Translater

11 نومبر 2011

مائیکل جیکسن کا قتل انہی کے پرائیویٹ ڈاکٹر نے کیا تھا

 

Published On 11th November 2011
انل نریندر
مائیکل جیکسن بلا شبہ اس صدی کا سب سے بڑا انٹرٹینر تھا ۔ ان کے مقابلے کا کوئی دوسرا انٹرٹینر شاید نہیں ہوگا۔ یہ کتنے دکھ کی بات ہے کہ ایسی مہان شخصیت کا اتنا افسوسناک خاتمہ ہوا۔ مائیکل جیکسن کا قتل کیا گیا تھا۔ گذشتہ دو سال سے انصاف کا جو انتظار تھاآخر کار جیکسن خاندان کو مل ہی گیا۔ معاملے کی سماعت کررہی لاس اینجلس کی ایک عدالت نے منگل کے روز مائیکل جیکسن کے پرائیویٹ میڈیکل ڈاکٹر کونریٹڈ مورے کو ان کے غیر ارادتاً قتل کا قصوروار قراردیا ہے۔مورے کو جیکسن کے قتل کا مرتکب پائے جانے کا مطلب ہے کہ اس کو چار سال کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ اب مورے کو یہ سزا 29 نومبر کو سنائی جانی ہے۔
خیال رہے کہ مائیکل جیکسن کا 25 جون 2009ء کو لاس اینجلس میں واقع ان کے گھر میں نشیلی دوا پروپوفال کی زیادہ گولیاں لینے کے سبب انتقال ہوگیا تھا۔ اس وقت مائیکل لندن کے مجوزہ اپنے اوٹو سرینا کنسرٹ کی تیاری کررہے تھے۔ انہیں دمہ کی بیماری تھی۔مورے اس بارے میں ان کا علاج کررہے تھے۔ معاملے کی سماعت کے دوران انہوں نے مائیکل کو کم مقدار میں گولیاں کھلانے کی بات قبول کی تھی۔ عدالت نے مورے کو جیکسن کا لاپرواہی سے علاج کرنے کے الزام میں قصوروار پایا ہے۔ جج مائیکل پیسٹر نے کہا اس سے کسی بھی انسان کی موت ہونا طے تھا۔ ڈاکٹر مورے کی لاپرواہی کے رویئے سے جنتا کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ ایسے لوگوں سے سماج کی حفاظت کی جانی چاہئے۔ جج نے مورے کی ضمانت عرضی بھی خارج کردی۔ انہیں کورٹ سے سیدھے جیل لے جایا گیا۔ ڈاکٹر مورے کا میڈیکل لائسنس بھی منسوخ کردیا گیا ہے کیونکہ ڈاکٹر مورے کے خلاف ماضی میں کوئی مجرمانہ معاملہ درج نہیں ہوا ہے۔ لہٰذا جج مائیکل پیسٹر انہیں رعایت دینے پر غور کرسکتے ہیں۔ لاس اینجلس میں مائیکل جیکسن معاملے کی سماعت کے دوران کورٹ کے باہر جاتے ہوئے پاپ کنگ کے پرستار اس وقت خوشی سے جھوم اٹھے جب اندر سے خبر آئی کہ جج صاحب نے ڈاکر مورے کو قصوروار پایا ہے۔ جسٹس فار جیکسن کی مانگ کررہے پرستار ایم جے کی تصویریں اور بینر لے کر کورٹ کے باہرنعرے لگا رہے تھے۔
مائیکل جیکسن کی موت کے ڈھائی سال بعد بھی ان کا جلوہ کم نہیں ہوا ہے۔ فاربس میگزین کی جانب سے جاری لسٹ میں مائیکل جیکسن مسلسل دوسرے سال بھی سب سے زیادہ کمائی والے سورگیہ سیلیبریٹی بن کر ابھرے ہیں۔گذشتہ سال نومبر سے اکتوبر 2011 تک مائیکل جیکسن اسٹریٹ نے ان کے البموں کی فروخت اور میوزک کمپنیوں کے ساتھ ہوئے معاہدے کے بوتے پر 17 کروڑ ڈالر کمائے۔ نومبر2009 سے اکتوبر 2010 ء کے درمیان اس نے 27.5 کروڑ ڈالر کمائے تھے۔ واقف کاروں کے مطابق 2010 ء کے مقابلے 2011ء میں مائیکل جیکسن کی کمائی میں بھلے ہی گراوٹ آئی ہو لیکن دنیا کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والے پاپ سیتاروں کی فہرست میں اب بھی وہ دوسرے مقام پر قائم ہیں۔ اس معاملے میں صرف آئرش بینڈ یوٹوہی ان سے آگے ہے۔ میگزین فار بس کی مانیں تو کمائی کے لحاظ سے ایولز پریسلے اور مارلن منرو جیسی ہستیاں مائیکل جیکسن سے کوسوں دور ہیں۔ مائیکل جیکسن جیسا مہان آرٹسٹ شاید ہی دوبارہ پیدا ہوسکے۔ لاکھوں دیوانے آج بھی ان کے ڈانس کے اسٹائل کو کاپی کرتے تھکتے نہیں ہیں۔ گانے اور ڈانس کا جتنا اچھا تال میل مائیکل کرتے تھے بہت کم لوگ ایسا کرسکتے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Michel Jackson, Vir Arjun

کیا راہل گاندھی کی بہت جلد تاجپوشی ہونے والی ہے



Published On 11th November 2011
انل نریندر
پچھلے کچھ دنوں سے راہل گاندھی کو کانگریس کی کمان جلد سونپنے کی قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں۔ بتایا جارہا ہے کانگریس صدر سونیا گاندھی کی صحت تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اس لئے وہ چاہتی ہیں کہ جلد سے جلد راہل گاندھی کی تاجپوشی ہوجائے۔ اس کے پیچھے مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لٹکے پڑے اہم فیصلوں کو قطعی شکل دی جاسکے اور سست پڑی تنظیم میں نئی روح پھونکی جاسکے۔کہا جارہا ہے کہ محترمہ سونیا گاندھی علاج کے لئے دوبارہ بیرونی دورہ پر روانہ ہوسکتی ہیں۔ کانگریس کا ایک گروپ چاہتا ہے کہ راہل کی تاجپوشی اس سے پہلے سونیا گاندھی کردیں۔ تنظیم کی توسیع اور نوجوان اور کسانوں سے براہ راست رابطہ قائم کرنے میں اپنے کردار سے اوپر اٹھ کر راہل براہ راست لیڈر شپ سنبھالیں۔ اس کی خواہش کئی کانگریسی ظاہر کرچکے ہیں۔ قابل ذکر ہے مرکزی سرکار کی طرح کانگریس تنظیم میں بھی کام کاج ایک دم ڈھیلا پڑا ہوا ہے۔ کئی اہم اور بڑے فیصلے سونیا گاندھی کی طرف سے لٹکے ہوئے ہیں۔ اروناچل پردیش میں پارٹی کے اندر بغاوت انتہا پر ہے۔ راجستھان میں وزیر اعلی اشوک گہلوت کی ان کے وزیر نہیں سن رہے ہیں۔ وہ بار بار دہلی کے چکر لگا رہے ہیں لیکن میڈم نے کوئی قطعی حکم نہیں دیاہے۔ تلنگانہ پر پارٹی کیا فیصلہ کرے اس پر غلام نبی آزادی 10 جن پتھ آئے اور بغیرکسی جواب کے واپس چلے گئے۔ ہریانہ کے وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا کے مخالف سونیا گاندھی سے مل کر انہیں حصار میں ہار کی خاص وجہ بتانا چاہتے ہیں۔ ہڈا کی اپنی شکایتیں ہیں۔لیکن میڈم سے ملنے کا دونوں گروپوں کو ٹائم نہیں مل پارہا ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس کے ساتھی بھی اس پر تال میل کی کمی کا الزام لگا رہے ہیں۔ اترپردیش کی وزیراعلی مایاوتی نے اشارے دئے ہیں کہ وہ ریاست کی تقسیم چاہتی ہیں۔ ریاست کی کانگریس پارٹی اور مرکزی سرکار کا کیا رد عمل ہوگا؟ خبر یہ بھی ہے کہ اپنی خراب صحت کے سبب سونیا گاندھی اترپردیش کے آنے والے اسمبلی چناؤ میں پرچارکرنے شاید نہ جاسکیں۔ یا توپارٹی نیتا راہل کو پارٹی کی باگ ڈور سونپ دئے جانے کی کہہ رہے ہیں اور ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سونیا نے انہیں ایگزیکٹو پردھان بنانے کی پوری تیاری کرلی ہے لیکن سنا ہے اس کے لئے راہل فی الحال راضی نہیں ہیں۔ کچھ کانگریسیوں کا کہنا ہے ممکن ہے پرنانا پنڈت جواہر لال نہرو کے جنم دن یعنی 14 نومبر سے لیکر دادی اندرا کی جینتی19 نومبر کے درمیان کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں فیصلہ ہوسکتا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری اور میڈیا انچارج جناردن دویدی سے اس بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا راہل گاندھی کا سیاست اور تنظیم میں رول بڑھا ہے۔ کانگریس کے لوگ بھی چاہتے ہیں ان کا رول اور بڑھے ۔ جہاں تک انہیں صدر بنائے جانے کا سوال ہے یہ فیصلہ خود محترمہ گاندھی کو کرنا ہے۔ کانگریس کے آئین کے مطابق پارٹی صدر کو یہ حق ہے کہ وہ بغیر کانگریس ورکنگ کمیٹی کی منظوری سے یہ فیصلہ کرسکتی ہیں۔ کانگریس کی تاریخ میں ایگزیکٹو صدر بنانے کی ویسے تو روایت نہیں ہے لیکن مرحومہ اندرا گاندھی نے خود کانگریس صدر رہتے ہوئے پنڈت کملا پتی ترپاٹھی کو ایک بار ورکنگ پردھان بنایا تھا۔ ممکن ہے اپنی ساسو ماں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سونیا گاندھی پارٹی کے لوگوں کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے جلد یہ فیصلہ کریں۔ ویسے راہل کا پارٹی معاملوں میں دخل ایک طرح سے بڑھ چکا ہے۔ جب سونیا علاج کے لئے بیرون ملک گئیں تھیں تو راہل نے یہ ذمہ داری کچھ حد تک سنبھالی تھی۔ سونیا اپنی غیر موجودگی میں راہل کی سربراہی میں تنظیم کے فیصلوں کے لئے ایک کور کمیٹی بنا گئی تھیں۔ کانگریس تنظیم نے راہل کی موجودگی کا اثر ہوگا۔ راہل ایک نیک ، ایماندار ساکھ کے لیڈر ہیں ۔ کئی مسئلوں پر انہوں نے سیدھے پردھان منتری تک جنتا کے مسائل کو پہنچایا ہے مگر ابھی تک ایک دو موضوع کو چھوڑ دیں تو وہ زیادہ تر معاملوں میں اپنی رائے رکھنے سے بچتے رہے ہیں۔ راہل لگتا ہے ابھی خود بھی بڑی ذمہ داری سنبھالنے کو تیار نہیں لگتے۔ انہیں موقع کی نزاکت کو سمجھنا چاہئے کہ دونوں کانگریس پارٹی اور یوپی اے سرکار کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ اگر گرتے گراف کو کوئی سنبھال سکتا ہے تو وہ صرف راہل گاندھی ہی ہیں۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Manmohan Singh, Rahul Gandhi, Sonia Gandhi, Vir Arjun

10 نومبر 2011

ممتا بنرجی سے ایسی نوٹنکی کی امید نہیں تھی




Published On 10th November 2011
انل نریندر
یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ ترنمول کانگریس کی صدر و مغربی بنگال کی وزیر اعلی اب دباؤ اور بلیک میلنگ کی سیاست پر اتر آئی ہیں۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو لیکر ممتا کی حمایت واپس لینے کی دھمکی دراصل حمایت دینے کا مول لینا تھا۔ یہ اسٹائل ممتا کا پرانا ہے۔ پیٹرولیم کے داموں سے پیدا سیاسی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی قیمت انہوں نے19 ہزار کروڑ روپے لگائی ہے۔ 4 نومبر کو ممتا نے کہا تھا کہ ہماری حمایت واپس لینے سے سرکار گر سکتی ہے لیکن وزیر اعظم باہر ہیں ، ہم ان سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں، ان سے ملنے کے لئے وقت مانگا ہے۔ دراصل ممتا کا مقصد وزیر اعظم سے سودے بازی کرنے کا تھا۔ انہیں پیٹرول کی قیمتوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی یہ تو محض دباؤ بنانے کا ہتھیار تھا۔ منگل کو ترنمول کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ کے ایک نمائندہ وفد نے وزیر اعظم سے ملاقات کی اس نمائندہ وفد کو پیٹرول کی قیمت میں 1.80 پیسے اضافہ لینے پر وزیر اعظم نے کوئی یقینی دہانی نہیں کرائی۔ یوں کہئے وزیر اعظم نے ایک طرح سے نمائندہ وفد کو منع کردیا۔ 45منٹ چلی بات چیت محض ایک ڈرامہ تھی اور اس ناٹک بازی کے بعد نمائندہ وفد نے کہا ہم حکومت سے کبھی نہیں ہٹیں گے۔ ہم اضافے کے سخت حلاف ہیں۔ میڈیا میں رسوئی گیس اور ڈیزل کے ڈی کنٹرول کو لیکر آرہی خبروں پر وفد نے وزیر اعظم سے سوال کرکے احتجاج ظاہر کیا۔
وزیر اعظم نے اس مسئلے پر کوئی معلومات نہ ہونے سے منع کردیا۔ ادھر کولکتہ میں ممتا نے پرنب مکھرجی سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے کہا اگر پیٹرومصنوعات کے دام پھر بڑھائے گئے تو میری پارٹی یوپی اے سرکار میں نہیں رہے گی۔ اضافہ واپس لینے کی یقینی دہانی کے بجائے وزیراعظم نے ترنمول ممبران کو اس فیصلے کی باریکیاں سمجھائیں۔ انہوں نے صاف طور پر کہا کہ حالات کو دیکھتے ہوئے سرکار ڈیزل سے سرکاری کنٹرول ہٹائے گی۔ ڈیزل کو ڈی کنٹرول کرنایوپی اے کے اقتصادی ایجنڈے میں ہے۔ ممبران نے جب ان سے پیٹرول کے دام بڑھانے کے فیصلے پر ترنمول کو بے خبر رکھنے کی بات کی تو وزیر اعظم نے کہا کمپنیاں اپنا فیصلہ بے شک سرکار کو بتاتی ہیں مگر یہ محض خانہ پوری ہوتی ہے۔ وہ فیصلہ لینے کے لئے آزاد ہیں۔ حالانکہ جب بھی کمپنیاں دام بڑھانے کو لیکر ہم سے بات کریں گی ہم ساتھیوں کو جانکاری دیں گے۔
پیٹرول کے بڑھے دام واپس نہیں ہوں گے لیکن ہاں اس چکر میں مغربی بنگال کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کیلئے ممتا دیدی کو مرکز سے 19 ہزار کروڑ روپے کا پیکیج جلد ملنے کا امکان ہے۔ کولکتہ میں وزیر اعلی ممتا بنرجی نے وزیر مالیات پرنب مکھرجی سے میٹنگ کے بعد کہا مغربی بنگال کی اقتصادی حالت بدحال ہے۔اسے پٹری پر لانے کیلئے ریاست کو مرکز سے مالی امداد جلد ملنے کی ضرورت ہے۔ فی الحال انہوں نے مرکزی حکومت سے 19 ہزار کروڑ روپے کی مدد مانگی ہے۔ جب مرکزی سرکار خود پیٹرول کی قیمتوں کو لیکر سیاست کرے گی تو وہ اپنی اتحادی پارٹیوں کو ایسا نہ کرنے کی نصیحت نہیں دے سکتی۔ اگر ممتا بنرجی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر اپنی ناراضگی کے ذریعے مرکز سے اقتصادی پیکیج حاصل کرنا چاہتی ہیں تو اس کے لئے ایک حد تک خود مرکز ذمہ دار ہے۔ ممتا بنرجی کو اپنی ریاست کے مسائل سے آزاد کرنے کے لئے مرکزی پیکیج کی ضرورت ہو سکتی ہے لیکن اسے حاصل کرنے کے لئے اس کی طرف سے جو طریقہ اپنایا جارہا ہے وہ سودے بازی کی سیاست کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Mamta Banerjee, Manmohan Singh, Petrol Price, Trinamool congress, Vir Arjun, West Bengal

نیم برہنہ لڑکیوں اور ہیجڑے کے درمیان بھگوادھاری سوامی



Published On 10th November 2011
انل نریندر
ایک 72 سالہ بھگوادھاری سوامی کا بھلا ٹی وی رائلٹی شو 'بگ باس' میں کیا کام ہے؟ سوامی اگنی ویش اب 'بگ باس ' جیسے بیہودہ شومیں حصہ لے رہے ہیں۔ ادھر نئی دہلی میں سادھو سنت گؤ ہتیاروکنے کے لئے جنترمنتر پر دھرنا دے رہے ہیں ادھر سوامی اگنی ویش وائلڈ کارڈ اینٹری کے ذریعے بگ باس کے گھر میں پہنچ رہے ہیں اور وہاں پر حسیناؤں کو اپنا جوہر دکھائیں گے ۔ بگ باس کے گھر رہنے والے زیادہ تر چہرے فلموں، ٹی وی اور فیشن دنیا سے وابستہ ہیں۔ سیریل پروڈیوسر کی کوشش رہتی ہے کہ یہاں رہنے والوں کے درمیان کچھ نہ کچھ ایسا ہوتا رہے جس سے سیریل کی ٹی آر پی بڑھتی رہے۔ اس کے لئے کئی بار 'بگ باس' کے گھر میں رہنے والے مضحکہ خیز انداز میں بات چیت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کئی بار کم کپڑوں میں بدن دکھانے کا ہتھکنڈہ اپنایا جاتا ہے۔ خواتین لڑنے جھگڑنے کا ڈرامہ کرتی رہتی ہیں۔ سب کچھ ڈرامائی انداز میں ہوتا ہے۔ سوامی اگنی ویش ڈرامہ کرنے میں ماہر ہیں اور وہ یہاں ضرور نئے رنگ دکھائیں گے۔ زندگی بھر کنوارے رہے سوامی اس رنگیلے شو میں کیا سوامی گری دکھائیں گے ۔یہ دیکھنے والوں کے لئے شاید دلچسپ ہوگا۔
سوامی اگنی ویش بھروسہ توڑنے کے الزام میں ٹیم انا سے حال ہی میں الگ ہوئے تھے۔ اس لئے تفریح چینل ان کے اس قدم کو سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ مان رہا ہے۔ غور طلب ہے 'بگ باس ' سیزن 5 کا آغاز 2 اکتوبر کو ہوا تھا۔ 'بگ باس ' کے گھر میں شروع میں 12 لڑکیاں اور ایک ہیجڑہ(لکشمی نارائن ترپاٹھی) اور ایک مرد اداکار شکتی کپور کا داخلہ ہوا تھا مگر جیسے جیسے بگ باس کے گھر کے اندر کا ڈرامہ آگے بڑھے کئی اداکار باہر ہوتے گئے۔ اسی کڑی میں سوامی اگنی ویش کی منگلوار کو اینٹری ہوئی۔ سوامی اگنی ویش کے بگ باس میں جانے کی خبروں پر رد عمل ظاہرکرتے ہوئے ٹیم انا کے ممبر منیش سیسودیا نے اسے ان کی صحیح صلاحیت بتایا۔ ان کے مطابق ہر انسان کا اپنا ایک دائرہ ہوتا ہے اور شاید انہوں نے اسے اپنے لئے مناسب سمجھا ہوگا۔ جب بگ باس میں جانے کے بارے میں اگنی ویش کی خبر آئی تو یہ ٹیم انا کے کسی ممبر کا پہلا تبصرہ ہے۔
ادھر منگلوار کو ہی سپریم کورٹ نے سوامی اگنی ویش کو کڑی پھٹکار لگائی۔ امرناتھ شردھالوؤں پر سوامی اگنی ویش کے مبینہ متنازعہ تبصرے پر سپریم کورٹ نے کہا کہ لوگوں کی بھاوناؤں کو ہلکے سے نہیں لیا جاسکتا اور اگر انہوں نے یہ بیان دیا ہے تو وہ بچ نہیں سکتے۔ اگنی ویش نے اپنے خلاف مجرمانہ کارروائی کو خارج کرنے کے لئے عدالت میں عرضی دائر کی تھی۔ انہوں نے اپنے معاملے میں اور وقت کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد جسٹس ایچ ایل دت اور جسٹس سی کے پرساد کی ڈویژن بنچ نے معاملے کو پیر تک کے لئے ٹال دیا۔ بنچ نے کہا آپ لوگوں کے جذبات کو ہلکے سے نہ لیں۔ بنچ نے کہا ہر سال بڑی تعداد میں لوگ جموں و کشمیر میں امرناتھ یاترا پر جاتے ہیں۔ غور طلب ہے اگنی ویش نے مبینہ طور سے امرناتھ یاترا کو دھارمک پاکھنڈ کہا تھا اور پنجاب، ہریانہ ہائی کورٹ نے ان کے خلاف مجرمانہ کارروائی کو منسوخ کرنے کی اگنی ویش کی عرضی کو خارج کردیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
سپریم کورٹ نے صاف کہا کہ اگر اگنی ویش نے یہ رائے زنی کی تو وہ بچ نہیں سکتے۔ عدالت نے کہا اشخاص کو پبلک مقامات پربیان دینے میں احتیاط برتنی چاہئے کیونکہ لوگوں کو عام طور پر بولنے سے پہلے دس بار سوچ لینا چاہئے۔ غور طلب ہے کہ مئی میں جموں کے دورہ کے دوران اگنی ویش نے کہا انہیں یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ ایسی یاتراؤں پر کیوں جاتے ہیں۔ انہوں نے امرناتھ گپھا میں بننے والے برفیلے شیو لنگ کو ایک جغرافیائی واقعہ بتایا تھا۔اب سوامی جی سے سوال کیا جاسکتا ہے کہ آپ 'بگ باس' کے گھر میں کیا کررہے ہیں ، یہ پاکھنڈ نہیں تو اور کیا ہے؟ سوامی نے کہا کہ ان کا ماننا ہے 'بگ باس' پارلیمنٹ سے تو بہتر ہے۔
Anil Narendra, Big Boss, Daily Pratap, Reality show, Swami Agnivesh, Vir Arjun

09 نومبر 2011

26/11 ممبئی حملوں کی ماسٹر مائنڈآئی ایس آئی تھی



Published On 9th November 2011
انل نریندر
بی بی سی نے دو حصوں میں حال ہی میں ایک پروگرام نشر کیا جسے ''سیکریٹ پاکستان'' کا نام دیا گیا تھا۔ پروگرام کے پہلے حصے میں امریکی صدر براک اوبامہ کے مشیر رہے سی آئی اے کے افسر برس ریڈل کودکھایا گیا ہے کہ انہوں نے ممبئی حملے کے وقت صدر کو مطلع کیا تھا کہ ''ہر انگلی پاکستان کی طرف اٹھ رہی ہے۔یہ ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے۔'' پاکستان سے آئے آتنک وادیوں نے 26 نومبر2008 کو ممبئی کے بڑے کئی اہم مقامات پر حملہ کیا تھا۔ اس وقت اوبامہ امریکی صدر منتخب ہوچکے تھے۔ حالانکہ انہوں نے حلف نہیں لیا تھا۔ امریکی سسٹم کے مطابق انہوں نے جنوری2009 ء میں حلف لیا تھا۔ ریڈل نے کہا ''میں نے پاکستانی صدر سے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ دوہرا کھیل کھیلنا بند کریں۔ ان سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان برسوں سے امریکہ اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ ایسا کررہا ہے اس کے آگے بھی ایسا ہی کرتے رہنے کا اندیشہ ہے۔'' ریڈل نے کہا '' ان حملو ں میں ہر جگہ لشکر طیبہ کی چھاپ نظر آتی ہے۔ حملوں کے آغاز سے لگنے لگا ہے کہ لشکر کی کرتوت ہے۔'' انہوں نے کہا ایک بار جب آپ لشکر سے ان حملوں کو جوڑتے ہیں تو آپ اسے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے بھی جوڑیں گے۔ اس پیغام کے دوسرے حصے میں کہا گیا ہے ''سی آئی اے کو یہ جانکاری ملی تھی ممبئی حملے میں آئی ایس آئی سیدھے طور پر ملوث تھی۔ کابل میں جولائی 2008ء میں دھماکے سے لدی کار کو ہندوستانی سفارتخانے کے قریب اڑادیا گیا تھا۔ اس حملے میں 58 لوگ مارے گئے تھے اور 141 افراد زخمی ہوئے تھے۔ امریکی نائب صدر کے عہد میں کام کرچکے مائک والڈس کا کہنا ہے ''اطلاع اور سلسلہ وار پروگرام سے پوری طرح واقف ہوگیا تھا۔ کابل میں دھماکے کرنے والے حقانی نیٹ ورک کو پاکستان کی حمایت ملی ہوئی تھی۔ اس وقت کابل میں برطانوی سفیر شیرڈ کوپیرکولس نے کہا کہ آئی ایس آئی کا ایک چھوٹا گروپ حقانی نیٹ ورک کے رابطے میں ہے ۔اس کے بارے میں مغربی ملکوں کو کبھی معلومات نہیں ملی۔ اس پروگرام میں طالبان کے کچھ خود ساختہ کمانڈروں نے خلاصہ کیا کہ برطانیہ، امریکہ کے فوجیوں کے خلاف طالبان کی لڑائی میں پاکستان کی حمایت ملتی ہے۔ ایک خود ساختہ کمانڈر ملا عزیز اللہ کے مطابق آتنک وادیوں کے لئے ٹریننگ کیمپ چلا رہے ماہرین آئی ایس آئی کے ممبر ہیں اور ان کی کسی نہ کسی طریقے سے خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے وابستگی ہے۔انہوں نے کہا وہ پہلے ہمیں دھماکوں کے بارے میں بتاتے ہیں اس کے بعد ہم لوگوں کو عام طور پر جانکاریاں دی جاتی ہیں۔ ٹریننگ کے وقت وہ کیمپ میں موجود رہتے ہیں۔ بی بی سی تو اپنی آزادانہ رپورٹنگ کے لئے جانا جاتا ہے۔ ان کا ہر پروگرام سوچ سمجھ کر ٹیلی کاسٹ کیا جاتا ہے۔ جب بی بی سی کہتا ہے کہ آئی ایس آئی ممبئی حملوں کی ماسٹر مائنڈ تھی تو یہ ایک طرح سے صحیح ہی لگتا ہے۔
26/11, Anil Narendra, BBC TV, Daily Pratap, India, Mumbai, Obama, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun

عدالتوں کو پورا اختیار ہے کہ وہ تیل کی قیمتوں میں اضافے پر مداخلت کریں



Published On 9th November 2011
انل نریندر
کھیل کمپنیاں کہتی ہیں ہمیں خسارہ ہورہا ہے اسی وجہ سے بار بار پیٹرول مصنوعات کی قیمتیں بڑھاتی ہیں۔ حکومت کہتی ہے کہ ہم نے تو پیٹرول ڈی کنٹرول کردیا ہے۔اب تیل کمپنیاں تیل کی قیمتیں طے کریں گی۔ یہ دلیلیں نہ تو عوام کو ہضم ہوتی ہیں اور نہ ماہرین کو اورنہ ہی اب عدالتوں کو۔ سوال اٹھتا ہے کہ کمپنیاں اگر خسارے میں ہیں تو پھر پورے دیش میں نئے پیٹرول پمپ کھولنے کے منصوبے کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا؟ پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس اگر کم کردیا جائے تو ان کے دام گھٹ جائیں گے۔ مگر افسوس جتانے کے باوجود حکومت کا رویہ حیران کرنے والا ہے۔ انڈین آئل کارپوریشن ہندوستان پیٹرولیم و بھارت پیٹرولیم دنیا کی سب سے زیادہ منافع کمانے والی 500 کمپنیوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے اگلے دو برسوں میں ملک بھر میں1100 نئے پیٹرول پمپ قائم کرنے کا پلان بنایا ہے۔ اس پر 5500 کروڑ روپے سے زیادہ کا خرچ آئے گا۔ یہ پیسہ کہاں سے آئے گا؟ جواب صاف ہے کہ جنتا کی گاڑھی کمائی سے اور کہاں سے؟ پیٹرول مرکز اور ریاستی حکومتوں کی بھی آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔ این ڈی اے عہد میں جب پیٹرول کو ڈی ریگولیٹ کیا گیا تھا اس وقت طے کیا گیا تھا کہ کچے تیل کی قیمت بڑھے گی تو حکومت ٹیکس کو ایڈجسٹ کرے گی تاکہ اس اضافے کا جنتا پر بوجھ نہ ڈالنا پڑے۔ ایسے میں موجودہ حکومت سرکار کو کیوں نہیں ٹیکس کم کرکے جنتا کو بڑھتی قیمتوں سے نجات نہیں دلاتی؟ اس وقت پیٹرول کی قیمت میں ایک بڑا حصہ ٹیکس کا ہوتا ہے۔ دہلی میں پیٹرول کی قیمت 68 روپے 65 پیسے فی لیٹر ہے جبکہ حقیقت میں تیل کی قیمت23.37 روپے ہے۔ یعنی باقی45.28 روپے ٹیکس کے ہیں۔ بھاجپا نیتا یشونت سنہا نے کہا ہے کہ1998ء میں جب این ڈی اے سرکار حکومت میں تھی تب کچے تیل کی قیمت 10 ڈالر فی بیرل ہوا کرتی تھی۔ جب اس کی حکومت گئی تو یہ 40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی لیکن اس کے باوجود اس وقت تیل کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ اس لئے نہیں ہوپایا کیونکہ اس حکومت نے اسے ٹیکسوں میں تال میل بٹھا لیاتھا۔ 2004ء میں پیٹرول کے دام 23.71 روپے فی لیٹر تھے اور اس کے بعد سے مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ یعنی یوپی اے حکومت نے اپنے عہد میں 24 مرتبہ پیٹرول کے دام بڑھائے اور اس طرح یوپی اے نے اپنے عہد میں پیٹرول کی قیمت میں35 روپے لیٹر اضافہ تو کردیا ابھی بھی اس حکومت کا عہد بچا ہوا ہے پتہ نہیں اور کتنے دام بڑھائے گی؟ پیٹرول کی بار بار بڑھتی قیمتوں پر اب عدالتوں نے بھی غور کرنا شروع کردیا ہے۔ حال ہی میں کیرل ہائی کورٹ نے اس سمت میں پہل کی ہے۔ عدالت ہذا نے کہا کہ مہنگائی دھیمی موت کی طرح ہے اور حکومتیں ہاتھ نہیں کھڑا کرسکتیں ۔ یہ ہی نہیں عدالت نے انڈین آئل کارپوریشن اور ریلائنس پیٹرولیم کو اپنی بیلنس شیٹ اور سہ ماہی رپورٹ تین ماہ کے اندر پیش کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔کیرل ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اس بات پر بھی تنازعہ کھڑا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کیا عدالتیں اپنے اختیارات کے حدود تو پار نہیں کررہی ہیں؟ کیا عدالتوں کو ایسے اشوز میں دخل دینا چاہئے وغیرہ وغیرہ۔ راجستھان ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور آئینی کمیشن کے ممبر جسٹس شیو کمار کہتے ہیں کہ مفاد عامہ کو متاثر کرنے والی ہر چیز پر عدالت سماعت کرسکتی ہے۔ آئین ہمیں باعزت زندگی گذارنے کا حق دیتا ہے۔ عدالت کو لگتا ہے کہ بے تحاشہ بڑھتی قیمتوں سے یہ حق متاثر ہورہا ہے۔ وہ تو اس پر بھی سماعت کرسکتی ہے۔ کورٹ اس بات کی بھی جانچ کرسکتی ہے کہ قیمتیں صرف تاجروں کی منافع خوری کے سبب تو نہیں بڑھ رہی ہیں۔ سپریم کورٹ کے وکیل ڈی کے گرگ بھی جسٹس کمار کی رائے سے متفق ہیں۔ وہ 1998ء میں پیاز کی قیمت پر سابق چیف جسٹس اور قومی انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین ایم این وینکٹ چلیا کے میڈیا میں آئے بیان کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ مسٹر چلیا نے کہا تھا کہ بڑھتی مہنگائی لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ ایک طرح سے عوام کی گاڑھی کمائی کو لوٹنا ہے۔ گرگ فرماتے ہیں کہ جب بات بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی ہو تو عدالت سماعت کرسکتی ہے۔ براہ راست تو نہیں لیکن درپردہ طور سے ایسا کئی بار ہوا ہے۔ غریبوں کو مفت اناج بانٹنے اور غریبوں کی تعداد پر سپریم کورٹ کے تبصرے اسی کے تحت آتے ہیں۔ حالانکہ براہ راست طور پر سپریم کورٹ نے کبھی مہنگائی یا بڑھی قیمتوں پر سماعت نہیں کی تھی بلکہ ایسی عرضیاں خارج کی ہیں۔ وہ ونے چندر جوشی کے معاملے کی مثال دیتے ہیں۔ اس میں کہا گیا تھا کہ حکمراں پارٹی نے اپنے چناؤ منشور میں مہنگائی کم کرنے کا دعوی کیا تھا جبکہ اس کے اقتدار میںآنے کے بعد مہنگائی بے تحاشہ بڑھی ہے۔ یہ وعدہ خلافی اور جنتا کے ساتھ دھوکہ ہے۔ دیش کے جانے مانے وکیل راجیو دھون میں مانتے ہیں کورٹ نے مہنگائی پر براہ راست کبھی سماعت نہیں کی لیکن پھر بھی حکومت کو بتانا پڑے گا کہ پیٹرول کی قیمتیں کیوں بڑھی ہیں؟ بین الاقوامی بازار میں قیمتیں بڑھنے کی وجہ یا پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی گھٹانے یا پھر تیل کمپنیوں کو زیادہ منافع دینے سے اگر مبینہ سرکار نے نہیں بلکہ تیل کمپنیوں نے بڑھائی ہے تو معاملہ مقابلہ جاتی قانون کے تحت آئے گا۔ تب یہ دیکھا جائے گا کہ کہیں اس کے پیچھے تیل کمپنیوں کی سازش تو نہیں ہے؟
Anil Narendra, Daily Pratap, Kerala High Court, Petrol Price, Vir Arjun

06 نومبر 2011

بھلے ہی دیر سے اٹھائے گئے پاکستانی قدم کا خیر مقدم



Published On 6th November 2011
انل نریندر
پاکستان کی کابینہ نے بدھ کے روز اتفاق رائے سے ایک دور رس فیصلہ لیا ہے۔ پاکستان نے بھارت کو انتہائی ترجیحاتی ملک تجارتی درجہ دے دیا ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات فردوس اشفاق عوان نے اسلام آباد میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ یہ قومی مفاد میں لیا گیا فیصلہ ہے اس میں سبھی فریقین فوج ،دفاعی اداروں کی رضامندی لی گئی ہے۔ اس فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان کاروبار آنے والے تین برسوں میں تین گنا بڑھ سکتا ہے۔ ہندوستان نے تو 1996 میں ہی پاکستان کو ایم ایف این کا درجہ دے دیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان کاروبار ابھی 2.6 ارب ڈالر ہے۔ سی آئی آئی کا کہنا ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں یہ آٹھ ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ ہندوستان کو ایم ایف این کا درجہ دینے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان تجارت میں اب بھارت کو دیگر سانجھے داروں کے مطابق مانے گا۔ اس سے باہمی کاروباری اقتصادی رشتے مضبوط ہوں گا۔ بھارت کو ایم ایف این کا درجہ مہنگائی سے بھارت ۔پاکستانی عوام کو بھاری راحت دے سکتا ہے۔ بھارت کو ایم ایف این دینے سے پاکستانی عوام کو دوائیاں 55 فیصدی، پھل ، سبزیاں40 فیصدی اور چینی 30 فیصدی تک سستی مل سکتی ہے۔پاکستان سے زبردست آرڈر ملنے کا امکان دیکھ کر ہندوستانی صنعت بھی کافی خوش ہے۔ ہندوستانی کمپنیاں خاص کر انجینئرنگ دوا اور کیمیکل سیکٹر میں پاکستان نے مشترکہ صنعت لگانے کے امکانات بھی کھولتی ہے۔ ایم ایف این کا درجہ نہ صرف ہندوستانی کاروباریوں کو زیادہ برآمدات کرنے کا راستہ صاف کرے گا بلکہ دونوں ملکوں کی کمپنیوں کو آپس میں مشترکہ صنعتیں قائم کرنے میں بھی مدد دے گا۔
پاکستان نے بھارت کو سب سے ترجیحاتی ملک کا درجہ دینے کا فیصلہ بھلے ہی بہت تاخیر سے کیا ہے پھر بھی اس فیصلے کا دونوں ملکوں کے رشتوں پر اچھا اثر پڑنا طے ہے۔ آپسی اعتماد بحالی کی کوشش میں اسلام آباد کی جانب سے اٹھایا گیا یہ ایک بڑا قدم ہے۔ پاکستان کی حکومت نے یہ فیصلہ لیتے ہوئے ہند۔ چین کی تجارت کا جس طرح سے حوالہ دیا ہے اس سے صاف ہے کہ دیر سے صحیح اسلام آباد کو یہ احساس ہوا ہے کہ سیاسی محاذ پر نااتفاقیاں ہونے کے سبب آپسی تجارت کو ٹھپ کرنا صحیح نہیں ہے۔ آخر سرحدی تنازعے کے باوجود بھارت اور چین کاروبار کے مورچے پر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں۔ سرحد کے دونوں طرف ایسی کئی چیزیں ہیں جن کی دونوں ملکوں کو ضرورت ہے۔ اب پڑوس میں کفایتی چیز ہونے کے باوجود اسے کسی دوسرے دیش سے مہنگے دام پر منگانے کی مجبوری ختم ہوجائے گی۔ اتنا ہی نہیں اس سے غیر قانونی کاروبار پر بھی لگام لگے گی۔ دراصل بھارت کے ساتھ اقتصادی تعلقات ٹھپ رکھ کر پاکستان پہلے ہی بہت نقصان اٹھاچکا ہے۔ آج عالم یہ ہے کہ کسی جنوبی ایشیا میں سافٹا کے تحت سری لنکا کے ساتھ بھارت کا مستثنیٰ تجارت سمجھوتہ ہے۔ بھارت۔ پاکستان کو اس سمت میں تو آگے بڑھنا ہی ہوگا۔ کاوباری ویزا قانون کو آسان بنانے کا کام بھی کرنا ہوگا تبھی دونوں دیشوں کے درمیان مضبوط اقتصادی رشتے قائم ہوں گے۔ ویسے دونوں ملکوں کے درمیان کاروباری رشتوں کی بنیاد تو پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے ساتھ ہی رکھ دی گئی تھی لیکن ان کی موت کے بعد ان کے جانشینوں نے عام طور پر بھارت مخالف نظریہ اپنایا جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے رشتے خوشگوار نہ ہوسکے۔ پاکستان نے کشمیر کا مسئلہ اٹھایا اور آج بھی اس پر قائم ہے جبکہ ہندوستان کو سب سے بڑی شکایت پاکستان کی سرزمین سے دہشت گردوں کے ذریعے چھیڑا گیا جہاد ہے۔ یہ دونوں مسئلے آج بھی قائم ہیں لیکن ان کے رہتے دونوں ملکوں میں تجارت نہ ہو یہ دلیل ٹھیک نہیں ہے۔ ویسے بھی پاکستان اس وقت اپنی زندگی کے سب سے نازک دور سے گذر رہا ہے۔ پاکستانی حکومت کو ایک طرف جہاں فوج اور اپنے یہاں انتہا پسند گروپوں کے دباؤ میں کام کرنا پڑ رہا ہے وہیں دوسری طرف اس کی اعلان کردہ اور غیر محفوظ آتنک وادی گروپ پاکستان کو ایک ملک کی شکل میں تباہ کرنے پر آمادہ ہے۔ اس کے علاوہ آج ساری دنیا پاکستان کو ایک ناکام ملک سمجھتی ہے۔ آج پاکستان کے امریکہ سے بھی رشتے تلخی پر پہنچ چکے ہیں۔ ایسے میں بھارت کے ساتھ رشتوں میں بہتری کی کوششیں پاکستان کے لئے بھی یقینی طور پر چنوتی بھری رہیں گے۔ جیسے بھارت میں ایسے عناصر کی کمی نہیں ہوگی جو دونوں ملکوں کے قریب آنے سے بے چین ہوں گے۔ اقتصادی دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا پاکستان آج دنیا کے سامنے آتنکی خطرے کی علامت بنتا جارہا ہے ایسے میں صاف نیت کے ساتھ دوستی کی یہ پہل یقیناًاسے مشکلوں سے نکلنے میں مددگار ہوگی۔ جیسا کہ شری اٹل بہاری واجپئی نے کہا کہ ہم سب کچھ اور بدل سکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں بدل سکتے اور آخر کار پڑوسی کے کام تو پڑوسی ہی آتا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, India, Most Favourd Nation, Pakistan, Vir Arjun

مہنگائی دھیمی موت کی طرح ہے حکومتیں پلہ نہیں جھاڑ سکتیں


Published On 6th November 2011
انل نریندر
پیٹرول کے داموں میں تازہ اضافے کی چوطرفہ مخالفت ہونا فطری ہے۔ جنتا کا غصہ کھلی بغاوت کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ بھاجپا نے تو جنتا سے کھلی مخالفت کرنے کی اپیل کردی ہے۔ بھاجپا کے سینئر لینڈر یشونت سنہا کا کہنا ہے کہ دیش کی جنتا پہلے سے ہیں 12.21 فیصدی افراط زر شرح کا سامناکررہی ہے ۔ ایسے میں پیرول کے داموں کا بڑھنا جنتا پر دوہری مار کی مانند ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ عوام اس کڑپٹ اور غیر ذمہ دار حکومت کو اکھاڑ پھینکے۔ میں پوری ذمہ داری کے ساتھ اس ملک کی عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ حکومت کے اس منمانے قدم کے خلاف بغاوت کریں۔ بغاوت کئی طرح کی ہوتی ۔ تعاون نہ کرنا بھی ایک طرح کی بغاوت ہوگی۔ یوپی اے سرکار کے اس فیصلے سے اس کی اتحادی پارٹیاں بھی ناراض ہیں۔ یوپی اے میں دوسری سب سے بڑی پارٹی ترنمول کانگریس نے تو اشاروں میں حمایت واپسی تک کی دھمکی دے دی ہے۔ جمعہ کو ترنمول کانگریس پارلیمانی پارٹی کی کولکتہ میں ایمرجنسی میٹنگ ہوئی۔ممتا بنرجی نے کہا کہ ہمارے نیتامرکزی سرکار سے حمایت واپس لینے کے حق میں ہیں لیکن کوئی بھی فیصلہ وزیر اعظم کے وطن لوٹنے کے بعد ہی لیا جائے گا۔ ادھر خبر ہے وزیر اعظم وطن لوٹ آئے ہیں۔ ایک طرح سے انہوں نے پیٹرول کے داموں میں اضافے کو مناسب ٹھہرادیا ہے۔ فرانس میں انہوں نے کہا کہ بازار کو اپنے حساب سے چلنے دیا جائے۔ تیل کی قیمتوں کو اور ڈی کنٹرول کئے جانے کی ضرورت ہے۔ ڈی ایم کے این سی پی اور نیشنل کانفرنس نے بھی پیٹرول کے دام بڑھانے کی مخالفت کی ہے۔ ادھر انڈین آئل کارپوریشن کے چیئرمین آر ایس بتلا نے کہا کہ اگر سرکار ہدایت دیتی ہے تو ہم اضافے کو واپس لینے کو تیار ہیں۔
پیٹرول مصنوعات کی قیمتوں پر منموہن سنگھ حکومت کا ہمیشہ ایک ہی جواب رہا ہے ہم اس میں کچھ نہیں کرسکتے یہ فیصلہ تیل کمپنیوں کو ہی کرنا ہے۔ یہ کہہ کر سرکار اپنا پلہ جھاڑ لیتی ہے لیکن پیٹرول کی قیمتوں کے بارے میں بار بار اضافے پر کیرل ہائی کورٹ نے سخت موقف اپنایا ہے۔ اس نے کہا حکومتیں اس معاملے پر اپنی ذمہ داری سے پلہ نہیں جھاڑ سکتیں۔ اس کی مخالفت کے لئے سیاری پارٹیوں کا انتظار کرنے کی بجائے دیش کے لوگوں کو خود سامنے آنا چاہئے۔ عدالت ہذا نے انڈین آئل کارپوریشن اور ریلائنس پیٹرولیم کو اپنی بیلنس شیٹ اور سہ ماہی رپورٹ تین ہفتے میں پیش کرنے کی ہدایت دی۔ مفادعامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کارگذار چیف جسٹس سی این رام چندرن نائن اور جسٹس پی ایس گوپی ناتھ نے زبانی رائے زنی میں کہا کہ پچھلے ایک سال میں تیل کے دام 40 فیصدی سے زائد بڑھ گئے ہیں۔ اس سے عام آدمی کو زبردست پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مہنگائی دھیمی موت کی طرح ہے۔ سیاسی پارٹیاں مخالفت کررہی ہیں۔ صارفین احتجاج نہیں کرپارہے ہیں۔ بار بار اضافے کو انہیں برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔ عدالت نے کہا اس اضافے سے دو پہیہ اور چھوٹی کاریں چلانے والے شخص متاثر ہوتے ہیں امیر لوگ نہیں ۔ کیونکہ وہ ڈیزل کی مہنگی کار میں چلتے ہیں۔ ریاستی حکومت کے وکیل نے دلیلدی کہ یہ عرضی سیاسی اغراض پر مبنی ہے لیکن عدالت نے یہ کہتے ہوئے کہ سیاست میں بھی ضرور مفاد وابستہ ہوتا ہے، عرضی سماعت کے لئے داخل کرلی گئی ہے۔ حالانکہ عدالت کا کہنا تھا تیل مصنوعات کے دام طے کرنے کا اختیارمرکزی حکومت کا تھا۔ یہ پالیسی میٹر ہے۔ پیٹرول کی موجودہ قیمتوں میں اضافے کے معاملے میں ہم دخل نہیں دے سکتے۔ پیٹرول کے دام میں اضافہ قومی اشو ہے ہم اس پرروک نہیں لگا سکتے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Inflation, Kerala High Court, Petrol Price, Vir Arjun

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...