Translater

29 جون 2023

وزیر اعلیٰ ہٹاو صدر راج لگاو!

منی پور کے حالات سنبھلے نہیں سنبھل رہے ہیں۔منی پور میں قریب دو مہینے سے جاری دنگوں پر کنٹرول کرنے کیلئے سنیچر کو بلائی گئی آل پارٹی میٹنگ میں ریاست کے وزیر اعلیٰ کے کام کرنے کے طریقے پر سوال اٹھائے گئے۔ زیادہ تر پارٹیوںنے وزیر اعظم کے ساتھ آل پارٹی میٹنگ بلانے کی مانگ کی وہیں سماج وادی پارٹی نے صدر راج لگانے کی مانگ کی ۔وزیر داخلہ امت شاہ نے یقین دلایا کہ سبھی کے تعاون سے ریاست میں امن بحال کیا جائے ۔ ان کی صدارت میں ہوئی میٹنگ میں تقریبا سبھی سیاسی پارٹیوںنے حصہ لیا ۔میٹنگ میں بھاجپا صدر جی پے نڈا ،بھاجپا کے منی پور انچارج ڈاکٹر سمبت پاترا ،منی پور کے سابق وزیر اعلیٰ و کانگریس کے نیتاو¿ں جے رام رمیش ،ٹی ایم سی سے ڈیریک اوبراو¿ ،میگھالیہ کے سی ایم و این سی پی نیتاکونراڈ سنگھما ،شیو سینا ادھو ٹھاکرے گروپ سے پرینکا چترویدی انا ڈی ایم کے ،بی جے ڈی عآپ پارٹی اورآر جے ڈی لیڈر بھی شامل ہوئے ۔ ادھر منی پور میں بھیڑ نے ریاستی سرکار میں وزیر سسیندرو کے امپھال میں نجی گودام میں آگ لگادی۔ بھیڑ نے وزیر کے گھر و دیگر اثاثوں کو بھی آگ کے حوالے کرنے کی کوشش کی لیکن سیکورٹی فورسیز کے بر وقت پہنچنے سے یہ کوشش ناکام ہو گئی۔ پولیس نے بتایا کہ سیکورٹی فورسیز نے بلوائیوں پر آنسوگیس اور گولے داغے تاکہ وزیر کے کھورائی میں گھر کا گھیراو¿ روکا جا سکے اس سے پہلے ریاست کی خاتون وزیر کے گھر کو بھی 14جون کی رات نامعلوم افراد نے جلادیا ۔ جس کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے ۔ وہاں بھاری تعداد میں سیکورٹی فورس اور افسران تعینات ہیں ۔ اپوزیشن کا دباو¿ ہے کہ وہاں ایک کل جماعتی نمائندہ وفد بھیجا جائے جو کوکی اور میئتی فرقے سے بات کرے اور معاملے کو ٹھنڈا کیا جائے ۔ یہ سب کوشش ایسے وقت میں ضروری ہوتی ہے اور کی بھی جانی چاہئے۔ اس سے تشدد زدہ ریاست کو پیغام جاتا ہے کہ سرکار ان کے مسئلوں کو لیکر اور دیش فکر مند ہے ۔ ریاست کی سرکار اور اس کے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ جنتا کا اعتماد کھو چکے ہیں ۔ اکثریتی فرقہ میتئی مانتے ہیں کہ وہ سرکار کی حمایت کے باوجود بھی مر رہے ہیں تو کوکی فرقہ بھی ان پر بھروسہ نہیں کرتا منی پور جل رہا ہے اور فوراً حالات پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ (انل نریندر)

اپوزیشن اتحاد کا رآونڈ ون !

بہار کی راجدھانی پٹنہ میں ہوئی اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ کئی معنوںمیں تاریخی رہی اس میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھاجپا مخالف 15سیاسی پارٹیوں کو ایک اسٹیج پر لانے میں کامیاب رہے ۔ یہ بھی اپنے آپ میں ایک تاریخی لمحہ تھا۔ قریب ساڑھے تین گھنٹے کی میٹنگ میں اپوزیشن پارٹیاں بھاجپا کے خلاف ایک ہوکر چناو لڑنے پر رضامند ہوگئیں۔ میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت میں لالو یادو نے بتایا کہ جولائی میں اگلی میٹنگ شملہ میں ہوگی جس میں آ گے کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔نشانے پر ہیں 2024میں نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کو سکشت دینا ۔ دوسری جانب بھاجپا کے سینئر لیڈروں کی نظر میں یہ ایکتا زیادہ لمبی چلنے والی نہیں ہیں۔ بھاجپا نیتاوں کا خیال ہے کہ اگر اپوزیشن اتحاد ہو بھی گیا تو صرف بہار، جھارکھنڈ اور مہاراشٹر میں ہی بھاجپا کو تھوڑی چنوتی ملے گی۔ جسے صحیح حکمت عملی اور اشوز کے ذریعے پست کیا جا سکتا ہے ۔ مہاراشٹر میں 48،بہار میں 40اور جھاکھنڈ میں لوک سبھا کی 14سیٹیں ہیں۔ پچھلی بار اتر پردیش میں اپوزیشن ایکتا کے مقابلے بھاجپا لڑ کر دکھا چکی ہے۔ باقی کی 400سیٹوںپر اپوزیشن ایکتا کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ دراصل اپوزیشن پارٹیوں کی اتحاد کی کوشش پہلی بار نہیں ہوئی ہے ۔ نئے بنے اتحاد میں زیادہ تر علاقائی پارٹیاں ہیں اور سب کے اپنے علاقائی مفادات اور اپنے جوڑ توڑ اورمسئلے ہیں۔کئی ریاستوںمیں سب کی لڑائی بھاجپا کے علاوہ کانگریس سے بھی ہے۔ اس طرح اگر سبھی متحد ہوکر صرف بھاجپا کی مخالفت میں اترتیں ہیں تو انہیں کانگریس کے ساتھ اپنی سیٹوں کا بٹوارہ کرنا پڑے گا۔ جس کے لئے خاص غور خوض اور احتجاج سے گزرنا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپوزیشن کی اتحاد ہو نہیں سکتا ۔ کوشش یہ رہے گی کہ بھاجپا کے خلاف ایک مشترکہ امید وار ہو اور لڑائی آمنے سامنے کی ہو ۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ریاستی سطح پر اختلافات کو دور کیا جائے گا۔ مگر کانگریس کو کچھ قربانی دینی ہوگی تو دیںگے ۔ بہت سی سیٹوں پر بھاجپا کانگریس کی سیدھی ٹکر ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بھاجپا کا گراف نیچے آرہا ہے اور مودی جی کی مقبولیت 2019جیسی نہیں رہی ہے۔ پھر ان تمام اپوزیشن پارٹیوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ اگر 2024میں مودی جی جیت جاتے ہیں تو ان کا کیا حال ہوگا۔ بی جے پی نے اس اتحاد کو توڑنے کی پوری کوشش کی لیکن پھر بھی کامیاب نہیں ہوئی ۔ اختلاف بہت ہیں اور تضادات بھی بہت ہیں لیکن ای ڈی ،سی بی آئی جیل کی ڈر کی وجہ بھی ان کے ساتھ آنے کی مجبوری ہے ۔ دراصل اگلا راونڈ سب سے اہم ہوگا۔ نتیش کمار نے پہلے دو پڑاو کو پار کرنے میں کافی اہم رول نبھایا ہے ۔ 10یا 12جولائی کو شملہ میں اس اپوزیشن اتحاد کا دوسرا راونڈ ہوگا۔ جہاں سیٹوں کے بٹوارے اور چیلنج پر بھی غور خوض ہوگا۔ اتحاد آسان نہیں تو ناممکن بھی نہیں ۔ (انل نریندر)

27 جون 2023

ٹائٹن کی سواری جان لیوا ثابت ہوئی !

دنیا کے سب سے مشہور جہاز ٹائٹنک کا ملبہ دکھانے گئی آبدوز ٹائٹن کے تباہ ہونے کی معلومات سامنے آئی ہے ۔ یہ پنڈبی گزشتہ اتوار کو لاپتہ ہو گئی تھی۔ اس کے بعد اس کی تلاش کیلئے بین الاقوامی سطح پر تلاش و بچاو¿ آپریشن کیا گیا اور جمعرات کو اس آبدوز کا ملبہ سمندر کی تہہ میں پڑا ہوا ہونے کی جانکاری سامنے آئی ۔ امریکی ساحلی فورس نے بتایا ہے کہ ٹائٹن کے پاس تفتیش رسانوں کو لاپتہ آبدوز ٹائٹن کا ملبہ ملا ہے ۔ ایک پریس ملاقات میں امریکی ساحلی گارڈ ایڈمیرل جان ماو¿زر نے بتایا کہ رموٹ سے چلنے والی آر او وی پنڈبی آبدوز نے سمندری سطح پر ٹائٹنک سے تقریباً آدھا کلو میٹر دور ٹائٹن آبدوز کے تیل کی تلاش کی اور اسی کی جانچ کرتے کرتے آبدوز آر او وی کا ملبہ پڑا ملا ۔ انہوںنے کہا کہ آبدوز میں سوا ر متاثر ہ کے کنبوں کے تئیں اپنی دلی تازیت پیش کرتا ہوں ۔ یہ امریکی کمپنی کے زیر کنٹرول کمپنی اوشن گیٹ اکسپیڈیشن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس کو خیال ہے کہ ان کو پکا یقین ہے کہ ٹائٹنک میں سوار پانچوں مسافروں کی موت ہو گئی ہے ۔ ان میں ارب پتی ہاکنگ ہاتش ہارڈنگ اور ایک پاکستانی پریوا ر کے ارب پتی شہزاد دوو¿د اور اس کا بیٹا سلیمان داو¿د اس اشن ایکسپیڈیشن کے سی ای او اور ٹائٹن پائلٹ اسکوائڈرن رش شامل ہیں ۔ سماچار ایجنسی ژنہوا کی رپورٹ کے مابق اتوار کی صبح نارتھ اٹلانٹک میں ٹائٹن کے ملبے کا پتا لگانے کے دوران پنڈبی مشرقی کنارہ میں نیوکاہل لینڈ کے ساحل سے چھ کلومیٹر سے زیادہ دور لاپتہ ہوگئی ہے ۔اور اس کا پتہ لگانے کیلئے بین الاقوامی تلاش ٹیم نے زبردست محنت کی اور اندازہ لگایا کہ ابدوزمیں 96گھنٹے کی آکسیجن ہے اور اس کے جمعرات کی صبح تک ختم ہوجانے کی امید تھی۔ جس علاقے میں یہ آبدوز غائب ہوگئی تھی۔ پانی کے اندر گھس جانے سے اس کی مشینری میں دھماکے کی آوزیں سنی گئیں ۔ اور سمندر کے ساحل پر ڈوبنے کی جگہ کے بیچ کوئی اس کے ہونے کا پتہ نہیں لگ پایا تھا ۔ لیکن اوشن گیٹ آپریشن سے سمند ر کی سطرح سے 3800میٹر نیچے ملبے تک پہینچنے کیلئے دوسری آبدوز کا استعمال کیا گیا ابتک جو بات معلوم ہوئی ہے تباکن دھماکے سے ملتی جلتی ہے۔ کیوں کہ ملبے کے دو ڈھیر ملے ہیں ایک ڈھیرمیں ٹائٹن کا پچھلا حصہ ملا ہے تو وہیں دوسرے ڈھیرمیں ٹائٹن کا لینڈنگ فریم دکھائی دیا ہے یہ اس بات کو اشارہ ہے کہ دھماکہ ہوا ہوگا ۔ اس آبدوزمیں بلیک باکس نہیں تھا۔ ایسے میں آخری وقت کی کوئی جانکاری دستیاب نہیں ہو سکی ۔ (انل نریندر)

امریکہ میڈیا کی نظروں میں مودی کا دورہ !

ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکہ دورے کا تذکرہ دنیا بھر کے میڈیا میں ہو رہا ہے ۔ امریکہ میڈیا میں بھی اس دورے کو خاص توجہ ملی ہے کیوںکہ وزیر اعظم نریندر پہلی مرتبہ امریکی مہمان بن کر گئے تھے ۔ یعنی دوسری الفاظ میں کہیں تو مودی پہلی بار امریکہ اسٹیٹ ویزٹ پر گئے ۔ انہوںنے امریکہ کانگریس کو بھی خطاب کیا اور یہ ان کا دوسرے مرتبہ خطاب تھا۔ امریکی کانگریس کی شکل میں دو مرتبہ خطاب کرنے والے مودی بھارت کے پہلے وزیر اعظم بن گئے ۔ امریکی میڈیا میں مودی کے دورے پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے ۔ کئی ممبران پارلیمنٹ کی طرف سے امریکی کانگریس میں مودی کی تقریر کے بائیکاٹ کرنے کی بھی خبر کو امریکی میڈیا نے خاص اہمیت سے چھاپہ ہے ۔ اس کے علاوہ بھارت میں اقلیتوں کے حقوق ،جمہوریت اور پریس پر مبینہ حملے سے وابسطہ سوال بھی پی ایم مودی کے دورے میں پوچھے گئے ۔ ان سوالوں کو کبھی امریکی میڈیا میں اہمیت کے ساتھ شائع کیا گیا۔ قریب آدھا درجن ڈیموکریٹس ممبران نے امریکی کانگریس میں پی ایم مودی کی تقریر کا بائیکاٹ کیا ان میں مشیگن سے راشد طالب وغیر ممبران نے اڈریس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے مشترکہ بیان دیا۔ اس بیان کو نیو یارک ٹائمس نے خاص جگہ دی۔ اس ڈیموکریٹس ممبران نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو امریکی کانگریس کا اسٹیج دیکر مذہبی طور سے اقلیتوں اورصحافیوں کی آواز کمزور کی گئی ہے۔ نیو یارک ٹائمس نے لکھا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے مودی کی خیر مقدم میں کوئی کثر نہیں چھوڑی ۔ بائیڈن چاہتے ہیں کہ روس اور چین کے ساتھ جب امریکہ کا ٹکراو¿ چل رہا ہے ایسے میں بھارت اس کے ساتھ کھڑا رہے۔ مودی کے اس دورے میں سب سے دلچسپ بات یہ رہی کہ بائیڈن نے اس جوائنٹ پریس کانفرنس میں بھی رپورٹروں سے سوال لینے کیلئے تیار کیا ۔ پچھلی ایک دہائی میں وزیر اعظم مودی کیلئے یہ عجب تھا کہ انہوںنے رپورٹروں کا سیدھا سوال سن لیا ۔مودی سے بھارت میں اقلیتوں کے حقوق اور جمہوریت کو لیکر پوچھے گئے سوال کے جواب میں مودی نے کہا کہ بھارت کے ڈی این اے میں جمہوریت ہے اور مذہب کی بنیاد پر کسی سے امتیاز نہیں ہو رہا ہے ۔ نیویارک ٹائمس نے لکھا ہے کہ بائیڈن نے مودی کے عہد میں بھارت میں نااتفاقی کی آواز دبانے اور پریس کی آزادی کمزور ہونے کے الزامات کو توجہ نہیں دی ۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ صدر بائیڈن نے بھارت کی جمہوریت کو لیکر اٹھے سوالوں کے باوجود بچاو¿ کیا۔ امریکی نیوز چینل سی این این نے بھی مودی کے دورے کو وسیع طور سے کوریج دیا ۔ سی این این اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ مودی کی مقبولیت بھارت میں زبردست ہے لیکن ان کا ادھینائک واد کی طرف ان کا جھکاو¿ مغرب کیلئے تشویش پیدا کرتا ہے ۔اخباری صحافیوں کو انہوں نے عدم اتفاقی کے الزامات کےلئے پوچھے گئے سوالوں پر نشانے پر لیا ہے ۔ اور کہا کہ جن پالیسیوں کو انہوںنے آگے بڑھایا ہے اسے انسانی حقوق گروپ مسلمانوں کے خلاف امتیازی بتاتے ہیں۔ (انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...