Translater

03 ستمبر 2016

بلوچستان، گلگت ، بلتستان، مقبوضہ کشمیر کے بعد اب سندھ

بلوچستان، گلگت، بلتستان کے بعد اب سندھ میں بھی پاکستان سے آزادی کی مانگ زور پکڑنے لگی ہے۔ کٹرپسندوں کی اذیتوں سے عاجز آکر سندھ کے میر پور خاص میں پیر کو مقامی لوگوں نے الگ سندھ دیش بنانے کی مانگ کرتے ہوئے نعرے لگائے مظاہرے کئے۔ یہ ہی نہیں چین ، پاکستان اقتصادی گلیارے کے احتجاج میں سندھی اور بلوچ لیڈروں نے برطانیہ میں چینی سفارتخانے کے سامنے مظاہرے کئے ہیں۔ بتادیں کہ سندھ پاکستان کاجنوب مشرقی صوبہ ہے۔ پاکستان کا جی ڈی پی میں سندھ کا تقریباً 30 فیصدی اشتراک ہے۔ دیش کے چار صوبوں میں علاقائی مربع کلو میٹر کے حساب سے یہ تیسرے نمبر پر ہے۔ یہ علاقہ بھارت سے گئے مسلمانوں اور پاکستان کے ہندوؤں کا گڑھ ہے۔ پاکستان کے 93 فیصدی ہندو یہاں رہتے ہیں، ویسے صوبے کی آبادی کا یہ کل 5 فیصدہیں۔ آزادی سے پہلے یہاں گجراتی کاروباریوں کی بڑی تعداد ہوا کرتی تھی۔ لندن میں مظاہرین نے پاکستان کے خلاف جم کر نعرے لگائے۔ اس دوران ’ہے حق ہمارا آزادی‘ اور ’سی وی سی ای سی نہیں چاہئے‘ کے نعرے لگے۔ مظاہرین نے بلوچستان کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کے بھی نعرے لگائے۔ مظاہرین کہہ رہے تھے کہ’ قدم بڑھاؤ مودی جی ہم تمہارے ساتھ ہیں‘ ۔ ورلڈ سندھی کانگریس کے چیئرمین لکھو لدانانے کہا کہ ہم سی وی ایسی (چین۔ پاکستان اکنومک کاریڈور) پروجیکٹ کو کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کریں گے۔ بتادیں کہ بلوچستان پر چین نے بھارت کو دھمکی دی ہے ۔ کہا کہ اگر بھارت کی کسی بھی حرکت سے اس کی 46 بلین ڈالر (308,200 کروڑ روپے) لاگت والی چین ۔ پاکستان اکنومک کاریڈور پروجیکٹ میں گڑ بڑی پیدا ہوتی ہے تو بیجنگ چپ نہیں بیٹھے گا، وہ بلوچستان مسئلے پر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوجائے گا۔ دوسری طرف جغرافیائی حصے پر گہری نظر رکھنے والے پڑوسی دیش پاکستان کے خرافاتی کے نتیجے سامنے اس کے گھر میں ہی اب آگ لگ گئی ہے۔ اب اس کا سندھ بھی سلگ اٹھا ہے۔ الگ دیش کی مانگ زور پکڑنے لگی ہے۔ سرکار کے استحصال سے بلوچستان کافی عرصے سے دہک رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے شورش ماحول کو بارود کی گند نے آلودہ کردیا ہے۔لوگ سڑک پر آچکے ہیں۔ پاکستانی فوج بے دردی سے سرکار مخالف تحریکوں کو کچل رہی ہے۔ گلگت۔ بلتستان کی تصویر بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ لوگ عالمی برادری سے اپیل کررہے ہیں ناکام ملک کا تمغہ پاچکا پاکستان چاروں طرف سے اپنے ہی لوگوں سے گھر چکا ہے۔ بتادیں کہ چین جو اقتصادی گلیارہ بنا رہا ہے وہ چین کے شنگیانگ صوبے کو پاکستان کے چاہ بہار بندرگاہ سے جوڑنے کے لئے مقبوضہ کشمیر سے گزرتا ہے۔
(انل نریندر)

جان کیری کا تبصرہ ہمارے سسٹم پر سخت طمانچہ ہے

بھاری بارش کے سبب سڑکوں پر پانی بھرنی کی وجہ سے دہلی کے عام آدمی سے لیکر امریکی وزیر خارجہ جان کیری بدھوار کو جام کا شکار ہوگئے۔ جام سے گزرنے کے بعد آئی آئی ٹی دہلی پہنچے۔ کیری نے زہریلے انداز میں وہاں پہنچے طلبا سے کہا مجھے نہیں پتہ کہ آپ یہاں کشتی سے آئے ہیں یا پانی اور زمین دونوں پر چلنے والی کسی گاڑی سے لیکن میں آپ کو سلام کرتا ہوں۔ کیری نے کہا آج یہاں تک پہنچنے کے لئے آپ سبھی کو ایوارڈ دیا جانا چاہئے۔ ان کی باتوں کا پس منظر دیکھا جائے تو یہ ہماری سرکار، انتظامیہ اور متعلقہ محکموں پر سخت چوٹ ہے۔ جو یہاں کے پورے نظام کو آئینہ دکھاتا ہے۔ دراصل جان کیری جب دہلی کے آئی آئی ٹی کے طلبا کو خطاب کرنے نکلے تو انہیں کئی گھنٹوں تک سڑک پر جام کی وجہ سے پھنسے رہنا پڑا کیونکہ بھاری بارش کی وجہ سے سڑکوں پر چاروں طرف پانی بھرا تھا اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ بارش اور پانی بھرنے کے باوجود کیری نے اپنا پروگرام منسوخ نہیں کیا اور جام کا سامنا کرتے ہوئے تاخیرسے ہی صحیح آئی آئی ٹی پہنچ گئے۔ وہاں انہیں حیران کرنے والی بات یہ تھی کہ جس جام نے انہیں گھنٹوں سڑک پر پھنسائے رکھا وہ بھاری تعداد میں طلبا انہیں سننے کیسے پہنچے؟ ہرسال برسات میں دہلی اور دوسرے بڑے شہروں کی کیا حالت رہتی ہے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ گھنٹے یا آدھ گھنٹے کی برسات کے بعد سڑکوں پر پانی بھر جاتا ہے اور بھاری جام میں لوگ گھنٹوں پھنسے رہتے ہیں۔ اس سے نہ صرف پیداوار کے محاذ پر بہت ساری لیبر برباد ہوتی ہے بلکہ اتنے ہی لوگوں کو بہت سی طرح کے نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں۔ دفتروں میں یا کام کرنے کی جگہوں پر دیر سے پہنچنے کے چلتے کچھ کمپنیوں کی طرف سے لوگوں کی چھٹیاں یا مزدوری تک کاٹ لی جاتی ہیں۔ بیمار لوگ جان جانے کے خطرے کی وجہ سے سڑکوں پر نکلنے کے لئے مجبور ہوجاتے ہیں اور یہ سلسلہ سال در سال ہوتا ہے۔ قومی راجدھانی کی اہم شاہراہوں پر پانی بھر جانے اور زیادہ تر شاہراہوں پر ٹریفک کی رفتار سست ہونے پر دہلی ہائی کورٹ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہم سال در سال پانی بھرنے کے سلسلے کو برداشت نہیں کرسکتے۔ بند نالوں کی دلیل نہیں سنی جاسکتی۔ ہم ہر سال اسے برداشت نہیں کریں گے۔ جسٹس آشوتوش کمار کے ساتھ معاملے کی سماعت کررہے جسٹس بدر پرویز احمد نے کہا بدھوار کو صبح جب وہ عدالت آ رہے تھے، نائب صدر جمہوریہ کی رہائش گاہ کے سامنے والی سڑک پر بھی پانی بھرا تھا۔ بنچ نے کہا کہ نالیوں میں پانی کی نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے بارش کے بعد سڑکوں پر پانی بھر جانے سے مچھروں کے پیدا ہونے سے ڈینگو اور چکن گنیا جیسی بیماریاں پھیلتی ہیں۔ پتہ نہیں اس مسئلے کے حل کے لئے مستقل کوئی قدم اٹھایا جائے گا یا نہیں؟
(انل نریندر)

02 ستمبر 2016

پانچ ہزار لڑکیوں کو کوٹھے پر جھونک کر کروڑوں کمائے

دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے جسم فروشی کے ذریعے روزانہ 10 لاکھ روپے کمانے والے ایک بڑے بین الاقوامی گروہ کا پردہ فاش کیا ہے۔ 40 کمروں میں 250 لڑکیوں کو یرغمال بنا کر اس جسم فروشی کے دھندے کو انجام دینے والے میاں بیوی سمیت 8 لوگوں کو گرفتار کرکے پولیس نے ان کے خلاف مکوکا ایکٹ میں مقدمہ درج کیا ہے۔ میاں بیوی نے کوٹھے کی کمائی سے نئی دہلی سے بنگلورو تک کروڑوں روپے کی اسٹیٹ کھڑی کر لی ہے۔ چھان بین کے دوران پتہ چلا ہے کہ کوٹھے کی کمائی سے ملزم افاق اورسائرہ نے کئی جگہوں پر مکان، کوٹھی، فارم ہاؤس بنا لئے ہیں۔ اتنا ہی نہیں جیت پور علاقے میں اپنی بیٹی کے نام پر پچھلے کچھ برسوں سے اسکول کھول رکھا ہے حالانکہ ملزم کا کہنا ہے یہ اسکول ایک ٹرسٹ چلاتا ہے۔ انہوں نے گھومنے کیلئے فورچونر، انووا، ہونڈا سٹی وغیرہ گاڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ گرفتاری کے وقت ان کے پاس سے 9 لاکھ روپے برآمد ہوئے اور3 کروڑ روپے ان کے کھاتے میں ملے۔ پولیس کے مطابق کوٹھوں کو چلانے کا کام میاں بیوی افاق ۔سائرہ نے دہلی میں قریب 100 کروڑ روپے سے زیادہ کی اسٹیٹ بنا لی ہے۔اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ افاق کئی بڑے اور سفید پوش لوگوں کو لڑکیاں سپلائی کررہا تھا۔ کرائم برانچ کے جوائنٹ کمشنر رویندر یادو نے بتایا کہ پولیس کو پتہ چلا کہ نیپال سمیت دیش کے کئی حصوں سے بالغ اور نابالغ لڑکیوں کو جی بی روڈ پر جسم فروشی میں دھکیلا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ افاق اور سائرہ نے 5 ہزار لڑکیوں کو جسم فروشی کے دھندے میں جھونک دیا ہے۔ جی بی روڈ پر تقریباً 80فیصدی دھندے کو دو یا تین لوگ ہی چلاتے ہیں۔ اس کڑی میں پہلی بار کرائم برانچ نے مکوکا کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کو پتہ چلا ہے کہ دھندے کا کروبار امروہہ ضلع کے قصبہ امیاری کا باشندہ افاق حسین عرف بابو جی (45 سال) اور اس کی بیوی سائرہ بیگم (40 سال) اپنے گرگوں کے ذریعے یہ دھندہ کررہے ہیں۔ پولیس نے 25 اگست کو دہلی کے الگ الگ مقامات سے افاق اور اس کی بیوی سائرہ بیگم اور دو نیپالی رمیش پانڈے اور واسودیو پانڈے کو گرفتار کیا ہے۔ افاق اور سائرہ نے بتایا کہ جی بی روڈ میں ان کے 6 کوٹھے ہیں جن میں 40 کمرے ہیں ان میں قریب250 لڑکیاں ہیں جن سے روزانہ 10 لاکھ سے زیادہ کمائی ہوتی ہے۔ گرگوں کو کل کمائی کا 15 فیصدی کمیشن ملتا ہے۔ پولیس کے مطابق پچھلی دو دہائی میں یہ گینگ نیپال سمیت دیش بھر سے قریب 5 ہزار لڑکیوں کو دھندے میں جھونک چکا ہے۔ چاروں سے پوچھ تاچھ کے بعد ان کے باقی چار ساتھیوں شمشاد،شلپا عرف تلسی، ممتاز کو بھی دبوچ لیا گیا ہے۔ 
(انل نریندر)

شراب،نشہ خوری کا اڈہ بنتی جے این یو

دیش کی سب سے نامور جواہر لال نہرو یونیورسٹی نشہ خوری، شراب و دیگر جرائم کے لئے پچھلے کچھ دنوں سے زیادہ بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ جواہر لال نہرو انتظامیہ نے ایک ساتھی طالبہ کے ساتھ آبروریزی کے ملزم پی ایچ ڈی کے اسٹوڈنٹ کو معطل کردیا ہے ساتھ ہی جانچ پوری ہونے تک اس کے کیمپس میں داخلے پر بھی پابندی لگادی ہے۔طلبا اور اساتذہ کے مظاہرے کے بعد جی این یو انتظامیہ نے یہ فیصلہ لیا۔یونیورسٹی کے 28 سالہ ریسرچ کی طالبا نے الزام لگایا تھا کہ ساتھی طالبعلم انمول رتن نے 20 اگست کو جے این یو کیمپس میں واقع ہاسٹل میں اپنے کمرے میں نشیلی چیز پلا کر اس کے ساتھ آبروریزی کی تھی۔ انمول لیفٹ اسٹوڈنٹ یونین آل انڈیا اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن (آئیسا) سے وابستہ تھا۔ آئیسا نے اس واردات کے سامنے آنے پر اس کو نکال دیا ہے۔ پولیس نے اس کے خلاف معاملہ درج کرلیا ہے۔ کئی دنوں تک غائب رہنے کے بعد انمول نے 24 اگست کو سرنڈر کردیا تھا۔ عدالت اسے14 دن کی جوڈیشیل حراست میں بھیج چکی ہے۔ جے این یو پچھلے کچھ برسوں سے غلط اسباب کی وجہ سے سرخیوں میں چھائی ہوئی ہے۔ جے این یو کیمپس میں گزشتہ کچھ برسوں میں سینکڑوں طالبعلم و طالبات شراب اور گانجا پیتے پکڑے گئے ہیں۔ دہلی کے آر ٹی آئی رضاکار گرپال پرساد نے جیل انتظامیہ سے اطلاع کے حق کے قاعدے کے مطابق سوال پوچھا تھا کہ 2010 سے 2016 کے درمیان کتنے طالبعلم و طالبا جے این یو میں نشہ کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے اور ان پر کیا کارروائی ہوئی؟ جے این یو کے چیف انفورمیشن آفیسر اور چیف پروکٹر آفیسر کے دفتر آیا اس کا جواب بیحد چونکانے والا ہے۔ اس کے سوال کے جواب میں یہ بتایا چاہتے ہیں کہ 2010 سے2016 کے درمیان جے این یو میں کل300 طالبعلم یا طالبات شراب ،بیئر، گانجا اور دوسری نشہ آور چیزیں لیتے ہوئے پکڑے گئے۔ جواب میں سبھی 300 طلبا و طالبات کے نام ،کورس اور ہاسٹل کا نام دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی بتایا گیا ہے کہ کس ملزم یعنی کس دن وہ نشہ کرتے ہوئے پکڑے گئے۔ کئی معاملوں میں جے این یو میں پڑھنے والے طلبا و طالبات اپنے باہری دوستوں کے ساتھ کیمپس کے اندر شراب، بیئر، گانجا پیتے ہوئے پکڑے گئے۔ نوکری پانے کے باوجود ہاسٹل میں جمے رہنے والے دو دیگر طلبا پر 1.45 لاکھ روپے کا مالی جرمانہ بھی ہوچکا ہے۔ شادی شدہ ریسرچر کو ملنے والے ہاسٹل کے قاعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھی انتظامیہ نے دو طلبا پر 1.34 لاکھ اور 87,0870 روپے کا جرمانہ بھی کیا ہے۔
(انل نریندر)

01 ستمبر 2016

کیا لیڈروں کو کچھ بھی بولنے کی چھوٹ ہے

سپریم کورٹ نے پیر کو بلند شہر گینگ ریپ کو سیاسی سازش بتانے والے اترپردیش کے وزیر اعظم خاں کے بیان کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ ان کے اس بیان پر متاثرہ خاندان نے اعتراض جتایا اور معاملے کی سماعت کرنے کیلئے مقدمے کو یوپی سے باہر منتقل کرنے کی اپیل کی تھی۔سماعت کے دوران جسٹس دیپک مشرا اور سی ۔نگپن کی بنچ نے یہ جائزہ لینے کے بعد فیصلہ لیا کہ اگر اقتدار میں بیٹھے کسی شخص کے بیان سے متاثرہ کا سسٹم سے بھروسہ ڈگمگاجائے تو کیا اس پر مقدمہ چلنا چاہئے یا نہیں ؟ عدالت نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کیا ایسا بیان بولنے و اظہار رائے کے اختیار کے دائرے سے باہر تو نہیں ہے؟ بنچ نے پوچھا کیا وزیر کا یہ بیان بھی اظہاررائے کی آزادی ہے؟ یا سمجھیں کہ آئین میں یہ اختیار دینے کے اصول ناکام ثابت ہوئے؟ حالانکہ کورٹ کا یہ تبصرہ صرف اعظم خاں پر ہی نافذ نہیں ہوتا بلکہ اقتدار کے قریبی کئی لوگ بھی اس ریمارکس کے زد میں ہیں۔ اعظم خاں نے2 اگست کو کہا تھا کہ چناؤ قریب ہیں بے چین اپوزیشن پارٹیاں سرکار کو بدنام کرنے کیلئے کس حد تک گر سکتی ہیں۔ بلند شہر کا واقعہ سیاسی سازش کا نتیجہ ہے۔ جب کورٹ کی پھٹکار لگی تو اعظم بولے میں نے ایسا کیا کہا جو اعتراض آمیز تھا؟ ہمارا تو فرض بنتا ہے کہ واردات کے پیچھے کی سچائی کا پتہ لگائیں اور بدفعلی کرنے والوں کو تو اسلامی قانون کے تحت پتھر مار مار کر ہلاک کردینا چاہئے۔اقتدار کے قریبی تینوں پارٹیوں کے لیڈروں کی بولنی کی آزادی کی نظیر دیکھئے دہلی کے بھاجپا ایم پی ادت راج کہتے ہیں کہ جمائیکا کے ایتھلیٹ عسین بولٹ بے حد قریب تھے، بعد میں انہوں نے ٹرینر کی تجویز پر دونوں وقت بیف کھانے کی صلاح پر عمل کیا تب اولمپک میں وہ 9 طلائی تمغے جیتے۔ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو کیسے پتہ چلا کہ عسین بولٹ کیا کھاتے ہیں؟ کیا وہ بولٹ کے باورچی ہیں۔ اگر ان کی بات صحیح ہے تو پاکستان میں تو سب بیف کھاتے ہیں وہاں تو ایک بھی میڈل نہیںآیا۔ مرکزی سرکار کے وزیر ثقافت مہیش شرما کیا کہتے ہیں سنئے: ہم نے غیر ملکی سیلانیوں کیلئے ویلکم کٹ بنائی ہے اس میں کیا کریں کیا نہ کریں کی لسٹ ہے، جیسے چھوٹے شہروں میں اکیلے نہ گھومو، اسکرٹ پہن کر نہ گھومیں وغیرہ وغیرہ۔ بنچ نے چار سوال پوچھے کیا سرکار جو شہریوں کے حقوق کی محافظ ہوتی ہے اسے اس طرح کا بیان دینے کی اجازت دی جانی چاہئے؟ جس سے کہ متاثرہ کا سسٹم سے بھروسہ اٹھ جائے؟ کیا ایسے میں متاثرہ فریق منصفانہ جانچ کی امید کرسکتا ہے؟ سرکاری عہدوں پربیٹھا شخص یا اتھارٹی یا سرکار کا انچارج آبروریز یا قتل جیسے گھناؤنے جرائم کو سیاسی سازش بتا سکتا ہے ، خاص کر تب جب اس کا اس جرم سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اس طرح کا بیان اظہار رائے کے حق کے دائرے میں آتا ہے یا حد سے باہر ہے؟ کیا اس طرح کا بیان آئینی ہمدردی اور حساسیت کو ناکارہ کرتا ہے ؟ بنچ نے ان سوالوں پر سالیسٹر نریمن کو مدد دینے کے لئے کہا ہے۔
(انل نریندر)

گوگل، فیس بک ،ٹوئٹر اور بڑھتی دہشت گردی

انٹر نیٹ اور ٹکنالوجی یہ دنیا بڑی رنگین ہے۔ اس دنیا میں آنے کے بعد یہاں سے نکلنا اتنا آسان بھی نہیں ہے لیکن جتنی رنگین ہے اتنی ہی خطرناک بھی ہے۔ یہاں بھی آپ کو پھونک پھونک کر قدم رکھنے ہوتے ہیں۔ یہاں چوریاں بھی بلا روک ٹوک ہوتی ہیں۔ آپ کے پاس اپ دیٹ سافٹ ویئر ہو یا ہارڈ ویئر کوئی فرق نہیں پڑتا اور ان چوریوں کو کہتے ہیں ’سائبر کرائم‘ ۔ انٹر نیٹ آج دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کا ایک بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔ بھارت میں بھلے ہی زیادہ تر سرکاری کام ٹوئٹر، فیس بک سے ہو برطانیہ کے ممبران نے گوگل، ٹوئٹر اور فیس بک پر دہشت گردی پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔ برطانیہ کے وزارت داخلہ کی سلیٹ کمیٹی نے اپنی ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انٹر نیٹ کی یہ سرکردہ ہستیاں اپنی سائٹس پر نہ صرف دہشت گردی کو بڑھانے میں مدد کررہی ہیں بلکہ دہشت گردوں کی بھرتی میں بھی مدد کررہی ہیں۔ برطانوی ممبران پارلیمنٹ کی اس کمیٹی کے چیئرمین ہندوستانی نژاد کیتھ واج ہیں۔ کمیٹی نے کہا اربوں ڈالر کمانے والے گوگل ۔فیس بک اور ٹوئٹر جیسے بڑے کارپوریشن جان بوجھ کر دہشت گردانہ خطروں اور دھمکیوں کو نہیں روک پا رہے ہیں۔
گوگل کے یو ٹیوب سے دہشت گردوں کے پوسٹ کئے گئے ویڈیو نہیں ہٹائے جارہے ہیں۔ فیس بک ، ٹوئٹر ، یو ٹیوب پروپگنڈہ پھیلانے کیلئے پسندیدہ ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے سے دہشت گردی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ یہ اربوں ڈالر ان کے ذریعے کما رہے ہیں اس لئے انہیں ذمہ دار ہونا چاہئے۔ اس ذریعے سے جاری آتنکی مواد کا جنتا پر سیدھا اثر پڑتا ہے۔ ٹوئٹر، فیس بک اور گوگل نے بھی کمیٹی کے سامنے اپنا موقف رکھا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا ہے کہ پوری طرح سے وہ ذمہ دار ہیں اور سکیورٹی ایجنسیوں سے ہر طرح کا تعاون کررہے ہیں۔ ہم نے بھارت میں بھی دیکھا ہے کہ کس طرح ان سوشل سائٹ سے متاثر ہوکر ہمارے کچھ نوجوان آئی ایس کی طرف جھکے ہیں۔ بہتر تو یہ ہوگا کہ یہ سائٹس ایسے سارے مواد کو اپنی سائٹس سے ہٹا دیں جس سے دہشت گردی کو بڑھاوا ملتا ہے اور گمراہ لڑکوں کو آتنک کی دنیا کی طرف راغب کرتا ہے۔
(انل نریندر)

31 اگست 2016

جین منی پرمتنازعہ تبصرہ کر پھنسے وشال ڈڈلانی

پتہ نہیں کہ یہ فلم والے سیاسی تنقیدی رائے زنی کیوں کرتے ہیں؟ یہ اپنے کام دھندے تک محدود کیوں نہیں رہتے۔ کبھی عامر خان کبھی شاہ رخ خان سیاسی تبصرہ کرکے تنازعوں میں پھنس جاتے ہیں۔ اب باری ہے عام آدمی پارٹی کے نیتا اور مشہور گلوکار ،موسیقار وشال ڈڈلانی کی۔ انقلابی سنت جین منی ترون ساگر جی مہاراج کے ہریانہ اسمبلی میں ہوئے کڑوے پروچنوں کے بعد وشال ڈڈلانی کے ذریعے کئے گئے تبصرے ان کے گلے کی ہڈی بن گئے ہیں۔ ڈڈلانی کے تبصرے سے جین سماج میں بہت ناراضگی ہے۔ جگہ جگہ ڈڈلانی کے پتلے جلائے گئے، ٹوئٹر پر جین منی پرم ساگر کے بارے میں بیہودہ تبصرے کرنے والے موسیقار وشال ڈڈلانی کے خلاف دہلی کے شاہدرہ تھانے کے ایس ایچ او کو شکایت بھی کی گئی ہے۔ شاہدرہ کے ایسٹ روہتاس نگر کے باشندے وپن جین نے اپنی شکایت میں بتایا کہ جین منی ترن ساگر دیش کی شان ہیں۔ 26 اگست کو ان کا منگل پروچن ہریانہ اسمبلی میں تھا۔ الزام ہے کہ وشال ڈڈلانی و تحسین پونا والا نے ایک قومی سنت کی تصویر ٹوئٹر پر ڈال کر بیہودے تبصرے کئے۔ اس توہین آمیز حرکت سے پورا جین سماج و ان کے ماننے والوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ ان دونوں ملزمان کے ذریعے سماج میں فرقہ وارانہ بھائی چارگی کو ٹھیس پہنچا کر جین سماج میں کشیدگی کا ماحول بنایا ہے۔ ڈڈلانی کے تبصرے کو غلط بتاتے ہوئے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا ترون ساگر جی مہاراج نہ صرف جینیوں بلکہ ہر کسی کے لئے ایک پرم پوجیہ سنت ہیں اوران کے تئیں بے حرمتی کا رویہ ظاہرکرنا افسوسناک ہے اور اسے روک دینا چاہئے۔ وہیں دہلی کے پی ڈبلیو ڈی وزیر ستندر جین نے اپنے موسیقار دوست کی طرف سے جین منی سے معافی مانگی۔ بتادیں کہ ڈڈلانی نے کہا تھا کہ وہ حکومت میں دھرم کے استعمال کے خلاف ہیں۔ ہریانہ سرکار نے گزشتہ جمعہ کو جین منی کو اسمبلی میں کڑوے وچن دینے کے مدعو کیا تھا۔ جین منی برہنہ تھے بعد میں وشال نے ٹوئٹ کیا مجھے برا لگ رہا ہے کہ میرے جین دوستوں اروند کیجریوال و ستندر جین نے برا محسوس کیا اس لئے میں سبھی سرگرم سیاسی کام چھوڑتا ہوں، موسیقار نے کہا کہ میں نے پرامن جین فرقے کے جذبات کو چوٹ پہنچا کر غلطی کی اور معافی مانگنے کا ایک واحد طریقہ میرے لئے اپنا رویہ چھوڑنا ہے۔ میں نے غلطی کی تھی اور میں دل سے اس کے لئے معافی مانگتا ہوں۔ ادھر جین منی کا بڑکپن دیکھئے انہوں نے کہا تنقید کرنا یا اپنی مرضی سے رائے ظاہر کرنا کسی کا بھی حق ہوسکتا ہے، میرے بارے میں کوئی کیا کہتا ہے اس کی مجھے پرواہ نہیں ہے۔سبھی کی اپنی الگ الگ رائے ہوسکتی ہے۔
(انل نریندر)

حاجی علی کی درگاہ میں خواتین کے داخلے کا سوال

شنی شنگھنا پور ترے بکیشور کے بعد اب ممبئی کی جانی مانی حاجی علی درگاہ میں خواتین کے داخلے کو لیکر بمبئی ہائی کورٹ کا فیصلہ کچھ معنوں میں تاریخی کہا جاسکتا ہے۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق خواتین کو درگاہ میں جانے سے روکنا ان کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ بمبئی ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے سال2015 سے عورتوں کے درگاہ میں مزار تک جانے پر پابندی کو غیر آئینی قرار دیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ یہ پابندی آئین میں حاصل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔حاجی علی درگاہ کا معاملہ تو اس لئے بھی دلچسپ ہے کہ وہاں عورتوں کے داخلے پر پابندی پہلے نہیں تھی۔درگاہ میں نہ جانے دینے کا فیصلہ کچھ عرصے پہلے 2012ء میں لیا گیا تھا تبھی سے عورتوں کے حقوق کے لئے لڑنے والی انجمن اس کے خلاف مہم چلا رہی تھی۔ اس بات سے اس حقیقت کی پھر سے توثیق ہوتی ہے کہ جن مذہبی مقامات پر عورتوں کے داخلے پر پابندی ہے وہ روایتی طور سے ہمیشہ سے نہیں تھی۔ یہ بعد میں کسی ایک تاریخی دور میں لگائی گئی۔ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ حاجی علی درگاہ ہی نہیں بلکہ پورے دیش کے مذہبی مقامات پر مرد ۔عورت امتیاز کے خلاف نظیر بنے گا۔ عرضی پر سماعت کے دوران بمبئی ہائی کورٹ کے جسٹس وی ایم کانڈے اور ریوتی موہت ڈیرے کی بنچ نے آئین میں عورتوں اور مردوں کوملے یکساں حقوق کا حوالہ دیا۔ بنچ کا کہنا تھا جب مسلم خواتین کو ، مکہ مدینہ میں داخلہ دیا جاتا ہے تو حاجی علی میں داخلہ ممنوع کیوں ہے؟کورٹ کے فیصلے کے بعد حاجی علی ٹرسٹ نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے لئے وقت دینے کی مانگ کی تھی اسے قبول کرتے ہوئے عدالت نے فیصلے پر 6 ہفتے کے لئے روک لگادی ہے۔ این جی او بھارتیہ مسلم مہلا سنگٹھن کی صدر نورجہاں نیاز نے حاجی علی میں عورتوں کو داخلہ دینے کی مانگ کو لیکر ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی تھی۔ اس فیصلے کو مسلم سماج میں حمایت بھی مل رہی ہے اور مخالفت بھی۔ دیوبندی علما نے کہا ہے سماجی اصلاحات کے لئے عورتوں کے داخلے پر پابندی رہنی چاہئے۔ وہیں اسلامی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا عبدالقاسم نعمانی بنارسی نے اس مسئلے کو مفتیوں سے متعلق بتاتے ہوئے کچھ کہنے سے منع کردیا۔ فتوی آن لائن کے انچارج مولانا مفتی ارشد فاروقی نے کہا کہ اسلام صرف مردوں کو ہی قبرستان میں جانے کی اجازت دیتا ہے۔ شریعت میں عورتوں کے قبروں پر جانے کی پابندی ہے۔ جہاں تک حاجی علی کی درگاہ پر عورتوں کو جانے دینے کی اجازت کا معاملہ ہے یہ صحیح نہیں ہے۔ سماجی اصلاحات کے لئے پابندی برقرا ر رکھنی چاہئے تھی شریعت کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ حاجی علی کی درگاہ صرف تفریح گاہ کے طور پر استعمال ہورہی ہے جس سے اس کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ دوسری طرف مولانا خالد رشید پھرنگی محلی عید گاہ کے امام کا کہنا ہے کہ مرد عورت کو اسلام میں برابر کا درجہ حاصل ہے۔ عورتوں کو مسجد میں نماز پڑھنے سے نہیں روکا گیا ہے۔ اسلام میں قبرستان اور درگاہ پر جانے کے کچھ قاعدے ہیں جن کو ماننا ضروری ہے۔ عورتوں کو چاہئے کہ وہ آزادی کے نام پر اسلامی اصول کو نہ توڑیں۔ ہائی کورٹ کا فیصلہ ایک اور اہم اشو کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ضروری نہیں کہ تمام مذہبی اداروں کے قاعدے ہندوستانی آئین کے جذبات کے مطابق ہوں لیکن آہستہ آہستہ ہی صحیح دونوں کے درمیان تال میل بنانا بہت ضروری ہے۔ عرب ممالک اور ساؤتھ ایشیا میں اسلام کا خاکہ الگ الگ ہے۔ ساؤتھ ایشیا میں اسلام کے کٹر ڈھانچے کو مسترد کر اس میں اصلاحاتی رویہ اپنایا ہے یہی وجہ ہے کہ انڈونیشیا، بنگلہ دیش سے لیکر پاکستان تک مسلم خواتین دیش کی لیڈر شپ سنبھال چکی ہیں لیکن اس اصلاحات پر پچھلی دو دہائیوں سے پیدا کٹرتا نے گرہن لگادیا ہے۔ بھارت میں ایک بوڑھی خاتون شاہ بانو اور کیرل کی شامی عیسائی سماج کی خاتون میری رائے کو سپریم کورٹ کی طرف سے گزارا بھتہ دئے جانے کی مخالفت کے لئے پورا مسلم اور عیسائی سماج کھڑا ہوگیا تھا۔ دیکھنا یہ ہے کٹرتا اور اصلاحات پسندی کی اس لڑائی میں اسلامی ناری واد کس حد تک کامیاب ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

30 اگست 2016

پہلی مرتبہ محبوبہ مفتی کے ایسے تیور دیکھے

کشمیرمیں بحالی امن کیلئے مرکزی سرکارکتنی سنجیدہ ہے اس سے پتہ چلا ہے کہ پچھلے ڈیڑھ مہینے میں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ دوسری مرتبہ یہاں دورہ پر گئے۔ امن بحال کرنے کیلئے یہ ضروری تھا کہ راجناتھ وہاں کے لوگوں سے سیدھے مخاطب ہوں۔ 300 سے زیادہ لوگوں سے بات چیت میں یہ عام رائے ابھر کر سامنے آئی کہ مٹھی بھر گمراہ لوگوں کو چھوڑ کر وہاں کی عوام امن چاہتی ہے۔ اچھی بات ہے کہ راجناتھ نے بھی مرکز کی طرف سے دوہرایا کہ حکومت کشمیریت ،جمہوریت اور انسانیت کے دائرے میں بات چیت کے لئے عہد بند ہے لیکن سب سے اچھا موقف وزیر اعلی محبوبہ مفتی کا رہا۔ جموں وکشمیر کی راجدھانی سرینگر میں بیٹھ کر وزیر اعلی نے جو کہا اس کی آواز پورے کشمیراور پیغام پاکستان تک پہنچ گیا۔ 1999ء میں پی ڈی پی بنانے کے بعد یہ پہلا موقعہ تھا کہ جب محبوبہ نے علیحدگی پسندوں و دہشت گردوں کے خلاف اتنے تلخ تیور دکھائے۔ پریس کانفرنس میں جب ان سے فائرننگ میں بچوں کی موت پر سوال پوچھے گئے تو محبوبہ نے کہا کہ کرفیو کے دوران کیا یہ بچے دودھ اور ٹافی لینے پولیس تھانے، آرمی کیمپ پہنچتے ہیں؟ انہی ڈھال بناکر وہاں لایا گیا تھا۔سوال جواب کے دوران جب ایک صحافی نے وزیر داخلہ سے پچھلی عمر عبداللہ حکومت کا موجودہ محبوبہ مفتی سرکار سے موازنہ کرنے کے بارے میں پوچھا تو محبوبہ نے راجناتھ کو جواب دینے سے روکتے ہوئے کہا سر آپ رک جائیے ،آپ انہیں نہیں جانتے ،انہیں میں جواب دیتی ہوں۔ محبوبہ نے کہا کہ ریاست میں 95 فیصد لوگ امن چاہتے ہیں صرف 5 فیصد لوگ ہی پتھر اٹھا کر ماحول بگاڑ رہے ہیں۔ پتھراؤ سے کوئی مسئلہ ٹھنڈا نہیں ہونے والا۔ محبوبہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ2010ء میں جو ہوا اس کی وجہ تھی تب ایک نقلی مڈ بھیڑ ہوئی تھی ، تین شہری مارے گئے تھے اس کے بعد جوانوں پر شوپیاں میں آبروریزی اور قتل کے الزام لگے تھے۔ تب لوگوں کے غصے کی وجہ تھی لیکن اب تین دہشت گرد مارے گئے ہیں اس میں سرکار کی کیا غلطی ہے؟ ہمیں بات چیت سے مسئلہ حل کرنے والوں اور بچوں کے ہاتھ پتھر پکڑوانے والوں میں فرق کرناہوگا۔ پریس کانفرنس میں محبوبہ اتنے غصے میں تھیں کہ انہوں نے 21 منٹ کے بعد پریس کانفرنس ہی ختم کردی۔ اس دوران محبوبہ نے 34 بار انگلی اٹھا کر دہشت گردوں کو آگاہ کیا۔ راجناتھ نے تین بار محبوبہ کو خاموش کرنے کی کوشش کی۔ دو موقعوں پر راجناتھ کی بات بیچ میں کاٹ کر خود بولنے لگیں۔ ایک بار تو صحافیوں پر غصہ ہوتے ہوئے خاموش رہ کر وزیر داخلہ کی بات سننے کی ہدایت دے ڈالی۔ محبوبہ نے دو ٹوک کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومت پرامن طریقے سے مسئلے کا حل چاہتی ہے۔ واجپئی نے کہا تھا کہ ہم انسانیت کے طریقے سے حل چاہتے ہیں۔ ہم بھی اسی راستے پر چلنا چاہتے ہیں۔ جب سے پی ڈی پی ۔ بی جے پی حکومت بنی ہے ہم نے محبوبہ کے اتنے تلخ تیور پہلے کبھی نہیں دیکھے۔ اس کے پیچھے کچھ وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔ کشمیر میں گورنر رول کا بھی تذکرہ ہے محبوبہ کی سرکار اگر جاتی ہے تو پھر چناؤ جیتنے کا امکان کم ہے۔ دو بڑے وزیر نعیم اختر ، حسیب درابو اس مسئلہ پر ان کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ مفتی کی موت کے بعد پی ڈی پی کمزور ہوئی ہے۔ پی ڈی پی نے اپنے حمایتی تب کھو دئے تھے جب بھاجپا کے ساتھ اتحاد کیا۔ اگر محبوبہ گرم تھیں تو راجناتھ نرم تھے۔ پریس کانفرنس میں راجناتھ سنگھ نے کہا کہ سال2010ء میں کہا گیا تھا کہ پیلیٹ گن غیر خطرناک ہتھیار ہے اس سے کم نقصان ہوگا لیکن اب ہمیں لگتا ہے اس کا کوئی متبادل ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا پیلٹ گن کے متبادل پر غور کرنے کے لئے ایک ماہر کمیٹی بنائی گئی ہے جو دو تین دن میں اپنی رپورٹ دے گی۔ اس کے بعد ہم پیلٹ گن کا متبادل دیں گے۔ ہمیں یہ سمجھ نہیں آیا کہ راجناتھ سنگھ اتنے نرم رخ کیوں اپنا رہے ہیں؟ جب محبوبہ کہہ رہی ہیں کہ بچے ٹافی لینے نہیں جاتے تو مرکز کو پیلٹ گن پر صفائی دینے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر پتھر بازی رکی ہے تو وہ اس پیلٹ گن کی وجہ سے ہی رکی ہے۔ مرکز کو پیلٹ گن کا ڈر برقرار رکھنا چاہئے اور محبوبہ کے نئے تیوروں کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔
(انل نریندر)

وزیر اعظم کے ذریعے اگلے تین اولمپک کیلئے ٹاسک فورس تشکیل کا خیر مقدم ہے

ہم وزیر اعظم کے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ 2020،2024 اور 2028ء میں ہونے والے اگلے تین اولمپک کھیلوں میں ہندوستانی کھلاڑیوں کا شاندار مظاہرہ یقینی کرنے کے مقصد سے مفصل حکمت عملی منصوبہ بنانے کیلئے ٹاسک فورس کی تشکیل کی جائے گی۔ یہ ٹاسک فورس دیش میں کھیل سہولیات ،کھلاڑیوں کی ٹریننگ، سلیکشن اور دیگر متعلقہ معاملوں میں مجموعی حکمت عملی تیار کرے گی۔ اس ٹاسک فورس میں گھریلو ماہرین کے علاوہ باہری لوگوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ اس ٹاسک فورس کی تشکیل کچھ دنوں میں ہی ہوجائے گی۔ اگر کوئی کہے کہ ہندوستان ریو اولمپک میں سب سے پھسڈی دیش رہا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ بھارت میڈل جیتنے والے ملکوں کی ٹیلی میں 67 ویں پائیدان پر رہا۔ بھارت نے ایک سلور اور ایک تانبے کا میڈل جیتا لیکن سوا ارب سے زیادہ آبادی والا بھارت فی شخص کے لحاظ سے دو میڈلوں کے ساتھ ریو میں میڈل جیتنے میں 87ویں مقام پر ہے۔ 24 ویں اولمپک کھیلوں میں حصہ لیکر بھارت محض 28 میڈل ہی جیت پایا۔ اس سے زیادہ میڈل تو امریکی تیراک مائیکل فنلپس اکیلے ہی جیت چکا ہے۔ ریو اولمپک کا سب سے بڑا ستارہ شاید اسین بولٹ ہے۔ بولٹ نے اپنے تیسرے اولمپک میں بھی100 میٹر 200 میٹر اور 400 میٹر ریلے میں گولڈ میڈل جیت کر ثابت کردیا کہ وہ اور جمیکا دنیا میں رفتار کا شہنشاہ ہے۔ بولٹ یادیگر اچھے کھلاڑیوں پر نظر ڈالی جائے تویہ آسانی سے سمجھ میں آتا ہے کہ ایتھلیٹس کی دنیا میں سیاہ فاموں کا بول بالا ہے۔سیاہ فام لوگ اگر کھیل کود کے میدان میں بالادستی بنائے ہوئے ہیں تو ویٹ لفٹنگ ، جیپلنگ وغیرہ جیسے کھیلوں میں یوروپی یا یوروشیائی نسل کے گورے کھلاڑیوں کا دبدبہ ہے۔ اسی طرح ایشیائی کھلاڑیوں کی بالادستی بیڈمنٹن یا ٹیبل ٹینس میں تو ہے ہی لیکن ٹینس میں زیادہ تر گورے کھلاڑی ہی چھائے ہوئے ہیں۔باسکٹ بال میں گورے کھلاڑیوں کا جلوہ ہے لیکن فٹبال میں یوروپ اور لاطینی امریکہ کی ٹیموں کا ہی بول بالا ہے۔ ہندوستانی پہلوان عام طور پر نچلے وزن کے مقابلوں میں کافی کامیاب ہیں لیکن ہیوی ویٹ یا مڈل ویٹ میں کامیاب ہندوستانی پہلوانوں کا نام یاد آنا مشکل ہے۔ مکے بازی میں بھی کم و بیش یہی حال ہے۔ ہاکی میں ہم لوگ فی الحال پچھڑ رہے ہیں لیکن یہ ماننا ہوگا کہ ہندوستانی یا پاکستانی جیسے ہاکی کھیلتے ہیں ، اس کا جواب نہیں ہے۔ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جس کی ایجاد غلطی سے انگلینڈ میں ہو گئی تھی۔ یہ بھی دلچسپ ہے کہ جن لوگوں کی بنیادی جگہ مغربی افریقہ ہے وہ لوگ چھوٹی دوری کی فراٹے دار دوڑ میں تو ماہر ہیں ہی لیکن لمبی دوری کی فراٹے دار دوڑ میں وہ کہیں نہیں ہیں اس کے برعکس کینیا یا ایتھوپیا جیسے نارتھ یا مشرقی افریقہ کے کھلاڑیوں کی لمبی دوری کی دوڑ میں بالادستی ہے، لیکن چھوٹی دوری کی دوڑ میں یہ ندارد ہیں۔ ان افتراق کی وجہ کافی حد تک الگ الگ علاقوں کے لوگوں کی جسمانی بناوٹ میں ہے ، جو ہزاروں برسوں سے کسی خاص طرح کے جغرافیائی ، آب و ہوا اور سماجی کلچر ماحول سے بنتی ہیں اور جسم کی نسوں میں موجود جینس میں درج ہوجاتی ہیں اس لئے افریقہ سے ہزاروں میل دور جمیکا میں بسے مغربی افریقی نژاد اسین بولٹ اور ان کے ساتھی اب بھی چھوٹی دوری کی دوڑ میں اپنی بالادستی بنائے ہوئے ہیں۔ صلاحیت کو مشق اور ٹریننگ سے تراشنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اسکول سطح سے ہی خاص اہلیت رکھنے والے بچوں پر توجہ دینی چاہئے۔ ان کھیلوں میں زیادہ توجہ مرکوز کرنی ہوگی جن میں پچھلی فرفارمینس اچھی رہی ہوں۔ ٹریننگ کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کے عادی رہنے کی سہولت بھی دینی ہوگی۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ بھارت کو امریکہ، برطانیہ و چین میں اولمپک تیاری کی کیا منصوبہ حکمت عملی ہے؟ یہ اچھی بات ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس طرف توجہ دی ہے۔ امید کرتے ہیں کہ اگر منصوبے پر سنجیدگی سے عمل درآمد ہوگا تو مستقبل میں بہتر نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔
(انل نریندر)

28 اگست 2016

داؤد ابراہیم۔ نواز شریف اور پاکستان بے نقاب

بین الاقوامی دہشت گرد 1993 ء کے ممبئی دھماکوں کا موسٹ وانٹڈ داؤد ابراہیم پاکستان میں ہی رہتا ہے، بھارت کے اس دعوے پر پیرکو اقوام متحدہ کی کمیٹی نے بھی مہر لگادی ہے۔ ایک بار پھر پاکستان کی پول کھل گئی ہے۔ بھارت نے اقوام متحدہ کو داؤد کے جو9 پتے دئے تھے ان میں سے6 صحیح ملے۔ ظاہر ہے کہ پاکستان کو جواب دینا مشکل ہوگا کہ دہشت گردی کو وہ اپنی سرزمین پر پناہ نہ دینے کا ڈھنڈورا پیٹنے والا اتنے بڑے آتنکی سرغنہ کو پناہ دے رہا ہے۔ بھارت نے پچھلے سال اگست میں اقوام متحدہ کو داؤد ابراہیم کے بارے میں ڈوزیر سونپا تھا۔ آئی ایس آئی ،آئی ایس اور القاعدہ پر پابندی کی نگرانی کرنے والی کمیٹی نے اس کی جانچ کی اور تصدیق کی کہ داؤد کے6 پتے صحیح ہیں جو 3 پتے داؤد سے جڑے نہیں پائے گئے انہیں ڈوزیر سے نکال دیا گیا ہے۔ بھارت کو نواز شریف اور ان کی سرکار کو پوری طرح اب بے نقاب کرنا چاہئے۔ اب بھی تو سبھی مانیں گے کہ اس بات کے پختہ ثبوت مل گئے ہیں کہ پاکستان اس آدمی کو تحفظ دے رہا ہے لہٰذا بلا شبہ یہ بھی ثابت ہوگیا ہے کہ آتنکی سرگرمیوں کو پاکستان حمایت دے رہا ہے۔ پاکستان ہمیشہ انکارکرتا رہا ہے کہ داؤد پاکستان میں ہے اور بھارت کے ذریعے سونپے گئے ڈوزیر، ثبوت اور دستاویزات کو اس نے کبھی توجہ نہیں دی۔ فہرست میں مختلف پاسپورٹوں کی جانکاری بھی درج ہے۔ ان میں وہ پاسپورٹ بھی ہیں جو پاکستان میں جاری ہوئے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ داؤد کو 18 اگست 1985ء کو ایک پاسپورٹ دبئی سے جاری کیا گیا، ایک پاسپورٹ راولپنڈی میں12 اگست 1991 میں جاری ہوا تھا۔ اس میں ان دو پاسپورٹوں کے غلط استعمال کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ڈوزیرمیں کہا گیا ہے کہ داؤد پاکستان میں اپنے ٹھکانے اور پتے تیزی سے بدلتا ہے۔ اس نے پاکستان میں کافی پراپرٹی بنائی ہے اور وہ پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں کی نگرانی میں آتا جاتا ہے۔ داؤد کا ایک مکان پاکستان کی سابق مرحوم وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے بیٹے بلاول کے کراچی میں گھر کے پاس ہے۔داؤد کو پاکستان اس لئے پسند ہے کیونکہ وہ حوالہ، ڈرگس اور فلموں کی پائریسی کے دھندے سے پیسہ اکٹھا کرکے پاکستانی فوج کے بڑے افسروں اور لیڈروں کو پہنچاتا ہے۔ وہ بھارت پر حملوں میں آئی ایس آئی اور آتنکی تنظیم کو بھی مالی مدد دیتا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ اقوام متحدہ اب پورے معاملے کا نوٹس لے گی اور پاکستان سے اس بارے میں پوچھ تاچھ کرے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق داؤد کے پاس 80 ہزار کروڑ روپے مالیت کی ایک ہزار بے نامی جائیدادیں بھی ہیں۔
(انل نریندر)

نربھیا کانڈ کے قصوروار کا اقدام خودکشی

16 دسمبر 2012ء کی رات چلتی بس میں وسنت وہار علاقہ میں لڑکی نربھیا سے گھناؤنا کانڈ ہوا تھا۔ اس نے سارے دیش کا سر شرم سے جھکا دیا تھا۔ اتنے دن گزرنے کے باوجود مقدمہ عدالتوں میں آج تک لٹکا ہوا ہے۔ اس گھناؤنی واردات میں ایک قصوروار ونے شرما نے بدھ کے روز رات میں تہاڑ جیل میں پھندہ لگا کر خودکشی کی ناکام کوشش کی۔تہاڑ کے سابق ڈی آئی جی سطح کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ ونے شرما کی جان اس کے ساتھ رہ رہے قیدیوں کی چوکسی سے بچی۔ ونے نے پہلے کچھ دوائیاں کھائیں، اس کے بعد اس نے اپنے گلے میں تولیا باندھ کر پھانسی لگانے کی کوشش کی۔ ملزم تہاڑ میں جیل نمبر8 میں بند تھا۔ جیل انتظامیہ نے ونے کو دین دیال ہسپتال میں داخل کرایا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ ونے شرما کو عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی ہوئی ہے جس پر سپریم کورٹ میں بحث چل رہی ہے۔16 دسمبر 2012ء کے اس گھناؤنے کانڈ میں کل 6 ملزم تھے رام سنگھ نے پہلے ہی خودکشی کر لی تھی باقی پانچ کو قصوروار پایا گیا تھا۔ پانچ میں سے ایک نابالغ قصوروار کو چھوڑ کر باقی چار کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔نابالغ قصوروار جو پورے معاملے کا ماسٹر مائنڈ بھی ہے، نے اپنی سزا پوری کرلی ہے اور 2015ء ستمبر میں وہ رہا بھی ہو چکا ہے۔ دیش کی سب سے بڑی جیل تہاڑ میں قیدیوں کے رہنے کے ایک معاملے میں جیل سے متعلق حیران کرنے والے اعدادو شمار سامنے آئے ہیں۔ یہاں کی جیلوں میں بند قیدیوں کی تعداد جیل کی استعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ تہاڑ جیل میں قیدیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ایک قیدی کی جگہ تین قیدیوں کو رکھنا پڑ رہا ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق تہاڑ کے جیل نمبر 1 کی صلاحیت 565 قیدیوں کی ہے جبکہ اس میں 863 قیدی بند ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جیل نمبر2 میں 455 کے مقابلے 827 قیدی رکھے گئے ہیں۔ یہی حالت تہاڑ جیل کی باقی جیلوں میں بھی ہے۔ تہاڑ جیل میں بند14 ہزار سے زائد قیدیوں کو سنبھالنے کے لئے 1100 وارڈر اور ہیڈ وارڈر لگے ہیں جبکہ یہ تعداد2400 کے قریب ہونی چاہئے۔ اس سے ہماری جوڈیشیری سسٹم پر بھی سنگین سوال اٹھتے ہیں۔ اتنے سال گزرنے کے بعدبھی ابھی تک قیدیوں کو سزا نہیں ہو پائی ہے۔ نربھیا کانڈ نے نہ صرف سارے دیش کو ہی بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ جب جیل میں تعداد سے زیادہ قیدیوں کو ٹھونسا جائے گا تو ہر قیدی کی سکیورٹی کرنا ناممکن ہے۔ بتایا جاتا ہے آبروریزوں کی تو جیل میں بند قیدی نفرت کی نظرسے دیکھتے ہیں اور موقعہ پاتے ہیں ان کی جم کر پٹائی کرتے ہیں۔ ونے شرما کے ساتھ بھی یہی ہو۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...