06 اکتوبر 2012

11 ویں استھی کلش و سرجن یاترا


دنیا میں وہ شخص خوش قسمت ہوتا ہے جس کے وارث اس کی آخری رسوم ادا کریں لیکن دنیا میں ایسے بھی لوگ ہیں جوسڑکوں پر مرجاتے ہیں ان کا انتم سنسکار تک کے لئے کوئی وارث نہیں ہوتا اور ہوتا بھی ہے وہ شمشان گھاٹ میں اپنے بزرگوں و ماں باپ کے انتم سنسکار تو کرجاتے ہیں لیکن کسی مجبوری کے چلتے ان کی استھیوں کو گنگا جی میں پرواہت نہیں کرواپاتے اور ان کو شمشان گھاٹ کے استھی اسٹور روم میں چھوڑ کر واپس تک نہیں لوٹتے ایسی ہی ہزاروں استھیاں دہلی۔ دیش کے دوسرے شمشان گھاٹوں میں رکھی تھیں اور ان کی ہو آتماؤں کو شانتی دلانے والا کوئی نہیں تھا لیکن کہتے ہیں کہ بھگوان کسی شخص کو فرشتہ بنا کر دنیا میں بھیج دیتا ہے ان لاوارث ہو آتماؤں کو مکتی دلا سکے۔ بھگوان نے ان کی مکتی کے لئے ایک نیک صفت انسان ویر ارجن پرتاپ کے ایڈیٹر شری انل نریندر جی کو اس نیک کام کیلئے توفیق بخشی۔ وہ 10 سال سے دہلی ۔ دیش ۔ پاکستان کے شمشان گھاٹوں میں رکھی لاوارث استھیوں کو گنگا جی میں پرواہت کرانے کی بے لوث سیوا میں لگے ہیں انہوں نے اس کے لئے ایک تنظیم شری دیواستھان سیوا سمیتی (رجسٹرڈ) بنائی جس کے صدر انل نریندر جی خود ہیں۔ اس کے تحت وہ اس نیک کام میں لگے ہیں۔ اب تک یہ سمیتی 11 ہزار سے زائد لاوارث استھیوں کو گنگا جی کے کنکھل ستی گھاٹ پر ہندو ریتی رواج کے ساتھ وسرجت کرچکے ہیں۔شری انل نریندر جی کہتے ہیں کہ اس نیک کام کی توفیق انہیں بھگوان نے بخشی ہے وہ اس کو پورا کرنے میں ذرا بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اب ان کی کوشش رہے گی آزاد ہند فوج کے لیڈر سورگیہ نیتا جی چندربوس کی جاپان میں رکھی استھیوں کو بھارت لاکر گنگا جی میں پرواہت کراسکیں۔ اس سلسلہ میں بھارت میں موجود جاپان کے سفیر کے ذریعے سرکار سے خط و کتابت کا سلسلہ جاری ہے اور امید جتائی ہے کہ وہ ایک دن اپنے مشن میں ضرور کامیاب ہوں گے۔5 اکتوبر شکروار کو11 ویں استھی کلش وسرجن یاترا میں شامل ہونے سے پہلے یہ عزم دوہرایا ہے ۔ وسرجن یاترا ہری دوار کے لئے روانہ ہوگئی ہے جہاں کل سنیچروار کی صبح ان4200 سے زائد استھیوں کا وسرجن ہندو ریتی رواج کے ساتھ کیا جائے گا۔
شری دیواستھان کے صدر شری انل نریندر جی کی اس دھارمک نیک کام کی سراہنا کے ساتھ اس میں سبھی کو سہیوگ دینا چائے تاکہ لاوارث ہو آتماؤں کو مکتی دلانے کا سلسلہ جاری رہ سکے۔

بیمہ۔ پنشن میں بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کا فیصلہ


اقتصادی اصلاحات کو لیکر ملک بھر میں جاری وسیع بحث کے درمیان آئی وجے کیلکر کمیٹی کی رپورٹ ہندوستانی معیشت کے امکانی چیلنجوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ سرکاری بڑھتے مسلسل خسارے کوکم کرنے کے لئے قدم اٹھانے کی بھی سفارش کی گئی ہے اس میں خاص کر اجناس، تیل، گیس، سیکٹر میں لوگوں کو دی جارہی سبسڈی کرنے کی بات کہی گئی ہے لیکن غذائیت پر حکومت سبسڈی کم کرنے کے حق میں نہیں کیونکہ معاملہ سیدھے غریب آدمی سے جڑا ہے وہ خط افلاس کی نیچے کی زندگی بسر کررہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں سرکاری سبسڈی کا بیجا استعمال ہورہا ہے اور یہ ضروتمندوں تک نہیں پہنچ رہی ہے۔
موجودہ حالات میں ایک بات تو صاف ہے کہ ہندوستانی معیشت کو رفتار دینے کے لئے حکومت کو کئی سخت فیصلے لینے پڑے ہیں جس میں رسوئی گیس سلنڈر کی راشننگ اور امیروں یعنی صاحب حیثیت گھرانوں کو سبسڈی سے مستثنیٰ مہنگی قیمت880 روپے میں سلنڈر دینا شامل ہے۔ سرکار کی دلیل تھی کہ ایسا کرنا اس کی مجبوری بن گئی ہے کیونکہ سرکاری خزانہ پر کچلے تیل کے دام بڑھنے سے بھاری مالی بوجھ بڑھ رہا تھا اس لئے سرکاری خسارے میں کمی لانے کے لئے ایف ڈی آئی کو منظوری اور اب اس کے بعد بیمہ اور پنشن سیکٹر میں سرمایہ کاری حد26 فیصد سے بڑھا کر 49 فیصد کرنے کا سرکار کا فیصلہ بولڈ قدم مانا جاسکتا ہے اس سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے ملک کے شہریوں کو منافع بھی زیادہ ملے گا۔
حکومت نے خوردہ بازار،ڈیزل کے داموں میں اضافہ جیسے اشوز پر اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود اپنے بڑھادئے ہیں ان سے صاف اشارہ ہے کہ حکومت اپنے اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے کو رفتار دیکر جارحانہ مہم چلانے کے حق میں ہے۔ حکومت نے2012-17 کے لئے 12 ویں پانچسالہ منصوبے کو منظوری دیے ہوئے عالمی مندی کو دیکھتے ہوئے اس نے9 فیصدی طے کردہ اقتصادی ترقی شرح کو8.2 فیصد سالانہ کے حساب سے رکھا ہے۔
ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا درمیانے درجے کے شہریوں کا بازار ہے پنشن فنڈ کا استعمال شیئر بازار میں ہونے سے یہ مسلسل خطرے میں رہے گا۔ بیمہ کمپنیوں میں غیر ملکی ساجھیداری ہونے سے عام جنتا کے پیسے کی واپسی کی گارنٹی بھی غیر ملکی رحم و کرم پر رہے گی مگر اس کا سب سے بڑا فائدہ امریکہ کی بیمار کمپنیوں سے لیکروہاں کی سست پڑی معیشت میں تازگی لانے کے ساتھ ہر امریکیوں کو روزگار مہیا کرانے میں ہوگا جبکہ پورا یوروپ مندی کے بحران میں پھنسا ہوا ہے۔
یوپی اے سرکار سے ترنمول کانگریس کے باہر جانے کے بعد سرکار کے فیصلوں کے خلاف اپوزیشن کی سڑک سے لیکر پارلیمنٹ تک مورچہ بندی کے بعد کانگریس صدر سونیا گاندھی نے سامنے آکر فیصلوں کی حمایت کی ہے اس سے سرکار کو مضبوطی ملی ہے۔
حکومت نے خوردہ بازار اور بیمہ، پنشن سیکٹر میں ایف ڈی آئی کو منظوری دینے کے فیصلے سے منموہن سرکار نے صاف اشارہ دے دیا ہے کہ اب وہ ان سے پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ جنتا کے بیچ جائے گی سرکار کو لگتا ہے کہ پنشن، بیمہ سیکٹر میں49 فیصد تک ایف ڈی آئی کے فیصلے کو پارلیمنٹ میں این ڈی اے کے ساتھ لیفٹ ترنمول کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے شاید یہ فیصلے لٹک جائیں کیونکہ لوک سبھا میں سپا، ترنمول کی مخالفت ہوئی تو نمبروں کی تعداد کم ہونے سے بیمہ ، پنشن بل کا پاس ہونا مشکل لگتا ہے۔اس پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے کانگریس کو لوک سبھا چناؤ میں عوام کے سامنے ان پارٹیوں کے رویہ کو سامنے رکھنے کا موقعہ ملے گا بہرحال حکومت نے اپنی اقتصادی اصلاحات کو رفتار دینے ک یلئے سخت قدم اٹھانے بارے کوئی رعایت نہ برتنے کا اشارہ دیا ہے مگر اب سرکار کو بیمہ، پنشن بلوں کو منظٰری کے ئے کڑی اگنی پریکشا سے گذرنا ہوگا۔

05 اکتوبر 2012

سونیا گاندھی کے غیر ملکی دوروں پر خرچے1880 کروڑ رپر واویلا


گجرات میں چناوی بگل بج چکا ہے۔اسمبلی چناؤ دو مرحلوں میں ہونے ہیں۔182 سیٹوں کے لئے13 اور 17 دسمبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ گنتی20 دسمبر کو ہوگی۔ چناؤ کے اعلان سے ٹھیک پہلے نریندر مودی نے کانگریس صدر سونیا گاندھی پر زبردست حملہ کیا ہے۔ سونیا کے گجرات دورہ سے پہلے مودی کی سیاسی ترپ چال کی وجہ سے یہاں کے سیاسی ماحول میں طوفان آگیا ہے۔ مودی نے دعوی کیا ہے کہ سونیا گاندھی کے علاج کے لئے غیر ملکی دوروں میں 1800 کروڑ روپے سے زیادہ مرکزی حکومت نے خرچ کئے ہیں۔ ساتھ ہی مودی نے یہ بھی کہہ دیا اگر ان کی معلومات غلط ہوں تو وہ پبلک طور پر سونیا گاندھی سے معافی مانگ لیں گے لیکن وہ اس سوال پر قائم ہیں دیش کو یہ جاننے کا حق ہے کہ سونیا گاندھی کے علاج پر کتنا پیسہ خرچ ہوا؟ مودی نے کہا کہ12 جولائی کو ایک اخبار میں شائع رپورٹ کی بنیاد پر انہوں نے یہ دعوی کیا ہے۔ مودی کے مطابق یہ رپورٹ اطلاعات حق قانون کے تحت ہریانہ کے حصار میں ایک نوجوان آر ٹی آئی رضاکار رمیش ورما کی عرضی پر سرکار سے ملی معلومات پرمبنی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک سرکار یا سونیا گاندھی نے اس رپورٹ کی تردید نہیں کی ہے۔ مودی نے مرکز پر برستے ہوئے سوال اٹھایا کیا یہ رقم سرکاری خزانے سے خرچ نہیں کی گئی تھی؟ اس رقم سے تو ہم پورے گجرات ریاست کے لئے بجلی پیدا کرسکتے تھے۔ آر ٹی آئی رضاکار رمیش ورما کو آر ٹی آئی کے ذریعے سونیا گاندھی کے علاج کی جو تفصیل ملی ہے اس کے مطابق 7 غیر ملکی دوروں کے وقت خاطر داری پر ہندوستانی سفارتخانے نے قریب80 لاکھ روپے خرچ کئے۔ جوہانسبرمیں1406650 روپے، لندن 3 اکتوبر 2007 ،282913 ،(15 سے26 مارچ) 2011، لندن3591970 روپے، بروسیلز(9 سے12 نومبر2006 ) 8573 روپے، میونخ (8 سے10 جون 2007) 39384 روپے، شنگھائی(29 اکتوبر 2007 )1414573 اور بیجنگ (7 سے 9 اگست 2008 ) 1257793 ۔کانگریس نے مودی کے الزامات کا ابھی تک کوئی سیدھا جواب نہیں دیا لیکن سونیا گاندھی نے اپنی ریلی میں اتنا ضرور کہا کہ وہ مودی کے کسی بیان کا جواب دینا نہیں چاہئیں گی۔ ادھر کانگریس جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے مودی پر حملہ کرتے ہوئے ان کا موازنہ ہٹلر کے پروپگنڈہ وزیر گوئبلس سے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس نے مودی کو نازی اسٹائل میں تربیت دی ہے اور وہ گمراہ کن پروپگنڈہ کرنے کے ماہر ہیں۔ دگوجے نے ٹیوٹر پر لکھا ہے کہ سنگھ اپنے رضاکاروں کوٹریننگ دیتا ہے کہ جھوٹ بولو، ضرور ضرور سے بولو اور بار بار بولو۔ کیا اس سے گوئبلس کی یاد نہیں آتی۔ خود سونیا گاندھی نے بدھوار کو گجرات کے راجکوٹ میں اسمبلی چناؤ کا بگل بجاتے ہوئے وزیر اعلی نریندر مودی اور بھاجپا پر تابڑ توڑ حملے کئے۔ کانگریس صدر نے مہنگائی اور کرپشن و خوردہ بازار میں ایف ڈی آئی جیسے اشوز پر منموہن سرکار کا بچاؤ کیا لیکن اپنے غیر ملکی دورے پر سرکاری خزانے سے1880 کروڑ روپے خرچ کئے جانے سے متعلق مودی کے الزامات سے کنارہ کرلیا۔ اپنی تقریر میں سونیا نے مودی کا سیدھا نام تک نہیں لیا۔ ریٹیل مسئلے کا ذکر کرنے کے بعد انہوں نے کہا جب ہم دیش کے مفاد میں قدم اٹھاتے ہیں تو ہمارے اوپر طرح طرح کے حملے ہوتے ہیں۔ ہم نے پہلے کبھی بھی اس کی پرواہ نہیں کی ہے اور نہ آگے کریں گے۔
(انل نریندر)

سری پرکاش جیسوال کی پھر پھسلی زبان اس بار برے پھنسے


مرکزی حکومت میں وزیر کوئلہ سری جے پرکاش جیسوال اپنے متنازعہ بیانات کے لئے مشہور ہوچکے ہیں۔ کوئلہ الاٹمنٹ گھوٹالے میں حریفوں کی چوطرفہ مخالفت جھیل رہے جیسوال کی زبان پھر پھسل گئی اور ایک نئے بونڈر میں پھنس گئے۔ اپنی سالگرہ پر سنیچر کو کانپور کے ایک کوی سمیلن میں جیسوال کہہ گئے کہ جیسے جیسے وقت گذرتا ہے بیوی پرانی ہوجاتی ہے،پھر وہ مزہ نہیں رہتا۔ منتری جی کا تبصرہ عورتوں کوبہت ناگوار گزرا۔مایوس عورتوں نے منگلوار کو سڑکوں پر اتر کر جیسوال کے پوسٹر پر سیاہی پوت دی اور’ مردہ باد ‘کے نعرے لگائے۔ سری پرکاش کا پتلا جلانے کے بعد اعلان کیا گیا انہیں کیبنٹ سے باہر نہ نکالا گیا تو ملک گیر تحریک چھیڑی جائے گی۔ ان کا یہ بیان عورت سماج پر حملہ ہے۔ خواتین تنظیموں نے اس پر سخت ناراضؑ ی ظاہر کرتے ہوئے کہا اتنے بڑے عہدے پر بیٹھے جیسوال کے منہ سے ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں۔ یہ شادی جیسے مقدس رشتے اور شادی شدہ عورتوں پر ایک طریقے سے چٹکی ہے۔ آکانکشا ناری سیوا سمیتی نے کہا منتری جی بتائیں کہ مزے سے ان کا کیا مقصد ہے؟غور طلب ہے کہ قدوائی نگر میں واقع گرلز کالج میں کوی سمیلن میں سری پرکاش جیسوال بولے ’چاہتے تھا ایک دو گھنٹے کا وقت پاس ہوجائے اور پاس ہوگیا اور اس کا نتیجہ بھی اچھا رہا کے بھارت جیت گیا (ٹی20-) اور لوگ خوش ہیں۔ نئی نئی جیت اور نئی نئی شادی دونوں کی الگ الگ اہمیت ہوتی ہے۔ جیسے جیسے وقت گذرتا ہے جیت پرانی ہوتی جاتی ہے ویسے ویسے وقت گذرتا ہے تو بیوی پرانی ہوتی جاتی ہے کیونکہ جیت کا وہ مزہ نہیں رہتا۔ یہ سن کر وہاں بیٹھے سامی اور شاعر بھی سناٹے میں آگئے۔ کانا پھونسی تو اسی وقت سے شروع ہوگئی کہ منتری یہ کیا کہہ گئے؟ ایک عورت کا تبصرہ تھامزہ اس کا مطلب تو منتری جی ہی سمجھا دیں، ایسی اوچھی، خراب باتیں کرنا کسی نیتا کو زیب نہیں دیتا۔ ایسے الفاظ بول کر انہوں نے اپنی عزت کم کردی ہے۔ جب نیتاؤں کی یہ سوچ ہوگی تو سماج کو وہ کیسے بدلیں گے اس کا تو ایشور ہی مالک ہے۔۔۔اپنے اس خیر مقدمی پروگرام میں سبھی بڑے لوگ موجود تھے کسی نے ان کی مخالفت تک نہیں کی۔ کیا سبھی کا دماغ ایک جیسا چلتا ہے۔ سابق ایم پی سبھاشنی علی نے کہا کہ ایسا غیر ذمہ دار آدمی مرکزی کیبنٹ میں نہیں ہوناچاہئے۔ زندگی میں بیوی کا کیا کردار ہوتا ہے بیان دینے سے پہلے اس پر غور ہی نہیں کیا تو میں کہتی ہوں کہ مسز جیسوال سے بھی پوچھنا چاہئے کہ وہ کیسا محسوس کررہی ہیں جیسے سیاستدانوں کی عادت ہوتی ہے اسی طرح سری پرکاش جیسوال سارا الزام میڈیا پر مڑھ گئے اور کہا ان کی باتیں توڑ مروڑ کر اور مواد سے ہٹ کر رکھی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے ان کی بات بھارت۔ پاک کی جیت کے سلسلے میں کہی گئی تھی جبکہ اسے اس سلسلے سے ہٹا کر دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا وہ عورتوں کی بے عزتی کے بارے میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔ ان کی بات کو کاٹ چھاٹ کر دکھایا گیا ہے اگر پھر بھی کسی کو ٹھیس پہنچی ہے تووہ معافی مانگتے ہیں۔
(انل نریندر)

04 اکتوبر 2012

سی اے جی کوئی منیم نہیں جو صرف حکومت کا اقتصادی چٹھابنائے


آئینی تقاضوں کے ذریعے بھارت کے کمپٹرولر آڈیٹر جنرل یعنی کیگ جیسے ادارے کا قیام سرکاری کام کاج میں مالی شفافیت اور جوابدہی یقینی کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ حال ہی میں کیگ کے وقار کو ٹھیس پہنچانے کیلئے اس پر کچھ وزرا نے سیدھے حملے کئے ہیں۔ اس پہلو سے سپریم کورٹ کا تازہ تبصرہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے۔ عدالت ہذا کو سادھو واد کے اس نے کمپٹرولر آڈیٹر جنرل یعنی کیگ کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرنے والی ایک مفاد عامہ کی عرضی کو نہ صرف خارج کردیا بلکہ یہ بھی صاف کردیا کہ اس آئینی ادارے کو سرکاری فیصلوں کے جواز اور ان کی اصلیت کی جانچ کرنے کا پورا اختیار ہے۔ سی اے جی کے کام کاج کو جائز قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے پیر کو کہا تھا کہ سی اے جی کوئی منیم نہیں جو صرف حکومت کے کھاتوں کا اقتصادی دستاویز تیار کرے۔ سی اے جی ایک آئینی ادارہ ہے جس کا فرض وسائل کے صحیح استعمال کو دیکھنا ہے۔ یہ پارلیمنٹ کا کام ہے کہ وہ سی اے جی کے نتیجوں کو مانے یا پھر اسے نا منظور کردے۔ جسٹس آر ایم لوڈھا و جسٹس اے آر دوے کی ڈویژن بنچ نے یہ ریمارکس کیگ کے اختیار کو چیلنج کرنے والی عرضی کو خارج کرتے ہوئے دئے تھے۔ عرضی میں کوئلہ بلاک الاٹمنٹ پر پیش رپورٹ پر سوال اٹھایا گیا تھا۔ امید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے ریمارکس سے اس ٹال مٹول والی سرکار کی آنکھیں کھلیں گی۔ پچھلے دنوں مرکز کے کئی وزرا نے سی اے جی کی رپورٹ پر سوال اٹھائے تھے۔ انہوں نے رپورٹ آتے ہیں اسے بے جواز ٹھہرانے میں ذرا بھی دیر نہ لگائی۔ یہاں تک کہ سی اے جی پر سیاسی نظریئے سے ترغیب پاکرکام کرنے تک کا الزام لگایا۔اور بھی تکلیف دہ بات یہ ہے کہ خودوزیراعظم کا رویہ اس سے الگ نہیں تھا۔ یہ سب اس لئے کیا گیا کیونکہ منمانے طور پر الاٹمنٹ سے ہوئے نقصان کا جو تجزیہ سی اے جی نے پیش کیا ہے وہ سرکار اور کانگریس کے لئے ایک بڑی سیاسی پریشانی کا سبب بن گیا۔ سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں صاف کہا اس جس پر وہ اب بھی قائم ہے منمانے الاٹمنٹ سے 1 لاکھ86 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ کانگریس کے سینئر وزیر تو سی اے جی پرحملہ بول رہے تھے لیکن خود وزیر اعظم نے بھی اس آئینی ادارے کو غلط ٹھہرانے کی کوشش کی۔ کوئلہ بلاک الاٹمنٹ معاملے میں سی اے جی کی رپورٹ اتھانٹک ہے یا نہیں یہ پارلیمنٹ کی پی اے سی پر چھوڑ دینا چاہئے۔ جب سی اے جی کی تشکیل ہوئی تھی تب سے محصول اور سرکاری اخراجات کا دائرہ کافی بڑھا ہے۔ یہ ہی نہیں دھاندلیوں کی شکایتیں بھی بڑھی ہیں ایسے میں یہ دیکھنا اور بھی ضروری ہوگیا ہے کہ سرکار پیسے کا استعمال شفافیت کے ساتھ اور سوجھ بوجھ اور مفاد عامہ کے تقاضوں کے حساب سے ہورہا ہے یا نہیں یہ کردار آئین نے سی اے جی کو سونپا ہے۔ وقت کی ضرورت تو سی اے جی کے اختیارات کوبڑھانے کی ہے۔ فی الحال تو بہتر یہ ہی ہوگا کہ اس آئینی ادارے کے ساتھ گمراہ کن پروپگنڈہ کرنے سے باز آئیں۔
(انل نریندر)

جنتر منتر پرممتا کے ایک تیر سے کئی نشانے

ملٹی برانڈ خوردہ سیکٹر میں ایف ڈی آئی کی لڑائی بڑھتی جارہی ہے اور ممتا اب تو سڑکوں پر آگئی۔ترنمول کانگریس کی لیڈر ممتا بنرجی نے اس اشو اور مہنگائی کو لیکر دہلی میں اپنا پہلا دھرنہ دیا۔ جنترمنتر پر منعقدہ ریلی میں انہوں نے ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ ممتا کے نئے داؤ سے نہ صرف کانگریس کے لئے بلکہ بھاجپا کے لئے بھی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں۔ چار گھنٹے تک جاری اس دھرنے میں بنگلہ سے آئے نیتا پس منظر میں پیچھے ہی رہے۔ فوکس پر دوسرے نیتا رہے۔ اترپردیش سے چنے گئے واحد ٹی ایم سی کے ممبر اسمبلی شیام سندر شرما، منی پور سے آئی ٹی ایم سی کی لیڈر کم اور ہریانہ سے آئے لیڈروں پر زیادہ توجہ رہی۔ خود ممتا نے کہا کہ وہ دہلی کی لڑائی دہلی کے لوگوں کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔ وہ اپنی پارٹی کو قومی شکل دینے میں لگی ہوئی ہیں۔ ممتا کی یہ بات کافی اہم ہے۔ماں ماٹی اور مانش کی لڑائی بنگال تک محدود نہیں رہی۔ اس طرح انہوں نے اپنے آپ کو بطور ایک قومی لیڈر کی شکل میں پروجیکٹ کرنے کی کوشش کی ہے۔ خاص بات تو یہ تھی کہ سبھی نیتاؤں نے ہندی میں بات کی کیونکہ ہندی لوگوں کو جوڑنا ہے۔ ریلی میں ممتا نے ایک اور داؤ بھی چلا۔ تیسرے مورچے کی حسرت کو نئے پنکھ لگانے کے اشارے دئے۔ یوپی اے سے الگ ہونے کے بعد وہ ملائم سنگھ یادو، نوین پٹنائک، جے للتا و نتیش کمار کو ایک اسٹیج پر لانے میں لگی ہیں۔ اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے نومبر میں لکھنؤ میں ہونے والی بڑی تحریک کے دوران ملائم سنگھ موجود رہیں گے۔ انہوں نے پٹنہ میں بھی پروگرام منعقد کرنے کی بات کہی ہے۔ حالانکہ دھرنے میں شرد یادو بھی موجود تھے لیکن انہوں نے ممتا سے جڑنے کے بارے میں فی الحال کوئی اشارہ نہیں دیا۔ ممتا کی نیت صاف ہے وہ غیر کانگریس، غیر بھاجپا مورچہ بنانا چاہتی ہیں اور اس کوشش سے دونوں کانگریس ۔ بھاجپا کے لئے اچھے اشارہ نہیں مانے جاسکتے۔ ممتا بنرجی نے ہوشیاری سے اس بات کا خیال رکھا ہے کہ بھاجپا کے ساتھ جڑی مسلم مخالفت کا داغ ان پر نہ لگے۔ ممتا بنرجی کی کوشش یہ بھی لگتی ہے کہ اگر اگلے چناؤ میں غیر کانگریس غیر بھاجپا پارٹیوں کو اکثریت ملتی ہے اور کسی قسم کا اتحاد بنتا ہے تو اس کی قیادت ان کے پاس ہی رہے۔ بدقسمتی یہ ہے ملائم سنگھ یادو بھی اسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ملائم لیفٹ پارٹیوں کی حمایت لے رہے ہیں اور لیفٹ اور ممتا ایک ساتھ کبھی نہیں آسکتے۔ یوپی اے کے پچھلے عہد میں لیفٹ پارٹیوں نے امریکہ کے ساتھ نیوکلیائی معاہدے کے خلاف احتجاج میں سرکار سے حمایت واپس لے لی تھی اور اس بار اتفاق سے مغربی بنگال کی پارٹی ترنمول کانگریس نے ایف ڈی آئی پر حمایت واپس لی ہے۔ دونوں وقت یہ ہی امید تھی کہ مغربی بنگال میں حکمراں لیڈر مرکز میں کانگریس کو اپنا کام کرنے دیں گے بدلے میں مغربی بنگال کے لئے زیادہ سے زیادہ رعایتیں پانے کی کوشش کریں گے۔ کسی وقت دیش کا خوشحال راجیہ مغربی بنگال اس وقت پسماندہ ریاستوں کی قطار میں شامل ہوچکا ہے اور اسے ترقی کے راستے پر لانے کیلئے مرکزی سرکار کے فراخ دلانہ تعاون کی ضرورت ہے اور ممتا کے تازے موقف سے یہ مقصد کتنا پورا ہوگا اس میں شبہ ہے۔ دھرنے میں ممتا نے وزیر اعظم پر سیدھا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ منموہن سنگھ عام آدمی کو بھول چکے ہیں۔ اصلاحات کے نام پر ایف ڈی آئی اور ڈیزل کے قیمتوں میں اضافے کے فیصلوں پر جنتا کو لوٹا جارہا ہے۔ اگر سرکار کو پیسہ چاہئے تو بیرونی ممالک میں جمع کئی لاکھ کروڑ کالا دھن واپس لائیں۔ دلچسپ یہ بھی ہے ادھر ممتا دہلی میں اپنی طاقت دکھا رہی تھیں ٹھیک اسی وقت کولکتہ میں مارکس وادی پارٹی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے میں لگی تھی۔ مغربی بنگال میں قانون و انتظام اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف نارتھ 24 پرگنہ ضلع کے دھرم تلئی گاؤں میں مارکسوادی پارٹی نے ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کی بھیڑ جمع کرکے اپنی طاقت دکھائی۔
(انل نریندر)

02 اکتوبر 2012

Facebook Password Change

Hey Syed,

You recently changed your Facebook password on October 2, 2012 at 3:21pm.
As a security precaution, this notification has been sent to all email addresses associated with your account.

If you did not change your password, your account may have been the victim of a phishing scam.
Please follow the link to regain control over your account:
https://www.facebook.com/checkpoint/checkpointme?u=100001267207663&n=ychI5uw1

Your password was changed from the following location:
Delhi, DL, IN (IP=59.176.39.214)

Thanks,
The Facebook Team

کشمیر میں امن و سکون دہشت گرد و ان کے آقاؤں کو برداشت نہیں


جموں و کشمیر میں ایک بار پھر دہشت گردوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں اور چنے ہوئے عوامی نمائندوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔پچھلے دو ہفتے میں دہشت گردوں نے دو سرپنچوں کو گولی سے اڑاکر ایک بار پھر وادی میں امن و سکون کے ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔ ایک سال کے دوران مجموعی طور پر آدھا درجن پنچایت کے سرپنچ آتنک وادیوں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ ان دہشت گرد تنظیموں نے پچھلے کئی دنوں سے مختلف علاقوں میں پوسٹر و پرچوں کے ذریعے پنچ و سرپنچوں کو استعفیٰ دینے یا پھر انجام بھگتنے کی دھمکی دی ہوئی ہے۔ اس سب کا نتیجہ یہ ہوا کہ جن لوگوں نے پچھلے سال بے خوف ہوکر پنچایت چناؤ لڑا تھا اب وہ ڈر کے مارے استعفیٰ دے رہے ہیں۔ گذشتہ کچھ دنوں میں 150 سے زیادہ پنچوں اور سرپنچوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔300 سے زیادہ نے اخباروں میں اشتہارات کے ذریعے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔ دو دہائی سے زیادہ عرصے تک آتنک واد کا شکار رہے دیش کے اس سرحدی صوبے میں پچھلے سال ہوئے پنچایب چناؤ میں جب آتنک وادیوں کی دھمکیوں کونظرانداز کرتے ہوئے قریب80 فیصدی ووٹروں نے ووٹ کیا تو اس ریاست کا ایک بڑا کارنامہ جمہوری جیت مانا گیا تھا۔ کوئی تین دہائی بعد ہوئے ان انتخابات میں پنچایتوں کے تقریباً2000 عوامی نمائندے چنے گئے تھے اور یہ آتنک وادیوں کو برداشت نہیں تھا کیونکہ نہ صرف دیش میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی کہا جانے لگا تھا کہ آتنک وادی طاقتیں صوبے میں الگ تھلگ پڑتی جا رہی ہیں اور خون خرابے کے واقعات میں بھی کمی آئی تھی۔ بہتر ہوتے ماحول کے سبب پچھلے دنوں شاہ رخ خان نے وادی میں فلم کی شوٹنگ کی تھی لیکن سرحد پار ان آتنک وادی تنظیموں کے مائی باپوں کو یہ حالت قبول نہیں تھی اور انہوں نے وادی میں اپنے پیادوں کو پھر سے سرگرم کردیا ہے۔ ایک بڑی تشویش جو پچھلے دنوں سامنے آئی ہے وہ ہے کشمیر میں آتنکی پولیس کا گٹھ جوڑ۔ آتنکی پولیس کی قلعی کھل جانے سے آج ریاست میں عدم سلامتی کا جو ماحول بنا ہوا ہے وہ اپنے آپ کو سب سے زیادہ غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں۔ وزیراعلی عمر عبداللہ نے تو آتنک وادیوں کو چنوتی تک دے ڈالی ہے۔ سینئر پولیس افسر بھی وزیر اعلی کی سلامتی کو لے کر فکر مند ہیں۔ کچھ دن پہلے ہی ریاستی پولیس نے یہ پردہ فاش کیا تھا کہ ریاست میں آتنکی پولیس گٹھ جوڑ خطرناک شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ ایسے میں ملنے والے اشاروں پربھروسہ کریں تو ایسے گٹھ جوڑ سے پردہ اٹھانے کی اجازت پولیس کو دے دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں آنے والے دنوں میں ایسے پولیس ملازمین کی بھی گرفتاری ہوسکتی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ کچھ ایک نوجوان بھارت۔ تبت پولیس کے بھی گٹھ بندھن میں شامل ہیں حالانکہ ان کی گنتی برائے نام ہے۔ سرکاری طور پر مہیا کرانے والے اعدادو شمار کے مطابق تقریباً ساڑھے چھ ہزار پولیس ملازمین کو آج سیاستدانوں اورسینئر پولیس افسران کی سلامتی کے لئے تعینات کیا گیا ہے۔ ان میں آتنک وادیوں کے کتنے روابط ہیں پتہ لگانا سب سے ٹیڑھی کھیر بتایا گیا ہے۔ آپ کسی پر براہ راست انگلی نہیں اٹھا سکتے کیونکہ جب تک کوئی پختہ ثبوت نہ ہو تو انگلی اٹھانا بھاری پڑ سکتا ہے۔ جموں و کشمیر میں سرپنچوں کی سلامتی کو لیکر پنچایتوں کی طاقت کولیکر حکمراں نیشنل کانفرنس اور کانگریس اتحاد میں تلخی پیدا ہوگئی ہے۔ جمعہ کو سرینگر میں یوتھ کانگریس نے جم کر نعرے بازی کی تھی اور عمر عبدالہ، فاروق عبداللہ کو نشانے پرلیا تھا۔
(انل نریندر)

’’دی گریٹ دلی رابری‘‘


راجدھانی کی مجرمانہ تاریخ میں اتنی بڑی لوٹ کی واردات کبھی نہیں ہوئی تھی۔جتنی بڑی لوٹ ڈیفنس کالونی علاقے میں جمعہ کو ہوئی۔ وی آئی پی نمبر پلیٹ لگی ہوئی ہنڈئی کار میں سوار ہوکر آئے مسلح بدمعاشوں نے بینک کی ایک کیش وین لوٹ لی۔ وین میں سوا پانچ کروڑ روپے رکھے تھے۔ کیش وین میں جی پی ایس سسٹم نہیں لگا تھا۔ یہ رقم آئی سی سی آئی بینک کی تھی جسے پریمیر شیلڈ پرائیویٹ لمیٹڈ ایجنسی کا اسٹاف حوض خاص میں واقع بینک کی برانچ سے نکال کر لایا گیا تھا۔ یہ پیسہ بینک کے مختلف اے ٹی ایم میں ڈالا جانا تھا۔ آدھا درجن ہتھیار بند بدمعاش وین کے گارڈ کو گولی مارنے کے بعد اس نقدی وین کو لیکر فرارہوگئے۔لٹیرے اپنی کار موقعہ پر ہی چھوڑ گئے۔ ایمس ٹراما سینٹر میں بھرتی کرائے گئے بندوقچی منی سنگھ کی رات میں موت ہوگئی۔ جمعہ کی دوپہر قریب3 بجے لوٹ مار کی یہ سنسنی خیز واردات ڈی ۔12 ڈیفنس کالونی میں بی آر ٹی کوریڈور کے قریب باسکٹ آؤٹ لیٹ کے سامنے ہوئی ۔ قریب ایک گھنٹے بعد دہلی پولیس کو لوٹی گئی کیش وین ساؤتھ دہلی کے مالویہ نگر علاقے میں لا وارث کھڑی ملی۔ وین سے دونوں گارڈوں کی بندوقیں اور کیش سے بھرے صندوق باندھنے کے لئے استعمال کی جانے والی زنجیر ملی۔ کیش سے بھرا صندوق غائب تھا۔ دہلی کی اس گریٹ رابری میں پولیس کو ایک بڑی کامیابی ملنے کا دعوی کیا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے لوٹ مار میں شامل ایک شخص کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے پکڑے گئے لٹیروں کے پاس سے اب تک ڈھائی کروڑ روپے کی رقم برآمد ہوگئی ہے۔ ساؤتھ دہلی پولیس کے ذرائع کی مانیں تو ملزم دیپک کو پشپ وہار سے ہتھیاروں اور کارتوس سمیت پکڑا گیا ہے۔ آر کے پورم میں اعلان شدہ بدمعاش ہے۔ دیپ کے قبضے سے ڈیڑھ کروڑ روپے۔ پانچ پانچ سو کے نوٹ کی شکل میں برآمد ہوئے ہیں اور یہ نوٹ ایک بورے میں بھرے ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق ہفتے بھر پہلے چار لڑکوں نے کھڑکی گاؤں میں ایک مکان کرائے پر لیا تھا۔ یہ چاروں اس گریٹ دلی رابری میں ملوث تھے۔ ان لڑکوں کے نام وجے ،دیپک، ہری کشن اور شیکھر بتائے جاتے ہیں۔ پولیس کے مطابق لوٹ کی یہ سازش قریب تین مہینے پہلے رچی گئی تھی۔ لوٹ مار کے دوران گارڈ منی سنگھ کا موبائل کیش وین میں ہی گر گیا تھا۔ یہ ہی موبائل پولیس کے لئے کیس کو سلجھانے کا اہم سراغ بن گیا۔اس موبائل کے سرویلنس سے پولیس کو نہ صرف کیش وین ملی بلکہ اسے اس کیس کو سلجھانے میں اہم سراغ مل گیا۔ گارڈ کے موبائل سے جب جگہ پر پتہ نکالا گیا تو آخری لوکیشن مالویہ نگر میں حوض رانی علاقہ آیا اور اس کے بعد پولیس کیش وین تک پہنچ پائی۔ کیش وین میں گارڈوں کی جو رائفلیں ملی ہیں وہ دونوں بھری ہوئی تھیں۔ وین کے شیشے کھلے تھے اور کھڑکیوں پر لاک لگے تھے۔ بدمعاشوں نے جہاں دن دھاڑے سوا پانچ کروڑ روپے لوٹ کر پولیس کو چنوتی دی ہے وہیں ریڈ الرٹ کی دھجیاں بھی اڑادیں۔ یہ کیس دلی پولیس کے لئے ساکھ کا سوال تھا۔ ہم امید کرتے ہیں دلی پولیس جلد ہی اس کیس کو سلجھا لے گی۔
(انل نریندر)

30 ستمبر 2012

ریٹیل سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے ہمارا چھوٹا کسان تباہ ہوگا


منموہن سنگھ سرکار خوردہ بازار میں 51 فیصد براہ راست غیر ملکی تجارت کے فائدے کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہ بتا رہی ہے کہ اس سے ہمارے کسانوں کو فائدہ ہوگا۔ میں نے شری انڈیا ایف ڈی آئی واچ کے ڈائریکٹرمسٹر دھرمیندر کمار کا اس موضوع پر ایک آرٹیکل پڑھا جس میں بتایا گیا کہ دنیا کے کچھ ملکوں میں جہاں ایف ڈی آئی لاگو کی جاچکی ہے وہاں کے کسانوں کا کیا تجربہ رہا ہے۔ دعوی کیا جارہا ہے کہ اس سے گھریلو صارفین کو ہی نہیں بلکہ کسانوں کو بھی فائدہ ہونے والا ہے۔ جبکہ ایسے کئی جائزے موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کھیتی میں سرمایہ کاری سے کسانوں کو نقصان ہی ہوا ہے جس سے ان کے سامان کی سپلائی کی سیریز کا حصہ بن کر مناسب دام حاصل کرنے کے لئے کسانوں کو مشقت کرنی پڑتی ہے۔ انہیں زندگی گزر بسر کرنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میکسیکو کے ایک مطالع میں وائلس بریہم ایگریکو ، کینڈل جیسی مطالجاتی تنظیموں نے پایا کے خوراک کی سپلائی کے سلسلے میں تبدیلی سے چھوٹے کسانوں کو عام طور پر کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ اپنے دیش میں بھی خوردہ سیکٹر میں پہلے سے موجودہ صنعتی گھرانے صرف بڑے کسانوں سے ہی مال خریدتے ہیں چھوٹے کسانوں و ان کے تھوک خرید سسٹم سے باہر ہیں۔ ہمارے دیش میں78 فیصد کسان چھوٹے درجے کے ہیں ان کے پاس دو ایکڑ سے بھی کم زمین ہے اور دیش کی کل کھیتی کی زمین کا 33 فیصد حصہ ہی چھوٹے کسانوں کے پاس ہے جبکہ دیش کی 90 فیصد سے زیادہ غذائی پیداوار یہ ہی لوگ کرتے ہیں۔ ذراعت کا تجارتی کرن چھوٹے کسانوں کے لئے نقصاندہ ہوسکتا ہے۔ تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بھارت کی جی ڈی پی میں ذراعت اور اس سے وابستہ سیکٹروں کی حصہ داری میں مسلسل گراوٹ آرہی ہے۔ پچھلے پانچ برسوں میں یہ اعدادو شمار گھٹ کر14 فیصدی رہ گئی ہے۔ بھارت کو کون کھلاتا ہے؟ اس کا جواب بھارت کے چھوٹے کسانوں کے پاس ہی ہوسکتا ہے لیکن لگتا ہے کہ ان کسانوں کی قسمت کا فیصلہ سرکار نے والمارٹ جیسی کمپنیوں کے سپرد کردیا ہے۔ ریٹیل میں ایف ڈی آئی سے کھیتی مزدوروں کی حالت میں بہتری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایک مطالع کے مطابق والمارٹ کی وجہ سے میکسیکو کے کھیتی مزدوروں کی حالت بدتر ہوئی ہے۔ جن علاقوں میں کارپوریٹ ریٹیل چلائے جاتے ہیں وہاں روزگار اور مزدوری پر مضر اثرات سے غریبی بڑھی ہے۔ امریکہ میں جہاں جہاں والمارٹ ہے وہاں غریبی بڑھی ہے۔ ایک سچائی یہ بھی ہے سپر مارکیٹ آپسی مقابلے سے بچتی ہیں اس کا خمیازہ کسانوں کو ہی بھگتنا پڑتا ہے کیونکہ سپر مارکیٹ سے انہیں کم قیمت پر مال بیچنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔چھوٹے کسانوں کو خوردہ قیمت پر 4 فیصدی سے بھی کم قیمت ملتی ہے۔ وہیں ریٹیل مارجن 34فیصدی سے اوپر ہے۔ بیشک ہمارے دیش میں کسانوں کو ملنے والی قیمت اور خوردہ قیمت کے فرق کو کم کیا جانا چاہئے لیکن اس کا قدم خوردہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں ہے۔ دودھ میں امول جیسی چیزوں میں کوآپریٹو کا استعمال کیا جاسکتا ہے تو غذائی پیداوار میں کیوں نہیں؟ کارپوریٹ ریٹیل کے بجائے مارکٹنگ کوآپریٹو کو بھی درست کیا جاسکتا ہے۔ سرکار کی دلیل یہ ہے کہ براہ راست غذائی سپلائی سے بچولیوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے جبکہ سچائی یہ ہے لاکھوں چھوٹے بچولیوں کی جگہ بڑے بچولئے لے لیں گے۔ غذائی پروسیسنگ فوڈ سکیورٹی فوڈ پیمانہ، پیکنگ، لیبلنگ و تقسیم کرنے والی بڑی کمپنیاں بطور ایڈوائزر نئے بچولئے بن کر اتریں گی۔اس کے پاس مول بھاؤ کی زبردست طاقت ہوگی۔ بھارت تمام طرح کے کاروبار ی سمجھوتے کررہا ہے جس سے فوڈ پروسیسنگ اور غیر فوڈ پروسیسنگ غذائی سامان کی درآمد پر لگنے والے ٹیکس ختم ہوجائیں گے۔ امریکہ اور یوروپ کا غذائی سامان بازاروں میں آجائے گا۔ اس سے کسانوں سے ان کا بازار چھن جائے گا۔ ظاہر ہے کھدرا سیکٹر میں ایف ڈی آئی جیسے فیصلے کو چھوٹے کسانوں کے حق میں موڑنے کے لئے تمام طرح کے قائدے قواعد کی ضرورت ہوگی کیونکہ بے لگام کمپنیاں کھیتی اور خوردہ بازار میں تباہی مچا سکتی ہیں۔
(انل نریندر)

سپریم کورٹ کے فیصلے سے سرکار کو راحت پر ذمہ داری سے نجات نہیں

سپریم کورٹ نے سرکار کو بڑی راحت دی ہے۔ یقینی طور سے صدر کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے سے حکومت نے راحت کی سانس لی ہوگی۔ عدالت کا کہنا ہے سبھی قدرتی وسائل کی تقسیم کے لئے نیلامی ضروری نہیں ہے۔ عدالت کا حکم صرف ٹو جی اسپیکٹرم تک محدود رہے گا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے مانا کے قدرتی وسائل کا بٹوارہ پالیسی ساز معاملہ ہے اور عدالت کو اس میں دخل سے تب تک بچنا چاہئے جب تک اس میں لوٹ یا گھپلے کا اندیشہ نہ ہو۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں ٹو جی اسپیکٹرم کے 122 لائسنس منسوخ کرنے کے معاملے میں صدارتی ریفرنس داخل کیا تھا۔ عدالت کے فیصلے سے ایک مشکل تو ضرور ہوگی کہ قدرتی وسائل کو ذاتی مفادات کے حوالے کرنے کی شکل کیا ہو، مفاد عامہ میں اسے طے کرنے کا اختیار صرف انتظامیہ کو ہے۔ اقتصادی اصلاحات کو رفتار دینے والے مجوزہ فیصلوں کے ریفرنس میں بھی اس کی اہمیت ہے۔ حالانکہ صدارتی ریفرنس پر آئینی بنچ کے ظاہر خیالات عدالتی فیصلوں میں رکاوٹ نہیں ہیں لیکن کسے معاملے پر غور کرتے وقت وہ اس سے رائے لے سکتی ہے۔ دراصل سپریم کورٹ کے ہی ایک فیصلے کے سبب پچھلے کچھ مہینوں سے ایسا مانا جانے لگا تھا کہ عدالت یا سی اے جی یا کوئی بھی بڑا آئینی ادارہ سرکار کے کام کاج کو ہی نہیں اس کی پالیسیوں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرسکتا ہے۔ گذشتہ فروری میں ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں سنائے گئے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کی ایک دو نفری بنچ نے ’پہلے آؤ پہلے پاؤ‘ کی بنیاد پر جاری کردہ 122 ٹیلی کوم لائسنس منسوخ کردئے تھے۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے اس نے یہ بھی کہا تھا کہ سرکار کے ذریعے کسی بھی قدرتی وسائل کو پرائیویٹ ہاتھوں میں بیچنے کا ایک واحد قانونی اور آئینی طریقہ شفافی طریقے سے اس کی نیلامی ہی ہو سکتی ہے۔ اس کے کچھ دن بعد سی اے جی نے کوئلہ بلاکوں کے الاٹمنٹ کو لیکر جاری اپنی رپورٹ میں یہ تبصرہ کیا تھا کہ ان کی نیلامی نہ کئے جانے سے سرکاری خزانے کو 1 لاکھ 84 ہزارکروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اب مرکز کے کئی وزیر سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کا حوالہ دیکر سی اے جی کو نصیحت کرنے میں لگ گئے ہیں۔ مانو نیلامی کا طریقہ ہی نہیں اپنایا گیا تو باقی جو کچھ ہوا وہ سب ٹھیک تھا اور اس پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی جبکہ سپریم کورٹ نے صرف آئینی تقاضے کی تشریح کی ہے۔ عدالت نے صاف کہا ہے کہ الاٹمنٹ ہر حال میں صاف ستھری ہونی چاہئے۔ اگر الاٹمنٹ کا طریقہ منمانا اور مرضی اور غلط ہے تو عدالت جائزہ لے سکتی ہے اس لئے سرکار کو جوابدہی سے کلی طور پر نجات نہیں ملی ہے اسے اپنے فیصلوں کے جواز کو ثابت کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہنا ہوگا۔ کبھی انہیں چنوتی دی جاسکتی ہے۔ عدلیہ کے دائرے میں لایا جاسکتا ہے۔ ساتھ ساتھ یہ ضرور ہے کہ شفافیت برتتے ہوئے ہر شکایت کا عدالت میں جائزہ لیا جاسکے یہ ضروری نہیں لگتا۔ سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے نے منمانی کیلئے ایک گلی چھوڑدی ہے۔ بہتر ہوتا سپریم کورٹ ایسے الاٹمنٹ کے لئے ایک وسیع پالیسی بنانے اور آئین سازیہ سے اس کی منظوری لینے کی ہدایت دیتی۔
(انل نریندر)