Translater
12 اپریل 2025
سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ!
سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں کہا ہے کہ گورنر کے پاس ریاستی اسمبلی ہاو¿س سے پاس بلوں کو روکنے کے لئے مکمل یا جزوی کسی طرح کا ویٹو پاور نہیں ہے۔بلوں کو لٹکائے رکھنا غیر قانونی ہے گورنر کو منتخب سرکار کی صلاح سے ہی کام کرنا ہوگا ۔آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت ان کے پاس اپنا کوئی مخصوص اختیار نہیں ہے ۔کورٹ نے کہا کہ جنتا کی پسند میں رکاوٹ بننا گورنر کی آئینی حلف برداری کی خلاف ورزی ہو گی اور انہیں سیاسی وچاروں سے قربت نہیں ہونی چاہیے ۔جسٹس جے وی پاردیوالہ اور جسٹس آر مہادیون کی بنچ نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے گورنروں کو آئین سازیہ سے پاس بلوں کو منظوری دینے کے لئے مقررہ وقت میعاد بھی طے کر دی ہے ۔کیوں کہ آئین کے تقاضوں میں ابھی تک اس کے لئے میعادحد طے نہیں تھی ۔ساتھ ہی بنچ نے آئین کے آرٹیکل 142- کے تحت ملے مخصوص اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے تمل ناڈو کے گورنر آر این روی کی جانب سے روکے گئے 10 بلوں کو پاس ڈکلیئر کر دیا ۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ان بلوں کو اسی دن سے پاس مانا جائے گا جس دن ریاستی اسمبلی ہاو¿س نے اسے نظر ثانی کے بعد گورنر کو دوبارہ بھیجا گیا تھا ۔گورنر نے ان بلوں کو صدر جمہوریہ کی رائے کے لئے بھیجے جانے کی بات کہہ کر منظوری روک رکھی تھی ۔عدالت نے گورنر کے اس فیصلے کو غیر آئینی ،غلط اور سیاسی اغراض پر مبنی قرار دیا ہے ۔گورنر آر این روی کی جانب سے ریاستی اسمبلی کے پاس کئی بلوں کو منظور ی دینے سے انکار کرنے کیخلاف تمل ناڈو حکومت نے سپریم کورٹ میں دستک دی تھی ۔ریاستی حکومت کی اس عرضی پر سپریم کورٹ کا فیصلہ ریاست اور گورنروں کے درمیا ن لمبے وقت سے چلے آرہے تنازعوں کا حل کی سمت میں بے حد اہم قدم ہے ۔بڑی عدالت نے ایک بار پھر سے گورنروں کے رول کو واضح کر دیا ہے ۔یہ فیصلہ آنے والے وقت میں ایک نظیر بنے گا اور امید ہے کہ ٹکراو¿ کے راستے سے ہٹ کر ریاستی سرکار اور گورنر مل کر کام کریں گے ۔اس فیصلے نے گورنروں کے ذریعے مخصوص ان ریاستوں میں جہاں مرکزی حکومت کی مخالف پارٹیوں کی سرکاریں ہیں ۔سرکاروں پر من مانے طریقے سے اپنے اختیارات کے ذریعے روک لگانے کی کوششوں کو تقریباً ختم کر دیا ہے ۔پچھلے کچھ برسوں میں دیکھا گیا ہے ۔مرکزی سرکار کے ذریعے مقرر کئی گورنر ایسی بے ترتیب کاروائیاں کرتے ہیں جیسے وہ مرکزی حکومت یا حکمراں پارٹی کے ایجنٹ ہوں یہاں تک کہ سرکاریں بنانے اور گرانے تک میں یہ گورنر شامل ہو جاتے ہیں ۔اسی طرح کا تنازعہ پچھلے سال کیرل میں بھی کھڑا ہوا تھا تب ر یاست کی ڈیموکریٹک فرنٹ سرکار نے سپریم کورٹ سے درخواست و گزارش کی تھی ۔اس وقت کے گورنرنے کئی بلوں کو دو سال تک لٹکائے رکھا اورپھر اسے صدر جمہوریہ کے پاس بھیج دیا۔اب آگے سے کوئی گورنر کسی بھی پاس بل کو ایک ماہ سے زیادہ اپنے پاس لٹکائے نہیں رکھ سکتا ۔اگر یہ بل گورنر کے ذریعے واپس کر دیا جاتا ہے اور پھر نظر ثانی کے لئے اس کے پاس پھر آتا ہے تو وہ اسے راشٹر پتی کو بھی نہیں بھیج سکتے ۔اب وہ صدر جمہوریہ کو پہلی بار میں ہی بھیج سکیں گے ۔اگر طے میعاد کے بعد کوئی بل التوا میں رکھا جاتا ہے تو اسے وہ خود بخود منظور مان لیا جائے گا ۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے یہ تو طے ہے کہ اب کوئی بل گورنر کی من مانی سے اس کے پاس پڑا نہیں رہے گا ۔بڑی عدالت نے یہ یقینی کاروائی کو وقت کے بعد یا مقرر ٹائم پورا کرکے یقینی طور پر ایک تاریخی کام کیا ہے ہم اس کے لئے جسٹس جے وی پاردیوالہ اور جسٹس آر مہادیون کو تہہ دل سے بدھائی دینا چاہتے ہیں ۔انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ آج بھی سپریم کورٹ زندہ ہے اور آئین کی حفاظت کرنے کے لئے عہد بند ہے۔تمام دعووں کے باوجود ایسا فیصلہ دینا عام نہیں کہا جاسکتا ۔اس لئے اسے تاریخی کہا جائے تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔
(انل نریندر)
10 اپریل 2025
آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی میں امتیاز نہیں!
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے اتوار کو وارانسی میں کہا کے سنگھ کی شاخوں میں سبھی ہندوستانیوں کا خیر مقدم ہے ۔دیش میں پنتھ ،ذات ،فرقہ کی پوجا طریقہ الگ الگ ہے ۔لیکن تہذیب ایک ہے ۔حلانکہ اورنگ زیب کے اسولوں کو ماننے والوں کو چھوڑ کر سبھی قبول ہیں ۔سنگھ میں نظریات میں پوجا کے طریقے کی بنیاد پر کسی طرح کا امتیاز نہیں برتا جاتا۔مالویہ میں لاجپت نگر پارک میں پربھات شاکھا میں آر ایس ایس ورکروں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوںنے یہ باتیں کہیں بھاگوت نے کہا کے شاکھا میں ان سبھی لوگوں کے لئے دروازے کھلے ہیں جو ”بھارت ماتا کی جے“بولے اور بھگوا جھنڈے کے تئیں احترام کریں۔بھاگوت نے کہا جو لوگ اکھنڈ بھارت کو ضمیر کی روح مانتے ہیں ان کو سندھ صوبہ کی بدحالی دیکھنی چاہئے۔پچھلی دہائیوں میں بھارت سے جو حصہ کٹے ہیں آج ان کی بڑی دوردشہ ہو رہی ہے ۔اس لئے اکھنڈ بھارت ایک فطری ہے ۔بھاگوت نے کہا کہ خود اور پریوار کے ساتھ ہمیں سماج پر بھی خرچ کرنا چاہئے ۔سماجی کثافت کے لئے ضرور ی ہے شہر کے کمشنر امرت ورما اور سی ڈی او ہمانشو ناگ پال سے بھی بات چیت کی انہوںنے کہا کے سنگھ سماج کو کچھ دینے کے جذبہ کو ترجیح دیتا ہے۔سنگھ میں جو لوگ حاصل کرنے کی سوچ کے ساتھ آتے ہیں ان سے درخواست ہے کے نہ آئےں ۔لاجپت نگر میں سنگھ ورکر دیپک کپور کو گھر پر وویک آنند شا خ کے سنگھ ورکروں کو خطاب کرتے ہوئے اپنی بات رکھی ۔موہن بھاگوت نے کہا آر ایس ایس کے لئے شاکھ کی اہمیت کو خود سمجھنا سب سے زیادہ ضروری ہے ۔روزانہ ایک گھنٹے شاکھا میں جانے سے شخصیت میں فروغ ملتا ہے ۔
(انل نریندر)
امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف احتجاج!
جہاں تقریباً ساری دنیا میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے وہیں ان کے اپنے دیش امریکہ میں بھی اب جم کر مظاہرے ہو رہے ہیں۔ٹرمپ کے خلاف عالم یہ ہے کے پچھلے دنوں ایک ڈیموکریٹک سنیٹر نے امریکہ کانگریس نے سب سے لمبی تقریر کی اور رکارڈ بنایا سنیٹر کاری بکر مسلسل 25 گھنٹے سے زیادہ وقت تک صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف بولے انہوںنے اپنی تقریر شروع کی اور منگلوار کی شام ختم کی بغیر کسی بریک کے ایک بت کی طرح کھڑے ہوکر دی گئی تقریر میں غیر معمولی ہمت کا مظاہرہ کیا ۔انہوںنے سنٹ کے اس قائدہ کا فائدہ اٹھایا جو سنیٹروں کو ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف مہم چلانے اور ان کی ساخ بنانے کے لئے معاد وقت کے بغیر اجازت دینا ہے ۔اپنی تقریر میں کئی جگہوں پر شہری حقوق لیڈر جون لوئس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوںنے آخر میں اپنے الفاظ کو دہرایا ۔ان کی پریشانی میں پڑوگے ضروری پریشانی میں پڑوگے ۔امریکہ کی روح کو بچانے میں مدد کرو ۔وہیں دو دن پہلے ڈونالڈ ٹرمپ اور ان دوست عرب پتی ایلن مسک کے خلاف سبھی 50 ریاستوں کے ساتھ ساتھ پڑوسی ملک کناڈا اور میکسیکو میں بھی مظاہرہ کیا گیا ۔اس میں 150 ورکر گروپوں نے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا ۔جس میں واشنگٹن ڈی سی اور صدر کے فلوریڈا کے پاس بہت زیادہ تعداد میں لوگ شامل ہوئے ہیں ۔ہینڈس آف امریکہ کا نارہ لگاتے ہوئے بھی ٹرمپ اور سرکاری محکمہ کے ڈائرکٹر ایلن مسک کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں ۔ہینڈس آف کا مطلب ہمارے حقوق سے دور رہو ۔اس نارے کا مقصد یہ جتانا ہے مظاہرین نہیں چاہتے کے ان کے حقوق پر کسی طرح کنٹرول ہو ۔ٹرمپ انتظامیہ اور ڈی او جی ای کے مخالفوں نے بجٹ کٹوتی اور ملازمین کی چھٹنی کے ذریعہ سے فیڈرل حکومت کے اختیارات اور سرکار سائز کر کم کرنے کی کوششوں کے خلاف مظاہرے کئے گئے ہیں ۔وائٹ ہاﺅس میں اتوار کو کہا کے 50 سے زیادہ ملکوں نے ٹیرف کو لیکر صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے بات چیت کی مانگ کی ہے۔تاکہ امریکہ کا ایکسائز ٹیرف کو کم کیا جا سکے ۔امریکی صدر ٹرمپ کے نئی ٹیرف پالیسی کے اعلان کے بعد دنیا بھر میں کھل بلی مچ گئی ہے۔اور متاثرہ ملک اس سے نمٹنے کی تیاری میں لگے ہیں ۔اور انہوںنے امریکہ صدر کے اس اعلان کی نکتہ چینی کی ہے ۔کل ملاکر امریکہ کے اندر باہر سبھی جگہ ٹرمپ کی پالیسیوں کی مخالفت ہو رہی ہے۔امریکہ کے مظاہروں میں لاکھوں لوگوں نے سڑکوں پر اتر کر مظاہرے کئے ۔قابل غور بات یہ ہے کے اتنی تعداد میں سڑکوں پر لوگوں کے اترنے کے باوجود کہیں بھی تشدد نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی گرفتاری ہوئی سب خاموشی سے نمٹ گیا ۔امریکہ کے اندر ٹرمپ اور ایلن مسک کی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے اور لوگ اپنے آپ کو کوس رہے ہیں ۔انہوںنے کیسے خاموشی سے پالیسی کو بدلہ ہے احتجاج بڑھتا جا رہا ہے ۔اور خاموشی سے اپنے دیش کی ان کو باگ ڈور سونپ دی ہے ۔
(انل نریندر)
08 اپریل 2025
جموں خطہ میں بڑھتے دہشت گردی کے واقعات !
بھارت - پاکستان بین الا قوامی سرحد سے محض 6 کلومیٹر کی دوری پر جموں کشمیر کے کٹھوہ ضلع میں پچھلے 2 ہفتوں سے انتہا پسند مخالف مہم جاری ہے ۔اس سے اب تک جموں کشمیر پولس کے 4 جوان شہید ہو گئے ہیں ۔اس مہم کٹھوہ کے کئی علاقوں میں سکورٹی فورس اپنی کارروائیاں چلا رہی ہیں ۔اور اس آپریشن کی جموں کشمیر پولس کے ڈائرکٹر جنرل اور آئی وی پر نگرانی کر رہے ہیں ۔آپریشن کے دوسرے دن پولس ڈائرکٹر جنرل نلن پربھات کی ایک تصویر میڈیا میں آئی ہے اس تصویر میں ڈائرکٹر جنرل پولس خود ہاتھ میں رائفل اے کے 47 لیکر سرچ آپریشن میں شامل نظر آئے تھے ۔گزشتہ 30 برسوں میں ایسا پہلی بار دیکھا گیا جب پولس کے ڈی جی پی نے خود سرچ آپریشن میں شرکت کی ہو ۔جب تک سبھی شدت پسند مارے نہیں جاتے تب تک یہ پولس کارروائی جاری رہے گی ۔یہ آپریشن ایسی جگہ چل رہا ہے جو پورا علاقہ جنگلات سے گھرا ہوا ہے ۔جس وجہ سے آپریشن میں وقت لگ رہا ہے اور مشکلیں آ رہی ہیں ۔پولس ذرائع کے مطابق یہ 5 شدت پسندوں کا گروپ تھا جو پہلے ایک ساتھ تھے اور پہلی مٹھ بھیڑ کے بعد یہ الگ ہو گئے ۔اس پر انکا کہنا تھا 2 تو مارت جا چکے ہیں لیکن 3 باقی ہیں ان کی تلاش کے لئے کارروائی جاری ہے ۔گھنے جنگلوں اور بڑی بڑی چٹانوں کی وجہ سے ان تک پہنچنے میں مشکلیں آ رہی ہےں ۔اور گھنے جنگلوں کی وجہ سے ڈرون سے بھی کوئی خاص مدد نہیں مل سکتی یہ پوچھنے پر کے ابھی اس مہم میں کتنا وقت لگ سکتا ہے تو ڈی جی پی کا کہنا تھا کی اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔یہ بہت مشکل ہے پچھلے 2 ہفتوں سے کارروائیاں چل رہی ہیں اور ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ملی ہے ۔جموں میں گزرے 4 برسوں میں (سال 2021 )سے ایک کے بعد ایک شہدت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں ۔اس سے پہلے جموں دہائیوں تک ایک سکون علاقہ مانا جاتا تھا لیکن آہستہ آہستہ شدت پسندوں نے جموں کے دوسرے علاقوں میں بھی اپنا سر اٹھانا شروع کر دیا ہے ۔حلانکہ ساﺅتھ ایشیا دہشت گردی پورٹل کے مطابق جموں کشمیر میں سال 2021 کے مقابلے میں 2024 میں وارداتیں کم ہوئی ہےں ۔سال 2021 میں جموں کشمیر میں کل واقعات کی تعداد 153 تھیں ۔جبکہ سال 2024 میں 2 ہی واقعات درج ہوئے ہیں ۔
(انل نریندر)
عدلیہ میں شفافیت ضروری ہے!
سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے اپنے اثاثے کی تفصیل ظاہرکرنے پر رضا مندی دکھائی ہے ۔اس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں ۔اس کے پیچھے وجہ جو بھی ہو وہ صحیح سمت میں صحیح قدم ہے ۔اس سے عدلیہ میں شفافیت لانے میں مدد ملے گی۔جو کی پچھلے کچھ دنوں میں تنازعوں میں گھر گئی ہے ۔کرپشن پر لگام کسنے کے اقدامات میں شفافیت کو طویل عرصہ سے اہم کڑی مانا جاتا رہا ہے۔عدالت کی بنچ نے ایک میٹنگ میں بڑی عدالت کے جج صاحبان نے اپنے اثاثے بتانے کا فیصلہ کیا ہے۔اور اس کی تفصیل وپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر ڈالی جائے گی ۔سپریم کورٹ کا یہ قدم جسٹس یشونت ورما معاملے کے بعد اٹھایا گیا ہے ۔حال ہی میں دہلی ہائی کورٹ کے جج یشونت ورما کے گھر آگ لگنے کی واردات کے بعد مبینہ طور پر نوٹوں کی گلی ہوئی گڈیا ملی تھیں۔اس تنازعہ کے بعد ان کا تبادلہ آلہ آباد ہائی کورٹ میں کر دیا گیا تھا۔بعد میں سپریم کورٹ نے کہا تھا ان کے تبادلے کا نوٹ ملنے کے تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔حلانکہ آلہ آباد ہائی کورٹ کے جیف جسٹس کو حدایت دی گئی ہے کے جسٹس ورما کو کوئی عدالتی کام نہ دیا جائے معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کی اڈیشنل جانچ کمیٹی کر رہی ہے ۔جس میں تین جج شامل ہیں ۔اسی درمیان جلے ہوئے کچرے میں نوٹوں کی موجودگی نظر آنے والے ووڈیوں کو بھی سپریم کورٹ نے پبلک کر دیا ہے۔وہیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر آشیش اگروال نے ججوں کی پروپرٹی کی تفصیل جنتا کے سامنے لانے کے فیصلہ کی تعریف کی ہے ۔ان کا خیال ہے کے سپریم کورٹ کو ایسے ادارہ کی شکل میں دیکھا جاتا ہے جو عام ،غریب ،بے سہارا لوگوں کے لئے انصاف کی آخری امید ہے ۔پھر بھی جسٹس ورما کے گھر پر جلے ہوئے نوٹوں کی گڈیا ملنے جیسے واقعات اور ان سے پیدا تنازعات سے کہیں نہ کہیں کچھ شبہ ضرور پیدا ہوتا ہے ۔یہ اشو پرانا ہے لیکن اشو پرانا ہے جج صاحبان کو بھی اپنے اثاثوں کو جنتا کے سامنے لانا چاہئے۔1997 میں سپریم کورٹ نے ایک پرستاﺅ پاس کیا تھا جس کے مطابق ہر جج کو اپنے پراپرٹی اور لین داری کے بارے میں جیف جسٹس کو بتانا ہوتا ہے۔بعد میں ایک اور پرستاﺅ اس سلسلہ میں پارلیمانی کمیٹی اپنی ایک رپورٹ میں یہ کہہ چکی ہے کی ججوں کے اثاثوں کے اعلان کو ضروری بنانے کے لئے ایک قانون لانا چاہئے۔دراصل جب تک ججوں کی جانب سے باقائدہ طور سے اپنے اثاثوں کی تفصیل کو عام کرنے کے عمل کو تنظیمی شکل میں نہیں کیا جائے گا تب تک اس سلسلہ میں صرف ذاتی نوعیت پر کی گئی پہل یا عزم کے بوطے پر اس میں مسلسل بنائے رکھنا مشکل ثابت ہوگا جہاں ہم جیف جسٹس سنجیو کھنا کے اس فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہیں وہیں یہ بھی کہنا چاہیں گے کی عدلیہ کے کام کاج میں کئی ستح پر بہتری لانے کی ضرورت ہے ۔عدلیہ کے منصفانہ و آزاد کردار انتہائی اہم ہو گیا ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...