Translater

29 اگست 2024

کسان آندولن میں ریپ ہورہے تھے لاشیں ٹانگ رہے تھے!

یہ کہنا ہے بڑ بولی ہماچل پردیش کے منڈی علاقہ سے بھاجپا ایم پی اور فلمی ایکٹریس سے بنی سیاستداں کنگنا رناوت کا تھا اس بیان پر تنازعہ تو چھڑنا ہی تھا ۔بات کچھ ایسی کہہ دی کنگنا جی نے ۔دراصل ممبئی میں دینک بھاسکر کو دئیے ایک انٹر ویو میں کنگنا نے کسان اندولن پر کئی الزام لگائے اور کہا کہ آندولن کے دوران بلواہوا وہاں بدفعلی اور قتل بھی ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ہماری سینئر لیڈر شپ مضبوط نہیں رہتی تو کسان آندولن کے دوران پنجاب کو بھی بنگلہ دیش بنا دیا جاتا ۔یہاں کسان آندولن کے دوران کیا ہوا وہ سب نے دیکھا کیسے احتجاج کے نام پر تشدد برپا کیاگیا۔وہاں ریپ ہو رہے تھے مار کر لوگوں کو لٹکایا جارہا تھا ۔جب اس بل کو واپس لے لیا گیا تو یہ بلوائی چونک گئے کیوں کہ ان کی پلاننگ تو بہت لمبی تھی ۔ان پر وقت رہتے کنٹرول کر لیا گیا ۔ورنہ کچھ بھی ہو سکتاتھا ۔دراصل ان لوگوں کو کچھ جانکاری ہی نہیں ہے یہ فلم انڈسٹری والے بس اپنی دھن میں سوار رہتے ہیں ۔صبح سے میک اپ کرکے بیٹھ جاتے ہیں دیش دنیا میں کیا ہورہا ہے اس سے ان کو کوئی مطلب نہیں ۔ان کو لگتا ہے کام اپنا چلتا رہے دیش جائے بھاڑ میں ،یہ بھول جاتے ہیں کہ دیش کو کچھ ہوا تو انہیں بھی نقصان پہنچے گا ۔آپ ہر وقت بے خوف ہو کر بولتی ہیں اس سے نقصان نہیں کیا ؟ جواب دیکھئے میرے رشتہ دار بہت سادہ زندگی بسر کرتے ہیں انہیں کسی طرح کا لالچ نہیں ہے وہ تو بلکہ خوش ہیں کہ اب میں آبائی وطن منڈی سے میں زیادہ سے زیادہ قت گزار رہی ہوں ۔اس کے علاوہ کچھ خیر خواہ ضرور ایسا کہتے ہیں کہ آپ کو ہر چیز میں فائٹ نہیں کرنا چاہیے ۔ان کی بات کچھ حد تک صحیح بھی ہے ۔میں اب ہر چیز میں اکیلے تو نہیں لڑ پاو¿ں گی ۔آپ میںخود اندرا جی کی کچھ یکسانیت دیکھ پاتی ہیں؟ اس پر ایمرجنسی والے چیپٹر کو اگر بھول جائیں تو ان کی شخصیت کی ایک خاصیت تھی کہ وہ اپنے دیش سے بہت پیار کرتی تھیں وہ سچ میں کچھ بدلاو¿ بھی چاہتی تھیں ۔آ ج کے نیتاو¿ں میں اقتدار کی بھوک تو ہے لیکن انہیں دیش سے پریم نہیں ہے ۔اندرا جی کی خراب لگنے والی بات یہ ہے کہ وہ خود کی فیملی کو ہی آگے بڑھانا چاہتی تھیں جو صحیح نہیں ۔کنگارناوت پتہ نہیں بھاجپا کے لئے اثر دار ہیں یا ایک لائیو لٹی ہیں ۔ایسے وقت جب ہریانہ اسمبلی چناو¿ سر پر ہیں آپ کسانوں کے خلاف اس طرح کا بیہودہ بیان دے رہی ہیں ؟ کنگنا ایم پی ہیں ذمہ داری و عقل سے بولنا چاہیے کبھی کہتی ہیں بھارت 2014 میں آزاد ہوا تھا تو کبھی کہتی ہیں کہ دیش کا پہلا پردھان منتری سبھاش چندر بوس تھے ۔پہلے سے پریشان کسانوں کے زخموں پر نمک نہ ڈالیں ۔آندولن اس لئے ہے کہ سرکار اپنے وعدوں پر کھری نہیں اتری ۔کنگنا کس کے اشارے پر بول رہی ہیں ۔بھاجپا کو اس پر صفائی دینی چاہیے ۔ایس جی پی سی نے مانگ کی ہے کنگنا پر ایف آئی آر درج ہو ۔فلم ایمرجنسیکے ذریعے سکھوں کے مذہبی جذبات بھڑکانے کا کیس درج کرنا چاہیے ۔ٹیلر سے صاف ہے کہ اس میں جان بوجھ کر سکھوں کے کردار کو دہشت گردی کی شکل میں پیش کیا گیا ہے ۔ہرجندر سنگھ فارما،صدر شرومنی گورودوارنہ پربندھک کمیٹی ۔ (انل نریندر)

اور اب آسام میں گینگ ریپ!

ریپ کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔روزمرہ کہیں نا کہیں بدفعلی کی خبر آتی رہتی ہیں۔پتہ نہیں ہمارے دیش واسیوں کو کیا ہو گیا ہے؟ ابھی کولکاتہ کے بدلا پور معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا کہ اب آسام سے گینگ ریپ ہونے کی خبر آئی ہے ۔آسام کے نوانگ ضلع کا چھینگ علاقہ اس وقت سرخیوں میں آیا جب 2018 میں اس چھوٹے سے شہر میں رہنے والی ہندوستانی مادک ہما داس نے آئی اے اے ایف ورلڈ انڈر 20 ایتھلیکٹک چمپئن شپ کی 400 میٹر کی دوڑ میں گولڈ میڈل جیتا تھا وہ اس ریکارڈ کو حاصل کرنے والی پہلی خاتون تھیں لیکن گزشتہ دو دن سے چھینگ کی مہیلائیں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ اجتماعی آبرو ریزی کے سبب غصہ اور آگ بگولہ سڑکوں پر اتر آئی ہیں ۔ان خواتین کے ہاتھ میں تختیاں تھیں جن پر لکھا تھا ہمیں انصاف چاہیے خواتین کو سرکشا دو اور آبرو ریزی کرنے والوں کو مارڈالو ۔ان نعرون نے جیسے ان کے اندر مانو ایک بہادری جگہ دی ہو جو اپنے سمان کی سرکشا کے لئے کسی سے بھی لڑ جائیں گی ۔اس واردات کو لے کر ریاست کے مختلف شہروں میں متاثرہ کو انصاف دلانے کی مانگ پر لوگ احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں ۔تھانہ میں د رج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق مبینہ طور پر اجتماعی آبروریزی کا یہ واقعہ 20 اگست بدھوار کی شام قریب 6.30 بجے کا ہے ۔اسکول میں زیر تعلیم متاثرہ بدھوار کی شام جب ٹیوشن سے پڑھ کر اپنی سائیکل سے گھر لوٹ رہی تھی اسی دوران ایک سنسان راستے کے پاس تین لڑکوں نے اس پر حملہ کر دیا ۔بعد میں ا نہوں نے اس کے ساتھ مبینہ طور پر آبروریزی کی ۔پولیس کے مطابق تینوں ملزم واردات کے بعد لڑکی کو نیم بے ہوشی میں چھوڑ بھاگے ۔مقامی لوگوں نے متاثرہ کو ہسپتال پہنچایا ۔اس کو نوگاو¿ں میڈیکل کالج ہاسپٹل میں بھرتی کرایا گیا ۔اس درمیان اجتماعی آبروریزی کے واقعہ میں گرفتار ہوئے ایک ملزم کی سنیچر کی رات پولیس حراست میں موت ہو گئی ۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم کو سنیچر کی صبح سین کریئیٹ کرنے کے لئے آبروریزی کی جگہ لے جایا گیا تھا ۔جہاں اس نے مبینہ طور پر بھاگنے کی کوشش کی اس کوشش میں وہ پاس کے ایک تالاب میں گر گیا جس کے سبب موت ہو گئی ۔24 سالہ اس ملزم کو نام تفضل اسلام بتایا گیا ہے ۔ملزم نابالغ لڑکی کے ساتھ مبینہ آبروریزی کے تین ملزمان میں سے ایک تھا جس وقت اس کی لاش تالاب سے نکالی گئی تو اس کے دونوں ہاتھ ہتھکڑی سے بندھے ہوئے تھے ۔متاثرہ کے گھر والے چاہتے ہیں پولیس باقی کے دو ملزمان کو بھی پکڑے تاکہ انہیں سزا مل سکے ۔وہیں اس واردات میں تفضل اسلام کے گھر والوں نے پولیس حراست میں ہوئی موت کو لے کر سوال کھڑے کئے ہیں ۔حالانکہ اس درمیان ملزم کے گاو¿ں والوں نے اعلان کیا ہے کہ دو ملزم کے خاندان کا سماجی وائیکاٹ کریں گے اس مبینہ آبرو ریزی کے واقعہ کے بعد آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے کہا جن جرائم پیشہ نے لڑکی کے ساتھ گھناو¿نا جرم کرنے کی ہمت کی انہیں قانون نہیں چھوڑے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا پچھلے لوک سبھا چناو¿ کے بعد آسام میں اس طرح کے 22 واقعات ہوئے ہیں ۔لوک سبھاچناو¿ کے بعد کچھ گھناو¿نی ذہنیت کے لوگ ایسی وارادت کے لئے حوصلہ افزائی کررہے ہیں ۔وزیراعلیٰ نے آگے کہا جن علاقوں میں ہمارے ملکی کھلاڑیوں (لوگ اقلیت میں آئے ہیں )وہاں ہمارے لوگوں کو ا س طرح کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ہمارے ملکی لوگ بنگالی مارواڑیوں ،ہندی زبان بولنے کی چنتا رہتی ہے کہ ہمارے دوست کون ہیں اور دشمن کون ؟ (انل نریندر)

27 اگست 2024

........اور اس بار پیپر لیک نہیں ہوا

اتر پردیش پولیس میں کانسٹیبل کی نوکری کے لیے امتحان 23 اگست سے شروع ہو گیا ہے۔ پولیس کانسٹیبل کی بھرتی کے لیے یہ امتحان 23، 24، 25، 30 اور 31 اگست تک چلے گا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یوپی پولیس میں 60 ہزار 244 آسامیوں کے لیے منعقد ہونے والے اس امتحان میں 6 لاکھ سے زیادہ امیدواروں نے شرکت کی ہے۔ امتحان کے لیے 67 اضلاع میں 1174 مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ یہ امتحان اس سال فروری میں ہوا تھا لیکن سوالیہ پرچہ لیک ہونے کی وجہ سے امتحان منسوخ کرنا پڑا۔ ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے، یوپی کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) پرشانت کمار نے کہا کہ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ امتحان میں کوئی بے ضابطگی نہ ہو۔ اس کے لیے چھوٹے پہلوو¿ں پر توجہ دی گئی ہے۔ نہ صرف امتحانی مرکز بلکہ راستوں کی بھی نگرانی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ یوپی پولیس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ریاست کے مختلف مقامات کی پولیس نے انتظامات کے بارے میں جانکاری دی اور تیاریوں کے بارے میں بتایا۔ ساتھ ہی، یوپی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی شخص پیپر لیک کرنے کی کوشش کرتا پایا گیا تو اس شخص کے خلاف نئے قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی، جس میں ایک کروڑ روپے تک کا جرمانہ اور عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ . پیپر لیک کو روکنے کے لیے یوگی حکومت نے اتر پردیش پبلک ایگزامینیشن (پریوینشن آف غیر منصفانہ) آرڈیننس 2024 لایا تھا۔ اس کے تحت امتحان میں غیر منصفانہ ذرائع کا استعمال، نقل کرنا یا نقل کرنا اور سوالیہ پرچوں کو لیک کرنا جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ حکومت نے پیپر لیک کو روکنے کے لیے بہت سی تبدیلیاں بھی کی ہیں۔ امتحان میں شرکت کرنے والوں کے لیے مفت بس سروس کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ تاہم اس کے لیے امیدوار کو اپنا ایڈمٹ کارڈ دکھانا ہوگا۔ امتحانی مرکز میں سی سی ٹی وی مانیٹرنگ اور پولیس کی تعیناتی کے علاوہ پیپر لیک ہونے سے بچنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ امیدوار کی KYC تصدیق امتحانی مرکز میں کی جائے گی۔ امیدوار کا بائیو میٹرکس لیا جائے گا اور آدھار کارڈ کے ذریعے شناخت کی تصدیق کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ایس ٹی ایف کو بھی الرٹ رہنے کو کہا گیا ہے۔ امتحانی مرکز کی نگرانی کی ذمہ داری سیکٹر مجسٹریٹ کو دی گئی ہے۔ سوالیہ پرچے ٹریڑری آفس سے سیکٹر مجسٹریٹ کی نگرانی میں پولیس کی حفاظت میں سنٹر تک لائے جائیں گے۔ درحقیقت، یوپی میں اس سال فروری میں ہوئے پولس بھرتی امتحان کے پرچے کے لیک ہونے کے الزامات کے بعد، ریاست کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے اس امتحان کو منسوخ کر دیا اور اسے چھ ماہ کے اندر منعقد کر دیا۔امتحان کے انعقاد کی بات ہوئی۔ اکھلیش یادو اور مایاوتی نے بھی پیپر لیک واقعہ کو لے کر حکومت پر سخت نکتہ چینی کی تھی۔ ابھی تک پیپر لیک ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ اگر لیکس پر قابو پایا جا سکتا ہے تو ملک کی دیگر ریاستوں کو بھی یوپی حکومت سے سبق لینا چاہیے۔ انل نریندر

جموں و کشمیر میں دس سال بعد انتخابات

جموں و کشمیر میں آخری اسمبلی انتخابات 2014 میں ہوئے تھے۔ 2014 اور 2024 کے درمیان یہاں بہت کچھ بدل گیا ہے۔ یہاں 20 دسمبر 2018 سے صدر راج نافذ ہے۔ 2019 میں آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد یہاں پہلی بار اسمبلی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ 2014 کے اسمبلی انتخابات میں 87 سیٹیں تھیں جن میں سے 4 لداخ سے تھیں۔ اب لداخ کی سیٹیں کم کر کے 90 کر دی گئی ہیں، کیونکہ لداخ ایک الگ مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہے۔ ان 90 میں سے 43 جموں ڈویڑن اور 47 کشمیر ڈویڑن سے ہیں۔ ان میں سے 7 سیٹیں ایس سی اور 9 سیٹیں ایس ٹی کے لیے ریزرو ہیں۔ حلقہ بندی کے بعد جن 7 اسمبلی سیٹوں میں اضافہ ہوا ہے ان میں سے 6 جموں اور ایک کشمیر میں ہے۔ جمعرات کی شام کانگریس لیڈر راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے نامہ نگاروں سے کہا، انشائ اللہ، کانگریس کے ساتھ ہمارا اتحاد اچھا رہے گا۔ ہم صحیح راستے پر ہیں۔ اس قبل از انتخابات اتحاد کا اعلان راہول گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن نے اپنے دورہ کشمیر کے دوران کیا تھا۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی تمام (90) سیٹوں پر پری پول الائنس تشکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) اس اتحاد میں شامل ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کے رہنما یوسف تاریگامی نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ہم بھاری اکثریت سے انتخابات جیت کر عام لوگوں کی زندگیوں کو آسان بنائیں گے۔ جموں و کشمیر کے لوگوں کو 2019 سے جس صورتحال کا سامنا ہے۔ اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ آج جموں و کشمیر بھی بہت پریشان ہے، وعدہ کیا گیا تھا کہ ریاست کا درجہ واپس کیا جائے گا، لیکن ابھی تک وفا نہیں ہوا۔ حلقہ بندیوں کے بعد بھی الیکشن نہیں کرائے گئے۔ ہماری کوشش ہے کہ سیکولر حکومت بنائی جائے اور لوگ بھی یہی چاہتے ہیں۔ اسی دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے انہیں کانگریس اور نیشنل کانفرنس اتحاد پر گھیر لیا۔ انہوں نے ٹویٹ کیا، آرٹیکل 370 اور 35A کو ہٹانے کے بعد مودی حکومت نے دلتوں، قبائلیوں، پہاڑیوں اور پسماندہ طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک کو ختم کیا ہے اور انہیں ریزرویشن فراہم کرنے کا کام کیا ہے۔ کیا راہل گاندھی جے کے این سی کے منشور میں مذکور دلتوں، گجروں، بکروالوں اور پہاڑیوں کے لیے ریزرویشن ختم کرنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں؟ نیشنل کانفرنس کے ساتھ اتحاد کرنے کے بعد کانگریس پارٹی اور راہل گاندھی کو ملک کے سامنے اپنی ریزرویشن پالیسی واضح کرنی چاہیے۔ کشمیر کے ایک سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار کا خیال ہے کہ اس بار اتحاد کانگریس نیشنل کانفرنس کے ساتھ کیا گیا ہے۔ یہ ایک دانستہ اقدام ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس اتحاد میں جموں میں مسلم ووٹوں میں اضافے کا امکان کم ہو جائے۔ دوسری بات یہ کہ اس اتحاد سے بی جے پی کے چیلنجز بڑھ گئے ہیں۔ اس اتحاد نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو خاص طور پر وادی کشمیر میں یہ پیغام بھی دیا ہے کہ دو بڑی سیاسی جماعتیں بی جے پی کے خلاف کھڑی ہو گئی ہیں۔ وادی میں بی جے پی کا حال ایسا ہی ہے۔ حالیہ لوک سبھا انتخابات میں پارٹی اپنا امیدوار بھی کھڑا نہیں کر سکی۔ بی جے پی کا زور جموں ڈویڑن میں زیادہ ہے جہاں ان کا ووٹ بینک محفوظ ہے۔ تاہم، اس بار بی جے پی وادی میں بھی اتحاد بنا کر کچھ امیدوار اتار سکتی ہے۔ انل نریندر

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...