Translater

16 جنوری 2016

آخر کیوں بھارت پاکستان سے اتنی امیدیں رکھتا ہے

پٹھانکوٹ حملے کے بعد ہندوستانی ایجنسیوں کو اس نتیجے پر پہنچنے میں دیر نہیں لگی کہ دہشت گرد پاکستان سے آئے اور اس حملے کی سازش پاکستان میں ہی رچی گئی۔ جلد ہی اس حملے کے اکھٹے ثبوت پاکستان کو مہیا کروادئے گئے ہیں لیکن جیسی امید تھی کہ پاکستان اپنے پرانے دھڑلے پر چلتے ہوئے دکھاوتی طور پر کچھ جگہوں پر چھاپے مارنے اور کچھ لوگوں کو حراست میں لینے کی بات کا پروپگنڈہ کروادیا لیکن یہ سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی کہ ماسٹر مائنڈ اظہر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ خبر تو یہ بھی ہے کہ پاکستان سرکار نے اس فون نمبر کے پاکستانی ہونے کی بات سرے سے مسترد کردی ہے جس پر پٹھانکوٹ آکر دہشت گردوں نے اپنے پاکستان میں بیٹھے آقاؤں سے بات کی تھی۔ دراصل پچھلے ہفتے ہی جب پاک وزیر اعظم نواز شریف نے مسلسل دو دن اعلی حکام کی میٹنگ بلائی تھی تو اس کے بعد پاکستانی میڈیا میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے یہ خبر آئی تھی کہ بھارت نے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں دئے ہیں۔ مولانا مسعود اظہر کو پاکستانی میڈیا کے مطابق حراست میں لے لیا گیا ہے لیکن پاک سرکار کی طرف سے ابھی تک اس کے بارے میں سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ یہ کارروائی دکھاوے کے لئے محض اس لئے کی گئی ہوسکتی ہے کہ بھارت سے بات چیت کا سلسلہ کھٹائی میں نہ پڑ جائے اور بین الاقوامی دنیا میں شرمندگی سے بچا جاسکے۔ ابھی تک کا تجربہ اور ریکارڈ یہی بتاتا ہے کہ پاکستان نے بھارت میں خون خرابہ کرنے اور دہشت پھیلانے والی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کبھی کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی۔بھارت میں اپنے لوگوں کی دہشت گردانہ سرگرمیوں پر پاکستان پہلے تو سرے سے انکار کرتا ہے ،ثبوت مانگتا ہے اور بعد میں کہہ ڈالتا ہے کہ یہ ناکافی ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ اپنی عدلیہ کے منصفانہ ہونے کی دہائی دیتا ہے۔ دہشت گردانہ حملوں کے بعد بھارت کے اور بین الاقوامی دباؤ میں پاکستان پہلے بھی لشکر طیبہ کے چیف حافظ محمد سعید اور اس کے سینئر لیڈر زکی الرحمان لکھوی کو بھی گرفتار کرنے کا ڈرامہ کر چکا ہے لیکن آج وہ آزاد گھوم رہے ہیں۔ بھارت اور بین الاقوامی دباؤ میں پاکستان نے لشکر طیبہ ،جیش محمد جیسی دہشت گردانہ تنظیموں پرپابندی تو لگائی لیکن یہ تنظیم فرضی ناموں سے آج بھی سرگرم ہے اور کھلے عام بھارت کے خلاف پاکستانی سرزمین پر زہر اگلی رہی ہیں۔ حزب المجاہدین کا سرغنہ سید صلاح الدین بھی پاکستان میں چھپا ہوا ہے لیکن اس پر آج تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ سال2012ء میں صلاح الدین نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج نے جہادی تنظیموں کوکھلی چھوٹ دے رکھی ہے چاہے وہ جیش محمد ہو یا لشکر طیبہ ہو ان کو یہاں تک پہنچنے میں سب سے زیادہ مدد پاک فوج اور اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے کی ہے۔ پچھلے پانچ برسوں میں جیش محمد نے بڑی ریلیوں کے ذریعے بھاگلپور میں اپنے 16 ایکڑ میں پھیلے علیشان ہیڈ کوارٹر میں 500 سے زیادہ دہشت گردوں کو فوجی ٹریننگ دی ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کے مطابق لشکر طیبہ کے بعد جیش محمد بھارت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ پریشانی اس بات کی بھی ہے کہ دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیوں کی نظریں لشکر پر تو جاتی ہیں لیکن جیش پر نہیں۔ پٹھانکوٹ ایئرفورس بیس پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کا ماسٹر مائنڈ مسعود اظہر جیش کا سرغنہ ہے۔1999 ء میں ہندوستانی طیارہ کے اغوا سے لیکر 2001ء میں پارلیمنٹ پر ہوئے حملے میں اظہر کا نام آیا ہے۔ بھارت میں وادی میں پہلا خودکش حملے بھی اسی نے کروایا تھا۔ جب جیش محمد کے 17 سال کے دہشت گرد نے سری نگر میں فوج کے ہیڈ کوارٹر کے آگے دھماکو سے لگی ماروتی کو اڑادیا تھا۔ پاکستان کی سرزمیں پر اگر یہ دہشت گرد تنظیمیں پھل پھول رہی ہیں تو اس کے پیچھے پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کا سیدھا ہاتھ ہے۔ جاتے جاتے امریکہ کے صدر براک اوبامہ کے منہ سے بھی بے ساختہ نکل گیا راشٹرپتی عہد کے آٹھویں اور آخری اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اوبامہ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کے لئے جنت جیسا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان افغانستان نئے دہشت گردانہ نیٹورکوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ بنے رہیں گے اور ان دیشوں میں دہائیوں تک دہشت گردی بنی رہے گی۔ بین الاقوامی جرائم خاص کر دہشت گردی جیسے معاملوں میں کارروائیاں، سراغ اور اشاروں کی بنیاد پرہی کرنی ہوتی ہیں۔ ان میں ٹھوس ثبوتوں کی مانگ اصل میں کچھ نہ کرنے کا بہانہ ہوتا ہے، جیسا کہ 26/11 کے وقت میں دیکھا گیا تھا۔ ایسے ہی تجربوں کے سبب اب ہندوستانی عوام پاکستان کے جھانسے میں آنے کو تیار نہیں ہے۔ یعنی متضاد اطلاعات پھیلانے کے پاکستانی طور طریقے میں شاید اس بار انہیں گمراہ کرنے میں کامیابی نہ ملے۔ مسعود اظہر اور ان کے ساتھیوں کو حراست میں لینے کا ایک مقصد بھارت کے ساتھ امریکہ کوبھی بہکانا ہوسکتا ہے کیونکہ کئی امریکی ایم پی پاکستان کو ایف۔16 جنگی جہاز دینے کی مخالفت کررہے ہیں۔ صاف ہے کہ جب تک اس کے ٹھوس نتائج نہیں مل جائیں کہ پاکستان بھارت کے لئے خطرہ بنی آتنکی تنظیموں کو ختم کرنے کو لیکر سنجیدہ ہے، تب تک ان پر بھروسہ نہیں کیا جانا چاہئے۔ محض اتنا کافی نہیں کہ مسعود اظہر اور اس کے کچھ ساتھیوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ بھارت کو پاک کے جھانسے میں نہیں آنا چاہئے۔
(انل نریندر)

15 جنوری 2016

کیا بھاجپا کیلئے مالدہ سنجیونی بن سکتا ہے

اترپردیش سے اٹھا ایک من چاہا اشو کیا بھاجپا کیلئے سیاسی طور سے سنجیونی ثابت ہوسکتا ہے؟ اترپردیش کے سیتا پور کے ہندو مہا سبھا کے خودساختہ لیڈر کملیش تیواری نے مسلمانوں کے عقیدت کے مرکز حضرت محمدؐ پراعتراض آمیز تبصرہ کیا کردیا، یوپی سمیت کئی ریاستوں میں سیاست گرم ہوگئی۔ بہار، پورنیہ اور مغربی بنگال(مالدہ) میں وسیع تشدد ہوا۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے تو مالدہ واردات کو فرقہ وارانہ تشدد ماننے سے انکار کردیا اور اسے بی ایس ایف اور مقامی لوگوں کا جھگڑا تک بتادیا۔ مغربی بنگال میں تین مہینے بعد اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ ٹی وی اسٹار رہیں بھاجپا نیتا روپا گانگولی کی مانیں تو ریاست میں اس طرح کے عناصر کو ممتا حکومت کی پہلے سے ہی سرپرستی ملتی رہی ہے۔ مالدہ تشدد کٹر پسند طاقتوں کے تئیں نرمی کے سبب ہوا۔ حکومت اور مقامی انتظامیہ کا درپردہ طور پر ٹال مٹول والا رویہ ان کے حوصلے کو بڑھاتا ہے۔ بھاجپا اس کے خلاف سڑکوں پر اتر رہی ہے۔ مالدہ میں واقع کالیاچک علاقے میں 3 جنوری کو مسلم مظاہرے ہوئے اور ان پرتشدد مظاہروں اورآگ زنی کے واقعات کا جائزہ لینے پہنچی بھاجپا کی مرکزی ٹیم کو وہاں سے بیرنگ لوٹنا پڑا۔ دارجلنگ سے بھاجپا ایم پی ایس۔ ایس اہلووالیہ کی رہنمائی میں تین نفری ٹیم جب پیر کو صبح مالدہ اسٹیشن پہنچی تو نیتاؤں کو اسٹیشن سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا۔ اس کے بعد اہلووالیہ اور ایم پی بی ڈی رام اور بھوپندر ریادو کو کولکتہ لوٹنا پڑا۔ اس پر حیرت نہیں کہ مالدہ میں ہوئے تشدد کی جانچ پڑتال کیلئے مغربی بنگال سرکار نے بھاجپا و دیگر حریف پارٹیوں کے لیڈروں کو موقع پر نہیں جانے دیا۔ ممتا بنرجی کے انتظامیہ کی طرف سے ایسی کسی اڑنگے بازی کا اندیشہ تھا۔ یہ اندیشہ تبھی بڑھ گیا تھا جب ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ کالیاچک تشدد فرقہ وارانہ نہیں تھا اور حریف پارٹیاں بے وجہ اسے طول دے رہی ہیں۔اگر یہ تشدد فرقہ وارانہ نہیں تھا تو تشدد پر آمادہ مسلم انجمنوں اور ان کے ورکروں کی بھیڑ نے تھانے پر حملہ بولنے کے دوران ہندوؤں کی دوکانیں کیوں جلائیں؟ کیا وجہ ہے کہ تشدد کے شکار ہوئے ہندو کالیا چک چھوڑ کر اپنے رشتے داروں کے یہاں پناہ لیے پر مجبور ہوئے اور فی الحال لوٹنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ محض اتفاقی واقعہ ہے کہ ایک لاکھ سے زیادہ کی بھیڑ تھانے پر حملہ بول دے اور اس دوران بی ایس ایم کی ایک گاڑی سمیت دو درجن گاڑیوں کو آگ کے حوالے کردیں۔ صاف ہے کہ ریاستی حکومت اور ان کا انتظامیہ لیپا پوتی کی کوشش کررہا ہے۔ اس کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں کہ ایک لاکھ سے زیادہ کی بھیڑ بغیر اجازت کیسے اکھٹی ہوگئی؟ ریاستی حکومت اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتی کہ جب میڈیا کے ایک حصے کے دباؤ میں آگ زنی اور توڑ پھوڑ کرنے والے کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا تو پولیس کو کیوں نشانہ بنایا گیا؟ بتاتے چلیں کہ لوک سبھا چناؤ میں مودی لہر میں بھاجپا کو حالانکہ مغربی بنگال سے دو سیٹیں ہیں ملی تھیں لیکن اس کا ووٹ فیصد 17 فیصدی تک بڑھ گیاتھا لیکن حالیہ میونسپل کارپوریشن سے لیکر جتنے بلدیاتی چناؤ ہوئے بھاجپا کو بری طرح ہارنا پڑا۔ اب وہ مالدہ کے سہارے مغربی بنگال اسمبلی چناؤ میں لیڈ لینے کے فراق میں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے ریاستی بھاجپا کی مانگ پر ہی صدر امت شاہ نے دارجلنگ کے بھاجپا ایم پی ایس ۔ ایس اہلووالیہ کی رہنمائی میں مالدہ ایک نمائندہ وفد بھیجا جسے بیرنگ واپس کردیا گیا۔ مانا جارہا ہے کہ بھاجپا اسمبلی چناؤ میں اس اشو کو زور شور سے آگے بڑھائے گی۔دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ اشو مغربی بنگال میں بھاجپا کے لئے سنجیونی کا کام کرسکتا ہے؟
(انل نریندر)

112 سال پرانے سوریہ مندر کے دروازے کھولنے کی یوجنا

کونارک کا سوریہ مندر بھارت کے پاس یہ دنیا کی قدیم ترین وراثت ہے۔کبھی رویندر ناتھ ٹیگور سے لکھا کونارک جہاں پتھروں کی زبان منشٹ سے سریشٹ ہے، آج کل یہ پھر سرخیوں میں ہے۔ اگر آپ مندر گئے ہوں تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ تین منڈپوں میں بٹے اس مندر کا اہم منڈپ اور ناٹے شالا تباہ ہوچکے ہیں اور اب اس کا ڈھانچہ ہی باقی ہے۔ بیچ کا حصہ، جسے جگموہن منڈپ یا سوریہ مندر کے نام سے جانا جاتا ہے، اس میں 1901ء میں چاروں طرف سے دیواریں اٹھوا کر ریت بھر دی گئی تھی۔ اب اسی ریت اور دیواروں کو ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے، تاکہ اس کے اندر کی دیواروں کی نقاشی لوگ دیکھ سکیں۔اپنی خاص فنکاری اور انجینئرنگ کے لئے دنیا بھر میں مشہور اس مندر کو سیاحوں نے ابھی تک ادھورا ہی دیکھا ہے۔ اس کے لئے ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ اورسی بی آر آئی (سینٹرل بلڈنگ ریسرچ انسٹیٹیوٹ رڑکی) کی ٹیم کام کررہی ہے۔ حال ہی میں سی بی آر آئی کی ٹیم نے اینڈواسکوپک کے ذریعے مندر کے اندر کی کچھ تصویریں اور ویڈیو لئے ہیں جن کی اسٹڈی کی جارہی ہے، ساتھ ہی اس کی ایک چھوٹی سی رپورٹ کی ایک کاپی اے ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر بھیجی جاچکی ہے۔ اب اس پر اے ایس آئی کو فیصلہ کرنا ہے۔ اب آگے کچھ بڑھا تو سال2016ء میں ریت ہٹانے کی کارروائی شروع کی جاسکتی ہے۔ سب سے خاص اور قدیم وراثت کی حفاظت ہے۔ مندر دوبارہ کھولنے کی کارروائی کا ابھی پہلا مرحلہ ہی پورا ہوا ہے، جس میں انڈواسکوپی کے ذریعے اسٹڈی کی جارہی ہے اس کی بنیاد پر اندر کی دیواروں کی مضبوطی، انجینئرنگ کے پیمانے اور مندر کے فاؤنڈیشن سسٹم کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ سوریہ مندر کے چیف افسر نرمل کمار مہا پاترا کے مطابق کونارک میں اوسطاً روز تقریباً10 ہزار لوگ آتے ہیں اور سیزن میں یہ تعداد بڑھ کر25 ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔ اسے مزید بڑھانے کی اسکیم پر محکمہ سیاحت اور انڈین آئل فاؤنڈیشن مختلف قدم اٹھا رہے ہیں۔ کونارک میں لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو کی تیاری بھی ہورہی ہے۔ مندر کی تاریخ بتاتی ہے کہ کئی حملوں اور قدرتی آفات کے سبب جب مندر کے بیچ کا حصہ باقی بچا تو1901ء میں اس وقت کے گورنر جان وڈ برن نے جگموہن منڈپ کے چاروں دروازوں پر دیواریں کھڑی کروادیں اور اس میں پوری طرح سے ریت بھردیا تاکہ یہ سلامت رہے اور کسی طرح کی قدرتی آفات اسے متاثر نہ کرسکے۔ تب سے لیکر اب تک یہ اسی حالت میں ہے۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً محکمہ آثار قدیمہ نے اس کے اندر کے حصے کی اسٹڈی کرنے کی ضرورت ظاہر کی اور ریت نکالنے کیلئے یوجنا بنانے پر زوردیا۔
(انل نریندر)

14 جنوری 2016

نہ امریکہ اور نہ ہی پاکستان حملہ آوروں پر کارروائی کرے گا

ہمیں یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ بھارت سرکار پٹھانکوٹ ایئربیس پر دہشت گردانہ حملے کا پاکستان کو کیا جواب دینا چاہتی ہے؟ یہ محض ایک دہشت گردانہ حملہ نہیں تھا، یہ تو دیش پر حملہ تھا۔ پاکستان نواز دہشت گردوں نے پہلی بار بھارت کے ایک فوجی اہم ادارے پر حملہ کیا تھا۔کیا ہم سمجھیں کہ بھارت سرکار کا جواب یہ ہے کہ پاکستان حملہ آوروں پر کارروائی کرے یا پھر یہ ہے کہ امریکہ پاکستان پر ایسا کرنے کیلئے دباؤ ڈالے؟ بیشک دکھاوے کے لئے امریکہ پاکستان پر کارروائی کرنے کا دباؤ ڈالتا دکھائی دے رہا ہے لیکن کیا ہم امریکہ کے ٹریک ریکارڈ کو نظر انداز کرسکتے ہیں؟ اس کی ہمیشہ سے پاکستان کو لیکر دوہری پالیسی رہی ہے۔ ایک طرف وہ بھارت کی پیٹھ تھپتھپاتا رہتا ہے دوسری طرف پاکستان کو پیسہ اور ہتھیار مہیا کرواتا رہتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کا استعمال بھارت کے خلاف ہونا ہے۔ دراصل جب تک امریکہ پاکستان میں ہے پاکستان اس کی مجبوری بنی رہے گی۔ اسے افغانستان سے ہٹنا ہے اور ایسا کرنے میں اسے پاکستان کی مدد چاہئے اس لئے وہ اوپر سے دکھاوے کیلئے کچھ بھی کرتا رہے لیکن اندر خانے وہ کبھی بھی پاکستان کے خلاف نہیں جاسکتا۔ کم سے کم تب تک تو نہیں جب تک افغانستان سے نہیں نکلتا۔ زخموں پر نمک چھڑکنے کیلئے پٹھانکوٹ حملے کے ماسٹر مائنڈجیش محمد کے سرغنہ مولانا مسعود اظہر نے انٹرنیٹ پر ایک آڈیو ٹیپ جاری کر ہندوستانی سکیورٹی فورس کا مذاق اڑایا ہے اور کئی انکشاف کرتے ہوئے مسعود اظہر نے دعوی کیا ہے کہ محض 6 حملہ آور ہندوستانی سکیورٹی ایجنسیوں پر بھاری پڑے۔ دراصل مسعود نے انٹر نیٹ پر 13 منٹ کا ایک آڈیو لوڈ کیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے کس طرح بھارت میں گھس کر سلامتی کے نقطہ نظر سے حساس ترین ایئر فورس کے اڈے کو نشانہ بنایا۔ اس نے آڈیو میں دہشت گردوں کو مجاہدین بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے بہت بہادری کے ساتھ ہندوستانی ٹینکوں اور ہیلی کاپٹروں اور سکیورٹی فورس کا مقابلہ کیا۔ آڈیو میں ہندوستانی سکیورٹی ایجنسیوں کو للکارتے ہوئے کہا کہ وہ حملہ آوروں کی تعداد کو لیکر بھی شش و پنج کی حالت میں رہیں۔ ہندوستانی سکیورٹی ایجنسیوں نے کہا کہ مجاہدین تھے، پھر کہا کہ 5 اور اس کے بعد4 ۔ اتنا بڑا دیش آنسوؤں کے سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے۔حملے کے48 گھنٹے بعد تک بھارت حملہ آوروں کی تعداد اور ان کے پہنچنے کے راستے کے بارے میں پتہ نہیں لگا سکا۔ مسعود اظہر کا یہ بیان ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان جو حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کی بات کرتا ہے ان کی سرزمیں پر مسعود اظہر، حافظ سعید جیسے خطرناک لوگ نہ صرف پھل پھول رہے ہیں بلکہ بھارت کو بار بار للکارنے سے باز نہیں آرہے ہیں۔ اگر ہم پٹھانکوٹ حملے کا جواب امریکہ کے ذریعے دینے کی امید پالے ہوئے ہے تو اپنے آپ کو دھوکے میں رکھ رہے ہیں۔رہی بات پاکستان اور نواز شریف کی،تو خود پاک فوج کی سکیورٹی پر منحصر ہیں۔ وہ بھلا آئی ایس آئی اور ان جہادی تنظیموں کے خلاف کیا کارروائی کریں گے۔ پاکستان اپنے پرانے گھسے پیٹے جواب کو اس بار بھی دے گا۔ کہے گا کہ بھارت نے جو ثبوت بھیجے ہیں وہ کافی نہیں ہیں۔ بھارت کو پٹھانکوٹ حملے کا سخت جواب دینا ہوگا۔ آج پورا دیش اس حملے سے اپنے آپ کو بے عزت محسوس کررہا ہے اور جوابی کارروائی کی مانگ کررہا ہے۔ بھارت سرکار اگر یہ امید پالے ہوئے ہے کہ امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈال کر حملہ آوروں پر کارروائی کرے گا تو ہم اپنے آپ کو گمراہ کررہے ہیں۔ نہ ہی امریکہ اور نہ ہی پاکستان پٹھانکوٹ حملہ آوروں پر کسی طرح کی کارروائی کریں گے۔
(انل نریندر)

جموں و کشمیر میں سیاسی داؤ پیچ کا دور

امید تو یہ تھی کہ ایتوار تک جموں و کشمیر میں نئی حکومت کو لیکر تصویر صاف ہوجائے گی لیکن اب ڈر ہے کہیں پھر سے صوبے میں عدم استحکام کا دور نہ شروع ہوجائے۔ خاص کر آج کے حالات میں جب سرحد پار سے مل رہے غیر سنجیدہ اشاروں کی وجہ سے جموں و کشمیر میں کسی طرح عدم استحکام پیدا کرنے والے منظر کو بلاوا دینے جیسے ہیں۔ نئی سرکار کی تشکیل کے لئے کسی بھی سیاسی پارٹی کے آگے نہ آنے سے ریاست میں صدر راج لگانا پڑا ہے۔ امید تو یہ تھی کہ مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد ان کی جگہ نئی وزیر اعلی ان کی بیٹی محبوبہ مفتی بن جائیں گی لیکن فی الحال اس میں تھوڑی اڑچن آگئی ہے۔ اپنے والد کے انتقال کے غم میں ڈوبی بیٹی محبوبہ نے ابھی تک بھاجپا کے ساتھ سرکار کے قیام کے لئے بات چیت تک شروع نہیں کی ہے۔ محبوبہ نے اتوار کی شام کو بلائی اپنی پارٹی کی میٹنگ میں بھی اس اشو پر کوئی تبادلہ خیالات نہیں کئے۔ وہ صرف تعزیتی میٹنگ تک ہی محدود رہی۔ وزیر اعلی مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد پی ڈی پی اور بھاجپا میں چل رہی کھینچ تان دیش کے مفاد میں نہیں ہے۔ محبوبہ خود سرکار کے قیام میں دیری کررہی ہیں کیا اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اپنے والد کی موت کے سبب وہ صدمے میں ہیں؟ لیکن اس درمیان ان سے سونیا گاندھی اور نتن گڈکری کی الگ الگ ملاقاتوں کو سرکار کی تشکیل میں ہورہی تاخیر سے بھی جوڑا جاسکتا ہے۔ کہنے کو تو پی ڈی پی نے سرکاری طور سے یہ بھی کہا ہے کہ بھاجپا سے اس کا اتحاد قائم ہے لیکن پارٹی کے ایک سینئر لیڈر مظفر حسین کا یہ کہنا دلچسپ ہے کہ متبادل کھلے ہیں اور سیاست میں حالات کبھی بھی بدل سکتے ہیں۔ کیا ہم ان کے بیان سے یہ سمجھیں کہ جموں وکشمیر میں نئے تجزیئے بننے کے آثار ہیں۔ ویسے ایسے لوگوں کی بھی بھاجپا میں کمی نہیں جو دبی زبان میں یہ کہتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں پی ڈی پی ۔بھاجپا اتحاد ناکام ہوگیا ہے اور اس سے بھاجپا کو بہت نقصان ہوا ہے خاص کر جموں خطے میں۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ بھاجپا اپوزیشن میں بیٹھے اور محبوبہ کو کانگریس اور دیگر پارٹیوں کے ساتھ سرکار بنانے دے۔ یہ تو پہلے ہی صاف تھا کہ مفتی اور محبوبہ میں فرق ہے۔ بھاجپا مفتی پر بھروسہ کرسکتی تھی لیکن محبوبہ پر نہیں؟ دراصل مفتی اور محبوبہ میں شروع سے ہی تھوڑا فرق رہا ہے۔ اس کی جھلک اب دکھائی دینے لگی ہے۔ پی ڈی پی کے ذرائع کے مطابق محبوبہ کمان سنبھالتے ہی اپنے حمایتیوں کے درمیان یہ پیغام پہنچانا چاہتی ہیں کہ پی ڈی پی اپنی شرطوں پر اتحادی سرکار چلائے گی۔ یہ پیغام پی ڈی پی کے ان حمایتیوں کے لئے ہے جو کٹر پسند بھی رہے ہیں اور بھاجپا سے اتحاد کے خلاف بھی۔ ممکن ہے اسی حکمت عملی کے تحت بھاجپا کوٹے کی کچھ اہم وزارتیں محبوبہ اپنے پاس رکھنا چاہتی ہیں۔ بتاتا ہیں کہ اس سے اندیشہ ہے کہ پچھلے دنوں میں ان کی پارٹی کی پکڑ تھوڑی کمزور ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ مفتی کو سپرد کارکرنے کے وقت ان کے حمایتیوں کی تعداد اتنی نہیں تھی جتنی محبوبہ کو توقع رہی ہوگی۔ اس درمیان بھاجپا نے صاف کردیا ہے کہ اتحادی سرکار اپنی شرطوں پر چلائے گی۔جموں و کشمیر کی ذمہ داری دیکھ رہے بھاجپا سیکریٹری جنرل رام مادھو نے کہا کہ حکومت کم از کم مشترکہ پروگرام کی بنیاد پر بنی تھی ہم اسی سے بندھے رہنا ہیں۔ اب پی ڈی پی کو پہل کرنی ہوگی۔ انہیں آگے آنا ہوگا۔ لگتا ہے کہ فی الحال دونوں طرف سے اپنی اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ ریاست کی 87 ممبری اسمبلی میں پی ڈی پی کے 28 بھاجپا کے 25، کانگریس کے12، نیشنل کانفرنس کے15 ممبر ہیں ۔ اگر کانگریس سے ہاتھ ملا کر اکثریت ممکن ہوتی تو شاید پی ڈی پی وہی کرتی۔ محبوبہ نے اپنی سیاسی پارٹی 1996ء میں کانگریس سے ہی شروع کی تھی۔ پہلی بار وہ کانگریس کے ہی ٹکٹ پر اسمبلی میں پہنچی تھی۔ ویسے اب وہ دور نہیں رہا کے دہلی میں جس کی سرکار اسی کے ساتھ رہنے میں فائدے والے حالات ہوں۔ ایک تو مودی سرکار کا دباؤ پہلے سے ہی گھٹا ہے اور دوسرے محبوبہ کے سیاسی مفادات بھاجپا سے میل نہیں کھاتے۔ محبوبہ کو مفتی جیسا تال میل بنا کر چلنے کی مہارت شایدحاصل نہیں ہے۔ بہرحال اس سیاسی داؤ پیچ میں خطرے کم نہیں ہیں۔ امید ہے کہ سیاسی حالات دیکھتے ہوئے نئی سرکار کی تشکیل جلد ہوجائے گی۔
(انل نریندر)

13 جنوری 2016

آڈ ۔ ایون اسکیم کا مستقبل

راجدھانی میں تجربے کے طور پر آزمائے جارہے آڈ۔ ایوان نمبر سسٹم میں مداخلت سے پیر کے روزدہلی ہائی کورٹ نے انکار کردیا ہے۔عدالت ہذا نے کہا کہ یہ ماہرین کی رائے لیکر اسکیم بنائی گئی ہے، اس کے ذریعے سے دیکھا جاناچاہئے کہ آلودگی میں کمی آتی ہے یا نہیں۔ ایسے میں اس میں مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ چیف جسٹس جے۔ روہنی اور جسٹس جینت ناتھ کی بنچ نے اپنے 12 صفحات پر مشتمل آڈر میں کہا ہے کہ ہم تب تک اس میں دخل نہیں دے سکتے جب تک پالیسی آئین یا قانون کے خلاف نہ ہو۔ آڈ۔ ایون اسکیم کچھ لوگوں کے لئے پریشانی والی ہوسکتی ہے لیکن کورٹ اس بات کے لئے دخل نہیں دے سکتی کہ پالیسی کیسی ہے یا اس سے بہتر کوئی اور پالیسی ہوسکتی تھی یا نہیں۔ حالانکہ عدالت نے دہلی حکومت سے کہا ہے کہ عرضی میں جو سوال اٹھائے گئے ہیں ان ایشوز پر غور کیا جائے۔ مستقبل میں اس طرح کی اسکیم لانے سے پہلے ان سوالوں پر بھی غور کریں۔دہلی سرکار کے وزیر ٹرانسپورٹ گوپال رائے نے کہا ہے کہ یہ اسکیم دہلی والوں کے مفاد میں ہے اور 15 جنوری تک ٹرائل کے بعد ہر ڈیٹا کا تجزیہ کیا جائے گا اس کے بعد ہی اسکیم پر آگے فیصلہ لیا جائے گا۔ یہ اسکیم دہلی میں آلودگی دور کرنے میں تو اتنی کامیاب نہیں رہی لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ اس اسکیم سے سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد میں کمی آئی ہے اور چکہ جام سے تھوڑی راحت ضرور ملی ہے۔ اس اسکیم کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ جام میں پھنسی گاڑیوں کی فضول پیٹرول اور ڈیزل خرچ میں بھی کمی آئی ہے۔ پیٹرول پم مالکان کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی کھپت میں 25 فیصدی کمی آئی ہے۔ جہاں تک آلودی کا سوال ہے اس میں کمی آنے کی جگہ کئی مقامات پر الٹا اضافہ ہوا ہے۔ گاڑیوں سے زیادہ آلودگی موسم پر منحصر ہے۔ دھواں نکلنے ، درجہ حرارت بڑھنے سے آلودگی میں بھاری کمی آئی ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ اور کم از کم درجہ حرارت میں عام سے زیادہ درج ہوا ہے۔ اور آنے والے دنوں میں درجہ حرارت میں بہت کمی آنے کا اندیشہ نہیں ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ14-15 جنوری کو جزوی طور پر دہلی میں بادل چھائے رہنے و ہلکی بوچھاریں پڑنے کا امکان ہے۔ آلودگی کے خلاف دہلی سرکار 15 جنوری کے بعد بھی یہ اسکیم جاری رکھ سکتی ہے۔ اس بار لڑائی میں آس پاس کی ریاستوں کو بھی شامل کرنا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس کے لئے آب و ہوا آلودگی ایکٹ کی دفعہ17(1) کا سہارا لیا جائے گا۔ اس میں پی ایم10 اور ایم ایم2.5 کو کم کرنے کیلئے گائڈ لائنس جاری کی گئی ہیں۔ سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آلودگی کی خاص وجہ گاڑیاں کچرہ جلانا، پھول اور ذرات اور راستوں پر تعمیراتی سامان اور صنعتوں سے نکلنے والی آلودگی ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کے بعد دہلی سرکار کی طرف سے دوسری ریاستوں کو پہل کرنے کیلئے بھی کہا گیا ہے۔ دہلی میں آلودگی بڑھی ہے۔ دہلی میں پی ایم2.5 کی مقدار399 رہی۔ دہلی کے آنند وہار میں پی ایم 2.5 کی مقدار 390 رہی جبکہ پی ایم 10 کی مقدار 499 تھی۔مندر مارگ میں یہ اعدادو شمار 419 اور 436۔ پنجابی باغ میں 184 اور 276 ۔ آر کے پورم میں 203 اور 216 رہی۔ بیشک اس آڈ ۔ایون اسکیم کی کامیابی کا دہلی سرکار کریڈٹ لے لیکن جہاں تک آلودگی کا سوال ہے وہ کم نہیں ہوئی ہے۔ ہاں اس اسکیم کے کئی فائدے ضرور نظر آئے جن کا میں نے اوپر تذکرہ کیا ہے۔ دہلی میں کیجریوال سرکار کو اسکیم میں جزوی طور پر کامیابی ضرور ملی ہے۔ سیاسی فائدہ ضرور ہوگا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ15 جنوری کے بعد کیجریوال سرکار جنتا کی پریشانیوں اور تجاویز کا خیال کرتے ہوئے پختہ اسکیم لائے گی لیکن زیادہ کریڈٹ کو دہلی کے شہریوں کو جاتا ہے جنہوں نے کم سے کم قوت ارادی تو ضرور دکھائی ہے۔
(انل نریندر)

بھارت کی سرداری کو انگوٹھا دکھاتے پاک اور چین

پاکستان اور چین دونوں ملکوں نے طے کرلیا ہے کہ وہ بھارت کی عزت ساکھ و سرداری کو چیلنج کریں گے۔ پاکستان آئے دن اپنی ناپاک حرکتوں سے باز نہیں آتا۔ اب اپنے قبضے میں گلگت۔ بلتستان کو پاکستان آئینی درجہ دینے کی تیاری کررہا ہے۔ پاکستان کے اس قدم سے ہندوستان کی مشکلیں اور بڑھ سکتی ہیں، کیونکہ بھارت اس علاقے کو متنازعہ کشمیری علاقے کا حصہ مانتا ہے۔ پاکستان اب جموں و کشمیر کے اٹوٹ حصے گلگت بلتستان کو آئینی طور سے اپنا صوبہ بنانے کی فراق میں ہے۔ اسی کڑی میں اس نے ایک اعلی سطحی کمیٹی بنائی ہے۔ علاقے کے کٹھ پتلی سرکار سے بات چیت کا دکھاوا کیا جارہا ہے۔ پاکستان پہلی بار اپنے آئین میں گلگت ۔ بلتستان کا تذکرہ کرنے جارہا ہے۔ بتادیں کہ پاکستان میں سال1973 میں نافذ آئین میں گلگت۔ بلتستان کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ پاکستان میں اس علاقے کے انتظام کی ذمہ داری مبینہ طور پر کراچی معاہدے کے تحت حاصل کی تھی۔ پاکستان نے سازش کے تحت 1974 میں قواعد میں تبدیلی کر یہاں کی مردم شماری ٹیلی میں تبدیلی کی۔ سال2009 ء میں ایک 33 نفری کونسل بنائی۔ مانا جارہا ہے کہ یہ کام وہ اپنے دوست ملک چین کو خوش کرنے کے لئے کررہا ہے جس نے حکمت عملی کے طور پر علاقے سے ہوکر گزرنے والے 46 ارب ڈالر کے اہم معاشی گلیارے کو لی کر پاکستان سے اپنی تشویش بھی ظاہر کی تھی۔ نارتھ میں صرف گلگت۔ بلتستان ہی ایک ایسا سیاسی زون ہے جو چین سے سیدھا جڑتا ہے۔ یہ چین۔ پاک اقتصادی گلیارے کا بھی اہم راستہ ہے جس سے مغربی چین اور جنوبی پاکستان کے سڑک نیٹورک، ہائی وے ،ریلوے، سرمایہ کاری پارک سمیت گوادر بندرگاہ جڑتے ہیں۔ دراصل بھارت نے اقتصادی گلیارے کے پاک کے قبضے والے کشمیر سے ہوکر گزرنے پر اعتراض جتایا تھا۔ موجودہ وقت میں پاکستان گلگت اور بلتستان سمیت پورے پاک مقبوضہ کشمیر کو متنازعہ خطہ مانتا ہے اور اس کے آئین میں اس کا کوئی ذکر بھی نہیں ہے۔رسمی طور سے تو پی او کے ایک مختار علاقہ ہے اس کا اشارہ دیتے ہوئے گلگت۔ بلتستان کے وزیر اعلی حفیظ الرحمن کے ترجمان سجاد الحق نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے اس معاملے پر غور کے لئے ایک اعلی سطحی کمیٹی بنائی ہے۔ 9 جون2015ء کو پی او کے کے کٹھ پتلی وزیر اعظم چودھری عبدالمجید نے کہا بھی تھا کہ گلگت۔ بلتستان جموں و کشمیر کا حصہ ہے اور اسے صوبے کا درجہ دینا ہوگا۔ 1994ء میں پاکستانی سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں تسلیم کیا تھا کہ گلگت۔ بلتستان (تب شمالی زون) جموں و کشمیر ریاست کا اٹوٹ حصہ ہے۔ ادھر چین نے بھی طے کرلیا ہے کہ وہ پی او کے میں بڑا ڈیم بناکر رہے گا۔ چین کی سرکاری کمپنی نے اس ڈیم کو بنانے کا اعلان بھی کردیا ہے۔ یہ اشارہ ہے بھارت کے بڑے احتجاج کے باوجود چین پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں بڑے پروجیکٹوں پر کام کررہا ہے۔ چین کی سب سے بڑی سرکاری ہائیڈرو پاور کمپنیوں میں سے ایک جی ٹی سی سی نے پی او کے میں ڈیم بنانے کے لئے معاہدہ کیا ہے۔ پاکستانی میڈیا رپورٹ کے مطابق چین نے اس کیلئے 30 سال کے ٹیرف معاہدہ کیا ہے۔ بھارت پہلے ہی چین کی سرگرمیوں پر اعتراض جتا چکا ہے لیکن چین نے اسے اصلی کاروباری سرگرمیاں قرار دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس پروجیکٹ پر دستخط کرتے وقت کشمیر اشو پر پہلے سے کوئی شرط نہیں رکھی گئی ہے۔ ساتھ ہی کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کسی بھی تنازعے پر چین کا موقف مایوس کن ہے۔ ظاہر ہے نہ تو پاکستان کو اور نہ ہی چین کو بھارت کی تشویشات کی کوئی فکر ہے۔ دونوں اپنے پلان کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں اور بھارت خاموش تماشائی بنا ہواہے۔
(انل نریندر)

12 جنوری 2016

اترپردیش میں پنچایتوں پر سپا کا پرچم لہرایا

ساکھ اور کارگزاری تقریباً تقریباً سبھی مورچوں پر امیدوں سے کم اترنے کے باوجود اترپردیش ضلع پنچایت پردھان چناؤ میں سماجوادی پارٹی کی شاندار جیت چونکانے والی ضرور ہے۔ ریاست میں پنچایت کی جنگ میں ایک بار پھر اقتدار کی دھمک بھاری پڑی۔ اترپردیش کی 74 میں سے59 ضلع پنچایتوں پر سماجوادی پارٹی نے پرچم لہرایا ہے جبکہ بھاجپا 6 ، بسپا 4 مقامات پر ہی کامیاب رہی۔ کانگریس اور راشٹریہ لوکدل کو بھی 1-1 سیٹ پر کامیابی حاصل ہوئی جبکہ سپا کے تین باغیوں نے پارٹی کے سرکاری امیدواروں کو پٹخنی دے دی۔ سپا کے آگے وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقے بنارس میں بھی بھاجپا نے اپنی پارٹی کا اتحاد کارگر نہیں رہا۔ یہاں سپا امیدوار اپراجتا نے 48 کے مقابلے30 ووٹ حاصل کر مشترکہ امیدوار اجیت سونکر کو 13 ووٹوں سے ہرادیا۔ فطری ہے کہ سماجوادی پارٹی سے اپنی سرکار اور ترقیاتی کاموں کے تئیں عوام کے مناسب رخ کو انعام بتائے، بھاجپا کا تو حال یہ رہا کہ پارٹی نہ تو پردھان منتری نریندر مودی کے چناوی حلقے بنارس کو بچا پائی اور نہ پردیش پردھان ڈاکٹر لکشمی کانت واجپئی کے گڑھ میرٹھ میں بھی ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ جبکہ کانگریس نے بہرحال رائے بریلی میں اپنی عزت بچانے میں کامیابی حاصل کی لیکن امیٹھی میں اس کا امیدوار ہار گیا۔ جہاں تک بہوجن سماج پارٹی کی بات ہے تو بیشک بسپا کو مقابلتاً کم سیٹیں ملی ہوں لیکن یہ اکیلی پارٹی تھی جس نے زیادہ تر سیٹوں پر سماجوادی پارٹی سے سیدھی لڑائی لڑی۔ سپا کی یہ جیت اس لئے بھی اہم ہے کہ انہیں چناؤ کو لیکر سپا میں کافی ہلچل اور توڑ پھوڑ رہی۔ سپا کے چیف ملائم سنگھ و ان کے بیٹے وزیر اعلی اکھلیش یادو کے بڑھتے اثر کا بھی نمونہ ملا۔ بیشک اگلے سال ہونے والے اسمبلی چناؤ ابھی دور ہیں لیکن پنچایت چناؤ سے صوبے میں ہوا کا رخ ضرور پتہ چلتا ہے۔ عام طور پر سپا کی ساکھ اترپردیش میں کوئی خاص اچھی نہیں ہے۔ لوگ اب بسپا کو پھر سے اقتدار میں لانے کی بات کررہے ہیں۔ ادھر بھاجپا بھی اتنی آسانی سے یوپی کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ بھاجپا کا گراف مسلسل گرتا جارہا ہے۔ اب اس بات پر قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ شاید دو بار صوبے کے وزیر اعلی رہے کلیان سنگھ کو پارٹی اپنا چہرہ بنا کر چناؤ لڑے۔ نریندر مودی نے اترپردیش میں 73 لوک سبھا سیٹیں جیت کر جو ریکارڈ قائم کیا تھا وہ اسمبلی میں دوہرانابہت مشکل لگتا ہے البتہ یہ ماننا مشکل ہے کہ اس جیت سے اترپردیش میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی چناؤ میں سپا کو کوئی کرشمائی بڑھت ملنے والی ہے۔ اول تو بلدیاتی چناؤ کو نہ تو اسمبلی چناؤ یا لوک سبھا چناؤ سے جوڑ کر دیکھا جاسکتا ہے اور نہ ہی اشو یکساں ہوتے ہیں۔ بسپا کا الزام ہے کہ سپا نے یہ جیت پیسے ،دبنگی اور اقتدار کے سہارے جیتی ہے لیکن پانچ سال پہلے صوبے کے اقتدار پر قابض بسپا نے بھی ضلع پنچایت پردھان چناؤ میں ایسی ہی کامیابی حاصل کی تھی۔ سپا کو اس بات کی بھی جانچ کرنی چاہئے کہ بجنور، سیتا پور، اناؤ میں اسی کے باغی امیدواروں نے پارٹی کے سرکاری امیدواروں کو آخری دن ہٹا دیا؟ ہردوار پنچایت چناؤ ویسے تو محض ایک ضلع کے ہی چناؤ ہیں لیکن مینڈیٹ نے چھوٹی سرکار چننے میں جس رجحان کو پیش کیا ہے اس سے موجودہ سرکار اور اگلے سال 2017 میں سرکار بنانے کی دعویدار بھاجپا و کانگریس دونوں کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ یہی نہیں اتراکھنڈ میں اقتدار کیلئے کانگریس سے اتحاد کے بعد سیاسی زمین گنوا چکی بھاجپا غیر متوقعہ طور سے ابھر کر سامنے آئی ہے۔ اہم یہ بھی ہے کہ ضلع پنچایت پردھان کے عہدے کے چناؤ میں اہم کردار نبھانے والے منتخبہ 17 آزاد ضلع پنچایت ممبروں میں سے اکیلے بسپا کے باغیوں کی تعداد10 ہے۔ کانگریس کے4، بھاجپا کے2 باغی بھی چناؤ جیتے ہیں۔
(انل نریندر)

پٹھانکوٹ حملے میں ہماری سکیورٹی ایجنسیوں میں تال میل

ایک ہفتہ پہلے آتنکی حملے کا شکار بنے پٹھانکو ٹ ایئر بیس کا سنیچر کو وزیر اعظم نریندر مودی نے دورہ کیا۔ انہوں نے حالات کا جائزہ لیکر سکیورٹی کا بھی تجزیہ کیا۔ بعد میں پی ایم او نے ٹوئٹ کرکے بتایا کہ سکیورٹی فورس نے آتنک وادیوں کے خلاف جس طرح سے کارروائی کی اس پر پردھان منتری نے تشفی ظاہر کی۔ تال میل سے الگ الگ فیلڈ یونٹوں کے ذریعے کی گئی کارروائی اور جوانوں کی بہادری کی پی ایم نے تعریف کی۔ جوانوں کی بہادری کی تو تعریف ہونی چاہئے ہی لیکن جہاں تک سکیورٹی ایجنسیوں میں تال میل کا سوال ہے اس سے ہمیں مطمئن نہیں ہونا چاہئے۔ ماہرین کے مطابق اگر آپریشن اتنا لمباکیا (100 گھنٹے) تو اس کے پیچھے سکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان تال میل کی کمی ہونا ہے۔ ماہرین نے آپریشن میں ایک ساتھ کئی ایجنسیوں کو لیکر سوال اٹھائے ہیں۔ سابق فوج کے سربراہ جنرل وی پی ملک نے آپریشن میں سینا کواہم کردار دینے پر زور دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران سکیورٹی ایجنسیوں کے بیچ تال میل کی کمی نظرآئی۔ آپریشن میں این ایس جی ، پنجاب پولیس ایئرفورس اور فوج بھی لگی ہوئی تھی لیکن فوج کو کافی پہلے ہی بلا لینا چاہئے تھا۔ ایسے میں جوابدہی طے کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ تیاریوں کے بارے میں سرکار جتنا چاہے ڈھول پیتے لیکن تلخ حقیقت تو یہ ہے ممبئی پرہوئے آتنکی حملے (26/11) کو لیکر پٹھانکوٹ حملے تک سکیورٹی ایجنسیوں کی پوزیشن جوں کی توں ہے۔ آتنکی واردات سے17-18 گھنٹے پہلے ایس پی کا اغوا کرتے ہیں اور پھر انہیں چھوڑنے کے بعد قبضائی نیلی بتی کی گاڑی سے پولیس چوکی پار کر ایئر بیس پہنچے ہیں لیکن ہم کچھ نہیں کرسکے۔ آخر کار اس سے بڑا سوال اور کیا ہوسکتا ہے کہ آتنکیوں کے خلاف پٹھانکوٹ میں دو بار مسلح کارروائی ختم ہونے کے بعد بھی تیسرے بار بھی آپریشن چلانے کی کیوں ضرورت پڑی؟ کیا یہ ہماری سکیورٹی تیاریوں پر سوال نہیں کھڑا کرتے؟ میڈیا رپورٹ کے مطابق جس وقت دہشت گردوں نے پٹھانکوٹ ایئربیس پر حملہ کیا اس وقت چار دیشوں کے 23 غیر ملکی شہری ایئربیس پر موجود تھے۔ یہاں وہ ٹریننگ لینے آئے تھے۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے سامنے یہ سب سی بڑی پریشانی تھی کہ کہیں آتنکیوں کے ہاتھوں وہ نہ پڑ جائیں؟ مغربی کمان کے جی او سی ان سی لیفٹیننٹ جنرل کے ۔جے سنگھ نے بتایا کہ یہ غیر ملکی شہری چار دوست ممالک نائیجریا، سری لنکا، میانمار اور افغانستان کے تھے۔ آپریشن کے تیسرے دن بھی دہشت گرد جس بلڈنگ میں گھسے تھے اسی بلڈنگ کی دوسری منزل میں 7-8 ایئر فورس کے ملازم بھی تھے۔ فوج کے سامنے انہیں محفوظ طور پر نکالنے کی چنوتی تھی جس میں ہماری سکیورٹی فورس نے شاندار کامیابی پائی ۔
(انل نریندر)

10 جنوری 2016

مفتی کے جانے کا اثر کشمیر کی سیاست پر پڑے گا

جموں و کشمیر کے وزیر اعلی مفتی محمد سعید کا جانا افسوسناک تو ہے ساتھ ہی ساتھ ان کے وارث کے لئے کئی چنوتیاں چھوڑگیا ہے۔ دیش کے سب سے اشانت اور اٹھا پٹخ والے صوبے کو پٹری پرلانے میں جو سمجھداری، سنجیدگی،ملک کسی سیاستداں سے چاہ رہا تھا اس کے قریب تک جانے کا حوصلہ مفتی صاحب نے ہی دکھایا۔مفتی کے جانے کا اثر کشمیر، پی ڈی پی، بی جے پی اور دیش سبھی کو کسی نہ کسی شکل میں محسوس ہوتا رہے گا۔ گذشتہ کچھ سالوں میں سعید کا قد اتنا بڑا ہوگیا تھا کہ اس کی چھتر چھایا میں کافی چیزیں محفوظ محسوس کی جاتی تھیں۔ سعید کشمیر میں ایک طرح کے سنتولن کے پرتیک تھے۔ کشمیرمیں الگاؤوادی اور گرم پنتھی نیتا بھی کہتے کچھ بھی رہتے ہوں لیکن وہ بھی مفتی کا سنمان کرتے تھے۔ بی جے پی کے ساتھ سرکار بنا کر مفتی نے اپنی اسٹیٹ مین شپ کا ثبوت دیا۔ یہ بڑا رسک تھا لیکن یہ رسک لے کر بھی انہوں نے بھارت اور لوک تنتر کے تئیں اپنی ذمہ داری اور مضبوطی سے ثابت کی۔ جموں و کشمیر میں اب جبکہ محبوبہ مفتی کا وزیر اعلی بننا طے سا ہے، سہیوگی دل کے طور سے شامل بھاجپا کے لئے یہ چنوتی بن سکتی ہیں۔ پارٹی حالانکہ اس بدلاؤ کے لئے پہلے سے ہیں من بنانے میں لگی تھیں لیکن یہ خدشہ برقرار ہے ۔پی ڈی پی کے ساتھ مل کر سرکار بنانا پہلے بھی بھاجپا کے لئے آسان فیصلہ نہیں تھا لیکن اس وقت ایک راحت یہ تھی کہ سامنے مفتی محمدسعید کا چہرہ تھا جو اپنی پارٹی میں نہ صرف کمانڈنگ پوزیشن پر تھے بلکہ مقابلہ جاتی طور سے دوسروں سے زیادہ نرم اور منطقی مانے جاتے تھے۔ محبوبہ اپنی پارٹی میں کٹر رخ کیلئے جانی جاتی ہیں۔ یاد دلا دیں کہ کچھ مہینے قبل اس کی جھلک اس وقت بھی دکھی تھی جب مفتی اس کیلئے راضی ہوگئے تھے کہ پاکستانی این ایم اے سے بات چیت کے لئے دہلی جانے کی تیاری کررہے الگاؤ وادی نیتاؤں کو گرفتار کرلیا جائے لیکن بعد میں ممکن ہے محبوبہ نے مداخلت کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ جلد ہی ان کی رہائی کرنی پڑی۔ مفتی جموں و کشمیر کے بیحد لوک پریہ نیتا تھے۔ ان کی لوک پریتا کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہیں سننے کے لئے جنتا دوڑی چلی آتی تھی۔ دفعہ370 کو لیکر بھی ان کی سوچ بیحد سیدھی اور صاف تھی۔انہیں عوام کے فائدے کیلئے کچھ بھی کر گزرنے سے پرہیز نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں بار بار برا بھلا کہا جاتا تھا۔ عبداللہ پریوا ر کی جموں کشمیر سیاست میں بادلاستی گھٹانے میں انہیں آگے مانا جاتا تھا۔ الگاؤ وادی غلط فہمی میں پھنسے کشمیری عوام اور اس کے ایک مخالف پارٹی کٹرہندو وادی دل سے تال میل بٹھانے کا سہرہ بھی مفتی کو جاتا ہے۔ مفتی کا جانا نہ صرف جموں و کشمیر کا نقصان ہے بلکہ پورے دیش نے ایک اہم نیتاکو کھودیا ہے۔
(انل نریندر)

پٹھانکوٹ حملہ آوروں کو کہیں ڈرگ اسمگلروں نے پناہ تو نہیں دی

پٹھانکوٹ میں آتنک کے خلاف 100 گھنٹے سے زیادہ آپریشن تو ختم ہوگیا ہے پر یہ سوال جوں کا توں ہے کہ آخر کار بھارتیہ سرحد میں آتنکیوں کو پناہ کون دیتا ہے؟مانا جارہا ہے کہ آتنکیوں نے ڈرگ سمگلروں کے روٹ کا استعمال کیا۔ ڈرگ اور آتنک کے اس خطرناک گٹھ جوڑ کی جانچ چل رہی ہے۔ کیا پنجاب میں پھیلے نشے و ہتھیار سمگلنگ کا نیٹ ورک تو آتنکیوں کا مددگار تو نہیں بنا؟ سرحد پر ہیروئن ،حشیش کی سمگلنگ کرنے والے اسمگلروں کے تعلق پاکستانی اسمگلروں سے ہیں۔ کئی بار اسمگلر ہتھیار اور آر ڈی ایکس کی اسمگلنگ کرتے ہوئے پکڑے جاچکے ہیں۔ کئی بار پاکستانی اسمگلر بھارتیہ سرحد میں گھس پر یہاں کے اسمگلروں کے پاس رہ چکے ہیں۔ کچھ سال پہلے لگ بھگ 5 شہری سرحد پر لگی کٹیلی تار پار کر فیروز پور چھاؤنی ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے تھے۔ ان میں سے ایک کو قابو کیا گیا تھا باقی فرار ہوگئے تھے۔ خفیہ ذرائع کے مطابق اس میں حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ بھارتیہ اسمگلروں نے پٹھانکوٹ میں حملہ کرنے آئے آتنکیوں کو پناہ دی ہو۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ بھارت۔ پاک سرحد پر رہنے والے زیادہ تر لوگوں کے پاس پاکستانی موبائل کمپنی کے سم کارڈ ہیں۔ پنجاب پولیس کے سابق ڈی جی پی ششی کانت لمبے وقت سے ڈرگ مافیہ کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ ششی کانت نے کہا کہ جب تک ڈرگ روٹ بند نہیں ہوگا تب تک آتنکی یوں ہی آتے رہیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں بارڈر دو طرح کا ہے ، ایک وہ حصہ جہاں کٹیلی تاروں کی فینسنگ کی ہوئی ہے جبکہ دوسرے میں کٹیلے تار نہیں ہیں۔ یہ ندی کے کنارے والا حصہ ہے ۔جہاں کٹیلی تار ہیں وہاں خالی موٹے پائپ کے ذریعے ڈرگس اور آر ڈی ایکس بھیجا جاتا ہے جبکہ بنا تار والے بارڈر سے کشتی کے ذریعے یہ کام ہوتا ہے۔ آتنکیوں کے لئے کٹیلے تاروں والے بارڈر سے آنا مشکل ہے کیونکہ اس کے لئے سرنگ بنانی ہوگی۔ اس لئے دینا نگر اور پٹھانکوٹ دونوں معاملے میں آتنکی ندی والی سائڈ سے آئے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ سلیپر سیل وہاں موجود ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پنجاب گورنمنٹ کا ایک حصہ ان آرگنائزڈ ڈرگ مافیہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس میں نیتا، پولیس، بی ایس ایف سب جگہ کے لوگ شامل ہیں۔ پنجاب میں پاک کے ساتھ لگی ہوئی سرحد کے قریب 550 کلو میٹر کی سرحد میں ندیوں اور نالوں نے اسمگلروں کے لئے گھس پیٹھ آسان کردی ہے۔ چھوٹے چھوٹے نالوں ، ندیوں کی وجہ سے نہ تو یہاں پر کٹیلی تار لگائے جاسکتے ہیں اور نہ ہی پوری طرح چوکسی رکھی جاسکتی ہے۔ نشہ و ہتھیار کے اسمگلروں پر شک کی سوئی ٹھہرنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جب بھی کسی کی گرفتاری و برآمدگی ہوتی ہے تو پاک ہتھیار و سم کی برآمدگی ضرور ہوتی ہے۔ معاملے میں سکیورٹی فورسز کی غیر سنجیدگی و ملی بھگت بھی سامنے آتی ہے۔ سرحد پر اسمگلروں سے برآمد پاکستانی سم کارڈوں کی جانچ سرے نہیں چڑھ پاتی ہے۔ ذرائع کی مانیں تو گذشتہ تین سالوں میں سرحد پر برآمد 22 سم کارڈوں میں سے بی ایس ایف یا دیگر سکیورٹی فورسز نے صحیح ڈھنگ سے جانچ نہیں کی۔ بی ایس ایف سے موصول اعدادو شمار کے مطابق گذشتہ تین سالوں میں تین پاکستانی آتنکیوں اور اتنے ہی اسمگلروں کو پاکستان سے اتر پوربی سرحد پارکرنے کی کوشش کرتے ہوئے بی ایس ایف نے مار گرایا۔ 20 گھس پیٹھیوں کو زندہ پکڑا۔ اسی سال اے کے 47- سمیت 17 ہتھیار ،24 میگزین، 286 راؤنڈ گولیاں و 15 پاکستانی موبائل برآمد کئے گئے۔ساری کوششوں کے باوجود پنجاب میں سرحد پار سے ڈرگ کی اسمگلنگ بڑھتی جارہی ہے۔ اس کیلئے پنجاب سرکار بھی بار بار سرحد پر چوکسی بڑھانے کی بات مرکزی سرکار کے سامنے اٹھاتی رہی ہے۔ کیا گورداس پور کے ایس پی بلوندر سنگھ بھی اس ڈرگ ریکٹ میں شامل ہیں؟ ممکن ہے کہ انہیں یہ بتایا گیا ہو کہ ڈرگس کی سپلائی آرہی ہے اور انہوں نے ان آتنکیوں کو ڈرگ اسمگلر سمجھا ہو؟
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...