہ داری کو نبھانے سے روک رہے ہیں ایڈیٹرس گلڈ نے کہا کہ سرکار ی قانون کو میڈیا کے خلاف استعمال کرنے کی ہر کوشش اتنی ہی قابل مذمت ہے جتنی مذمت صحافیوں سے ان کے ذرائع کا انکشاف کرنے کے لئے کہنا ہے ۔کانگریس صدر راہل گاندھی رافیل اشو پر سیدھے پی ایم مودی پر کئی مہینے سے نکتہ چینی کر رہے تھے اپوزیشن اب آکر ان کا ساتھ دیتی لگ رہی تھی بالا کورٹ معاملے نے ان کی پریشانی بڑھا دی تھی ۔لیکن بدھ کے واقعہ سے بی جے پی کے لئے عین چناﺅ سے پہلے پریشانی کا پہاڑ کھڑا ہو گیا ہے کاغذات چوری ہونے کی ذمہ داری سرکار پر آتی ہے سیکورٹی لحاظ سے اتنا خفیہ رافیل سودے کے دستاویزات سرکار محفوظ نہیں رکھ پائی ۔یہ سوال مرکزی سرکار اور بی جے پی دونوں پر ہی ہے اس لئے راہل اور پوری اپوزیشن اب پی ایم کو چناﺅ کے دوران بڑھ چڑھ کر گھٹنے ٹیکنے کی حکمت عملی بنائے گی ۔ویسے کاغذات چوری ہونے پر کچھ سوال جنتا بھی پوچھ رہی ہے ۔پوائنٹ نمبر1:سرکار ی طور پر سبھی فائلیں چوری نہیں ہوتی ...ان ٹو سیو ایبل ہوتی ہیں یعنی مل نہیں رہیں ۔دوسرا :موضوع کے حساب سے ہر فائل کا کلاسی فیکیشن کیا جاتا ہے ۔موٹے طور پر دو طرح سے ایک ریکارڈ فائل اور ایک کرنٹ فائل چونکہ رافیل کا اشو تو چل ہی رہا تھا تمام سوالوں کا جواب سی اے جی کی رپورٹ وغیرہ فائل میں دئے ہوئے میٹر پر تیار ہوگی اس طرح کرنٹ فائل کا نہ ملنا سمجھ سے باہر ہے ہر سرکاری فائل ٹریک رجسٹر ہوتی ہے جس میں یہ درج کیا جاتا ہے کہ فائل کس محکمے یا افسر کے پاس گئی ہے جب فائل غائب ہوتی ہے تو وہ سیکشن ایک سرکولر جاری کرتا ہے جو پوری وزارت کو کہیں غلطی سے یہ فائل تو نہیں پہنچ گئی ؟جس افسر کی تحویل میں یہ فائل تھی اس کے ذیعہ فائل غائب ہونے پر کیا اسے میمو جاری کیا تھا ؟کیا ایسا سرکولر جاری کیا گیا ؟ایک قاری نے لکھا کہ اب تو پورے معاملے کی سی بی آئی جانچ کرائی جانی چاہیے ۔بہر حال بیٹھے بٹھائے اپوزیشن کے ہاتھ میں ایک زبردست اشو آگیا ہے ۔

(انل نریندر)

08 مارچ 2019

پاک نہ مانا تو ایران بھی بھارت جیسی کارروائی کرئے گا

 دہشت گردوں کو محفوظ پناہ دےنے والا پاکستان آن نہ صرف بھارت کے لئے ہی بلکہ اےران ،افغانستان اور امرےکہ سمےت کئی دےشوں کےلئے خطرہ بن چکاہے ۔بھارت سمےت ےہ تمام دےش پاکستان اپنی سرزمےن سے موجود آتنکی تنظےموں کے خلاف موثرکارروائی کرنے کےلئے بار بار آگاہ کرتے رہے ہےں لےکن اس پر اسکا رتی بھر اثر نہےں ہوا 13فروری کو اےران کی رےولےوشنری گارڈس پر اور 14فروری کو پلوامہ مےں سی آر پی اےف کے جوانوں پر ہوئے فدائی حملوں سے اےک بار پھر ظاہر ہوتاہے کہ پاکستان ساری وارننگ کے باوجود اب بھی دہشت گردوںکا اڈہ بناہواہے اےسے مےںبھارت کے بالاکوٹ مےں جےش محمد اڈے پر کاررائی کرنے کے بعد اب اےران بھی پاکستان مےں پل رہے دہشت گردوں سے نمپنے کےلئے تےار ہے اےران کی فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلےمانی نے پاکستان حکومت اور ان کے فوجی سربراہوں کو سخت الفاظ مےں وارننگ دی ہے کہ ہمارے پاس پاکستان سرکار کےلئے ےہ سوال قائم ہے کہ وہ کہا ں جارہی ہے ؟اس نے اپنے تمام پڑٰوسی ملکوں کی سرحدوں پر شورش پےدا کی ہے کوئی اس سے بچا نہےں ہے جس کے لئے پاکستان عدم سلامتی کو بڑھا وانہےں دےنا چاہتا ۔اےرانی پارلےمنٹ کے خارجہ پالےسی کمےشن کے چےئر مےن حشمت اللہ فلاحت پےرو ہ نے کہا کہ اےران پاکستان سے لگتی اپنی حدود پر دےوار بنانا چاہتا ہے پاکستان اگر اپنی زمےن پر آتنکی گروپوں کے خلاف ٹھوس کارروائی نہےں کرےگا تب اےران ان کے خلاف کارروائی کرنے کےلئے مجبور ہوگا ۔غور طلب ہے دہشت گردی سے سختی سے نمٹنے کے اشوپر بھارت اور اےران اےک دوسرے سے متفق ہےں اور اےک ساتھ کھڑے نظر آرہے ہےں ۔در اصل دونوں دےشوں کی سرحدےں دہشت گردی کی سرگرمےوں کا سامنا کررہی ہےں حالےہ برسوں مےں بھارت پاکستان کے درمےان اشتراک مےں بھی اضافہ ہواہے افغانستان مےں پچھلے سال آتنکی حملوں کے ذرےعہ پاکستانی فوج پر انگلےاں اٹھتی رہی ہےں پاکستان دہشت گردی کے ذرےعہ کابل کی سےاست کو متاثر کرنے کی کوشش مےں رہتا ہے افغانستان مےں بھارت کے اہم رول کو دےکھتے ہوئے پاک ےہاں گڑ بڑی پھےلانا چاہتا ہے خےال رہے نوگےار ہ کی سازش کرنے والا القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن پاکستان اےبٹ آباد مےں ہی چھپا تھا ۔موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہےں پاکستان دہشت گردی کے خلاف لڑائی مےں دھوکہ دےتا رہا ہے اسی وجہ سے ٹرمپ نے پاکستان کو دی جانے والی دوارب ڈالر کی مالی مدد پر روک لگادی ہے ۔دنےا مےں کہےں بھی کوئی دہشت گردانہ واقعہ ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ کہےں نہ کہےں پاکستان سے کنکشن جڑ تا ہے آج پاکستان 45سے 48آتنکی تنظےموں کا پناہ گاہ بناہواہے تو ہر دےش کو اپنی سےاست مےں بہتری کرنی چاہیے جس نے کبھی نہ کبھی پاکستان کی پےٹھ تھپتھپائی ہے ۔اےران جےسا مضبوط پڑوسی دےش قاعدہ سے پاکستان کا ساتھ چھوڑ دے تو ےہ بہت بڑی بات ہے آج پاکستان بھارت کے لئے ہی نہےں تمام دنےا کے لئے خطرہ بنا ہواہے ۔

(انل نریندر)

ایف -16گرنے سے پھنسے پاک اور امریکہ

آتنکی کےمپوں پر انڈےن ائےر فورس کی باہمت کارروائی کے دوران ونگ کمانڈر ابھنندن کی جانب سے پاکستانی جنگی جہاز اےف ۔16کو مار گرانے کے بعد کے واقعہ پاکستان کےلئے اےک نےا مسئلہ کھڑا کرسکتاہے ۔بھارت کے خلاف اےف ۔16جنگی جہاز کے استعمال پر پاکستان پھنس گےا ہے ۔امرےکہ نے اےف ۔16کے بےجا استعمال کےلئے پاکستان سے جواب مانگا ہے ۔امرےکی اسٹےٹ ڈےپارپمنٹ کے مطابق بھارت کے خلاف اس جنگی جہاز کے استعمال پر امرےکہ نے اےنڈ ےوزر اےگری منٹ کی خلاف ورزی کی ہے ۔امرےکی محکمہ خارجہ کے ترجمان لےفٹےننٹ کرنل کون نے کہا ہمےں اےف ۔ 16جنگی جہاز کے بےجا استعمال سے وابستہ مےڈےا رپورٹ سے جانکاری ملی ہے اس بارے مےں اور اطلاعات اکٹھی کی جاری ہے ۔غےر ملکی ڈےفنس سازو سامان فروخت معاہدوں کی شرطوں کی سبب ہم کچھ اشوز پر کھل بات نہےں کرسکتے ۔امرےکہ نے دہشت گردی کے خلاف لڑا ئی مےں استعمال کےلئے پاکستان کو اےف ۔16جنگی جہاز دےئے تھے دستاوےزوں کے مطابق امرےکہ نے پاکستان پر اےف ۔16جنگی جہازوں کے استعمال کو لےکر تقرےبًا 12پابندےاں لگائی ہےں ۔جس مےں ےہ شرط بھی ہے کہ وہ کسی غےر ملکی کے خلاف اس کا استعمال نہےں کرسکتا ۔وزارت دفاع کی ڈےفنس سےکورےٹی اےنڈ کارپورےشن اےجنسی کے مطابق اےف ۔16جہاز صرف دہشت گردی انسداد کاررائےوں مےں پاکستان کی صلاحےت بڑھانے کےلئے ہے ۔اپنی عادت کی مطابق پاکستان نے دعوی کےا کہ اس نے اےف ۔16جنگی جہاز کا استعمال نہےں کےا ۔لےکن کچھ مےڈےا کی خبروں مےں بتاےا گےا ہے پاکستانی حکام اےف ۔16جنگی جہاز کا ملبہ اکٹھا کرتے دےکھےں گئے ہےں ےہی نہےں بھارت نے کہا ہے کہ پاکستان نے اےف ۔16جنگی جہاز سے بھارت کے فوجی تنصےبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی ۔اےئر فورس نے اسے مار گراےا اور ثبوت کے طور پر مےزائل کے ٹکرے دکھائے تھے اسے صرف اےف ۔16جنگی جہاز سے ہی چھوڑا جاسکتا ہے ۔بھارت ہمےشہ سے کہتا آرہا ہے امرےکہ کے ذرےعہ پاکستان کو دےئے جارہے جنگی جہازوں ہتھےاروں کا وہ بےجا استعمال کررہا ہے جو فوجی مدد ہشت گردی کے خلاف استعمال ہونی ہی وہ بھارت ،بلوچستان ودےگر ٹھکانوںپر پاکستان استعمال کررہا ہے اب جب ونگ کمانڈر ابھینندن نے ساری دنےا کے سامنے ثبوت پےش کردےا ہے پاکستان اس سے انکا رنہےں کرسکتا امرےکی انتظامےہ کو اےف ۔16جنگی جہاز کے استعمال پر پاکستان سے صرف سوال نہےں کرنے چاہئے بلکہ ےہ بھی ےقےنی کرنا چاہئے کہ وہ اےسی حماقت مستقبل مےں نہ کرپائے ۔اسے کے ساتھ ےہ دےکھنا ہوگا پاکستان کو مستقبل مےں اس کی ےا اسکے دوست ملکوں کی جانب سے جدےد ترےن جنگی سامان نہ ملنے پائے اگر اب بھی امرےکہ اس پورے معاملہ مےں لےپا پوتی کرتا ہے تو ہم ےہی مانےںگے امرےکہ دوغلی پالےسی اپنا تاہے ۔وہ صرف اپنے ہتھےاروں کو بےچنے مےں دلچسپی رکھتاہے ےہ ہتھےار کس کے خلاف استعمال ہوتے ہےں اس مےں اسے کوئی دلچسپی نہےں ۔

(انل نریندر)

07 مارچ 2019

کیا دہلی میں عآپ-کانگریس الگ الگ چناﺅ لڑیں گی؟

کانگریس کے ساتھ اتحاد کی قیاس آرائیوں پر فی الحال روک لگاتے ہوئے عام آدمی پارٹی نے سنیچر کے روز دہلی کی 6لوک سبھا سیٹوں پر اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے فی الحال اس نے ویسٹ دہلی سیٹ پر اپنے امیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے۔دہلی آپ کانگریس کے کنوینر گوپال رائے نے بتایا کہ مغربی دہلی سیٹ سے امیدوار کا اعلان جلد کیا جائے گا ۔اب دہلی میں عام آدمی پارٹی اپنے دم خم پر ہی چناﺅ لڑئےگی اس اعلان سے لگتا ہے کہ کانگریس سے اتحاد پر فی الحال پارٹی نے ہاتھ پیچھے کھینچ لیے ہیں ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ کانگریس ہائی کمان عآپ سے تال میل کے حق میں تھا لیکن دہلی پردیش کانگریس کی صدر شیلا دکشت نے اتحاد کی ساری کوششوں پر یہ کہہ کر روک لگا دی کہ کانگریس دہلی میں اکیلے چناﺅ لڑئے گی ۔بتا دیں کہ وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کہہ رہے ہیں کہ دہلی میں بھاجپا کو صرف عآپ ہی ہرا سکتی ہے کانگریس تو محض ووٹ کاٹنے والی پارٹی ہے ۔اگر وہ بھاجپا کو ہرانے میں صلاحیت رکھتی ہے تو ہم سبھی سیٹوں کو چھوڑنے کے لئے تیار ہیں ویسے اروند کجریوال با ربار کہہ چکے ہیں کہ وہ کانگریس سے اتحاد کرنے کو تیار ہیں لیکن کانگریس پارٹی اس کے لئے تیار نہیں ہوئی ہے ۔کانگریس کا کہنا ہے کہ آپ نے بی جے پی کو ہرانے و کانگریس کے ساتھ اتحاد کرنے کی بات کی تھی مگر ہو سکتا ہے کہ آپ نے سیاسی اسباب کی وجہ سے چھ لوک سبھا سیٹوں پر امیدواروں کا اعلان کیا تھا کانگریس جنرل سیکریٹری دہلی کانگریس کے انچارج پی سی چاکو نے کہا کہ عآپ کا نظریہ تھا کہ کانگریس کے ساتھ اتحاد سے عام چناﺅ میں بی جے پی کو ہرانے میں مدد ملے گی لیکن انہوںنے دہلی کی چھ سیٹوں پر امیدواروں کا نام اعلان ہی کر دیا اب کیا یہ سوچ سمجھ کر یہ کوشش بے کار ہو گئی ہے ہو سکتا ہے کہ سیاسی اسباب رہے ہوں وہیں گوپال رائے نے کہا کہ گٹھ بندھن کے لئے دو لوگوں سے بات ہو رہی تھی لیکن راہل گاندھی پہلے منع کر چکے ہیں اور شیلا دکشت نے جمعہ کو صاف طور پر منع کر دیا ہے مہا گٹھ بندھن کی طرف سے بھاجپا کے سامنے ایک ہی امیدوار چناﺅ لڑئے شیلا دکشت کا کہنا ہے کہ ہم گوپال رائے کی اس رائے سے متفق ہیں اگر بھاجپا کو دہلی میں ہرانا ہے تو اپوزیشن کو ایک مشترکہ امیدوار اتارنا ضروری ہے اگر آپ پارٹی اور کانگریس الگ الگ چناﺅ لڑتی ہیں تو ووٹوں کا بٹوارہ ہو جا ئے گا ۔اور بھاجپا امیدوار بیچ سے صاف نکل جائیں گے حالانکہ کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اب آپ پارٹی اور کانگریس جو ووٹ لیں گے وہ بھاجپا کے ہی ووٹ ہوں گے ابھی وقت ہے آخری شکل کیا بنتی ہے ابھی تو سودے بازی چل رہی ہے ۔

(انل نریندر)

2019کے بعد بھی میں ہی بنوں گا پی ایم:مودی

کیا پلوامہ آتنکی حملے اور اس کے بعد بھارت پاکستان کے اندر گھس کر آتنکی ٹھکانوں پر سرجیکل اسٹرائک 2-کرنے کا عام چناﺅ پر کوئی اثر پڑئے گا؟کیا دیش کی سیاست بدلے گی ؟کیا نریندر مودی اور بی جے پی کا گراف بڑھے گا ؟پلوامہ حملے کے بعد جو ماحول ابھرکر سامنے آرہا ہے اس میں پوری اپوزیشن خاص کر کانگریس کی پیشانی پر پریشانی کی لکیریں ڈال دی ہیں ۔کانگریس کو لگ رہا ہے کہ رافیل ،کسان،بے روزگاری،اور نوجوان طبقہ میں اشوز کو لے کر جس طرح سے مودی سرکار کے خلاف ماحول بنانا شروع ہوا تھا وہ پلوامہ حملے اور ہند-پاک کے درمیان کشیدگی سے پیدا حب الوطنی بھرے ماحول نے اس کی دھار کم کر دی ہے ۔کانگریس سمیت اپوزیشن کو لگ رہا تھا کہ ہوا مودی نے اپنے حق میں بنا لی ہے یہی وجہ ہے کہ انڈین ائیرفورس کی جانب سے پاک میں دہشتگردوں پر کی گئی ائیر اسٹرائک کو لے کر بی جے پی نیتا یدورپہ کا بیان آیا ہے کہ ائیر اسٹرائک سے بی جے پی کو کرناٹک میں 28لوک سبھا سیٹوں میں سے 22سیٹیں جیتنے میں مدد ملے گی ۔انہوںنے کہا کہ دن بدن بھاجپا کے حق میں لہر بنتی جا رہی ہے ۔پاکستان کے اندر گھس کر آتنکی کمیپوں کو برباد کرنے کے قدم سے مودی کی ہمایت میں لہر بنی ہے عام چناﺅ پر باریکی سے نظر رکھنے والوں کا بھی خیال ہے کہ سرجیکل اسٹرائک سے سیٹوں میں اضافہ ہوگا ۔اس سے تیس سے چالیس سیٹوں کا فرق پڑ سکتا ہے ۔خود وزیر اعظم نریندر مودی کہہ رہے ہیں کہ حال ہی میں ایک پائلٹ پروجکٹ پورا ہوا جو ایک طرح کی رہرسل تھی اب اصلیت ہوگی ۔اور اصلیت بھی یہی ہے کہ ہمیں فاتحین کا خیر مقدم کرنا ہے ۔دو دن پہلے مودی احمد آباد کے جاسپور میں پاٹی دار فرقے کی دیوی امیا کے ایک بڑے مندر کے بھومی پوجنکے موقع پر کہا کہ آنے لوک سبھا چناﺅ کے بعد بھی وہی پردھان منتری رہیں گے ۔2019کے بعد بھی میں ہی رہوں گا ۔فکر نہ کرنا پھر بھیڑ نے مودی مودی کے نعرے لگائے ۔بھارت سرکار کو اس میں کچھ بھی کرنے کی ضرورت ہو دہلی میں جو میرا گھر ہے وہ آپ کا ہی ہے ۔پلوامہ حملے تک کانگریس رافیل کو لے کر حملہ آور تھی اور خوب خبریں چھائی ہوئی تھیں کانگریس خوش تھی کہ پرینکا گاندھی کے سیاست میں اترنے کے بعد جس طرح سے سیاست میں ماحول بنا اسے بھی پارٹی اپنے لئے بہتر اشارہ مان رہی تھی کانگریس کی بڑی چنتا یہ ہے کہ عین چناﺅ سے پہلے دیش کی ساری منفی لہر ختم ہو گئی نہ تو رافیل اشو رہا اور نہ ہی بے روزگاری نہ ہی کسان نہ ہی سرکار کی دوسری اقتصادی پالیسیاں یہ سب پیچھے چلے گئے ۔اب جو ٹرینڈ آرہے ہیں اس حساب سے پچھلے 15دنوں میں باقی سارے اشو ختم ہوتے نظر آرہے ہیں جنگ جیسے حال جب بھی دیش کے سامنے آتے ہیں تو الگ سے ایک جذبہ پیدا ہو جاتا ہے جس میں لوگ فطری طور پر مضبوط ہوتے نیتا اور مضبوط سرکار کی طرف جانا پسند کرتے ہیں ایسے میں یہ ماحول پی ایم مودی اور بی جے پی کے حق میں جاتا دکھائی دے رہا ہے اس واقعہ سے پہلے سروے میں بی جے پی کو 2014میں 282سیٹیں ملیں تھی ۔اس کارنامے کے مقابلے اس مرتبہ اس کو نقصان ہونے کا اندازہ ظاہر کیا جا رہا تھا بی جے پی کو خود بھی اس کا خطرہ ستا رہا تھا لیکن اب بدلے اس پس منظر میں بی جے پی کو لگتا ہے کہ وہ نئی لہر پیدا کر سکتی ہے ۔جو اس میں بھی بڑی جیت دلا سکتی ہے پچھلے دنوں ریل منتری پیوش گوئل نے دعوی کیا تھا اس مرتبہ بی جے پی 300سے زیادہ سیٹوں پر کامیاب ہوگی ۔

(انل نریندر)

06 مارچ 2019

آپریشن بالاکوٹ :ائیرفورس لاشیں نہیں گنتی

سرجےکل اسٹرائےک 2۔بالاکوٹ کو لےکر زبردست تنازعہ چھڑ گےا ہے ۔ےہ سرجےکل اسٹرائےک کتنا کامےا ب رہا اس پر حکمراں فرےق اور اپوزےشن آمنے سامنے ہے کچھ اپوزےشن لےڈر اس بات کا ثبوت مانگ رہے ہےں کہ بالاکوٹ حملے مےں دو سو پچاس سے تےن سو پچاس آتنکی مارے گئے ہےں ؟سب سے پہلے مغربی بنگال کی وزےر اعلی ممتا بنرجی نے 28فروری کو سوال پوچھا کہ ائےر اسٹرائےک مےں کتنے آتنکی مارے گئے ہےں ؟اسکا کوئی ثبوت ہے تو سامنے آنا چاہئے اس کے دودن بعد سپا کے سابق وزےر شاہد منظور نے کہا ہوائی حملے مےں پاکستان مےں چھپے اےک بھی آتنکوادی کی لاش نہےں ملی ۔مودی کو حملے کے ثبو ت دےنے چاہئے ۔2فروری کو ہی کانگرےس جنرل سےکرےٹری دگوجے سنگھ نے کہا کہ سرکار کو امرےکہ کے ذرےعہ اسامہ بن لادن کے خلاف کی گئی کارروائی کی طرح ائےر اسٹرائےک کے ثبو ت دےنے چاہئے جموں کشمےر کی سابق وزےر اعلی محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس دےش کے اےک شہری کے ناطے ہمےں بالاکوٹ آپرےشن کے بھروسہ پر سوال کرنے کا حق ہے اور اس پورے معاملے مےں مےرا خےال ہے اسے دو پس منظر مےں دےکھا جانا چاہئے پہلا ہے قومی مفاد نقطہ نظر اور پھر ہے سےاسی نظرےہ قومی مفاد تو اس مےں ہے کہ ہم اپنی ائےر فورس اور سرکار پر بھروسہ کرےں اگر ائےر فورس دعوی کرتی ہے کہ ہم نے بالاکوٹ پر حملہ کےا تو ہمےں ےہ ماننا پڑےگا کہ حملہ ہوا ہے ائےر فورس نے ےاسرکار نے کبھی ےہ دعوی نہےں کےا کہ اس حملے مےں تےن سو سے ساڑھے تےن سو آتنکی مارے گئے ےہ سوال ان سےاسی پارٹےوں نے اٹھاےا ہے ائےر فورس کے چےف بی اےس دھنوا نے پےر کے روز بالاکوٹ ہوائی حملے مےں مارے جانے والوں کے تعداد کے بارے مےں کوئی رائی زنی سے انکار کرتے ہوئے کہا ائےر فورس مرنے والوں کی گنتی نہےں کرتی ہے ۔اور ائےر فورس صرف ےہ دےکھتی ہے کہ نشانہ لگاےا نہےں ؟ہم مرنے والوں کی گنتی نہےں کرتے بالاکوٹ حملے مےں مرنے والوں کی تعداد کے بارے مےں جانکاری دےنی ہوگی ۔دھنوا کا کہنا ہے کہ مارے گئے آتنکوادی کی تعداد کے سلسلے مےں بےان سرکار جاری کرے گی۔انکے مطابق انڈےن ائےر فورس نے بالاکوٹ کے جنگل مےں بم گرائے تو پاکستان کو اسکا جواب دےنے کی ضرورت نہےں تھی ۔انہوں نے کہا خارجہ سےکرےٹری نے اپنے بےان مےں نشانے کی واضح تشرےح کی ہے اگر ہماری ےوجنا ٹارگےٹ کو نشانہ بنانے کی تھی تو ہم نے اسے نشانہ بناےا ورنہ پاکستان جوابی کارروائی کےوں کرتا جب ہماری ائےر فورس کے چےف دعوی کررہے ہےں کہ بالاکوٹ حملے مےں ہمارے جنگی جہازوں کا صحےح جگہ نشانہ لگا تو اس مےں کوئی شبہ کی گنجائش نہےں رہنی چاہئے۔بالاکوٹ مےں ائےر فورس نے جو حملہ کےا اس کی پختہ جانکاری ہماری خفےہ اےجنسےوں نے ائےر فورس کو دی خفےہ کے مطابق بالاکو ٹ مےں بھاری تعداد مےں دہشت گرد اس وقت موجود تھے جب ہمارے جانباز پائےلٹوں نے اس کامےاب کارروائی کو انجام دےا اور جو بم استعمال کئے گئے وہ بھی خاص طرح کے گائےڈڈبم تھے ۔جو اپنی پائےدار ی کے لئے مشہور ہےں وہ سےدھے اپنے ٹارگےٹ پر لگتے ہےں زےادہ سے زےادہ دوتےن مٹر اس سے ادھر ہوسکتے ہےں تو اس حملے مےں کتنے مرے اس سوال پر آتے ہےںپورے معاملے کودوسرے نقطہ نظر سے جو سےاسی ہے اس مےں ےہ سوال ضرور پوچھا جاسکتا ہے لےکن دعوی ناتو بھارت سرکار نے کےا ہے او رنہی ائےر فورس نے کتنے لوگ مارے گئے تو اسے اٹھا ےا کسنے ؟اسے اٹھاےا ہے بھاجپا صدر اور انکے لےڈروں نے انہوں نے اتوار کو دہشت گردی سے متعلق اےک پروگرام مےں کہا تھا کہ پلوامہ حملے کے بعد جوانوں کی شہادت کا بدلہ لےا گے اہے اس ائےر اسٹرائےک مےں قرےب دوسو پچاس سے زےادہ آتنکی مارے گئے جوانوں کی شہادت کو سےاسی فائدہ کے نےت سے اپوزےشن کا بھڑکنا فطری تھا دہلی کے وزےر اعلی اروندکجرےوال نے ٹوئےٹ کےا او ر پوچھا کےا امت شاہ کے مطابق فوج جھوٹ بول رہی ہے ؟فوج نے صاف صاف کہا کہ لاشوں کی گنتی کرنا ہمارا کام نہےں ہے اور کوئی مرا ےا نہےں ےا کتنے مرے ےہ کہا نہےں جاسکتا ؟اپنے چناوی فائدہ کےلئے کےا امت شاہ اور بھاجپا جوانوں کی شہادت پر سےاست نہےں کررہی ہے ؟وہےں کانگرےس کے سےنئر لےڈر کپل سبل نے بھی صبح وزےر اعظم پر ٹوئےٹ بم چلاےا او رپوچھا مودی جی کےا بےن الاقوامی مےڈےا نےورک ٹائمس ،لندن مےں قائم جی اےم کے سمنا ،واشنگٹن پوسٹ ،ڈےلی ٹےلی گراف دگارجن ،رائٹرس نے پالاکوٹ مےں پاکستان مےں آتنکوادی نقصان کا کوئی ثبو ت نہےں بتاےا ؟اس حملے کو لےکر پی اےم پر سےاست کرنے کا الزام لگاےا انہوں نے کہا آپ (نرےندر مودی )دہشت گردی کو سےاسی رنگ دےنے کے قصور وار ہےں ؟منےش تےواری کے مطابق ائےر وائےس ماشل آر جی کے کپور نے کہا ےہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آتنکی کےمپوں پر ہوئے حملے مےں مرنے والوں ےا زخمےوں کی تعداد کےاہے ؟لےکن امت شاہ کہہ رہے ہےں کہ ان ہوائی حملے 250سے زےادہ آتنکوادی مرے ہےں کانگرےسی لےڈر نوجوت سنگھ سدھو نے ٹوےٹ کےا تےن سو آتنکوادی مارے گئے ےا نہےں ؟اسکا کےا مقصد تھا ؟کےوں آپ دہشت گردی کی جڑےں اکھاڑ نا چاہتے ہےں ےا پھر اےک چناوی ہتھکنڈا تھا فوج کو سےاسی رنگ نہےں دےنا چاہئے مجھے ےہ بات کہنے مےں کوئی قباحت نہےں کہ بی جے پی نےتا اس سرجےکل اسٹرائےک بالاکوٹ کو آنےوالے عام چنا و ¿ مےں بھلانے کی کوشش کرےںگی لےکن اس کا مطلب ےہ نہےں کہ ہم سےاسی دنگل مےں انڈےن ائےر فورس ےا اپنی سےکورٹی فورسےز کو تنازعہ مےں گھسےٹے مہربانی کرکے انہےں اب اپنے سےاسی فائدے ےا نقصان کےلئے تنازعہ مےں نا گھسےٹےں جے ہند ہندوستان ائےر فورس ۔

(انل نریندر)

05 مارچ 2019

پہلی بار بھارت او آئی سی کانفرنس میں شامل ہوا

اوآئی سی یعنی اسلامی ملکوں کی انجمنوں کی متحدہ عرب عمارات کی راجدھانی ابو ظہبی میں پہلی بار اجلاس میں مہمان خصوصی کے طور پر بھارت کو مدعو کیا جانا جتنے بڑے اعجاز کی بات ہے اتنا ہی یہ اجلاس اہم ترین رہا ۔کیونکہ ہندوستانی وزیر خارجہ کا اس سے خطاب انہوںنے اسلامی ملکوں کے سامنے دہشتگردی پھیلانے والوں کو کھلے الفاظ میں خبر دار کیا محترمہ سشما سوراج نے مسلم اکثریتی 57ملکوں کی تنظیم اوآئی سی کے اسٹیج سے دہشتگردی کو لے کر پاکستان کا نام لئے بغیر اس کو آڑے ہاتھوں لیا ۔سشما سوراج نے رگ وید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھگوان ایک ہے اور مذاہب کامطلب ہے امن آج دنیا دہشتگردی کے مسئلے کا شکار ہے اور آتنکی تنظیموں پر ٹیرر فنڈنگ پر روک لگانی چاہیے ۔دہشتگردی کے خلاف لڑائی کسی مذہب کے خلاف ٹکراﺅ نہیں ہے جس طرح اسلام کا مطلب امن ہے اللہ کے 99ناموں میں سے کسی بھی نام کا مطلب تشدد نہیں ہے ۔اسی طرح مذہب امن کے لئے ہے بھارت میں ہر مذہب اور کلچر کا مکمل احترام ہے ۔پاکستان کے ساتھ تلخی کے رشتوں کے پس منظر میں ابو ظہبی میں سشما سوراج کی موجودگی بھارت کے لئے بڑی ڈپلومیٹک کامیابی اس لئے بھی ہے کیونکہ پاکستان کے اعتراض کے باوجود میزبان متحدہ عرب عمارات نے بھارت کو دی گئی دعوت منسوخ نہیں کی نتیجتا اس پاکستان کوہی اجلاس سے دور رہنا پڑا جو او آئی سی کے بانی ممبروں میں سے ایک ہے ۔بھارت اس کا ممبر نہیں ہے پھر بھی پاکستان کے سخت اعتراض کو در کنار کرتے ہوئے او آئی سی نے بھارت کو اس منچ پر آنے کی دعوت دی ۔حالانکہ بتا دیں کہ 1969میں بھی ہندوستانی نمائندہ وفد اوآئی سی اجلاس میں شرکت کے لئے گیا تھا ۔لیکن پاکستان کے اڑ جانے پر اس کی دعوت کو منسوخ کر دیا گیا تھا ۔اور بیچ راستے میں ہی وفد کو واپس لوٹنا پڑا تھا تب سے او آئی سی نے بھارت سے دوری بنائی ہوئی تھی مگر آج کے بدلتے عالمی پس منظر میں اگر او آئی سی نے بھارت کو اس اجلاس میں بلایا اور خطاب کا موقع دیا تو اس سے یہ اشارہ تو صاف ہے کہ اسلامی ملکوں کی انجمن میں بھی بھارت کا دبدبہ بڑھ رہا ہے ۔اور اس کی مقبولیت بھی ۔مستقبل میں سفارتی اور فوجی حالات میں بھارت نئے رول میں آسکتا ہے اور پاکستان کو اس کا مطلب سمجھنا چاہیے کہ اسلام کے نام پر چھیڑا گیا جہاد کو دنیا کے دیگر اسلامی ملکوں کو بھی نا پسند ہے پاکستان کے لئے یہ بڑا جھٹکا اس لئے بھی ہے جس او آئی سی کو وہ اپنا گھر کہتا ہے وہیں اسے نظر انداز کیا گیا اپنے قیام کے پانچ دہائی بعد ہی سہی او آئی سی کو اگر یہ احساس ہوا ہے کہ صرف پاکستان کے کہنے پر بھارت جیسے دیش کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تو اس سے قابل خیر مقدم اور کچھ نہیں ہو سکتا ۔

(انل نریندر)

ونگ کمانڈر ابھینندن وردھمان کی بخیریت وطن واپسی

آخر کار 56گھنٹوں کے بعد ہندوستانی یودھا وطن لوٹ آئے اور پورے دیش نے سر آنکھوں پر بٹھایا ۔واضح ہو کہ پاکستانی جنگی جہازوں کے ذریعہ ہندوستانی ہوائی سرحد کی خلاف ورزی کے دوران قابل قدر بہادری کا مظاہر کرنے والے ہندوستانی جانباز ونگ کمانڈر ابھینندن وردھمان جمعہ کی رات کو پاکستان سے واپس لوٹ آئے تھے ان کی واپسی پر پورے دیش نے سکون کا سانس لیا ۔لوگوں میں خوشی کے آنسو تھے ۔ابھینندن کی وطن واپسی پر پورے دیش کی نگاہیں واگا سرحد پر دن بھر لگی رہیں شروع میں بتایا گیا تھا کہ صبح دس بجے تک وطن کی سر زمین پر قدم رکھیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا پھر بتایا گیا کہ وہ بارہ بجے تک آجائیں گے پھر بھی ایسا نہیں ہوا اب وقت بدلتا رہا پھر خبر ملی بیٹینگ ریٹریٹ کے دوران پاکستان ابھینندن کو سونپے گا کیونکہ وہ اس کو ایک میڈیا ایونٹ بنانا چاہتا ہے ۔لیکن وہ بھی وقت نکل گیا اس سے لوگوں میں بے چینی بڑھتی جا رہی تھی ۔آخر ایسا کیا ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ابھینندن کی واپسی میں دیر ہو رہی تھی بہرحال آخر میں رات کے سوا نو بجے کے قریب ابھینندن نے بھارت کی سرزمین پر قدم رکھا اب پتا چلا ہے کہ پڑوسی دیش کاغذی خانہ پوری کوٹ کچہری اور ویڈیو بنانے کے نام پر پینترے بازی دکھانے سے بھی نہیں چوکا رات نو بجے کے بعد ابھینندن واغا بارڈر پر گھنٹوں انتظار کے بعد جب وطن میں داخل ہوئے تو پورے دیش میں جشن منایا گیا پٹاخے چھوڑے مٹھائیاں بانٹی بھنگڑا ڈانس ہوا ۔ہندوستان ،اسلام آباد اسپیشل جہاز بھیج کر ابھینندن کو لان چاہتا تھا لیکن پاکستان نے اس درخواست کو نا منظور کر دیا اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی عرضی داخل کرکے رہائی روکنے کے مانگ کی گئی پائلٹ کو چھوڑنے سے عین پہلے ابھینندن کا ویڈیو بیان ریکارڈ کیا گیا ۔اس میں دیری ہوئی اس کی کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ونگ کمانڈر ابھینندن کو واپس کرنے میں بہت ہمت و بھائی چارگی کا ثبوت دیا ہے حالانکہ انہوںنے ایسا کرنے میں بہت خطرہ مول لیا کیونکہ پاک فوج اتنی جلدی ابھینندن کو واپس کرنے کے موڈ میں نہیں تھی لیکن عمران نے پاک پارلیمنٹ میں جب ایک بار رہائی کا علان کر دیا تو فوج سمیت عمران کے سیاسی حریفوں کے ہاتھ بندھ گئے پاکستان کے اندر ہندوستانی پائلٹ کو ساٹھ گھنٹے بعد لوٹا دینا پاک فوج کو راس نہیں آیا ۔پاک ٹی وی پر عمران خان کو چن چن کر گالیاں دی جا رہی ہیں فوج کا ربڑ اسٹمیپ مانے جانے والے عمران نے ہمت کا ایسا ثبوت دیا ہے جس کے نتیجوں نے پاکستان کی سیاست میں بھگتنے پڑ سکتے ہیں ۔پورے دیش نے ابھینندن کی بخیریت واپسی کا جشن اس لئے بھی منایا کہ پاکستان کاجنگی قیدیوں کی رہائی کا ٹریک ریکارڈ اچھا نہیں رہا۔1999میں کارگل میں پاکستان نے گھس پیٹھ کی تھی اس کا پتہ کیپٹن سوربھ کالیا اور ان کی ٹیم نے لگایا تھا اس کے بعد کارگل جنگ کے دوران پاک فوج نے کیپٹن سوربھ کالیا اور ان کے پانچ ساتھیوں کو پکڑ لیا تھا ۔پاک فوجیوںنے ان کے ساتھ بربریت کی تھی اور بعد میں کیپٹن کی لاش پاک نے بھارت کو سونپ دی تھی ۔اس وقت کیپٹن کالیا کے جسم کو کئی جگہ سے کاٹا گیا تھا ۔اور اس کے کچھ اعضاءغائب ملے تھے کانوں میں گرم سلاخیں ڈالی گئیں یہی نہیں ان کی آنکھیں تک فوڑ دی گئیں تھی ۔کارگل جنگ کے دوران ہی اسکوائڈرن لیڈر اجے اہوجا کو جب وہ کنٹرول لائن پر گشت کر رہے تھے تو انہیں پتا چلا تھا فلائٹ لیفٹی نینٹ نچی کیتا پاک سرحد پر ہے جہاں انہیں تلاش کرنا خطرے بھرا ہو سکتا ہے اس کے باوجود وہ جب پاک سرحد میں گھسے بم لگنے سے ان کا جہاز تباہ ہو گیا اور انہیں پاک سرحد میں اترنا پڑا بعد میں اطلاع ملی کہ وہ شہید ہو چکے ہیں جب ان کی لاش سونپی گئی تو پتا چلا کہ انہیں بے حد قریب سے گولیاں ماری گئیں تھیں اس لئے میں کہتا ہوں بھگوان کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ونگ کمانڈر ابھینندن وردمان صحیح سلامت پاک کے چنگل سے نکل آئے ہیں ۔آہستہ آہستہ اور تفصیلات ملیں گی کہ ان کے ساتھ پاکستان میں کیا کیا ہوا تھا ۔

(انل نریندر)

03 مارچ 2019

ہاپوڑ کی لڑکیوں نے آسکر جیتا

91انٹرنیشنل نامور آسکر ایوارڈ تقریب اس مرتبہ بھارتیوں کے چہروں پر مسکان اور خوشی لے کرآئی ہے ۔لاس اینجلس میں متعقدہ ایوارڈ فنشل میں ہاپوڑ کی لڑکیوں پر بنی دستاویزی فلم پیریڈ :اینڈ آف سیٹ آن کو شاٹ دستاویزی ضمرے کے تحت آسکر ایوارڈ سے نوازہ گیا ہے ۔26منٹ کی اس دستاویزی فلم میں اترپردیش کے شہر ہاپوڑ کے کاٹھی کھیڑا گاﺅں میں پیڈ مشین لگانے کے بعد آئی تبدیلی کی کہانی ہے ۔اس کے پیچھے جد و جہد کی کہانی ہے گاﺅں کے لوگ بہت ہی سادہ زندگی جینے والے ہیں ان حالات میں ایسے موضوع پر فلم بنانا آسان نہیں تھا کہنے کو تو یہ فلم محض26منٹ کی ہے لیکن اس کو بنانے کی جد و جہد 1997میں شروع ہوئی تھی ایکشن انڈیا نے ہاپوڑ ضلع کا کوڈینٹر شبانہ کو بنایا تھا ۔شروعاتی دور میں اس نے گھریلو تشدد روکنے کے لئے بعد میں اس پر قانون بنایا شبانہ کے گاﺅں میں گھر گھر جا کر عورتوں کو سمجھایا اور صفائی کے لئے بیدار کیا جب فلم بنانے کی بات آئی تو سبھی کرداروں کو تیار کرنا ایک بڑی چنوتی تھی وجہ بھی صاف تھی جس بات کو لے کر عورتیں ہی آپس میں بات کرنے سے کتراتی ہیں اس پر فلم بنانا آسان نہیں تھا لیکن شبانہ اعظمی نے گاﺅں کی لڑکیوں کو نکڑ ناٹک کے بعد آخر تیا کر لیا ۔سلم ڈوگ ملینیر کے دس سال بعد آسکر سے بھارت کے لئے کچھ اچھی خبر آئی 2009میں سلم ڈوگ ملینیر کے لئے اے آر رحمان اور سائیڈ انجینر ریسول پوکڑی کو آسکر ملا تھا ۔یہ دستاویزی فلم عورتوں کے منتھلی کورس سے جڑا ہے اور عورتوں کی لڑائی و پیڈ مین کے نام سے مشہور اروناچل موگاناتھم کے ذریعہ سستے پیڈ بنانے اور لوگوں تک پہچانے کی کوششوں کی بات کرتی ہے ۔یہ فلم خاص طور سے ہاپوڑ کی لڑکیوں کی جد جہد پر مرکوز ہے آسکر میں دستاویزی فلم کو دو ضمروں دستاویزی فیچر اور دستاویزی شاٹ سبجیکٹ میں بانٹا گیا ہے ۔ڈاکومینٹری فیچر میں انہیں شامل کیا جا تا ہے جن کی مدت چالیس منٹ سے زیادہ ہوتی ہے اور شارٹ عنوان فلم میں ان فلموں کو جگہ ملتی ہے جن کی معیاد سبھی چیزوں کو ملا کر چالیس منٹ یا اس سے کم ہوتی ہے ہم فلم بنانے والے تمام کرداروں اور تکنیکی اسٹاف کو اس شاندار کارنامے پر مبارکباد دیتے ہیں کہ انہوںنے ایسے موضوع پر فلم بنائی ہے جو صرف بھارت ہی نہیں بلکہ پورے غیر ترقی یافتیہ ممالک کے مسئلے کو دکھاتی ہے ،بدھائی۔

(انل نریندر)

چوتھی بار سلامتی کونسل میں مسعود اظہر پر پابندی کا ریزولیوشن

پلوامہ حملے کی ذمہ داری لینے والی آتنکی تنظیم جیش محمد کے چیف مسعود اظہر پر ایک بار پھر پابندی لگانے کے لئے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں ریزولیوشن پیش کیا گیا ہے ۔ا سے امریکہ،فرانس،اور برطانیہ نے پیش کیا ہے اب سلامتی کونسل کی پابندی کمیٹی تجویز پر دس دن میں غور کرئے گی ۔امریکہ ،فرانس برطانیہ اور روس پہلے کی طرح اس پر بھی بھارت کے ساتھ ہیں۔اس ریزولیوشن میں مسعود اظہر کو دہشتگرد قرار دئے جانے کی مانگ کی ہے ۔حالانکہ اس ریزولیوشن پر چین نے کوئی رد عمل فی الحال نہیں ظاہر کیا ہے ۔آتنکی مسعود اظہر پر پابندی لگانے کے لئے دس سال میں چوتھی بار سلامتی کونسل نے یہ پرستاﺅ آیا ہے ۔2009میں بھارت نے اس کو رکھا تھا 2016میں بھارت،امریکہ،فرانس اور برطانیہ کی ہمایت سے یہ دوسری بار لایا گیا ہے ۔تیسری مرتبہ 2017میں بھی ایسا ہی ریزولیوشن رکھا گیا چین نے ہر مرتبہ اسے تکنیکی طور پر غلط بتا کر اسے پاس نہیں ہونے دیا ۔اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں پانچ مستقل ممبر ہیں ان میں امریکہ،روس،فرانس ،برطانیہ ،اور چین شامل ہیں ۔ان کے پاس ویٹو پاور ہے ۔یعنی کوئی بھی پرستاﺅ لایا جاتا ہے ان میں سے کوئی بھی دیش ویٹو کر کے اسے پاس ہونے سے روکنے کا حق رکھتا ہے ۔ارجنٹینا ،بحرین، برازیل ،کناڈا ،گوبون،گامبیا،ملیشیا،نامیبیا،نیزرلینڈ اور سلوانیا ،اس کے عارضی ممبر ہیں جو دو سال کے لئے ہوتے ہیں ۔پہلی بار اس مارچ سے مستقل ممبر فرانس،اس کا چیر مین ہوگا ۔امریکہ سمیت تین ملکوں کا ریزولیوشن بھارت کے لئے بڑی سفارتی کامیابی ہے اگر جیش سرغنہ کو بین الاقوامی دہشتگرد قرار دینے کی تجویز پر سلامتی کونسل کی مہر لگ جاتی ہے تو وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں دورہ نہیں کر سکے گا اور اس کی املاک ضبط ہوں گی ۔اور سبھی ملک اپنے گھریلو سطح پر دہشتگرد پر پابندی لگا سکتے ہیں ۔اقوام متحدہ میں شامل سبھی ملکوں کو دہشتگر مسعود اظہر کے سبھی طرح کے فنڈ اور کھاتے منجمند کرنے ہوں گے ساتھ ہی دیش میں ہر طرح کی پروپرٹی ضبط کرنی ہوگی اس کے اداروں کو ملنے والے پیسے کو بلاک کرنا ہوگا ۔اس کے علاوہ ممبر ملک لوگ دہشتگر د مسعود اظہر کو کسی طرح کی مدد نہیں دے سکیں گے ۔دیکھنا اب یہ ہوگا کہ کیا پہلی بار کی طرح اس مرتبہ بھی چین پرستاﺅ پر ویٹو کر کے مسعود اظہر کو بچاتا ہے یا نہیں ؟لیکن چین کے رویے میں تھوڑی تبدیلی آئی ہے امید کی جانی چاہیے کہ اس مرتبہ چار ملکوں کا پرستاﺅ پاس ہو جائے گا ۔پاکستان نے تسلیم کیا ہے کہ مسعود اظہر پاکستان میں ہی ہے اس بارے میں وہاں کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک پرائیوٹ چینل کو انٹر یو میں اعتراف کیا ہے کہ پلوامہ حملے کا ذمہ دار مسعود اظہر پاکستان میں ہے اس بیان کے بعد پاکستان کی حقیقت سامنے آ گئی ہے ۔وزیر کے مطابق مسعود اظہر اتنا بیمار ہے کہ وہ اپنے گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتا ۔

(انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...