Translater

05 مئی 2012

اور اب بابا رام دیو نے پارلیمنٹ کو کوسا



Published On 5 May 2012
انل نریندر

یہ دکھ کی بات ہے کہ کچھ لوگ اپنی بھڑاس نکالنے کے لئے کچھ بھی کہہ دیتے ہیں وہ بولنے سے پہلے یہ بھی نہیں سوچتے وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں کیا وہ ٹھیک ہے۔ پارلیمنٹ کے وقار کے مطابق میں بابا رام دیو کی بات کررہا ہوں۔ اپنی بوکھلاہٹ میں بابا رام دیو نے گذشتہ دنوں چھتیس گڑھ کے درگ میں ممبران پارلیمنٹ کو ڈکیت، قاتل اور جاہل بتا ڈالا۔ اس سے پہلے ٹیم انا کے اروند کیجریوال نے بھی پارلیمنٹ کے بارے میں اول فول بکا تھا۔ بابا رام دی درگ میں بولے کہ ممبران پارلیمنٹ میں اچھے لوگ بھی ہیں اور میں ان کا احترام کرتا ہوں لیکن وہاں ڈکیت، قاتل ،جاہل بھی بیٹھے ہوئے ہیں انہیں کسانوں ،مزدوروں اور لوگوں کی کوئی فکر نہیں ہے وہ صرف پیسے کے غلام ہیں۔ وہ انسان کی شکل میں شیطان ہیں۔ ہمیں پارلیمنٹ کو بچانا ہے۔ ہمیں کرپٹ لوگوں کو ہٹانا ہے۔ جب بابا کے اس بیان پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہوا تو بابا بولے میں اپنے بیان پر قائم ہوں۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے زیادہ تر ایم پی چور ہیں بابا کے اس بیان پر ممبران کا بھڑکنا فطری ہی تھا۔ بابا نے یہ بیان منگل کے روز دیا تھا تو بدھ کو ہی سبھی پارٹیوں کے ممبران نے ایک آواز میں کہا کہ اس طرح کی بے عزتی نا قابل قبول ہے۔ ممبران نے یوگ گورو پر جم کر بھڑاس نکالی۔ آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو نے کہا کہ لگتا ہے بابا کا ذہنی توازن بگڑ گیا ہے جبکہ کانگریسی ایم پی ستیہ ورت چترویدی نے کہا کہ رام دیو خود ڈھونگی بابا ہیں ایسے میں ان کی رائے زنی پر زیادہ توجہ نہیں دی جانی چاہئے۔ سابق وزیر خزانہ اور بھاجپا لیڈر یشونت سنہا نے کہا ممبران اور دوسرے لیڈروں کو کوسنے کا فیشن سا چل پڑا ہے۔ پارلیمانی وقار کے لئے یہ تشویشناک پہلو ہے۔ حالیہ مہینوں میں کئی بار پارلیمنٹ کی ساکھ پر سوال کھڑا ہوا ہے۔ یہ سارا معاملہ پچھلے سال اگست میں رام لیلا میدان میں انا ہزارے کی تحریک سے شروع ہوا۔ اسی وقت فلم اسٹار اوم پوری نے ممبران کے خلاف جم کر بھڑاس نکالی تھی۔ ممبران کو وہ گنوار اور چور ،نالائق تک کہہ گئے۔ جب پارلیمنٹ میں سخت تیور دکھائے گئے تو اوم پوری نے معافی مانگ لی۔ پھر آئی باری اروندکیجریوال کی انہوں نے کہہ دیا کہ زیادہ تر ایم پی آبروریز، لٹیرے اور جرائم کے کردار والے ہیں۔ اس پر پارلیمنٹ کی توہین کا معاملہ ان پر چل رہا ہے۔ اس کے بعد بھی کیجریوال پارلیمنٹ کے سامنے معافی مانگنے کو تیار نہیں ہوئے تھے یہ معاملہ ابھی تک لٹکا ہوا ہے۔ ہم بابا رام دیو کی بات سے متفق نہیں ہیں۔ سارے ایم پی چور بے ایمان نہیں ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ پر مجرمانہ معاملے درج ہوں لیکن اس سے آپ سبھی کو غلط نہیں بتا سکتے۔ ایک جمہوریت میں آخری فیصلہ جنتا کا ہوتا ہے۔رام دیو اور کیجریوال جیسے تلخ نیتا جنتا سے کیوں نہیں سیدھی بات کرتے۔ لوک سبھا چناؤ ہونے والے ہیں کیوں نہیں وہ جنتا کو سمجھاتے کہ مجرمانہ ریکارڈ اور غلط کردار کے امیدواروں کو وہ ووٹ نہ دیں۔ جمہوری اداروں کو یوں گالی نکالنا صحیح نہیں ہے۔ یوں تو کیا بابا رام دیو اس بات سے انکارکرسکتے ہیں کہ سادھوؤں میں بھی ہر طرح کے بدکردار لوگ ہیں تو کیا ہم سبھی سادھوؤں کو گالی دیں؟
Anil Narendra, Baba Ram Dev, Daily Pratap, Parliament, Vir Arjun

سردار پٹیل نے62 برس پہلے ہی کہہ دیا تھا چین ہمارا دوست نہیں ہوسکتا



Published On 5 May 2012
انل نریندر

ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم کے چناؤ کے 25 برس بعد چکرورتی راج کوپالاچاری نے لکھا تھا ''بلا شبہ بہتر ہوتا اگر نہرو کو وزیر خارجہ اور سردار پٹیل کو وزیر اعظم بنایا جاتا۔ اگر پٹیل کچھ دن اور زندہ رہتے تو وزیر اعظم کے عہدے پر ضرور فائض ہوتے جس کے لئے ممکنہ طور پر ایک اہل شخصیت تھے۔تب بھارت سے کشمیر ، تبت، چین اور ان سلجھے تنازعوں کی کوئی پریشانی نہ رہتی۔''سردار پٹیل نے 1950میں ہی کہہ دیاتھا ہماری سکیورٹی کے اقدام ابھی تک پاکستان سے عمدہ تھے اب ہمیں سامراج وادی چین کے حساب سے اپنی خوبیوں پر توجہ دینی ہوگی۔ چین کی یقینی توقعات و مقاصد ہیں اور وہ کسی بھی طرح سے ہمارے تئیں دوستی کا برتاؤ نہیں رکھ سکتا۔ 62 برس پہلے سردار پٹیل نے دو صفحات میں حالات پر سنجیدہ اور اپنے نقطہ نظر پر روشنی ڈالی اور دوررس پالیسیاں بھی تجویز کی تھیں جو آج کہیں زیادہ ضروری ہوچلی ہیں۔ سردار پٹیل نے پہلا خط پنڈت جواہر لال نہرو کو11 نومبر1950 ء کو لکھا تھا اس میں سردار پٹیل لکھتے ہیں کہ تازہ اور تلخ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ سامراج واد سے بچنے کا کوئی کوچ نہیں ہے اور یہ سامبھے واری اتنے ہی اچھے یا برے ہیں جتنے کے دوسرے۔ اس سلسلے میں چینیوں کی توقعات ہماری طرف سے نہ صرف ہمالیہ کی ڈھلانوں کو ڈھک لیتی ہیں ورنہ ا س میں آسام کے اہم حصے بھی شامل ہیں۔ برما میں ان کی توقعات ہیں مغربی طاقتوں کے سامراج واد یا فروغ سے چینی کلچر سامبھے سامراج واد مختلف ہے اور یہ ماضی کے اصولوں کا ایک قابل دید کردار ہے جو اسے10 گنا زیادہ خطرناک بناتا ہے۔ اصولی فروغ کے پیچھے چھپے ہیں ذات پات ،قومی یا تاریخی دعوے اس لئے شمال مشرق سے خطرہ سامبھے وادی اور سامراج وادی دونوں سے ہے جبکہ سکیورٹی کا ہمارا مغربی اور شمال مشرقی خطرہ پہلے ہی کی طرح سے بڑھا ہے۔ ایک طرح پہلی بار جارحیت کے بعد بھارت کو اپنی حفاظت کے بارے میں ایک ساتھ دو جگہوں پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ ہماری سلامتی کے اقدام ابھی تک پاکستان سے اچھے تھے۔ اب ہمیں نارتھ اور نارتھ ایسٹ میں کمیونسٹ چین کے مطابق اپنی شماریات کی توجہ رکھنی ہوگی۔ کمیونسٹ چین جس کی یقینی خواہش اور مقصد ہے اور جو کسی بھی طرح سے ہمارے تئیں دوستی جیسا برتاؤ نہیں رکھ سکتا۔
چین نے جب بھارت کو دھمکی دی تھی تب سردار پٹیل نے 4 نومبر1950ء کو وزارت خارجہ کے اس وقت کے سکریٹری جنرل گریج شنکرواجپئی کو ایک خط لکھا تھا اس میں سردار نے لکھا تبت میں چین کے آنے سے ہماری سلامتی گڑبڑا گئی۔ پہلی بار نارتھ اور نارتھ ایسٹ میں خطرہ پیدا ہورہا ہے۔ اسی کے ساتھ مغربی لداخ اور نارتھ ویسٹ کی طرف بھی خطرہ کم نہیں ہے۔ میں اس سے مکمل طور پر متفق ہوں کہ ہم اپنی سرحدوں کی حالت پر دوبارہ سے نظرثانی کریں اور اپنی فوجوں کو پھر سے سرگرم کرنے کو ہم نظرانداز نہیں کرسکتے۔ چین سے لگی ہندوستانی سرحدوں پر واقع علاقوں کی تہذیب بھی چین سے ہی ایک طرح سے جڑی ہوئی ہے۔ چین کی سیاسی توقعات اپنے آپ میں اتنی معنی نہیں رکھتی لیکن جب اسے کوئی موقعہ ملتا ہے تو اس کی فوج ان دیہات میں دراندازی سے گریز نہیں کرتی۔ ہندوستان اور کمیونسٹ چین کے رشتوں میں اس سے کئی بار تلخی آجاتی ہے۔ ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ سرحد کے تنازعہ جو تاریخ میں کئی بار عالمی تنازعات کے سبب بنا ہوا ہے کا فائدہ کمیونسٹ چین کے ذریعے اٹھایا جاسکتا ہے۔ ہمیں اپنے دیش میں اور آس پاس ناپسندیدہ اور موقعہ پرست طاقتوں پرتوجہ دینی ہوگی۔ میری تجویز کے مطابق ہمیں ان سے نہ صرف چوکس رہنے کی ضرورت ہے بلکہ کچھ حد تک ان کے ساتھ خوشگوار برتاؤ بھی کرنا چاہئے۔ سردار پٹیل نے 62 برس پہلے ہی چین سے خطرے کے بارے میں آگاہ کیا تھا لیکن پنڈت نہرو پر 'ہندی چینی بھائی بھائی' کا اتنا بھوت سوار تھا کہ انہوں نے سردار کی وارننگ پر غور تک نہیں کیا۔
Anil Narendra, China, Daily Pratap, India, Sardar Patel, Vir Arjun

04 مئی 2012

معاملہ طلاق کو آسان بنانے کا



Published On 4 May 2012
انل نریندر

طلاق کو آسان بنانے کی قواعد والے بل کو لیکر بدھوار کو راجیہ سبھا میں خاصہ تنازعہ ہوا ہے۔سرکار کو باہر سے سمرتھن دے رہے دلوں سمیت مختلف دلوں میں اس بل کو خواتین مخالف بتاتے ہوئے اس کے قواعد پر اعتراض جتایا۔ بھارتیہ سنسکرتی اور پرمپرامیں شادی کی پاکیزگی اوراس کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے بھاجپا ، بیجو جنتا دل ، تیلگو دیشم پارٹی ، وام دلوں اور سرکار کو باہر سے سمرتھن دے رہے سپا اور بسپا نے ہندو شادی ایکٹ (ترمیم )بل 2010ء کو پرور کمیٹی میں بھیجے جانے کی مانگ کی۔ ممبروں کا کہنا تھا کہ اس بل کے قواعد سے جہاں طلاق کی نوعیت بڑھے گی وہیں مہلاؤں کی پریشانی میں اضافہ ہوگا۔ ممبروں نے تنازعے سے ہوئے بچوں کے تحفظ کا حق اور ان کی پرورش کی ذمہ داری بھی واضح کئے جانے کی مانگ کی۔اس سے پہلے سپا کے نریش اگروال نے مانگ کی کہ اسے آگے کی بحث کے لئے پرور کمیٹی میں بھیج دیا جانا چاہئے۔ جیہ بچن نے اس بل کو سخت بتاتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ سماج کے ایک خاص طبقے اور کچھ لوگوں کو دھیان میں رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ طلاق کے عمل کو اتنا آسان بھی مت بنا دیجئے کہ باتوں ہی باتوں میں طلاق ہوجائے۔ بیجو جنتا دل کے ویشنو پرووا بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کے ایم پی اچیوتن اور تیلگو دیشم پارٹی کے جی سدھارانی نے بھی اسے خاتون مخالف بتاتے ہوئے پرور کمیٹی کو بھیجنے کی مانگ کی ہے۔ بھاجپا کی مایا سنگھ نے کہا کہ اس بل سے خواتین خاص کر دیہی حلقوں میں خواتین کی پڑیشانی بڑھ جائے گی۔ کانگریس کے شادی لال بترا نے اس بات پراعتراض ظاہر کیا کہ بل میں گذارہ بھتے کے بارے میں طے کرنے کا حق عدالت پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ دوسری طرف بل کا سواگت کرتے ہوئے کانگریس کے سیف الدین سوز اور شانتا رام نارک نے کہا کہ جہاں تک ہو طلاق سے بچنا چاہئے۔ اس بل سے عورتوں کا وقار بڑھے گا اور انہیں کافی راحت ملے گی۔ کنی موجھی نے بل کا سواگتکرتے ہوئے کہا کہ اگر پتی پتنی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے تو الگ ہوجانے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل میں بچوں کے تحفظ کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔ راشٹریہ کانگریس پارٹی کے وائی پی ترویدی نے بل کا سواگت کرتے ہوئے کہا کہ جب حالات ایسے بن جائیں تو اسے ایک بہتر موڑ دینا ہی صحیح ہوگا۔ ادھر سرکار کی طرف سے قانون منتری سلمان خورشید نے کہا کہ ممبروں کے ذریعے دئے گئے سجھاؤں اوران کے اعتراضات کے مطالعہ کیلئے وقت دینے کی ضرورت ہے۔ ہماراکہنا ہے کہ کیونکہ یہ معاملہ مسلمانوں کے مذہب سے بھی جڑا ہے اس لئے بہتر ہوگا کہ علماؤں کی رائے بھی جان لی جائے۔مسلم خواتین نمائندوں سے بھی ان کی رائے جانی جائے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ مستقبل میں کسی طرح کے مذہبی ٹکڑاؤ سے بچا جاسکے۔ معاملہ پیچیدہ ہے سوچ سمجھ کر ہی کوئی قدم اٹھایا جائے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Hindu Law, Hindu Marriage Act. Hindu Succession Act, Vir Arjun

جنرل سنگھ کی چیتاونی صحیح تھی دفاعی کمیٹی نے تصدیق کردی



Published On 4 May 2012
انل نریندر

بری فوج کے چیف نے وزیر اعظم کو خط لکھ کرمتنبہ کیا تھا کہ فوج کے پاس فوجی اسلحہ کی کمی ہے۔ اس خط پر بڑا ہنگامہ ہوا تھا۔ جنرل سنگھ کی کچھ لوگوں نے تنقید بھی کی تھی لیکن جنرل سنگھ نے جو باتیں کی تھیں اس کی اب صاف طور پر تصدیق ہوگئی ہے۔دفاعی معاملوں کی پارلیمنٹری کمیٹی نے مانا ہے کہ فوج کے پاس گولہ بارود اور اسلحہ کی بھاری کمی ہے۔ یہ کمی دیش کی حفاظت کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ دفاعی کمیٹی نے اپنی اس آشیہ کی رپورٹ سوموار کو پارلیمنٹ میں پیش کی ہے۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ فوج کی ضرورتوں اور سپلائی میں بھاری کمی ہے۔ کمیٹی نے یہ بھی سجھاؤ دیا ہے کہ فوج کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔ فوج کے پاس ہتھیاروں کی کمی کی جانکاری فوج کے چیف جنرل وی کے سنگھ نے 12 مارچ کو وزیر اعظم کو لکھے خط میں دی تھی۔ ستپال مہاراج کی صدارت والی پارلیمنٹری دفاعی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں وزارت دفاع اور سرکار کو ان کمیوں کیلئے سیدھے سیدھے پھٹکارلگائی۔ کمیٹی نے کہا کہ فوجی سازو سامان میں لگاتار کمی پر سرکار کا دھیان نہیں دینا حیران کن ہے۔ فیصلوں میں دیری کر وزارت دفاع نے حالات کو اور پیچیدہ کردیا ہے۔ کمیٹی نے خامیاں بھی گنائیں۔ ہیلی کاپٹروں سے ٹینکوں تک کے لئے گولہ بارود کی کمی ہے اور کسی نے اس پر دھیان نہیں دیا۔ توپیں اب تک اپڈیٹ نہیں۔ توپوں کی کمی سے فوج کی تیاریاں متاثر ہورہی ہیں۔ توپوں کی کمی اور بوفورس کو ترقیافتہ کرنے کے کام میں دیری سے تیاری متاثر ہورہی ہے۔ ہیلی کاپٹروں سے لیکر ٹینک بیڑے کے پاس گولہ بارود ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔ توپ خانے میں فیوز نہیں۔ ہوائی حفاظت کے قریباً 27فیصدی آلات بیکار ہوچکے ہیں۔ پیدل فوج کے ساتھ ساتھ خاص فورسیز کے پاس بھی ضروری ہتھیاروں کی کمی ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ 2012-13 میں 66ہزار32 کروڑ روپے فوجی سازو سامان خریدنے کے لئے دئے گئے لیکن ان میں سے صرف صرف5520 کروڑ روپے ہی نئی خرید کے لئے تھے۔ باقی پرانی دینداری تھی۔ سرکارہماری فوج پر جی ڈی پی کی بہ نسبت پاکستان ، چین ، روس،امریکہ اور فرانس سے بھی کم خرچ کررہی ہے۔ پارلیمنٹری کمیٹی نے ایک انگریزی اخبار کی اس خبر کو خارج کردیا ہے جس میں 16-17 جنوری کی رات فوج کی دو ٹکڑوں کے دہلی کوچ کا دعوی کیا گیا تھا۔ خبر کے مطابق حصار اور آگرہ سے فوج کی دو یونٹ پورے سازو سامان کے ساتھ دہلی چل چکی تھی۔ بیچ راستے انہیں روک کر واپس کیاگیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاملے میں دفاعی سکریٹری ششی کانت شرما کی صفائی تسلی بخش ہے۔ فوج کا آنا جانا پوری طرح تربیت کے لئے تھا۔اس کا مقصد پریچالن ابھیاس کو بہتر بنانا اور خراب موسم میں بھی فوج کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔اب جبکہ پارلیمنٹری کمیٹی نے اپنی رپورٹ دے دی ہے ہم امید کرتے ہیں کہ منموہن سرکار ان خامیوں کو بغیر دیری کئے پورا کرنے کی کوشش کرے گی۔یہ معاملہ سیدھے دیش کی حفاظت سے جڑا ہوا ہے اور کسی کو بھی دیش کی حفاظت سے کھلواڑ کرنے کی چھوٹ نہیں دی جاسکتی۔وزیر دفاع انٹونی بیشک ایک ایماندار انسان ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کے فوجی سازو سامان سے ہی سمجھوتہ کریں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, General V.k. Singh, Vir Arjun

03 مئی 2012

ججوں کی جوابدہی کا سوال



Published On 3 May 2012
انل نریندر

مرکزی اطلاعاتی کمیشن نے قانون وزارت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ججوں کے خلاف شکایتو ں کے ساتھ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں بھیجے گئے خطوط کا خلاصہ کرے۔ اس قدم کے بعد ان ججوں کے نام سامنے آسکتے ہیں جن کے خلاف شکایتیں آئیں ہیں۔ انگریزی کے اخبار ''ہندوستان ٹائمز'' نے اپنی ایک جامع رپورٹ میں کہا ہے کہ پچھلے ایک سال میں کم سے کم 75 ایسی شکایتیں موجودہ ججوں کے خلاف بھارت سرکار نے چیف جسٹس اور چیف جسٹس آف انڈیا کو بھیجی ہیں جن پر انہیں اس پر مناسب کارروائی کرنے کوکہا گیا ہے اور یہ سبھی جج سپریم کورٹ ہائی کورٹ میں اس وقت جج ہیں۔ محکمے نے سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف15 شکایتیں، مختلف ہائی کورٹوں کے 9 چیف جسٹس اور مختلف ہائی کورٹ کے 51 سٹنگ ججوں کے خلاف شکایتوں کو بھیجا ہے۔ زیادہ تر شکایتیں جنتا ، وکیلوں اور سماجی رضاکار تنظیموں کے رضاکاروں نے بھیجی ہیں۔ یہ جانکاری پہلی بار ایک آر ٹی آئی سے ملی ہے جو دہلی کے سبھاش اگروال نے مانگی تھی۔ وزارت نے پہلے دعوی کیا تھا وہ اس لئے شکایتوں کی کاپی نہیں دے سکتی کیونکہ ان شکایتوں کو ہندوستان کے چیف جسٹس اور متعلقہ معاملوں میں دیگر عدالتوں کے چیف جسٹسوں کو بھیجا گیا ہے۔ وزارت نے یہ بھی کہا ہے کہ وزارت ان شکایتوں کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھتی۔ آر ٹی آئی رضاکار سبھاش اگروال کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی اطلاعاتی کمیشن نے پایا کہ خطوط میں ان کی مانگ جائز ہے۔ کمیشن نے حکم دیا ہے کہ ایک سال پہلے کی تاریخ سے ان خطوط کو بھی دیا جائے۔ اطلاعاتی کمشنر سشما سنگھ نے وزارت کو اس طرح کا ریکارڈ رکھنے کی ہدایت بھی دی کہ درخواست دہندہ کو ان کی عرضی پر انہیں دیا جاسکے۔
ججوں کی جوابدہی پر حال ہی میں ایک میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ گلاب تلسیانی کو رشوت خوری معاملے میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اسپیشل جج وی کے مہیشوری نے تلسیانی کو سزا سناتے ہوئے کہا کہ جوڈیشیل آفس پر لوگوں کو بھروسہ ہے۔ جٓج کا برتاؤ بھی کافی اچھا ہونا چاہئے۔ سوسائٹی جج میں ان تمام خوبیوں کو دیکھنا چاہتی ہے اور ججوں میں یہ تمام خوبیاں ہونی چاہئیں۔ عدالت نے کہاانصاف کے عمل کو صاف رکھنے کی ضرورت ہے اس کے لئے جج کو فراخ دلانہ رویہ دکھانا ہوگا۔ سی بی آئی کے مطابق موجودہ معاملے میں قصوروار گلاب تلسیانی دراصل1986ء میں پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ ہوا کرتے تھے اس معاملے میں شکایت کنندہ سے فیکٹری چالان نپٹانے کے عوض میں دو ہزار روپے کی رشوت لی تھی۔ اس بارے میں کی گئی شکایت کے بعد سی بی آئی نے تلسیانی کے گھر سے رشوت کی رقم برآمد کی تھی۔ تلسیانی نے شکایتی سے اپنے چیمبر میں رشوت مانگی تھی اس پر سی بی آئی نے شکایت کنندہ کی جیب میں ایک ٹیپ ریکارڈر رکھ دیا تھا اور ساتھ ہی نوٹوں پر کیمیکل لگا دئے گئے تھے۔ 7 جون 1986ء کو شکایتی ملزم جج کے گھر پہنچا اور وہاں رقم جج کے حوالے کردی۔اسی دوران لین دین کی بات ریکارڈ ہوگئی۔تلسیانی اب ریٹارڈ ہو چکے ہیں اور وہ اس وقت 74 برس کے ہیں۔ ان کی اہلیہ بیمار ہیں تمام حالات کو دیکھتے ہوئے عدالت نے ملزم کو تین سال کی سزا سنائی اور 50 ہزار روپے جرمانہ کیا ہے۔
Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, Judiciary, Vir Arjun

آر ڈبلیو اے نے بجلی کمپنیوں کا کچاچٹھا کھولا



Published On 3 May 2012
انل نریندر
سال2012-13 کی نئی بجلی شرحیں طے کرنے کے لئے دہلی الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (ڈی ای آر ایس ) کے سامنے گذشتہ جمعرات کوعوامی عدالت لگائی گئی۔ پہلے دن ڈی ای آر ایس اور بجلی کمپنیوں کو جنتا کے موڈ کا پتہ چل گیا۔ عوامی سماعت کے دوران بجلی کمپنیوں نے پہلی بار جنتا کی شکایتیں سنیں اور انہیں پتہ چلا کہ جنتا ان کے رویئے سے کتنی پریشان ہے۔ جہاں لوگوں نے کیبن میں موجود افسران کے سامنے اپنے اعتراضات درج کرائے اور بجلی کمپنیوں کی عرضی میں کئی خامیاں گنائیں وہیں باہر لوگوں نے ہاتھ میں کالے فیتے باندھ کر مظاہرہ کیا۔ کمیشن کے چیئرمین پی ڈی سدھاکر کی سربراہی میں یہ عدالت لگائی گئی۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ جب تک بجلی کمپنیوں کے کھاتے کی جانچ سی اے جی سے نہیں کرائی جاتی تب تک کمیشن کو نئی شرحوں کے تعین کی کارروائی شروع نہیں کرنی چاہئے۔ ان لوگوں نے کہا کمپنیوں کے لئے کارکردگی معیار بھی لاگو نہیں کئے گئے اور نہ ہی بجلی کے تیز بھاگتے میٹروں کا تنازعہ دور ہوا ہے۔ پہلے کمیشن کو لوگوں کو بھروسے میں لینا چاہئے اس کے بعد ہی بجلی کی نئی شرحوں کے تعین کا کام شروع کرنا چاہئے۔ آر ڈبلیو اے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ بجلی کمپنیاں مجموعی تکنیکی و کمرشل نقصان ایک ساتھ دکھاتی ہیں جبکہ قومی ٹیرف پالیسی کے مطابق انہیں الگ الگ دکھانا چاہئے کیونکہ تکنیکی نقصان تقریباً برابر ہی رہتا ہے اور کمرشل نقصان جس میں بجلی چوری (محصول کی عدم وصولی ) بجلی شامل ہوتی ہے اسے کم کیا جاسکتا ہے۔ جنتا کے نمائندہ کمپنی کے حکام کی صفائی دلیلیں سننے کوتیار نہیں تھے۔ ایک آر ڈبلیو اے نمائندے نے کہا کہ شمسی پاور کے نام پربجلی کمپنیا ں کنزیومر کو مہنگی بجلی دیں گی۔ اس ریگولیشن میں سرٹیفکیٹ سسٹم کی بات کہی گئی ہے جس میں بجلی کمپنیاں فرضی سرٹیفکیٹ دکھا کر سستی کمرشل پاور کو مہنگی شمسی پاور بتا کر عوام کو لوٹیں گی۔ انہوں نے کہا جب تک شمسی پاور کے دام کم نہیں ہوتے تب تک ہمیں شمسی پاور کی ضرورت نہیں ہے۔ ڈی آر سی کے چیئرمین نے کہا اسی معاملے پر مسودہ بنانے کے لئے ایک رائے مانگی گئی ہے۔ کمپنیاں اپنے کھاتوں میں جھوٹی اطلاعات دے رہی ہیں۔ سی اے جی اور اس طرح کی ایجنسی سے ان بجلی کمپنیوں کی جانچ انتہائی ضروری ہے۔ بجلی عوام کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔ عام شکایت یہ ہے تیز میٹروں کے چلتے ان کی شکایت پر کوئی غور نہیں ہوتا۔ ویسے یہ بھی صحیح ہے کہ بجلی کی چوری بھی کم نہیں ہوئی ہے۔ دہلی میں کافی تعداد میں لوگوں نے براہ راست بجلی کے تاروں سے کنکشن لئے ہوئے ہیں۔ بجلی کمپنیاں اس خسارے کو بل دینے والے صارفین پر بوجھ ڈال کر پورا کرتی ہیں۔ شنگلو کمیٹی نے بھی بجلی کمپنیوں کے خلاف کئی الزامات لگائے ہیں اور خامیاں گنائی ہیں۔ لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ پھر بجلی کمپنیوں کو آر ٹی آئی کے دائرے سے باہر کیوں رکھا گیا ہے؟ بجلی سرپرست ہونے پر اسے بازار کے دام پر بیچنے کے لئے بجلی کمپنیوں نے کیا قدم اٹھائے ہیں؟ مہنگے دام پر بجلی خریدنے اور فاضل بجلی کا بوجھ صارفین پر ہی پڑتا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, DERC, Electricity, RWA, Vir Arjun

02 مئی 2012

اس مرتبہ صدارتی چناؤ بہت پیچیدہ بن گیا



Published On 2 May 2012
انل نریندر

دیش کا اگلا صدر کون ہوگا یہ بحث آج کل سیاسی گلیاروں میں تیز ہوگئی ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ فیصلہ کرنے کا وقت آچکا ہے۔ صدارتی چناؤ اگلے مہینے جون میں ہونا ہے اور ابھی تک نہ تو یوپی اے نے اور نہ ہی این ڈی اے نے اور نہ ہی علاقائی پارٹیوں نے اپنا کوئی امیدوار سامنے پیش کیا ہے۔ فیصلہ خاص کر کانگریس پارٹی کو کرنا ہے لیکن مشکل یہ ہوگئی ہے کہ اکیلے اپنے دم خم پر اس مرتبہ کانگریس اپنا امیدوار جتانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ پچھلی مرتبہ جیسے کانگریس صدر سونیا گاندھی نے اچانک محترمہ پرتیبھا پاٹل کا نام اعلان کرکے سب کو چونکا دیا تھا اس بار ایسا نہیں ہوسکتا۔ ایک بہت بڑا فرق تب اور اب میں علاقائی پارٹیوں کی بڑھتی طاقت ہے۔ ہونے والے صدارتی چناؤ میں علاقائی پارٹیوں کی دبنگئی صاف نظر آنے لگی ہے۔ ان کی پوری کوشش اس بات پر ہورہی ہے کہ اس مرتبہ راشٹرپتی بھون میں علاقائی پارٹیوں کا امیدوار پہنچے، اس کے لئے جوڑ توڑ شروع ہوچکا ہے۔ صدارتی چناؤ کو لیکر علاقائی پارٹیوں ک ی سرگرمی آنے والے دنوں میں دونوں کانگریس اور بھاجپا کے لئے ایک نئی تشویش کا سبب بن سکتی ہے۔علاقائی پارٹیاں اپنی طاقت کو پہچان رہی ہیں اس مرتبہ ان کی حمایت کے بغیر نہ تو کانگریس اور نہ ہی بھاجپا اپنی منمانی کرسکتی ہے۔ ان کے تعاون کے بغیر رائے سینا ہلس پر کون گدی نشین ہوگا اس کا فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ دراصل صدارتی چناؤ کے بہانے علاقائی پارٹیاں آنے والے لوک سبھا چناؤ کے سیاسی جائزوں کی عبارت بھی لکھنے کو تیار ہیں۔ سب سے زیادہ سرگرمی سماجوادی پارٹی میں نظر آرہی ہے۔ اس کے پیچھے ان کے اپنے سیاسی مفادات ہیں۔ اترپردیش میں اسمبلی چناؤ کے بعد سپا دیش کی قومی سیاست میں تبدیلی دیکھ رہی ہے۔ دونوں بڑی پارٹیاں کانگریس اور بھاجپا کی پکڑ کمزور ہوتی جارہی ہے اور علاقائی پارٹیوں کی طاقت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ سپا کی کوشش ہے کہ اگلا وزیر اعظم غیر کانگریس غیر بھاجپا کا بنے۔ اس کے لئے وہ ابھی سے تیاری میں لگ گئی ہیں۔ علاقائی پارٹیوں کو اکٹھا کرکے پہلے صدارتی چناؤ میں اپنی متحدہ طاقت کو آزمانا چاہتی ہیں۔ اگر وہ اس میں کامیاب رہتی ہیں تو یقینی طور سے لوک سبھا چناؤ میں نئی نئی تبدیلیاں نظر آئیں گی۔ صدارتی چناؤ میں اس مرتبہ سپا کے علاوہ ترنمول کانگریس ، این سی پی ، انا ڈی ایم کے، بسپا اور بیجو جنتا دل بھی اہم کردار نبھائیں گی۔ کسی غیر جانبدار امیدوار کے اترنے پر این ڈی اے میں شامل جنتا دل (یو) اور شرومنی اکالی دل کی حمایت بھی ان پارٹیوں کو مل سکتی ہے۔ علاقائی پارٹیوں کے اتحاد اگر کسی نام پر عام رائے بنا لیتا ہے تو دونوں بڑی پارٹیاں کانگریس اور بھاجپا کو اسے یکدم مستردکرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ نمبروں کی طاقت دیکھیں تو یوپی اے کے سبھی اتحادی اگر ایک ساتھ رہیں تو ان کے پاس 40فیصدی ووٹ ہیں جبکہ اکیلے کانگریس کے پاس71 فیصدی ووٹ ہیں۔ یہ ہی حال این ڈی اے کا ہے اس کے پاس کل ملا کر31 فیصدی ووٹ ہیں جبکہ اکیلے بھاجپا کے پاس 24 فیصدی ووٹ ہیں۔ ہاں کانگریس اور بھاجپا مل کر کوئی امیدوار طے کرے تو وہ امیدوار جیت سکتا ہے۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, President of India, Samajwadi Party, Trinamool congress, Vir Arjun

جنسی تعلق کے لئے صحیح عمر کیا ہو؟



Published On 2 May 2012
انل نریندر

دہلی کے روہنی ضلع عدالت کی ایڈیشنل جسٹس ڈاکٹر کامنی لا اپنے فیصلوں کے لئے اکثر موضوع بحث رہتی ہیں۔ انہوں نے اب ایک مقدمے میں ممبران پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ انہیں سماجی برتاؤ میں آئی تبدیلی کو ذہن میں رکھتے ہوئے جنسی تعلقات کے لئے موزوں عمر سے وابستہ موجودہ قانون پر غور کرنا چاہئے۔ عدالت کا یہ تبصرہ ایک لڑکی کے مبینہ اغوا معاملے میں نوجوان کو بری کرتے ہوئے کیا ہے۔ اس نوجوان پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ زبردستی شادی کرنے کے لئے اس نے لڑکی کا اغوا کیا تھا۔ جسٹس کامنی لا نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ پارلیمنٹ سماجی برتاؤ اور سماجی نظریات کو دیکھتے ہوئے عمر کو لیکر رضامندی اور سلامتی سے وابستہ منظوری دینے سے متعلق موجودہ قانون پر سنجیدگی سے سوچے۔ عدالت نے مزید کہا کہ ملزم لڑکا اور لڑکی کے درمیان پیار محبت تھا اور خاندان والوں کی مخالفت کے سبب انہیں بھاگنا پڑا۔ خاندان والے نہیں چاہتے تھے کہ دونوں شادی کرکے خوشحال زندگی بسر کریں۔ عدالت نے کہا پیار کررہے نوجوان کو سزا دینے کیلئے ہمارے دیش کی قانونی مشینری کا استعمال نہیں کیا جاسکتا اور یہ عدالت اس صورت میں ان کی زندگی برباد نہیں کرسکتی۔ خاص کر جب ان کے درمیان عمر کا فاصلہ قابل قبول حد تک ہے اور کوئی زور زبردستی والی پوزیشن نظر نہیں آتی۔ عدالت نے کہا معاملے کو یہیں ختم کردینا چاہئے کسی بھی حالت میں ان نوجوانوں کا مستقبل ان کے ماضی کو اجاگر کرکے برباد نہیں کیا جاسکتا۔ اس معاملے میں عدالت نے اشوک وہار کے باشندے کرشن رائے چودھری کو بری کردیا۔ اس پر30 اکتوبر2008 ء کو لڑکی کو زبردستی شادی کرنے کے ارادے سے اغوا کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ سماعت کے دوران لڑکی کی ماں اور اس نے کہا کہ اس واقعے سے کچھ مہینے بعد ہی اس کی عمر شادی کے لئے قانونی طور پر واجب ہوگئی تھی اور پھر بہار کے ایک لڑکے سے شادی ہوگئی۔ دونوں نے کہا ایسی صورت میں انہیں عدالت میں طلب نہیں کیا جانا چاہئے کیونکہ اس سے اس کی شادی شدہ زندگی متاثر ہوگی۔ دستاویزی جانچ کے بعد پتہ چلا کہ واقعے کے وقت لڑکی کی عمر18-19 سال تھی اور ملزم لڑکے کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا ایسی حالت میں اسے بری کردیا گیا تھا۔ ڈاکٹر کامنی لا کا یہ فیصلہ اس لئے بھی متنازعہ مانا جائے گا کیونکہ کسی بھی دیش میں اس موضوع پر ایک رائے نہیں ہے۔دونوں میں مرضی کی عمر مئی2008 تک 14 سال ہوا کرتی تھی اب اسے16 کردیا گیا ہے لیکن جہاں دونوں پارٹنروں کی عمر میں پانچ سال سے کم کا فرق ہے تو جنسی رشتے جرم نہیں ہیں۔ اگر لڑکے کی عمر لڑکی سے پانچ سال زیادہ ہے تو وہ ایک جرم مانا جائے گا۔ اسی طرح امریکہ میں 50 ریاستوں میں جنسی رشتوں کی عمر 16 سے18 سال تک ہے ہر ریاست میں الگ الگ عمر ہے اور تقریباً ہر امریکی ریاست میں ڈیٹنگ ، ہیگنگ، ہاتھ پکڑنا، بوسہ لینا جرم نہیں ہے۔ سنیما اور ٹی وی میں بڑھتی فحاشی بھی جنسی رشتوں میں آئی تیزی کی ایک خاص وجہ ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Sex, Sex Change, Vir Arjun

01 مئی 2012

Check out Daily Pratap Urdu Newspaper

facebook
73 people like this

Check out Daily Pratap Urdu Newspaper


Hi,

Daily Pratap Urdu Newspaper is inviting you to join Facebook.

Once you join, you'll be able to connect with the Daily Pratap Urdu Newspaper Page, along with people you care about and other things that interest you.

Thanks,
Daily Pratap Urdu Newspaper

Join Facebook
This message was sent to advertisement2.urdu@blogger.com. If you don't want to receive these emails from Facebook in the future, please click: unsubscribe.
Facebook, Inc. Attention: Department 415 P.O Box 10005 Palo Alto CA 94303

سپریم کورٹ کا دور رس فیصلہ پرموشن میں ریزرویشن نہیں




Published On 1 May 2012
انل نریندر


اترپردیش کی سابق وزیراعلی مایاوتی سرکار کے ایک بڑے فیصلے کو زبردست جھٹکا لگا ہے جب جمعہ کو سپریم کورٹ نے اترپردیش کے سرکاری ملازمین کو پرموشن اور سینیرٹی میں ریزرویشن کا فائدہ دینے کیلئے سرکار کی جانب سے بنائی گئی دو تجاویز کو غیرآئینی قراردے دیا۔ اس فیصلے کا اثر دیگر ریاستوں میں بھی سرکار کو طرف سے اپنے ملازمین کو دئے جانے والے ریزرویشن کے قواعد پر بھی پڑے گا۔ اگر مانیں اعدادوشمار پر کسی ریاستی حکومت نے ریزرویشن لاگو کیا ہوگا تو اسے چنوتی دینے کے لئے بڑی عدالت کا یہ فیصلہ میل کا پتھر ثابت ہوگا۔ مایاوتی نے پرموشن میں ریزرویشن لاگو کیا تھا جس کے چلتے اترپردیش میں ہزاروں ملازمین اور افسران کو ترقی ملی تھی۔ پرموشن پانے والے سارے لوگ ریزرو طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے چلتے برسوں سے جونیئر لوگ اپنے سینئروں سے بھی سینئر ہوگئے تھے۔ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو غلط قراردیا تھا جس پر اس وقت کی مایاوتی سرکار سپریم کورٹ چلی گئی تھی۔ اب سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو خارج کردیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔ ان سبھی لوگوں کا پرموشن واپس لے لیا جائے گا اور یہ کام آسان نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ لوگوں کی ترقی ،سینیرٹی لسٹ کے مطابق ہی ہوگی اور جن کا پرموشن ہوچکا ہے ان کی سینیرٹی لسٹ میں وہی جگہ ہوجائے گی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ غور طلب ہے کہ مایاوتی سرکار نے ریاستی ملازمین کی ترقی میں دلتوں کے لئے ریزرویشن کی سہولیت نکالی تھی۔ ریاستی ملازمین کا ایک بڑا طبقہ اس کے سخت خلاف تھا اور انہوں نے اس پالیسی کو ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔ ہائی کورٹ نے مانا کے پرموشن میں ریزرویشن نہیں ہونا چاہئے۔ 
مایاوتی سرکار نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ عدالت نے یوپی اسٹیٹ سروس درجہ فہرست ذاتوں و قبائلیوں و انتہائی پسماندہ طبقہ ریزرویشن ایکٹ 3(7) و9 سروس سینیرٹی ایکٹ 8(a) کے معاملے میں ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کے فیصلے کو جاری رکھا ہے۔ جبکہ الہ آباد بنچ کے حکم کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ سینئر عدالت نے فیصلے میں صاف کہہ دیا ہے کہ جن ملازمین و افسران کو ان سہولتوں کا فائدہ دیا جاچکا ہے ان پر یہ فیصلہ نافذ نہیں ہوگا۔ اترپردیش کی سپا سرکار بھی پرموشن کوٹے کو ختم کرنے کے حق میں ہے۔ سماجوادی پارٹی نے اپنے چناؤ مینی فیسٹو میں باقاعدہ اس کا ذکر کیا تھا کہ سرکار بننے پر پرموشن میں ریزرویشن ختم کیا جائے گا۔ اس فیصلے کا اثر راجستھان سمیت کئی دیگر ریاستوں پر بھی پڑے گا۔ ویسے بھی سپریم کورٹ میں راجستھان سرکار کی طرف سے نافذ ریزرویشن کو چیلنج کرنے کا معاملہ زیر التوا ہے۔ مختلف ریاستی سرکاریں اگر چاہیں تو سپریم کورٹ کے اس دور رس فیصلے کا فائدہ لے سکتی ہیں لیکن یہ معاملہ قانونی سے زیادہ سیاسی ہے۔ ووٹ بینک پالیٹکس کے چلتے اس طرح کا کوٹا سسٹم لاگو کیا جاتا ہے۔ پرموشن میں ریزرویشن دیش کے مفاد میں کبھی نہیں ہوسکتا۔ داخلوں میں ریزرویشن پھر بھی سمجھ میں آتا ہے۔ پرموشن کو میرٹ و سینیرٹی کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Quota in Promotion, Supreme Court, Vir Arjun, Uttar Pradesh, Mayawati, 

یوں ہوا اسامہ بن لادن کا خاتمہ



Published On 1 May 2012
انل نریندر
امریکہ کی نامور میگزین دی ٹائم نے پہلی مرتبہ اسامہ بن لادن کے متعلق ایک خفیہ رپورٹ شائع کی ہے جس میں صدر براک اوبامہ نے لادن کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔ حالانکہ اس پورے آپریشن کی ساری کارروائی پہلے بھی منظر عام پر آچکی ہے لیکن میگزین ٹائم کی رپورٹ ایک طرح سے پختہ رپورٹ مانی جاسکتی ہے۔ خفیہ میمو میں اوبامہ نے بحریہ کے سیلس کمانڈو کی ایک ٹیم کو لادن کے ایبٹ آباد میں واقع ٹھکانے سے پکڑنے کے احکامات دئے تھے۔ اس میمو پر سی آئی اے کے اس وقت کے چیف لیون پینیٹا نے بھی دستخط کئے ہیں۔ اسامہ کے ٹھکانے پر نہ ملنے کی صورت میں اس کو تلاش کرنے کے بعد ہی لوٹنے کا دیا تھااب جبکہ اسامہ بن لادن کی موت کو ایک سال ہوجائے گا میمو میں مزید کہا گیا تھا کہ وقت اور آپریشن کے چلانے اور فیصلے اور حملے کے کنٹرول سے متعلق سبھی معاملات کی کمان ایڈمرل میکربین کے ہاتھوں میں ہوں گی۔ اسامہ پر فیصلہ لئے جانے سے پہلے وائٹ ہاؤس میں مہینوں چلی خفیہ و مشکل تبادلہ خیالات پر ٹائم میگزین نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس کے لئے اوبامہ صدارتی عہدے کا داؤ لگا رہے تھے۔ دنیا کے انتہائی مطلوب شخص کو پاکستان میں امریکی کمانڈو بھیج کر پکڑنے کا فیصلہ اتنا آسان نہیں تھا۔ اسامہ کے ساتھ آخری مڈبھیڑ پر ٹائم میگزین نے لکھا ہے کہ اندھیری رات تھی ،بجلی گل تھی اورگھپ اندھیرا تھا اس نے اسامہ کی بے چینی بڑھا دی۔اس نے اس گیٹ کو کھولا جو اس کے کمرے تک پہنچنے کے سبھی راستوں کو بند کرتاتھا اور گیٹ کو صرف اندر سے ہی کھولا جاسکتا تھا۔اس نے یہ دیکھنے کیلئے سر باہر نکالا کہ وہاں کیا ہورہا ہے؟ فوراً وہ سیلس کمانڈوں کی نظروں میں آگیا اور وہ سیڑھیوں پر چڑھ گئے۔ اسامہ نے ایک بڑی غلطی اور کردی، وہ دروازہ بند کرنا بھول گیا جس سے کمانڈو سیدھے اس کے کمرے میں دھابہ بول دیا۔ کمانڈو نے لادن کے سینے اور بائیں آنکھ میں گولیاں مالیں۔ اس سے اسے موقعہ پر ہی ماردیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے یہ ایک ناقابل بیاں منظر تھا۔ اس کے دماغ کے پرخچے اڑ گئے اور چھت سے جا چپکے۔ اس کا کچھ حصہ آنکھوں سے باہر نکل آیا۔ بستر کے نزدیک کی جگہ بھی اسامہ کے خون سے لت پت ہوگئی۔ ایک دہائی سے چھپتا پھر رہا اسامہ بیحد تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ بچ کر نکلنے کی اس نے کئی اسکیمیں نہیں بنائی تھیں اس کے گھر سے کوئی خفیہ راستہ باہر نہیں جاتا تھا۔ لادن مارے جانے سے پہلے پاکستان میں کئی حملوں کی اسکیم بنا رہا تھا۔ ایبٹ آباد کمپلیکس سے ملے دستاویز سے ایک بات سامنے آئی ہے۔ میڈیا میں شائع رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ لادن نے القاعدہ کے نمبر دو سرغنہ ایمن الظواہری اور بڑے آتنکیوں کے ساتھ مل کر پاکستان پر بہت سے حملوں کی اسکیم بنائی تھی۔ ادھر امریکہ کی ایک فیڈرل عدالت نے لادن کو تقریباً ایک برس پہلے پاکستان میں مارے جانے کے ویڈیو اور تصویریں جاری کرنے کی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔ ایبٹ آباد میں مارے جانے کے بعد لادن کی لاش کو سمندر میں دفنا دیا گیا لیکن سکیورٹی وجوہات سے اس آپریشن سے وابستہ ویڈیو اورتصویریں پبلک کے سامنے نہیں لائی گئی تھیں۔ اسامہ بن لادن کی برسی سے چند دن پہلے پاکستان نے اس کی تین بیوہ بیویوں سمیت 14 رشتے داروں کو ملک سے نکال کر سعودی عرب بھیج دیا ہے۔ سخت حفاظت کے درمیان لادن کے خاندان کو درمیانی رات میں راولپنڈی کے چکلال فوجی ہوائی اڈے سے لیجایا گیا جہاں سے خاص جہاز سے انہیں سعودی عرب بھیج دیاگیا۔ لادن پچھلے سال 2 مئی کو مارا گیا تھا۔
Abbotabad, Anil Narendra, Daily Pratap, Obama, Osama Bin Ladin, Pakistan, Vir Arjun

30 اپریل 2012

DAILY PRATAP, URDU DAILY,NEW DELHI, INDIA...

DAILY PRATAP, URDU DAILY,NEW DELHI, INDIA, FIRST UNICODE WEBSITE OF ASIA: بنگارولکشمن اورسیاست کی لکشمن ریکھا
شاہدالاسلام. بی جے پی کے سابق صدر بنگارولکشمن کو آخر کار مصدقہ طور پر رشوت خور قرار دے دیاگیا۔ 11سال کے طویل انتظار کے بعد اس حقیقت پر عدالت نے مہرلگادی کہ بھگوابریگیڈ کے 'کمانڈر اِن چیف' کی ح...
View or comment on MOHAMMED MOHSIN's post »
Google+ makes sharing on the web more like sharing in real life. Learn more.
Join Google+
You have received this message because MOHAMMED MOHSIN shared it with advertisement2.urdu@blogger.com. Unsubscribe from these emails.

29 اپریل 2012

سچن اورریکھا کے تیر سے کانگریس کے کئی نشانے

جمعرات کو صدر پرتیبھا پاٹل نے نامزد راجیہ سبھا ممبران کی فہرست پر دستخط کر سچن تندولکر ، فلم اداکار ریکھا اور کاروباری انو آغا کو راجیہ سبھا کا ممبر بنا دیا۔ کرکٹ کے میدان سے شروع ہوئی سچن تندولکر کی پاری اب پارلیمنٹ تک پہنچ گئی ہے۔ کسی کھیلتے کھلاڑی کو راجیہ سبھا کے لئے نامزد کرنے کا یہ پہلا موقعہ ہے۔ سنچریوں پر سنچری لگانے کے بعد کانگریس صدر سونین گاندھی سے ان کی رہائش گاہ 10 جن پتھ پر ملاقات کی اور تب سے اس بات کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی تھیں کہ وہ راجیہ سبھا کے نامزد ممبر کے طور پر آسکتے ہیں۔ سونیا گاندھی نے جمعرات کو رسمی طور سے سچن کو اس بات کی پیشکش کی تھی جسے وہ مان گئے۔ پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سچن نے جب اپنی سوویں انٹرنیشنل سنچری بنائی تھی تبھی سے کانگریس صدر انہیں مبارکباد دینا چاہتی تھیں اور مبارکباد دینے کے بہانے انہوں نے سچن کے سامنے راجیہ سبھا میں آنے کی پیشکش کو باقاعدہ طور پر رکھ دیا۔ سونیا گاندھی کے ساتھ سچن نے آدھا گھنٹہ گزارا۔ راجیہ سبھا میں نامزد کر کانگریس نے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب کانگریس نے اس تنازعے کو بھی ختم کردیا ہے کہ دھیان چند اور سچن کو بھارت رتن دیا جائے، شیو سینا کے ترجمان سنجے راوت نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس بغیر مفاد کے کسی کو کوئی عہدہ نہیں دیتی۔ ایسے میں سچن کو کانگریسی جھانسے سے ہوشیار رہنا چاہئے۔ ان کا خیال ہے کانگریس لیڈر مہاراشٹر میں اپنی سیاست کے لئے سچن کی مقبولیت کو بھنانا چاہتے ہیں۔ ٹیم انا کی سپہ سالار کرن بیدی نے بھی کہا کہ سچن کو کانگریس کے سیاسی جال سے بچ کر رہنا چاہئے۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ مرکزی سرکار اور کانگریس تمام بحرانوں سے گھری ہوئی ہے ایسے میں وہ سچن کا استعمال کرنا چاہتی ہے جبکہ سچن تو پورے دیش کے ہیروہیں۔ کانگریس کی سیاست کی بات پر ریکھا کو نامزد کرنے پر بھی ہمیں کم تعجب نہیں ہوا۔ میرے پاس طرح طرح کے ایس ایم ایس آرہے ہیں۔ ایک ایس ایم ایس آیا جو کام امیتابھ تمام زندگی نہیں کرسکے وہ کانگریس نے کردکھایا۔ جیہ اور ریکھا کو ایک ہاؤس میں لاکر بٹھا دیا۔ ایک دیگر ایس ایم ایس آیا ہیما، ریکھا، جیہ بچن اور سشما سب کی پسند نرما۔ راجیہ سبھا اب نرما کا اگلا اشتہار راجیہ سبھا میں بنے گا۔ سماجوادی پارٹی نے جیہ بچن کو اپنی تعداد کی بنیاد پر یوپی کے کوٹے سے راجیہ سبھا میں پہنچایا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کبھی کانگریس سے وابستہ رہے اور پھر سپا چیف ملائم سنگھ یادو کے ہمسفر امیتابھ بچن کو کاؤنٹر کرنے کے لئے کانگریس نے جو داؤ چلا ہے اسے ریکھا کے ذریعے سے ایک تیر سے کئی شکار کئے گئے ہیں۔ فلمی دنیا سے راجیہ سبھا ممبران کو لانے کی بھلے روایت اور آئینی تقاضہ رہا ہو لیکن اس کڑی میں سنیل دت ایک ایسی شخصیت تھے کے ان کی سیاسی سوجھ بوجھ اور طریقہ کار کی آج بھی مثال دی جاتی ہے۔ اس نقطہ نظر سے ریکھا اب57 برس کی عمر میں سیاسی زمین پر کیا دیش کے لئے ایک مثال قائم کر پائیں گی؟ بہرحال سچن تندولکر اور ریکھا کو مبارکباد۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Rekha, Sachin, Samajwadi Party, Vir Arjun

پاکستان سپریم کورٹ کا متنازعہ فیصلہ


Published On 29 April 2012
انل نریندر
حالانکہ پاکستان سپریم کورٹ نے عدلیہ اور چنی اور حکومت میں ٹکراؤ ٹالنے کی صورت میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو جمعرات کو عدالت میں توہین عدالت کا قصوروار مانا لیکن عدالت نے انہیں عدالت برخاست ہونے تک ہی یعنی سماعت کے اختتام تک انہیں کیبن میں موجود رہنے کی علامتی سزا سنائی لیکن اس سے ہمیں نہیں لگتا کہ یہ تنازعہ ختم ہوگا۔ یہ علامتی سزا صرف 30 سیکنڈ کی تھی ۔ان30 سیکنڈ نے کئی سوال کھڑے کردئے ہیں۔ قانون کا قد کبھی عوام سے بڑا نہیں ہوسکتا۔ دراصل قانون بنایا ہی عوام کی سہولیت کے لئے گیا ہے۔ ہمارا خیال ہے پاکستان سپریم کورٹ نے وزیر اعظم گیلانی کو سزا دیکر کوئی اچھی مثال پیش نہیں کی ہے۔ عدالت کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ وزیر اعظم بھی چنی ہوئی سرکار کے نمائندہ اور پاکستان میں جمہوریت کی علامت ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کی ہمت کی داد دینی ہوگی۔ آج بھی وہ اپنے موقف پر قائم ہیں۔ آج بھی وہی اشو بنا ہوا ہے کہ وزیر اعظم اس بات کے لئے تیار نہیں ہیں کے وہ صدر زرداری کے کھاتوں کی جانچ کے لئے سوئٹزرلینڈ کے حکام کو خط لکھیں۔ اگر وزیر اعظم اس مسئلے پر سپریم کورٹ سے سمجھوتہ کرتے تو ممکن ہے ان کی سرکار بلاتاخیر گر جائے۔ وزیر اعظم اگر نہیں مانتے تو سپریم کورٹ کہیں زیادہ سخت قدم اٹھا سکتی ہے۔عدالت نے یہ کہا تھا کہ زرداری کو کرپشن کے خلاف معاملوں میں جو معافی سابق صدر پرویز مشرف نے دی تھی وہ غیر قانونی طور پر تسلیم نہیں ہے۔ اس لئے وزیر اعظم گیلانی کو سوئٹزرلینڈ سرکار کو چٹھی لکھنی چاہئے۔ سرکار سپریم کورٹ کا یہ آدیش نہیں مان سکتی۔2007 میں فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس محمد افتخار چودھری کو برخاست کردیا تھا۔ اس کے کچھ عرصے کے بعد وہ واپس بحال ہوکر آگئے اور عدالت کے تمام پرانے ملزم بحال کردئے گئے۔ ایسے ہی لوگ رکھے گئے جو یہ فیصلہ سنا سکیں کہ جنرل پرویز مشرف وہاں صدارتی چناؤ لڑ سکیں۔ ایک فوجی صدر کے ہاتھوں اس طرح سے بے عزت ہونے کے بعد سے پاکستان کی عدلیہ اس موقع کی تلاش کررہی تھی ، جب وہ پھر سے اپنی طاقت دکھا سکے۔ پاکستان سرکار کی حکمت عملی اب بھی یہی ہے کہ سپریم کورٹ کوئی سخت قدم اٹھائے تو وہ جمہوریت کے حق میں شہادت کے اشو پر جنتا کی ہمدردی پائے۔ سپریم کورٹ بھی سرکار کی اس حکمت عملی سے واقف ہے اس لئے اس کی کوشش ہے کہ اگلے عام چناؤ تک اس طرح کا بھروسہ اتنا کم ہوجائے کہ وہ چناؤ نہ جیت سکیں۔ اس لڑائی میں عدلیہ کو پاکستانی فوج کی پوری حمایت حاصل ہے۔ فی الحال راحت کی بات یہ ہے کہ فوج خود اقتدار سیدھے نہیں ہتھیانا چاہتی۔ پاکستانی فوج کا سب سے قریبی امریکہ بھی یہ نہیں چاہتا کہ پاکستان میں جمہوریت ختم ہو۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے اس معاملے کو اتنا بڑھایا۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے پاک پارلیمنٹ بھی شاید متفق ہو۔ زرداری کی یہ سرکار پانچ سال پورا کرنے جارہی ہے۔ یہ اپنی آپ میں بہت بڑی بات ہے۔ پارلیمنٹ چناؤ عنقریب ہونے والے ہیں۔ بہتر ہوتا سپریم کورٹ اس معاملے کو عوام کی عدالت پر چھوڑدیتی؟ بہتر ہوتا اس معاملے میں گیلانی کے تین بار کورٹ میں موجود ہونے کو ہی اس بات کا ثبوت مان لیتی کہ منتخبہ حکومت عدلیہ کا احترام کرتی ہے اور اس نے اپنی بھول کا اعتراف کرلیا ہے۔ سزا دے کر کورٹ نے اپنے غرور کا ایک طرح سے ثبوت دے دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس بات پر توجہ نہیں دی کہ ان کے اس قدم سے پاکستان میں غیر جمہوری طاقتوں کو پھر سے سرگرم ہونے کا موقعہ ملے گا اور داؤ پر صرف زرداری سرکار ہی نہیں خود عدلیہ اور پاکستانی عوام کا مستقبل بھی ہوگا۔
Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Daily Pratap, Pakistan, Vir Arjun, Yousuf Raza Gilani

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...