Translater

23 اگست 2014

دہلی میں صدر راج کے 6 مہینے پورے ہوئے ،اب آگے کیا؟

ارون کیجریوال کی قیادت والی عام آدمی پارٹی کی کل49 دنوں کی سرکار کے استعفے کے بعد صوبے میں گذشتہ فروری میں لگائے گئے صدر راج کو 6 مہینے پورے ہوچکے ہیں۔ فی الحال دہلی اسمبلی معطل رکھی ہوئی ہے اور کوئی بھی سرکار بننے کے آثار دکھائی نہیں پڑتے۔ سیاسی گلیاروں میں اب نئے سرے سے چناؤ کرائے جانے کی بحث زور پکڑنے لگی ہے۔ آپ کو بتادیں اسی سال14 فروری کو ’آپ‘ کی سرکار نے استعفیٰ دیا تھا اور17 فروری کو دہلی میں صدرراج لگادیا گیا۔1993ء میں دہلی اسمبلی کی تشکیل کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب یہاں صدرراج نافذ ہونے کی نوبت آئی ہے۔ خیال رہے اروند کیجریوال کے استعفے کے بعد لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے صدر پرنب مکھرجی سے دہلی میں صدر راج نافذ کرنے کی سفارش کی تھی لیکن انہوں نے اسمبلی معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا سیدھا مقصد یہ تھا کہ یہاں پر سرکار بننے کے امکانات موجود تھے لیکن سپریم کورٹ کی جواب طلبی کے باوجود مرکزی حکومت یا لیفٹیننٹ گورنر کی سطح پر سرکار کی تشکیل کو لیکر کوئی باقاعدہ کوشش نہیں کی گئی۔ مرکزی حکومت کو اگلے مہینے کے شروع میں ہیں سپریم کورٹ کو یہ بتانا ہوگا کہ راجدھانی میں سرکار بنانے کی سمت میں کیا پہل کی گئی۔ اصل میں اسمبلی کو معطل کر نئے سرے سے چناؤ کرانے کی مانگ کو لیکر عام آدمی پارٹی عدالت گئی ہوئی ہے اور آج بھی وہ دہلی میں نئے چناؤ کرانے کے لئے ماحول بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ دہلی میں سرکار یا چناؤ پر فیصلہ لینے میں جتنی دیری ہورہی ہے اتنا ہی بھاجپا کونقصان تیزی سے ہورہا ہے۔راشٹرپتی شاسن کے جاری رہنے سے مرکزی سرکار اور بھاجپا کو ایک ہی طرح کا انتظامیہ مانا جارہا ہے۔ اس کا بھاجپا کے مقامی ممبران اسمبلی اور نیتاؤں کو بھلے ہی فائدہ مل رہا ہو لیکن ساری ناکامی بھاجپا کے سر پر ڈالی جارہی ہے۔ بھاجپا لیڈر شپ پچھلے تین مہینے میں یہ نہیں طے کرپا رہی ہے کہ اس کو فائدہ سرکار بنانے سے ہوگا یا وسط مدتی چناؤ سے۔ اب جب امت شاہ نے بھاجپا کی کمان سنبھال لی ہے شاید فیصلہ ہوجائے۔ فیصلہ تو ویسے بھی اب کرنا ہوگا کیونکہ صدر راج کی میعاد ختم ہوگئی ہے۔ اگر چناؤ کا ہی فیصلہ ہوتا ہے تو اس کیلئے ضروری ہے کہ دہلی کے عوام کو یہ بھی پتہ چلے بھاجپا کا وزیر اعلی کا امیدوار کون ہوگا؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھاجپا ممبران اسمبلی کو اشارہ دے دیا گیا ہے کہ چناؤ فروری تک ہو سکتے ہیں اس لئے گھر گھر جا کر رابطہ قائم کریں جبکہ ایک گروپ کی شکایت یہ بھی ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر انہیں کوئی اہمیت نہیں دے رہے ہیں جس سے دقت آرہی ہے۔ دہلی میں صدر راج کے 6 مہینے پورے ہونے پر دونوں عام آدمی پارٹی کانگریس میں چناؤ کرانے کی مانگ تیز کردی ہے۔ دونوں کو لگتا ہے چناؤ میں اس کی پوزیشن پہلے سے بہتر ہوگی۔ اب فیصلہ بھاجپا کو کرنا ہے کہ اسے آگے کیا کرنا ہے؟
(انل نریندر)

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اشو پر کانگریس کی کرکری!

آخر کار لوک سبھا اسپیکر نے کانگریس کی یہ مانگ مسترد کردی کہ لوک سبھا میں اس کے لیڈرملکا ارجن کھڑگے کو اپوزیشن کے لیڈر کی حیثیت دی جائے۔16 ویں لوک سبھا میں لیڈر و اپوزیشن کی کرسی خالی ہی رہے گی۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے کانگریس کی تمام دلیلیں اور دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اس فیصلے سے کانگریس لیڈر شپ کو واقف کرادیا ہے۔ سمترا مہاجن نے کانگریس کواپوزیشن لیڈر کا درجہ نہ دئے جانے کے اپنے فیصلے کے بارے میں بتایا کہ میں نے قواعد اور روایت کا مطالعہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ کرنے سے پہلے اسپیکر نے اٹارنی جنرل مکل روہتگی کے نظریات بھی جانے، جنہوں نے کہا کانگریس کہ پاس ایوان میں وہ ضروری ممبروں کی تعداد نہیں ہے جس سے اسے لیڈر آف اپوزیشن کا درجہ دیا جا سکے۔ ظاہر ہے یہ حالت دیش کی اس سب سے پرانی پارٹی کیلئے خاصی توہین آمیز ہے جو زیادہ وقت تک مرکزی اقتدار پر قابض رہی لیکن اس کیلئے اگر سب سے زیادہ ذمہ دار کوئی ہے تو وہ خود کانگریس ہے۔ بہتر یہی ہوتا کہ لوک سبھا چناؤ میں کراری ہار اور 10 فیصد تک سیٹیں پانے میں ناکام رہی کانگریس اس عہدے کے لئے اپنا دعوی پیش نہیں کرتی۔ اسپیکر کا فیصلہ پارٹی سے بالاتر ہوتا ہے لیکن ہماری پارلیمانی سسٹم کی مضبوطی کے لئے شاید ٹھیک نہیں ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے کا اشو بجٹ اجلاس کی شروعات سے ہی کانگریس اور حکمراں پارٹی کے درمیان ٹکراؤ کا اشو بنا رہا لہٰذا اسپیکر نے اس معاملے میں نتیجے پر پہنچنے سے پہلے متعلقہ و قانونی ماہرین سے صلاح مشورہ کیا ہے۔ خبر ہے کہ لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے سونیا گاندھی کو خط لکھ کر کانگریس کی مانگ کو نامنظور کرنے کے پیچھے دو خاص وجوہات بیان کی ہیں ایک یہ کہ کانگریس لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کی ضروری شرط کو پوری نہیں کرتی۔ انہوں نے پارلیمانی بک کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس عہدے کے لئے لوک سبھا میں متعلقہ پارٹی کے پاس کم سے کم 10 فیصدی سیٹیں ہونا ضروری ہیں۔543 ممبری لوک سبھا میں کانگریس کے 44 ممبر ہیں جبکہ یہ تعداد لوک سبھا میں کل تعداد کی محض10 فیصد سے کم ہے۔ اسپیکر نے دوسری وجہ کے طور پر اٹارنی جنرل مکل روہتگی کی رائے کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں قانون داں بھی اس پارلیمانی روایت کی کتاب کو ہی اپنی سفارش کی بنیاد بنایا ہے لیکن1977 میں بنے لیڈر اپوزیشن کی تنخواہ بھتوں اور دیگر سہولیات سے متعلق قانون میں اس چلن کو ڈھیلا کرنے کی گنجائش رکھی تھی۔ اس قانون میں لوک سبھا میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے لیڈر کولیڈر آف ہاؤس ماننے کی بات کہی گئی ہے۔ اس میں کم از کم 10 سیٹوں کی کوئی شرط نہیں ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ آج کانگریس اپنے حق میں اس قانون کی دہائی دے رہی ہے لیکن اس نے خود اس کی تعمیل نہیں کی۔ راجیو گاندھی کو415 سیٹوں کے ساتھ اکثریت ملی تھی تب بھی اپوزیشن کی کوئی پارٹی 10 فیصد سیٹوں تک نہیں پہنچ پائی تھی اس وقت لوک سبھا میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی تیلگو دیسم ہوا کرتی تھی۔ اسی بنیاد پر وہ ایوان میں اپنے لیڈر پی اوپیندر کو لیڈر اپوزیشن کا درجہ دینے کی اپیل کرتی رہی لیکن اس کی نہ سنی گئی۔ تب بھی لوک سبھا اسپیکر حکمراں پارٹی کا رخ یکساں تھا۔ تب اس قانون کو کیوں نظر انداز کردیا گیا جو پہلے بن چکا تھا؟ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ 10 فیصدی کی شرط کی وجہ سے ہی پہلے عام چناؤ کے تقریباً17 سال بعد تک اپوزیشن لیڈر کی کرسی خالی رہی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ1977ء میں بنے جس قانون کی بنیاد پر کانگریس اپنی دعویداری پیش کرتی رہی خود اس کے عہد میں 1980 اور84 میں تشکیل لوک سبھاؤں میں سب سے بڑی پارٹی کوا پوزیشن لیڈر کے عہدے سے محروم رکھا گیا۔ کہا جاسکتا ہے کہ اس معاملے میں کانگریس نے ہی فصل کاٹی جو اس نے خود بوئی تھی۔ اب کسی قسم کی تنقید کے بجائے اسے اسپیکر کے فیصلے کو ماننا چاہئے اور اس کڑوی سیاسی غلطی کا اعتراف کرنا چاہئے۔ بہرحال سوال یہ بھی ہے کہ نیتا اپوزیشن کی غیر موجودگی میں چیف انفارمیشن کمشنر مرکزی ویجی لنس کمشنر اور لوک پال کے انتخاب کی کارروائی میں مشکل آسکتی ہے۔
(انل نریندر)

22 اگست 2014

مودی کاپاکستان کو کرارا جواب ہی بات چیت منسوخ ہونے کا سبب!

نریندر مودی سرکار نے پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کے ذریعے حریت کے لیڈروں سے ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے خارجہ سکریٹریوں کی بات چیت کو منسوخ کرکے پاکستان کو سخت اور صحیح پیغام دیا ہے۔ حکومت ہند کی ناراضگی اور احتجاج کے باوجود پاک ہائی کمشنر عبدالباسط نے منگل کو کشمیری علیحدگی پسندوں سے ملاقات کا سلسلہ جاری رکھا۔ حکومت کا پیغام صاف ہے کہ پاکستان کو چنی ہوئی سرکار اور علیحدگی پسندوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ مودی سرکار کا یہ موقف پچھلی تمام حکومتوں سے الگ ہے جو پاکستانی لیڈروں اور سفارتکاروں سے کشمیری علیحدگی پسند لیڈروں سے ڈپلومیٹ سے ملاقات کی مخالفت تو کرتی تھیں مگر ان ملاقاتوں پر کوئی خاص توجہ نہیں دیا کرتی تھیں۔ دراصل پاکستان کی کشمیر ایک مجبوری ہے اور یہ پاکستان کی یکجہتی اور سالمیت کے لئے ضروری ہے کیونکہ یہی ایک سیمنٹ کی طرح کام کرتی ہے۔ کشمیر کا راگ پاکستان نے ہمیشہ اٹھایا ہے ، اس تنازعے سے پاکستان کئی ٹکڑوں میں بنٹ سکتا ہے لیکن ہمیں آج تک یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ سابقہ حکومتیں ان حریت لیڈروں کو اتنی اہمیت کیوں دیتی آرہی ہیں؟ کھلے عام کشمیر کو آزاد کرانے کی بات کرتے ہیں۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ یہ آئی ایس آئی کے ٹکڑوں پر ایسی بات کرنے کیلئے پلتے ہیں۔ آج تک انہوں نے نہ تو کوئی اسمبلی چناؤ لڑا ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ کا۔ ان کی کشمیری عوام پر بھی کوئی خاص پکڑ نہیں پھر بھی حکومت ہند انہیں وی آئی پی اہمیت کیوں دیتی ہے؟ انہیں بھارت سرکار نے پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز دے رکھے ہیں، کیوں؟ یہ تو خود آتنک وادی علیحدگی پسندوں کے حمایتی ہیں یہ سکیورٹی بلا تاخیر ختم کی جانی چاہئے۔ اگر یہ کشمیری عوام کے نمائندے ہیں تو انہیں ڈر کس کا ہے؟ ہمیں پاکستان کے بارے میں ایک دو باتیں سمجھنی ہوں گی کہ آتنک واد کو بڑھاوا دینا، بھارت میں درپردہ لڑائی چھیڑنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے۔ پاکستان میں سرکار کوئی بھی آئے وہ راگ ہمیشہ کشمیر کا ضرور گاتی ہے اور جب تک پاکستان بھارت کے خلاف یہ درپردہ جنگ ختم نہیں کرتا دونوں ملکوں کے بیچ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ یہ سوال بھی کم اہمیت کا حامل نہیں کہ پاکستان میں سیاسی باگ ڈور کس کے ہاتھوں میں ہے؟ یہ کسی سے چھپا نہیں کہ پاکستان کی پالیسی وہاں کی فوج تیار کرتی ہے اور آئی ایس آئی ہر قیمت پر نہ تو کشمیر کا راگ چھیڑنے سے باز آئے گی اور نہ ہی اپنی درپردہ جنگ بند کرے گی۔ پھر آج کل تو نواز شریف کی کرسی خود ڈگمگا رہی ہے۔ گھریلو مشکلات سے توجہ ہٹانے کے لئے بھی شریف سرکار نے حریت لیڈروں سے بھارت سرکار کے خلاف جاکر ملاقات کی۔ مودی نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا لیکن پاکستان نے ثابت کردیا کہ وہ اس کے قابل نہیں۔ اب مودی کا چانٹا پڑا ہے تو وہ تلملا اٹھی ہے۔ 
پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان ہوئے تمام فیصلوں کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے۔ 1972ء میں اندرا گاندھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان شملہ معاہدہ ہوا تھا۔1999ء میں اٹل بہاری واجپئی اور اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان بھی لاہور اعلانیہ جاری ہوا تھا۔ دونوں میں یہ صاف لکھا ہوا ہے کہ دونوں ملکوں آپسی مسائل کو آپس میں مل کر حل کریں گے پھر یہ تیسرا فریق یعنی حریت بیچ میں کہاں سے آجاتی ہے۔ آخر بھارت اسے برداشت کیوں کرتا ہے؟26 مئی کو نواز شریف نے جب مودی کی حلف برداری تقریب میں شرکت کی تھی تو انہوں نے دوستی کی بات کی تھی۔ اس ملاقات میں کسی حریت لیڈر سے ملنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ بھارت کو بھروسہ ہوا تھا کہ دوستی کا ماحول بنا ہے لیکن حریت لیڈروں سے مل کر پاکستان نے دوستی کا ماحول ختم کردیا ہے۔ ہمیں سمجھ میں نہیں آتا ان لیڈروں سے ملنے سے پاکستان کو کیا حاصل ہوتا ہے؟ ان میں نہ تو کوئی اتحاد ہے اور نہ ہی وفاداری۔ دہلی میں پاکستان ہائی کمشنر سے الگ الگ ملتے ہیں کیوں؟ ایسا نہیں ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے بلکہ ہوسکتے ہیں لیکن اس کے لئے کچھ باتیں ضروری ہیں۔ پہلی دونوں ملکوں کی بڑی قیادت میں ایک دوسرے کے تئیں بھائی چارگی ہو اور دونوں اپنے اپنے ملکوں کی عوام میں وسیع بنیاد والے ہوں اور دونوں کو اپنے اپنے دیش میں کسی اور طاقت سے ڈر نہ ہو۔ جہاں تک سینئر قیادت میں بھاری چارگی کا سوال ہے تو نواز شریف کے بارے میں بھارت میں اچھی رائے ہے اور مودی کو شریف سے کوئی پرہیز نہیں ہے لیکن جہاں تک دوسری بات ہے یعنی اپنے دیش میں وسیع بنیاد میں تو کوئی شبہ نہیں ہے کہ نواز شریف پاکستانی فوج کی مرضی کے خلاف ایک پتتا بھی نہیں ہلا سکتے کسی طرح کا سمجھوتہ کرنا تو دور کی بات ہے۔ پاکستان میں بھارت کے تئیں کسی بھی سفارتی مسئلے کو ہری جھنڈی فوج کے ہاتھ سے دی جاتی ہے۔ دراصل ہماری رائے میں دونوں ملکوں کے درمیان مسائل سے زیادہ نظریاتی رکاوٹ ہے۔ 
بھارت ۔پاک سے تعلقات بنانا چاہے بھی تو پاکستانی آئیڈیا لوجی ایسی ہے جو بھارت کو پاکستان سے دور رکھنے کے لئے مجبور کرتی ہے۔ نواز شریف کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں وہ پاکستان میں اقتدار کا اکیلا مرکز نہیں ہیں۔ ان کے خلاف ابھی عمران خاں اور مولانا طاہر القادری نے بھی محاذ کھول رکھا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی فوج و آئی ایس آئی کے ساتھ کٹر پنتھی جہادیوں کا دبدبہ الگ ہے۔ یقینی طور پر اس واقعہ کے پس منظر میں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ایسے وقت جب دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا عمل پٹری پر لوٹتا دکھائی دے رہا تھا تب پاکستان کی طرف سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کرکے بھڑکانے والی کارروائی جاری ہے۔ دراصل پاکستان میں ایسی طاقتیں کم نہیں ہیں جو کبھی نہیں چاہتیں کہ دونوں ملکوں کی جمہوری سرکاری امن عمل کی طرف آگے بڑھیں۔ اچھے رشتوں کی تمنا لائق خیر مقدم ہے مگر اسے سرکار کے ذریعے عمل کراناتبھی ممکن ہوگا جب دوسرا فریق بھی اس کے لئے ایماندارانہ رویہ اپنائے؟
(انل نریندر)

21 اگست 2014

اس شرمناک ہار کے بعد کچھ سخت فیصلے لینے کا وقت!

ٹیم انڈیا نے انگلینڈ کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز میں شرمناک ہار نے دیش کو ہی شرمسار کردیا ہے۔ ٹیم انڈیا نے سیریز تو کھوئی ہے ساتھ ہی عزت بھی گنوا دی۔ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے لیکن بھارتیہ کرکٹ ٹیم نے بڑھت لینے کے بعد جس انداز میں انگلینڈ ٹیم سے پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کو 3-1 سے گنوایا ، وہ کافی شرمناک اور چونکانے والا واقعہ ہے۔ ہندوستانی بلے بازوں نے انگلینڈ کے خلاف پانچویں اور آخری ٹیسٹ میں جس طرح ہتھیار ڈالے اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔بھارتیہ ٹیم 40 سال پہلے یعنی1974 میں انگلینڈ سے لاڈس کے میدان میں پاری اور 255 رن سے ہاری تھی۔ اس کے بعد یہ ہندوستانی ٹیم کی سب سے شرمناک ہار ہے۔ اس شرمناک کھیل کے بعد اب تنقید کا دور شروع ہونا فطری بات ہے۔ سنیل گواسکر تو ٹیم کے خراب کھیل سے کافی ناراض ہیں۔ انہوں نے کہا اگر آپ بھارت کے لئے ٹیسٹ نہیں کھیلنا چاہتے تو اسے چھوڑدیں۔ صرف محدود اووروں کی کرکٹ کھیلوں ،آپ کو اس طرح دیش کو شرمسار نہیں کرنا چاہئے۔ سابق کپتان اجیت واڈیکرنے کہا کہ لارڈس کی مشکل پچ پر ہمارے جیتنے کے بعد کوچ فلیچر وہاں کیا کررہے تھے؟ دھونی کے سلسلے میں ان کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی تکنیک میں تبدیلی کی ہے اور اچھی بلے بازی کی لیکن مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کپتان کی شکل میں اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کیوں نہیں کرتے؟ سابق اور بڑے بلے باز جی وشواناتھ بھی کہتے ہیں کہ مشکل وقت میں دھونی امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے کرشمے سے ہی ٹیم کو کھڑا کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ میں ان کی وکٹ کیپنگ اور کپتانی سے بھی خوش نہیں ہوں۔ اس کا اپنا دماغ ہے وہ ہمیشہ چیزوں کو دوہراتا ہے۔ سابق کرکٹر دلیپ وینگسرکر کا کہنا ہے کہ دھونی نے ٹیم کی رہنمائی اچھی طرح سے نہیں کی اور اس کی سلیکشن پالیسی اور حکمت عملی اور میدان کی سجاوٹ اور گیند بازی میں تبدیلی میں کچھ عام کمی دیکھی گئی ہے۔ سوروگانگولی نے کہا کہ سلیکٹروں کو اب اپنا نظریہ بدلنا ہوگا اور کچھ سخت فیصلے لینے ہوں گے۔ دراصل دھونی کے ٹیسٹ کپتان کی شکل میں ان کے ٹیلنٹ پرسوال کھڑے ہورہے ہیں۔ انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے ٹوئٹر پر توہین آمیز تبصرہ کرکے ٹیم کو نچلے درجے کا بتایا۔ غور سے دیکھیں تو ہمارا ٹاپ بیٹنگ آرڈر اس سیریز میں شروع سے ہی لاچار ثابت ہوا۔ لارڈس کی پہلی رننگ کے بعد سے مسلسل ہمارا اسکور نیچے آتا رہا ہے اور آخری پاری میں ہماری ٹیم 29.2 اوور میں ہیں محض 94 رن بنا کر ڈھیر ہوگئی۔ اگر آخری پانچ اننگ کا حساب دیکھیں تو ٹیم انڈیا نے سبھی50 وکٹ کھو کر صرف733 رن بنائے یعنی فی پاری150 رن سے بھی کم۔ ٹیم کے ذریعے آزمائے گئے کل 7 اسپیشل بلے بازوں میں صرف مرلی وجے، دھونی کے علاوہ ابھینے رہانے ہی کچھ رن بنا سکے۔ شیکھر دھون، گوتم گمبھیر، وراٹ کوہلی اور شیکھر پجارا نے بری طرح مایوس کیا ہے۔ یہ صرف ایک سیریز کا معاملہ نہیں ہے۔ کوچ گیری کسٹن نے اپنے وقت میں ٹیم کو جن بلندیوں پر پہنچایا اس کی کوئی جھلک اس ٹیم میں نہیں دکھائی دی۔ ٹیم انڈیا غیر ملکی سرزمین پر 2011 کے بعد سے 13 ٹیسٹ ہار چکی ہے اور کوچ ان خامیوں کو دور نہیں کرا پارہے ہیں تو ان کے بنے رہنے کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا۔بات کپتان مہندر سنگھ دھونی پر بھی عائد ہوتی ہے ۔ انہیں خود ہی اپنی ناکامیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ٹیسٹ کپتانی چھوڑ دینی چاہئے اور کہا بھی جارہا ہے کہ کھلاڑیوں کا ون ڈے کرکٹ کو لیکر بنا دبدبہ انہیں ٹیسٹ کرکٹ میں کامیاب نہیں ہونے دے رہا ہے۔ یہ بی سی سی آئی کی سلیکشن کمیٹی کا فرض بنتا ہے کہ وہ کھلاڑیوں سے کھل کر پوچھے کہ کون ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلنا چاہتا اور ایسے کھلاڑیوں کو باہر کا راستہ دکھائے۔ وہ ٹیسٹ میں انہی کرکٹروں پر بھروسہ کرے جو کھیل کے اس خاکے کیلئے کارگر ہوں۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ کپتانی کے محاذ پر مہندر دھونی کا متبادل کوئی فی الحال نظر نہیں آرہا ہے۔ وراٹ کوہلی سے امید تھی لیکن وہ اس ٹور میں بری طرح فلاپ ہوئے ہیں اور ان سے بھروسہ اٹھ گیا ہے۔ جلد ہی ہمیں کچھ نہیں سیریز کھیلنی ہیں ۔ فروری میں ورلڈ کپ بچانے کی جنگ لڑنی ہے، ایسے میں دھونی کو اپنی ٹیم کا اعتماد لوٹانا ہوگا تاکہ ہم 13 ویں بار تین دن میں ٹیسٹ گنوانے کے صدمے سے باہر نکل سکیں۔ بی سی سی آئی میں پیسہ اور اقتدار کا اتنا بڑا کھیل چلتا ہے کہ وہ اپنا سب سے ضروری فرض بھول گئے ہیں۔ پیسے سے زیادہ کرکٹ پر توجہ دینی ہوگی جس کا گرتا معیار سبھی کیلئے باعث تشویش بنتا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

25 سال سے لٹکاہوا ہے بری فوج کیلئے M-777 توپوں کا سودا!

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی تقریروں میں ایک بار کہی تھی کہ بھارت کو ڈیفنس سیکٹر میں خود کفیل ہونا پڑے گا۔ ان کے اس نظریئے کا خیر مقدم ہونا چاہئے۔ ہمیں اربوں روپے ڈیفنس سامان منگانے میں خرچ کرنے پڑتے ہیں اور پھر بھی دوسرے ملکوں کے محتاج رہتے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ بری فوج کو بوفورس توپوں کے بعد 25برسوں میں کوئی نئی توپیں نہیں ملی ہیں۔اب اور انتظار کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ 145 الٹرا لائٹ ہووتزر توپوں کی خرید کے معاملے میں امریکہ نے پیسہ بڑھا دیا ہے۔ اس کے بعد بھارت نے اسے بتادیا ہے توپوں کو خرید پانا اب اس کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔ M-777 ہووتزر توپوں کا سودا 2013ء کے شروع میں ہونا تھا۔ تب ان پر لاگت 3600 کروڑ روپے آنے والی تھی لیکن منموہن سنگھ کی یوپی اے سرکار نے کوئی فیصلہ نہیں لیا اور امریکہ نے اگست 2013ء میں توپوں کی قیمت میں 300 کروڑ روپے کا اضافہ کردیا۔ امریکی گروپ کی دلیل ہے کہ توپوں کی نئی پیداوار یونٹ آرڈر نہ ہونے کی بات بند کردی گئی ہے ایسے میں اسے پھر سے شروع کرنے میں مزید پیسہ لگانا پڑے گا اور اس کی مار توپوں کے خریدار بھارت کو جھیلنی پڑے گی۔ وہیں بھارت کا کہنا ہے کہ جب سودے کی بات چیت جاری ہو تو قیمت بڑھا دینا صحیح نہیں ہے اور نتیجہ یہ ہوا توپوں کا سودا 25 برسوں سے لٹکا ہوا ہے۔ گھریلو ڈیفنس پروڈکٹ صنعت کو بڑھاوا دینے کے لئے مودی حکومت نے حال ہی میں دیش کی پرائیویٹ کمپنیوں کو غیر ملکی سانجھیداروں سے مل کر ایئر فورس کے لئے 56 ٹرانسپورٹ جہاز بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ ایئر فورس کے 40 سال پرانے جہازوں کی جگہ انہیں شامل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے 21 ہزار کروڑ روپے کے دفاع سازو سامان خرید کے پرپوزل کو بھی منظوری دی۔ ان میں جنگی بیڑے، گشتی جہازوں اور ملکی ہیلی کاپٹروں کی خرید شامل ہے۔ ٹرانسپورٹ جہاز بنانے کے پروجیکٹ سے ایچ اے ایل اور وی ای ایم ایل جیسی سرکاری کمپنیوں کو دور رکھے جانے پر اس وقت کے بھاری صنعتوں کے وزیرپرفل پٹیل کے اعتراض پر سابقہ سرکار فیصلے نہیں لے پائی تھی۔ نئی سرکار کے وزارت قانون نے اسے ہری جھنڈی ملنے کے بعد بنیادی پرپوزل کو آگے بڑھانے کا فیصلہ لیا ہے۔ وزیر دفاع ارون جیٹلی کی سربراہی میں ڈیفنس خریداری کونسل (ڈی اے سی) کی تین گھنٹے چلی ہنگامی میٹنگ میں اس پرپوزل کو منظوری دی گئی۔ مودی حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم ہونا چاہئے۔ ہماری ڈیفنس فورسز کو ضروری ہتھیاروں کی کمی سے پریشان ہونا پڑ رہا ہے۔ منموہن سرکار کوتو نہ جانے کیا ہوا جیسے اسے لقوہ مار گیا تھا وہ کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی تھی۔ ایک دیگر خبرکے مطابق ہندوستانی تکنالوجی انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں نے کمپیوٹر سے تیار ایسا بے انسان چھوٹا ہوائی جہاز( ڈرون) بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے جو سرحد کی تو نگرانی کرے گا ہی بلکہ فساد زدہ علاقوں میں ہونے والے واقعات کی روک تھام میں بھی انتظامیہ کی مدد کرے گا۔ اس بے پائلٹ جہاز کی خاصیت اسکی طاقت اور ویڈیو کیمرہ ہے جو کنٹرول روم میں پورے علاقے کی ویڈیو فلم بھیجتا ہے۔ یہ جہاز کار میں رکھ کر کہیں بھی لے جایا جاسکتا ہے۔
(انل نریندر)

20 اگست 2014

دیکھیں امت شاہ کی ٹیم کیا کلیور دکھاتی ہے؟

اپنی تاجپوشی پر پارٹی کی قومی کونسل کی مہر لگنے کے ہفتے بھر بعدبھاجپا کے نئے پردھان امت شاہ نے اپنی ٹیم کا اعلان کر جہاں پہلے کئی عہدیداران کو ان کی جگہ بنائے رکھا وہیں کئی نئے چہرے بھی شامل کئے ہیں۔ امت شاہ کی ٹیم کو دیکھ کر کچھ باتیں بیحد صاف دکھائی پڑتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ ان کی ٹیم میں توقع سے کم عمر کے لیڈروں کو بڑی تعداد میں موقعہ دیا گیا ہے تاکہ تنظیم کے تیور اور دھار دونوں موقعے کے مطابق آگے بڑھیں۔ نئی ٹیم میں ہر نقطہ نظر سے توازن قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ عمر ،جغرافیہ اور اقتدار تینوں سطحوں پر درمیانے راستے کو اپنایا گیا ہے۔ تنظیم میں ایسے کئی چہروں کو جگہ دی گئی ہے جو عمر کے حساب سے نہ تو بہت نوجوان ہیں اور نہ ہی بوڑھے۔ اس کے پیچھے منشا بہت صاف ہے۔ تنظیم کا کام دیکھنے والے عہدیداران سماج کی نئی اور پرانی پیڑھی کے درمیان توازن اور تال میل قائم کرسکیں۔ بزرگوں کا بڑکپن اور نوجوانوں کا جوش اگر ملا دیا جائے تو ایک اچھا تال میل تیار ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی خود میں ایسے ہی تجزیئے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ امت شاہ کی ٹیم پر آر ایس ایس کی چھاپ بیحد گہری ہے۔ تنظیم کے سکریٹری جنرل کے عہدے پر جس طرح رام لال برقرار رہے مرلی دھر راؤ بھی اپنی جگہ رہے اور حال ہی میں آر ایس ایس سے بھاجپا میں آئے رام مادھو اور شیو پرساد جیسے افراد کو ذمہ داریاں ملی ہیں اس سے صاف ہے کہ بھاجپا لیڈر شپ اور آر ایس ایس کے درمیان سیاسی اور حکمت عملی سطح پر اچھا تال میل قائم کیا ہے۔ زیادہ چونکانے والا فیصلہ اگر کوئی کہا جاسکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ ورون گاندھی کو امت شاہ کی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا شاید اس لئے نہیں دیا گیا ہو تاکہ انہیں کوئی اچھا اہم عہدہ دینے کا پلان ہو۔ خیال رہے ان کی ماں مینکا گاندھی نے، جو مرکز میں وزیر ہیں یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ ورون کو اترپردیش کا امکانی وزیر اعلی کے طور پر پرویکٹ کردیا جائے۔ حالانکہ شاہ کی ٹیم کے اعلان کے ساتھ ہی پارٹی میں کچھ مخالف آوازیں بھی اٹھنے لگی ہیں اس کی شروعات مسلسل چوتھی بار درجہ فہرست ذاتوں سے متعلق مورچے کے بنائے گئے چیئرمین پھگن سنگھ کلستے نے کی ہے۔ پانچ سے زیادہ بار ایم پی رہے کلستے نے نئی ذمہ داری سنبھالنے سے فی الحال انکار کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے پارٹی یا تو انہیں عہدہ نہیں دے یا پھر وہ بطور ایم پی ہی ٹھیک ہیں۔ اس دوران وہ یہ بھی یاد دلانے سے نہیں چوکے کہ نریندر مودی کے ساتھ سکریٹری جنرل کے عہدے کی ذمہ داری سنبھال چکے ہیں۔ بی ایس یدی یروپا کو وائس پریزیڈنٹ بنانے پر بھاجپا کی نکتہ چینی ہورہی ہے۔ کرپشن سے لڑنے کا اشو لیکر آئی پارٹی کچھ داغدار شخص کو نائب پردھان بنارہی ہے یہ قدم اپوزیشن کے لئے ایک احتجاج کرنے کا اشو مل گیا ہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ یدی یروپا نے بھی یہ کہہ کر درپردہ طور پر ناراضگی جتا دی ہے کہ ان کے حلقے سے لوگ انہیں منتری کی شکل میں دیکھنا چاہتے تھے۔ کئی دیگر لیڈر بھی ناراض ہیں لیکن فی الحال خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔دہلی سے کسی شخص کو نئی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا جس وجہ سے دہلی بھاجپا میں تھوڑی ناراضگی ہے۔ امت شاہ نے اپنی ٹیم کی تشکیل سے صاف کردیا ہے کہ تنظیم کے فروغ کے ساتھ چناؤ انتظام بھی ان کی ترجیح ہے۔ شاہ کی نئی ٹیم میں جگہ پانے والے ہر لیڈر نے لوک سبھا چناؤ میں ایک اہم رول نبھایا تھا۔ لوک سبھا میں ٹکٹ کٹنے والے لیڈروں کو بھی تنظیم میں جگہ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ٹیم شاہ کا پہلا سب سے بڑا امتحان مہاراشٹر، ہریانہ، جھارکھنڈ، جموں و کشمیر کے اسمبلی چناؤ میں ہوگا۔ دہلی میں کب چناؤ ہوں گے فی الحال صاف نہیں ہے۔ بہار میں راشٹریہ جنتادل (یو) اور کانگریس کے تال میل سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔ بھاجپا کا نشانہ آنے والے اسمبلی چناؤ میں جیت درج کرنے کے ساتھ ساتھ راجیہ سبھا میں اپنی طاقت بڑھانا ہے جہاں وہ اقلیت میں ہے۔ امت شاہ جانتے ہیں کہ اب لوک سبھا چناؤ جیسے ماحول کی امید نہیں کرسکتے۔ اتراکھنڈ کی تین اسمبلی سیٹوں کے ضمنی چناؤ نے یہ صاف کردیا ہے اس لئے دوسری پارٹیوں میں سیند لگانے میں لگ گئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ امت شاہ کی ٹیم پارٹی کو کیسا کلیور دکھاتی ہے۔
(انل نریندر) 

کیجریوال کے پاس لیڈر شپ صلاحیت نہیں ، عہدہ چھوڑیں دوسرے کو دیں !

عام آدمی پارٹی (آپ) کے اندر اندرونی رسہ کشی ایک بات پھر سامنے آگئی ہے۔ اس بار تو پارٹی کے سب سے سینئر بانی لیڈروں میں شامل پارٹی کو سب سے بڑا چندہ دینے والے اور پارٹی کو کھڑا کرنے والے 88 سالہ شانتی بھوشن نے بدھ کے روز اروند کیجریوال کی قیادت صلاحیت پر ہی تلخ حملے کئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کیجریوال کے اندر پارٹی کو آگے بڑھانے کی اہلیت نہیں ہے۔ پارٹی کو کھڑا کرنے کی ذمہ داری اور نیتا کو سونپ دینی چاہئے۔ اتنا ہی نہیں پارٹی کے اندر اندرونی جمہوری سسٹم ختم ہونے کا دعوی کرتے ہوئے نامور وکیل شانتی بھوشن نے لیڈر شپ تبدیلی کی بات بھی کہی ہے۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اروند کیجریوال عہدہ چھوڑیں۔ ایک پرائیویٹ چینل کو دئے گئے انٹرویو میں سابق وزیر قانون کہا کہنا ہے اروند میں اتنی تنظیمی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ قومی سطح پر پارٹی کو سنبھال سکیں۔ پارٹی ان کی رہنمائی میں پورے بھارت میں فروغ پانے میں ناکام رہی ہے۔ ایسے میں کیجریوال کو تنظیم سے وابستہ کام ایسے شخص کو سونپ دینے چاہئیں جس کے پاس وقت ہو ۔ اروند صرف اپنی بات سنتے ہیں جبکہ پارٹی کنوینر کو اہم اشوز پر دوسرے لیڈروں کی بھی صلاح لینے چاہئے۔ ان کے مطابق دہلی سرکار سے استعفیٰ دینا کیجریوال کا بچکانا فیصلہ تھا اس سے پارٹی کو کافی نقصان ہوا۔ شانتی بھوشن پارٹی کے بانی ممبر ہونے کے ساتھ ساتھ سب سے بزرگ لیڈربھی ہیں۔ ان کو پارٹی کا مارگ درشک بھی مانا جاتا ہے۔ وہیں ’آپ‘ سے نکالے گئے ممبر اسمبلی ونود کمار بنی نے کہا کہ اگر شانتی بھوشن جی جیسے تجربہ کارلیڈر ایسا کہہ رہے ہیں تو یہ ایک سنگین بات ہے۔ کیجریوال کو استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ شانتی بھوشن کے لڑکے پرشانت بھوشن کا تبصرہ تھا کہ بھوشن جی نے عام آدمی پارٹی کی لیڈر شپ دوسرے ہاتھوں میں سونپنے کی جو بات کہی ہے وہ ان کی ذاتی رائے ہے اس پر میں کوئی رائے زنی نہیں کرنا چاہتا۔ پارٹی کے ترجمان اور بڑبولے لیڈر آشو توش کہتے ہیں شانتی بھوشن، یوگیند یادو چاہتے تھے کہ پارٹی ہریانہ اسمبلی چناؤ لڑے لیکن اروند اس کے لئے تیار نہیں ہوئے اسی وجہ سے شانتی بھوشن نے پارٹی کے اندرونی جمہوریت کو لیکر اپنی رائے دی ہے۔ ’آپ‘ کے ذرائع کی مانیں تو پارٹی میں دو گروپ بن گئے ہیں۔ ایک گروپ میں اروند کیجریوال اور منیش سسودیا تو دوسرے گروپ میں پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو ہیں۔ کیجریوال کی لیڈر شپ پر پہلے بھی کئی بات سوال اٹھ چکے ہیں۔ کچھ وقت پہلے پارٹی لیڈر یوگیندر یادو کی طرف سے لکھا گیا متنازعہ خط بھی اروند کیجریوال کی لیڈر شپ پر سوال اٹھاتا ہے۔ وہیں شازیہ علمی نے بھی تانا شاہی کی طرف ’آپ‘ کے اندر منمانی کا الزام لگاتے ہوئے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ دہلی کی عوام سب دیکھ رہی ہے۔ دہلی پردیش کانگریس پردھان اروند سنگھ لولی نے چٹکی لیتے ہوئے کہا وہ تو کافی وقت پہلے ہی سے یہ بات کہہ رہے ہیں کیجریوال ایک عجب انسان ہیں جو اقتدار کے لالچی ہیں اس کے لئے وہ سب کچھ داؤ پر لگا سکتے ہیں۔
(انل نریندر)

19 اگست 2014

پھرخطرناک چوراہے پر کھڑا پاکستان!

پاکستان کی اندرونی سیاست ایک بار پھر خطرناک موڑ پر آگئی ہے۔ ویسے تو پاکستان کے اندر کیا ہورہا ہے یہ اس کا اپنا معاملہ ہے اور کسی کو نکتہ چینی، دخل اندازی کرنے کا حق نہیں ہے پر ہم اس لئے فکرمند ضرور ہیں کہ وہ بھارت کا پڑوسی ہے اور وہاں کی سیاست کاہمارے اوپر سیدھا اثر پڑتا ہے۔ ہم ہی نہیں باقی دنیا بھی چاہتی ہے کہ پاک میں ایک مضبوط، مستقل اور جمہوری سرکار ہو۔آج انہیں ہی چنوتی مل رہی ہے اس لئے معاملہ چنتا کا ہورہا ہے۔ نواز شریف کی سرکار کے خلاف دو ریلیوں کے نیتاؤں نے شنی وار کو حلف لیا ہے کہ وہ تب تک پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک پردھان منتری نواز شریف استعفیٰ نہ دے دیں۔مخالف مظاہروں کی رہنمائی کررہے اپوزیشن لیڈر عمران خان کی گاڑی پر شکروار کو گولیاں چلائی گئیں لیکن وہ بال بال بچ گئے۔ عمران کا الزام ہے کہ حملہ نواز شریف کی پارٹی پی ایم ایل این کے لوگوں نے کیا۔ واقعہ گجرانوالہ ضلع میں ہوا جب عمران اپنے قافلے کے ساتھ اسلام آباد جا رہے تھے۔ حملے کے بعد وہ بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھ گئے۔ پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں عمران خان کے اور کناڈائی شہری مذہبی رہنماطاہر القادری کے ہزاروں سمرتھک اکھٹا ہوگئے ہیں اور نواز کا استعفیٰ مانگ رہے ہیں۔ کرکٹر سے نیتا بنے عمران کی پارٹی تحریک انصاف کے ہزاروں حامی، مذہبی لیڈر طاہر القادری کی رہنمائی میں اپوزیشن گروپ گذشتہ سال کے عام چناؤ میں ہیرا پھیری کئے جانے کا الزام لگاتے ہوئے شریف پر دوبارہ چناؤکرانے کا دباؤ بنانے کے لئے راجدھانی اسلام آباد میں مظاہرہ کررہے ہیں۔ اپوزیشن پاکستان تحریک انصاف پارٹی کی صدارت کرنے والے عمران خان نے کہا کہ کسی بھی حالت میں ہم یہ چناؤ قبول نہیں کریں گے۔ میں یہاں بیٹھ رہا ہوں ۔ نواز کے پاس ایک ہی متبادل ہے استعفیٰ دے دیں اور دوبارہ چناؤ کا حکم دیں۔ مظاہرین لاہور سے 35 گھنٹے زیادہ وقت سے 300 کلو میٹر سے زیادہ کا سفر طے کر اسلام آباد پہنچے ہیں۔ قادری کے کرانتی مارچ میں ہزاروں سمرتھک بھی اسلام آباد میں ایک الگ جگہ پر پہنچ گئے ہیں۔ قادری نے میڈیا کو بتایا کہ سب کچھ پرامن ڈھنگ سے ہورہا ہے۔ سرکار کو استعفیٰ دینا ہے۔ ودھان سبھائیں بھنگ کی جانی ہیں اور نئے نظام کو ان کی جگہ لینی ہے۔پاکستان کی سیاست میں یہ غیر یقینی ایسے وقت پیدا ہوئی ہے جب پاکستان آتنک وادیوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ خاص طور پر افغانستان کے ساتھ لگنے والی سرحد پر واقع شورش زدہ قبیلائی علاقہ میں ۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے شکروار کو غیر فوجی سرکار کو ہٹانے کے کسی بھی غیر آئینی قدم کے خلاف حکم جاری کیا تھا کیونکہ مخالف مظاہروں کے نتیجے میں سرکار کو اقتدار سے ہٹائے جانے کا خطرہ ہے اور اس سے ملک میں فوجی مداخلت کا ڈر بنا ہوا ہے۔ ادھر نواز شریف کی چنتائیں بڑھتی جارہی ہیں۔ پاک کی ایک عدالت نے پردھان منتری نواز شریف ان کے بھائی اور پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف اور 19 دیگر لوگوں کے خلاف قتل کا الزام درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ پاکستان میں بڑھتی سیاسی غیر یقینی افسوسناک ہے اور پاکستان خطرناک موڑ پر پھر کھڑا ہے۔
(انل نریندر)

بے محل پلاننگ کمیشن جلد بنے گا تاریخ کا حصہ!

پلاننگ کمیشن کی تنظیم نو یا اس میں بڑے بدلاؤ کی چرچاؤں پر وزیر اعظم نریندر مودی نے روک لگادی۔ یوم آزادی کے موقع پر اپنی تقریر میں مودی نے پانچ سالہ پلان کا خاکہ تیار کرنے والے64 سال پرانے ادارے کو ختم کرنے کااعلان کیا۔ حال میں سالوں سے تنازعے میں رہا پلاننگ کمیشن اب تاریخ بن جائے گا۔ بدلتے عالمی وگھریلو معاشی پس منظر کے مد نظر مودی سرکار جلد ہی نیا ادارہ بنائے گی جو موجودہ معاشی چنوتیوں سے نمٹنے ،نوجوانوں کی صلاحیت کے بہتر استعمال اورریاستی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کا کام کرے گی۔ کمیشن کا قیام 1950 میں ایسے وقت میں ہوا تھا جبکہ سرکار نجی زمروں کو معاشی نظام میں سب سے اونچی جگہ دیتی تھی۔ سوویت پلاننگ سسٹم سے بیحد متاثر ہونے سے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے دیش کی معاشی نیتی کو آگے بڑھانے کیلئے پلاننگ کمیشن کی تشکیل کی تھی۔ کیبنٹ کے پرستاؤ کے ذریعے قائم پلاننگ کمیشن کے پاس بہت زیادہ طاقت اور میعار ہے کیونکہ اس کی صدارت ہمیشہ پردھان منتری نے کی۔اس کا سب سے اہم کام ہے علاقہ وار ترقی کا نشانہ طے کرنا اور اسے حاصل کرنے کے لئے وسائل الاٹ کرنا۔ کمیشن کے نائب صدرکی سیٹ پر بیٹھا شخص ہمیشہ ہی سیاسی طور پر قد آور شخص رہا ہے اور اس کا درجہ کیبنٹ منتری کا ہوتا ہے۔ اب تک کمیشن کے نائب صدر کا عہدہ جن لوگوں نے سنبھالا ان میں گلازاری لال نندا ، وی ٹی کرشنا ماچاری، سی سبرامنیم، پی این ہکسر، منموہن سنگھ، پرنب مکھرجی، جسونت سنگھ، مدھو ڈنڈوتے،موہن، کے سی پنتھ اور رام کرشن ہیگڑے جیسے دگج شامل ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ حال کے سالوں میں اس کے کردار پر سوال اٹھنے لگے۔ 1991 کے معاشی سدھاروں کے آغاز سے جس طرح معاشی سرگرمیوں میں سرکار کا کردار سمٹا اور نجی چھیتر کا بڑھا ہے اسے دیکھتے ہوئے کمیشن کا کوئی اہم معنی نہیں رہا ہے۔ایک اور اہم بدلاؤ یہ آیا کہ گذشتہ دو دہائی میں ریاستیں ترقی کا مرکز بن کر ابھری ہیں۔ ریاستوں کی ترقی کی رفتار مرکز سے زیادہ رہی ہے۔کئی موقعوں پر ریاستوں نے ہی لڑکھڑاتی قومی معیشت کو سنبھالا ہے۔ ایسے میں پلاننگ کمیشن کے مرکزی کردار کی ضرورت اب نہیں ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پلاننگ کمیشن کا قیام اس وقت کی ضرورتوں کو دیکھ کر کیا گیا تھا اس نے دیش کی ترقی میں اپنا یوگدان تو دیا لیکن اب نوعیت بدل گئی ہے۔ اگر بھارت کو آگے بڑھنا ہے تو ریاستوں کا وکاس ضروری ہے۔ حال ہی میں سابق فائننس منسٹر پی چدمبرم نے بھی کمیشن کی تشکیل نو کی ضرورت کی حمایت کی تھی۔سابق آر بی آئی گورنر بمل جالان نے کہا یہ اچھا وچار ہے۔ پلاننگ کمیشن کا نظریہ پرانا پڑ گیا تھا اس کو جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح کا خیال ظاہر کرتے ہوئے کمیشن کے ایک سابق ممبر ابھیجیت سین نے کہا کہ مودی نے کمیشن کے مستقبل پرشک کا پردہ تو اٹھا دیا پر ابھی بھی یہ صاف نہیں ہے کہ نئے ادارے کا ڈھانچہ کیا ہوگا؟ اتنا طے ہے کہ پہلے والا پلاننگ کمیشن اب نہیں ہوگا۔ صنعتی تنظیم سی آئی آئی نے بھی اس فیصلے کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نئے وکاس اور کام چلانے والے اداروں کے بارے میں خیالات کی پیشکش کے سلسلے میں سرکار سے مل کر کام کرنے میں خوشی ہوگی۔
(انل نریندر)

17 اگست 2014

لیک سے ہٹ کرمودی کی لال قلعہ سے پہلی شاندار تقریر!

آزادی کی67 ویں سالگرہ پر دہلی کا تاریخی لال قلعہ ہر بار کی طرح سجا دھجا تھا۔ جشن آزادی کی فضا اس بار جدا ضرور تھی۔اس پوتر یوم آزادی کے موقعہ پر پہلی بار آزاد بھارت میں پیدا ہوئے پہلے پردھان منتری کے روپ میں نریندر مودی نے ترنگا لہرایا۔ پردھان منتری نریندر مودی کے پر اثرتقریر کے انداز کی جانکاری رکھنے کے باوجود اسے لیکر دیش بھر میں دلچسپی تھی کہ مودی اپنی پہلی تقریرمیں لال قلعہ سے کیا بولتے ہیں؟جیسا کے امید تھی لال قلعہ کی فصیل سے نریندر مودی کا بنا لکھی ہوئی تقریر کئی معنوں میں تاریخی اور شاندار رہی۔ انہوں نے پردھان سیوک کے روپ میں اپنا تعارف دیکر شروعات میں ہیں لوگوں کا دل جیت لیا۔امید کے مطابق نہ تو انہوں نے کسی تحریری تقریر کا سہارا لیا اور نہ ہی جیسا عام طور پر ہوتا آیا ہے لوک لبھاون اعلانات کی جھڑی ہی لگائی۔ لال قلعہ سے پہلی بار دیش کو مخاطب کرتے ہوئے مودی نے کئی چوکھٹوں کے پار نکل کر جنتا کے دل کو چھونے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔ اس موقعہ پر پردھان منتری نے دیش کی اب تک کی وکاس یاترا کیلئے سبھی پردھان منتریوں اور سرکاروں کو سراہا لیکن یہ بھی یاد دلایا کہ دیش کو کسانوں، مزدوروں اور نوجوانوں نے بنایا ہے۔پردھان منتری نے جنسی بھید بھاؤ ،لڑکیوں کا حمل میں قتل اور بلاتکار کے بڑھتے واقعات کو شرمناک بتایا۔ ان کا یہ کہنا اہم تھا کہ سرپرستوں اور سماج کی ساری بندشیں لڑکیوں پر تھونپنے کی بجائے لڑکوں سے بھی سوال جواب کرنے چاہئیں۔ پردھان منتری نے کہا کہ جوان بیٹی سے تو ماں باپ سینکڑوں سوال پوچھتے ہیں لیکن کیا کبھی بیٹے سے پوچھنے کی ہمت بھی کی کہ کہاں جارہے ہو، کیوں جارہے ہو؟ آخر بلاتکار کرنے والا کسی نہ کسی کا بیٹا تو ہے۔ بیٹیوں پر جتنی بندشیں لگائی ہیں کبھی بیٹوں پر بھی لگا کر دیکھو۔ڈاکٹروں سے گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ اپنی تجوری بھرنے کے لئے کسی ماں کے حمل میں پل رہی بیٹی کو مت ماریئے۔ پردھان منتری نے ہنسا پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے اپنے تخاطب میں کہا کہ بے قصوروں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے ماؤ وادی آتنک وادی کسی نہ کسی کے تو بیٹے ہیں۔ میں ان ماں باپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اپنے بیٹے سے کبھی اس راستے پر جانے سے پہلے پوچھا تھا آپ نے؟ جاتی واد کا زہر ہو ،فرقہ پرستی کا زہر ہو، آتنک واد کا زہر ہویہ دیش کو آگے بڑھنے میں رکاوٹ ہیں۔ ایک بار من میں طے کرو 10 سال کیلئے موروٹوریم طے کرو، اس کے علاوہ نریندر مودی نے اور کئی اہم مدعوں پر اپنے خیالات رکھے۔ کھلے میں شوچ کرنے کی مجبوری کو خواتین کی بے عزتی بتاتے ہوئے انہوں نے سانسدوں سے گزارش کی کے وہ اپنی سانسد ندھی سے ایک سال تک شوچالیوں کی تعمیر کرائیں۔ وزیر اعظم نے سانسدوں سے اپنے علاقے میں آدرش گاؤں ڈولپ کرنے کو بھی کہا۔ پردھان منتری کا یہ اعلان بھی بیحد اہم ہے کہ پلاننگ کمیشن کی جگہ پر نئی سنستھا بنائیں گے۔ کل ملاکر پردھان منتری کی تقریر لیک سے ہٹ کر جنتا سے سیدھی بات کرنے کی انوکھی کوشش رہی۔ جس طرح سے انہوں نے بلٹ پروف گھیرے کے بغیر قوم کو مخاطب کیا اور خود دوسروں سے زیادہ محنت کرنے کی بات کہی اس سے صاف ہے کہ وہ دیش واسیوں کو نڈر رہ کر مسلسل آگے بڑھنے کے لئے پریرت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بھی کم اہم نہیں کہ لال قلعہ کی فصیل سے نریندر مودی ایک ایسے سیاستداں کی شکل میں ابھرتے دکھے جو روایتی سیاست کے دقیانوسی ڈھانچے سے باہر نکل کر جنتا کو پریرت کرکے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ آگے کے راستے کو طے کرنے کے لئے انہوں نے صاف کہا کہ سب کچھ سرکاریں نہیں کرسکتیں بہت سے کام ایسے ہیں جنہیں جنتا کی بھاگیداری سے ہی پورا کیا جاسکتا ہے اور اس میں ہاتھ بٹانا جنتا کی ذمہ داری بھی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سالوں بعد کسی پردھان منتری نے دیش کی امیدوں کو نئے سرے سے جگانے کا کام کیا ہے۔ان شاندار سنکیتوں کے درمیان سوال صرف ایک ہے کہ کیا مودی ان طبقوں کو بھی چھوپائیں گے جو ان کو شک سے دیکھتے رہے ہیں۔ ایک قوم کی شکل میں جو کچھ بھارت کی پہنچ کے اند دکھتا ہے اسے پانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ مودی سرکار کے تئیں لوگوں کے بھروسے کو بنائے رکھیں۔ کیونکہ یہ بھروسہ اور امیدہی حقیقی بدلاؤ لا سکتے ہیں۔ ہاں کچھ سیاستداں مودی کے بھاشن سے مایوس بھی ہوں گے۔ خاص کر دہلی کے بھاجپا نیتا جو یہ امید لگائے بیٹھتے تھے کہ پردھان منتری اس موقعہ پر دہلی کو مکمل راجیہ کا درجہ دینے کا اعلان کریں گے ، پر ایسا نہیں ہوا۔
(انل نریندر)

دہلی میں غریب کا بیمار ہونا مطلب اس کا اجڑنا!

دہلی میں غریبوں کے علاج کے انتظامات میں بہت کمی سامنے آرہی ہے۔ مودی سرکار اور خاص کر ڈاکٹر ہرش وردھن سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اس میں سدھارکرنے کیلئے بنا دیری کئے قدم اٹھائیں گے۔بات کرتے ہیں غریب مریضوں کے فری علاج کی۔ سپریم کورٹ کے ذریعے خط افلاس سے نیچے والوں کے لئے دہلی این سی آر کے 46 ہسپتالوں میں فری علاج کے قاعدے بنائے لیکن تمام ہسپتالوں سے شکایتیں آرہی ہیں کہ وہاں جتنے بیڈ بی پی ایل کارڈ ہولڈروں کے لئے ریزرو ہیں اتنا ایڈمیشن نہیں کیا جاتا۔غریب مریض لاکھوں کا بل دینے پر مجبور ہیں۔ بار بار شکایتیں اور ہسپتالوں کو بار بار ہدایت ملنے کے بعد بھی ایسا لگاتار ہورہا ہے۔یہ بھی الزام لگتے ہیں کہ مریض کے ذریعے پیش کئے جانے والے ڈاکو مینٹ میں کوئی نہ کوئی کمی نکال کر معاملہ لٹکادیا جاتا ہے۔حالانکہ اس بارے میں ہسپتالوں کا اپنا ترک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بی پی ایل کارڈ مس یوز کے تمام کیس کے بعد احتیاط برتی جاتی ہے۔ وہیں کچھ لوگ علاج کے شروعات میں نہیں بلکہ بیچ میں اپنے دستاویز دکھاتے ہیں تو پریشانی بڑھ جاتی ہے۔ پرائیویٹ ہسپتالوں میں غریب مریضوں کے علاج میں آرہی بار بار کی شکایتوں اور انہیں علاج میں چھوٹ کولیکر لمبی قواعد کے بعد آخر کار سپریم کورٹ نے اس بارے میں رول بنائے ،حال میں رول کے مطابق اگر کسی کی ماہانہ آمدنی 8086 روپے سے کم ہے تو اسے غریب مانا جائے گا۔ انہی دہلی این سی آر کے 46 ہسپتالوں میں فری علاج مل سکے گا۔ یہ وہ ہسپتال ہیں جنہیں سرکار کی جانب سے رعایتی شرحوں پر ہسپتال بنانے کے لئے زمین دی گئی ہے لیکن آئے دن شکایت آتی رہتی ہے کہ غریب مریضوں کو نہ تو ان ہسپتالوں میں بیڈ دیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کا علاج ہوپاتا ہے۔ غریبوں کے لئے ریزرو80 فیصدی بیڈ بھی نہیں بھرے ہوتے ہیں۔کم آمدنی زمرے کے لوگوں کیلئے او پی ڈی میں25 فیصدی کوٹا ہے جبکہ علاج کے لئے10 فیصدی بیڈ ریزرو کرنے کا رول ہے۔ پچھلے دنوں لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کی ہدایت پر جب محکمہ صحت نے الگ الگ ہسپتالوں کا اچانک معائنہ کیا تھا تو وہاں کی تصویر کچھ اور ہی بیان کررہی تھی۔ اگر ایم یا دہلی کے کسی مشہور ہسپتال میں آپ کا کام جلدی کروانے کے لئے کوئی پیسہ مانگے تو تھوڑا ہوشیار ہوجائیں وہ ہمدرد کے روپ میں ٹھگ یا دلال بھی ہوسکتا ہے۔ یہ نیا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے کہ جلدی کام کرانے، بیڈ دلانے کے لئے دلالوں کی فوج کھڑی ہوگئی ہے۔ دہلی کے کچھ ہسپتالوں میں ایسی کئی شکایتیں دکھی گئی ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے تمام کوششوں کے بعد بھی ان پر لگام نہیں لگ پارہی ہے۔ یہ ان مریضوں کو خاص کر نشانہ بناتے ہیں جو باہر سے آتے ہیں اور یہاں انہیں ڈاکٹر سے ملنے سے لیکر ٹیسٹ کروانے تک کی تمام پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جلدی کام کرانے، ٹیسٹ وغیرہ کرانے، بیڈ دلوانے کا ریٹ 500 سے 2000 روپے تک کا ہے۔ڈاکٹروں کی بات کریں تو کئی ہسپتالوں میں تو ڈاکٹروں کا اکال پڑا ہوا ہے۔ دہلی کے چار بڑے ہسپتالوں میں گذشتہ ساڑھے تین سالوں کے دوران 60 ڈاکٹروں نے سرکاری نوکری چھوڑدی۔ ان میں سے اکیلے ایمس کے ہی 19 ڈاکٹر شامل ہیں۔ بعض ڈاکٹر بہتر تنخواہ کے لئے دوسرے ہسپتالوں کا رخ کر لیتے ہیں۔ سال2011 سے 2014 تک مرکزی سرکار کے ذریعے چلائے جارہے چار بڑے ہسپتالوں ایمس، صفدر جنگ، لیڈی ہارڈنگ اور ڈاکٹر رام منوہر لوہیا ہسپتال سے 7 ڈاکٹروں نے نوکری چھوڑی ۔ ان میں سے سب سے زیادہ 19 ڈاکٹر ایمس سے اور 17 ڈاکٹر صفدرجنگ سے نوکری چھوڑ کر گئے۔ مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے گھریلو مسئلوں اور بہتر کیریئر موقعوں کی وجہ سے استعفیٰ دیا۔ادھر اس معاملے میں ڈاکٹر رام منوہر لوہیا ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ایس کے تھار کا کہنا ہے کہ لوہیا ہسپتال سے استعفیٰ دینے والے زیادہ تر ڈاکٹروں نے دیش کے دوسرے حصوں میں کھل کر ایمس جوائن کرلئے ہیں کیونکہ ایمس میں ڈاکٹروں کا پے اسکیل زیادہ ہے۔ نجی ہسپتال کھل رہے ہیں وہاں بھی ڈاکٹر جا رہے ہیں کل ملا کر دہلی میں مریضوں کی حالت بہت خراب ہے۔ ڈاکٹر ہرش وردھن اور مودی سرکار کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ غریبوں کا صحیح اور سستا علاج کروائیں اور غریبوں کو علاج کی وجہ سے اجڑ نے سے بچائیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...