Translater
26 جولائی 2025
استعفیٰ سے اٹھے درجنوں سوال!
پیر کی رات اچانک سیاسی دھماکہ ہو گیا ۔نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اس نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی حالانکہ صحت کے اسباب کا حوالہ دیتے ہوئے استعفیٰ کی وجہ بتائی گئی ہے ۔ان کے استعفیٰ سے اپوزیشن بھی حیران تھی ۔اس سے قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہو گیا ۔ایسا نہیں کہ بھارت کی پارلیمانی تاریخ میں پہلے کسی نائب صدر نے عہدے سے استعفیٰ نہ دیا ہو۔جیسے شری وی وی گری ،وینکٹ رمن نے بھی استعفیٰ دیا تھا لیکن مرضی سے دیا تھا۔ڈاکٹر شنکر دیال شرما نے بھی عہدے سے استعفیٰ دیا تھالیکن وہ سب مرضی سے صدر بننے کے لئے دیے گئے تھے ۔شری دھنکھڑ سے تو لگتا ہے کہ استعفیٰ زبردستی لیا گیا ۔انہوںنے اپنے استعفیٰ کا سبب خرابی صحت بتایا لیکن یہ بات کسی کے گلے نہیں اتر رہی ہے ۔مانسون سیشن کے پہلے دن انہوں نے پورے دن راجیہ سبھا کی کاروائی چلائی ۔کہیں بھی یہ نظر نہیں آرہا تھا کہ وہ اتنے بیمار ہیں کہ ایوان کو نہیںچلا سکتے ۔ان کے استعفیٰ کے پیچھے کئی طرح کے تجزیہ ہو رہے ہیں ۔میڈیا میں ان کے استعفیٰ کے پیچھے تبصرے چل رہے ہیں میں اس آرٹیکل میں کچھ اہم اخبارات کے اداریوں میں تجزیوںکا تذکرہ کررہا ہوں اس سے قارئین کو کچھ سمجھ میں آجائے گا امید کرتا ہوں بڑے اخباروں نے بھی استعفیٰ کی اصلی وجہ ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے ۔اس اچانک اٹھائے گئے قدم کے پیچھے زیادہ تر تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے جج یشونت ورما کے یہاں مبینہ نقدی برآمدگی کے چلتے مہا ابھیوگ پرستاو¿ لانے کو لے کر دو الگ الگ دستخطی مہم کی شروعات ہوئی ۔مانسون سیشن کی شروعات سے پہلے پہلے ہی سرکار نے صاف کردیا گیا تھا کہ وہ جسٹس ورما کو ہٹانے کے لئے پرستاو¿ لائے گی ۔تاکہ جسٹس کو ہٹانے کی کاروائی اتفاق رائے سے ہو ۔اور جانبدارنہ نہ سمجھا جائے ۔دی انڈین ایکسپریس نے ایک اپوزیشن ایم پی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ وہ اس کاروائی سے این ڈی اے ممبران کو دور رکھنا چاہتے تھے کہ اس مسئلے پر سرکار اخلاق بلندیاں حاصل کر لے لیکن دھنکھڑ جی نے اپوزیشن کا پرستاو¿ قبول کر سرکار کو ناراض کر دیا ۔یہ پرستاو¿ راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہر ی ونش نے خارج کر دیا تھا ۔ہوسکتا ہے کہ ایوان چلانے کے ان کے طریقے کو لے کر حکمراں فریق کی سینئر لیڈر شپ سے بھی ان کا اختلاف ہوا ہو ۔اسی برس اپریل میں انہوں نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کو لے کر کہا تھا کہ عدالتیں صدر کو حکم نہیں دے سکتیں ۔یہی نہیں انہیں اس وقت کے چیف جسٹس سے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ نیوکلیئر میزائل سنسد پر چلا رہے ہیں ۔کوئی بھی سرکار یہ نہیں چاہتی کہ ایگزیکٹوکا عدلیہ سے اتنا سیدھا ٹکراو¿ ہوا ۔یہ بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے ۔بھاجپا اعلیٰ کمان کے دھنکھڑ سے ناراض ہونے کی یہ بھی وجہ ہوسکتی ہے ۔شری دھنکھڑ ایک واحد نائب صدر ہیں جن کے خلاف اپوزیشن نے مواخذہ تحریک لانے کا اہم ترین قدم اٹھایا ۔دھنکھڑ جس آئینی عہدے پر بیٹھ تھے ،وہاں ڈرامہ نہیں ،تحمل کی ضرورت تھی ۔یہ کہنا ناانصافی پر مبنی نہیںہوگا دھنکھڑ کئی بار نا تو تحمل میں نظر آئے اور نہ ہی اپوزیشن انہوں نے کئی بار ایسی زبان اور تیور اپنائے جو آئینی عہدے کے مطابق نہیں کہے جاسکتے ۔ہندوستان ٹائمس نے اپنے اداریہ میں لکھا ،جگدیپ دھنکھڑ نے کچھ ہی دن پہلے کہا تھا کہ میں صحیح وقت پر ریٹائر ہوں گا ۔اگست 2027 میں اگرا یشور کا کوئی دخل نہ ہو تو ۔لیکن انہوں نے کچھ ہی دنوں بعد اپنا عہدہ چھوڑ دیا ۔انہیں راجیہ سبھا میں کوئی باقاعدہ وداعی تک نہیں دی گئی ۔اپوزیشن کہہ رہا ہے کہ سرکار کو چاہیے کہ وہ اس کی وجہ بتائے تاکہ بغیر بنیاد والی قیاس آرائیاں اور سازش کی تھیوری کو درکنار کیا جاسکے ۔اخبار لکھتا ہے کہ کیا دھنکھڑ نے کوئی ریڈ لائن پار کرلی تھی ؟ اگرایسا ہے تو کیوں اور کیسے ؟ دیش کو اس بارے میں جاننے کا پورا حق ہے ۔نائب صدر کا عہدہ آئینی عہدہ ہے ،اس کا وقار اور پاکیزگی مشتبہ اور افواہوں کے دائرے میں نہیں آنی چاہیے ۔یہ صحیح ہے کہ ان کی صحت پچھلے کچھ دنوں سے خراب تھی لیکن وہ ٹھیک ہو کر عام زندگی میں لوٹ آئے تھے ۔ایک سینئر صحافی نے لکھا کہ دھنکھڑ جی نے پیر کو ایوان شروع ہوتے ہی اعلان کر دیا کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یشونت ورما کو ہٹانے کے لئے اپوزیشن کی تجویز انہوں نے قبول کر لی ہے ۔دھنکھڑ جانتے تھے کہ سرکار لوک سبھا میں پہلے ہی نوٹس دے چکی ہے ۔انہوں نے سرکار کو مات دے دی دھنکھڑ کا استعفیٰ یہ تو ثابت کرتا ہے کہ بھاجپا میں اب بھی اعلیٰ کمان پوری طاقت سے کام کرتا ہے ۔ان کی خواہش کے خلاف کوئی بھی جانے کی کوشش کرے گا تو اسے دودھ میں سے مکھی نکالنے کا کام ہوگا ۔لیکن ہمارا خیال ہے کہ دھنکھڑ کا اس ڈھنگ سے استعفیٰ یا نکالنا ) بھاجپا کے لئے اچھا اشارہ نہیں ماناجاسکتا ۔وہیں ایک دوسرا ستیہ پال ملک نہ کھڑا ہوجائے۔دھنکھڑ کے معاملے سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ بھاجپا ایک کمزور پارٹی نہیں کہلانا چاہتی ۔جنتا یہ بھی نہیں بھولی کہ کس طرح سے جے پی نڈا نے کہا تھا ”نتھنگ ول گو آن ریکارڈ “آنلی واٹ آئی سے ول گو آن ریکارڈ ۔اشارہ صاف تھا کہ دھنکھڑ جی آپ کے جانے کا وقت آگیا ہے ۔قیاس تو یہ بھی لگایاجارہا ہے کہ کسی بڑے نیتا کو مطمئن کرنے کے لئے دھنکھڑ جی کی قربانی دی گئی ہے ۔
(انل نریندر)
24 جولائی 2025
ساری حدیں پار کرتا انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ!
ای ڈی یعنی انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے کام کے طریقہ کار کو لیکر اپنے اختیارات کا بیجا استعمال بغیر شفافیت اپنائیت اور سیاسی بیجا استعمال جیسے سوالوں پر بار بار سوال اٹھتے رہے ہیںاور کئی بار عدلیہ اس کو خبردار بھی کرچکی ہے لیکن یہ ماننے کو تیار نہیں اور بغیر سوچے سمجھے صحیح جانچ کرے کہیں بھی پہنچ جاتے ہیں ۔ای ڈی پر اپوزیشن پارٹیوں پر ناجائز دباو¿ ڈالر کر یہاں تک کہ الزامات لگے ہیں کہ وہ چنی ہوئی حکومتوں کو بھی گرانے میں مدد کرتی ہے ۔اور ایک بار ای ڈی کو عدالت میں کتنے کیسز میں الزام ثابت کرنے کا ٹریک ریکارڈ نہایت خراب ہے۔درج معاملوں میں قصوروار کی شرح ہونے پر بھی سوال اٹھتا ہے ۔یہ سوال تب اور سنگین ہو جاتے ہیں ،جب کچھ معاملوں میں عدلیہ کی جانب سے بھی ایجنسیوں کے طریقہ کار کو شبہہ سے دیکھا جاتا ہے ۔تازہ مثال وکیلوں کو طلب کرنے کا معاملہ ہے ۔سپریم کورٹ نے جانچ کے دوران قانونی صلاح دینے یا موکلوں کی نمائندگی کرنے والے وکیلوں کو ای ڈی کے ذریعے طلب کرنے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے پیر کو کہا کہ ای ڈی ساری حدیں پارکررہا ہے۔چیف جسٹس وی آر گوائی اور جسٹس ونود چندن کی ڈویژن بنچ عدلیہ پیشہ کی آزادی پر پوری طرح کی کاروائیوں کے اثرات پر دھیان دینے کے لئے عدالت کے ذریعے خود نوٹس لیتے ہوئے شروع کی گئی ہے ۔غور طلب ہے کہ مدراس ہائی کورٹ نے ایک معاملے کی سماعت کے دوران یہ سخت رائے زنی کی تھی کہ ای ڈی کوئی ڈان نہیں ہے جو مجرمانہ سرگرمیوں کا پتہ چلتے ہی حملے کر دے ۔ساتھ ہی کہاکہ جانچ ایجنسی ایک زیادہ موقف پولیس افسر کی طرح نہیں ہے جو اس کے نوٹس میں آنے والی ہر چیز کی جانچ کرے ۔ہر جانچ ایجنسی میں بیشک کچھ نہ کچھ کمیان ہوتی ہیں لیکن جب سلسلے وار طریقہ سے سوال اٹھنے لگیں تو یہ دامن پر داغ لگنے جیسا ہوتا ہے ۔ای ڈی کے اختیارات سے جڑے ایک معاملے میں سپریم کورٹ نے رائے زنی کی تھی کہ اگر جانچ ایجنسی پاس بنیادی اختیار ہے تو اسے لوگوں کے اختیارات کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے جانچ کے دوران قانونی صلاح دینے یا مو¿کلوں کی نمائندگی کرنے والے وکیلوں کو ای ڈی کے ذریعے طلب کئے جانے پر جڑے ایک معاملے میں پیر کو بڑی عدالت نے کہا کہ ای ڈی ساری حدیں پارکررہی ہے اس کے علاوہ کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدا رمیا کی بیو ی سے متعلق زمین پلاٹ الاٹمنٹ معاملے میں عدالت نے خبردار کیا ہے کہ سیاسی لڑائی ووٹروں کے سامنے لڑی جانی چاہیے ،اس میں ای ڈی جیسی نام کی ایجنسیوں ہتھیار کی شکل میں استعمال نہیں کیا جانا چاہیے ۔ظاہر ہے لگاتا اٹھنے والے سوالوں کے درمیان ای ڈی کا اپنا طریقہ کار میں شفافیت اور غیر جانبداری کے معیارات یقینی کر سیاسی دباو¿ سے آزاد ہو کر کام کرنا چاہیے تاکہ اس کی ساکھ پر کوئی بٹہ نا لگے ۔بنچ نے ای ڈی کی عرضی کو خارج کر دیا ہے اور کرناٹک ہائی کورٹ کا حکم برقرا ر رکھا ہے عرضی میں ای ڈی نے کرناٹک ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں ہائی کورٹ نے کرناٹک کے وزیراعلیٰ کی بیوی کاویری کے خلاف ایم ڈی یو گھوٹالے میں کاروائی کرنے پر روک لگا دی تھی ۔ای ڈی کی جانب سے ایڈیشنل شالی سیٹر جنرل ایس وی راجو عدالت میں پیش ہوئے ۔چیف جسٹس نے عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ برائے کرم ہمیں اپنا منھ کھولنے کے لئے مجبور نہ کریں ورنہ ہمیں ای ڈی کے خلاف کچھ سخت الفاظ کا استعمال کرنا پڑے گا ۔بدقسمتی سے مجھے مہاراشٹرمیں اسے لے کر کچھ تجربہ ہے اسے پورے دیش میں مت پھیلائیں ۔سیاسی لڑائی تو ووٹروں کے سامنے لڑنا چاہیے ہمیں اس میں آپ کیوں استعمال ہو رہے ہیں ۔سپریم کورٹ کی یہ رائے زنیاں صاف نشاندہی کرتی ہیں کہ کس طرح حکمراں پارٹی جانچ ایجنسیوں کا بیجا استعمال کرتی ہے اور سیاسی کھیل کھیلتی ہیں ۔ان جانچ ایجنسیوں کو چاہیے کہ یہ ہر حکم کو آنکھیں بند کرکے عمل نہ کریں بلکہ تھوڑی جانچ پہلے کریں کہ الزامات میں کتنا دم ہے ۔یا نہیں ؟ یا صرف سیاسی حریفوں کے خلاف سازش کا حصہ ہیں ؟ امید کی جاتی ہے کہ ای ڈی سمیت تمام جانچ ایجنسیوں کے لئے کوئی پیمانہ ضرور ہونا چاہیے ۔
(انل نریندر)
22 جولائی 2025
مانسون سیشن ٹکراو کے پورے آثار!
پیر سے پارلیمنٹ کا مانسون سیشن شروع ہو گیا ہے ۔21 جولائی سے 21 اگست تک چلے گا اس ایک ماہ کے طویل عرصہ سیشن کی شروعات سے ہی حکمراں فریق اور اپوزیشن کے درمیان صاف ٹکراو¿ دکھائی دیتا نظر آرہا ہے ۔تیاری دونوں طرف سے پوری ہے ۔اپوزیشن نے جہاں سرکار کو مختلف برننگ اشوز پر گھیرنے کی تیاری کر لی ہے ۔وہیں حکمراں فریق نے بھی اپوزیشن کی حکمت عملی کو کند کرنے کی تیاری پوری کر لی ہے ۔پارلیمنٹ کے سیشن سے عین پہلے انڈیا اتحاد کی ورچوئل میٹنگ سنیچر کی دیر شام منعقد کی گئی جس میں مانسون سیشن کو لے کر پوری اپوزیشن نے مشترکہ حکمت عملی اور سرکار کے کورے ایجنڈے پر مفصل غور وخوض کیا ۔میٹنگ کے بعد سینئر کانگریس نیتا اور اراجیہ سبھا میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر پرمود تیواری نے میڈیا کو بتایا کہ اپوزیشن نے طے کیا ہے کہ آنے والے سیشن میں وہ آٹھ اہم مسئلوں پر پی ایم مودی اور ان کی سرکار کو گھیریں گے ان سے سوالوں کے جواب مانگے جائیں گے ان میں پہلگام آتنکی حملہ ،آپریشن سندور ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھارت پاک سیزفائر کے 24 سے زیادہ بار دعوے ،بہار میں ایس آئی آر کی قواعد ،پولنگ ،حقوق پر سنکٹ ،حد بندی ،ایس سی ایس ٹی اور عورتوں کے خلاف ظلم احمد آباد میں پلین حادثہ ،غیر اعلانیہ ایمرجنسی کا دور ،سرکار کی خارجہ پالیسی جیسے اشوز کو مضبوطی سے اٹھایا جائے گا ۔اس ورچوئل میٹنگ میں 24 پارٹیوں کے نمائندوں نے حصہ لیامیٹنگ بہت ہی خوشگوار ماحول میں ہوئی ،جلد ہی انڈیا اتحاد کے نیتا آپس میں مل کر ایک میٹنگ کریں گے جس میں وہ اپنی آنے والی حکمت عملی کو دھار دیں گے۔کانگریس نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ ٹھیک سے چلے لیکن اس کے لئے سرکار کو اپوزیشن کے ذریعے اٹھائے جانے والے سوالوں کا جواب دینا ہوگا ۔وزیراعظم نریندر مودی کو پارلیمنٹ میں موجود رہنا چاہیے اور خود ان سوالوں کا جواب دینا چاہیے ۔اپوزیشن کا کہنا ہے کہ دیش میں جمہوریت اور آئینی اختیارات پر خطرہ منڈرا رہا ہے ۔اور ایسے میں اپوزیشن کا رول اور ذمہ داری بھی اہم ہو جاتی ہے ۔خارجہ پالیسی پر بھی بحث ہوگی ۔وہیں پہلگام آتنکی حملہ ،آپریشن سندور و ٹرمپ سے لے کر بہار میں ووٹر لسٹ رویژن جیسے اشوز پر حکمراں فریق بھی اپنی حکمت عملی پر کام کیا ہے۔جمعہ کو وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے گھر پر ہوئی میٹنگ میں اس پر بات ہوئی جس میں سرکار کے سینئر وزراءکو مسلح افواج کی طرف سے بھی بریف کیا گیا ۔ماناجارہا ہے کہ آپریشن سندور کے الگ الگ پہلوو¿ں کے بارے میں پوزیشن صاف کی گئی ہے ۔راجناتھ سنگھ پارلیمنٹ میں آپریشن سندور پر بیان د ے سکتے ہیں ۔اتوار کو حکومت نے آل پارٹی میٹنگ بھی بلائی تھی جس میں سرکار کی طرف سے صاف کیا گیا کہ وزیر دفاع آپریشن سندور پر بیان دیں گے ۔بہار ووٹر لسٹ رویژن کو لے کر آپریشن کے حملے کا جواب دینے کے لئے بھی سرکار کی طرف سے پوری تیاری ہے ۔معاملہ کورٹ میں ہے ۔ساتھ ہی حکمراں فریق کی طرف سے بار بار کہا جاتا رہا ہے کہ چناو¿ کمیشن کا فیصلہ ہے کہ اس مسئلے کے بہانے بی جے پی بنگلہ دیشی دراندازوں کے معاملے پر اپوزیشن کو گھیرنے کی کوشش کرے گی ۔اب دیکھنایہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ چلے گی ؟ کدھر وزیر اعظم بیچ میں ہی غیر ملکی دورہ پر جارہے ہیں تو وہ جواب نہیں دیں گے ۔تو پھر یا تو راجناتھ سنگھ یا پھر امت شاہ کو بھی مورچہ سنبھالنا پڑے گا ۔پورے سیشن میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اور راجیہ سبھا چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ کا رول بھی اہم ہوگا ۔دیکھنا ہوگا کہ یہ اس سیشن میں اپوزیشن کو کتنا ایکومیڈیٹ کرتے ہیں ؟ اگر پچھلے اجلاسوں کو دیکھا جائے تو ان کے رویہ سے زیادہ نرمی کی امید نہیں کی جاسکتی ۔ویسے سرکار اس وقت چوطرفہ دباو¿ میں ہے ایک طرف اپوزیشن حاوی ہونے کی کوشش کررہا ہے ۔تو دوسری طرف بھاجپا اور این ڈی اے کے اندر بھی سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔آر ایس ایس سرسنگ چالک موہن بھاگوت،ڈاکٹر سبرا منیم سوامی اور نتن گڈکری بار بار برننگ اشوز اٹھا رہے ہیں ۔سرکار ہر طرف سے دباو¿ میں ہے ایسے میں یہ مانسون سیشن (اگر چلا) بہت اہم ترین ہو جاتاہے ۔دیکھیں کیا کیا ہوتا ہے ؟
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...