14 فروری 2015

جنتا کا موڈ اب مکمل اکثریت والی سرکار بنانے کا ہے

اترپردیش ، گجرات، راجستھان ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، جھاڑ کھنڈاور ہریانہ کے بعد اب دہلی میں ووٹروں نے دل کھول کر ایک ہی پارٹی کے حق میں ووٹ ڈالا ہے ان کا یہ ووٹ ایک مضبوط حکومت کے لئے، اس درمیان مہاراشٹر اور جموں وکشمیر میں ہوئے چنائو وہاں الگ الگ چنائو لڑی اور بھاجپا اور شیوسینا بعد میں اکٹھی ہوگئی۔ اب دونوں مل کر ایک مضبوط سرکار چلا رہے ہیں۔ ادھر جموںو کشمیر کی جنتا نے بھاجپا اور کشمیر کی جنتا نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی( پی ڈی پی) کو کھل کر ووٹ دیا اب نیتائوں نے نہیں الٹے جنتا نے سیاسی پارٹیوں کی نبض پکڑ لی۔یہی وجہ ہے کہ 2013میں ہوئے دہلی اسمبلی چنائو میں بھاجپااتحاد کو 32 عام پارٹی کو 38 سیٹیں دینے والی جنتا نے اس بار مضبوط سرکار کے لئے اروند کیجریوال کی پارٹی کے حق میں زبردست ووٹ ڈالا۔ سال 2012 میں اترپردیش کی عوام نے اکھلیش یادو کی قیادت میں یوپی میں اکثریتی حکومت بنائی اسی سال گجرات میں نریندر مودی کی قیادت میں بھاجپا مسلسل تیسری بار کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد یہ پیغام پورے دیش میں چلا گیا۔ پائیدار سرکار ہو تو ترقی ہوتی ہے ۔ یوپی اے کی اتحادی سرکار کاحشر دیکھا ہے۔ کہ کس طرح اتحادی سرکار کے ساتھ ہی صحیح سمت میں چلنے سے روکتے ہیں۔یہی وجہ تھی پچھلے سال ہوئے لوک سبھا چنائو میں نریندر مودی کی قیادت میں دیش میں ایک مضبوط سرکار بنی تواس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ دیش میں اتحادی حکومتوں کا دور بنا رہے گا۔ تب ہی دیش کی عوام نے اسے مسترد کرناشروع کردیا۔ عوام نے ملحق اسمبلیوں کا نتیجہ بھی دیکھ لیا ہے اب جنتا ایسی حکومتیں بنانا چاہتی ہے جس کے پاس مکمل اکثریت ہو۔ اور وہ یہ بہانہ نہ سکے کہ ہم تو چاہتے ہیں لیکن یہ ہمارے اتحادی ساتھی ہمیں چلنے نہیں دیتے۔ دیش میں ووٹروں کاموڈ بدل رہا ہے۔ اور یہ اچھی بات ہے کہ بہت کچھ ہوچکا ہے اب یہ جوڑ توڑ کی سیاست کا خاتمہ ہوناچاہئے۔ اوردیش کی عوام کو بھی یہ بات سمجھ آچکی ہے کہ اب اگلا چنائو بہار میں ہونا ہے وہاں جنتا دل(یو) کا اتحاد ہوگا اوردوسری طرف بھاجپا لیڈر شپ اتحاد ہوگا۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا پھر بہار کی جنتا ایک مضبوط سرکار بنا پائے گی؟ دوسری طرف یہ بھی صحیح کہ دہلی اسمبلی چنائو میں عام پارٹی کی جیت سے علاقائی پارٹیوںکے حوصلے بلند ہوگئے ہیں ابھی تک مودی لہر اور شاہ کی سیاست کے سامنے خود کو پیٹا ہوا سمجھ رہے ہیں۔سیاسی پارٹی دہلی نتائج سے سرگرم ہونے لگے ہیں کیونکہ عام کی جیت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ مودی لہر پوری طرح ختم ہوچکی ہے۔ اس جیت نے بہار اوراترپردیش میں بھی غیربھاجپا غیر کانگریس پارٹیوں کی امیدیں بڑھا دی ہیں اور بھاجپا سے خوف کھائی یہ علاقائی پارٹیاں اب سینہ تان کھڑی ہوتی نظر آئیں گی۔ (انل نریندر)

بہار کا عجیب وغریب سیاسی بحران

بہار میں ان دنوں ایک عجیب وغریب سیاسی بحران کھڑا ہوگیا ہے۔ بہار میں حکمراں جنتا دل (یو) میں لیڈر شپ کی تبدیلی کا فیصلہ ہوا ۔ کل 111میں 97 ممبران اسمبلی کی موجودگی میں موجودہ وزیراعلی جتین رام مانجھی کی جگہ پر نتیش کمار کو اتفاق رائے سے اسمبلی پارٹی کا لیڈر چن لیا گیا ہے۔ نمبروں کے حساب جتین رام مانجھی کے پاس کل 14ممبران کی حمایت بچی ہیں لہذا جب اتنی زبردست ممبران کی اکثریت نتیش کے ساتھ ہے تو انہیں ہٹ جانا چاہئے تھا۔ لیکن انہوں نے اسمبلی پارٹی کی اس میٹنگ کو ہی ناجائز مانتے ہوئے پارٹی کا فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا ۔ ان کی دلیل تھی کہ اسمبلی پارٹی کی میٹنگ صرف وزیراعلی ہی بلا سکتا ہے۔ ادھر پٹنہ ہائی کورٹ نے ان کے اس دعوے کر صحیح مانتے ہوئے نتیش کو جے ڈی یو اسمبلی پاری کا لیڈر چنے جانے کے فیصلے پر روک لگادی ہے۔عدالت کے فیصلے کے بعد بہار میں سیاسی موڑ بحران ایک نئے موڑ میں داخل ہوگیا ہے۔ ہائی کورٹ کاکہنا ہے کہ نتیش کمار کو جتنا دل(یو) کے اسمبلی پارٹی کا لیڈر تسلیم کرنے کا اسمبلی اسپیکر کافیصلہ غلط ہے کیونکہ عام طور سے ایک نیا وزیراعلی چننے جیسا ہے دوسری طرف وزیراعلی جتین رام مانجھی استعفی نہ دینے پر اڑے ہوئے ہیں۔ اور وزیراعلی کے ساتھ اکثریت ہے یا نہیں اس کافیصلہ اسمبلی میں ہوگا۔ اس دلیل پر وہ اڑے ہوئے ہیں۔ حالات جس انتہا پر پہنچے ہیں وہاں اب سب کچھ گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی کے فیصلے پر منحصر ہے مانجھی کہہ چکے ہیں وہ19 یا20 فروری اعتماد کاووٹ حاصل کرنے امتحان کے لئے تیار ہے اب وہ اکثریت ثابت کردیں گے تو پھر سے وزیراعلی کی کرسی پر بیٹھنے کو تیار نتیش کمار شاید کچھ زیادہ ہی جلدی میں ہے۔ پٹنہ ہائی کور ٹ کافیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب وہ دہلی میں طاقت کامظاہرہ کرنے کے لئے راشٹرپتی بھون گئے تھے اور وہاں صدر کے سامنے اپنے حمایتی ممبران کی پریڈ کروا رہے تھے۔ نتیش کمار کے پاس درکار حمایتیوں کی حمایت ہوسکتی ہے لیکن یہ کوئی صحیح طریقہ نہیں ہے وہ ممبران کی پریڈ صدر کے سامنے کرائے۔کسی لیڈر کے پاس سرکار بنانے لائق حمایت ہے یا نہیں اس کا فیصلے کا تعین اسمبلی میں ہی ہوناچاہئے نہ کہ راشٹربھون میں نتیش کمار اس نئی روایت کی کوشش کو صحیح نہیں مانا جاسکتا ہے۔ بہتر ہوتا کہ وہ گورنر کے فیصلے کا انتظار کرتے اب گورنر کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ پارٹی لائنس سے اوپر اٹھ کر فیصلے لیں۔ ان کے فیصلے میں کچھ ایسا نہیں دکھائی دیناچاہئے کہ آئین طریقے سے وہ کام نہیں کررہے ہیں۔ بنیادی اشو یہ ہے کہ اگروزیراعلی کے ساتھ اکثریت ہونے پر شبہ ہو تو جلد سے جلد اسمبلی میں فیصلہ ہو کیونکہ جتنا وقت لگے گا ممبران اسمبلی کی خرید وفروخت اور سیاسی اتھل پتھل کا موقعہ ملے گا۔
(انل نریندر)

13 فروری 2015

دہلی میں یہ تو سیاسی زلزلہ ہے

پچھلے دہلی اسمبلی چناؤ میں کانگریس کے8 ممبر اسمبلی جیت کر آئے تھے تو لوک سبھاچناؤ کمپین کے دوران مودی کی ریلیوں میں بھاجپا کے اس وقت کے قومی صدر طنز کرکے کہتے تھے کہ ایک انووا کار میں ہی سوار ہوکر اسمبلی جا سکتے ہیں اب بھاجپا کی یہ پوزیشن بن گئی ہے کہ اس کے ممبر اسمبلی آٹو میں ہی جاسکتے ہیں۔ 10 لاکھ کے سوٹ پر100 روپے کا مفلر بھاری پڑ گیا۔
اترپردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے دہلی اسمبلی چناؤ میں تاریخی کامیابی پر عام آدمی کے کنوینر اروند کیجریوال کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ لو جہاد، گھر واپسی،چار بچے پیدا کرنے جیسے اشوز کو طول دینے کی وجہ سے بھاجپا کو زبردست ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جس طرح دہلی کی عوام نے اس اشوز کو سرے سے مستردکر بھاجپا کو ایک سبق سکھایا ہے اسی طرح اترپردیش کی عوام بھی 2017ء کے اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کو سبق سکھائے گی۔ گلوبل میڈیا نے عام آدمی پارٹی کی جیت کو سیاسی زلزلہ قراردیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی پر طنز کرتے ہوئے انٹرنیشنل میڈیا لکھتا ہے کہ جو اوپر جاتا ہے اسے نیچے آنا ہی پڑتا ہے۔ ’دی نیویارک ٹائمس‘ نے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کی شاندار جیت کے ایک سال سے بھی کم وقت میں دہلی میں اس کی ہار کو زبردست سیاسی زلزلہ بتایا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ لوک سبھا چناؤ میں تاریخی جیت درج کر مودی انڈیا کے پرائم منسٹر بنے۔ منگل کی ہار ایک سیاسی زلزلہ سے کم نہیں ہے، وہیں واشنگٹن پوسٹ نے اسے نئی کرپشن مخالف عام آدمی پارٹی کے ہاتھوں بی جے پی کی ناقابل یقین شکست قراردیا ہے۔
اخبار نے لکھا ہے، دہلی چناؤ نے مودی کو جھٹکا دیا ہے۔سی این این نیٹ ورک نے مودی پر طنز کسنے کے لئے سائنسداں نیوٹرن کی فزکس کے اصول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جو اوپر جاتا ہے اسے نیچے آنا ہی ہوتا ہے۔ گلوبل میڈیا میں کیجریوال کی کامیابی کا اتنا ذکر نہیں جتنا مودی کی ہار کا ہے۔ ادھر شاندار کامیابی پر اروند کیجریوال کو مبارکباد دیتے ہوئے جنتا دل (یو) نے منگل کو کہا کہ دہلی کے لوگوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور بھاجپا کو نامنظور کردیا ہے۔ جنتا دل (یو) کے پردیش پردھان نے پٹنہ میں کہا کہ اروند کیجریوال نے ایک بڑی لڑائی جیتی ہے نتیجے یہ بھی اشارہ دیتے ہیں کہ دہلی کے لوگوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور بھاجپا کے طریقہ کار کو پسند نہیں کیا ہے۔ لوگوں نے10 لاکھ کا سوٹ پہننے والے کے مقابلے سادہ زندگی بسر کرنے والے شخص کو ترجیح دے کر یہ پیغام دیا ہے کہ چائے بیچنے والے کو10 لاکھ روپے کا سوٹ پہن کر عام آدمی کی بات نہیں کرنی چاہئے۔دہلی اسمبلی چناؤ میں عام آدمی کے طوفان میں بھاجپا کا صفایا ہوگیا لیکن جو بے درگتی 125 سال سے زیادہ پرانی کانگریس پارٹی کی ہوئی اس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ کانگریس کے سرکردہ امیدوار اپنی ضمانت تک نہیں بچا سکے۔ پارٹی نے اس چناؤ میں اپنا کھاتہ تک نہیں کھولا۔ اسی کے ساتھ اس کے دوتہائی امیدواروں نے ضمانت ضبط کراکر ایک اور ریکارڈ بنا ڈالا۔
دہلی میں کانگریس کی کس قدر بری حالت ہوئی اس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ پارٹی کے70 سے محض8 امیدوار ہی ضمانت بچا سکے۔ یعنی62 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں۔ پارٹی کے چہرے کے طور پر چناؤ لڑ رہے اجے ماکن تک اپنی ضمانت نہیں بچا پائے۔ کانگریس کے آدھے امیدوار10 ہزار ووٹوں کا نمبر بھی پار نہیں کرپائے۔ وہیں 13 امیدواروں کو تو5 ہزار سے بھی کم ووٹ ملے۔ کرن والیہ کو تو 400 سے بھی کم ووٹ ملے۔یہ پہلی دہلی اسمبلی ہوگی جس میں کانگریس غائب رہے گی یعنی ایک بھی کانگریسی اسمبلی میں نہیں ہوگا۔ کانگریس کی131 سالہ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے جب کسی بھی ریاست کے اسمبلی چناؤ میں اس کا ایک بھی امیدوار جیت نہیں پایا۔ اتنے بڑے پیمانے پر سرکردہ ہستیوں کی ضمانت ضبط ہوئی ہے۔ اس چناؤ سے ٹھیک پہلے پارٹی بدل کر اقتدار ہتیانے میں لگے اہم سرکردہ لیڈروں کو بھی جنتا نے مسترد کردیا ہے۔ ہارنے والوں میں سابق مرکزی وزیر کرشنا تیرتھ، سابق اسمبلی اسپیکر ایم۔ ایس دھیر، تین سابق ممبر اسمبلی و تین کونسلر بھی شامل ہیں۔ 
وہیں کیجریوال کی ہوا میں پارٹی بدلنے والے 6 کونسلر ،1 سابق ممبر اسمبلی و اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکراسمبلی میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ لوک سبھا چناؤ کے بعد پی ایم مودی اور امت شاہ کی جوڑی نے جو چناؤ لڑا وہ جیتا ہے۔ دہلی چناؤ ہار گئے۔ 13 سال میں اس جوڑی نے پہلی بار چناؤ ہارا ہے۔ امت شاہ نے19 سال کی عمر میں چناؤ کا انتظام سنبھالنا شروع کیا تھا اور کوآپریٹیو سے لیکر پارلیمنٹ تک 3 درجن سے زیادہ چناؤ کا انتظام دیکھا ، ہر بار جیتے ہیں۔ دہلی میں مودی۔ امت شاہ۔ جیٹلی کی تکونی جوڑی کی ہار سے مودی مخالفین کے چہرے کھل گئے ہیں۔ نتیش کمار، ممتا بنرجی کافی خوش نظر آرہے ہیں۔ ’آپ‘ کی کامیابی کا پہلا اثر بہار میں دکھائی دے رہا ہے۔
بھاجپا اب جتن رام مانجھی سے پلا جھاڑ چکی ہے۔ اسے جنتادل(یو) کی اندرونی لڑائی قراردے رہی ہے۔ اس چناؤ میں سپا ، آر جے ڈی، جنتا دل(یو) ترنمول کانگریس ، مارکسوادی پارٹی جیسی کئی پارٹیوں نے ’آپ‘ سے رابطہ قائم کیا تھا۔ اب ’آپ‘ کی نگاہیں پنجاب، اترپردیش، اتراکھنڈ پر لگی ہیں۔ ان تینوں ریاستوں کے چناؤ2017 ء میں ہونے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے 4 ایم پی پنجاب سے ہیں۔ شیو سینا کے چیف اودھو ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ ’آپ‘ کی سونامی سے مودی کی لہررکی ہے۔ میں نے کیجری سے کہا اس بار کرسی چھوڑنے کی بھول مت کرنا۔ اگر مجھے دعوت ملی تو میں حلف برداری میں ضرور آؤں گا۔ کرن بیدی کے شوہر برج بیدی نے کہا ہار کے لئے بھاجپا ورکر ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کرن کا ساتھ نہیں دیا ورنہ وہ کیوں چناؤ ہارتیں؟
(انل نریندر)

12 فروری 2015

سال بھر پہلے جس دن استعفیٰ دیا اسی دن حلف لیں گے کیجریوال

دہلی اسمبلی چناؤ میں کیجریوال کی آندھی کا بھاجپا صحیح سے تجزیہ نہیں کرپائی۔ کہنے کو تو بھاجپائی دبی زبان میں کہہ رہے ہیں کہ دہلی میں بھاجپا ہاری نہیں ’آپ‘ جیتی ہے۔وہ کہہ رہے ہیں کہ اس چناؤ میں بھی ہمیں32.2 فیصد ووٹ ملے ہیں جو پچھلی بار سے محض ایک فیصد کم ہیں۔ عام آدمی پارٹی کو پچھلے چناؤ کے مقابلے 2015 میں 24.9 فیصد مزید ملے ہیں۔ یہ ووٹ کانگریس اور دیگر پارٹیوں کا ہے۔ کانگریس کو 9.7فیصد کم ووٹ ملے۔ کانگریس اور دیگر پارٹیوں و آزاد وغیرہ کا پورا ووٹ کیجریوال کو مل گیا اور یہ ہی کہیں بٹا بھی نہیں اسی وجہ سے ’آپ‘ کو67 سیٹیں ملیں بھاجپا کو محض3 سیٹوں پر تسلی کرنی پڑ رہی ہے۔ چناؤ کمپین کے معاملے میں بھی عام آدمی پارٹی نے دیگر پارٹیوں کو پیچھے چھوڑدیا۔ دہلی کے چیف الیکٹرول آفیسر کے دفتر سے جاری اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ اس بار اسمبلی چناؤ میں عام آدمی پارٹی نے صرف الیکٹرانک میڈیا ،ٹی وی ریڈیو اور (سوشل سائٹ) کے ذریعے سے کمپین کے لئے 22 کروڑ سے زیادہ روپے خرچ کئے جبکہ بھاجپا نے قریب12 کروڑ روپے خرچ کئے اس میں پرنٹ میڈیا، ہورڈنکس اور ریلیوں کا خرچہ شامل نہیں۔ ایک سینئر افسر کے مطابق چناؤ کے دوران الیکٹرونک میڈیا سے کمپین کیلئے تیار میٹر کا پہلے چناؤ کمیشن نے میڈیا سرٹیفکیشن اینڈ مونیٹرنگ کمیٹی سے منظوری لینی ہوتی ہے۔ حالانکہ اس بار مسلم ووٹروں نے کھل کر عام آدمی پارٹی کو حمایت دی ہے لیکن 2013 اسمبلی چناؤ کے مقابلے 2015 میں مسلم ممبر اسمبلی کی تعداد گھٹ گئی ہے۔ اس بار کل 4 ممبران اسمبلی جیت کر آئے ہیں جبکہ پچھلے چناؤ میں یہ تعداد 5 تھی۔ عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب سبھی 4 ایم ایل اے پہلی بار اسمبلی میں اینٹری کریں گے۔2013 میں کانگریس نے 8 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی جن میں4 مسلم ممبر اسمبلی تھے۔ تب مٹیا محل سے جیتنے والے شعیب اقبال اس مرتبہ عام آدمی پارٹی کے ہاتھوں چت ہوگئے۔ چودھری متین احمد، حسن احمد اور ہارون یوسف جیسے نامور لیڈر ہار گئے۔ اس سال کل 68 مسلم امیدوار میدان میں تھے جن میں صرف4 ہی جیت پائے۔سب سے زیادہ مسلم امیدوار کانگریس نے 6 اتارے تھے اور یہ سبھی ہار گئے۔ اروند کیجریوال ’آپ‘ اسمبلی پارٹی کے نیتا چنے گئے ہیں اور اس کے بعد انہوں نے سبھی ممبران کو جنتا سے رابطہ قائم کرنے اور غرور نہ کرنے کی نصیحت دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کیجریوال14 فروری کو رام لیلا میدان میں وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لے سکتے ہیں۔ پچھلے سال 14 فروری کو ہی انہوں نے اپنی پوری کیبنٹ سے استعفیٰ دیا تھا۔ حالانکہ پہلے ان کی حلف برداری 15 فروری کو ہونی تھی لیکن اس دن ورلڈ کپ میں بھارت ۔پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ کا مقابلہ ہے اس لئے اس کو دیکھنے کی وجہ سے 14 فروری کو حلف لینے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔
(انل نریندر)

اور اب ایک اور سوئس بینک کے کھاتوں کی فہرست آئی

خفیہ کھاتوں کے لئے مشہور بینک ایچ ایس بی سی کی سوئس برانچ میں مشتبہ کھاتے داروں کی ایک اور فہرست سامنے آگئی ہے۔ ایک انگریزی رونامہ اخبار نے ایک بین الاقوامی تفتیشی نیٹ ورک کے تعاون سے یہ پتہ لگایا ہے کہ اس بینک میں 1195 ہندوستانیوں کی کھاتے ہیں جس میں قریب4 ارب ڈالر یعنی 25 ہزار کروڑ روپے جمع ہیں۔ ان کھاتوں میں دیش کے بڑے صنعتکاروں کے علاوہ سیاسی ہستیاں، ہیرا تاجر اور این آر آئی شامل ہیں۔ بینک کی مانیں تو یہ فہرست چرائی گئی تفصیل کا ایک حصہ ہے اور کھاتے داروں میں سے زیادہ تر کا کہنا ہے کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا۔ کچھ ایسے بھی ہے جنہوں نے اس سے صاف انکار کیا ہے کہ ان کا ایچ ایس بی سی یا کسی دوسرے سوئس بینک میں کوئی کھاتہ نہیں ہے۔ ظاہر سی بات ہے بغیر کسی پختہ ثبوت کے گہری جانچ کے بعد ہی دعوے سے کھاتوں کے بارے میں کچھ کہا جاسکتا ہے۔ مشکل یہ بھی ہے کہ ابھی یہ دعوے سے نہیں کہا جاسکتا کہ کونسا معاملہ محض یکس چوری کا ہے اور کونسا ناجائز طریقے سے کمائی دولت کا ہے؟ ان میں سے کئی کا کہنا ہے یہ اکاؤنٹ قانون کے تحت کھولے گئے ہیں اور ان میں جمع پیسہ بلیک منی کے زمرے میں نہیں آتا۔ بڑے صنعت کاروں مکیش امبانی، انل امبانی اور جیٹ ایئر ویز کے چیئرمین نریش گوئل نے صفائی دی ہے کہ ان کا بینک میں کسی طرح کے ناجائز کھاتے ہونے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ گوئل نے اخبار نویسوں سے کہا کہ کسی طرح کی کالی کمائی نہیں ہے اور کچھ بھی چھپانا نہیں ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ میں سبھی قاعدوں قواعد کی تعمیل کررہا ہوں۔ 
ریلائنس انڈسٹریز کے ایک ترجمان نے کہا کہ ریلائنس انڈسٹریز اور نہ ہی مکیش امبانی کا دنیا میں کسی بھی جگہ غیر قانونی کھاتہ نہیں ہے۔اسی طرح انل امبانی کے ایک ترجمان نے کہا کہ مسٹر امبانی کا بیرونی ممالک میں ایچ ایس بی سی بینک میں کوئی کھاتہ نہیں ہے۔ مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلی نارائن رانے نے بھی کہا کہ سوئس بینک میں ان کا یا ان کے خاندان کے کسی بھی افراد کے کھاتہ ہونے کی بات کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا ماضی گذشتہ میں میرا نام آیا ہے ،اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔سرکار چاہے یوپی اے کی ہو یا این ڈی اے کی، جب جب یہ اشو اٹھا ہے وہ یا تو معاملے کو ٹالنے کی کوشش کرتی ہے یا پھر زور زور سے بولنے لگتی ہے کہ وہ اتنے لوگوں کے نام اجاگر کرے گی اور ضروری کارروائی کرے گی لیکن حال ہی میں سپریم کورٹ نے صاف کہا تھا ان کی دلچسپی بیرونی ملک میں کالی کمائی واپس لانے میں ہے۔ لوگوں کے نام جاننے میں نہیں۔ اس معاملے میں موجودہ حکومت بھی الجھن میں دکھائی پڑتی ہے۔ بی جے پی نے کالی کمائی واپس لانے کا وعدہ تو کیا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اسے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ یہ کام آسان نہیں ہے۔ اچھا ہوگا سرکار ایک وائٹ پیپر کے ذریعے لوگوں اور عدالتوں کے سامنے پوزیشن صاف کرے اور اس مسئلے پر اپنی حکمت عملی کا خاکہ پیش کرے۔ تکنیکی ٹال مٹول اور بے دلیلی سے تو سرکار کی نہ صرف ساکھ خراب ہورہی ہے بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ساکھ بھی متاثر ہورہی ہے۔
(انل نریندر)

11 فروری 2015

بھاجپا اور کانگریس پر کیجریوال کی جھاڑو پھر گئی!

دہلی کا یہ انوکھا اسمبلی چناؤ ہماری جمہوری تاریخ میں اپنی الگ جگہ بنائے گا۔عام آدمی پارٹی اور اس کے کنوینر اروند کیجریوال کو ہم اس شاندار کامیابی پر مبارکباد دینا چاہتے ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے تو ایگزٹ پول کو بھی پیچھے چھوڑدیا ہے۔ اکیلے اروند کیجریوال نے پردھان منتری ،مرکزی وزرا ، ممبران پارلیمنٹ اور دوسری ریاستوں کے وزیر اعلی کو بھی پچھاڑ دیا ہے۔ وہ ایک ’جوائنٹ کلر‘ بن کر ابھرے ہیں۔ آج اگر بھارتیہ جنتا پارٹی کی یہ درگتی ہوئی ہے تو اس کیلئے میں دو افراد کو ذمہ دار مانتا ہوں۔ پہلے وزیر اعظم ہیں دوسرے بھاجپا کے پردھان امت شاہ۔ ایک کے بعد ایک غلطیاں انہوں نے کی ہیں۔ جب لوک سبھا چناؤ کے نتیجے آئے تو نریندر مودی اور بھاجپا کی مقبولیت شباب پر تھی کیا یہ بہتر نہیں ہوتا کہ لوک سبھا چناؤ کے فوراً بعد دہلی کا چناؤ کروا لیا جانا چاہئے تھا لیکن جوڑ توڑ سے حکومت بنانے کے چکر میں ایک سال گزار دیا اور مودی لہر ختم ہوتی چلی گئی۔ پھر ان دونوں بڑے تجربہ کاروں نے سوچا کہ دہلی میں لوکل لیڈر شپ کی تو ضرورت ہی نہیں ہے۔ ایک ایک کرکے مقامی نیتاؤں کو لائن حاضر کردیا۔ پہلے وجے گوئل کو ٹھکانے لگایا، اس کے بعد ہرش وردھن کو جن کی قیادت میں پارٹی پچھلی بار32 سیٹیں لے کر آئی تھی ان کو ممبر اسمبلی سے ہٹا کر لوک سبھا چناؤ لڑوادیا۔ یہ صاف اشارہ تھا کہ ہرش وردھن اب دہلی کی سیاست نہیں کریں گے۔ پھر آیا نمبر ستیش اپادھیائے کا، پروفیسر جگدیش مکھی کو بھی سین سے ہٹا دیا گیا۔ موی۔ امت شاہ اپنے سرکردہ لیڈروں کو ہٹانے میں لگے تھے اور ادھر اروند کیجریوال جم کر کام کرتے رہے۔ انہوں نے اس دوران گھر گھر جاکر جنتا سے 49 دنوں میں بھاگنے پر معافی مانگی، عوام نے نہ صرف انہیں معاف کیا بلکہ ایک اور موقعہ دینے کا بھی فیصلہ کرلیا۔ پارٹی میں تقسیم تو پہلے سے ہی ہوگئی تھی رہی سہی کثر کیرن بیدی کو تھونپنے سے پوری ہوگئی۔ بیشک کرن بیدی خود ایک اچھی خاتون ہیں لیکن ان کے آنے سے پارٹی کی تقسیم ہوگئی۔ بھاجپا کو کانگریس کے صاف ہونے کا نقصان ہوا ہے جو ووٹ بینک کانگریس کا تھا وہ سب شفٹ ہوکر عام آدمی پارٹی کو چلا گیا۔خاص کر دہلی کے اقلیتی ووٹر پوری طرح سے ’آپ‘ پارٹی کے ساتھ تھے ۔ وہ ’آپ‘ کے اتنے حمایتی تھے اور ان میں یہ احساس پیدا ہوگیا تھا کہ بھاجپا کو ہرانے کیلئے ’آپ‘ کو حمایت دینا ضروری ہے۔ انہوں نے پوری طرح سے کیجریوال کی پارٹی کو حمایت دے دی ہے۔ عام آدمی پارٹی کو سبھی طبقوں کی حمایت ملی ہے غریب ، امیر، پڑھے لکھے ،انپڑھ سبھی نے کھل کر ’آپ‘ کو حمایت دی ہے۔ بھاجپا لیڈر شپ کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہئے کہ ’آپ‘ نے پچھلے14 مہینے میں دہلی کے شہریوں کے مسائل کو سلجھانے میں کیا قدم اٹھائے؟ چاہے معاملہ بجلی کا ہو، پانی کا ہو، خاتون کی حفاظت کا ہو، ناجائز کالونیوں کا رہا ہو، سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی کا تھا جس پر صحیح طریقے سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ گھٹنا تو دور رہا بجلی کے بل بڑھ گئے۔ عام آدمی کی جگہ صنعت کاروں کی زیادہ سیوا کرنے کا تاثر عام جنتا میں چلا گیا۔ مودی جی براک براک کرتے رہے اور بیرونی ممالک میں اپنی دھوم مچواتے رہے یہ نہیں دیکھا کہ گھر میں کیا ہورہا ہے۔ امت شاہ جو اپنے آپ کو سیاست کا چانکیہ مانتے ہیں اس چناؤ میں بری طرح بے نقاب ہوئے ہیں۔ ان کی بوتھ مینجمنٹ سے لیکرسارے داؤ الٹے پڑ گئے۔ چناؤ صرف اور صرف دہلی میں تھا لیکن نگاہیں پورے دیش کی لگی ہوئیں تھیں۔ دیش دنیا کے بیدار لوگ دہلی چناؤ کو قریب سے دیکھ رہے تھے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا واقعی وزیر اعظم نریندر مودی کا ناقابل روک یگیہ کا گھوڑا ارندو کیجریوال جیسا سیاست کا نیا نویلا کھلاڑی روکنے میں کامیاب ہوجائے گا۔یا پھر یہ گھوڑا آگے بڑھتا ہی جائے گا۔ اروند کیجریوال نے نہ صرف گھوڑا پکڑ لیا بلکہ نریندر مودی کے یگیہ کی دوڑ پر بھی روک لگا دی ہے۔ اروندکیجریوال سے ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اپنی پرانی غلطیوں سے سبق لیں گے اور ان سے سبق لیکر دہلی میں ایک اچھی ، صاف ستھری سرکار دینے میں کامیاب ہوں گے۔ جنتا کو ان سے بہت امیدیں ہیں۔ ان پرانہیں کھرا اترنے پڑے گا۔ انہیں اور ان کی پارٹی کو اس شاندار جیت پر مبارکباد۔
(انل نریندر)

راہل گاندھی کی لیڈر شپ پر ایک بار پھر سوالیہ نشان؟

یہ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ 100 سال سے زیادہ پرانی پارٹی کانگریس سنبھلنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ امید کی جاتی تھی کہ عام چناؤ اور چار اسمبلی چناؤ میں ہار کے بعد شاید کانگریس اپنی غلطیوں کا محاسبہ کرکے اپنی پوزیشن بہتر کرے گی۔ اگر ایگزٹ پول کو صحیح مانا جائے تو دہلی اسمبلی چناؤ میں بھی کانگریس کا پتتا صاف ہوگیا ہے۔ کانگریس کے اندر سینئر لیڈر نائب پردھان راہل گاندھی اور ان کے مشیر کار منڈلی کوپچا نہیں پارہے ہیں۔ پچھلے دنوں جینتی نٹراجن کے لیٹر بم نے پارٹی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈروں کا کہنا ہے کہ تنظیم میں ردوبدل ہونے سے پہلے ہی جینتی نٹراجن جیسے وفادار بغاوت کرسکتے ہیں۔ عہدیداران کی مانیں تو اگلے دو مہینے میں ہائی کمان کے خلاف اور چہرے سامنے آئیں گے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں ہائی کمان لچر کارکردگی کے چلتے دوبارہ تنظیم میں جگہ دینے کے لئے تیار نہیں ہے لیکن یہ لوگ تنظیم میں عہدے کا لالچ رکھتے ہیں۔ پارٹی کے اندر ایسے کئی بڑے نیتا ہیں جو نائب پردھان راہل گاندھی کو پسند نہیں کررہے ہیں۔ پارٹی کے کئی سرکردہ لیڈر راہل گاندھی کو نشانہ بنا کر پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔ پہلے چودھری ویریندر سنگھ ، پھر جی۔ کے۔ واسن، جگمیت برار، کرشنا تیرتھ، کارلی چدمبرم، جینتی نٹراجن جیسے کئی لیڈر کانگریس سے کنارہ کرچکے ہیں۔ پارٹی کے اندر ایسے کئی لیڈر ہیں جو صحیح موقعے کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ جلد ہی کنارہ کرسکتے ہیں۔ ان لیڈروں میں سابق وزیر اطلاعات و نشریات منیش تیواری ور وزیر داخلہ و وزیر مالیات پی چدمبرم ترجمان رہے راشد علوی، پنجاب کے سابق وزیر اعلی کیپٹن امرندر سنگھ سمیت درجنوں بڑے لیڈر ہیں جو خود کو بڑے بے عزت محسوس کررہے ہیں۔ دہلی اسمبلی چناؤ نتیجے آنے پر یہ لیڈر کھل کر سامنے میدان میں آسکتے ہیں۔ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ جب سے راہل گاندھی نے پارٹی کی ذمہ داری سنبھالی ہے، تبھی سے پارٹی ایک کے بعد ایک چناؤ ہارتی جارہی ہے۔ پہلے اترپردیش اسمبلی چناؤ میں راہل گاندھی کی لیڈر شپ میں پارٹی کو جھٹکا لگا، پھر لوک سبھا چناؤ میں ایسی درگتی ہوئی کہ پارٹی کو نیتا اپوزیشن کے لائق ایم پی بھی نہیں ملے، اس کے بعدمہاراشٹر،ہریانہ، جموں و کشمیر، جھارکھنڈ اور اب دہلی اسمبلی چناؤ میں بھی کانگریس کو کراری ہار کار سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے پارٹی اور جنتا و کانگریس ورکروں میں یہ پیغام جا رہا ہے کہ راہل کی لیڈر شپ میں پارٹی جیت نہیں سکتی۔ کانگریس کی جہاں راہل کمزوری ہیں وہیں تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ کانگریس کو صرف نہرو گاندھی خاندان لیڈر شپ دے سکتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے ایک بار پھر پرینکا واڈرا کو آگے لانے کی مانگ تیزی سے اٹھ سکتی ہے۔ کانگریس ایک ایسی دلدل میں پھنستی جارہی ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے۔ یہ دور اندیشی کی بات ہے کہ اتنی پرانی پارٹی کا یہ حشر ہوافسوس اور تشویش کا باعث ہے۔
(انل نریندر)

10 فروری 2015

مانجھی جب کشتی ڈوبئیں تو اسے کون بچائے؟

راجیش کھنہ کی مشہور فلم ’امر پریم‘ کے ایک گیت جو سطریں بہار کے تازہ سیاسی واقعات پر کھری اترتی ہیں ’مجدھار میں نیا ڈولے تو مانجھی پار لگائے، ماجھی جو ناؤ ڈوبائے اسے کون بچائے‘بہار کے وزیر اعلی جتن رام مانجھی نے خود کے تیوروں پر جنتا دل (یو) میں اٹھے واویلے پر اکثر اس گیت کی پہلی لائن کا حوالہ دیا کہ ’مجدھار میں نیا ڈولے تو مانجھی پار لگائے‘ بہار میں اکتوبر میں اسمبلی چناؤ سے پہلے سنیچر وار کو سیاسی گھمسان کی زمین تیار ہوگئی۔ وزیر اعلی جتن رام مانجھی کو ان کی ہی پارٹی جنتادل (یو) نے عہدے سے ہٹانے کا ریزولیوشن پاس کردیا اور نتیش کمار کو ان کی جگہ اسمبلی پارٹی کا لیڈر چن لیا۔ بہار میں قریب مہینے بھر سے پیش گوئیاں جاری تھیں کہ وزیر اعلی جتن رام مانجھی کو ہٹا کر ایک بار پھر ریاست کی کمان نتیش کمار کو سونپنے کی تیاری جاری ہے۔ ریاست میں تیزی سے بدلتے سیاسی واقعات سے صاف ہے کہ جنتادل یونائیٹڈ کے اندر سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں چل رہا ہے۔ پارٹی کے صدر شرد یادو نے پوزیشن کو سنبھالنے کیلئے جس طرح اچانک 7 فروری کو اسمبلی پارٹی کی میٹنگ بلائی اس سے صاف ہوگیا کہ پردے کے پیچھے کتنی اتھل پتھل چل رہی ہے۔ نتیش کمار کا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ان کے سامنے سنگین چنوتی اس لیڈر نے پیش کی ہے جسے ان کی کٹھ پتلی مانا جاتا تھا۔ دلت برادری سے آئے بہار کے وزیر اعلی جتن رام مانجھی نے پہلے سے لکھی اسکرپٹ کے مطابق چلنے سے انکار کردیا ہے۔ اگر نتیش کمار نے سوچا تھا کہ مانجھی کھڑاؤں وزیر اعلی رہیں گے اور وہ جب چاہیں گے ان کے لئے کرسی خالی کردیں گے ، تو یہ بالکل غلط ثابت ہوئے۔ مانجھی نے آزادانہ طور سے حکومت شروع کر اپنے سیاسی و انتظامی اقتدامات سے دلت فرقوں میں اپنا مینڈیٹ بنانے کی کوشش کی اور جنتادل (یو) لیڈر شپ کے من کے مطابق نتیش کمار کو دوبارہ وزیر اعلی بنانے کی راہ تیار کرنے سے انکار کردیا ہے۔ نتیجتاً پارٹی تقسیم کی طرف بڑھ رہی۔ نتیش، شریادو نے جنتادل (یو) اسمبلی پارٹی کی میٹنگ بلائی ، جسے مانجھی نے غیر آئینی قرار دیا تھا اور اس کے بدلے مانجھی نے 20 فروری کو اسمبلی پارٹی کی جوابی میٹنگ بلا لی۔ آدھا درجن وزرا نے مانجھی کو حمایت دی ہے۔ انہوں نے شرد یادو کے ذریعے بلائی گئی میٹنگ میں جانے کا اعلان کردیا۔ صاف ہے اگر یہ ٹکراؤ اسی سمت میں بڑھا تو اس کا سیدھا اثر بہار سرکار کی مضبوطی پر پڑے گا۔ خبریں یہاں تک آچکی ہیں کہ اگر مانجھی کو لگا کہ ان کی کرسی خطرے میں ہے تو اسمبلی توڑنے کی سفارش کرسکتے ہیں۔ نتیش کمار کی لیڈر شپ میں نئی سرکار کیلئے راہ ہموار کرتے ہوئے جنتا دل (یو) اور دیگر اتحادی پارٹیوں کے لیڈروں کے ایک نمائندہ وفد نے گورنر سے ملاقات کی اور ان کو حمایت کا خط سونپا۔ اس کے بعد پیر کو نتیش کمار اور شرد یادو نے ممبران اسمبلی کی گورنر کے سامنے پریڈ کرائی اور ان سے اپیل کی کہ ان کے پار13پاس ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ جس میں آر جے ڈی، کانگریس اور سی پی آئی کے ممبر اور آزاد دلال چند گوسوامی شامل ہیں۔ دوسری طرف بھاجپا جنتادل (یو) میں مچی اتھل پتھل کا فائدہ اٹھانے کی تیاری میں دکھائی پڑتی ہے۔ بھاجپا جتن رام مانجھی کے تئیں ہمدردی رکھتی ہے اور اس نے یہ صاف بھی کردیا ہے۔ افواہیں یہاں تک پھیلی ہوئی ہیں اگر مانجھی کو زبردستی ہٹانے کی کوشش کی گئی تو وہ بھاجپا کے ساتھ جا سکتے ہیں۔ ظاہر ہے بھاجپا کا مقصد جنتادل(یو) میں بکھراؤ لانا ہے۔ کیا نتیش ۔شرد یادو گروپ مانجھی کو ہٹانے اور نتیش کو پھر سے گدی نشین کرانے میں کامیاب ہوجائے گا یا پھر بہار کی سیاست میں ابھی کئی اور موڑ آنے والے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن اتنا طے ہے کہ نتیش پھر بہار میں کمان سنبھالنے کو تلے ہوئے ہیں۔ اس معاملے کے نفع نقصان کا سہرہ سینئر لیڈروں اور کٹھ پتلی کے ذریعے راج کرنے کے دن اب لد رہے ہیں۔جمہوری طریقے پر ترقی کے لحاظ سے یہ اچھاٹرینڈ نہیں کہا جاسکتا۔
(انل نریندر)

کیا ٹیم انڈیا میں ورلڈ کپ جیتنے کا دم ہے؟

آئی سی سی ورلڈ کپ شروع ہونے میں کچھ ہی دن بچے ہیں۔ ٹیم انڈیا پچھلی بار کامیاب رہی اور اس بار اسے اپنے تاج کو بچانے کا زبردست چیلنج ہے۔ اپنی دوکان سمیٹنے میں لگے ٹیم انڈیا کے کپتان اور بکھرتے کھلاڑیوں کو جوڑ توڑ کر بنائی گئی ٹیم کا ورلڈ کپ جیتنا بہت مشکل ہے۔بات کرکٹ کی کریں تو ورلڈ کپ کے دوران تو زندگی ٹھہر سی جاتی ہے۔ گلیاں اور یا چوراہے، دوکانیں ہوں یا دفتر، ہوٹل ہوں یا ڈھابے سبھی میں کرکٹ کا بخار چھا جاتا ہے۔ پل پل کا مزہ دینے والے اسی کرکٹ کا مہا کنبھ آج سے 4 دن بعد آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی سرزمیں پر شروع ہونے والا ہے۔ اس بار ٹیم انڈیا میں کئی مہان کھلاڑیوں کی کمی کھلے گی۔ سچن تندولکر کے ذریعے کرکٹ سے سنیاس لینے کے باوجود ان کے ریکارڈ دنیا بھر کے کرکٹروں کے لئے چیلنج بنتے رہیں گے۔ سچن کے علاوہ بھی پچھلے ورلڈ کپ کی ونر ٹیم انڈیا کے کئی ستارے اس بار ٹیم انڈیا میں شامل نہیں ہیں۔ وریندر سہواگ، گوتم گمبھیر اور یوراج سنگھ ان میں شامل ہیں۔ یو راج سنگھ تو پچھلی بار مین آف دی ٹورنامنٹ چنے گئے تھے۔ سہواگ نے 8 میچوں میں 380 جس میں بنگلہ دیش کے خلاف175 رنوں کی پاری کھیلی تھی۔ گوتم گمبھیر نے9 میچوں میں393 رن بنائے تھے۔ یورراج کی دھنوادھار پاری کون بھول سکتا ہے جب انہوں نے اس برانڈ کے ایک اوور میں 6 چھکے لگائے تھے۔ ہماری ٹیم پچھلے 2 مہینے سے آسٹریلیا میں ہے اور لگاتار کھیل رہی ہے لیکن اب تک ایک میچ بھی نہیں جیت سکی ہے۔ ہماری ٹیم کا اتنے دن پہلے آسٹریلیا پہنچنا اس لئے بھی ضروری مانا جارہا تھا کہ ٹیم نئی ہے تو اسے آسٹریلیائی پچ کو دیکھنے اور سمجھنے کا موقعہ ملے گا۔ لیکن جس ڈھنگ سے ٹیم انڈیا آسٹریلیائی بالنگ کے آگے ڈھیر ہوئی اس سے نہیں لگتا کہ ہم سیمی فائنل تک پہنچ پائیں گے۔ ہمارا پہلا ہی میچ پاکستان کے ساتھ ہے۔ ہمیں تو ڈر ہے کہ ہم پہلا ہی میچ ہار نہ جائیں۔ اگر ہماری شروعات ہی اچھی نہیں ہوئی تو باقی سفر کیسا ہوگا کہنا مشکل ہے۔2015 ء کا کرکٹ ورلڈ کپ دلچسپ رہنے والا ہے۔ چند ہفتے پہلے ویسٹ انڈیز کے خلاف ونڈے میچ میں ساؤتھ افریقہ کے اے ۔ وی ڈویلیئر ٹریلر دکھا چکے ہیں۔ 31 گیندوں پر سنچری اور 43 گیندوں پر149 رن بنا کر انہوں نے سب سے تیز ہاف سنچری اور سنچری کا ریکارڈ بنایا تھا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف شاہد آفریدی نے بھی 21 گیندوں پر ہاف سنچری بنا ڈالی۔ بھارت ابھی تک اپنے آپ کومنظم نہیں کرپایا۔ روہت شرما کی فٹنس ،شیکھر دھون کی خراب فام اور وراٹ کوہلی کا موڈ تشویش کا باعث ہے۔ ٹیم انڈیا کی گیند بازی اصلی چنتا ہے جہاں آسٹریلیا ، ساؤتھ افریقہ، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی تیز پرفارمینس مضبوط ہے وہیں ہندوستانی گیند باز جدوجہد کررہے ہیں۔ اگر ورلڈ کپ2015 کے اہم دعویداروں کی بات کریں تو رینکنگ میں نمبر ون آسٹریلیا ورلڈ کپ جیتنے کے مضبوط دعویداروں میں شامل ہے۔ ساؤتھ افریقہ کے ساتھ بری قسمت کا ٹھپا لگا ہے۔ اتنی شاندار بیلنس ٹیم ہونے کے باوجود وہ آج تک ورلڈ کپ نہیں جیت سکے۔سری لنکا کے پاس بھی کمار سنگاکارا، دلشان ، جے وردھنے اور ملنگا جیسے کھلاڑی ہیں جو اسے مسلسل تیسرے فائنل میں لے جانے اور دوسرے سے خطاب کا سپنا پورا کرسکتے ہیں۔ بھارت کے خطاب کا بچاؤ کا دارومدار بلے بازوں پر منحصر رہے گا۔ روہت شرما، ایشانت شرما، بھوبنیشور کمارکی فٹنس پر سوالیہ نشان لگے ہیں۔ایسے میں کوئی معجزہ ہی بھارت کو کامیابی دلا سکتا ہے۔ انگلینڈ کے بلے باز اپنا خواب حقیقت میں تعبیر کرسکتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم گھریلو حالات میں بے جوڑ ٹیم ہے۔اس کے لئے اس بار ورلڈ کپ جیتنے کا موقعہ بن سکتا ہے۔ مجھے تو یہ ہی لگتا ہے کہ اس بار ٹیم انڈیا میں ورلڈ کپ جیتنے کا دم نہیں ہے لیکن میں چاہوں گا کہ میں غلط ثابت ہو جاؤں۔ یہی تو ہے ونڈے کرکٹ اس دن کون اچھا کھیلتا ہے اسی پر ہار جیت منحصر کرے گی۔
(انل نریندر)

09 فروری 2015

★ Mahendra's Favorite Photos

Hi there,

Follow my favorite photos on buzzable!

Follow my photos

Mahendra




Don't want to receive emails like this in the future? Click here.
myZamana, Inc. 427 N Tatnall St #40705 Wilmington, DE 19801

08 فروری 2015

کرپشن کیخلاف مودی سرکار کا زیرو ٹولارینس

سیاسی آقاؤں کے مفادات کی تکمیل میں اپنے عہدے کے وقار کو داؤ پرلگانے والے کچھ انڈین ایڈ منسٹریٹو سروس کے افسران کی فہرست میں ایک اور نام شامل ہوگیا ہے اور یہ نام ہے مرکزی داخلہ سکریٹری(سابق) انل گوسوامی کا۔ شاردا چٹ فنڈ گھوٹالے کی زد میں آئے ایک شخص متن سنگھ کو مبینہ طور پر سی بی آئی کی گرفتاری سے بچانے کی بھاری قیمت انہیں چکانی پڑی ہے۔ بھلا اس سے زیادہ شرمناک اور کیا ہوسکتا ہے کہ وزارت داخلہ کا سب سے بڑا افسر شاردا چ فنڈ گھوٹالے کے ملزم کی گرفتاری روکنے کی کوشش کرے اور اس سلسلے میں سی بی آئی پر دباؤ بنانے میں پرہیز نہ کرے؟ یہ تو وہ بات ہوگئی کہ باڑھ ہی کھیت کو کھا گئی۔ مودی حکومت نے انہیں ہٹانے میں دیر نہ کرکے یہ ضروری پیغام دینے کی کوشش کی ہے وہ کسی بھی طرح کے کرپشن کو برداشت نہیں کرے گی۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اتنی کارروائی بھر سے کرپٹ افسروں کے درمیان کوئی پیغام جائے گا؟ مودی حکومت نے وزارت داخلہ کے سکریٹری کو ہٹا کر ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ پہلا تو یہ کہ وہ ایک پیچیدہ سے پیچیدہ مسئلوں پر فوری فیصلہ لینے کا ضمیر اور ہمت رکھتی ہے، کارروائیوں کی تعمیل کے ساتھ یہ بات اقتدار اعلی میں پہلے دن سے صاف ہوگئی تھی کہ وہ پالیسی پنگو کا شکار نہیں ہوگی۔ لہٰذا انل گوسوامی معاملہ ثابت کرتا ہے کہ صحیح فیصلہ لینے میں یہ اس کا عزم جوں کا توں ہے ۔ گوسوامی سے پہلے خارجہ سکریٹری سجاتا سنگھ اور ڈی آر ڈی او کے چیئرمین اویناش چندر کو بھی مودی حکومت نے ہٹایا تھا جس سے افسروں کو صاف پیغام گیا ہے کہ وہ سیدھی لائن پر چلیں اور اس سے ہٹ کر کچھ غلط کیا تو وہ برداشت نہیں ہوگا۔
اس معاملے میں سی بی آئی کا رول سب سے اہم مانا جاسکتا ہے جس نے گوسوامی اور متن سنگھ کی بات چیت سے وزارت داخلہ اور پی ایم او کو واقف کرایا ہے۔ متن سنگھ کی گرفتاری اور گوسوامی کی رخصتی سے ایسے تمام رسوخ دار لوگوں کو بھی پیغام گیا ہوگا جن کے خلاف کوئلہ گھوٹالہ یا اسپیکٹرم گھوٹالے میں یا تو سی بی آئی جانچ چل رہی ہے یا انہیں کسی بھی شکل میں مشتبہ پایا گیا ہو لیکن سوال اٹھتا ہے کہ کیا انل گوسوامی کا رول صرف متنگ سنگھ کی گرفتاری سے بچانے تک ہی محدود تھا؟ حقیقت میں شاردا گھوٹالے کی منصفانہ جانچ کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں ایک ایک کر معاملے سامنے آرہے ہیں اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کسی گہری سازش کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ متنگ سنگھ اور انل گوسوامی جیسے سینکڑوں لیڈر اور افسر اپنے عہدے کا بیجا استعمال کر قانون کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں۔ کرپشن کی جڑیں کافی گہری ہیں۔ انل گوسوامی کو ہٹا کر مودی سرکار نے اپنی کرپشن کے خلاف زیرو ٹولارینس کا مظاہرہ کیا ہے۔
(انل نریندر)

دہشت گردی کو اجاگر کرتی ہندی فلم ’بے بی‘

پچھلے دنوں میں نے ہندی کی فلم ’بے بی‘ دیکھی ہے مجھے یہ فلم بہت پسند آئی۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ نے بہت کم ایسی ہندی فلمیں دیکھیں ہوں گی جن میں کھوٹ نکالنا بہت مشکل ہے۔ نیرج پانڈے کی ہدایت میں بنی ہندی فلم ’بے بی‘ ایک ایسی بہترین فلم ہے۔ بات چاہے کہانی کی ہو یا مکالمے کی ہو یا اداکاری کو ہو ، سبھی معاملوں میں فلم بہت اچھی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب گرم دھرم دیش کے دشمنوں کو چن چن کر مارتے تھے پھر دیش پریمی افسر کی شکل میں سنی دیول اور سلمان خاں نے اپنے دشمنوں کو ٹھکانے لگایا۔ اب اکشے کمار کی نئی فلم ’جھانکی ‘ ہے۔ فوجی مشن والی فلموں میں اب پاکستان اور اس کے ذریعے اسپانسر دہشت گردی کو سیدھے نشانے پر لیا گیا ہے۔ ’بے بی‘ فلم پہلے ہی منظر سے اپنی رفتار پکڑ لیتی ہے۔ کہانی کچھ ایسی 26-11-2008 ممبئی آتنکی حملے کے بعد ایک انڈر کور ایجنٹوں کی چھوٹی سی ٹیم تیار کی جاتی ہے جس کا کام خاص طور سے دیش کے اندر دہشت گردوں کے سلیپر سیل کو ختم کرنا ہے۔ اس آپریشن کا نام ’آپریشن بے بی‘ ہے اس فلم کے اہم اداکار فیروز علی خا (ڈینی) اور ٹیم کا لیڈر ہے ایک جانباز افسر اجے سنگھ راجپور (اکشے کمار) ٹیم ٹیکنیشین ہیں شکلا جی( انوپم کھیر) جو پلاننگ میں ماہر ہے۔ اس ٹیم میں ایک لیڈی ایجنٹ پریہ (تاپسی تنو) اور ایک مسل مین جے سنگھ راٹھور (رانا تگو باتی) اور کچھ دوسرے افراد ہیں۔ اس ٹیم کا کام ہے دہشت گردی کی سازشوں کے بارے میں پتہ لگانا اور ان کو ناکام کرنا۔ فلم کی خاص بات یہ ہے کہ وہ دہشت گردی کو کسی خاص چشمے سے نہیں دیکھتی۔ دہشت گردی کا مطلب صرف آتنک واد ہے۔ اسے جو ہے جیسا ہے کی طرز پر دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اب سب سے اہم بات اس فلم میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے جو دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہیں اس کے پیچھے پاکستان اور اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے لیکن اسے انجام دیتے ہیں دیش کے اندر چھپے ملک دشمن فوجی مشن والی فلموں میں اب سیدھے سیدھے بغیر لگاؤ کے پاکستان کا نام لیا جارہا ہے۔ یہ اتفاق ہی ہے کہ جس دہشت گرد تنظیم جماعت الدعوی پر پاکستان نے پابندی لگائی ہے اس کے چیف آتنکی حافظ سعید کو بنیاد بنا کر فلم ’بے بی‘ میں خاص ویلن محمد رحمان کو دکھایا گیا ہے۔ پاکستانی ایکٹر رشید ناز نے فلم میں یہ رول نبھایا ہے۔اس فلم میں اکشے کمار کو اداکاری کی چوٹی پر دکھایا گیا ہے۔ میری رائے میں وہ اپنی زندگی کے سب سے اہم رول میں ہیں۔ ایسا لگتا ہے یہ رول انہیں کے لئے تھا۔، ڈینی، انوپم کھیر اور تاپسی پنو اور مدھوریما نے بھی کردار کو بہترین طریقے سے نبھایا ہے۔ میں سبھی قارئین سے کہوں گا کہ آپ یہ فلم ضرور دیکھیں۔ مجھے فلم کے باکس آفس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ میں تو فلم کی کہانی، اداکاری اور اس سے ملے پیغام کو دیکھتا ہوں اوران تینوں کے زمرے میں یہ فلم ایک بہترین جواب ہے۔
(انل نریندر)