Translater

05 دسمبر 2015

اسلامی اسٹیٹ کے دو سب سے بڑے دشمن نریندر مودی اور ولادیمیرپتن

دنیاکی سب سے خطرناک آتنکی تنظیم اسلامی اسٹیٹ (آئی ایس) کے خلاف عالمی ایک ماحول تیار کرنے میں اس وقت دو لیڈر سب سے زیادہ سرگرم ہے اور ان سے آئی ایس ان سے بہت پریشان ہے ان میں ایک ہیں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور دوسرے ہے روس کے صدر ولادیمیر پتن ۔ مودی کو عالمی اسٹیج جہاں موقعہ ملتا ہے وہ دہشت گردی کے خلاف ماحول تیار کرنے سے اپنی بات رکھنے سے نہیں چوکتے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی اسٹیٹ نے اب بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی ٹھانی ہے۔ اس خوفناک آتنکی تنظیم نے پہلی بار وزیراعظم نریندر مودی کا ذکر کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ ساؤتھ کٹر پسند ہندو راشٹروادی ہے اورہتھیاروں کی پوجا کرتے ہیں وہ( مودی ) اپنے لوگوں کو مسلمانوں سے لڑنے کے لئے تیار کررہے ہیں۔ ایک انگریزی اخبار کی خبر کے مطابق اسلامی اسٹیٹ نے آن لائن دستاویز ’’بلیک فیلنگس‘‘ میں کہا ہے کہ اسلامی اسٹیٹ اب عراق اور شام سے باہر اپنا اثر بڑھائے گا اب بھارت، پاکستان ، افغانستان ، بنگلہ دیش اور کئی دیگرملکوں کی طرف بڑھے گا۔ منگلوار کو جاری دستاویزات میں کہا ہے کہ بھارت میں ہندو کی تحریک بڑھ رہی ہے جو بیف کھانے والے مسلمانوں کو مار ڈالتی ہیں جو لوگ اس طرح کی تنظیموں کو بڑھاوا دے رہے ہیں وہ اپنے یہاں کی مستقبل کی لڑائی میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ہندو تنظیموں کی سیاسی ونگ پروپیگنڈہ کرتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی بھرتی کی جاسکے۔ یہ لوگ اپنے سب بڑے دشمن یعنی مسلمانوں سے لڑ سکے۔ دستاویز میں دعوی کیا گیا ہے کہ اسلامی اسٹیٹ کی لڑائی ہر دیش میں پھیلے گی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ڈیڑھ ارب مسلمان ہے ۔ وہ ہر زمین اور ہر جگہ اس کے لئے لڑیں گے اور نئے نظام کی یہ لڑائی آخر میں الدجال یعنی عیسی کے خلاف لڑائی میں تبدیل ہوجائے گی۔ اسلامی اسٹیٹ کے دستاویزات میں مسلمانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم اگر اپنے آپ کنفرٹ زون سے باہر نہیں نکلے تو نئے عالمی نظام کی بھینٹ چڑھ جاؤں گے۔ اور دبانے والے لوگوں کی غلامی منظور کرلوں گے یا پھر باہر نکلوں گے اور اپنے مذہب اور زندگی کو بچانے کے لئے لڑوں گے اس دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دنیا کے حکمرانوں کے خلاف بغاوت کھری کی جاسکتی ہے اس کے علاوہ چھپنے، بم برسانے اور سیکوریٹی ایجنسیوں کو ایک چکمہ دینے کی طریقوں کو ذکر کیا گیا ہے اسلامی اسٹیٹ کی سیاست ہے ماروں اور بھاگوں۔ اس سے دنیا آپ کو ڈھونڈ کے لئے کروڑوں ڈالر خرچ کرے گی اور لاکھوں پولیس والے اور جانچ کرنے والوں کو آپ کے پیچھے لگائے گی۔ اس سے نا صرف پیسہ گنوائیں گے بلکہ ان کے بڑے شہروں پر تالا بھی لگ سکتا ہے اور آتے ہیں روس اور اس کے صدر ولادیمیر پتن کے بارے میں انہوں نے اسلامی اسٹیٹ کے خلاف اعلان جنگ کررکھا ہے وہ امریکہ اور مغربی دیشوں کی طرح دوہری حکمت عملی نہیں کرتے اسی وجہ سے آئی ایس نے ایک روسی کمرشیل جہاز کو مار گرایا ہے۔ پتن آئی ایس پر دوہرا حملہ کررہے ہیں۔ ایک طرف تو روسی ہوائی فوج مسلسل آئی ایس کے ٹھکانوں پر بم برسا رہی ہے تو روسی بحریہ میزائلوں سے حملہ کررہی ہیں اور پتن آئی ایس اور ترکی کے اقتصادی تعلقات کا انکشاف کررہا ہے ترکی اور آئی ایس کے درمیان تیل کاروبار کو لے کرروس نے ثبوت پیش کئے ہیں۔ ساتھ ہی اس ناجائز دھندے سے ترکی صدر عیردوغن اور ان کے خاندان کو سیدھی اقتصادی مدد پہنچانے کی ثبوت ہونے کابھی دعوی کیا ہے۔ ماسکو میں وزارت دفاع نے بدھوار کو سیٹیلائٹ سے لی گئی کچھ تصویریں دکھائیں ان تصویروں میں شام اور عراق میں آئی ایس کے کنٹرول والے علاقوں سے تیل ٹینکر ترکی کی سرحد میں داخل ہوتے دکھائی پڑرہے ہیں۔ نائب وزیردفاع اینتولیہ اینتنوف نے کہا ہے کہ آئی ایس کے تیل کا سب سے بڑا ذخیرہ ترکی ہے ہمارے پاس دو اطلاعات ان کے مطابق عیردوغن اور ان کا خاندان اس ناجائز کاروبار میں سیدھے طورپر ملوث ہے اس نیٹ ورک کی مدد سے آئی ایس تیل کا کاروبار ترکی کے ساتھ انجام دے رہا ہے اور نیٹ ورک کے ذریعہ اسے ہتھیار اور ساز وسامان اور دوسری مدد مل رہی ہے۔ غور طلب ہے کہ 24نومبر کو سرائیلی مہم میں شامل روس کے ایک جنگی جہاز ترکی نے مار گرایا تھا اور پیر کو روسی صدر ولادیمیر پتن نے ترکی پر آئی ایس کے ساتھ تیل کاروبار کو بچانے کے لئے جہاز کو مار گرانے کا الزام لگایا تھا۔ عیر دوغن نے اگلے دن جوابی حملہ کرتے ہوئے روس کو اس کا ثبوت پیش کرنے کا چیلنج کیا تھا آئی ایس کے بڑھتے اثر کو روکنے کے لئے جہاں عراق اور شامی حکومت کھل کر زمینی لڑائی لڑرہی ہے وہ امریکہ سمیت مغربی ممالک جس میں فرانس اور ترکی بھی شامل ہے ابھی بھی دوہرا کھیل کھیل رہے ہیں۔ فرانس چونکہ نیٹوں کا ممبر ہے اس لئے وہ کھل کر امریکہ کی مخالفت نہیں کرپارہا ہے حالانکہ فرانس نے پیرس حملوں کے بعد آئی ایس کے ٹھکانوں پر مسلسل حملے کررہا ہے اب تو برطانیہ کے جہازوں نے بھی آئی ایس کے خلاف بمباری کرنے کااعلان کردیا ہے کل ملا کر یہی کہاجاسکتا ہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پتن اس وقت اسلامی اسٹیٹ کو سب سے زیادہ کھٹک رہے ہیں اور اس کاثبوت ہے وزیراعظم نریندر مودی پر سیدھا نشانہ لگانا۔
(انل نریندر)

04 دسمبر 2015

بھاجپا نیتا کی نہیں ایک اسٹیٹسمین کی تقریر

وزیراعظم نریندرمودی میں تقریر کرنے کافن ہے یہ ساری دنیا جاننے لگی ہیں۔ لیکن جو تقریرمودی نے پارلیمنٹ میں منگل کے روز راجیہ سبھا میں کی وہ واقعی قابل تعریف ہے انہوں نے کسی سیاسی پارٹی لیڈر کی حیثیت سے نہیں کی۔ بلکہ ایک اسٹیٹسمین کی طرح کی۔ آئین تعمیر کی کہانی بتانے کے بہانے وزیراعظم نے اپوزیشن کو مثبت سیاست کرنے کا پیغام دیا۔ کانگریس سمیت تمام لیڈروں کا دیش کی تعمیر میں اشتراق کو بتاتے ہوئے انہوں نے دوٹوک لفظوں میں کہا ہے کہ دیش میں تو تو میں میں سے نہیں بلکہ سب کے مثبت تعاون سے ہی چلتا ہے۔ اپوزیشن کے تئیں نرم موقف اپناتے ہوئے دیش میں عدم روادری ماحول ہونے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پی ایم نے صاف طورپر کہا ہے کہ کسی کے خلاف ظلم کی کوئی بھی واردات دیش اور سماج پر داغ ہے لہذا دیش کو ترقی کے راستے پر لے جانے سرکار میں برابری کے ساتھ پیار کا جذبہ بھی اہم ہے۔ اتحاد اور بھائی چارے سے ہی دیش آگے بڑھتا ہے۔ وزیراعظم نے اتحاد کامنتر دیتے ہوئے کہا کہ بھارت جیسے وراثت والے دیش میں بکھرنے کے کئی بہانے ہوسکتے ہیں، لیکن جڑنے کے موقع کم ہوتے ہیں۔ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم جڑنے کے موقع تلاش کرے۔ 
عدم رواداری کے اشو پر پی ا یم نے نااتفاقی رکھنے والے لوگوں کو پاکستان جانے جیسی تبصروں پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے صاف کیا دیش 125کروڑ عوام کی حب الوطنی پر سوال کھڑا نہیں کیاجاسکتا ہے نہ ہی دیش واسیوں کو بار بار اپنے دیش بھکتی کا ثبوت دینے کی ضرورت ہے۔ غور طلب ہے کہ پچھلے ہفتے لوک سبھا میں آئین پر بحث کے جواب میں پی ایم نے اپوزیشن کے تعاون دینے کی اپیل کی تھی۔ راجیہ سبھا کا مثبت کردار نبھانے پر زور دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ پارلیمنٹ کا کام کاج دونوں ایوانوں کے اشتراق پر منحصر کرتا ہے۔ وزیراعظم کا یہ بیان بھاجپا کی نظروں کی طاقت کی کمی کی وجہ سے راجیہ سبھا میں اٹکے گروتھ و سروس ٹیکس( جی ایس ٹی) اور آراضی تحویل بل کے سلسلے میں اہم مانا جاناچاہئے۔ وزیراعظم اس موقعہ پر ایک بھارت سریشتھ کا نعرہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ممبران میں آپس میں جڑنے کے موقعہ تلاشنے چاہئے یہ ان کی ذمہ داری بھی ہے۔ وزیراعظم کی یہ تقریر ان کے ذریعہ دیگر تقاریر میں سب سے زیادہ اچھی اس لئے لگی کہ انہوں نے، اپوزیشن، سماج اور دیش کو جڑنے کی بات کہی ۔ پچھلے کئی دنوں سے جو دیش میں عدم استحکام کا ماحول بنا ہوا ہے اس میں تھوڑی بہتری ہونے کی امید ہے۔ نریندر مودی نے بھاجپا نیتا کی شکل میں نہیں بلکہ صحیح معنوں میں بھارت کے وزیراعظم کی حیثیت سے پیغام دینے کی کوشش دی۔ جس کا خیرمقدم ہوناچاہئے۔
(انل نریندر)

گوگل کی مدد سے کیا قتل کا پلان تیار

گوگل کے درجنوں فائدے ہے لیکن کبھی کبھی ایسے قصے بھی سننے کو ملتے ہیں کہ گوگل کا کس طرح سے بے جا استعمال کیاجاتا ہے؟ مغربی دہلی کے راجوری گارڈن کے علاقے میں 24 سالہ ابھیشک بھاردواج نگلی زاہب میں اپنے گھر سے آن لائن ٹریول بزنس کرتا ہے اس کی شادی 27نومبر کو راجوری گارڈن کی باشندہ امیتا سے طے ہوئی تھی۔ امیتا پہلے اس کی ملازم ہوا کرتی تھی۔ ابھیشک اسے رجھانے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔ پچھلے سال امیتا کے والد پرتھوی پال بھاردو اج کا دیہانت ہوگیا تھا۔ امیتا کے گھر میں اس کی ماں وندنا چھوٹی بہن رادھیکا اور اس سے چھوٹا بھائی دیپانشو( 17 سال تھا) ابھیشیک پٹنہ کا باشندہ ہے شادی طے ہونے کے بعد 20 نومبر کو ابھیشیک امیتا اور اس ماں بہن کے ساتھ راجوری گارڈن مارکیٹ میں خریداری کے لئے گئی تھی۔ دیپانشو گھر پر تھا ابھیشیک نے شاپنگ کیلئے ان تینوں کو قرول باغ کے ایک جوہری کے شو روم پر بھیج دیا لیکن خود ان کے ساتھ نہیں گیا۔ کچھ دیر بعد وندنا کے دو بھتیجے نتن اور جتیند ان کے گھر پہنچ گئے گھر پر تالہ لگا ہوا تھا۔ دیپانشو کافون مل نہیں رہا تھا۔ انہوں نے وندنا کو ٹیلی فون کیا کہ باہر تالہ لگا دیکھ کر اور دیپانشو سے بات نہ ہونے پر وندنا نے رات ساڑھے دس بجے پی سی آر کو فون کیا پولیس ان کے گھر پہنچی گھر کے باہر وندنا امیتا اور رادھیکا اور نتین اور جتین کے ساتھ ابھیشیک بھی کھڑا تھا۔ پولیس نے تالا توڑا تو اندر جا کر دیکھا کہ گیس برنل کے چاروں بٹن کھلے ہوئے تھے اور کمروں میں آگ لگ کر بھج چکی تھی۔ دوسرے کمرے میں دیپانشو کی لاش پڑی تھی۔ اس کے سر کے پیچھے سے حملہ کیا گیا تھا گھر میں زیورات ، نقدی و قیمتی سامان موجود تھا پولیس نے پایا کہ گھر میں قاتل کی انٹری زبردستی نہیں ہوئی تھی۔ دیپانشو کو بچنے کی کوشش کب ہوئی موقعہ نہیں دیا تھا۔ پولیس نے واردات کے دوران ابھیشیک کے آنے جانے کے بارے میں جانچ کی تو شبہ کے دائرے میں آگیا اس نے گناہ قبول کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگایا ڈی سی پی کے مطابق ابھیشیک نے بتایا کہ وہ امیتا کے سامنے خود کو امیر دکھایا کرتا تھا۔ امیتا سے شادی کرنے کے لئے تیار ہوگئی تھی۔ وہ بہانے سے کئی بار قریب تیس لاکھ روپے لے چکا تھا۔ اب شادی تھی شاپنگ میں خرچ ہورہا تھا۔ اسے اپنی پول کھلنا ڈر ستا رہا تھاکہ وہ کسی بھی طرح شادی ٹالناچاہتا تھا۔ اس کے دیپانشو کا قتل اس مقصد سے کردیا کہ وہ شادی ملتوی کراناچاہتا تھا۔ ڈی سی پی کے مطابق ابھیشیک نے گوگل پرسرچ کر سوال کیا تھا کہ کسی کا مرڈر کر پکڑے جانے سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔ گوگل سے جواب ملنے پر اس نے پلان بنایا اور قتل کے بعد پردوں میں آگ لگا کر رسوئی گیس سلنڈر سے دھماکہ کردیا تو گھر اڑ جائے گا اس لئے اس نے قتل کا پلان بنایا اس سے ثبوت بھی نہیں ملے گا وہ امیتا اور اس کی بہن ماں کو زبردستی قرول باغ بھیج کر گھر پہنچا ۔ دیپانشو نے دروازے کا کھول دیا اس نے باہر والے کمرے سے ہتھوڑا اٹھایا اور دیپانشو کے کمرے میں لے جا کر پیچھے سے اس کے سر پر تین زور دار وار کردیئے۔ اس کے بعد دیپانشو کو کرکٹ بیٹ اس کے سر اورچہرے پر اور سینے پر زوردار حملہ کیا پولیس نے ہتھوڑا، خون اور ماچس برابروالے کمرے کی چھت سے برآمد کرلیا ہے۔ دیپانشو امیتا کا اکلوتا بھائی تھا۔
(انل نریندر)

03 دسمبر 2015

گلوبل وارمنگ اتفاق رائے بنانا انتہائی ضروری ہے!

فرانس کو دوہری کامیابی کے لئے مبارکباد! پہلی اسلامی اسٹیٹ کے ذریعے اتنے خطرناک آتنکی حملے کے بعد اس نے 180 ملکوں کے سربراہی مملکت ووزراء اعظم کو اپنے دیش میں چوٹی کانفرنس میں شرکت کرنے کی ہمت دکھائی جو اپنے آپ میں اسلامی اسٹیٹ کے منہ پر طمانچہ ہے۔ اوردوسری کے اس نے گلوبل وارمنگ سے نمٹنے کا راستہ تلاش کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے۔ گلوبل وارمنگ یعنی آب و ہوا کی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ دنیا بھر دہشت کا ماحول پیدا کررہا ہے۔ خوف یہ ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج جس رفتار سے بڑھ رہا ہے، اگر وہ جاری رہا تو مستقبل قریب میں زمین اور آس پاس کاپورا آب وہوا زون انسان سمیت سارے جانوروں ، پرندوں ، چرندوں کو جھلسا دے گا۔ اس میں کتنی خوفناک صورت حال پیدا ہوگی اس کاتصور کرنا بھی ڈرا دیتا ہے ابھی یہ حد صنعتی کرن دور کی شروعات کے پہلے کے درجہ حرارت 2ڈگری سلیس کو مانا گیا ہے۔ زمین اور اس کے آس پاس آب وہوا زون 5ڈگری سیلیس کی طرف بڑھ رہاہے۔ پچھلی دہائیوں کے دوران گلوبل وارمنگ کو لے کر کئی چوٹی کانفرنسیں ہوچکی ہیں۔ ریوڈی جینریو 1992، کیوٹہ 1997اور کوپن ہینگن 2009 کے اجلاسوں کے باوجود ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کے درمیان گیرین ہاؤس گیسوں کی کٹوتی کو لے کر کوئی عام رائے نہیں بن سکی۔ 
اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اپنی جوابدہی سے بچنا چاہتے ہیں اور وہ ترقی پذیر ملکوں سے برابری کی امید کرتے ہیں۔ ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے ترقی یافتہ ممالک کو صاف طور پر خبردار کرتے ہوئے کہاکہ اگر وہ بھارت جیسے ترقی پذیرملکوں پر اخراج کم کرنے کا بوجھ ڈالتے ہیں تو یہ اخلاقی طور سے غلط ہوگا۔ساجھہ لیکن الگ الگ ذمے داریوں کا اصول ہمارے اجتماعی کوشش کی بنیاد ہونی چاہئے۔ انہوں نے ترقی یافتہ ملکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تبدیلی ہوا کے خلاف لڑائی میں زیادہ بوجھ اٹھانے کے اپنے فرض کو ادا کریں۔ عالمی درجہ حرارت کو انڈسٹریل انقلاب سے پہلے کی سطح سے دو ڈگری سلیس سے زیادہ نہ رکھنے کا نشانہ پورا نہیں ہوسکتا۔ جب تک ترقی یافتہ ممالک فراغ دلی نہیں دکھاتے۔ یہ اچھی بات ہے کہ دنیا کے زیادہ تر ممالک اپنی طرف سے کاربن اخراج میں کٹوتی کا نشانہ طے کرچکے ہیں۔90 فیصد اخراج کرنے والے سبھی ممالک اس میں شامل ہے۔
یہ مستقبل کے تئیں امید جگاتا ہے کاربن اخراج کی کٹوتی کو لے کر ترقی یافتہ دیشوں کی نظر چین، بھارت، اور برازیل وغیرہ پر لگی ہے، جس کے بارے میں ان کاکہنا ہے کہ ان تین ابھرتی معیشتوں کو دی گئی چھوٹ کی وجہ سے ہی کیوٹہ اور اوپن ہینگن کے اجلاس کامیاب نہیں ہوسکے۔ بے شک چین میں اخراج کی سطح امریکہ کے بعد سب سے زیادہ ہے۔لیکن بھارت اور برازیل ترازوں کے پلڑے پر ایک ساتھ نہیں رکھے جاسکتے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ بھارت کا اخراج چین کے مقابلے میں آدھے سے بھی کم ہے لیکن اصل اشو یہ ہے کہ گلوبل وارمنگ کی مار سے کوئی بھی دیش بچ نہیں سکتا۔ یہ خطرہ کتنا قریب ہے اسی سے اندازہ لگا یا جاسکتا ہے۔کہ 2015 ممکنہ طورپر اب تک کا سب سے گرم سال ثابت ہونے جارہا ہے۔ سمجھنے کی یہ بھی ضرورت ہے کے گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی مار 100 سے زیادہ غریب اور چھوٹے دیشوں پر پڑ رہی ہے۔ جب تک ترقی یافتہ دیش ان قریب اور چھوٹے ملکوں اور ترقی پذیر ملکوں کے اعتراضات اور تجاویز پر توجہ نہیں دیتے۔ پیرس کا کوئی مثبت نتیجہ نکلنے کی امید کم ہی ہے۔
(انل نریندر)

وزیر انل وج نے آخر غلط کیا کہا؟

ہریانہ میں وزیر ایس پی تنازعہ پر کافی کچھ کہا جارہا ہے کہ اور بہت کچھ لکھا بھی جاچکا ہے اس تنازعہ پر تبصرہ کرنے سے پہلے میں قارئین کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اصل میں معاملہ کیا تھا؟ ہریانہ کی تکالیف ازالہ میٹنگ میں ریاست میں وزیر صحت انل وج اور آئی پی ایس افسر سنگیتا کالیہ میں تلخ بحث ہوگئی۔ واقعہ کچھ ایسا تھا عوام کی شکایت سن کر ان کا فورا ممکنہ حل کرنے کے لئے تشکیل کمیٹی کے چیئرمین و کیبنٹ وزیرانل وج کو کھلے اجلاس میں کسی نے شراب کی مبینہ اسمگلنگ کی شکایت کی تھی۔ معاملہ چونکہ پولیس محکمہ سے متعلق تھا۔ اس لئے ممکنہ طور پر وزیرموصوف نے بگل میں بیٹھی سنگیتا کالیہ سے رائے دینے کو کہا اس پر افسرنے اگرچہ سر کہہ کر تبصرہ یہ کہا کہ سچ ہے ان کے لہجہ میں ہریانوی اکھڑ پن سے زیادہ ایک اور سینئر جن سیوک سے توقع نر م گوئی اور وقار اور سادگی کی کمی تھی۔وزیر موصوف نے پوچھا کہ پولیس شراب کی اسمگلنگ کیوں نہیں روک پاتی؟ پولیس اسے نہ روک کر شراب نوشی کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ اس پر اعلی پولیس افسر سنگیتا کالیہ نے جواب دیا کہ بڑھاوا تو سرکار دے رہی ہیں۔ لائسنس دے کر؟ کیا آپ چاہتے ہیں ہم ’’انہیں ‘‘ اسمگلروں کو گولی مار دے؟ وج نے کہا اسمگلر صبح میں پکڑے جاتے ہیں اور شام کو چھوٹ جاتے ہیں اور پھر شراب بیچنے لگتے ہیں اس پر کیا ہم گولی مار دیں اس کا جواب ہماری سمجھ سے وزیرانل وج نے غلط سوال نہیں کیا تھا۔
اس کا جواب نرم گوئی سے دینا فرض بنتا تھا اس سے وزیر اور افسر میں کہاسنی ہوگئی اور وزیر نے کالیہ کو میٹنگ سے چلے جانے کو کہا تاکہ پولیس غیرموجودگی میں عوام کی شکایتیں سنی جاسکے۔ اسے ماننے سے سنگیتا کالیہ نے منع کردیا تو وزیرخود میٹنگ سے اٹھ کر چلے گئے۔ بعد میں ہریانہ سرکار نے سنگیتا کالیہ کا تبادلہ کردیا۔ وزیر موصوف کے اٹھ کر جاتے ہوئے بھی یہ افسر بیٹھی رہی کسی بھی جرم کے لئے شخصی طور سے وہ جوابدہ نہیں تھی۔ بھری میٹنگ میں وہ یہ بھی تو کہہ سکتی تھی، کہ سر شکایت سنگین ہے، میں اس کی جانچ کراؤں گی۔ اس کا ایسا نرم رویہ اس بات کو وہی ختم کردیتا۔ اس کا تبادلہ ہوگیا ہے۔ جمعہ جمعہ چار دنوں کی کھٹر سرکار جرائم کے لئے ذمہ دار نہیں ٹھہرائی جاسکتی ہے اور نہ ہی موجودہ پولیس مشینری۔ وہ خاتون افسر بھی حکومت و انتظامیہ کی ایک باعزت حصہ ہے۔ آئین سازیہ انتظامیہ کے درمیان ذرا سی بھی ان پن میڈیا اور عدلیہ کو چیلنج دے گی۔ اپوزیشن ٹانگ کھینچے گی اور جنتا تنگ کرے گی ہم پورے معاملے میں انل وج کو قصور وار نہیں مانتے بلا وجہ اس معاملے کو طول دیاجارہا ہے۔
(انل نریندر)

01 دسمبر 2015

فاروق عبداللہ کیوں بوکھلا گئے ہیں؟

فاروق عبداللہ صاحب کو کیا ہو گیا ہے؟ جب سارے ملک کی نگاہیں پارلیمنٹ میں آئین اور بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر پر ٹکی ہوئی تھیں اس درمیان فاروق نے ایک ایسا بیان دے دیا ہے جس کا نہ تو صحیح وقت تھا اور نہ ہی ایسے بیان کی کوئی ضرورت تھی. بہر حال فاروق صاحب ایسے بے تکے بیانات کے لئے مشہور ہیں. جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے سرپرست فاروق عبداللہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ پی اوکے یعنی پاک مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور اسی کے ساتھ رہے گا. انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پر بھارت کا کنٹرول ہے اور اسے کوئی لے نہیں سکتا. جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے معاملے پر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہندوستان کی ساری فوج مل کر بھی دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کے خلاف ڈیفنڈ نہیں کر سکتی. کشمیر میں جاری دہشت گردی پر انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں سے بات چیت کر مسئلے کا حل کرنا ہی اکیلا راستہ ہے، لیکن وہ نہیں کریں گے. فاروق صاحب نے پارلیمنٹ اور آئین دونوں کے وقار کو کم کر دیا ہے جو سخت قابل مذمت ہے. پاک مقبوضہ کشمیر آئینی طور پر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے جس پر پاکستان نے زبردستی قبضہ کر رکھا ہے. لیکن آئین کا حلف لے کر مرکز میں وزیر رہے، جموں و کشمیر کے وزیر اعلی رہے فاروق عبداللہ کو یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوئی کہ پاک مقبوضہ کشمیر پاکستان میں ہی رہے گا. ہم انہیں یاد دلانا چاہیں گے کہ 22 فروری، 1994 کو پارلیمنٹ نے پاک مقبوضہ کشمیر کو پاکستان اور چین سے واپس لینے متعلقہ تجویز متفقہ طور پر منظور کی تھی۔ کیا فاروق صاحب یہ نہیں جانتے کہ پاکستان نے غیر قانونی طریقے سے اس علاقے میں قبضہ کیا ہوا ہے اور وہاں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑرہی ہیں. کیا فاروق کو یہ بھی نہیں معلوم کہ پاکستان نے ایک حصہ چین کو غیر قانونی طریقے سے بیچ دیا ہے. ان سب پر فاروق کیوں نہیں کچھ بولتے؟ اب تو ساری دنیا جاننے لگی ہے کہ پاک مقبوضہ کشمیر دہشت گردوں کا گڑھ بن گیا ہے اور یہاں کے کیمپوں سے ہی ہندوستان پر دہشت گردانہ حملے ہوتے ہیں. اس طرح کے تبصرے فاروق نے پہلے بھی کی ہے. ہمیں تو اب شک ہونے لگا ہے کہ انہیں بھارتی آئین پر ایمان ہے بھی یا نہیں؟ ہم نے دیکھا ہے کہ چاہے فاروق عبداللہ ہوں، چاہے محبوبہ مفتی ہوں یہ جب بھی اقتدار سے باہر ہوتے ہیں ایسے اوٹ۔پٹانگ بیان دیتے ہیں. ان کو اقتدار کی اتنی عادت ہو جاتی ہے کہ اقتدار سے باہر وہ بوکھلا جاتے ہیں. فاروق عبداللہ نے ایسا بیان دے کر بیشک پاکستان اور جہادی تنظیموں کی واہ واہی لوٹ لی ہو پر اس میں شک ہے کہ ملک کے اندر انہیں اس پر کوئی حمایت ملے یا ہمدردی ملے.
انل نریندر

اسلامک اسٹیٹ کے خلاف کھلتے مسلم محاذ: کشمیر پر نظر

ایک طرف پیرس پر دہشت گرد تنظیم آئی ایس کے حملے کے بعد برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے، دوسری طرف مسلم ہی آئی ایس کے خلاف لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے ہیں. عراق اور شام کے ساتھ ہی پوری دنیا میں تباہی ڈھا رہے دہشت گرد آئی ایس کے خلاف اب مسلم سماج نے بھی مورچہ کھول دیا ہے. بھارت میں مسلم تھیولوجیکل طرف فتوی جاری کرنا، بھارت میں آئی ایس کی مخالفت میں مسلم تنظیموں کی طرف سے ریلیاں نکالنے کے بعد اب انڈونیشیا میں بھی یہ بڑے سطح پر کی جا رہی ہے. قابل ذکر ہے کہ انڈونیشیا دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا مسلم ملک ہے. یہاں کی ایک مشہور مسلم تنظیم نے آئی ایس کے نظریات کے خلاف جنگ چھیڑ دیا ہے. یہ ادارہ عالمی سطح پر بتائے گی کہ سچا جہاد کیا ہے اور کس طرح آئی ایس اسلام کے خلاف ہے. ندوۃ العلماء نام کی تنظیم نے جمعرات کو ایک فلم کے ساتھ اپنے عالمی مہم کی شروعات کی. اس فلم میں اسلام کی اصل اور ان کے اصولوں کے بارے میں بتایا گیا ہے. ادارے سے پانچ کروڑ سے زیادہ لوگ جڑے ہوئے ہیں. جہاں ساری دنیا میں آئی ایس کے خلاف ماحول بن رہا ہے وہیں ہمارے پڑوسی ملک میں جیش محمد جیسی دہشت گرد تنظیمیں آئی ایس سے اتحاد کرنے کی فراق میں ہیں. بھارتی سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق وادی کشمیر میں دہشت گردوں کی بنیاد ختم ہونے کے بعد جیش محمد اب نئی طاقت جٹا رہا ہے. پارٹی میں ان دنوں اس تنظیم کے تقریبا ایک درجن دہشت گرد سرگرم ہیں. جیش محمد کے سرغنہ مولانا مسعود اظہر نے پی او کے دہشت گرد تربیتی کیمپ دوبارہ فعال کیا ہے. گزشتہ دو سالوں سے پی اوکے میں لشکر طیبہ اور حزب مجاہدین کے ہی دہشت گرد تربیتی کیمپ فعال رہے ہیں. اب جیش محمد نے دہشت گردوں کی دراندازی کے لئے لانچنگ پیڈ پر تربیت شروع کیا ہے اور تربیت شدہ دہشت گردوں کو بھیجنا شروع کیا ہے. لشکر طیبہ اور جمادعت الدعوۃ کا بانی حافظ سعید بھی مسلسل سرحد سے ملحق دہشت گرد کیمپوں کے دورے کر دہشت گردوں کو بھارت پر حملے کرنے کے لئے بھڑکا رہا ہے. بی ایس ایف کے آئی جی راکیش شرما نے دعوی کیا کہ سیکورٹی ایجنسیوں کے پاس اس پختہ معلومات ہیں. انہوں نے کہا کہ 26/11 کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید پاکستانی سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے. ادھر مغربی ایشیا میں اسلامی اسٹیٹ کو کچلنے کے مقصد سے بڑافوجی محاذ کا حصہ بننے کے لئے امریکہ، روس اور فرانس ماحول بنا رہے ہیں وہیں پاکستانی نے کہا ہے کہ ہم علاقے سے باہر کسی بھی مہم کے لئے فوجی نہیں بھیجیں گے. فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہاکہ ہم نے پہلے ہی افغان سرحد ایک لاکھ 82 ہزار فوجی تعینات کئے ہیں. ہم اپنے علاقے سے باہر کسی بھی قسم کی بات چیت کے بارے میں سوچ نہیں رہے. دوسرے الفاظ میں پاکستان آئی ایس کے دہشت گردوں سے قطعی نہیں لڑے گا. آئی ایس کی میگزین دبک کے ایک مضمون کے مطابق بھارت میں وہ (القاعدہ) کشمیری نیشنلسٹ گروپوں کے ساتھ ہے. ان کی ہر سرگرمی صرف مذہبی سرگرمی پاکستانی فوج کے حکم پر طے ہوتی ہے. آئی ایس نے یہ بھی کہا کہ کشمیری دہشت گردوں کو القاعدہ کا بھی سپورٹ ہے. افغانستان، پاکستان، ترکمانستان اور شمال مغربی ہندوستان میں القاعدہ کے فعال ہونے کی بات بھی لکھی گئی ہے. آئی ایس کشمیر میں حملے کے لئے افغان اور پاک طالبان کے دہشت گردوں کو جمع کرنے کی کوشش میں ہے.
انل نریندر

29 نومبر 2015

راجینا کی شکایت :کیا یہ عدم رواداری نہیں ہے

گزشتہ کچھ دنوں سے دیش میں عدم رواداری پر تیکھے حملے ہورہے ہیں۔ حال ہی میں فلمی ستارے اور کروڑوں کے چہیتے عامرخاں نے بھی دیش میں عدم رواداری کے ماحول پر گھٹن محسوس کی اور یہاں تک کہہ دیا کہ ان کی پتی تو دیش چھوڑنے کی بات کررہی ہیں۔ اس عدم رواداری کیلئے مودی سرکار و اکثریتی طبقے کو الزام دیا جارہا ہے۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ دوسرے فرقوں میں جو عدم رواداری ،زیادتیاں ہورہی ہیں اس کے بارے میں نہ تو یہ مسلمانوں کے ٹھیکیدار ایک لفظ بول رہے ہیں اور نہ ہی کوئی علماء منہ کھول رہے ہیں۔ میں بات کررہا ہوں ایک خاتون مسلم صحافی وی پی راجینا کو ہراساں کئے جانے کی۔
صحافی وی پی راجینا نے مدرسوں میں ہورہی ہراسانی کے بارے میں فیس بک پر تبصرہ کیا تھا۔ صحافیہ نے اپنی فیس بک پوسٹ میں مدرسوں میں مبینہ طور پر ہونے والے بچوں کے جنسی استحصال کے خطرناک حالات بیان کئے تھے۔صحافیہ وی پی راجینا ایک ملیالم روزنامے میں کام کرتی ہیں۔راجینا نے اپنے بچپن کی یادوں کو ساجھا کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کس طرح سے مدرسوں میں لڑکے لڑکوں کی جنسی استحصال کیا جاتا ہے۔ راجینا نے مدرسوں میں ہورہے ان واقعات کے بارے میں ایتوار کو فیس بک پر تبصرہ کیاتھا جس کے بعد سے انہیں اپنے طبقے کے لوگوں کی سخت مخالف جھیلنی پڑ رہی ہے اور یہ مخالفت عریانیت اورجان کی دھمکی دینے تک پہنچ گئی ہے۔
راجینا نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے اپنے بچپن میں مدرسوں میں بچوں کے ساتھ ہونے والے جسمانی استحصال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ صحافیہ نے لکھا ہے کہ جب میں پہلی کلاس میں پہلی بار گئی تو مدرسے میں ادھیڑ عمر ٹیچر نے پہلے تو بچی کو کھڑا کیا اور بعد میں انہیں پینٹ کھول کر بیٹھنے کو کہا۔ اس کے بعد وہ سیٹ پر گیا اور بچوں سے چھیڑ چھاڑ کی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس نے یہ کام آخری طالبہ کو چھیڑنے کے بعد ہی بند کیا۔ ان کے اس پوسٹ کے بعد اب راجینا مسلم کٹر پنتھیوں کے نشانے پر آگئی ہیں اور انہیں بھاری مخالفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ راجینا اس سے پہلے بھی مسلم انتظامیہ کے ایک اسکول میں لڑکے لڑکیوں کے بیچ بھید بھاؤ کے خلاف آواز اٹھا چکی ہیں۔ رابطہ کرنے پرراجینا نے بتایا میرے فیس بک اکاؤنٹ کو بند کردیا گیا ہے، جو میں نے کہا تھا وہ کوئی غلط نہیں تھا بلکہ سچائی اور صرف سچائی ہی ہے۔راجینا نے بتایا کہ ان کی منشا پرسوال اٹھائے جارہے ہیں اور اسے مذہب پر حملے کے طور سے پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ہم ان مبینہ سیکولرسٹوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اب وہ کیوں چپی سادھے ہوئے ہیں؟کیا یہ عدم رواداری نہیں؟
(انل نریندر)

راجدھانی میں سب سے بڑی لوٹ،کیش گاڑی کا ڈرائیور22.50 کروڑ لے اڑا

جمعرات کو راجدھانی کی سب سے بڑی لوٹ کی واردات ہوئی۔ دہلی کے گووند پوری علاقے میں ایک نجی کمپنی کی نقدی ایک کیش وین سے لوٹ لی گئی۔ واردات کے وقت ڈرائیور کے ساتھ موجود گن مین پیشاب کرنے کیلئے گاڑی سے نیچے اترا تھا اسی درمیان وین کا ڈرائیور گاڑی لیکر فرار ہوگیا۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہیں سینئر پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے۔ وہیں کچھ ہی دیر بار گووند پوری میٹرو اسٹیشن کے پاس کیش وین لاوارث حالت میں کھڑی ملی۔ سبھی بکسے غائب تھے۔ لوکل پولیس کے علاوہ کرائم برانچ اور اسپیشل سیل کی ٹیم نے بھی جانچ شروع کردی۔ پولیس کے مطابق وکاس پوری علاقے میں ایکسس بینک کی برانچ سے نجی سکیورٹی کمپنی ایس آئی ایس (سکیورٹی انٹیلی جنس سروس) کے دو ملازم ڈرائیور پردیپ شکلا اور گن مین ونے پٹیل دوپہر3.30 بجے 8 بکسوں میں 22.50 کروڑ روپے لیکر نکلے تھے۔ کیش وین کو کمپنی کے اوکھلا فیس۔2 واقع دفتر آنا تھا۔ جیسے ہی یہ لوگ قریب 4.30 بجے گووند پوری علاقے کے اوکھلا منڈی کے پاس پہنچے گن مین نے پیشاب کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ونے کے اترتے ہی پردیپ شکلا کیش وین لے کر بھاگ گیا۔ پردیپ نے فرار ہوتے دیکھ کر فوراً کمپنی فون کردیا اور فوراً پولیس واقعہ کی جگہ پر پہنچ گئی۔اس لوٹ کی خبر سے ہڑکمپ مچنا قدرتی ہی تھا۔ آخر یہ دیش کی سب سے بڑی لوٹ تھی۔ پر دہلی پولیس نے شاندار کارروائی کرتے ہوئے ایک طرح سے چمتکار کردیا۔
جمعرات شام چوری ہوئی تو شکروار صبح اوکھلا انڈسٹریل ایریا میں واقع ایک گودام سے ڈرائیور پردیپ شکلا کو گرفتار کرلیا۔ اس کے پاس تقریباً سارا کیش بھی برآمد ہوگیا۔ حالانکہ رات بھر میں اس نے اس رقم میں سے11 ہزار روپے ضرور خرچ کئے۔ دہلی پولیس کی تاریخ میں یہ اب تک کی سب سے بڑی واردات تھی جس میں ایک جگہ پر اتنا بڑا کیش گیا اور محض12 گھنٹے کے اندر دہلی پولیس نے اس کیس کا پردہ فاش کردیا۔ابھی تک کی تحقیقات میں یہی بات نکل کر سامنے آئی ہے کہ یہ واردات صرف پردیپ شکلا کے دماغ کی پیداوار تھی۔ 
ملزم بنیادی طور پر بلیا یوپی کا رہنے والا ہے۔ اس سال ستمبر میں ہی اس نے ایس آئی ایس کمپنی میں بطور ڈرائیور نوکری جوائن کی تھی۔ آج کل وہ بیوی اور بچوں کے ساتھ ہرکیش نگر علاقے میں رہ رہا تھا۔ یہ چوری امانت میں خیانت کی تشریح کرتی ہے۔ پولیس نے شکلا پر دفعہ407 کے تحت کیس درج کیا ہے ،جو بھروسہ تھوڑے سے متعلق ہے۔ ہم دہلی پولیس کو اس شاندار کارکردگی پر بدھائی دینا چاہتے ہیں۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...