Translater

09 جون 2012

خوف کے سائے اورقدرتی آفات کے درمیان امرناتھ یاترا


ہر سال کی طرح ایک مرتبہ پھر امرناتھ یاترا دہشت گردی کے نشانے پر ہے۔ہماری سکیورٹی فورس نے اپنی سرحد کے اس پارکے پیغامات سنے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ آتنکی یاترا کو نشانہ بنانے کی تیاری میں ہیں۔ تشویش کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اسامہ بن لادن اور الیبی کی موت کے بعد کشمیر میں دہشت گردی کی سرگرمیاں تیز ہونے کی وارننگ ملی ہے لیکن بابا امرناتھ کے بھکتوں پر ان دھمکیوں کا کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ایک ماہ میں رجسٹریشن کرانے والوں نے سوا تین لاکھ کا آنکڑا پار کرلیا ہے۔ سکیورٹی ایجنسیاں اس بات کی تصدیق کررہی ہیں جن 30 سے40 آتنکیوں کے اس طرف گھس آنے کی تصدیق ہوئی ہے ان کا اہم نشانہ امرناتھ یاترا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یاترا میں شامل ہونے والے بھکتوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ حالانکہ آتنکی دھمکیوں کو بالکل نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سال1993ء کی امرناتھ یاترا ان لوگوں کو یاد ہوگی کہ جنہوں نے پہلی بار اس یاترا پر لگی پابندی کے بعد حرکت الانصار کے حملوں کو برداشت کیا تھا تب تین شردھالوؤں کی جانیں گئیں تھیں۔ پہلے حملے کے 10 سال بعد خوفناک حملے میں 11 بھکتوں کی موت ہوئی تھی۔ ان دس سال میں کوئی بھی ایسا برس نہیں گذرا تھا جب آتنکی حملوں اور موتوں سے امرناتھ یاترا سرخیوں میں نہ آئی ہو لیکن اس کے باوجود امرناتھ یاترا آج بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ سکیورٹی فورس یاترا کو ہر حال میں محفوظ بنانے میں لگی ہے۔ ریاستی حکومت اور انتظامیہ کے لئے یہ کسی چنوتی سے کم اس لئے نہیں ہے کیونکہ سال 1993ء کے بعد کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ شاید ہی کوئی ایسا برس رہا ہو جب آتنکی حملوں میں شردھالوؤں کی موت نہ ہوئی ہو۔ جو برس بچا وہ قدرتی آفات کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اگر ماضی میں آتنکیوں کے ہاتھوں بچ گئے تو قدرت کے ہاتھوں سے نہیں بچ سکے۔ سکیورٹی فورس کے لئے چنوتی پہلے سے کہیں زیادہ ہوگئی ہے۔ پہلے مسافروں کی تعداد بمشکل54 ہزار ہوا کرتی تھی مگر 1993ء میں آتنکی پابندی نے لوگوں کو اس کی طرف مزید راغب ہونے پر مجبور کردیا۔ نتیجہ 1993ء سے سال 2002 ء تک کی یاترا کا اوسط حصہ لینے والوں کی تعداد 2 لاکھ رہی ہے۔جیسے جیسے امرناتھ یاترا پابندی اور آتنکی حملے بڑھتے رہے ہیں یاترا میں شامل ہونے والے بھکتوں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے۔ اصل میں کئی مذہبی تنظیموں نے بھی اسے ایک چنوتی کی شکل میں لیتے ہوئے ہزاروں لوگوں سے شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔ یہ ہی وجہ تھی کہ سال1996ء میں جب بجرنگ دل کے 50 ہزار کے قریب ممبر امرناتھ یاترا میں حصہ لینے پہنچے تو سارا سسٹم اور انتظام چرمرا گیا اور قدرتی آفات نے بھی یاترا کو گھیر لیا اور 300 کے قریب شردھالو قدرتی آفات کا شکار ہوگئے۔ بابا امرناتھ یاترا کی ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ آتنکی حملوں کے سبب ہی یہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ اگرچہ آتنکی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد اتنی نہیں تھی جتنی قدرتی آفات میں لوگ مارے گئے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ سارے جھگڑوں کے باوجود اس سال کی امرناتھ یاترا ٹھیک ٹھاک گذرے گی اور محفوظ بھی رہے گی۔ جے بابا امرناتھ، ہر ہر مہا دیو۔
(انل نریندر)

ممتا اب تنہا چلو پالیسی پر عمل کی حامی


ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی کی خود اعتمادی اس وقت انتہا پر ہے۔ مغربی بنگال میں چھ میں سے چار میونسپل کارپوریشن چناؤ جیتنے کے بعد سے اس کا ایسا حوصلہ بڑھا۔ ان چناؤ نتائج سے کئی پیغام نکلے ہیں۔ پہلا اسمبلی چناؤ کے بعد لیفٹ کے سامنے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا تھا کہ جنتا اس پر بھروسہ کیوں نہیں کرپا رہی ہے۔ دوسرے یوپی اے سرکار کا حصہ ہونے کے باوجود کئی اشوز پر درپردہ طور سے نا اتفاقی ظاہر کر مرکز کے لئے مشکل حالات پیدا کرنے کے بعد ترنمول کانگریس اب کانگریس کو کہہ سکتی ہے کہ اگر اس کی اہمیت کو کم کرکے دیکھا گیا تو وہ ریاست میں اکیلے چلنے سے نہیں ہچکچائے گی۔ ترنمول کانگریس چیف ممتا بنرجی کے وفادار اور مرکزی وزیر ریل مکل رائے نے نتیجوں کے فوراً بعد اعلان کردیا کہ ان کی پارٹی بنگال میں اکیلے حکومت چلانے میں اہل ہے۔ ممتا کے ایک دیگر وفادار اور مرکزی سرکار میں وزیر سیاحت سلطان احمد تو اس سے بھی ایک قدم آگے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی سیاحت ڈپلومنٹ کارپوریشن کے عہدے پر گجرات کے کانگریسی لیڈر شنکر سنگھ وگھیلا کی تقرری کی مخالفت کرتے ہوئے سوال اٹھا دیا ہے کہ اس میں انہیں کیوں بھروسے میں نہیں لیا گیا۔ سلطان احمد یہ شکایت کرنے میں بھی نہیں چوکے کہ بقول وزیر مملکت ان کے پاس کام کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ پچھلے سال ہوئے اسمبلی چناؤ کے بعد یہ پہلا موقعہ تھا جب ترنمول کانگریس نے کانگریس سے علیحدہ ہوکر چناؤ لڑا۔ اس طرح مقابلہ اس بار تکونہ تھا۔ یہ عام خیال رہا کہ پچھلے لوک سبھا اور اسمبلی چناؤ میں لیفٹ فرنٹ کی ہار کی ایک بڑی وجہ کانگریس اور ترنمول کانگریس کا اتحاد تھا لیکن ممتا بنرجی یہ پیغام دینے میں کچھ حد تک کامیاب رہیں کہ وہ اکیلے بھی لیفٹ فرنٹ سے آر پار کر سکتی ہیں۔ چناؤ نتیجے آنے کے بعد ترنمول لیڈروں نے یہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں کی کہ ان کی پارٹی ریاست میں اپنے دم خم پر راج کرنے کی طاقت رکھتی ہے اور وہ مستقبل میں ہونے والے چناؤ اکیلے لڑے گی۔ ابھی یہ صاف نہیں کہ ترنمول نے آخری فیصلہ کرلیا ہے یا پھر اس کی وارننگ صرف ایم سی ڈی چناؤ کے دوران دونوں پارٹیوں کے درمیان ہوئی تلخی کا نتیجہ ہے۔ مغربی بنگال کانگریس یونٹ نے ترنمول کی دھمکی کا سخت جواب دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اتحاد توڑ لے لیکن چاروں طرف سے مسائل سے گھری مرکز میں منموہن سرکار ممتا سے پنگا لینے کو تیار نہیں ہے۔ جمعرات کو ہی ممتا کا اثر نظر آیا۔ اس دن سرکار کے اقتصادی ایجنڈے سے وابستہ سرخیوں میں چھائے رہے پنشن بل کو کیبنٹ کی منظوری کے لئے پیش کرنا تھا لیکن ممتا کے اعتراض کو دیکھتے ہوئے مرکزی سرکار کو اسے ٹالنا پڑا اور ممتا بنرجی کے دباؤ میں مرکزی سرکار کو قدم پیچھے کھینچنے پڑے۔ مرکزی سرکار کے لئے ممتا کی حمایت بہت معنی رکھتی ہے اس لئے ان کی کوشش ترنمول سے اپنا اتحاد ہر حال میں جاری رکھنے کی ہوگی۔ مگر ترنمول نے کوئلہ بلاک الاٹمنٹ میں پبلک سیکٹر کی کمپنیوں کو نظر انداز کئے جانے کے اشو اٹھا کر کانگریس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ بلدیاتی چناؤ کو عام طور پر مقامی یا زیادہ سے زیادہ ریاستی سطح کے تجزیوں کے حساب سے دیکھا جاتا ہے ۔ مگر مغربی بنگال میں نگرپالیکا چناؤ میں جہاں حکمراں اتحاد میں دراڑ پیدا ہونے کے اشارے دئے ہیں وہیں مرکزی سرکار اور کانگریس پارٹی کی مصیبتیں بڑھا دی ہیں۔
(انل نریندر)

08 جون 2012

القاعدہ کے نمبر دو سرغنہ کو امریکہ نے مار گرایا؟

دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی وار آن ٹیرر میں انہیں ایک اور بڑی کامیابی ملنے کی خبر ہے۔ امریکہ نے پاکستان کے نارتھ وزیرستان میں ایک ڈرون حملہ کرنے اور 15 دہشت گردوں کو مار گرانے کا دعوی کیا ہے۔ اسامہ بن لادن کی موت کے بعد امریکہ کو یہ سب سے بڑی کامیابی ملی ہے۔ اس حملے میں ابو یحییٰ الیبی کے مارے جانے کی خبر ہے۔ لیبیائی شہری لیبی کی پیدائش 1963ء میں لیبیا میں ہوئی تھی۔ 1990 کے آس پاس وہ افغانستان آیا تھا۔ اسے ایک اسلامی اور لیبیائی دانشور کی شکل میں جانا جاتا تھا۔ لیبی 2005 میں افغانستان کے برغام ایئر بیس میں واقع جیل سے ڈرامائی طریقے سے بھاگ نکلا تھا اسے سال2002 میں نیٹو فورسز کے ذریعے طالبان حکومت کو اکھاڑ دینے کے بعد پکڑا گیا تھا۔ وہ پچھلے سال نارتھ وزیرستان میں امریکی میزائل حملے میں ایک اور لیبیائی شہری عبدالرحمان کے مارے جانے کے بعد بین الاقوامی نیٹورک القاعدہ کا ڈپٹی لیڈر بن گیا تھا۔ لیبی 2007 میں القاعدہ کے لئے پرچار کی سی ڈی پوری دنیا میں پھیلانے آیا تھا۔ ابو یحییٰ الیبی القاعدہ کا بڑا حکمت عملی ساز مانا جاتا تھا اور ایمن الظواہری کے بعد نمبر دو کا القاعدہ لیڈر بن گیا۔ لیبی پر امریکہ نے ایک ارب ڈالر کا انعام رکھا تھا ۔ چونکہ 2009 میں بھی اس کے مارے جانے کی خبر غلط ثابت ہوئی اس لئے اس مرتبہ بھی کچھ لوگوں کو یہ یقین نہیں ہورہا تھا کہ واقعی وہ مارا گیا ہے؟ نیویارک ٹائمس نے حکام کے حوالے سے کہا کہ لوگ یہ جاننا چاہ رہے ہیں کیا وہ ابھی بھی زندہ ہے؟ اخبار نے لکھا ہے پیر کے روز ڈرون حملے میں میر علی علاقے میں نشانہ بنے قبائلی ذرائع نے بتایا الیبی یا تو مارا گیا ہے یا بری طرح زخمی ہوگیا ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ تیسرا اور اس سال کا سب سے خطرناک ڈرون حملہ تھا۔ اگر ابو یحییٰ الیبی کے مارے جانے کی خبر سچ ثابت ہوتی ہے تو یہ پچھلے سال اسامہ بن لادن کی موت کے بعد القاعدہ کے لئے سب سے بڑا جھٹکا ہوگا۔لیبی نہ صرف ایک دہشت گرد تھا بلکہ القاعدہ کا تھنک ٹینک بھی تھا۔ وہ خودکش حملوں کا ماسٹر مائنڈ بھی مانا جاتا تھا۔
اردو ،عربی ،پشتو زمان کی کافی واقفیت تھی۔ اسے اسلام کی گہری معلومات تھی۔ لیبی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کو دیکھتا تھا اور علاقائی گروپوں سے رابطہ قائم کرتا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے فی الحال اس کی جگہ مرنے والا القاعدہ میں کوئی اور لیڈر نہیں ہے۔
امریکی کی وار آن ٹیرر میں یہ ایک قابل ذکر کامیابی ہے۔ القاعدہ کا نیٹ ورک آہستہ آہستہ ختم ہوتا جارہا ہے۔ القاعدہ کے ذریعے دنیا میں پھیلائے خوف میں کمی آئی ہے اگر القاعدہ کمزور ہوتا ہے تو2014 میں امریکہ کے افغانستان چھوڑنے کی ڈیڈ لائن کو پورا کرنے میں آسانی ہوگی۔ اگر الیبی کی موت کی خبر کی تصدیق ہوتی ہے تو اس سے صدر براک اوبامہ کو بھی صدارتی چناؤ جیتنے میں بیحد کامیابی ملے گی۔ وہ چھاتی ٹھوک کر کہہ سکتے ہیں کہ ان کے عہد میں پہلے لادن اور اب لیبی کا صفایا انہوں نے کیا ہے۔
(انل نریندر)

تیزی سے بڑھتا ان ریو وپارٹیوں کا چلن


20 مئی کو پولیس نے ممبئی جوہی علاقے میں ایک ریوو پارٹی پر چھاپہ مارا۔ قریب100 لوگوں حراست میں لیا گیا ہے جس میں آئی پی ایل کھلاڑی بھی شامل تھے۔پنے ویریرس کے راہل شرما اور ساؤتھ افریقہ کے تیز گیند باز وین پرنیل شامل ہیں۔ آخر ایسا خاص کیا ہوتا ہے ان ریوو پارٹیوں میں۔ ایسی کئی پارٹیوں میں چھاپہ ماری کرنے والے ایک سینئر افسر بتاتے ہیں کسی بھی عام پارٹی اور ریوو پارٹی میں فرق تین باتوں کا ہوتا ہے خفیہ مقام، جہاں عام طور پر کم ہوتے ہیں۔ ایک ڈی جے ڈانس میوزک والا جس میں خاص طور پر لاؤڈ میوزک بجاتے ہیں جس کے شور میں کچھ سنائی نہیں دیتا۔ اس کے علاوہ ریوو پارٹی کی خاصیت ہے ڈرگس۔ اس کے دعوت نامے خفیہ طور سے اور کورڈ زبان میں بھیجے جاتے ہیں۔ پہلے یہ ایس ایم ایس پر ہوتا تھا اب سوشل نیٹورکنگ سائٹیں بھی اس کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ ریوو کی شروعات70 کی دہائی میں مغربی ممالک میں ہوئی جہاں کچھ ایسی پارٹیاں ہوتی رہی ہیں جس میں نشہ وغیرہ لیا جاتا تھا ۔ لیکن پھر ڈرگس کے لئے سخت قانون بنے تو ایسے پروگرام خفیہ ڈھنگ سے ہونے لگے۔ 
ایسی پارٹیوں کا انعقاد عام طور پر فارم ہاؤس میں کیا جاتا ہے۔ ان میں مختلف طرح کی نشے کی چیزوں کا بھی استعمال شروع ہوگیا ہے۔ کوکن بھی کہیں کہیں دی جاتی ہے۔ ممبئی سے شروع ہوئی ریوو پارٹیوں نے اب راجدھانی دہلی میں بھی دستک دے دی ہے۔ آج کل ہم آئے دن دہلی میں سنتے ہیں کہ دہلی پولیس نے ریوو پارٹیوں میں سپلائی کے لئے لائی گئی نشیلی چیزوں کی کھیپ پکڑی ہے۔ حالانکہ دہلی پولیس ان ڈرگس سپلائروں کو پکڑنے کے لئے ہمیشہ تیار رہتی ہے لیکن راجدھانی میں ریوو پارٹیوں میں نشیلی چیزوں کی سپلائی رک نہیں رہی ہے۔ جمنا پار میں کچھ دنوں پہلے ایک ایسی پارٹی کے لئے کوبرا سانپ کا زہر پولیس نے ضبط کیا تھا۔ لندن ، نیویارک سبھی جگہ آج کل پارٹیوں میں ڈرگس کا کھلے عام استعمال ہورہا ہے۔ امریکی محکمہ قانون کی ویب سائٹ پر ڈالے گئے ایک دستاویز سے پتہ چلتا ہے کہ ان ریوو پارٹیوں کا آغاز 1980 کی ڈانس پارٹیوں سے ہوتا ہے جہاں یوروپی موسیقی کا استعمال ہوتا تھا۔ یہ پارٹیاں پہلے چھپ کر ہوا کرتی تھیں لیکن اب کھلے عام ہورہی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان ریوو پارٹیوں میں طور طریقوں اور نشے میں کافی تبدیلی آگئی ہے۔ آج کی ریوو پارٹیاں پہلے ہی سے طے ہوجاتی ہیں اس کے علاوہ آج کل کی ریوو پارٹیاں گھپ اندھیری میں ہوتی ہیں جہاں لوگ سیکس کرنے سے بھی نہیں شرماتے۔ کئی بڑے نائٹ کلب ڈرگس کے استعمال سے پرہیز نہیں کرتے بلکہ نشہ کنٹرول کرنے کیلئے اینرجی ڈرنک اور ایریسٹڈ واٹر بھی سپلائی کرتے ہیں۔
نشے کو بڑھانے کے لئے بھی سامان مہیا کرایا جاتا ہے۔ راجدھانی کی چوکس پولیس ان پارٹیوں پر نکیل کسنے کیلئے بھرپور کوشش تو کرتی ہے لیکن اسمگلر نئے نئے اسمگلنگ اور سپلائی کے طریقے نکال لیتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان اسمگلروں کو ہائی فائی پارٹیوں میں نشیلی چیزوں کی اسمگلنگ کے لئے منہ مانگے دام مل جاتے ہیں۔
(انل نریندر)

07 جون 2012

کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کھودا پہاڑ نکلا چوہا


کانگریس پارٹی کی 126 سال پرانی تاریخ میں کم ہی موقعے آئے ہیں جب کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگوں سے کوئی ٹھوس باتیں نکل کر آئی ہوں۔ پیرکو طویل وقفے کی میٹنگ میں بھی یہ ہی ہوا۔ میٹنگ رسمی انداز میں شروع ہوئی اور اسی انداز میں ختم بھی ہوگئی۔ لوگ سوچ رہے تھے کہ اسمبلی چناؤ میں پارٹی کی خراب کارکردگی اور یوپی اے سرکار کی گھیرا بندی جیسے حالات اور پارٹی کے مستقبل کی طرف اشارہ کرنے والے راشٹرپتی چناؤ کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس بات کی میٹنگ کچھ ٹھوس بڑے نتیجوں کے ساتھ اختتام پذیرہوگی، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ میٹنگ کے بعد جاری بیان میں اسے محض معمول کی میٹنگ ہی کہیں تو اس میں برائی کیا ہے؟ کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ ابتدا میں پارٹی صدر سونیا گاندھی نے جس تیور سے پارٹی کے ورکروں کو 2014ء کے لوک سبھا چناؤ اور اس کے پہلے ہونے والے اسمبلی چناؤ کی تیاری میں لگنے کی اپیل کی اس سے ذرا بھی امید نہیں بنتی۔ سونیا کاخطاب نہ تو کانگریسیوں میں حوصلہ پیدا کرنے والا رہا اور نہ ہی اس سے یوپی اے II- سرکار کے کام کاج کے طور طریقے ہی بدلنے والے ہیں۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی اور وزیر اعظم منموہن سنگھ دونوں کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت خاص کر مندی کو دیکھتے ہوئے انوکھا کام کررہی ہے۔ دونوں نے کہا کہ اپوزیشن اور سول سوسائٹی حکومت پر غیر ضروری الزام لگا رہے ہیں لیکن کانگریس صدر نے اس کے علاوہ دو باتیں اور بھی کہیں کہ پارٹی پوری طاقت سے سرکار کے ساتھ ہے اور پارٹی کے نیتا گروپ بندی چھوڑ کر عام ورکر پر بھروسہ کریں تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔ ظاہر ہے یہ دونوں باتیں بھی انہوں نے پہلی بار نہیں کہیں۔ کچھ حد تک یہ امکان تھا کہ سونیا گاندھی وزیر اعظم کا بچاؤ کریں گی اور انہوں نے کیا بھی۔ لیکن اس پر غور کیا جانا چاہئے تھا کہ آخر ایسی نوبت کیوں آئی؟ یہ عام بات نہیں ہے کہ وزیر اعظم کی جو ساکھ کبھی کانگریس کے لئے مضبوط کوج کا کام کرتی تھی اس کی حفاظت کے لئے خود پارٹی صدر کو آگے آنا پڑا۔ سونیا گاندھی کی مانیں تو کوئلہ کھانوں کے الاٹمنٹ کو لیکر وزیر اعظم پر حال میں لگے الزام ایک سازش کا حصہ ہیں جو اپوزیشن پارٹیوں اور کانگریس مخالف عناصر کی طرف سے رچی گئی ہے۔ اگرچہ حقیقت میں ایسا ہے تو پھر مرکزی ویجی لنس کمیشن کی پہل پر سی بی آئی کس چیز کی جانچ کررہی ہے اور خود سرکار کوئلہ کھدان الاٹمنٹ عمل کو درست کرنے کیوں جارہی ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر کوئلہ کھدانوں کے الاٹمنٹ میں کچھ غلط نہیں ہوا تو کمپٹرولر و اڈیٹر جنرل یعنی کیگ کی رپورٹ کس طرف اشارہ کرنے کے ساتھ1 لاکھ 80 ہزار کروڑ روپے کا محصول کے نقصان کا اندازہ کیسے لگا رہی ہے؟ کیا یہ کہنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کیگ بھی اسی سازش کا حصہ ہے جو مبینہ طور پر وزیر اعظم کے خلاف رچی گئی؟ ورکنگ کمیٹی کی اجتماعی رائے یہ بھی تھی کہ کانگریس کو نہ صرف اپنے مخالفین کے سامنے بلکہ اپنے ساتھیوں کے سامنے بھی کہیں بھی جھکنے اور کمزور پڑنا نہیں دیکھانا چاہئے اس کا کیا مطلب نکالا جائے؟ یہ کہ کانگریس کے ترجمان اب ٹی وی پر زیادہ زور زور سے بولتے نظر آئیں گے؟ یا وہ بچے دو سالوں میں اپنی سرکار اور اپنے ساتھیوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے گرتی ہے تو گر جائے۔ انہیں منانے کیلئے پارٹی ان کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گی؟ آج کانگریس سیاسی اور اقتصادی دونوں محاذ پر اندھی گلی میں کھڑی ہے۔زمینی لیڈر شپ کی کمی میں وہ تاش کے پتے پھینکنے کی طرز پر ریاستوں میں لیڈر شپ میں تبدیلی کرتی رہتی ہے اور اوپر سے تھونپے گئے ایسے لیڈر عام ورکروں اور لوگوں کی طرف دیکھنے کے بجائے دہلی دربار کی طرف دیکھنے کے عادی بن گئے ہیں۔ ایسی لیڈر شپ نہ تو لوگوں کا بھروسہ جیت سکتی ہے اور نہ ہی ورکروں میں نیا جوش پیدا کرسکتی ہے، جس کی کانگریس کو آج سخت ضرورت ہے۔ کانگریس لیڈر شپ اگر برنگ اشو پر صاف موقف اختیار کرنے سے کتراتی ہے تو ورکروں میں سرگرمی لانے کی اس کی کوشش کل ملا کر کاغذی قواعد ہی ثابت ہوگی۔
(انل نریندر)

حسنی مبارک کو ٹانگ دیا لیکن اب آگے کیا؟


مصر میں سب سے طویل مدت حکومت کرنے والے مصر کے ہیرو رہے محمد حسنی مبارک کو اب باقی زندگی سلاخوں کے پیچھے گزارنی ہوگی۔ دیش پر ڈکٹیٹری سے حکومت کرنے اور راجدھانی قاہرہ کے ایوان صدر میں 30 سال گزارنے کے بعد مبارک کو اپنی زندگی کا باقی حصہ جنوبی قاہرہ کی خطرناک تورا جیل میں کاٹنا ہوگا۔ اسلامی کٹر پسندوں نے 1981 ء میں صدر انور سعادات کو قتل کردیا تھا جس کے بعد مبارک نے اتھل پتھل کے درمیان عرب ملکوں میں سب سے اہم ملک کے سربراہ کے طور پر باگ ڈور سنبھالی تھی۔ اس اتھل پتھل کے سبب جنگ دہشت گردی اور مذہبی کٹر پسندی نے مغربی ایشیا کو زد میں لے لیا ہے۔ اپنے عہد کے دوران چھ بار حسنی مبارک کے قتل کی کوشش کی گئی اور وہ ہر بار بچ گئے۔ لیکن قاہرہ کی سڑکوں پر جب مظاہرہ ہوا تو انہیں اقتدار گنوانا پڑا۔ عرب انقلاب کے جوار بھاٹا میں مٹ جانے والوں میں مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کا نام بھی شامل ہوگیا ہے۔ لیبیا کے تاناشاہ معمر قذافی کو جہاں موت نصیب ہوئی وہیں مبارک عرب دنیا کے پہلے معزول صدر ہیں جنہیں عدالت نے سزا سنائی ہے۔ 10 مہینے طویل چلی سماعت کے بعد شہری عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا دی۔ مصر کی عوام اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہے۔ سڑکوں پرفیصلے کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ جنتا مبارک کو موت کی سزا سے زیادہ مطمئن ہوتی۔ اشو یہ نہیں کہ حسنی مبارک کو پھانسی کی سزا کیوں نہیں دی گئی بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا اب مصر واقعی فوجی تانا شاہی سے آزاد ہوسکے گا۔ جہاں اگلے صدر کا اگلے کچھ دنوں میں چناؤ ہونا ہے۔مبارک نے دیش کو اپنے ڈھنگ سے چلایا۔ وہ عام طور پر مغربی دیشوں خاص کر امریکہ کی لائن پر چلے۔ ان کے عہد میں اسلامی کٹر پسندی پر لگام لگی رہی۔ اب حالت دھماکوں بن گئی ہے۔ مسلم برادر ہڈ جیسی مسلم کٹر پسند تنظیم کا اقتدار میں آنے کا امکان ہے۔اقتدار کی لڑائی ا ب کٹر پسند مسلم برادر ہڈ اور حسنی مبارک کے قربیوں کے درمیان ہے۔ مبارک کے دونوں بیٹوں کو کرپشن کے الزامات سے بری کرنے اور انقلاب کی آواز اٹھانے والوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے سینئر سکیورٹی افسران کو سزا نہ ملنے پر بھی انہیں ہلکے سے نہیں لیا جاسکتا۔ ایک طرف مبارک کے وفادار احمد رفیق چناؤ جیت جانے کی صورت میں تاناشاہی کے دور سے دوبارہ نکلنے کا ڈر ہے تو مسلم برادر ہڈ کے اقتدار سے ہٹنے پر کٹر پسندی کی نئی لہر پیدا ہوسکتی ہے۔ دراصل عرب دنیا میں انقلاب کے بعد بھی ویسی تبدیلی نہیں آرہی ہے جیسا کے توقع کی گئی تھی۔تیونس سے شروع ہوئی بغاوت قاہرہ کے تحریر چوک پر ختم ہوگی اس کی گارنٹی نہیں ہے۔ مشرقی وسطی عدم استحکام کے دور میں شام میں خانہ جنگی کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ جمہوریت کے نام پر تاناشاہوں کو بٹھا دیا گیا ہے لیکن کیا آج تک کسی بھی عرب ملک میں جمہوریت صحیح معنوں میں قائم ہوسکی ہے؟ لیبیا سے لیکر یمن اور مصر تک فوجی ڈکٹیٹروں کو اقتدار پر قابض ہوتے اور کٹر پسندوں کے مبینہ احتجاج کے نام پر امریکہ سے حمایت اور مدد لیکر اپنی تاناشاہی چلاتے دیکھا جاسکتا ہے۔
(انل نریندر)

06 جون 2012

ضمانت دینے پر جج کو کروڑوں کی رشوت کا پیچیدہ معاملہ


دیش کیلئے یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ کرپشن سے اب ہماری عدلیہ بھی نہیں بچ سکی۔ بیشک ایک آدھ معاملہ ہی سامنے آیا ہے لیکن یہ اشارہ دیش کی صحت کیلئے اچھا نہیں مانا جاسکتا۔خصوصی سی بی آئی عدالت کے جج ٹی پٹامراماراؤ کو آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے رشوت خوری اورکرپشن کے الزام میں معطل کردیا ہے۔ راؤ نے معدنیات، کھدائی کاروباری جی جناردھن ریڈی کو ضمانت دی تھی۔ سی بی آئی نے ایک بینک لاکر سے قریب1 کروڑ80 لاکھ روپے ملنے کا دعوی کیا ہے۔ جس کی چابیاں ملزم جج راؤ کے بیٹے کے پاس تھیں۔ آندھرا ہائی کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سی بی آئی معاملوں کے فرسٹ ایڈیشنل سپیشل جج پٹا مراما راؤ کے خلاف ملی اطلاع پر غور کرنے کے بعد ہائی کورٹ نے مفاد عامہ میں انہیں معطل کردیا ہے۔ اسپیشل جج راؤ نے پچھلے مہینے ہی او ایم سی ناجائز کھدائی معاملے کے ملزم کرناٹک کے سابق وزیر جی جناردھن ریڈی کو ضمانت دی تھی جبکہ اس معاملے کے ایک دوسرے ملزم اور آئی اے ایس افسر وائی شری لکشمی کی ضمانت عرضی خارج کردی تھی۔حالانکہ سی بی آئی کی اپیل پر ہائی کورٹ نے ریڈی کو ضمانت دینے والے حکم کو 5 جون تک منسوخ کردیا تھا۔ رجسٹرار نے کہا کہ جج کے خلاف ملی اطلاع پر غور کرنے کے بعد ہائی کورٹ نے فیصلہ کیا کہ مفاد عامہ میں انہیں فوراً معطل کرنا ضروری ہے۔ حکم میں کہا گیا ہے اسپیشل جج پٹا مراماراؤ مجوزہ ڈسپلن شکنی کی کارروائی پوری نہ ہونے تک معطل رہیں گے۔ اس درمیان سی بی آئی نے حیدر آباد کے ایک بینک لاکر سے قریب1.80 کروڑ روپے ملنے کا دعوی کیا ہے۔ ایجنسی کو شبہ ہے کہ پیسہ ریڈی کا تھا اور ناجائز رشوت کے طور پر دیا گیا تھا۔ معاملے کو پھر چیف جسٹس کے سامنے رکھا گیا جنہوں نے راؤ کو معطل کرنے کا حکم دیا۔ ٹی ڈی پی چیف ایم چندرا نائیڈو اور کانگریس ایم پی چرن جیو سمیت پارٹی کے دیگر لیڈروں نے جج کو اثر میں لانے کی کوششوں کی خبروں پر حیرت ظاہر کی اور اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہوں کو روکنے کیلئے مناسب کارروائی کی مانگ کی تھی۔ 
مرکزی حکومت نے ہائی کورٹ میں ججوں کے برتاؤ کو لگام دینے والے جج پیمانہ و جواب دہی بل 2010 میں ترمیم کے اشارے دئے ہیں۔ بل میں ججوں کے خلاف شکایت کرنے اور انہیں ہلکی سزا دینے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ بل 29 مارچ کو لوک سبھا میں پاس ہوگیا جس کو راجیہ سبھا میں پیش کیا جانا ہے۔ سابق چیف جسٹس جے ایس ورما نے بار ایسوسی ایشن آف انڈیا کے ایک پروگرام میں بل پر سخت ناراضگی ظاہر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ جوابدہی سے خود کو بے عزت اور کمتر محسوس کررہے ہیں۔ سرکار کا اس طرح سے ججوں کے برتاؤ کو لگام دینا مناسب نہیں ہے۔ موجودہ نظام یعنی عدلیہ جانچ قانون 1968 میں کرپٹ ججوں کو لائی گئی تحریک ملامت کے ذریعے ہٹایا جاسکتا ہے۔ جوابدہی بل اس قانون کی جگہ لے گا کیونکہ معاملہ عدالتوں اور ججوں سے متعلق ہے ، ہم اس پر کسی طرح کی رائے زنی نہیں کرسکتے لیکن جج بھی دیش سے اوپر نہیں ہیں۔
(انل نریندر)

سچن تندولکر نے اپنی سیاسی پاری کا آغاز کیا


کرکٹ کے بھگوان کہے جانے والے سچن تندولکر نے اپنی سیاسی پاری کا آغاز کردیا ہے۔ سچن ماننئے ممبر پارلیمنٹ بن گئے ہیں۔ طویل عرصے سے سچن کا انتظار ہورہا تھا کہ وہ آ کر پارلیمنٹ کی ممبر شپ کا حلف لیں۔ لیکن آئی پی ایل کرکٹ میں مصروف ہونے کی وجہ سے سچن دہلی نہیں آ پارہے تھے۔ آخر کار انہوں نے حلف لینے کا وقت نکال ہی لیا۔ پیر کے روز سچن کے راجیہ سبھا چیئرمین حامد انصاری کے کیبن میں حلف لیتے ہوئے ان کے ساتھ ان کی اہلیہ انجلی بھی موجود تھیں۔حلف کے بعد سچن نے کہا فی الحال میں کرکٹ پر پوری توجہ دوں گا۔ ان سے یہ پوچھا گیا کیا وہ پارلیمنٹ کے لئے وقت نکال پائیں گے تو ان کا کہنا تھا میں نے کسی سے نہیں کہا تھا مجھے راجیہ سبھا کا ممبر بنا دیجئے۔ میں نامزد ممبر ہوں، یہ اعزاز ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں آج کرکٹ کے سبب ہی یہاں آیا ہوں۔ سچن نے یہ بھی کہا مجھے خوشی ہوگی کہ اگر میں ایک ایسے شخص کے طور پر جانا جاؤں جس نے کرکٹ کی جگہ باقی سبھی کھیلوں کے لئے بھی تعاون دیا ہے۔ ادھر انا ہزارے نے امید ظاہر کی سچن لوک پال بل پر حمایت دینے کے علاوہ کرپشن کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ سچن کو راجیہ سبھا میں لانے کے پیچھے کانگریس کی حکمت عملی شاید یہ رہی ہوگی کہ اس سے نوجوانوں کے درمیان یہ سیاسی پیغام جائے کہ کانگریس تندولکر جیسے کھلاڑیوں کو اعزاز دیکر پوری نوجوان پیڑھی سے کہنا چاہتی ہے کہ وہ آگے بڑھیں تو کانگریس اس کے لئے ہر پہل کرنے کو تیار ہے۔
ادھر تمام کرکٹ شائقین کے لئے ایک اور خوش آئین خبر ہے کہ آئی سی سی کرکٹ کمیٹی نے سفارش کی ہے ون ڈے اور ٹوئنٹی کے برابر ٹیسٹ میچ بھی رات کو ہی منعقد کئے جائیں۔ سفارش کے مطابق ٹیسٹ میچ دو ملکوں کی آپسی رضامندی پر ہوگا۔ کمیٹی نے ڈک ورت لوئس قانون کو سب سے عمدہ متبادل مانتے ہوئے اسے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ساتھ ہی کھیل کے دیگر میدانوں میں معمولی تبدیلی کی گئی ہیں۔ ون ڈے میچ میں ایک اوور میں شارٹ پچ گیند یعنی باؤنسر کی تعداد ایک سے بڑھ کر دو کی جارہی ہے۔ ایمپائر فیصلہ جائزہ سسٹم جوں کے توں رہے گی۔ ایک ایسا سینسر تیار کیا گیا ہے جو میچوں کے دوران پہنا جاسکتا ہے اور وہ بتائے گا کہ گیند پھینکنے کے دوران گیند باز کی کوہنی سیدھی ہوتی ہے یا نہیں؟ پاور پلے پہلے 10 اوور تک محدود رہے گا اور 5 اوور کا بلے بازی پاور پلے 40 ویں اوور تک پورا کرلے گا۔غیر پاور پلے والے اوور میں صرف چار کھلاڑیوں کو 30 گز کے گھیرے کے باہر رہنے کی اجازت ہوگی۔ ٹیسٹ میں زیادہ تر ڈرنکس بریک کے علاوہ ڈرنکس کو میدان میں لانے کی اجازت نہیں ہوگی ساتھ ہی ٹیمیں ریفرل میں بھی وقت برباد نہیں کرسکیں گی۔2014ء سے ہر ایک کو سال کے بعد 16 ٹیموں کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ منعقد کیا جائے گا۔ یہ جانکاری آئی سی سی کے جنرل منیجر( کرکٹ ڈیویڈ رچرڈ سن) نے دی۔ آئی سی سی نے بارش سے متاثرہ ون ڈے میچوں میں ونر کا تعین کرنے کے لئے لاگو ہونے والا ڈک ورتھ لوئس قاعدے کی جگہ ایک ہندوستانی انجینئر کے ذریعے تیار بی جے ڈی قاعدے پر غور کیا لیکن اس نے ڈک ورتھ لوئس کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ آئی آئی ٹی چنئی کے طالبعلم رہے وی جے دیون نے پچھلے 12 سالوں سے چل رہے ڈک ورتھ لوئس قانون میں کئی خامیاں اجاگر کرتے ہوئے ایک متبادل قاعدہ بنایا ہے لیکن آئی سی سی نے اسے فی الحال منظور نہیں کیا۔ سچن کو اپنی نئی پاری شروع کرنے پر بہت بہت مبارکباد۔
(انل نریندر)

05 جون 2012

اب تو اس حکومت کے وزیر بھی تیل کے داموں کیخلاف بولنے لگے ہیں


پیٹرول کی قیمتوں کا کھیل جس طرح سے ہورہا ہے اس کا رنگ پورا فلمی ہے۔ کیسے سرکار دام بڑھاتی ہے اور پھر کیسے کم کرتی ہے۔ 1984ء میں راجیش کھنہ کی ایک فلم ’آج کا ایم ایل اے ،رام اوتار‘ آئی تھی۔ اس فلم میں بھی کچھ ایسی ہی کہانی تھی۔ جب ایک کمپنی کے لوگ ایم ایل اے کے پاس پہنچتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اپنے پروڈکٹ کے دام دو روپے بڑھانا چاہتے ہیں لیکن ڈر ہے کہ جنتا بھڑک جائے گی۔ تب ایم ایل اے کہتا ہے کے دو روپے نہیں پانچ روپے بڑھاؤ ،جب جنتا ناراض ہوگی تو دو روپے کم کردیتا۔تین میں سے دو روپے تمہارا خسارہ پورا کردیں گے اور بچا ہوا ایک روپیہ ہمارا۔ ٹھیک یہ ہی حال اس سرکار کا ہے۔ عام آدمی کی زبردست ناراضگی اور سیاسی پارٹیوں کے چوطرفہ دباؤ میں بھلے ہی سرکاری تیل کمپنیوں میں پیٹرول کے دام میں دو روپے کی کٹوتی کردی ہو لیکن یہ راحت کافی نہیں ہے۔ پہلے 7.50 روپے فی لیٹر بڑھادد۔ پھر آنسو پوچھنے کے لئے ان میں سے2 روپے گھٹا دو۔ اب تو خود کانگریسی وزیر بھی داموں کو غلط بتا رہے ہیں۔ پیٹرول کی قیمت میں اضافے کی مخالفت کرنے والے مرکزی وزیر اے کے انٹونی کے ساتھ سنیچر کے روز ایک اور کیبنٹ وزیر کا نام جڑ گیا۔ پرواسی معاملوں کے وزیر ویالارروی نے پیٹرول کے داموں کو نامناسب قراردیتے ہوئے تیل کمپنیوں کے خسارے کے دعوے کو جھوٹا بتایا ۔ انہوں نے وزیر تیل جے پال ریڈی سے کہا مستقبل میں اور کسی اضافے کا فیصلہ لینے سے پہلے اس پر غور کریں۔ ریڈی کو لکھے خط میں تیل کمپنیوں کے ذریعے بھاری خسارہ ہونے کے دعوے پر سوال اٹھایا۔ ریڈی کو ان کے اس دعوے کی تفصیل سے چھان بین کرنے کی بھی صلاح دی۔ اس سے پہلے وزیر دفاع اے کے انٹونی نے قیمتوں میں اضافے کی نکتہ چینی کی تھی۔ روی نے خط میں لکھا ہے کہ تیل کمپنیاں ایک طرف تو خسارے میں چلنے کی بات کرتی ہیں وہیں دوسری طرف سچائی تو یہ ہے کہ تیل کمپنیوں کا خرچ و ان کی تنخواہ بھارت اور دیگر خرچوں والی کمپنیوں میں شامل ہیں۔ ایسا سمجھا جاتا ہے کہ تیل کمپنیاں پیسہ برباد کررہی ہیں۔ دراصل حالت یہ ہے کانگریس تنظیم اور ورکروں میں پیٹرول کی بے تحاشہ بڑھتی قیمتوں کو لیکر غصہ ہے۔ ان کے نشانے پر ہیں وزیر پیٹرول جے پال ریڈی۔ کانگریس کا ایک بڑا گروپ کہتا ہے کہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے سخت مخالف رہے جے پال ریڈی کو کانگریس کے سیاسی مستقبل کی پرواہ نہیں ہے۔ ان کانگریسی لیڈروں کا الزام ہے کہ جے پال ریڈی کا کانگریس سے کوئی لگاؤ نہیں ہے کیونکہ وہ پارٹی چھوڑ کر کانگریس مخالف خیمے کی پتوار تھام کر ہی سیاست میں یہاں تک پہنچے۔ کچھ کانگریسی دبی زبان سے یہ بھی کہتے ہیں کہ جے پال ریڈی ان دنوں زیادہ وقت نائب صدر کے عہدے کے لئے سیاسی لابنگ میں جٹے ہوئے ہیں۔ جے پال کی کوشش ہے کہ ان کی غیر کانگریسی پارٹیوں کے دوست اتفاق رائے بنا کر انہیں نائب صدر کے عہدے تک پہنچادیں۔ ناراض کانگریسیوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے پرجے پال اپنی لاچاری بتا کر سارا ٹھیکرا تیل کمپنیوں پر پھوڑ دیتے ہیں لیکن تیل کمپنیوں کے مینجمنٹ اور دیش کی تیل ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بطور وزیر پیٹرول انہوں نے خود کیا کیا؟ کانگریس کے ایک نیتا کا کہنا ہے جب تیل کمپنیوں کے مینجمنٹ میں سینئروں کی تقرریاں وزارت پیٹرول اور وزیر اعظم کے دفتر کے ذریعے کی جاتی ہیں تو کیسے سرکار تیل کمپنیوں کے کام کاج اور فیصلوں سے پلہ جھاڑ سکتی ہے۔ ریڈی یہ کہہ کر کیسے اپنی ذمہ داری سے بچ سکتے ہیں کہ قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ تیل کمپنیوں کا ہے اور وہ اس میں کچھ نہیں کرسکتے؟ ناراض کانگریسی ورکر کہتے ہیں کہ ریڈی کے بیان سے جنتا کا غصہ اور بڑھ جاتا ہے جس کی قیمت کانگریس کو آنے والے چناؤ میں چکانی پڑ سکتی ہے۔ کانگریس لیڈروں اور ورکروں کے اس طبقے کا خیال ہے کہ جے پال ریڈی کو نہ سرکار کی ساکھ کی فکر ہے اور نہ ہی کانگریس کے سیاسی مستقبل کی فکر۔ انہیں تشویش صرف اپنے مفادات کی ہے۔اس لئے جب وہ وزیر شہری ترقی تھے تب کامن ویلتھ کھیلوں کے لئے ہونے والے تعمیراتی کاموں میں اربوں روپے کے گھوٹالوں پر آنکھیں بند کئے بیٹھے رہے اور اب وزیر پیٹرول ہیں تو پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں جنتا کی کمر توڑ رہی ہیں اور کانگریس کا گراف تیزی سے گر رہا ہے۔ ایک سینئر کانگریسی لیڈر کا کہنا ہے کہ 1980 میں جب اندرا جی رائے بریلی اور میدھک دو جگہ سے لوک سبھا چناؤ لڑی تھیں ،تب جے پال ریڈی ان کے خلاف چناؤ لڑے تھے۔ اس دوران اگر ان کی تقریریں نکالی جائیں تو جے پال ریڈی کانگریس کے کتنے بھکت ہیں پتہ چل جائے گا۔ وشوناتھ پرتاپ سنگھ کی رہنمائی والی جنتا دل سرکار میں شامل ہوئے انہی جے پال ریڈی نے بوفورس معاملے میں راجیو اور سونیا گاندھی کے خلاف کیا کچھ نہیں بولا۔ کانگریس کو اپنے سچے وفاداروں کو پہچاننا چاہئے اور اپنے سیاسی مستقبل کی فکر کرنی چاہئے۔
(انل نریندر)

جب ممبر اسمبلی غیر محفوظ ہیں تو عام جنتا کا کیا ہوگا؟


دہلی کے شہریوں کااپنی سلامتی کو لیکر فکر مند ہونافطری ہے۔ کیونکہ یہاں تو ممبر اسمبلی تک اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ دہلی کے ممبر اسمبلی اپنی سلامتی کی درخواست اسمبلی میں باقاعدہ لگا رہے ہیں۔ نریلا سے ممبر اسمبلی جسونت سنگھ رانا کے بیٹے کی 50 لاکھ روپے کے زرفدیہ کا فون ملا ہے تو شعیب اقبال نے گولی چلنے اور حملے کی شکایت دے رکھی ہے۔ ابھی ان معاملوں میں اسمبلی میں بحث چل رہی تھی کہ خبر آئی کہ نجف گڑھ سے راشٹریہ لوک دل کے ایم ایل اے بھرت سنگھ (37 سال) کو سنیچر کی صبح آدھا درجن حملہ آوروں نے ان کے دفتر میں گھس کر گولیاں چلائیں۔ ایم ایل اے صاحب کو تین گولیاں ایک بازو پر دو پیٹ پر لگی ہیں۔حملے میں ایک گولی بھرت سنگھ کے ماما دھرم پال کو بھی لگی ہے۔ دونوں کی حالت فی الحال خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ ادھر جسونت سنگھ رانا نے اسمبلی میں کہا کہ25 مئی کو نامزد شکایت کئے جانے کے باوجود ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ شعیب اقبال نے کہا کہ کئی دیگر ممبران اسمبلی کے ساتھ بھی واردات ہوچکی ہے۔ ممبران نے ایوان میں ایک آواز سے کہا کہ یوپی ،ہریانہ، پنجاب اور دیگر ریاستوں کی طرز پر دہلی کے ممبران اسمبلی کوبھی سکیورٹی ملنی چاہئے۔ تروندر سنگھ ماروا نے کہا جس طرح جسونت سنگھ رانا کو دھمکی دی گئی ہے اس سے پورا خاندان ڈرا ہوا ہے۔ وزیر اعلی تو گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ چلتی ہیں، ہمارا کیا ہوگا؟ یہ ہی بات شعیب اقبال نے کہی تھی۔ جمعرات کی رات بدمعاشوں نے ان کی گاڑی پر گولیاں چلائیں، پتھراؤ کیا۔ اگر سکیورٹی نہیں ملتی ہے اور کچھ ہوجاتا تو ذمہ داری وزیر اعلی، لیفٹیننٹ گورنر یا پولیس کمشنر کی ہوگی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ممبر اسمبلی نے ملاقات کرکے جانکاری دی ہے لیکن تحریری شکایت نہیں کی۔ جسونت رانا نے فون کرکے پھروتی مانگنے والے کا نام نیرج بتایا ہے۔ بوانا انڈسٹریل ایریا میں اس کا گروہ وصولی کرتا ہے۔ بوانا کے ممبر اسمبلی سریندر کمار کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں کی حالت اور زیادہ خراب ہے۔ اسمبلی کے اسپیکرکی ہدایت پر پولیس کمشنر کو طلب کیا گیا۔ وزیر اعلی شیلادیکشت نے کہا کہ رانا معاملے میں پولیس کمشنر سے بات چیت ہوئی ہے۔ بہت سی باتیں ایسی ہیں جو ایوان میں نہیں بتائی جاسکتیں۔ ممبران کی سلامتی ترجیح ہے۔ پولیس کارروائی کررہی ہے، جلد سب کچھ سامنے آجائے گا۔ ممبران کی سلامتی ضروری ہے لیکن ہرممبر اسمبلی کو پرائیویٹ سکیورٹی نہیں دی جاسکتی۔ پہلے ہی سے پولیس کی بہت زیادہ فورس وی آئی پی ڈیوٹی پر لگی ہوئی ہے۔ پبلک سکیورٹی بھی ضروری ہے۔ یہ صحیح نہیں کہ مٹھی بھر وی آئی پی کی سکیورٹی جنتا کی قیمت پر کی جائے۔ ضروری یہ ہے کہ دہلی کے امن و نظم کو اور مضبوط کیا جائے اور کچھ جنتا کے نمائندوں کے سماج دشمن عناصر سے گہرے رشتے ہیں اور چناؤ کے وقت ان کا یہ استعمال بھی کرتے ہیں۔ پولیس جانچ سے پتہ چلے گا کہ ممبران اسمبلی کی شکایت میں کتنی سچائی ہے لیکن تشویش کا موضوع یہ ہے کہ جب دہلی کے چنے ہوئے نمائندے اپنے آپ کو محفوظ محسوس نہیں کرتے تو عام جنتا کتنی محفوظ ہوگی؟
(انل نریندر)

03 جون 2012

ماہر معاشیات کا 9 سالہ اقتصادی ریکارڈ


جانے مانے ماہر معاشیات وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو وزیر اعظم بنے9 سال پورے ہوچکے ہیں۔ان 9 برسوں میں ان کی اقتصادی پالیسیوں، اقتصادی اصلاحات کی بڑی تعریف ہوتی رہی ہے اور کہا گیا کہ بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے ابھرتی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ ساری دنیا میں بھارت کی واہ وا ہ ہونے لگی جبکہ اعدادو شمار کچھ اور ہی کہانی بیاں کررہے ہیں۔ تازہ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ مالی سال 2011-12 ء کی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی ترقی شرح 6فیصد سے نیچے رہی ہے۔ ان 9سالوں میں یہ دیش کی سب سے کم اقتصادی ترقی شرح ہے۔ سرکار کی ناکامی سے بدحال ہوئی معیشت صاف اشارہ دے رہی ہے کہ چالو مالی سال 2012-13ء میں ترقی کی رفتار اور گھٹ جائے گی۔ حکومت کے تازہ اعدادو شمار کے مطابق سہ ماہی (جنوری تا مارچ)جی ڈی پی کی شرح گھٹ کر 5.3 فیصد پر آگئی ہے۔ گذشتہ برس کی سہ ماہی میں یہ شرح 6.1 فیصدی تھی۔ ترقی گھٹنے کے پیچھے ویسے تو بھاری بھرکم سبسڈی، پنشن اور خوردہ میں ایف ڈی آئی جیسے اٹکے پڑے بل ، صنعتی سیکٹر کی بدحالی اور تلہٹی پر پہنچا روپیہ، سپلائی کے مورچے پر بدحالی اور رکی ہوئی غیر ملکی سرمایہ کاری جیسی کئی وجوہات ہیں لیکن ذراعت اور پیدا وار سیکٹر کی خراب حالت اور ہماری معیشت کے لئے سب سے تشویشناک ہے۔ تیزی سے اقتصادی ترقی شرح کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ مینوفیکچرنگ ، زراعت اور کھدائی سیکٹر کی حالت ثابت ہورہی ہے۔ دیش کی معیشت میں تقریباً40فیصدی حصے داری رکھنے والے سیکٹروں کی خستہ حالی عام جنتا کے مفادات سے سیدھے طور پر جڑی ہے۔ جی ڈی پی پر سرکار کے اعدادو شمار سے واضح ہوتا ہے کہ ان تینوں سیکٹروں میں اس مالی سال کے دوران بد سے بدتر ہوتی گئی ہے۔مینوفیکچرنگ سیکٹر میں مانا جارہا تھا کہ زراعت سیکٹر کی بہتر کارکردگی، صنعتی سیکٹر کی بد حالی کو شاید روک دے گی۔ لیکن چوتھی سہ ماہی میں ذراعت سیکٹر کی شرح گھٹ کر1.7 فیصدی رہ گئی ہے جو2010-11ء کی سہ ماہی میں 7.5 فیصدی تھی۔ جس مینوفیکچرنگ سیکٹر کے دمدار مظاہرے کے سبب ہماری معیشت کی شرح ترقی دوہرے نمبروں کے نزدیک پہنچی تھی اسی مینوفیکچرنگ سیکٹر کی زرعی شرح چوتھی سہ ماہی میں منفی رہ گئی۔ اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں پہلی کے ہم نے اس کے بجائے اس سروس سیکٹر کو زیادہ اہمیت دینی شروع کردی جو فی الحال چلے ایک بوڑھی گائے کی طرح لگے لیکن اس کے اکیلے بوتے پر ہم مضبوط معیشت نہیں بن سکتے۔ دوسرے چین سے برآمدات نے بھی ہمارے مینوفیکچرنگ سیکٹر پر برا اثر ڈالا ہے اس سے روزگار پر بھی منفی اثر پڑا ہے کیونکہ بڑھی تیل قیمتوں کے سبب مہنگائی کا دور ابھی بنا رہے گا۔ ایسے میں معاشی ترقی شرح میں اضافے کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔ جس طرح سے یہ یو پی اے سرکار اور اس کے سربراہ چل رہے ہیں اس سے تو ہمیں بھارت کی معیشت سدھرنے کے امکان کم ہی نظر آتے ہیں۔ اقتصادی مندی کے دور کی تو یہ شروعات ہے آگے دیکھتے رہئے کیا کیا ہوتا ہے۔
(انل نریندر)

بھرمیشور کے قتل سے کہیں پھر سے تشدد کاآغاز نہ ہوجائے


جب سے بہار میں نتیش کمار نے اقتدار سنبھالا ہے تب سے ریاست میں کوئی تشدد کا بڑا واقعہ نہیں ہوا تھا۔ اس سے لگنے لگاتھا کہ کبھی تشدد کے لئے بدنام بہار میں اس کا دور ختم ہوگیا ہے لیکن جمعہ کو ایک نیا طوفان آگیا۔ خطرناک جاتیے گروپ رنویر سینا کے بانی بھرمیشور سنگھ عرف مکھیا کو بڑے سنسنی خیز طریقے سے مار ڈالا گیا۔ وہ آرا میں اپنے گھر سے صبح کی سیر پر نکلے ہی تھے کہ موٹر سائیکل سے آئے نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر گولیاں برسانی شروع کردیں۔ تقریباً 40 گولیوں سے بھرمیشور کو چھلنی کردیا گیا۔ 1990ء کے دور میں جب نکسلیوں کا خوف تھا تو اس سے نمٹنے کیلئے انتہا رنویر سینا کے چیف بھرمیشور سنگھ کے ساتھ مل گئے اور ایک تنظیم بنائی۔اس کا نام تھا رنویر سینا۔ اس پر کئی قتل عام کے الزامات ہیں۔ ان میں لکشمن پور باتھے ،سیاں پور اور بکانی ٹولہ کے بدنام قتل عام کے واقعات شامل ہیں۔ 1994ء سے لیکر2000ء کے درمیانقریب 250 لوگوں کے قتل کے 26 معاملوں کے بنیادی ملزم بھرمیشور عرف مکھیا کو ثبوتوں کی کمی کے چلتے جولائی 2011ء میں عدالت نے ضمانت دے دی تھی وہ ایک دور میں خوف کی علامت بن گئے تھے۔ انہیں قتل کے16 معاملوں میں بری کیا گیا تھا اور پھر 6 معاملوں میں ضمانت پر تھے۔9سال تک جیل میں رہنے کے بعد پچھلے کچھ مہینوں میں وہ باہر آئے تھے، ان کی تیاری چناوی سیاست میں کودنے کی تھی۔ ان کے قتل کے بعد ان کے حمایتیوں میں غصہ بھڑک گیا ہے۔ پہلے انہوں نے بی ڈی او کے دفتر کو نشانہ بنایا ،پھر جم کر توڑ پھوڑ کی اور آگ لگادی۔ اس کے بعد قریب ایک ہزار لوگوں کے ہجوم نے سرکٹ ہاؤس پر دھاوا بول دیا اور جاتے جاتے اس میں آگ لگادی۔ پوری ریاست میں ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ بھاگلپور ضلع میں سیوا ریاترا میں مصروف وزیر اعلی نتیش کمار کا کہنا ہے کہ قتلوں کو پکڑا جائے گا اور انہیں سزا مل کر رہے گی۔انہیں ڈر ہے کہ کہیں پھر سے بہار میں جاتی وادی تشدد نہ بھڑک پڑے۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں میں قتل کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی دوڑ شروع ہوگئی ہے۔ بہار کا بنیادی مسئلہ زمین کی ملکیت سے وابستہ ہے۔ طویل عرصے تک زمین اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے مختلف ذاتوں کے درمیان احتجاج اور ٹکراؤ تیز ہوتا گیا۔ بہار میں اس حد تک صنعتی کرن ہوا اور نہ ہی سبز انقلاب جیسی تبدیلی آئی جو اقتصادی اور ذات پات پر مبنی رشتوں کو بدلتی۔ ایسے ٹھہراؤ کے دور میں غریب اور بے زمین دلتوں کے درمیان نکسلیوں کا اثر بڑھتا گیا جنہوں نے اقتصادی اور سماجی بہتری کی ان کی توقعات کی تکمیل کے لئے تشدد کا راستہ اپنایا اور اسکے رد عمل میں سبھی برادریوں نے اپنی سینائیں بنا ڈالیں۔ منڈل واد کے دور میں بدلی ہوئی سیاست سے بھی زمین سے جڑے اقتصادی رشتوں کو شخصی طور سے ٹھیک نہ کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اس کی تبدیلی اور بدامنی پرتشدد طریقے سے ہوئی۔ بھرمیشور جیسے لیڈر ایسے میں سبھی برادریوں کے لئے ایک نائک بن گئے تھے۔وزیر اعلی نتیش کمار کے لئے یہ ایک بڑی چنوتی ہے کہ رد عمل کے طور پر پھر سے بہار میں جاتیے سنگھرش کو ہرحالت میں روکنا ہوگا۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...