Translater

19 اپریل 2025

عازمین حج کا کوٹہ کیون منسوخ کیا !

کئی برس سے حج پر جانے کی حسرت رکھنے والے ایڈووکیٹ فیروز انصاری نے اس سال اپنی بیوی کے ساتھ حج پر جانے کی سبھی تیاریاں کر لی تھیں ۔انہوں نے ایک پرائیویٹ ٹوئر آپریٹر کو آٹھ لاکھ روپے بھی جمع کر وا دیے لیکن اب انہیں نہیں معلوم کہ وہ حج پر جاپائیں گے یا نہیں ۔دراصل اس سال سعودی عرب نے بھارت کے پرائیویٹ ٹویئر آپریٹروں کو ملنے والا حج کوٹہ منسوخ کر دیا گیا ہے ۔حالانکہ بھارت سرکار کی مداخلت کے بعد سعودی عرب حکومت پرائیویٹ ٹور آپریٹروں کے ذریعے حج پرجانے والے دس ہزار لوگوں کو حج ویز ا دینے کے لئے تیار ہو گئی ہے ۔بھارت نے اس سال تقریباً پونے دو لاکھ لوگ حج پر جانے والے تھے ۔حج کمیٹی آف انڈیا اور نجی ٹویئر آپریٹروں کے ذریعے ہندوستانی حج پر جاتے ہیں ۔ان میں سے قریب 1.22 لاکھ افراد حج کمیٹی کے ذریعے جاتے ہیں ۔جبکہ باقی (تقریباً 52500 پرائیویٹ آپریٹروں کے ذریعے حج پر جانے والے تھے۔سعودی حکومت نے اس سال پرائیویٹ آپریٹروں کا کوٹہ منسوخ کر دیا ہے ۔بھارت کے وزارت اقلیتی امور نے اس کے لئے پرائیویٹ آپریٹروں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔جبکہ آپریٹر اس کے لئے وزارت کی لاپرواہی کو ذمہ دار بتا رہے ہیں ۔دہلی حج کمیٹی کی چیئر پرسن کوثر جہاں کہتی ہیں جو لوگ حج کمیٹی کے ذریعے جانے والے عازمین حج متاثر نہیں ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزارت اقلیتی امور کی مداخلت کے بعد سعودی عرب سرکار نے دس ہزار عازمین کا کوٹہ کھولنے کے لئے رضامندی ظاہر کر دی ہے ۔اس سے حج پر جانے والے لوگوں کو بقدر راحت ضرور ملے گی ۔پرائیویٹ آپریٹروں کے ذریعے جانے والے ایک عازمین پر عام طور پر 7.5 لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے جو حج کمیٹی کے ذریعے جاتے ہیں ان کا خرچ کچھ کم آتا ہے دہلی حج کمیٹی کے مطابق ایک عازمین حج پر قریب تین لاکھ 80 ہزار روپے کا خرچ آتا ہے ۔حج کے دوران ان عازمین حج کو رہنے اور ان کی آمد ورفت کا انتظام حج کمیٹی ہی کرتی ہے ۔پرائیویٹ ٹویئر آپریٹر بھی کہتے ہیں کہ پرائیویٹ آپریٹروں کے ذڑیعے جانے والے ایک مسافر پر عام طور پر 7.5 لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے ۔یہ خرچ بہتر سہولیات لینے کی صورت میں 13 سے 15 لاکھ روپے پہنچ جاتا ہے ۔بھارت سرکار کے اعداد شمار کے مطابق سال 2024 میں بھارت سے قریب 1.40 لاکھ لوگ حج پر گئے تھے۔ سعودی عرب کسی دیش کی آبادی کے لحاظ سے حج پر جانے والے لوگوں کی تعداد مقررکرتا ہے ۔عام طور پر ایک ہزار مسلمانوں پر حج کے لئے ایک سیٹ دی جاتی ہے ۔سعودی عرب کی حکومت کے پرائیویٹ آپریٹروں کا کوٹہ منسوخ کرنے پر پی ڈی پی نیتا اور جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس فیصلے سے دیش بھر کے ٹویئر آپریٹروں اور حج پر جانے والے لوگوں کو پریشانی ہو رہی ہے ۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ بات چیت کرکے اس مسئلے کا فوری حل نکالیں ۔عمر عبداللہ نے کہا کہ52 ہزار ہندوستانی عازمین کا کوٹہ منسوخ ہونا جن میں سے زیادہ تر لوگ پیسہ دے چکے ہیں ۔بے حد پریشان کرنے والا فیصلہ ہے ۔وہیں بھارت کے وزارت اقلیتی امور نے اس کے لئے ٹویئر آپریٹروں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔ایک بیان میں وزارت نے کہا اقلیتی وزرارت نے حج کمیٹی کے ذریعے خاص کوٹہ کے تحت اس سا ل 122518 عازمین حج کے لئے انتظام کررہا ہے ۔اس میں فلائٹ اور آمد ورفت بھی شامل ہے۔آمدورفت و منیٰ میں کیمپ میں رہنے کا انتظام سمیت سبھی ضروری تیاریاں سعودی عرب کی ہدایت کے حساب سے پوری کر لی گئی ہیں ۔باقی کوٹہ روایتی طور سے پرائیویٹ آپریٹروں کو الاٹ کر دیا گیا تھا۔سعودی عرب کی گائیڈ لائنس میں تبدیلی کی وجہ سے وزرات نے 800 پرائیویٹ آپریٹروںکو 26 وائنڈ حج گروپ آپریٹروں (سی این جی او ) میں ملا دیا گیا تھا۔اور انہیں کافی پہلے ہی کوٹہ بھی الاٹ کر دیا گیا تھا۔حالانکہ کئی بار یاد دلانے کے باوجود سی این جی او سعودی عرب کی طرف سے مقررگائیڈ لائنس اور تفصیلات کو پوری نہیں کر پائے اورمنیٰ میں کیمپوں میں رہنے کی جگہ اور ٹرانسپورٹ کے لئے ضروری ٹھیکے پورے بھی کر پائے ۔سعودی عرب سرکار نے وقت پر ادائیگی نا ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ آپریٹروں کے کوٹے کو منسوخ کر دیا ہے ۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک ٹویئر آپریٹر نے بتایا کہ آپریٹروںنے وزارت میں پیسہ جمع کر ا دیا تھا اور انہیں لگ رہا تھا کہ وزارت ادائیگی کا انتظام کررہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس نوٹس میں واضح ہے کہ وزارت پیسہ اداکررہا ہے اور سعودی عرب کو پیمنٹ مل چکا ہے تو پھر جانے کیوں کوٹہ منسوخ کررہا ہے ۔منیٰ میں عازمین حج کے لئے زون بک کرنے کے لئے سعودی عرب نے پیمنٹ کی میعاد حد 14 فروری طے کر دی تھی یہ وقت پورا ہونے کے بعدہی کوٹہ منسوخ کیا گیا ہے ۔ (انل نریندر)

17 اپریل 2025

راشٹرپتی تین مہینے میں فیصلہ لیں!

ریاستی اسمبلیوں کے ذریعہ پاس بلوں پر رضا مندی روکنے میں گورنر کے ضمیر پر حدود طے کرنے والے اپنے 8 اپریل کے حکم کے بعد سپریم کورٹ نے ریاستی قانون کو بے میعاد کےلئے ملتوی کرنے کے صدر جمہوریہ کے اختیارات پر بھی روک لگا دی ہے ۔اس فیصلہ کا ہندوستانی سیاست پر سنگین اثر پڑنا طے ہے ۔خاص کر ہندوستان کے فیڈرل ڈھانچے میں مرکز اور ریاستوں کے درمیان توازن بہال کرنے میں یہ ریاستوں کے اختیارات کے حق میں ایک بہت ہی نتیجہ کن اور ریاستوں کی دور اندوزی سے قابل خیر مقدم فیصلہ مانا جائے گا ۔خاص کر ان اپوزیشن حکمراءریاستوں میں جہاں مرکز کی جانب سے اس بیجا استعمال کے الزامات لگتے رہے ہیں ۔سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کی ناتو گورنر اور نہ ہی صدر جمہوریہ کے پاس ریاستی اسمبلیوں کے ذریعہ پاس کسی بھی بل پر مکمل طور پر ویٹو کا استعمال کرنے کے بے کنٹرول اختیارات ہیں ۔اس نے گورنر کے لئے ایک مہینے کی میعاد حد کے بعد صدر کے کسی بل پر میٹنگ کے اختیار پر تین مہینے کی وقت میعاد طے کی تھی ۔عدم اتفاقی ہے تو اسمبلی کے ذریعہ گورنر کو لوٹائے گئے بلوں پر کارروائی کے لئے خانہ پوری اور وقت میعاد بھی طے کر دی گئی ہے ۔فیصلہ میں صاف کہا گیا ہے کے آئین کے آٹرکل 201 کے تحت اپنے کاموں کو نپٹانے میں صدر کو کوئی پاکٹ ویٹو یا مکمل ویٹو کا حق نہیں ہے ۔اپنے 415 صفحات کے فیصلہ میں جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس آر مہادیون نے یہ دور رس فیصلہ کیا ہے۔فیصلہ سے صاف ہے کے آئین کے مطابق اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے کے ایک چنی ہوئی حکومت اور لوگوں کی تمناﺅں کا احترام نہ کیا جائے۔یہ عوامی جمہوریت اور سرداری کا ایک بنیادی اشو ہے جس پر آئین کے ذریعہ ست سیاسی نظام کا قیام کیا گیا ہے ۔جہاں تمام اپوزیشن اس فیصلہ کا خیر مقدم کر رہی ہے وہیں زرائع کا کہنا ہے کے وہیں سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو لیکر مرکزی حکومت نظر ثانی عرضی داخل کرنے کی تیاری میں ہے۔سرکار کا خیال ہے کے صدر جمہوریہ اور گورنر جیسے آئینی عہدوں کے لئے میعاد حد مقرر کرنا عدلیہ کی حد سے باہر جا سکتا ہے۔سپریم عدالت کے اس فیصلہ پر قانون ماہرین کے بیچ بحث چھڑ گئی ہے اور وہ مستقبل کے آئینی بحران کو لیکر شش وپنج میں ہے۔کچھ ماہرین قانون کا خیال ہے کے جب گورنروں کے فیصلہ پر صدر کا کوئی رول نہیں ہے تو ان کو پارٹی کیوں بنایاگیا ؟آئینی اور قانونی ماہرین کے درمیان اس مثلے کر لیکر بحث چھڑ گئی ہے ۔کیا سپریم کورٹ اصل میں بھارت کے راشٹر پتی کو آدیش دے سکتا ہے ؟یہ سوال اس لئے بھی اہم ترین ہو گیا کیوں کے یہ شاید پہلی بار ہے جب عدلیہ نے سیدھے طور پر صدر جمہوریہ کو وقت میعاد طے کرنے سے متعلق ہدائت دی ہے۔کورٹ کو یہ مداخلت اس لئے کرنی پڑی کیونکہ گورنر اپنی آئینی حدود کو پار نہ کریں ۔ ان کا کہنا ہے یہ فیصلہ ایک طرح سے ڈسپلن پر مبنی قدم ہے جس سے دیگر گورنروں کو بھی ایک واضح پیغام ملے گاکے وی آئین کے دائرے میں رہ کر ہی کام کریں ۔یہ دلیل دی جا رہی ہے کے صدر جمہوریہ کوئی ایک عام سرکاری عہدے دار نہیں ہے بلکہ وہ دیش کا سربراہ ہے۔آئین کا سرپرست اور مسلح افواج کا سپریم کمانڈر ہے۔وہ وزیراعظم اور کبینیٹ کی سفارش اور مدد سے کام کرتا ہے ۔اگر کورٹ صدر جمہوریہ کو کوئی ہدایت دیتی ہے تو اس سے آئینی سسٹم پر سوال کھڑا ہو سکتا ہے،جس میں صدر جمہوریہ صرف ایگزیکٹیو کی صلاح پر کام کرتے ہیں اس سے یہ اندیشہ پر پیدا ہوتا ہے کے کیا کورٹ،منتظمہ ،اور عدلیہ کے درمیان کی لکشمن ریکھا کو پار کر رہی ہے ؟کیا سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے ذریعہ ایک نئے آئینی حالات تو نہیں بنا رہا ہے؟اگر صدر اس ہدایت کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو کیا اسے عدالت کی توحین کا قصوروار ٹھہرایا جاسکتا ہے ؟یہ ایک مشکل آئینی سوال ہے ۔دوسری جانب یہ ماننے والوں کی بھی کمی نہیں جو سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کا خیر مقدم کر رہے ہیں ۔اور جمہوریت کو صحیح سمت میں ہدایت دینے میں صحیح قدم مان رہے ہیں ۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کے اس فیصلہ سے جنتا میں عدلیہ کی آزادی اور منصفانہ رویہ کے تئیں بھروسہ بڑھے گا دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے ؟ (انل نریندر)

15 اپریل 2025

اسکولوں کی بڑھتی فیس!

اسکولوں میں منمانی فیس اضافہ کے خلاف الزام در الزام کا دور جاری ہے۔عام آدمی پارٹی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے درمیان دہلی حکومت نے پرائیویٹ اسکولوں کے اوڈٹ کرانے کا فیصلہ لیا ہے ۔وہیں وزیر تعلیم اشیش سود نے الزام لگایا ہے کے عام آدمی پارٹی کی سرکار کے دوران گھپلے کے بعد بھی اسکولوں نے فیس بڑھائی تھی۔وزیر تعلیم نے بتایا کے دہلی میں 1677 پرائیویٹ اسکول ہیں ان میں 335 سرکاری زمینوں پر بنے ہوئے ہیں جن کے لئے 1973 کے دہلی اسکول ایکٹ میں یہ قائیدہ ہے کے ریاستی حکومت سے فیس بڑھانے سے پہلے اجازت لینا ضروری ہے۔114 اسکول ایسے ہیں جن کی فیس بڑھانے کی اجازت لینے کے لئے کوئی ضروریت نہیں ہے ۔الزام لگایا کے دوارکا میں ایک پرائیویٹ اسکول نے گزشتہ 5 سال میں 20 ،13 ،9 ،8 ،7 فیصدی فیس بڑھائی ڈی ایم کاپسہیڑا کی رہنمائی میں اس اسکول کی تفتیش چل رہی ہے۔ عاپ حکومت کے عہد میں ایک اور پرائیویٹ اسکول نے 24-25 میں 36 فیصد فیس بڑھائی انہوںنے کہا ایک پرائیویٹ اسکول نے 15 کروڑ روپے خرچ دکھاکر گھوٹالہ کیا تھا ۔پھر بھی اس اسکول کو 20-23 میں 14 فیصدی فیس بڑھا دی ۔ہر برس 75 اسکولوں کا اوڈٹ ہوا ۔وزیر تعلیم نے بتایا کے اس سال 2024 میں پرائیویٹ اسکول اے کے ایس نے دہلی ہائی کورٹ نے صاف کر دیا تھا کے کسی بھی اسکول کی فیس بڑھانے سے پہلے محکمہ تعلیم سے منظوری لینا ضروری ہے ۔دوارکا کے نامی گرامی اسکول کو لیکر فیس بڑھانے کے معاملے میں جانچ جاری ہے ۔بچوں کے بیان درج کئے جا چکے ہیں ۔والدین کا الزام ہے کے غیر منظور فیس کی ادائیگی نہ کرنے پر تقریباً20 طلبا کو لائبریری میں بیٹھاکر نفسیاتی طور پر اذیت دی گئی ۔والدین نے کہا کے آخر یہ کب تک چلے گا ۔اسکول کے خلاف مناسب کارروائی ہونی چاہئے۔بڑھی ہوئی فیس کے خلاف احتجاج میں والدین کا الگ الگ اسکولوں کے باہر مظاہرے جاری ہیں۔دوارکا کے ایک نامی اسکول کے باہر بھی فیس اضافہ کے خلاف مظاہرہ جاری ہے ۔وہیں بڑھی فیس کی مخالفت کرنے پر والدین کو اب قانونی نوٹس بھیج رہے ہیں ۔اس میں اسکول کو بدنام کرنے کا الزام لگائے گئے ہیں ۔ایک اسکول کی انجمن کے عہدے دار نے بتایا کے فیس کے خلاف آواز اٹھانے پر 2 کروڑ روپے سے زیادہ قانونی نوٹس ملا ہے۔لیکن ہم ڈرےگے نہیں ۔اور انجمن کا احتجاج جاری رہے گا۔فیس اضافہ کا معاملہ صرف دہلی این سی آر تک ہی محدود نہیں ہے ۔دیش بھر کے پرائیویٹ اسکولوں میں فیس اضافہ کا اشو اٹھا ہوا ہے ۔لوکل وہیلس (ایک ریسرچ انجمن)کی جانب سے کرائے گئے ایک سروے میں 36 فیصد والدین نے بتایا کے پچھلے 3 برسوں نے ان کے بچوں کی اسکول فیس 80 فیصد تک بڑھائی گئی وہیں 8 فیصد نے بتایا کے اسکول فیس میں اس بھی زیادہ کا اضافہ ہوا ہے ۔یہ اضافی بغیر کسی واضح وجہ کی کیا گیا ۔وہیں 93 فیصد والدین کا کہنا تھا کے ان کی ریاستی حکومتیں اس اضافہ کو روکنے میں بری طرح ناقام رہی ہیں ۔سروے میں 309 ضلعوں میں 31 ہزار سے زیادہ والدین نے اپنی رائے رکھی ان میں سے 62 فیصد مرد اور 38 فیصد خواتین تھی۔رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کے کئی پیرنٹس اسکولوں کے فیس بڑھانے کے جواز پر بھی سوال کھڑے کر رہے ہیں ۔اے آئی پر مبنی ہوم لرننگ متابادل پر بھی غور کر ہے ہیں ۔یہ بھی تشویش بتائی جا رہی ہے کے اہم اور دیگر آمدنی والے طبقہ کے خاندان قرض لیکر بچوں کو پڑھا رہے ہیں ۔ہمیں اس بات کی خوشی ہے کے دہلی سرکار اور خاص کروزیر تعلیم آشیش سود نے اس برننگ اشو پر توجہ دی ہے ۔بڑھتی مہنگائی کے اس دور میں والدین کے لئے اپنی بچوں کو اچھی تعلیم دلانے کے لئے کتنی مشکل جتن کرنے پڑتے ہیں ۔ہم سمجھ سکتے ہیں کے قرضہ لیکر ،اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو اچھی تعلیم ملے اس کے لئے ان سے ہمیں ہم دردی اور ہم امید کرتے ہیں کے انہیں جلد راحت ملے گی۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...