Translater

03 ستمبر 2011

بابا رام دیو کو گھیرنے میں لگی سرکار


Published On 4th September 2011
انل نریندر
بابا رام دیو اور انا ہزارے کی تحریک سے خار کھائی کانگریس پارٹی اور یوپی اے حکومت اب ان سے دشمنی نکال رہی ہے۔ جب سے یہ تحریک شروع ہوئی ہے حکومت ان کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑ گئی ہے۔ بابا رام دیو کو سرکار اب خود غیر ملکی کرنسی ایکٹ (فیما) میں پھنسانے میں بے چین ہے۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بابا رام دیو اور ان کے ٹرسٹ کے خلاف فیما قانون کی خلاف ورزی کرنے کا معاملہ درج کیا ہے۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بابا رام دیو کی کمپنیوں پر بیرونی ممالک سے ہونے والے پیسے کے لین دین میں قواعد کو نظر انداز کرنے کے الزام میںیہ مقدمہ درج کیا ہے۔ اس کے علاوہ اسکاٹ لینڈ میں بابا کو عطیہ میں ملے مبینہ جزیرے کے معاملے کی بھی پڑتال کی جارہی ہے۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور جانچ ایجنسیاں یہ دیکھنے کی کوشش کررہی ہیں کہ اس جزیرے کو حاصل کرنے میں بابا اور ان کی کمپنی کہیں قواعد کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ ایسے میں جلد ہی اس معاملے میں بابا کے ساتھی آچاریہ بال کرشن اور یوگ گورو کے سینئر منتظمین سے پوچھ تاچھ کرنے کے آثار ہیں۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بھارتیہ ریزرو بینک اور غیر ملکی جانچ ایجنسیوں اور بینکوں کے ذریعے سے ملی اطلاعات کی بنیاد پر معاملے درج کئے ہیں۔انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع کے مطابق بابا رام دیو کی کمپنی پتنجلی یوگ پیٹھ، بھارتیہ سوابھیمان ٹرسٹ اور یوگ مندر ٹرسٹ کے ذریعے سے پیسے کے بیجا لین دین کی جانکاری ملی ہے۔ ان اداروں کے امریکہ، نیوزی لینڈ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک سے غیر ملکی کرنسی حاصل ہوئی ہے اور ایسا کرنے میں وسیع پیمانے پر قواعد کو تلانجلی دی گئی ہے۔ بتاتے ہیں کہ برطانیہ سے ہی ایک معاملہ قریب 7 کروڑ روپے کے لین دین سے وابستہ ہے۔ یہ معاملہ بے نامی سودے سے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے عام تاجروں اور خوردہ دوکانداروں سے مل کر ناجائز طور پر مالی لین دین کے ثبوت ملے ہیں۔ ریزرو بینک سے انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو ملے دستاویزات کے مطابق بابا رام دیو کی کمپنیوں نے برآمدات سے ہوئی تقریباً 1.8 کروڑ روپے (چار لاکھ ڈالر) کی آمدنی کے بارے میں سینٹرل بینک کو کوئی معلومات نہیں فراہم کی گئی۔ قاعدے کے مطابق برآمدات سے غیرملکی کرنسی میں ہوئی آمدنی کی اطلا ع چھ مہینے کے اندر آر بی آئی کو دینا ضروری ہے۔ رام دیو سے وابستہ کمپنیوں نے چھ مہینے کے بعد بھی آر بی آئی کو کچھ نہیں بتایا۔
بابا رام دیو اور ان کی کمپنیوں کے خلاف انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعے فیما کے تحت مقدمے سے سامان پتنجلی اینڈ ہربل پارک میں ملازمین میں اپنے مستقبل کو لیکر تشویش پیدا ہوگئی ہے۔پدارتھی میں واقع فوڈ پارک میں قریب پانچ ہزار ملازم کام کرتے ہیں۔ فوڈ پارک کے آس پاس گاؤں کے لوگ بھی بڑی تعداد میں کام کرتے ہیں۔ سبھی کو بے چینی ہے کہ کہیں انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ ان کے کھاتوں کو منجمد نہ کردے اور ان کا مستقبل اَدھر میں لٹک جائے۔ ادھر بابا رام دیو نے ہری دوار میں کہا کہ انہوں نے یا ان کے ٹرسٹ نے کسی بھی طرح کے لین دین میں کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا ہے۔ بابا نے بتایا کہ ابھی تک انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے انہیں یا ان کے ٹرسٹ کے خلاف مقدمہ درج ہونے کی کوئی سرکاری جانکاری نہیں دی گئی ہے۔ انہیں اس کی جانکاری میڈیا سے ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوٹس ملنے پر معقول جواب دیا جائے گا۔ بابا رام دیو ہری دوار کے کنکھل میں واقع دیویہ یوگ فارمیسی سے اخبار نویسوں سے بات کررہے تھے۔ انہوں نے صاف کہا کہ ان کے ٹرسٹ سے کسی بھی طرح کا کوئی بھی غیر آئینی کام نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کوئی غیر قانونی لین دین ہوا ہے۔
Baba Ram Dev, Ram Lila Maidan, Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, ED, Black Money, Corruption,

سیاسی آقاؤ کے اشارے پر نوٹس بھیجا گیا، اروند کیجریوال

انا ہزارے کی تحریک سے غصے سے بھری منموہن سنگھ سرکار نے اب ان لوگوں کو نشان زد کرکے نشانے پر لینا شروع کردیا ہے جنہوں نے اس کی مٹی پلید کرنے میں سرگرم کردار نبھایا تھا۔ میڈیا پر لگام لگانے کیلئے مخصوص گروپ بنانے کی بھی خبر ہے۔ انا کے اسٹیج سے سرکار کو برا بھلا کہنے والے فلم اداکار اوم پوری ، کیرن بیدی پر پہلے ہی ہتک عزت کا مقدمہ درج ہوچکا ہے۔ ممبران پارلیمنٹ کے خلاف متنازعہ تبصرے کو لیکر پارلیمنٹ میں تحریک استحقاق کی خلاف ورزی کے معاملے کا سامنا کررہی کیرن بیدی کا ٹیم انا اب کھل کر ساتھ دے رہی ہے۔ اروند کیجریوال نے کہا پوری ٹیم متحد ہوکر کیرن بیدی کے ساتھ ہے۔ اس طرح کے قدم سے جنتا کے درمیان یہ تاثر جائے گا کہ ممبران پارلیمنٹ ان سے بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا جب نوٹس ملے گا تو وہ اس پر جواب دیں گی۔ ٹیم انا کے ایک اور اہم ساتھی سابق مرکزی وزیر قانون شانتی بھوشن سی ڈی معاملے میں پھنستے نظر آرہے ہیں۔ دہلی پولیس نے سی ڈی معاملے میں عدالت میں داخل اپنی کلوزر رپورٹ میں جانکاری دی ہے کے سی ڈی میں سپا چیف ملائم سنگھ یادو اور شانتی بھوشن کی بات چیت کا ٹیپ اصلی ہے۔ اس میں کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ کا ثبوت نہیں ہے۔ اگر یہ سی ڈی اصلی ہے تو یہ سیدھے سیدھے سپریم کورٹ میں بڑا بدعنوانی کا معاملہ بنتا ہے۔ دہلی پولیس کے ذرائع کے مطابق اس معاملے میں ان کے پاس ایک چشم دید گواہ بھی ہے،وہ ہے ممبر پارلیمنٹ امر سنگھ۔ انہوں نے پولیس کو پوچھ تاچھ میں بتایا ہے کہ انہوں نے اپنے گھر پر لینڈ لائن فون سے خودپرشانت بھوشن سے ملائم سنگھ کی بات کروائی تھی۔
منموہن سنگھ حکومت کو سب سے زیادہ پریشانی اروند کیجریوال سے ہے۔ ٹیم انا میں کیجریوال کو وہ سب سے بڑا روڑا مانتی ہے۔ اب ان کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ اروند کیجریوال کو بھارتیہ محصولاتی سروس سے 2006 میں دئے گئے استعفے کو مرکزی حکومت نے اب تک منظوری نہیں دی تھی۔ سروس شرطوں کے مطابق مرکزی حکومت نے وقت سے پہلے نوکری چھوڑنے کے لئے ان سے 3 لاکھ روپے کی مانگ کی تھی۔ اب یہ رقم بڑھ کر 9 لاکھ روپے ہوگئی ہے۔ کیجریوال نے اس میں چھوٹ کے لئے درخواست دی تھی جس پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ سرکارسے سیدھے ٹکراؤ کے بعد مرکزی سرکار کا محکمہ پرسنل کیجریوال کے استعفے کا معاملہ پھر سے کھول سکتا ہے۔ محصولاتی سروس کے افسر کے طور پر کیجریوال نے سال2000ء میں دو سال کی ’اسٹڈی لیو‘ لی تھی۔ اس دوران مرکزی سرکار کے قواعد کے مطابق انہیں تنخواہ نہیں دی گئی تھی۔ اس مدت کے بعد انہوں نے دو سال بغیر تنخواہ کے تعلیمی مطالع چھٹی لی تھی۔ سروس شرطوں کے مطابق چھٹی سے لوٹنے کے بعد کم سے کم تین سال نوکری کرنی پڑتی ہے لیکن کیجریوال نے اس سے پہلے ہی 2006 ء میں استعفیٰ دے دیا۔ ایسے میں ڈی او پی ٹی نے ان سے 3 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ کیجریوال نے پھر درخواست کی کہ ان کے پاس اتنی رقم نہیں ہے اس لئے انہیں اس میں چھوٹ دے دی جائے۔ مگر اب تک محکمے نے اس پر کوئی قطعی فیصلہ نہیں لیا۔ حالانکہ استعفے کے فوراً بعد کیجریوال کو اس سے بڑی رقم میگسیسے ایوارڈ کے طور پر ملی تھی۔
جمعہ کے روز اروند کیجریوال نے الزام لگایا کہ انہیں9 لاکھ روپے کی ادائیگی کا نوٹس سیاسی آقاؤ کے اشارے پر بھیجا گیا ہے۔ لوکپال کے مسئلے پر انا کے ذریعے انشن کرنے سے دس دن پہلے انکم ٹیکس نے 5 اگست کو کیجریوال کو ایک نوٹس بھیجا۔ نوٹس میں کیجریوال سے ان کے انکم ٹیکس کمیشنر رہتے مطالع چھٹی پر جانکاری کی میعاد کی تنخواہ اور اس پر لگے سود اور قرض کے اوپر دوبارہ سود سمیت بقایا رقم کو ملا کر کل 9.27 لاکھ روپے کی ادائیگی کرنے کو کہا گیا ہے۔کیجریوال نے کہا انکم ٹیکس محکمے نے میرے دو سال چھٹی پر رہنے کے دوران تعمیل رہے بانڈ کی غلط تشریح کی گئی ہے۔ میں نے بانڈ کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ انکم ٹیکس محکمے نے یہ نوٹس سیاسی آقاؤں کے دباؤ میں بھیجا ہے۔ہزارے کے ایک دوسرے ساتھی ورکر پرشانت بھوشن نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سرکار نے سبق نہیں لیا اور وہ گھناؤنے طریقے اپنانے پر اترآئی ہے۔ قابل ذکر ہے انکم ٹیکس محکمے سے کیجریوال کو بھیجے گئے نوٹس میں ان سے دو سال کی تنخواہ کی شکل میں 3.54 لاکھ روپے او ر اس پر سود کی شکل میں4.16 لاکھ روپے کمپیوٹر کے قرض کی بقایا رقم کی شکل میں 51 ہزار روپے اور اس پر سود کی شکل میں 1.04 لاکھ روپے کی ادائیگی کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس طرح انہیں 9 لاکھ سے زائد روپے کی رقم دینے کو کہا گیا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Kiran Bedi, Prashant Bhushan, Lokpal Bill,

02 ستمبر 2011

اگلا ایجنڈا چناؤ اصلاحات کا ہونا چاہئے


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 3rd September 2011
انل نریندر
 لوکپال کے اشو پر انا ہزارے نے پہلی لڑائی جیت لی ہے۔ اب ٹیم انا کا اگلا ایجنڈا چناؤ اصلاحات کا ہوگا۔ اس کے اشارے وہ خود دے چکے ہیں۔ رام لیلا میدان میں انا نے کہا تھا کہ دیش کو کرپشن سے پاک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ چناوی عمل میں وسیع اصلاحات کی جائیں۔ ورنہ جو نیتا ایک ایک چناؤ میں 10-10 کروڑ روپے خرچ کرڈالتے ہیں ، ان سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ سیاست میں سادھو سنت بنے رہیں۔ انا نے دو اشو دئے ہیں۔ پہلا ’’رائٹ ٹو رجیکٹ‘‘ دوسرا ہے ’’رائٹ ٹو ری کال‘‘یعنی چناہوا نمائندہ عوام کے حساب سے کام نہ کرے تو اسے بیچ میں ہی واپس بلانے کا حق ووٹروں کے پاس ضروری ہونا چاہئے۔ میں نے بہت عرصے پہلے یہ بات اسی کالم میں سپرد قلم کی تھی۔ جرمنی میں یہ سسٹم نافذ ہے اور موجودہ حکومت اسی کے تحت بنی ہے۔ رائٹ ٹو جیکٹ کا دباؤ سارے ممبران پارلیمنٹ پر ضرور بنے گا۔ ابھی تو یہ ہورہا ہے کہ ایک بار وہ چناؤ جیت کر آجائیں تو انہیں اگلے پانچ سال تک جنتا کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ صرف پارلیمنٹ معطل نہ ہو اور انہیں دوبارہ چناؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے یہ ہی ایک تشویش رہتی ہے۔ جھارکھنڈ سے آزاد ممبر پارلیمنٹ اندر سنگھ نام دھاری نے کہا کہ انا کی دونوں مانگوں میں سب سے پائیدار مانگ ’’رائٹ ٹو رجیکٹ‘‘ ہے۔ اس سے سیاست میں دبنگئی اور کالی کمائی پر روک لگ سکتی ہے۔ دیش میں سب سے زیادہ ووٹر نوجوان ہیں۔آج کا نوجوان طبقہ بیدار ہوچکا ہے اور وہ کہتا ہے سیاست میں جرائم کا بول بالا ختم ہو۔ انا کی اس مانگ سے سیاست میں صاف ستھری ساکھ کے لوگوں کو ہی داخلہ ملے گا۔ نام دھاری نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو واپس بلانے کیلئے جے پرکاش نارائن کی اپیل دیش میں مقبول ہوچکی ہے۔ حالانکہ ابھی یہ ٹیڑھی کھیر ہے۔ پنچایتوں میں دیکھا جاتا ہے کہ عوام کے نمائندوں کو واپس بلانے کی سہولت ہے۔ لیکن ایک بار چناؤ ہونے کے بعد عوام کے نمائندوں کو فی الحال واپس بلانا اس لئے ناممکن ہے کیونکہ قانون میں کوئی ایسی شق نہیں ہے جس کے تحت انہیں واپس بلایا جاسکے۔ کانگریس کی طرف سے کہا گیا ہے ’رائٹ ٹو رجیکٹ‘ ایک عام معاملہ نہیں ہے کیونکہ بڑی تعداد میں ووٹر ووٹ نہیں ڈالتے۔ انہوں نے کہا کہ آج ووٹر بیدار ہوا ہے۔ انا کی تحریک کے بعد حالات بدلے ہیں۔ ممبران پارلیمنٹ کا خیال ہے انا کا ’رائٹ ٹو رجیکٹ‘ یعنی ووٹ کے وقت بھی امیدوار کی ناپسند کا متبادل کی عوامی تحریک زیادہ طاقتور ہوسکتی ہے۔ حکومت اگر جھک گئی تو ممبران پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ سیاست کرنا مشکل ہوجائے گا۔ انا کے ساتھی اروند کیجریوال فرماتے ہیں کہ چناؤ اصلاحات کو لیکر لوگ جلد ہی ایک ایجنڈا جنتا کے سامنے لائیں گے۔ ان کی کوشش رہے گی کے اگلے سال میں دیش کی چناوی تصویر بدل جائے۔ چناؤ اصلاحات کا ایجنڈا جن لوکپال سے بھی زیادہ پائیدار ہے۔ ایک طرح سے یہ تو موجودہ سسٹم میں تبدیلی کا ایک حصہ ہے۔ اس کے لئے پورے دیش میں ایک ساتھ تبدیلی کی مشعل جلانے ہوگی۔ تبھی سیاسی پاٹیوں پر کارگر دباؤ بن پائے گا۔ کیونکہ اس تبدیلی کیلئے کئی آئین ترامیم بھی کرنی پڑ سکتی ہیں۔ ٹیم انا نے امید لگائی ہوئی ہے کہ 26 جنوری سے پہلے لوکپال قانون بن جائے گا۔ کیجریوال کو اب یہ اندیشہ نہیں ہے کے جنتا کے دباؤ کو دیکھنے کے بعد حکومت کے لوگوں میں اس میں کوئی گڑ بڑی کرنے کی ہمت ہوگی۔
یہ مناسب ہی ہے کہ چناؤ اصلاحات کے سلسلے میں انا کے ذریعے اٹھائے گئے اشوز پر بحث ہو۔ یہ بحث تبھی رفتار پکڑنی چاہئے کیونکہ بدعنوانی کی بنیادی وجہ خرچ ہوتی ہے۔ لیکن یہ ایک سچائی ہی ہے کہ لوک سبھا اسمبلی انتخابات میں امیدوار بے تحاشہ پیسہ خرچ کرتے ہیں اور چنے جانے کے بعد اس سے دوگنا روپیہ کمانے کے چکر میں لگ جاتے ہیں۔ یہ مان کر چلتے ہیں کہ اگر اگلا چناؤ وہ کسی سبب ہار بھی جاتے ہیں تو ان کے پاس اتنا پیسہ ہونا چاہئے کہ ان کا سیاسی بنواس ٹھیک طرح سے کٹ جائے۔ اس لئے وہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کے چکر میں رہتے ہیں۔ عام طور پر یہ جائز طریقے سے پیسہ کمایا جاتا ہے دراصل اس کے سبب کالی کمائی کے کاروبار پر روک لگانے کے لئے منموہن سرکار کوئی ٹھوس پہل نہیں کررہی ہے۔ چناوی عمل کو کالی کمائی سے آزاد کرنے کے لئے طرح طرح کی تجاویز سامنے آچکی ہیں۔ ان میں سے ایک تجویز یہ ہے چناؤ کا خرچ سرکاری خزانے سے ہو۔ابھی حال میں راہل گاندھی نے بھی یہ تجویز رکھی تھی کہ چناؤ کمیشن اس سے متفق نہیں ہے۔ اسے یہ خطرہ ہے کہ اس سے مسئلہ اور زیادہ پیچیدہ ہوجائے گا۔ چیف الیکشن کمشنر اس تجویز کو اس لئے خطرناک نظریہ مانتے ہیں کیونکہ انہیں اندیشہ ہے کہ امیدوار سرکاری خزانے سے ملے پیسے کے ساتھ ساتھ اپنے پیسے کا بھی استعمال کریں گے۔ سیاسی پارٹیوں کو چناؤ اصلاحات کی مخالفت کرنے کی جگہ موجودہ ماحول کو سمجھتے ہوئے چناؤ اصلاحات کی سمت میں آگے بڑھیں۔ کیونکہ بدعنوانی کی طرح سے عام جنتا اسے بھی طویل عرصے تک اب برداشت کرنے والی نہیں ہے۔ دیش کو سمت دینے والی سیاست نامناسب وسائل پر ٹکی ہو جب سیاست کی ساکھ صاف ستھری نہیں ہوگی تو پھر وہ دیش کا بھلا کیسے کر سکے گی۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Daily Pratap, Elections, Right to Recall, Right to Reject, Vir Arjun

15 ستمبر سے دہلی میں سٹی زن چارٹر نافذ ہونے والا ہے


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 3rd September 2011
انل نریندر
دیش بھر میں کرپشن کے خلاف تحریک چلانے والے گاندھی وادی سماجی کارکن انا ہزارے کی تحریک رنگ لانے لگی ہے۔ دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت کی حکومت نے دہلی میں سٹی زن چارٹر کو15 ستمبر سے نافذ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس طرح دہلی پہلی ریاست ہوگی جہاں یہ لاگو ہوگا۔ اگر یہ سٹی زن چارٹر صحیح طور پر نافذ ہوتا ہے تو دہلی والوں کو روز مرہ کے درپیش مسائلمیں کمی ضرور آئے گی۔چھوٹے چھوٹے کام پراہم کاموں میں جو کرپشن چلتا ہے اس پر لگام ضرور لگے گی۔ دہلی والوں کو راشن کارڈ ،جیون مرن سرٹیفکیٹ، محکمہ محصول سے وابستہ سرٹیفکیٹ طے وقت پر ملیں گے۔ متعلقہ محکموں کو طے شدہ وقت پر یہ کام کرنا ہوگا۔ ایسا نہ کئے جانے پر افسروں پر جرمانہ ہوسکتا ہے۔وزیراعلی شیلا دیکشت کا کہنا ہے 15 ستمبر سے اس قانون کو سختی سے لاگو کیا جارہا ہے۔ دہلی حکومت نے 28 مارچ کو دہلی سٹی زن بل 2011ء (Right of Citizens to time-bound delivery of services Act 2011) وقت پر شہریوں کو خدمات کی فراہمی کا قانون2011ء کا حق۔ اس بل سے وابستہ سارے قاعدے بنا دئے گئے ہیں ویسے تو حکومت نے مختلف محکموں میں کئی سرٹیفکیٹ، لائسنس وغیرہ دینے کے لئے وقت اور میعاد طے کررکھی ہے لیکن یہ قاعدہ حکومت کے علاوہ نئی دہلی میونسپل کونسل ،دہلی میونسپل کارپوریشن پر بھی نافذ العمل ہوگا۔ لیکن ان کا فائدہ لوگوں کو اس لئے نہیں مل رہا تھا کیونکہ اس کام کو کرنے والے افسر کے خلاف کوئی کارروائی کی تجویز نہیں تھی۔ نئے قانون بن جانے سے متعلقہ محکمے کے افسر کو مقررہ میعاد میں کام کرنا ہوگا ورنہ اس پر جرمانہ ہوگا۔
نئے قانون کے مطابق اگر کسی شخص کو محکمہ محصول وغیرہ سے کوئی سرٹیفکیٹ لینا ہے تو وہ درخواست دے گا۔ اگر طے وقت کے اندر سرٹیفکیٹ نہیں ملا تو افسر سے شکایت کرے گا۔ شکایت صحیح پائے جانے پر اس محکمے کے سرٹیفکیٹ بنانے والے افسر پر جرمانہ لگایا جائے گا۔ جرمانے سے بچنے کے لئے افسر طے وقت میں سرٹیفکیٹ بنانے کی کوشش کرے گا۔ اگر سرٹیفکیٹ بنانے میں کوئی تکنیکی پہلو یا پیچ آتا ہے تو نوڈل افسر اس کی جانچ کرے گا لیکن سب کچھ صحیح پائے جانے کے بعد سرٹیفکیٹ نہیں بنا تو متعلقہ افسر کی عدم صلاحیت کے بارے میں اے سی آر (سالانہ خفیہ رپورٹ) میں بھی ا س کی کارکردگی درج کرا دی جائے گی جس سے اس کا پرموشن اور ترقی متاثر ہوگی۔ محکمے کا کہنا ہے کہ ہم سارا کام آن لائن سے بھی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ شکایت بھی آن لائن کی جاسکے گی اور بعد میں سرٹیفکیٹ بھی آن لائن دیا جا سکے گا۔ ان خدمات میں اے پی ایل، بی پی ایل راشن کارڈوں کو بنوانا اور تصدیق اور ایس سی ، ایس ٹی اور او بی سی سرٹیفکیٹ بنانا، رہائشی سرٹیفکیٹ بنانا، لرننگ لائسنس بنانا، گاڑی رجسٹریشن، جیون مرن سرٹیفکیٹ بنانے کے علاوہ دیگر سبھی ضروری اہم خدمات شامل ہیں۔ اگر طے وقت میں کام نہیں ہوتا تو متعلقہ قصور وار ملازم پر 10 روپے سے200 روپے تک تک جرمانہ لگایا جاسکے گا۔ ہم سمجھتے ہیں ایسا سٹی زن چارٹر جہاں تک ہوسکے سبھی سروسز پر لگایا جانا چاہئے۔ لیکن شکایت اور اپیل کے سسٹم پر خاص طور پر غورکئے جانے کی ضرورت ہے کیونکہ معاملے کہیں بھی لٹک سکتے ہیں۔10 روپے کا جرمانہ بھی آج کے زمانے میں بہت کم ہے۔ بیشک انا ہزارے کی ایک مانگ پوری ہوگئی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس پر عمل درآمد کیسا ہوتا ہے؟ قانون تو اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن اگر اس کو صحیح سے لاگو نہیں کیا گیا تو نتیجہ پھر وہی صفر ہوگا۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Citizen Charter, Corruption, Daily Pratap, Delhi Government, Vir Arjun

01 ستمبر 2011

کھیل تنظیموں پر لگام والے بل کا یہی حشر ہونا تھا


Published On 2nd September 2011
انل نریندر
جب بات سیاستدانوں پر لگام کسنے کی ہو تو بھلا بات کیسے بن سکتی ہے؟ جی ہاں منگل کے روز وزیر اعظم کی موجودگی میں ہوئی کیبنٹ کی میٹنگ میں قومی کھیل ڈیولپمنٹ بل کا جو حال ہوا اس سے تو یہ ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اپنی سرگرمیوں پر یہ کھیل مٹھادھیش کسی بھی طرح کی روک لگانے کی مخالفت جم کر کرتے ہیں۔ انہیں اس بات کی بھی پرواہ نہیں کہ کیبنٹ میٹنگ کا چیئرمین کون ہے۔ غالباً یہ پہلی بار ہوا ہوگا جب وزیر اعظم منموہن سنگھ کو اپنی ہی کیبنٹ میں ایک سیاسی چیلنج ملا ہو۔ وزیر کھیل اجے ماکن نے ماہ فروری میں اعلان کیا تھا کہ بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) سمیت تمام کھیل فیڈریشنوں کو ایک نئے ضابطے کے تحت لانے کیلئے وزیر ایک بل لائے گی۔ منگل کے روز کیبنٹ میں اجے ماکن نے یہ بل رکھا تھا۔ اس میں یہ تجویز بھی تھی کہ بی سی سی آئی بھی آر ٹی آئی قانون کے دائرے میں آئے تاکہ اس میں زیادہ شفافیت دکھائی پڑے۔ وزارت نے کھیل فیڈریشنوں کے وابستہ عہدیداران کے لئے زیادہ تر عمر اور میعار کے کنٹرول کے بھی قواعدرکھے۔ دیش کی کھیل کی حالت اور سمت طے کرنے کیلئے تنظیموں کی لگام کسنے کے مقصد سے لائے گئے اس بل کی یہ بری حالت طے ہی تھی کیونکہ کھیل تنظیموں کو بے لگام دوڑارہے کئی سیاسی دھرندروں کو یہ اپنا کھیل بگاڑنے کا اوزار نظر آرہا تھا۔ ظاہر ہے کہ ایسے میں کیبنٹ کی میٹنگ میں اس بل کے مستقبل طے کررہے سیاسی کھلاڑیو ں کے ہاتھ سے اسے ہری جھنڈی کیسے مل جاتی۔ بل کو لیکر سب سے زیادہ ناراض وزیر زراعت شرد پوار تھے۔ وہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیئرمین ہیں۔ وہ اس تجویز سے خاصے خفا تھے کہ کھیل فیڈریشنوں کو عہدیداران کے لئے70 سال سے زائد عمر طے کردی گئی ہے۔ بزرگ ہوگئے پوار نے عمر کی حد کی اس تجویز پر وزیر کھیل کے طریقے پر سوال اٹھائے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے میں انہوں نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ اگر 70 سال کی عمر کے بعد مانا جاتا ہے کہ کوئی کام ٹھیک سے نہیں ہوسکتا تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کمرے میں 70 سال کی عمر پار کر گئے کسی شخص کو نہیں ہونا چاہئے تھا۔ لیکن انہوں نے تنقید کی کہ وہ تو70 پارکرچکے ہیں۔ وزیر مالیات پرنب مکھرجی نے وزیر اعظم کی جانب دیکھتے ہوئے یہ تبصرہ کیا تھا۔فاروق عبداللہ بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ کیبنٹ میں اس بل کو لیکر شرد پوار ، پرفل پٹیل، کملناتھ اور ولاس راؤ دیشمکھ نے بھی اپنا احتجاج ظاہر کیا اس لئے وزیر اعظم کو وزیر کھیل سے یہ کہنا پڑا کہ اس بل کا ڈرافٹ دوبارہ لائیں اور اس میں سے وہ تجویز ہٹا دیں جن کولیکر ساتھی وزیر ناراض ہیں۔ وزیر کھیل اجے ماکن نے شفافیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ وزیر اعظم ، وزیر داخلہ پی چدمبرم نے بل کی حمایت کی لیکن پوار،کملناتھ، سی پی جوشی ،ولاس راؤ دیشمکھ ، پرفل پٹیل جیسے کئی نیتاؤں کے احتجاج نے راستہ روک دیا۔ خیال رہے سی پی جوشی راجستھان کرکٹ بورڈ کے ولاس راؤ دیشمکھ ممبئی کرکٹ بورڈ کے جبکہ پٹیل بھارتیہ فٹ بال فیڈریشن میں بطور چیئرمین قابض ہیں۔ اس سے پہلے وزیر پارلیمانی امور و بی سی سی آئی کے ڈپٹی چیئرمین راجیو شکلا نے بھی اس پر اعتراض ظاہر کیا۔ اپوزیشن کے انوراگ ٹھاکر و وجے کمار ملہوترہ بھی احتجاج میں شامل تھے۔ اس واقعے کے سلسلے میں کئی سوال کھڑے ہوگئے ہیں جو بل وزیر اعظم، وزیر مالیات ، وزیر خزانہ کی خاص پہل پر لایا گیا ہو اس پر کیبنٹ کے پانچ وزیروں نے بلڈوزر چلا دیا ہو، یہ معمولی بات نہیں مانی جاسکتی۔ اس سے وزیر اعظم کی اپنی کیبنٹ پر پکڑ کے سوال بھی کھڑے ہوتے ہیں۔ کیونکہ کیبنٹ میں شرد پوار کا یہ کہنا کہ اس کمرے میں بھی تو70 سال کے بزرگ بیٹھے ہیں ، سیدھے طور پر وزیر اعظم کو چیلنج تھا۔ پوار یہاں تک نہیں رکے انہوں نے یہ بھی دھمکی دے دی کہ اگر کیبنٹ میںیہ پرستاؤ منظور ہوگیا تو وہ اس معاملے کی شکایت یوپی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی کے پاس لے جائیں گے۔ پوار کے تیور دیکھ کر پرنب مکرجی بھی حیرت زدہ رہ گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مجوزہ بل کے خلاف بھاجپا کے ارون جیٹلی، وجے کمار ملہوترہ، یشونت سنہا، انوراگ ٹھاکر جیسے سرکردہ نیتا بھی ہیں کیونکہ یہ لوگ بھی کئی کھیل تنظیموں میں دہائیوں سے گھس پیٹھ بنائے بیٹھے ہیں۔ وزیراعظم کے لئے اتنا ہی غنیمت رہا کہ اپوزیشن اس معاملے میں حکومت کو گھیرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ جو گنے چنے نیتا اس کی حمایت کررہے تھے ان میں لالو پرساد یادو، کیرتی آزاد۔ کھیل ڈولپمنٹ بل کی کئی شقیں ایسی ہیں جو برسوں سے کھیل تنظیم کی کرسی سنبھال کر ملائی کھا رہے سیاسی دھرندروں کا پتا صاف کرسکتی ہیں۔ مجوزہ بل نے کھیل کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ خاص کر کرکٹ کی دنیا میں۔ سنیل گواسکر جیسے سرکردہ کرکٹر نے کہا کہ اگر بی سی سی آئی کو کچھ چھپانا نہیں ہے تو وہ آر ٹی آئی کے دائرے میں آنے سے اتنا کیوں گھبراتی ہے۔ کپل دیو کا کہنا ہے جب بی سی سی آئی سرکار سے کوئی گرانٹ نہیں لیتی تو اسے آر ٹی آئی میں کیسے لیا جاسکتا ہے؟ دراصل مجوزہ بل میں سی بی سی آئی کو آر ٹی آئی کے دائرے میں لانے کی بات کہی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں کرکٹرز کو بھی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے تحت لانے کی سہولت ہے۔ بی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ اس بل کے ذریعے حکومت اسے اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کررہی ہے جبکہ حکومت کی دلیل ہے کہ وہ اسے جوابدہی اور شفاف بنانا چاہتی ہے۔ غور طلب ہے کہ بی سی سی آئی اپنے آپ میں ایک مختار ادارہ ہے جو اپنا فنڈ خود ہی اکٹھا کرتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ سرکار سے وہ ٹیکس میں چھوٹ یا دیگر دوسری سہولتیں لیتی رہتی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے اس تنظیم پر کئی طرح کے الزام لگ رہے ہیں۔ خاص طور پر آئی پی ایل انعقاد میں وہ سوالوں کے گھیرے میں رہی ہے۔ اس لئے کئی لوگ مانگ کرنے لگے ہیں کہ کرکٹ جیسے سب سے مقبول کھیل کو چلانے والی اس تنظیم کے کام کاج میں شفافیت لائی جائے تاکہ پورا دیش اس پر نظر رکھ سکے۔ ہندوستان کا کرکٹ محض ایک کھیل نہیں ، یہ دیش کی سوشل لائف کے ساتھ دیش کی معیشت کو بھی اچھی طرح سے متاثر کرتا ہے۔ اس لئے اس سیکٹر کو بغیر کسی ریگولیشن کے چھوڑنا ٹھیک نہیں ہے۔ اگر نیشنل اسپورٹس ڈیولپمنٹ بل پاس ہوا تو بی سی سی آئی کا درجہ بھی دیش کی دیگر کھیل فیڈریشنوں کے برابر ہوجائے گا اور اسکا کنٹرول بھی انہیں کی طرح ہوگا۔ لیکن کرکٹروں کے ایک طبقے کی دلیل ہے کہ بی سی سی آئی کو اور فیڈریشنوں کی طرح بنانا ہوگا۔یہ سمجھداری والا قدم نہیں ہوگا۔ فیڈریشنوں میں بیشک کچھ خامیاں ہیں لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ انہوں نے کھیلوں کو کہاں تک پہنچایا ہے۔ آج کھیل کی دنیا میں بھارت کا نام ہے یہ کچھ حد تک اس لئے بھی ممکن ہوا کیونکہ بی سی سی آئی نے بغیر کسی مداخلت کے اپنے طریقے سے کام کرکے انعام دیکر بھارتیہ کرکٹ کو دنیا کی اول ٹیموں میں سے ایک بنایا ہے۔ اسی طرح اور کھیل بھی ہیں جن کی کارکردگی پچھلے ایشیائی کھیلوں میں دیکھنے کو ملی ،مگر اس پر کنٹرول لگانے کی کوشش کی تو ہو سکتا ہے اس کا بھی منفی اثر کھیلوں پر پڑے۔ دراصل دونوں فریق اپنے اپنے مضبوط دلائل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس لئے ہڑبڑی میں کچھ کرنا خطرنا ک ہوسکتا ہے۔ اگر بی سی سی آئی جیسے ادارے کو آر ٹی آئی کے دائرے میں لانا ہے تو پہلے اس قانون میں ترمیم کی ضرورت پڑے گی۔ اس مسئلے پر مزید بحث درکار ہے۔ سبھی فریقین کی رائے جان کر ہی کوئی فیصلہ لینا بہتر ہوگا۔

30 اگست 2011

انا کیلئے عوامی ہجوم کیوں اترا یہ سمجھناچاہئے





Published On 31st August 2011
انل نریندر
انا ہزارے کی تحریک سے کئی سبق ملتے ہیں۔ یہ ایک عجب تحریک تھی جس نے سارے دیش کو ایک بار ہلا کر رکھ دیا۔ سارے طبقوں ،مذاہب، فرقوں سبھی کو ملادیا۔ برسوں کے بعد مڈل کلاس کے لوگ سڑکوں پر اترے۔ اپنی گاڑیوں سے اترپر رام لیلا میدان میں صفائی کررہے ، کھانا کھلا رہے ، ان لوگوں نے شاید اس سے پہلے کبھی بھی یہ سب نہیں کیا ہوگا۔ وہ مڈل کلاس جو ووٹ نہیں دیتا وہ12 دن تک رام لیلا میدان میں انا کے ساتھ کھڑا دکھائی دیا۔ اس تحریک میں دیش کا ہر طبقہ شامل تھا۔ بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ موم بتی مارچ کرنے والے لوگ وہ ہیں جوکبھی ووٹ ڈالنے بھی نہیں جاتے۔ مگر یہ سب کہنے والے بھول جاتے ہیں کہ دیش کا یہ ہی طبقہ انتخابات میں آپ کو نظرانداز محسوس ہوتا ہے۔ جس طرح چناؤ ذات پات اور علاقائیت جیسے مسئلوں پر جیتے جاتے ہیں وہاں دیش کا یہ شہری طبقہ اپنے آپ کو اقلیت میں محسوس کرتا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کی تعداد مٹھی بھر ہے اور وہ چناؤ میں اپنا کوئی کردار ہی نہیں مانتے۔ مگر اب انہیں لگ رہا ہے کہ کم سے کم ہمارا کردار اس قانون کو بنانے میں تو ہے جو کرپشن پر لگام لگا سکے۔ وہی بدعنوانی جو دیش کو پوری طرح سے گھن کی طرح کھا گئی ہے، اس تحریک نے ان میں ایک سنجیدگی پیدا کی ہے۔
دانشوروں اور سیاسی پنڈتوں کو بھی یہ بات حیرت میں ڈال رہی ہے کہ جو جنتا یوم آزادی یا یوم جمہوریہ کو ایک چھٹی کے دن کی طرح سے دیکھتی ہے اسے اس تحریک میں ایسا کیا نظر آیا کہ وہ بغیر بلائے رام لیلا میدان کی طرف دوڑ پڑی۔ آج بیشک بھاجپا اس بات کا سہرہ لینے کی کوشش کررہی ہے کہ انا تحریک آخر کامیاب کرانے میں اس کا اہم کردار رہا۔ بیشک رہا بھی، اگر بھاجپا کھلے عام اعلان نہیں کرتی کہ وہ انا کی تینوں شرطوں کو بغیر کسی قباحت کے قبول کرتی ہے اور حمایت کرتی ہے تو شاید حکومت اب بھی اتنی آسانی سے ہار نہیں ماننے والی تھی۔ بھاجپا کے قدم نے انا کا پلڑا بھاری کردیا لیکن بھاجپا کو یہ سوال اپنے سے ضرور پوچھنا چاہئے کہ اتنے برسوں سے وہ کرپشن کو اشو کیوں نہیں بنا پائی۔ آخر انا اسے اشو بنا لے گئے؟ حکومت نے بھی جنتا کی پکار و جنتا میں بے چینی کو ہمیشہ نظر انداز کیا۔ کرپشن اور مہنگائی سے دبی ہندوستان کی جنتا چیخ چیخ کر پکارتی رہی کہ کچھ کرو، کچھ کرو۔ لیکن کانگریس پارٹی اور حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ہمارے سیاستداں اپنے کو تسلی دینے کے لئے یہ دلیل دینی شروع کردی کہ کرپشن اب کوئی اشو نہیں رہا ہے۔
سیاستدانوں کا یہی خیال تھا کہ جنتا نے ترقی کے نام پر کانگریس کو ووٹ دیا اور کرپشن اب جنتا میں قابل قبول ہوچکا ہے۔ یعنی کرپشن اب نہ اشو بنایا جاسکے گا اور نہ ہی کرپشن کے خلاف بھارت میں کوئی تحریک چل سکتی ہے لیکن محض ساتویں کلاس پاس رائے گن کے ایک سنت نے سیاسی پانڈتوں کی ساری تھیوریوں کو ناکام کردیا۔ انا کی اپنی صاف ستھری ساکھ اور سیدھی آواز نے لوگوں کے دل کو چھولیا اور وہ سڑکوں پر آگئے۔ انا کی تحریک کامیاب ہونے کے پیچھے سب سے بڑی وجہ تھا ان کا اپنا بھروسہ ۔ اور اس کے پیچھے سبب تھا انا کا اخلاقی قد اور ان کی بے غرضی اور انا کی غیر جانبدار شخصیت۔ انا ہزارے کو دیکھ کر عام آدمی کو یہ لگا کہ یہ 73 سالہ شخص اپنے لئے جدوجہد نہیں کررہا ہے بلکہ یہ ان کے لئے محاذ آرا ہے جب کوئی سیاستداں انہی باتوں کو کہتا ہے تو جنتا اس کا مطلب دوسرا نکال لیتی ہے۔ اسے پتہ ہوتا ہے کہ موقعہ پڑنے پر یہ پارٹی یا ستداں بھی وہی برتاؤ کرے گا جس کے خلاف وہ تقریر کررہا ہے۔ سیاستدانوں پر سے جنتا کے اٹھتے بھروسے کا ہی نتیجہ ہے سیاسی پارٹیوں کو اپنی ریلیوں میں 10-20 ہزار کی بھیڑ اکٹھے کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑتا ہے۔ پارٹی چھٹ بھیا نیتاؤں پر بھی بھاری بھیڑ اکٹھے کرنے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ چائے ،ناشتے اور گاڑیوں کا انتظام کیا جاتا ہے۔ ان نیتاؤں کا قد پارٹی میں ان کے ذریعے اکٹھے کردہ بھیڑ سے ہی طے ہوتا ہے۔ اور انا کی تحریک میں جنتا خود اپنے خرچ پر اپنا کھانا پینا لیکر خدمت کے جذبے سے آئی، اسے کسی نے مجبور نہیں کیا۔ سیاستدانوں کو اس تحریک سے سبق لینا چاہئے اور انا کی کامیابی کوسنجیدگی سے بلاغرض سمجھنا چاہئے۔ پتہ نہیں اب بھی ان کو سمجھ آئی ہے یا نہیں؟

انا کی تحریک! سنسد میں نوجوان برگیڈچھائی رہی




Published On 31st August 2011
انل نریندر
سنیچر کو لوک سبھا میں جب انا کی تین شرطوں پر بحث چل رہی تھی تو ایک بات خاص طور پر سامنے آئی۔ وہ یہ تھی کہ دونوں کانگریس اور بھاجپا نے اپنی نوجوان پیڑھی کو آگے کرکے انہیں بولنے کا اور اپنی بات رکھنے کا موقعہ دیا۔ وہ اتنی اہم بحث میں اپنا ہنر دکھا سکیں۔ کانگریس کے نوجوان ممبر پارلیمنٹ سندیپ دیکشت اپنی والدہ محترمہ شیلا دیکشت کی چھایا سے بھی باہر نکل آئے۔ انہوں نے اپنے دم خم پر آگے بڑھنے کا جو فیصلہ کیا وہ لائق تحسین ہے۔ سندیپ دیکشت نے نہ صرف اپنی پارٹی میں اپنا قد بڑھایا ہے بلکہ اپوزیشن نے بھی کئی بار ان کی دلیلوں سے اتفاق ظاہر کیا۔ جب انا کو گرفتار کیا گیا تھا تو سندیپ پہلے ممبر پارلیمنٹ تھے جنہوں نے کھلے طور پر کہا تھا یہ غلط ہوا ہے۔ پہلے دن سے ہی وہ صلاح صفائی میں لگ گئے تھے۔ جب ایتوار کو ولاس راؤ دیشمکھ وزیر اعظم کا خط لیکر رام لیلا میدان پہنچے تو ان کے ساتھ پارٹی اور حکومت نے سندیپ دیکشت کو بھیج کر یہ واضح کردیا کہ اب ان پر کتنا بھروسہ ہے۔ سندیپ دیکشت کے تئیں سب کی نظروں میں عزت بڑھی ہے اور یہ ان کے آگے کام آئے گی۔ ادھر ورون گاندھی کو اتارنے کے پیچھے بھاجپا کا خاص مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ ان کا گاندھی انا ہزارے کی تحریک اور عوامی جذبے کے زیادہ قریب ہے۔ اس سے پہلے ورون گاندھی نے ٹیم انا کے عوامی لوکپال کو بطور پرائیویٹ ممبر بل لوک سبھا میں لانے کی کوشش کی تھی۔ وہ رام لیلا میدان بھی گئے تھے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ورون گاندھی نے سشما سوراج کے ساتھ پارٹی کے دوسرے مقرر کے طور پر بحث کی دفعہ کے برعکس بیان دے ڈالا۔ جہاں سبھی مقررین نے بار بار پارلیمنٹ کی سرداری اور پارلیمانی جمہوریت کی اپیل دوہرائی وہیں ورون گاندھی نے ٹیم انا کے نمائندوں کی زبان بولتے ہوئے کہا کہ بیشک قانون پارلیمنٹ میں بنتے ہیں اور ممبران پارلیمنٹ کا مخصوص اختیار ہے مگر عوام بالاتر ہے۔ اس سے پہلے ایوان میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے اپوزیشن کی لیڈرمحترمہ سشما سوراج نے جمعہ کے روز راہل گاندھی کی تقریر پر سخت اعتراض کیا۔ ان کا الزام تھا کہ راہل گاندھی نے جو کہا اس سے انا ہزارے کا انشن ختم کرنے کیلئے پارلیمنٹ کی اپیل کے لئے کئے کرائے پر پانی پھر گیا ہے۔ کانگریس کے دوسرے مقررین تھے نوجوان وزیر جوترادتیہ سندیہ۔
انہوں نے سول سوسائٹی کو اہمیت دینے کیلئے سونیا گاندھی کو سہرہ دیا ہے۔ اور ان کوششوں میں بھاجپا کے کردارپر بھی سوال اٹھایا۔ راشٹریہ لوک دل کی جانب سے متھرا کے ممبر پارلیمنٹ جینت چودھری نے اپنی بات رکھی۔ انہوں نے ٹیم انا کے تمام مطالبات کی حمایت کی ہے۔ اس سے کئی دیگر پارٹیوں کے نوجوان ممبران پارلیمنٹ میں بھی جوش پیدا ہوگیا۔ انہوں نے بھی اسپیکر صاحبہ سے موقعہ دینے کیلئے پرزور درخواست کی تھی۔ ان میں سپا کے نیرج شیکھر و دھرمیندر یادو اور بسپا کے دھننجے سنگھ قابل ذکر ہیں۔ پروین سنگھ سرن نے اناکا جن لوکپال بل پارلیمنٹ کی اسٹیڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش کیا۔ پریہ دت، سنجے نروپم، ملند دیوڑا، سچن پائلٹ وغیرہ نوجوان ممبران نے انا کی حمایت کی اور حکومت اور پارٹی پر دباؤ بنایا۔ کل ملاکر انا کی تحریک پر پارلیمنٹ میں ہوئی بحث میں نوجوان برگیڈ ہی چھائی رہی۔

انا ہزارے کی تحریک اور میڈیا کا کردار



Published On 30th August 2011
انل نریندر
سنیچر کے روز لوکپال بل پر ٹیم انا کی تین شرطوں پر پارلیمنٹ میں ہوئی بحث میں میڈیا کے کردار پر بھی تبصرہ کیا گیا ہے۔اس کے کردار کو لیکر اکثر ناراضگی جتانے والے جنتادل متحدہ کے شرد یادو اور آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد یادوسنیچر کو بھی اپنی بات کہنے سے نہیں چوکے۔ ان دونوں نے ایک آواز سے ایک دوسرے کے سُر میں سُر ملاتے ہوئے کہا کہ انا کی پوری تحریک میڈیا کی دین ہے۔ زمین سے جڑے جدوجہد کرنے والے سماجوادی نیتا شرد یادو نے انا کے تین مطالبات پر لوک سبھا میں ہوئی بحث کے دوران نہ صرف اتفاق رائے ظاہر کیا بلکہ انہوں نے کہا کہ انا ہزارے ایماندارانہ تحریک چلانے والے ایک سرکردہ شخصیت ہیں۔ میں ان کی عزت کرتا ہوں لیکن ان سے شکایت بھی ہے ۔ انہوں نے ان 12 دنوں میں کبھی بھی مہاتما پھولے کو یادنہیں کیا۔ شرد یادو کا کہنا تھا کہ انا کو ان کے آس پاس کے لوگ اور میڈیا گمراہ کررہا ہے۔ ان کی اس مہم کو اپنی ٹی آر پی بڑھانے کے لئے الیکٹرانک میڈیا ہوا دے رہا ہے۔ یہ حالت ہوگئی ہے کہ ڈبہ(ٹی وی) رات بھر بجتا رہتا ہے۔ پورے دیش میں کہیں باڑھ سیلاب تو کہیں غریبی سے تباہی مچی ہوئی ہے لیکن اس ڈبے کو فرصت نہیں۔ انہوں نے سرکار سے کہا اسے آپ فرصت دلائیے۔ آپ انا کی باتوں کو مان کر اپنی رضامندی ڈبے والوں بھیج دیں تاکہ یہ بند ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ رام لیلا میدان میں رات میں جو بھی بھیڑ دکھائی جاتی ہے اس میں زیادہ تر وہاں گھومنے اور پکنک منانے کے لئے جارہے ہیں۔ پہلے لوگ بوٹ کلب جایا کرتے تھے اب رام لیلا میدان جارہے ہیں اور میڈیا انہیں بار بار دکھا کر اپنی ٹی آر پی ریٹنگ بڑھا رہا ہے۔ شرد یادو نے کہا کہ چار مہینے سے ڈبہ بج رہا ہے۔اس ڈبے سے بہت دقتیں ہیں۔ یہ چینل انا سے اتنے زیادہ متاثر ہیں کہ انہیں دیش میں آئے سیلاب تک کی خبر دکھانے کی ضرورت نہیں محسوس ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پچھلے دس سال سے کسی چینل پر نہیں گئے۔ انہوں نے وہاں بیٹھے جتن پرساد اور سچن پائلٹ سے پوچھا کہ تم لوگ تو عقلمند ہو کیوں ان کے بلاوے پر چلے جاتے ہو؟ انہوں نے ایک چینل خاص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ڈبے میں بنگالی بابو مشائے تو بات ہوئے اتنے جارحانہ ہوجاتے ہیں کہ لگتا ہے منہ ہی نوچ لیں گے اور دوسروں سے بھی نیتاؤں کا منہ نچواتے ہیں۔ اب تو انا کی باتیں مان کر ان چینلوں سے ہمیں نجات دلواؤ۔ اس پر ممبران نے میزیں تھپتھپا کر ان کا حوصلہ بڑھایا۔
ہم شرد یادو صاحب کا بہت احترام کرتے ہیں لیکن ان کی دلیلوں سے متفق نہیں ہیں۔ میڈیا وہی کرے گا جو جنتا چاہے گی اور اسی کے چلتے میڈیا اپنے فیصلے کرنے کا حقدار ہے اور یہ بات پچھلے 15 روز میں ثابت ہوچکی ہے۔اس دوران ٹی وی دیکھنے والوں کی ریٹنگ بڑھی ہے۔ انا کی تحریک نے ساس بہو یا کھیل کے چینلوں پر یا دیگر سیریلوں کے چینلوں کی مقبولیت کا گراف گرادیا ہے۔ لوگ نیوز چینلوں کے سامنے چپکے رہے۔ کھیل چینل 33 فیصد اور ہندی سنیما کے چینلوں کے4 فیصدی ناظرین گھٹے ہیں۔ اس کے برعکس ہندی نیوز چینلوں کے ناظرین میں6 فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ ہندی کے اسٹارنیوز نے تین کروڑ ناظرین کا اعدادو شمار پار کرلیا ہے تو انگریزی میں ٹائمس ناؤ زبردست ہٹ ہوا ہے۔ ایسا سب کچھ اس لئے کیونکہ جنتا بیدار ہے، سمجھدار ہے اور اسے میڈیا میں اپنی بات کے تئیں آواز چاہئے۔ جنتا کا غصہ مجبور کررہا ہے کہ چینل اور اخبار اس کی سوچ پر بے دھڑک اور بے خوف بات کیا کریں۔ میں خود پچھلے 15 روز سے صرف انا کی تحریک کے بارے میں اپنے پہلوؤں پر ہی اپنے خیالات دے رہا ہوں اور کسی موضوع پر لکھنے کا دل ہی نہیں چاہا۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر دیش میں جمہوریت مضبوط ہورہی ہے ، اگر دیش میں لوگوں کو اظہار آزادی کا بھرپور موقعہ مل رہا ہے تو بھلا میڈیا اپنے مضبوط کردار کو کیوں نہیں نبھائے گا۔ جو لوگ میڈیا پر انگلی اٹھا رہے ہیں وہ کہہ رہے ہیں انا کی تحریک تو بنیادی طور پر میڈیا کی تحریک ہی ہے۔ ایسے دانشوروں سے پوچھا جانا چاہئے کہ اگر دیش میں سماجی تبدیلی لانے والی کسی تحریک میں میڈیا مثبت رول نبھا رہا ہے تو کیا وہ جمہوریت اور دیش واسیوں کے لئے خراب ہے؟ کیا اس سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے یا اس کی جڑیں کھوکھلی ہورہی ہیں؟ کسی دیش میں جمہوریت کی کامیابی کی کسوٹی یہ ہی ہوتی ہے کیا؟۔ یہ سمت میڈیا بھی ریفلٹ کررہا ہے۔اگر جمہوریت کے تئیں میڈیا کا رویہ مثبت اور سرگرم کردار والا نہیں ہے تو ایسے میں جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی۔ جہاں بھی میڈیا کی سرگرمی ہے وہاں جمہوریت زندہ ہے ۔ آخر تمام طاقتور سازشوں کے باوجود امریکہ جیسے ملک میں بار بار یہ میڈیا تو ہے جو اجاگر کرتا ہے کہ کس طرح صدر نکسن نے واٹر گیٹ اسکینڈل کروایا تھا۔ کس طرح امریکہ کی آتنک واد کے خلاف لڑائی میں امریکی فوجی مارے جارہے ہیں۔ یہ میڈیا ہی ہے جس نے گوانتاناموبے جیل میں عراق کے لوگوں سے کچھ امریکی فوجیوں نے غیر انسانی سلوک کیا۔ یہ میڈیا ہی ہے جو انگلینڈ میں میڈیا مغل روپرڈ مارڈوک کو بیک فٹ پر جانے کیلئے ہی نہیں بلکہ شارے عام طور سے معافی مانگنے اور میڈیا کے ایک قدیم اور مقبول اخبار کو بند کرادیا۔ یہ میڈیا ہی ہے جس نے پاکستانی فوج کے کچھ افسروں کی سانٹھ گانٹھ کا پردہ فاش کیا اور اس کی بھاری قیمت بھی وہاں کے صحافیوں کو چکانی پڑ رہی ہے۔اس لئے یہ سوچنا یا کہنا کہ میڈیا کے طور طریقے صحیح نہیں ہیں غلط ہیں۔ اگر میڈیا سرگرم نہیں ہوگا ،اگر میڈیا بڑھ کر اپنا کردار نہیں نبھائے گا تو جمہوریت مضبوط نہیں ہوگی۔ حکومتیں کارپوریٹ دنیا کیا میڈیا کا اپنے مفادات اور اغراز کو آگے بڑھانے کے لئے استعمال نہیں کرتا؟سب سے تعجب کی بات تو کھل کر ان سوشل نیٹورکنگ سائٹوں میں دیکھنے کو ملی جہاں لوگ بہت ہوشیاری سے یہ رائے زنی کررہے تھے کہ میڈیا تو اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا نظریہ ہی ہوتا ہے اور یہ بھی کے میڈیا کے پاس کوئی مسئلہ نہیں اس لئے وہ انا ہزارے کی تحریک کو ہوادے رہا ہے ۔دنیا میں جتنی بھی تبدیلی یا بڑی تحریکیں چلی ہیں وہ تحریک عام طور پر کامیاب تبھی ہوئی جب ان میں میڈیا بڑھ چڑھ کر اور سرگرم کردار نبھانے کیلئے کھل کر سامنے آیا ہے۔ یہاں تک کہ شکل میں بالشوک انقلاب کو بھی میڈیا زبردست حمایت دے رہا تھا اور امریکہ میں مارٹن لوتھر کنگ کے ذریعے چلائی گئی سیاہ فام تحریک کو بھی میڈیا نے زبردست حمایت دی تھی۔ تبھی امریکی گورے اس سطح پر جھکنے کو تیار ہوئے تھے کہ وہ سیاہ فاموں کو بھی یکساں طور پر دو قدم اپنے ساتھ مل کر چلنے پر مجبور ہوئے۔ حالیہ دہائیوں میں جنوبی افریقہ کی نسل پرستی تحریک کو بھی اگر پوری دنیا میں مقام ملا اور جنوبی افریقہ کی گوری سرکار نسل پرستی کے مسئلے پر جھکنے کو تیار ہوئی تو اس کی بڑی وجہ صرف اور صرف یہ ہی تھی کہ میڈیا نیلسن منڈیلا کی نسل پرستی کے خلاف تحریک کے ساتھ تھا۔ اگر میڈیا کی حمایت منڈیلا کو نہیں ملتی تو وہ جیل کی کوٹھری میں ہی سڑ رہے ہوتے۔ وہاں سے نکل کر غرور میں ڈوبے افریقہ کے ستارے مدھم نہ ہوتے۔ کیا میڈیا کے بغیر کسی سماج کا کم سے کم آج کی تاریخ میں تصور کرسکتے ہیں؟ اگر میڈیا شاندار واچ ڈاگ کا کردار نہیں نبھائے گا تو سرکارکیا نبھائے گی؟ کیا یہ ممبران پارلیمنٹ نبھائیں گے؟ سرکاریں اور سیاستداں کبھی بھی آزاد میڈیا کو برداشت نہیں کرتے۔ اکثر دیکھا جاتا ہے جب میڈیا کسی حکومت کی تعریف کرتا ہے تو وہ اچھا ہوجاتا ہے اور اگر وہ سرکار کی خامیوں کو اجاگر کرے تو وہ ولن بن جاتا ہے۔ یہ بدقسمتی ہی ہے کہ انا کی تحریک کو ہوا دینے کا الزام میڈیا پر لگایا جارہا ہے۔ میڈیا اپنا کام کررہا ہے جو دیش کے مفاد میں ہے۔ جن ملکوں میں جن وادی سیاسی پھیلاؤ اور سول سوسائٹی کو میڈیا کی حمایت نہیں ملتی وہاں جمہوریت کبھی پھول پھل نہیں سکتی۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Daily Pratap, Lokpal Bill, Parliament, Role of Media, Vir Arjun

28 اگست 2011

جنتا کی انا کے تئیں وفاداری اور حمایت میں کوئی کمی نہیں آئی


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 28th August 2011
انل نریندر
یوپی اے سرکار کو یہ سمجھنا چاہئے کہ انا کو مل رہی وسیع عوامی حمایت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سرکار کو اتنا اختیار نہیں ہونا چاہئے کہ کروڑوں نوجوانوں کے جذبات کی قدر نہ کرے۔ ایسا کرنا بھاری بھول ہوگی۔ جنتا کے انا کے تئیں جوش میں کوئی کمی نہیں آئی۔ کچھ حمایتی تو 16 اگست سے ہی رام لیلا میدان میں ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم یہاں تب تک ڈٹے رہیں گے جب تک انا انشن ختم نہیں کرتے۔’آ‘سے امرود اور انار پڑھنے والے بڑیاں بازار میں واقع نیتا جی سبھاش چندر بوس جونیئر ہائی سکول کے بچے پچھلے ہفتے سے ’آ‘ سے انا پڑ رہے ہیں۔ان کی اس لگن پر انا کا مطلب کیا ہے ، کا جواب ٹیچر دے رہے ہیں۔بدعنوانی سے لڑنے والا عدم تشدد کا جانباز ہندوستانی بری فوج کے چیف جنرل وی کے سنگھ جیسی شخصیت کا یہ کہنا کہ ہم ایک دلچسپ اور عدم تشدد کے دور سے گذر رہے ہیں اور اس لئے ہم جمہوریت اورجنتا کی طاقت کو گواہ بنا رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ جنتا اپنے ڈھنگ سے اپنی پریشانی بیان کررہی ہے۔ پیپلی لائیو کے مشہور آرٹسٹ رگھوویر یادو نے مہنگائی ڈائن کی دھن چھیڑ کر لوگوں کی تالیاں بٹوریں۔جیسے ہی مہنگائی ڈائن کا راگ چھیڑا تو تالیوں کی برسات شروع ہوگئی۔ مہنگائی اور کرپشن کے ناسور کے چلتے لوگوں کا جینا مشکل ہوگیا ہے۔ اب تک ایک طبقہ ایسا تھا جس نے انا کی تحریک کے خاص نکتے بدعنوانی پر ایک لفظ نہیں کہا تھا۔ صنعتی طبقہ بھی اس پر خوش ہے۔ ٹاٹا گروپ کے چیئر مین رتن ٹاٹا نے مانا کرپشن کے معاملے میں دیش کی حالت اور خراب ہوئی ہے۔ اگر آپ کرپشن میں شریک نہیں ہوتے تو آپ کا کاروبار پچھڑ جاتا ہے۔ سال1991 کی بہ نسبت ملک میں کرپشن بڑھا ہے۔ میں تیس ہزاری میں سول جج کے عہدے پر کام کرتا ہوں۔ یہ کہنا تھا تیس ہزاری عدالت میں سول جج اجے پانڈے کا ، جنہوں نے اپنی نوکری داؤ پر لگا کر رام لیلا میدان پہنچ کر جنتا اور سرکار کو حیرت زدہ کردیا۔ جج صاحب نے بتایا کہ جوڈیشری میں کس طرح کرپشن حاوی ہورہا ہے۔ بیچارے جج کے اس واقعہ کی رپورٹ ہائی کورٹ نے مانگی ہے اور ممکن ہے کہ ان پر قانونی کارروائی ہو۔
انا کی تحریک کئی معنوں میں تاریخی مانی جارہی ہے۔ جیسا عوامی سیلاب اس تحریک کو ملا ہے اس سے پہلے کبھی کسی بھی تحریک کو نہیں ملا تھا۔ گذشتہ ایتوار کو رام لیلا میدان میں انا کی رسوئی سے تقریباً ایک لاکھ لوگوں نے کھانا کھایا۔ جو رسوئی صرف 20 والٹنیئروں کے ساتھ شروع ہوئی تھی اب وہ ایک لاکھ لوگوں کو کھانا کھلا رہی ہے۔ ناشتے میں چائے ، پوری اور سبزی ملتی ہے۔ لنچ اور ڈنر پر چھولے چاول،راجما چاول،دال چاول دئے جاتے ہیں اور یہ سب رام لیلا میدان میں آرہے حمایتیوں کے چندے سے ہورہا ہے۔ کوئی تو گھی کے ٹین دے رہا ہے، کوئی چاول اور کوئی آٹے کی بوریاں ، کوئی آلو کے ٹرک ۔ زیادہ تر نقد چندہ اپنی مرضی سے دے رہے ہیں۔ بدعنوانی سے دوچار انا کی تحریک کی دل سے حمایت کررہے لوگ صرف رام لیلا میدان پہنچ کر نہ صرف انا کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں بلکہ ان کی تن من دھن سے سیوا میں لگے ہیں۔کوئی گھر سے کھانا لارہا ہے تو کوئی زبردستی ٹیم انا کو چندہ و عطیہ نقدی میں دے رہا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ٹیم انا رام لیلا میدان میں ابھی چندہ نہ دینے کا اعلان کررہی ہے لیکن حمایتی زبردستی میدان کے کاؤنٹروں پر پیسہ دینے کو بے چین ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ انا کی طرح انشن تو نہیں کرسکتے لیکن کم سے کم اپنی محنت کی کمائی کا کچھ حصہ انا کی تحریک میں لگا کر اپنے آپ کو کرپشن سے لڑنے والا سپاہی بنانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ صرف چندے کے پیسوں سے ٹیم انا کے پاس 50 لاکھ روپے سے زیادہ اکٹھا ہوچکا ہے۔ جہاں ایک طرف تو جنتا کا یہ جذبہ دیکھنے کو ملتا ہے وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کی حرکتوں نے سارے دیش کو شرمسار کردیا ہے۔ پولیس کی نرمی کا نا جائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ رام لیلا میدان میں انا کے حمایتیوں کی بھیڑ میں کچھ آوارہ لوگ لڑکیوں کو چھیڑنے اور فقرے کسنے اور یہاں تک کہ ان کو چھونے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ شراب پی کر ’میں انا ہوں‘ ٹوپی پہن کر پولیس کی پٹائی کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ ممکن ہے یہ چال ہے تحریک کے ماحول کو خراب کرنے کی لیکن جنتا پر ان سب باتوں کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے اور انا کی عوامی حمایت مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔


بارہویں دن بھی نہ ٹوٹاانا کا انشن


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 28th August 2011
انل نریندر
گاندھی وادی انا ہزارے کا انشن 12ویں دن اس وقت تک جاری تھا جب یہ سطور قلم بند ہورہی تھیں۔ حکومت اور ٹیم انا میں کچھ نکتوں پر اتفاق رائے بنتا دکھائی دینے کے آثار شروع ہو گئے تھے،جس سے امید بندھی ہے کہ انا ہزارے اپنا نشن کسی بھی وقت توڑ سکتے ہیں۔اس سے پہلے انا کی مانگ پر سرکار نے لوک سبھا میں جن لوکپال کے مسئلے پرپہلے تو قاعدہ 184 کے تحت بحث کرانا منظور کرلیا تھا لیکن ٹھیک بحث شروع ہونے سے پہلے سرکار پلٹ گئی اور بحث کو قاعدہ193 کے تحت کرانے کا فیصلہ کرکے معاملے کو مزید الجھا دیا۔ قاعدہ 193 میں کوئی ووٹنگ نہیں ہوتی اور رہی سہی کثر یووراج راہل گاندھی کی تقریر اور موقف نے پوری کردی۔ نتیجہ یہ ہوا انا کا انشن 11 ویں دن بھی نہیں ٹوٹ سکا ۔ اب سنیچر کو بحث شروع ہوگئی۔انا ٹیم اب اس بات پر بھی اڑی ہے کہ انا ہزارے اپنا انشن تبھی چھوڑیں گے جب ان کی تینوں مانگوں پر اتفاق رائے بنے۔ تازہ اطلاع یہ ہے کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں نے ہی تینوں مطالبات کو مان لیا ہے اور سرکار بھی مان گئی ہے۔اگر جن لوکپال بل دوسرے لوکپال تجاویز کے ساتھ سنیچر کو پیش کردیا جاتا ہے اور اس پر بحث ہوتی ہے تو ممکن ہے اس صورت میں اپنا انشن ختم کردیں لیکن وہ رام لیلا میدان میں ہی دھرنے پر بیٹھے رہیں گے۔ تب تک جب تک لوکپال بل پاس نہیں ہوجاتا۔ سنیچر کو ساری بحث راہل گاندھی کے بیان پر چلتی رہی۔ راہل نے اپنے بیان میں خبردار کرڈالا کہ شخصی فرمان سے پارلیمنٹ کی سپر میسی پر آنچ نہ آپائے۔ لوکپال بل پر 11 دن کے بعد اپنی خاموشی توڑتے ہوئے راہل گاندھی نے اپنے نظریئے کو بھی نامنظور کردیا کہ صرف لوکپال آجانے سے بدعنوانی ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے تجویزبھی رکھی کہ مرکزی چناؤ کمیشن کی طرح پارلیمنٹ کے تئیں جوابدہ ایک آئینی لوکپال بنایا جائے۔ راہل گاندھی کی تجویز تو اچھی ہے لیکن اس سے ابھی فی الحال کوئی مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ اس کام میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ راہل کی لائن سے سرکار اور کانگریس دونوں کا موقف کچھ حد تک واضح ہوگیا ہے اور یہ صاف اشارہ تھا کہ سرکار انا کے مطالبات ماننے کو تیار نہیں ہے۔ کم سے کم جس طریقے سے انا چاہ رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے جس انداز میں انا ہزارے پر حملہ بولا اس سے یہ کہا جائے کہ انہوں نے کچھ حد تک اپنا سیاسی مستقبل بھی داؤ پر لگادیا تو غلط نہ ہوگا۔ پارلیمنٹ میں د ئے گئے ان کے بیان سے جنتا میں جیسا تلخ رد عمل سامنے آیا ہے اس سے تو وہ کپل سبل ، چدمبرم اور منیش تیواری کی قطار میں کھڑے ہوگئے ہیں۔ خودکچھ کانگریسی نیتا کہہ رہے ہیں کہ راہل گاندھی کے پاس اپنی مقبولیت کو شباب پر پہنچانے کا یہ سنہرہ موقعہ تھا۔ انا کے پاس جاتے اور ان کے پیر چھوتے اور مرکزی سرکار اور انا کے درمیان پل کا کام کرتے۔ اس سے نہ صرف وہ نوجوانوں کے خیر خواہ بنتے بلکہ انا بھی اپنا انشن توڑدیتے۔ لیکن بدقسمتی سے ہوا اس کا الٹا۔ انہوں نے لوک سبھا میں انا کی تحریک کو جمہوریت کے لئے خطرہ بتا دیا۔ ایک سینئر کانگریسی نیتا کا تبصرہ تھا کہ پتہ نہیں یہ کس کانگریسی حکمت عملی ساز کے دماغ والا بیان تھا۔ بھلا ایک عدم تشدد تحریک جمہوریت کے لئے خطرہ کیسے ہوسکتی ہے؟ انہوں نے اسے پارلیمنٹ کے لئے خطرہ بتا دیا۔ انا کے حمایتیوں نے اس پر تلخ رد عمل ظاہر کرتے ہوئے راہل کے گھر پر زوردار مظاہرہ کرکے اپنا غصہ ظاہر کردیا۔ راہل کانگریس صدر بننے کی تیاری کررہے ہیں۔ دیش کا وزیر اعظم بننا ان کا مقصد ہے۔ اترپردیش اسمبلی چناؤ سرپر ہیں جہاں راہل گاندھی کا آزمائشی امتحان ہونا ہے۔ ایسے میں لوگوں کے درمیان ان کے تئیں نفرت پیدا ہونا ان کی سیاسی زندگی کے لئے کتنا خطرناک ہے؟ بتانے کی ضرورت نہیں۔ یہ پہلی بار نہیں جب راہل نے غلط مشیروں کی وجہ سے غلط وقت پر غلط بیان دیا ہے اور غلط کام کئے ہیں۔ جب پورا جن سیلاب دہلی میں امڑ رہا تھا تو ان کو کسانوں پر چلی ان کی سرکار کی گولی کے زخم دیکھنے پنے بھیج دیا گیا۔ ایک کانگریسی نیتا نے تو یہاں تک کہا ان کے اپنے ہی مشیر ان کی نیا ڈبونے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ مشیر پورے جن لوکپال تحریک پرنہ صرف انا اور دیش کی جنتا کو بے وقوف بنا رہے ہیں بلکہ راہل کو بھی دنیا کی نظروں میں بیوقوف بنا دیا ہے؟

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...