Translater

10 ستمبر 2016

کیا اکھلیش یادو کھلے ہاتھوں سے کام کرسکتے ہیں

اترپردیش کے وزیراعلی اکھلیش یادو یہ جانتے ہیں کہ 2017ء کا یوپی اسمبلی چناؤ اگر سماجوادی پارٹی کو دوبارہ جیتنا ہے تو وہ لگاتار ڈیولپمنٹ یعنی وکاس کے نام پر ہی جیتا جاسکتا ہے۔ عام طور پر اکھلیش کی ذاتی شبیہ اچھی ہے اور وہ بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن پارٹی کے دوسرے لیڈر جن میں ان کے خاندان کے ممبر بھی شامل ہیں، اپنے ہی ایجنڈے پر چل رہے ہیں اور پارٹی کو دھراتل پر پھینک رہے ہیں۔ 2017ء اسمبلی چناؤ کی تیاریوں میں جٹے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے پہلی بار کے ووٹروں کو لبھانے کے لئے ایک بڑا داؤں پھینکا ہے۔ سرکار کی جانب سے سوموار کو ایک بیان جاری کر اسمارٹ فون تقسیم یوجنا کا اعلان کیا گیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ یکم جنوری 2017ء کو 18 سال کی عمر پورا کرنے والے میٹرک پاس درخواست دہندہ اس یوجنا کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ فائدہ حاصل کرنے والوں کے لئے 2 لاکھ کی بالائی آمدنی حد کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔سماجوادی اسمارٹ فون نام سے شروع ہورہی اس اسکیم کے لئے ایک ماہ کے اندر آن لائن رجسٹریشن شروع ہوجائے گا۔ یہ اسمارٹ فون چناؤ کے بعد 2017ء کی دوسری چھ ماہی میں دیا جائے گا۔ اکھلیش نے کہا کہ اسمارٹ فون کا فائدہ اٹھانے والوں کو چننے کا طریقہ پوری طرح شفاف ہوگا۔ یہ انتظام کیا جارہا ہے کہ اسمارٹ فون سیدھے فائدہ حاصل کرنے والے کے گھر بھیجا جائے تاکہ کسی قسم کے بھرشٹاچار کے امکانات نہ رہیں۔ پر جیسے میں نے کہا کہ اترپردیش میں اس وقت ایک نہیں کئی مکھیہ منتری ہیں اور یہ بات خود اترپردیش کے کیبنٹ منتری شیو پال سنگھ یادو نے قبول کی ہے۔
مشن یوپی2017ء کے مسئلے پر ایک نجی نیوز چینل کے پروگرام میں شرکت کرنے آئے شیوپال نے کہا کہ مشن 2017ء کا چہرہ اکھلیش یادو ہوں گے یہ پارٹی کا فیصلہ ہے۔شیو پال سنگھ نے کہا کہ پردیش سرکار میں کئی وزیر اعلی ہیں اس بات سے انکار نہیں ہیں لیکن فیصلہ صرف نیتا جی ملائم سنگھ ہی لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پردیش میں کئی وزیر اعلی ہونا کوئی غلط نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ فیصلے مشترکہ طور سے لئے جاتے ہیں لیکن اس پر مہرصرف راشٹریہ ادھیکش ملائم سنگھ یادو کی ہی ہوتی ہے۔ حالانکہ انہوں نے پریوار میں کسی بھی طرح کے من مٹاؤ سے انکار کیا۔ شیو پال نے کہا کہ ریاستی سرکار کے جو بھی فیصلے ہوتے ہیں اس کے لئے اکھلیش یادو اہل ہیں۔ اکھلیش کو سرکار چلانے کا تجربہ ہوگیا ہے۔ کانپور میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ چناؤ میں کرمنل کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔ جن لوگوں کو امیدوار بنایا جائے گا ان سے حلف نامہ لیا جائے گا۔ یہ سب تو ٹھیک ہے شیو پال جی پر کیا آپ اکھلیش کو کھلے ہاتھوں سے کام کرنے کی چھوٹ دینے کو بھی تیار ہیں؟
(انل نریندر)

50 ہزار کروڑ کا بنتا بابا رام دیو کا پتنجلی

کل تک سائیکل پر ہری دوار میں گھومنے والے بابا رام دیو آج کروڑوں روپئے کے سامراجیہ پر راج کررہے ہیں۔ بابا رام دیو کی کامیابی کی کہانی بھی کسی سے کم نہیں۔ ہری دوار کے سنتوں کا کہنا ہے کہ کچھ سال پہلے بابا رام دیو سائیکل پر ہری دوار کی گلیوں میں گھومتے تھے اور یوگ سکھاتے تھے۔ یوگ کی ایسی مایا چلی کہ آج بابا کروڑوں روپئے میں کھیل رہے ہیں۔ پتنجلی ٹرسٹ دیش میں کئی نئی صنعتی اکائیاں لگانے جا رہے ہیں۔ اندور، جموں اور گوہاٹی میں ایک ایک اور اترپردیش میں دو یونٹ لگائی جائیں گی۔ ناگپور پروڈکشن یونٹ کا سنگ بنیاد10 ستمبر کو ہونے جارہا ہے۔ ان سبھی یونٹوں میں اگلے سال مارچ تک پیداوار شروع ہوجائے گی۔ اسی کے ساتھ پتنجلی 50 ہزار کروڑ کی مصنوعات بنانے والا ٹرسٹ بن جائے گا۔ ہری دوار کے سنت کٹیر میں ایک انٹرویو میں بابا رام دیو نے خود یہ جانکاری دی۔ بابا نے کہا کہ دیش بھر میں پتنجلی کی مصنوعات کی مانگ کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ ابھی مانگ پوری نہیں کرپا رہے ہیں۔ صابن، شیمپو اور ایلوویرا جیل کی پیداوار دوگنی کی جارہی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ پتنجلی کی مصنوعات پر لوگوں کا اٹوٹ بھروسہ ہے۔ اسی بھروسے پر کھرا اترنے اور معاشی سوراج لانے کے لئے پتنجلی نے آندولن چھیڑا ہے۔
خودکو ہٹ یوگی بتاتے ہوئے بابا نے کہا معاشی غلامی سے آزادی کی مہم شروع ہوچکی ہے اور اسے پورا کرکے دکھائیں گے۔ کثیر قومی کمپنیاں سازش کے تحت پتنجلی کو بدنام کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ دیش بھر میں آچاریہ کلم نام سے 500 اسکول کھولے جائیں گے یہاں ویدک اور سادھوک دونوں طرح کی تعلیم دی جائے گی۔ یہ اسکول ملک میں اخلاقی تعلیم کا مرکز بنیں گے۔پتنجلی کی کمائی کا80فیصدی حصہ تعلیم کے میدان میں خرچ کیا جائے گا۔ پانچ سال میں تعلیم کے میدان میں کام کرنے کی بابا کی بڑی یوجنا ہے۔ 2011-12ء میں پتنجلی نے 446 کروڑ روپئے کا کاروبارکیا تھا جو 2012-13ء میں بڑھ کر 850 کروڑ ہوگیا۔2013-14ء میں یہ 1200 کروڑ تھا جو 2015-16ء میں بڑھ کر 5 ہزار کروڑ روپئے ہوگیا یعنی 6-7 سالوں میں پتنجلی نے 446 کروڑ روپئے سے چھلانگ لگا کر 5 ہزار کروڑ تک پہنچادیا۔ دیش کی دوسری جانی مانی کمپنیوں کی حالت بھی بتادیں ہندوستان یونی لیور کا ریونیو ہے 31987 اور منافع ہے 5409 کروڑ۔ نیسلے انڈیا کا ریوینیو ہے 8482 اور منافع ہے 1555 کروڑ۔ برٹانیہ 8607 کروڑ اور 1113 کروڑ۔ گودریج کنزیومر 9274 اور 1476 کروڑ۔ پتنجلی کے ہمعصر ڈابر کا ریوینیو 8436 کروڑ ہے منافع ہے 1557 کروڑ۔ کل ملاکر بابا نے ایک طرح سے چمتکار کر دکھایا ہے۔
(انل نریندر)

08 ستمبر 2016

ان الگاؤ وادیوں پر سالانہ کروڑوں روپئے خرچ کیوں

جموں و کشمیر میں کل جماعتی نمائندہ وفد بھلے ہی سینکڑوں لوگوں اور درجنوں نمائندہ وفود سے ملا ہو پر کل ملا کر ان کا مشن فیل رہا۔ الگاؤ وادی نیتاؤں سے ملنے کیلئے کچھ اپوزیشن لیڈر بیشک ان کے گھر تک گئے پر انہوں نے دروازہ کھولنے سے منع کردیا۔ یہ مرکز کا قابل ستائش قدم تھا کہ مرکزی دھارا کے سیاسی اپوزیشن پارٹیوں کو ایک ساتھ لانے میں سرکار کو کامیابی ملی ہے اوران اہم اپوزیشن پارٹیوں کووادی کی صورتحال سے روبرو ہونے کا موقعہ ملا۔ اس کی مانگ گزشتہ کئی دنوں سے کی جارہی تھی ۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں سرکار کو کئی چنوتی بھری صورتحال سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے۔ وہیں سرکار کے حکمت عملی سازوں کا کہنا ہے کہ حریت کا بات چیت کے لئے آگے نہیں آنا ثابت کرتا ہے کہ وہ پاکستان (ان کے آقا) کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ان حریت لیڈروں کے تو دونوں ہاتھوں میں لڈو ہیں۔ پاکستان کا پورا سمرتھن اور بھارت سے مکمل سہولیات۔ جموں و کشمیر میں ان الگاؤ وادیوں پر بھارت سرکار ہر سال کروڑوں روپے خرچ کررہی ہے وہیں غام کشمیری بھوکوں مررہا ہے۔ کچھ اعدادو شمار بتائیں گے کہ مرکز اور ریاستی سرکار ان پاکستانی پٹھوؤں پر کتنا خرچ کرتی ہے۔ گزشتہ5 سالوں میں ریاستی سرکارا ن الگاؤں وادیوں پر 506 کروڑ روپے خرچ کر چکی ہے۔ جموں و کشمیر کا سرو شکشا ابھیان میں 484.4 کروڑ کا بجٹ ہے۔ گزشتہ دو ماہ سے اسکول کالج نہ کھلنے کی وجہ سے تعلیم بھی چوپٹ ہوگئی ہے۔ ان نیتاؤں کی نجی سرکشا پر سالانہ 100 کروڑ سے زیادہ خرچ ہورہا ہے۔ 21 کروڑ ہوٹل اور 26.43 کروڑ روپے کا پیٹرول ڈیزل کا بل بنا ہے گزشتہ پانچ سالوں کا۔ سرکشا کرمیوں کی تنخواہ پر گزشتہ پانچ سالوں میں 309 کروڑ روپے خرچ ہوا ہے۔ اس کے مقابلے جموں علاقہ کو سرکشا کے نام پر صرف 227 کروڑ روپے ملے۔ سید علی گیلانی کا 28 سال کا پوتا تابش گیلانی دوبئی میں مارکٹنگ و کمیونی کیشن کمپنی میں کام کرتا ہے۔ 2012ء تک دہلی میں جیٹ میں کیبن کریو کے طور پر کام کرتا تھا۔ میر واعظ عمر فاروق نے کشمیری نسل کی امریکی شہری شیوا اسدی سے شادی کی ہے۔ پتنی ۔بیٹی کے ساتھ امریکہ میں رہتی ہے بہن روبیہ فاروق بھی امریکہ میں رہتی ہیں۔ غلام محمد کا بیٹا جگنو کم عمر سے ہی دہلی میں رشتے داروں کے پاس رہ کر پڑھائی کررہا ہے۔ محمد اشرف سرتائی کا بیٹا عابد دوبئی میں کمپیوٹر انجینئر ہے۔ دختران ملت کی فریدہ کا بیٹا روما مقبول دکشنی افریقہ میں ڈاکٹر ہے۔ گیلانی گٹ کے ترجمان اعجاز اکبر کا بیٹا سرور پنے میں مینجمنٹ کی پڑھائی کررہا ہے۔ یٰسین ملک کی پتنی پاکستانی شہری ہے اور لندن اسکول آف اکنامکس سے گریجویٹ ہے ۔خوشحالا حسین کے پتا ایم اے حسین پاکستان میں اکنامسٹ ہیں۔ مرکزی سرکار کو اپنی کشمیر نیتی اب بدلنی ہوگی۔ ان حریت نیتاؤں نے کبھی بھی ہمارا ساتھ نہیں دینا ان کے بینا سرکار کو آگے بڑھنا ہوگا۔ ان مٹھی بھر کشمیری نوجوانوں نے ساری گھاٹی کو بندی بنا رکھا ہے اور یہ باز آنے والے نہیں۔ جہاں باقی سیاسی قدموں پر غور کرنا ہوگا وہیں یہ ضروری ہے کہ ان الگاؤ وادیوں کو دی جارہی ساری سرکاری سہولیات بند کی جائیں۔ مرکز جموں و کشمیر سرکار کو جو بھی پیسہ دیتی ہے وہ جموں گھاٹی اور لداخ کے لئے ہوتا ہے۔ صرف گھاٹی اور اس میں شامل ان الگاؤ وادیوں کو پالنے کے لئے نہیں۔ جموں ۔لداخ اس چکر میں نظر انداز ہورہے ہیں۔ مرکز کو نئے سرے سے پورے مسئلے پر غور کرکے کوئی دور رس نیتی بنانی ہوگی۔
(انل نریندر)

ریزرو بینک کے نئے گورنر ڈاکٹر پٹیل نے عہدہ سنبھالا

تنازعات میں پھنسے ریزرو بینک کے گورنر رگھو رام راجن ایتوار کو بطور گورنر ریٹائر ہوگئے۔ ان کی جگہ بطور 24 ویں گورنر ڈاکٹر ارجیت پٹیل نے منگلوار کو عہدہ سنبھالا۔ انہیں یہ عہدہ پہلے سنبھال لینا تھا لیکن ایتوار کو گنیش چترتھی کی چھٹی ہونے کی وجہ سے ان کا پہلا دن 6 ستمبر کو ہوگا۔ بیباک اور راک اسٹار کی شبیہ والے راجن کے مقابلے ڈاکٹر پٹیل کو سادگی پسند شخصیت کا مانا جاتا ہے۔ بطور نئے گورنر پٹیل کا پہلا کام سابق گورنر کے ادھورے ایجنڈے کو پورا کرنا اور بینکوں کی سخت سرجری، مہنگائی سے مقابلہ جیتنا ہوگا۔ انہیں ڈاکٹر پٹیل کہہ کر پکارتے ہیں اور انفلیشن سے مقابلہ کی سکرپٹ پٹیل ہی لکھتے رہے ہیں جس کی وجہ سے انہیں’ مہنگائی کا یودھا‘ کا بھی خطاب ملا ہوا ہے۔ کئی کارپوریٹ کے سربراہ امید جتاتے ہیں کہ پٹیل کمپنیوں اور بینکوں کے مسائل کو سمجھنے کی بہتر سمجھ دکھائیں گے جو مرکزی بینک کی ایسٹ کوالٹی ریویو نیتی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ ریزرو بینک کے گورنر کے عہدے سے رگھو رام راجن کا دور ختم ہونے کے ساتھ ایک جارحانہ شخصیت کی ،ایک راک اسٹار شبیہ کے گورنر کی بدائی ہوگئی۔ راجن کے گورنر کے عہدے پر رہتے رگھو رام راجن نتی گت مورچے پر اپنی نیتیوں کے ساتھ ساتھ دوسرے مدعوں پر بیباک رائے رکھتے تھے۔ اس وجہ سے کئی بار تنازعات میں بھی پھنس جاتے تھے۔ میرا نام راجن ہے اور میں وہ ہی کرتا ہوں جو مجھے کرنا ہوتا ہے ، جیسے جملے اور دیش میں بڑھتی اتفاق ارئے جیسے مدعوں پر انہوں نے بیباک رائے زنی کی۔ انہوں نے بھارت سرکار کو ایک ایسا سجھاؤ دیا جو تنازعات کی صورت پیدا کردیتا۔ ریزرو بینک کے پرستاؤ کے مطابق اگر انٹرسٹ فری بینکنگ شروع کردی جائے تو بھارت میں اسلامک دیشوں سے بھرپور پیسہ آسکتا ہے۔ اکنامکس ٹائمس کی ایک رپورٹ کے مطابق اسلامی دیشوں کے پاس بھرپور پیسہ ہے اگر مودی سرکار انٹرسٹ فری بینکنگ شروع کردے تو یہ پیسہ بھارت میں آسکتا ہے۔ حالانکہ اسلامک دیشوں کا پیسہ اگر اس طرح سے دیش میں آیا تو اس میں آتنک وادیوں کو بڑی مدد بھی مل سکتی ہے۔ ریزرو بینک کے اس آئیڈیا کے پیچھے ریزرو بینک کے گورنر رہے رگھو رام راجن کا دماغ مانا جارہا ہے۔ یہ سجھاؤ حال میں سرکار کے سامنے پیش کی گئی سالانہ رپورٹ میں بھی تھا۔ اس رپورٹ کو رگھو رام راجن کے گورنر رہتے ہوئے بنایا گیا تھا۔ ریزرو بینک کی جانب سے کہا جا چکا ہے کہ اسلامک اداروں کو نان بینکنگ چینلز کے ذریعے بھی دیش میں پیسہ پہنچانے کا راستہ بنایا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بینک انٹرسٹ فری کا سجھاؤ دے رہا ہے۔ ایس وینکٹا رمن کے بعد راجن اکیلے گورنر ہوئے ہیں جن کا دورہ کار تین سال تک ہی محدود رہا۔ نئے گورنر کا استقبال ہے۔
(انل نریندر)

07 ستمبر 2016

نریندر مودی کے دورۂ ویتنام سے چین تلملایا

وزیر اعظم نریندر مودی کا ہر داؤ مخالفین کو چت کرنے والا رہتا ہے۔چین کے ہانگجو میں 4-5 ستمبر میں منعقد جی ۔20 شکھرسمیلن میں شرکت کرنے سے عین پہلے ویتنام کا دورہ بھی ان کی ڈپلومیٹک چال ہے ۔ متنازعہ دکشنی چین سمندر پر چین ہمیشہ دعوی کرتا آیا ہے اور ویتنام جیسے دیش اس کے دعوے کو نکارتے رہے ہیں۔چین سے پہلے ویتنام پہنچ کر مودی نے ایک تیر سے کئی نشانے سادھنے کی کوشش کی ہے۔بھارت۔ ویتنام کا 13 واں سب سے بڑا ایکسپوٹر دیش ہے۔ ویتنام کے دورہ پر وزیر اعظم نے جتادیا ہے کہ دکشنی پورب ایشیا میں بھارت اپنی مضبوط پہل قدمی جاری رکھے گا۔اس موقعہ پر بھارت نے ویتنام کے ساتھ ڈیفنس، آئی ٹی، اسپیس، صحت وغیرہ میدانوں میں 12 معاہدے کئے۔ بھارت نے دفاعی تعاون کو مضبوط کرنے کے لئے ویتنام کو50 کروڑ امریکی ڈالر قرض دینے کا اعلان بھی کیا۔ 70 کے دہے کو یاد کریں توہمارے ملک کی وام پنتھی فضا میں میرا نام، تیرا نام، ویتنام۔ویتنام کے نعرے گھونجتے تھے۔ تب ویتنام پر امریکہ نے حملہ کردیا تھا اور وہاں آزادی کی لڑائی چل رہی تھی۔ ساری دنیا میں امریکی سامراجیہ کے خلاف ماحول تھا لیکن گزشتہ صدی کے آخری دور میں ہی سوویت یونین کے ڈھے جانے اور چین کے ویتنام پر حملہ کردینے سے حالات ایک دم بدل گئے۔ ویتنام اب چین کی وستار وادی نیتیوں کے برعکس ایک اہم پرتیک بن گیا ہے۔ اس لئے بھارت کے نئے قرار کا ڈپلومیٹک نظریہ بھی اسی کے ارد گرد سمٹا ہوا ہے۔سب سے اہم سوال دکشنی چین ساگر کا ہے جو ایک نئے ٹکراؤ کا مرکز بنتا جارہا ہے۔ مگر چین اس کے تقریباً90فیصد حصوں پر اپنا دعوی جتا تا ہے۔ یہیں بحر ہند کو بحر اوقیانوس سے جوڑتا ہے۔ چین کے اس دعوے کو ویتنام ۔فلپن جیسے تمام چھوٹے دیش چنوتی دے رہے ہیں جن کے ٹٹ پر یہ ساگر لہراتا ہے۔ فلپن کی ہی اپیل پر بین الاقوامی عدالت نے چین کے دعوے کو نامعقول ٹھہرایا ہے جسے چین ماننے سے انکار کررہا ہے۔ دراصل دکشنی چین ساگر میں عرب ممالک سے بھی زیادہ تیل اور معدنیات کا بھنڈار بتایا جاتا ہے اسی وجہ سے چین کی اس پر نظر ہے۔ امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک بھی اس ساگر پر چین کے دبدبے سے خوش نہیں ہو سکتے۔ ایسے میں دکشنی چین ساگر میں طاقت کا توازن بنائے رکھنے کیلئے بھارت نے ویتنام کو اسٹریٹیجک روپ سے مضبوط کرنے کی جو نیتی اپنائی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ جس طرح پی او کے کو لیکر چین پاکستان کا ساتھ دیتا رہتا ہے بھارت بھی اسی طرز پر ویتنام سے رشتے مضبوط کررہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا ویتنام ہوکر چین پہنچنا چین کو راس نہیں آیا ہے اسی لئے چین نے مودی کے ویتنام دورہ کودونوں کے ذریعے مشترکہ طور سے دباؤ بنانے کی کارروائی قرار دی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ بھارت۔ ویتنام اس سے سودے بازی کررہے ہیں۔ چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے لکھا ہے کہ دکشنی چین ساگر تنازعہ کی وجہ سے گزشتہ کچھ وقت سے بیجنگ اور ہنوئی کے رشتے اتنے اچھے نہیں رہ گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ویتنام کے لوگ بیجنگ کو لیکر منفی سوچنے لگے ہیں۔ ان حالات میں مودی کا دورۂ ویتنام بنا شبہ بھارت کے ذریعے کئی ڈپلومیسیوں کا حصہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ نئی دہلی اور ہنوئی مشترکہ طور سے بیجنگ پر دباؤ بنا سکتے ہیں۔ گزشتہ 15 سالوں میں یہ پہلی بار ہے جب کوئی بھارتیہ وزیر اعظم ویتنام کا دورہ کررہا ہے جبکہ اتنے وقت میں چین کے تین سابق صدور کے ساتھ موجودہ صدر شی جنگ پنگ اور وزیر اعظم لی کے کیمانگ ویتنام کے دورے کرتے رہے ہیں۔
(انل نریندر)

کشمیر میں کرفیو کی بھاری قیمت عوام کو چکانا پڑ رہی ہے

کشمیر میں کرفیو کے 57 دن ہوگئے ہیں۔ دیش ہی نہیں بلکہ دنیا کے کسی بھی حصے میں اتنا لمبا کرفیو شاید ہی لگا ہو۔ سری نگر میں 15 لاکھ لوگ 8 جولائی سی کرفیو اور کرٹینا تاروں کے قبضے میں ہیں۔اسکول ، کالج بند ہیں، دوکان ویاپار ٹھپ ہوچکا ہے۔ نوکری والے بے بس ہوکر گھروں میں بیٹھے ہیں۔ اب تک 69 لوگوں کی موت ہوچکی ہے جبکہ6500 جوان ، 4 ہزار عام کشمیری گھائل ہوچکے ہیں۔ کشمیر میں اس سیزن میں فی دن 12 ہزار کے قریب سیاہ آتے تھے لیکن اب 200 کے قریب مشکل سے آرہے ہیں۔ 8 جولائی کو سب سے زیادہ 16367 اشخاص نے بابا امرناتھ کے درشن کئے۔ تشدد بھڑکنے کے بعد تعداد روز گھٹتی گئی اسی وجہ سے اس بار گزشتہ 10 سالوں میں سب سے کم 220490 لوگوں نے ہی درشن کئے۔ جموں ضلع میں 300 ہوٹل ،لانج سب کے سب خالی ہیں۔ تقریباً 250 کروڑ کا نقصان ہوچکا ہے۔ کٹرہ میں بھی ہوٹل ، لانچ خالی ہیں۔ جموں کے ہوٹلوں کو100 کروڑ کا نقصان اور کٹرہ میں کل 500 کروڑ روپے کے نقصان کا اندازہ ہے۔ کشمیر میں بزنس ٹھپ پڑا ہوا ہے۔ 6500 کروڑ روپے کا نقصان کشمیر کے بزنس کو ہوا ہے یعنی ہر دن لگ بھگ 130 کروڑ روپے کا۔ انڈسٹریل سیکٹر کو روز 80 کروڑ روپے کا نقصان یعنی کل4 ہزار کروڑ روپے کا نقصان قرض و بجلی کے بقایا چکانے میں راحت کی مانگ اٹھنے لگی ہے۔ بینکوں کے بند ہونے سے ویاپاریوں کا 1 ہزار کروڑ روپے کا پیمنٹ اٹکا ہوا ہے۔ روز کمانے کھانے والوں کو تو دال روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ 28 پیٹرول ۔ڈیزل ٹینکروں پر بھیڑ اور پتھر باز حملہ کرچکے ہیں جس کے چلتے ٹینکر والے ہڑتال کرچکے ہیں۔ ہر دن گھاٹی میں 20 لاکھ لیٹر پیٹرو۔ ڈیزل کی ضرورت ہوتی ہے۔ کشمیر میں سبزیاں باہر سے آتی ہیں ان کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ گاؤں سے ہر روز 400 لیٹر دودھ آتا تھا اب بمشکل آدھا آرہا ہے۔ 9 جولائی سے پری پیڈ فون پر آؤٹ گوئنگ بند ہے۔ 15اگست کے آس پاس کئی بار ان کمنگ بند کردی گئی۔موبائل انٹرنیٹ پوری طرح سے بند ہے۔ براڈ بینڈ انٹر نیٹ بہرحال چل رہا ہے۔ جہاں تک بچوں کی پڑھائی کا سوال ہے 31 جولائی کو10 ہزار بچے میڈیکل اور انجینئرنگ داخلہ امتحان میں شامل ہوئے۔ سری نگر کے ریناواڑی کی مسجد میں کرفیو اسکول کھلا۔200 بچوں کو پہنچانے20 والنٹیر آئے۔ 512 میں سے صرف 1704 امیدوار سول سروسز امتحان اور 4888 ایڈمنسٹریٹو سروس امتحان میں شامل ہوئے۔ یونیورسٹی میں امتحان رد کردئے گئے ہیں۔ کشمیر میں شادیوں کا سیزن عیدالفطر کے بعد6-7 جولائی سے شروع ہونا تھا۔ ہر سال جولائی سے اگست کے درمیان 10 ہزار شادیاں ہوتی تھیں 90فیصد شادیاں کرفیو کی وجہ سے ٹل گئیں۔آخریہ ساری قیمت کس کو چکانی پڑ رہی ہے کشمیر عوام کو۔
(انل نریندر)

06 ستمبر 2016

آر ایس ایس بنام راہل گاندھی

کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے آر ایس ایس کے بارے میں دئے گئے بیان پر مقدمہ کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ راہل گاندھی نے جمعرات کو سپریم کورٹ میں اپنی عرضی بھی واپس لے لی۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے سوالیہ لہجے میں کہا کہ خود کو راشٹروادی بتانے والے سنگھ کے لوگ آزادی کی لہر کے وقت کہاں تھے؟ انگریزوں کو دیش سے بھگانے کی لڑائی میں سبھی مذاہب کے لوگوں نے تعاون دیا تھا لیکن سنگھ کے لوگ کہیں نظر نہیں آئے۔ خیال رہے سال2014ء کے عام چناؤ کے دوران راہل گاندھی نے ایک تقریر میں مبینہ طور پر کہا تھا کہ آر ایس ایس کے لوگوں نے مہاتماگاندھی کو گولی ماری تھی اور یہ لوگ گاندھی کی بات کرتے ہیں۔ اس بیان کے بعد راجیش مہادیو کرتکے نے شکایت درج کرائی تھی۔ جمعرات کو راہل گاندھی کی طرف سے سپریم کورٹ میں کہا گیا تھا کہ وہ سنگھ کے بارے میں دئے گئے اپنے بیان پر قائم ہیں اور اسے نہیں بدلیں گے۔ کانگریس نیتا و وکیل کپل سبل نے کہا کہ وہ اپنے بیان پر قائم تھے، قائم ہیں اور رہیں گے اسے نہیں بدلیں گے۔ پچھلی سماعت پر کپل سبل نے کورٹ میں بتایا تھا کہ راہل نے سنگھ پر نہیں بلکہ اس سے جڑے کچھ لوگوں پر قتل کرنے کے بارے میں الزام لگایا تھا۔ راہل کے اس بیان کا یہ مطلب سمجھتے ہیں کہ ایک دھارمک انجمن کے طورپر سنگھ گاندھی کے قتل کے لئے ذمہ دار نہیں ہے صرف کچھ لوگوں نے اسے مارا تھا۔ راہل کے اس رخ پلٹنے پر آر ایس ایس کے میڈیا چیف منموہن وید نے کہا کہ آخر کیوں راہل گاندھی دو برسوں سے سماعت ٹال رہے ہیں ، بہانے سے یا کچھ اور بات ہے؟ کیا یہ سچ کا سامنا کرنے سے ڈر رہے ہیں؟ وہ یو ٹرن لینا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سنگھ کو لیکر اپنا متنازعہ بیان واپس لینے سے راہل گاندھی کے انکار کے بعد بھاجپا اور کانگریس کی زبانی جنگ تیز ہونا فطری ہی ہے۔ سنگھ پر دی گئی بیان بازی کو لیکر دوبارہ یو ٹرن لینے والے کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کے سامنے بھاجپا نے نیا سوال رکھا ہے۔ 1984 ء کے سکھ دنگے اور ایمرجنسی کی یاد دلاتے ہوئے حکمراں پارٹی کے قومی سکریٹری شری کانت شرما نے پوچھا سنگھ کا کردار اور ضمیر کو لیکر ہے۔ دیش کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو صحیح تھے یا راہل گاندھی؟ شری کانت نے کہا کہ اترپردیش میں چناوی ماحول کو ذہن میں رکھتے ہوئے راہل گاندھی نے سپریم کورٹ میں ہتک عزت کا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے 1962ء میں چین کے ساتھ ہوئی جنگ میں آر ایس ایس کے رول کو دیکھتے ہوئے ہی پنڈت نہرو نے 26 جنوری کی پریڈ میں حصہ لینے کے لئے سنگھ کو مدعو کیا تھا لیکن وہ جاتنے تھے کہ سنگھ راشٹروادی ہے شری کانت نے کہا کہ لوگ جانتے ہیں کہ راہل خود 5 ہزار کروڑ روپے کے کرپشن کے معاملے میں مچلکے پر ضمانت کے بعد باہر ہیں اور 1984ء کے دنگوں میں بہت سے لوگوں کو اپنی جان گنوانی پڑی تھی۔وقت آنے پر جنتا اس کامعقول جواب دے گی۔ راہل گاندھی کے انکار سے دوسروں اور کانگریس نے اب اس اشو پر دوہری لڑائی لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک طرح سے اس نے پورے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی تیاری کرلی ہے۔ عدالت میں راہل ہتک عزت کا مقدمہ لڑیں تو دوسری طرف سیاست کے میدان میں سنگھ ۔ بھاجپا کو جنتا کے سامنے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کریں گے۔ سنگھ پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کون اصلی ہندو ہے ، راہل اس کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ کیونکہ کوئی ہندو گاندھی جی کو نہیں مارسکتا۔ کانگریس نے ہتک عزت کے اس معاملے کو اترپردیش کے چناؤ کیلئے بھاجپا ۔ سنگھ کا مشترکہ ایجنڈا بتایا ہے اور بھاجپا اور سنگھ پر حملے سے صاف ہے کانگریس اس معاملے کے سیاسی استعمال سے چوکنا نہیں چاہتی۔ اس لئے سپریم کورٹ سے ادھر راہل گاندھی نے معاملہ واپس لیا ادھر کانگریس کے میڈیا محکمے کے چیئرمین رندیپ سرجے والا نے پریس کانفرنس میں بھاجپا پر زبردست لفظی حملہ کیا ہے۔اب مقدمہ چلے گا، دیکھیں مقدمے میں اونٹ کس کرونٹ بیٹھتا ہے؟
(انل نریندر)

برے پھنسے سہارا شری : اِدھر کنواں تو اُدھر کھائی

26 اگست کو سپریم کورٹ نے سہارا چیف سبرت رائے کی پیرول 18 ستمبر تک بڑھا دی تھی۔ رائے نے کورٹ سے کہا تھا کہ وہ 300 کروڑ روپے اور جمع کردیں گے۔ سہارا اب تک ضمانت کی شرط کیلئے 5 ہزار کروڑ ہی جمع کرچکا ہے اور ابھی وہ تہاڑ جیل سے باہر ہیں جبکہ اتنی زبردست رقم بطور گارنٹی جمع کرانی ہے اس سے پہلے 6 مئی کو سپریم کورٹ سبرت رائے کو ان کی ماں کی آخری رسوم میں شامل ہونے کے لئے 4 ہفتے کی پیرول پر جیل سے چھوڑا تھا۔ کورٹ کے حکم کے بعد اب سیبی سہارا کی کچھ جائیداد کی نیلامی بھی کر رہا ہے۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں سبرت رائے کے وکیل کپل سبل نے دعوی کیا کہ کمپنی نے سرمایہ کاروں کے 25 ہزار کروڑ روپے لوٹا دئے ہیں وہ بھی نقدی میں ۔ اس پر عدالت نے حیرانی ظاہر کرتے ہوئے پوچھا کہ 25 ہزار کروڑ روپے کہاں سے آئے؟ اسے ہضم کرپانا مشکل ہورہا ہے۔ یہ کافی بڑی رقم ہے۔ پیسے سونے سے تو بٹور نہیں لیں گے۔کورٹ نے سہارا سے کہا آپ اتنا پیسہ کہاں سے لائے ہیں اس کا ذریعہ بھی ہمیں بتائیے۔ کیا منقولہ یا غیر منقولہ کمپنیوں سے یہ رقم ادھار میں ملی ہے؟ یا بینک کھاتوں سے رقم نکلی ہے؟ یا پھر سبھی پراپرٹی بیچ کر اکٹھی کی گئی ہے؟ ان تین متبادل کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ اتنی بڑی رقم اکٹھی کرنے کے معاملے کی سماعت چیف جسٹس پی ۔ ایس ۔ ٹھاکر کی بنچ کررہی تھی۔ سہارا کی طرف سے کپل سبل پیروی کررہے تھے۔ عدالت نے کپل سبل سے کہا حالانکہ ہم آپ کے کلائنٹ پر قطعی شبہ نہیں کررہے ہیں لیکن انہوں نے سرمایہ کاروں کو ہزاروں کروڑ روپے کیسے دئے وہ بھی نقد میں اور محض دو مہینے میں۔ لیکن اس پورے معاملے پر یقین کرنا تھوڑا مشکل ہورہا ہے اس پر سبل نے دلیل دی کہ سہارا گروپ نے اپنے سبھی سرمایہ کاروں سے پیسے نقدی میں ادا کرنے کے احکامات دئے ہیں جسے سیبی نے اس پر مقدمہ کررکھا ہے۔ اگر کورٹ کو بلیک منی کا اندیشہ ہے تو سہارا گروپ کسی بھی جانچ کے لئے تیار ہے لیکن اگر یہ بلیک منی کا معاملہ ہے تو سیبی کیسے جانچ کرسکتی ہے؟ اس پر عدالت نے کہا یہ آپ کا دعوی ہے لیکن سیبی کا بہت آسان سا سوال ہے کہ آپ اتنی بڑی رقم کہاں سے لائے؟ آپ مجھے یہ بتادیجئے کہ اگر آپ 25 ہزار کروڑ روپے کیش میں لے آئے؟ اس کا کیس بند کرلیا جائے گا۔ پیسے کا ذریعہ بتانا بزنس ہاؤس کی ذمہ داری ہے چائے جائز ہو یا ناجائز۔ عدالت نے اگلی سماعت کے لئے 16 ستمبر تاریخ طے کردی ہے۔ سہارا چیف فی الحال پیرول پر ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر آپ ثبوت دیتے ہیں کہ آپ سبھی سرمایہ کاروں کے پیسے واپس کرچکے ہیں تو ہم منٹوں میں معاملے کو رفع دفع کردیں گے۔ برے پھنسے سہارا شری ادھر کنوا تو ادھر کھائی۔
(انل نریندر)

04 ستمبر 2016

آر ایس ایس کی تاریخ میں پہلی بغاوت

راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ عرف آر ایس ایس کی تاریخ میںیہ شاید پہلی بار ہے جب اس تنظیم میں ورکروں میں بغاوت ہوئی ہے۔ اس سے دنیا کی اس سب سے بڑی تنظیم میں ہلچل مچنا فطری ہی ہے۔ میں گوا میں آر ایس ایس میں ہوئی بغاوت کے بارے میں بات کررہا ہوں۔ گوا میں اسٹیٹ چیف سبھاش ویلنگر کی برخاستگی کے احتجاج میں 600 آر ایس ایس ورکروں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اب آر ایس ایس گوا کے نام سے یہ لوگ اگلے سال چناؤ تک سنگھ کے یکساں سرگرمیاں چلائیں گے۔ آر ایس ایس میں اس بغاوت کے بعد فی الحال دو گروپ بن گئے ہیں۔ گوا میں سنگھ پریوار کے اندر مچے گھمسان میں سنگھ کی اندرونی رسہ کشی اور باہری چہرے پر سوال اٹھے ہیں۔ ان سوالات کا سنگھ اور بھاجپا کے اہم ٹکراؤ کے ساتھ وسیع سماجی آئیڈیالوجی سے بھی ناطہ ہے۔ 68 سالہ سبھاش ویلنگر کو اسٹیٹ کے سنگھ چیف کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد جس طرح سے سنگھ کے 600 پرچارکوں نے تنظیم چھوڑ کر اگلے اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کو ہرانے کا اعلان کیا ہے اس سے جہاں نریندر مودی اور سنگھ کے عہدے دار سنجے جوشی کے تنازعے کی یاد تازہ ہوگئی ہے ، وہیں مبینہ طور پر کلچرل سنگٹھن کے سیاسی حوصلے کے خطرے بھی اجاگر ہورہے ہیں۔ یہ نئی تنظیم نہ صرف راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ بلکہ اس کی سیاسی یونٹ بھاجپا کو بھی چنوتی دے سکتی ہے۔ گوا سنگھ میں ویلنگر کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں پہلے سنگھ کے عہدیداران نے اسٹیٹ آر ایس ایس چیف سبھاش ویلنگر کی برخاستگی کے احتجاج میں استعفیٰ دیا اور اس کے بعد نئی تنظیم کا اعلان بھی کردیا گیا۔ آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ ویلنگر سیاست کررہے ہیں اور وہ اس کی اجازت نہیں دے گا۔ دوسری طرف ویلنگر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے 54 سال کے سنگھ کے ورکرکی حیثیت سے زندگی میں کئی نیتا تیار کئے ہیں اور وہ نئی پارٹی بنا کر پھر نئے نیتا تیار کرلیں گے ۔ ویلنگر کھلے عام وزیر دفاع منوہر پاریکر پر دھوکہ دینے کا الزام لگا رہے ہیں اور ان دنوں کی یاد دلا رہے ہیں جب ان کی انگلی پکڑ کر انہیں سیاست سکھائی تھی۔ گوا یونٹ کے باغیانہ تیور بتاتے ہیں کہ سنگھ کے ان ورکروں میں ناراضگی بڑھ رہی ہے، جنہیں ساری زندگی کلچرل ورکر اور تیاگ کرنے کا حلف دلایا جاتا ہے اور چناؤ آنے پر پرچار میں جھونک دیا جاتا ہے۔ ویلنگر نے جمعرات کو بتایا کہ ہم نے ناگپور میں واقع سنگھ کے ہیڈ کوارٹر سے ناطہ توڑ لیا ہے لیکن سب لوگ پہلے والا کردار نبھاتے رہیں گے۔ ہمارے پاس پوری مشینری ہے ، شاکھائیں بھی پہلے کی طرح لگیں گی، سنگھ کی گوا یونٹ کے لئے یہ خطرناک ہوسکتی ہیں اور اگر جلد اس کو کنٹرول میں نہیں کیا گیا تو یہ آگ پھیل سکتی ہے۔
(انل نریندر)

برجپال تیوتیا کو مارنے کیلئے 100گولیاں چلائی تھیں

مراد نگر شوٹ آؤٹ میں بھاجپا نیتا برجپال تیوتیا پر ہوئے حملہ کا معاملہ پولیس نے تقریباً سلجھانے کا دعوی کیا ہے۔ منگل کو حملہ کے اہم ملزم منیش کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس نے11 جون1999 ء کو دہلی میں اپنے والد سریش دیوان کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے تیوتیا پر حملہ کی سازش رچی تھی۔ حملے کا منصوبہ اس سال اپریل میں بنایا گیاتھا جو کئی بار ناکام ہوچکا تھا۔ 2 شارپ شوٹر کو 10-10 لاکھ روپے دیکر انہیں سازش میں شامل کیا گیا تھا۔ منیش کی گرفتاری کے بعد ایس ٹی ایف نے پوری سازش کا پردہ فاش کردیا ہے۔ ایس ٹی ایف کے ایس ٹی ہمانشو کمار نے بتایا کہ منیش نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے والد سریش دیوان کو دہلی کے شکر پور تھانہ علاقہ میں ہلاک کردیا گیا تھا اور قتل میں برجپال تیوتیا کو نامزد کیا گیا تھا بعد میں مقدمہ میں فائنل رپورٹ درج کردی گئی تھی۔ اس کے باوجود منیش برجپال تیوتیا کو قتل کا قصوروار مانتا تھا۔ حملے کے بعد سے ہی منیش پولیس سے بچنے کیلئے جگہ بدل رہاتھا اور دو بار سرنڈر کی کوشش بھی کرچکا تھا۔ اس بار بھی منیش عدالت میں سرنڈر کی کوشش میں تھا اسی دوران ایس ٹی ایف کی ٹیم نے مراد نگر علاقے سے اسے گرفتار کرلیا۔ برجپال تیوتیا پر ہوئے قاتلانہ حملہ میں ایس ٹی ایف اور پولیس ٹیم نے اب تک7 ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ 4 ماہ سے برجپال تیوتیا کی سکیورٹی کو ذہن میں رکھ کر سازش رچی جا رہی تھی۔ بھاجپا نیتا کے ساتھ چلنے والے بندوقچی کی وجہ سے بڑا گینگ تیار کیا گیاتھا اور بلٹ پروف پزیرو کار کے شیشے توڑنے کیلئے فائنچونر میں کلہاڑی اور ہتھوڑا بھی رکھے گئے تھے۔ ایس ٹی ایف کے ایس پی ہمانشو کمار نے بتایا 11 اگست کو جب برجپال پر حملہ ہوا تھا اس دوران وہ اسکارپیو کار میں سوار تھے۔ ان کی بلٹ پروف پزیرو کی ونڈ شیلڈ کا وائپر کام نہیں کررہا تھا اسی وجہ سے اسکارپیو میں نکلے تھے۔ بدمعاشوں کو برجپال کے پزیرو کار میں سوار نہ ہونے کی اطلاع ملنے پر حملہ کیا تھا۔ ملزمان نے پزیرو کا شیشہ توڑنے کیلئے ہتھوڑا و کلہاڑی کا استعمال کیا تھا۔ ملزمان کا پلان تھا کہ دو لوگ شیشے پر وار کر اسے توڑیں گے اور دیگر دو گولیاں چلا کر حملہ کریں گے۔ گنر ساتھ ہونے کی وجہ سے بڑا گینگ بنا کر جدید ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے کے لئے کروڑوں روپے اکٹھا کرنے کے لئے اس نے اپنی زمین بھی بیچ ڈالی تھی۔ پچھلے ایک سال سے وہ حملے کی تیاری کررہا تھا حملے میں برجپال تیوتیا کو 6 گولیاں لگیں جبکہ اس کے ساتھ کار میں بیٹے چار پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ سمیت 5 لوگوں کو بھی گولیاں لگی تھیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...