10 جون 2017

کٹرپسند سنی آتنکی تنظیم آئی ایس کا ایران میں حملہ

ایران میں 38 سال پہلے آئے 1979 ء کے انقلاب کے بعد بدھ کو پہلی بار بڑا دہشت گردانہ حملہ ہوا۔ دنیا کی سب سے خونخوار مانی جانے والی کٹر سنی دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) نے بدھوار کو ایک ساتھ ایران کی پارلیمنٹ اور مذہبی پیشوا آیت اللہ خمینی کے مقبرے پر حملہ کرکے اسلامک اسٹیٹ نے ایران میں بھی اپنی موجودگی درج کرادی ہے۔ چار حملہ آور فائرننگ کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں گھس گئے۔ سکیورٹی فورسز نے قریب ایک گھنٹے کی جدوجہد کے بعد چاروں آتنک وادیوں کو مار گرایا۔ جب پارلیمنٹ پر حملہ ہو رہا تھا تبھی خمینی کے مزار پر تین دیگر آتنک وادیوں نے حملہ کیا۔ ایک خاتون آتنکی نے کمر میں بندھے دھماکو سے خود کو اڑا لیا۔خمینی کے مزارپر بڑا دھماکہ ہوا ان حملوں میں 12 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 42 زخمی ہوئے۔ دو آتنک وادیوں کو زندہ پکڑ لیا گیا لیکن ان میں سے ایک نے سائنائڈ کھا کر خودکشی کرلی۔ پہلی بار آیت اللہ خمینی کے مقبرے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ شیعہ مذہبی پیشوا آیت اللہ خمینی نے ہی 1979ء ایران انقلاب کی قیادت کی تھی جس میں ایران سے راج شاہی ختم ہوئی تھی اور شاہ رضا پہلوی کودیش چھوڑنا پڑا تھا۔ اس کے بعد سے ایران میں شیعہ حکومت قائم ہے۔ بیشک یہ حملے مانچسٹر اور پھر لندن برج پر ہوئے حملوں کے ٹھیک بعد ہوئے ہیں ، اس لئے انہیں اسلامک اسٹیٹ کی بڑھتی عالمگیر سطح پر سرگرمی سے جوڑ کر دیکھا جائے گا، لیکن ایران میں آتنکی حملے کا اسلامک اسٹیٹ کے لئے الگ ہی مطلب ہے۔ یہ ٹھیک ہے مغربی دیشوں سمیت دنیا کی کئی طاقتیں اسلامک اسٹیٹ سے لوہا لینے کا دعوی کررہی ہیں لیکن اس کے خلاف سب سے زیادہ سرگرم ایران ہی ہے۔ ایک طرف وہ شام میں اسد کی شیعہ سرکار کو آئی ایس کے خلاف لڑائی میں سیدھی حمایت دے رہا ہے ،تو دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ اس نے ایک شیعہ ملیشیاکھڑی کردی ہے۔ اس انتہا پسند تنظیم کا ایک ہی مقصد ہے ایران میں شیعہ آبادی کو تحفظ دینا اور آئی ایس کے دانت کھٹے کرتے رہنا۔ قطر کو لیکر ان دنوں مغربی ایشیا میں جو سیاست رہی ہے اس کا تہران میں بدھ کے روز آتنکی حملے کا بھلے ہی کوئی سیدھا تعلق نہ ہو ، لیکن یہ دونوں چیزیں مل کر ایک ہی بات بتاتی ہیں کہ خلیج کے ملکوں کا مسئلہ لگاتار الجھتا اور پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ امریکہ کے صدر کے حالیہ سعودی عرب دورہ میں ایران کو کوسنا بھی اسی کڑی سے جڑتا ہے۔ یہ عجب اتفاق ہے کہ ادھر ٹرمپ ایران کو نشانہ بناتا ہے ادھر اسلامک اسٹیٹ ایران پر آتنکی حملہ کردیتا ہے؟ کچھ وقت پہلے جب مغربی ملکوں نے ایران کا بائیکاٹ ختم کیا تھا تو ایک امید بنی تھی کہ پرانے جھگڑے ختم ہوں سے کئی تجزیئے بدلیں لیکن ٹرمپ کے تازہ موقف نے ان پر پانی پھیر دیا ہے۔ سعودی عرب تو پہلے سے ہی ایران کو اپنی راج شاہی کے لئے دشمن نمبر ون مانتا ہے اور یہی امریکہ کی دوہری پالیسی ہے۔ امریکہ یہ نہیں طے کرپا رہا ہے کہ اس کی پہلی ترجیح اسلامک اسٹیٹ کو ختم کرنے کی ہے یا شام میں اسد حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی تھی۔ آج تلخ حقیقت یہ ہے کہ اسلامک اسٹیٹ اس وقت پوری دنیا کے لئے خطرہ بن چکا ہے۔ یہ سوچنا غلط ہے کہ ایران خود اس سے نمٹیں ۔ آئی ایس کو مددکون کررہا ہے ؟ یہی عرب دیش اس کی فنڈنگ کے سب سے بڑے ذرائع ہیں۔ دکھ اس بات کا بھی ہے کہ کئی اسلامی دیش آئی ایس کے خلاف کھڑے ہونے کے بجائے اپنے اپنے تنگ ذاتی مفادات کی تکمیل کے لئے ایک دوسرے کے خلاف کھڑے زیادہ دکھائی دے رہے ہیں۔ اگر مغربی ایشیا میں ایک طرف ایران اور امریکہ دوسری طرف روس اور امریکہ ایک دوسرے کے خلاف کھڑے دکھائی دیتے ہیں تو اس سے صرف اسلامک اسٹیٹ کو فائدہ ہوگا اور ہو رہا ہے۔ شیعہ ۔سنی لڑائی تو ہزاروں سال پرانی ہے ۔ تہران میں آتنکی حملہ اسی کی ایک توجہ ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ سبھی دیش مل کر سانجھہ حکمت عملی کے ساتھ آئی ایس سے ٹکر لیں اور جب تک یہ نہیں ہوگا نہ لندن محفوظ ہے اور نہ ہی فرانس، جرمنی اور مشرقی وسطی۔ حملے سے ایران جو اپنی سخت سکیورٹی پر فخرکرتا تھا اس کی بھی ایک طرح سے پول کھل گئی ہے۔
(انل نریندر)

دہشت کی پناہ گاہ پاک دوست کم خطرہ زیادہ

امریکہ کے ایک تھنک ٹینک نے تلخ تبصرہ کیا ہے کہ پاکستان اب بھی طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے وہ امریکہ کے لئے دوست کم اور خطرہ زیادہ بنا ہوا ہے۔ امریکی تھنک ٹینک سینٹر فور اسٹریٹیجک انٹر نیشنل اسٹڈیز کا کہنا ایک دم صحیح ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کو پاکستان کو معاون کے بجائے خطرے کے طور پر دیکھا چاہئے۔ پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردوں کی پناہ گاہ ہے۔ وہاں ٹریننگ پانے والے دہشت گردوں نے بھارت سمیت کئی مغربی ملکوں میں زبردست حملے کئے ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں حال ہی میں برطانیہ پرآتنکی حملہ کرنے والا فدائین پاکستانی نژاد تھا۔ پاکستان کا تو بھارت کے خلاف دہشت گردی کو سرکاری پالیسی کا حصہ بنا رکھا ہے۔ افغانستان میں خونی کھیل کھیلنے والے طالبان اور اس کے معاون حقانی نیٹ ورک کی پیٹھ پر پاکستان کا ہاتھ ہے۔ پھر بھی امریکہ اور اس کے ساتھی دیشوں نے پاکستان کے تئیں مطلوب سختی نہیں دکھائی ہے۔ اس تھنک ٹینک نے ٹرمپ انتظامیہ سے کہا ہے کہ اسے اسلام آباد کو یہ واضح کردینا چاہئے اگر پاکستان نے دہشت گرد گروپوں کو اسی طرح حمایت دینا جاری رکھی تو اسے امریکی پابندیوں کا سامنا کرناپڑے گا۔ تھنک ٹینک نے یہ بھی کہا ہے کہ چین کو بھی واضح کردینا چاہئے کہ افغانستان اور پاکستان سے متعلق مسئلے سے نمٹنے میں چینی تعاون اور امریکہ اور چین دونوں کے مفاد میں ہے۔ بدقسمتی دیکھئے کہ امریکہ نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اپنا معاون بنایا ہوا ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ جو ہتھیار وہ اقتصادی مدد کے طور پر پاکستان کو دے رہا ہے اس کا استعمال یا توافغانستان یا بھارت کے خلاف ہوگا پھر بھی یہ مدد جاری ہے۔ دنیا کے سامنے دہشت گردی ایک بڑی چنوتی کے طور پر ابھری ہے۔ لندن میں حال ہی میں ہوئے دو حملہ آتنک واد کے خطرے کو ایک با پھر سے سامنے رکھتے ہیں۔ بھارت، امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی سمیت سبھی جمہوری ملکوں کی حالت کی سنجیدگی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اب تک اچھوتا رہاایران بھی اب آئی ایس کی زد میں آگیا ہے۔ آتنک واد کو حمایت دینے والے سبھی دیشوں جن میں پاکستان سب سے اول ہے کے خلاف ہر سطح پر زبردست مورچہ بندی کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ اگرچہ امریکہ پاکستان کو فوجی اور اقتصادی مدد بند کرتا ہے تو معاون مغربی دیش بھی اس کی تعمیل کرسکتے ہیں۔ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مدرگارچین ہے۔ چین پر کنٹرول کرنا بھی اتنا ضروری ہے ۔ پاکستان چین کے بلبوتے پر دندنتا ہے امریکہ کو سخت قدم اٹھانے ہوں گے۔
(انل نریندر)

09 جون 2017

کیاجی ایس ٹی نافذ کرنے کا ہوم ورک پورا کرلیاگیاہے

وزیر اعظم نریندر مودی نے نئی غیر بالواسطہ ٹیکس سسٹم گڈس اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) پر عمل درآمد کی تیاریوں کا جائزہ لیا ہے اور کہا کہ اس پر عمل سے دیش کی معیشت کیلئے فیصلہ کن موڑ ثابت ہوگا۔ دیش کی تاریخ میں اسے ایک غیر معمولی موقعہ قراردیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ایک قوم اور ایک بازار و ایک ٹیکس سسٹم کا ڈیولپمنٹ دیش کے عام شہری کے لئے بڑا فائدے کا ہوگا لیکن سوال یہاں یہ ہے کیا اس کے لئے ضروری ہوم ورک کیا جاچکا ہے ؟ کیا سبھی تیاریاں پوری ہوچکی ہیں؟ اس غیر بالواسطہ ٹیکس کے اس نئے نظام کو نافذ کرنے میں اب چند دن ہی بچے ہیں۔ اس درمیان انڈین بینک ایسوسی ایشن (آئی بی اے) نے اسے نافذ کرنے کی تیاریاں نہ ہونے کا حوالہ دے کر سرکار کے سامنے ایک بڑی چنوتی کھڑی کردی ہے۔ آئی بی اے بینکوں کے طریقہ کار سسٹم میں تبدیلی کی کارروائی پوری نہ ہونے کی جو دلیل دے رہا ہے اسے صرف مضحکہ خیز ہی کہا جاسکتا ہے۔ بینکوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ جی ایس ٹی سسٹم کو نافذ کرنے کی قواعد برسوں سے جاری ہے۔ یہ اشو سرکار کیساکھ کا سوال بن گیا ہے۔ دوسری طرف بھاجپا ایم پی ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے موجودہ اقتصادی حالات کو جی ایس ٹی لاگو کرنے کے لئے نامعقول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے میں جی ایس ٹی کو دو سال کے لئے ٹال دیا جانا چاہئے ورنہ مودی سرکار کے لئے یہ واٹر لو ثابت ہوگا۔ سوامی نے جی ایس ٹی کولیکر اپنے خیالات ٹوئٹر پر شیئرکرتے ہوئے اس سلسلے میں دنیا کے مشہور اس واٹر لو اشو کی مثال دی ہے جس میں ونر مانے جانے والے فرانس کے راجا نے نیپولین بونا پاٹ کو آخر کار شکست خوار ہونا پڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کے بارے میں ایک مہینے پہلے ہی انہوں نے وزیر اعظم کو 16 صفحات کا خط لکھا تھا جس میں معیشت اور جی ڈی پی شرح میں گراوٹ کے 6 خطرناک پہلوؤں کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی ان کا یہی خیال ہے کہ موجودہ اقتصادی حالات اور مغربی بنگال کے وزیر مالیات امت مترا کی ان تجاویز کو دھیان میں رکھتے ہوئے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ جی ایس ٹی کو فوراً منظور کرنا مشکل ہوگا، کیونکہ اسے لیکر صنعتوں کی تیاری پوری نہیں ہو پائی ہے اور ضروری نیٹ ورک کا سروس فراہم کرنے والوں کی جانب سے پورا تجربہ بھی نہیں کیا گیا ہے۔ جی ایس ٹی کو یکم جولائی 2019ء تک کے لئے ٹال دیا جانا چاہئے ورنہ یہ سرکار کے لئے واٹر لو ثابت ہوگا۔ جی ایس ٹی کے بارے میں سوامی کا یہ تبصرہ جی ڈی پی کے تازہ اعدادو شمار کے پس منظر میں آیا ہے۔ ان اعدادو شمار میں ایسا اشارہ دیا گیا ہے کہ نوٹ بندی کے سبب معیشت کی رفتار دھیمی پڑی ہے۔ گذشتہ بدھوار کو جاری جی ڈی پی کے اعدادو شمار کے مطابق مارچ 2017ء میں ختم چوتھی سہ ماہی کے دوران جی ڈی پی گھٹ کر 6.1 فیصدی رہ گئی جبکہ پچھلے کی اسی سہ ماہی میں یہ 7 فیصدی ہوا کرتی تھی۔ جی ایس ٹی نافذ ہونے کے بعد مارکیٹ کس طرح ردعمل کرتی ہے یہ آج بھی نہیں کہا جاسکتا۔ کچھ مہینے تو اتنا کنفیوژن ہوگا کہ سمجھ میں نہیں آئے گا کہ کس چیز کی کیا قیمت ہوگی؟ اس میں کچھ اجناس کے دام بڑھیں گے تو کچھ کے گھٹنے کی امید ہے۔ جی ایس ٹی نافذ ہونے کے بعد کپڑا، سامان خا ص طور سے سوتی دھاگے اور فیبرک والے کپڑے مہنگے ہوجائیں گے۔ صنعتی دنیا کے ایک طبقے کا خیال ہے کہ سوتی اور سنتھیٹک فائبر کے لئے ٹیکس شرحوں میںیکسانیت کی تشریح سے متعلق اشو پیدا ہوں گے۔ فی الحال سبھی طرح کی سروسز پر قریب 15 فیصد ٹیکس لگتا ہے جبکہ اب زیادہ تر سروسز پر 18 فیصد جی ایس ڈی لاگو ہوگا۔ اسکول فیس، کوریئر، موبائل چارج، بیمہ پریمیم، وائی فائی، ڈی ٹی ایچ جیسی کئی ضروری خدمات مہنگی ہوجائیں گی۔ بیشک کچھ چیزیں سستی بھی ہوں گی لیکن عام طور پر مانا جارہا ہے کہ جی ایس ٹی سے مہنگائی بڑھے گی اس لئے سرکار کو اپنا ہوم ورک اچھے سے کرلینا چاہئے نوٹ بندی کی طرح جی ایس ٹی لانے میں جلدی نہیں کرنی چاہئے۔ دیش ابھی نوٹ بندی کی مار سے نہیں نکل پایا ہے کہ جی ایس ٹی کی مار پڑ گئی تو جنتا کی کمر ٹوٹ جائے گی۔
(انل نریندر)

ایران سے نزدیکی قطر کو بھاری پڑی

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ،بحرین اور مصر ان چاروں ملکوں نے اچانک جس طرح قطر سے سبھی سفارتی اور ٹرانسپورٹ سے متعلق تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے وہ بحران سے گھرے اس علاقے کیلئے ایک اور نئے بحران کی شروعات ہوسکتا ہے۔ ان دیشوں نے ایسا کرنے کے پیچھے دلیل دی ہے کہ قطر مسلم برادر ہڈ، القاعدہ اور آئی ایس جیسی دہشت گرد تنظیم اور کٹر پسند گروپوں کی مدد کررہا ہے۔ اور اس کے اس رویئے سے پورے خطے میں بے چینی کے حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔ جنہوں نے قطر کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے ان کا بھی دامن پاک صاف نہیں کہا جاسکتا۔ دراصل خلیج کے زیادہ تر ممالک اپنی اپنی پسند کے کٹر پسند اور دہشت گرد گروپوں کی مدد کرتے رہے ہیں۔ مثلاً شام میں سلفی گروپوں کو سعودی عرب سے مدد ملتی رہی ہے تو اسلامی برادر ہڈ کو ہتھیار بند تنظیم کو قطر سے۔ دہشت گردی کو حمایت دینے کے الزام میں قطر کے خلاف مورچہ بندی کا رہنما بنا سعودی عرب خود بھی دہشت گرد تنظیموں کی مدد کرنے کے الزامات سے گھرا ہوا ہے۔ خود امریکی اور برطانوی جانچ ایجنسیوں کی نظر میں اس کا رول بھی مشتبہ ہے، جن سے وہ بڑے پیمانے پر ہتھیار خریدتا ہے۔ برٹش امریکن سکیورٹی انفورمیشن کونسل کے سینئر ایڈوائزر ڈاکٹر یوسف بٹ کے مطابق پچھلی تین دہائیوں میں سعودی عرب سے غریب مسلم دیشوں میں کٹرپسند وہابی اسلام کو بڑھانے کے لئے 100 ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کی گئی ہے۔ سال 2010 میں وکی لکس نے اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور امریکی سفارتکاروں کے درمیان ہوئی بات چیت کے خفیہ دستاویز عام کئے تھے۔ 2009ء میں اپنے سفرا کو لکھا تھا کہ القاعدہ ،طالبان ، لشکر طیبہ کے لئے سعودی عرب مالی مدد کی اہم بنیاد بنا ہوا ہے۔ ان چاروں ملکوں کی ناراضگی کچھ اسلامی گروپوں کو قطر کی طرف سے مل رہی حمایت کو لیکر ہے۔ قطر اس کی تردید کرتا آرہا ہے، لیکن مصر اور کچھ دیگر دیشوں میں سرگرم مسلم برادر ہڈ سے ان کی قریبی دنیا جانتی ہے۔ سعودی عرب کی سب سے بڑی پریشانی یہی ہے کہ سنی تنظیم برادر ہڈ زیادہ تر عرب دیشوں میں موجود خاندانی حکومت یا راج شاہی کی کھل کر مخالفت کرتی ہے۔ سعودی عرب کا شاہی ابھی پرانی پیڑھی سے نئی پیڑھی کو اقدار سونپنے کے عمل میں ہے۔ ایسے میں مسلم برادر ہڈ کا پھیلاؤ اسے اپنے لئے کچھ زیادہ ہی خطرناک لگ رہا ہے۔ بہرحال ، دہشت گردی کی کئی شکلوں سے متاثر اس خطے میں سنیوں کا آپسی ٹکراؤ پہلی بار سطح پر دکھائی دے رہا ہے۔ آتنکی کٹر پسند تنظیموں کے نام نہاد مدد گار قطر تھے۔خلیجی عرب ملکوں سے الگ تھلگ پڑنے والے قطر کی ایک بڑی وجہ اس کی ایران سے قربت بڑھانے کی بھی ہے۔ قطر سے سفارتی رشتے توڑنے کا اعلان ایسے وقت میں کیا ہے اس سے پہلے27 مئی کو قطر کے حکمراں امیر بن حماد علی تھانی نے ایران کے صدر حسن روحانی کو فون کیا تھا۔ تھانی نے روحانی کو فون دوبارہ صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دینے کیلئے کیا تھا۔ یہ صاف طور پر سنی حکومت سعودی عرب کی خواہشات کے برعکس تھا۔ وہ شیعہ حکمراں ایران کو اپنا اول دشمن اور خطے کے استحکام کیلئے خطرہ مانتا ہے۔ وہ ایران کے خلاف قطر کو اپنی پوزیشن کے مطابق دیکھنا چاہتا ہے۔ قطر سے رشتے توڑنے والے دیشوں کے شہریوں کے لئے قطر کا سفر کرنے ،وہا ں رہنے یا اس سے ہوکر گزرنے پر پابندی ہوگی۔ ان دیشوں کے لوگ قطر میں رہ رہے ہیں انہیں 14 دن کے اندر قطر چھوڑنا ہوگا۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے خارجی دورہ کیلئے سعودی عرب کو چنا تھا۔ ٹرمپ کے ایران مخالف تیوروں سے بھی سعودی عرب کا حوصلہ بڑھا ہوگا۔ اب ٹرمپ بھلے ہی خلیجی ملکوں کو آپسی اختلافات دور کرنے کی نصیحت دے رہے ہوں لیکن ان کے ایران مخالف ایجنڈے کا ماحول بگاڑنے میں کم اشتراک نہیں ہے۔ دنیا کے باقی دیش اس ٹکراؤ میں کس حد تک کس کا ساتھ دیں گے یہ ابھی طے نہیں ہے لیکن قطر نے جھکنے کے کوئی اشارے نہیں دئے ہیں۔ نیچرل گیس اور تیل ذخائر کے معاملے میں دنیا میں تیسرا مقام رکھنے والا یہ چھوٹا سا دیش فی شخص آمدنی کے معاملے میں پوری دنیا میں نمبر ون ہے۔ اسے جھکانا آسان نہیں ہوگا۔ امید کی جاتی ہے یہ بحران جلد حل کر لیا جائے گا نہیں تو پوری دنیا پر اس کا برا اثر پڑ سکتا ہے۔
(انل نریندر)

07 جون 2017

پچھلے تین مہینے میں برطانیہ میں یہ تیسرا بڑا دہشت گردانہ حملہ ہے

ابھی برطانیہ مانچسٹر میں ہوئے دہشت گردانہ حملہ سے سنبھلا بھی نہیں تھاکہ پچھلی سنیچروار کی رات دہشت گردوں نے یکا یک کئی جگہ حملہ کرکے پھر سے اپنی ہمت کا ثبوت دے دیا۔ برطانیہ میں 15 دن کے اندر یہ دوسرا آتنکی حملہ یہ ثابت کرتا ہے کہ تمام چوکسی کے بعد بھی وہ دہشت گردوں پر لگام کس پانے میں ناکام رہا ہے۔ دراصل خود برطانیہ کی خفیہ ایجنسیاں مانتی ہیں کہ دیش بھر میں دہشت گردی کے قریب 23 ہزار مشتبہ آتنکی موجود ہیں۔ سرکاری ذرائع نے میڈیا سے یہ جانکاری شیئرکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مشتبہ کا رجحان کٹر پسندانہ سرگرمیوں کی طرف ہے اور وہ برطانیہ میں رہ رہے ہیں۔ ان میں سے قریب 3 ہزار مشتبہ افراد کو خطرے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ برطانیہ کی سکیورٹی ایجنسیاں چوکس نہیں ہیں پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے چلائے جارہے 500 سے زیادہ آپریشنز میں ان کی سرگرمی سے نگرانی رکھی جارہی ہے۔ چناؤ کے دہانے پر کھڑے برطانیہ کیلئے اس سے زیادہ بدقسمتی اور کچھ نہیں کہ اس کا تیسرا سب سے بڑا شہر مانچسٹر ابھی دہشت گردی کی چوٹ سے سنبھلا بھی نہیں تھا کہ دہشت گردوں نے راجدھانی لندن کو بھی خوف سے دہلا دیا ہے۔ لندن برج پر تیز رفتار گاڑی چلاتے ہوئے کچھ لوگوں کو کچل دینے اور بازارمیں کھڑی گاڑی سے اترکر لوگوں کو چاقوں گھونپنے کے طریقے جانے پہچانے اور خاص کر یوروپ میں دہشت گردوں کی بدلی ہوئی حکمت عملی کی مثال ہے، جن کے ثبوت حال کے دور میں بار بار مل رہے ہیں۔ برطانیہ میں اسی سال دہشت گردوں نے پارلیمنٹ کے باہر جو حملہ کیا تھا اس میں بھی گاڑی سے لوگوں کو کچلنااور چاقو مارنے کے ایسے ہی واقعات سامنے آئے تھے۔ تازہ دہشت گرد حملہ اس لئے بھی پریشان کرنے والا ہے کہ اسی وقت برطانیہ میں چمپئن ٹرافی جاری ہے جس میں ہندوستانی ٹیم بھی حصہ لے رہی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ حملہ آور پولیس کی گولی کا نشانہ بن گئے لیکن سوال یہ ہے کہ جب مانچسٹر میں حملہ کے بعد دیش کے دوسرے حصوں میں آتنکی حملے کا اندیشہ بڑھ گیا تھا تب پھر اس نئے حملے کو روکا کیوں نہیں جاسکا؟ برطانیہ میں لگاتار آتنکی حملہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ آئی ایس کو نشانہ بنانے والے اتحادمیں وہ بھی شامل ہے لیکن دہشت گردوں کا بار بار برطانیہ کو حملے کے لئے چننا اس دیش کی ساکھ اور سکیورٹی دونوں کو متاثر کررہا ہے۔ وزیر اعظم ٹیریزا نے ان حملوں کے فوراً بعد سخت تیور کا ثبوت دیا ہے کیونکہ وہاں 8 جون کو ہونے والے وسط مدتی چناؤ سے پہلے سکیورٹی نہ صرف ایک بڑا اشو بن چکا ہے بلکہ یہ ٹیریزا اور ان کی کنزرویٹو پارٹی کے خلاف بھی جا سکتا ہے۔ ٹیریزا نے وسط مدتی چناؤ کراکر جو جوا کھیلا ہے وہ اب الٹا بھی پڑ سکتا ہے۔
(انل نریندر)

ٹرینوں میں دولہن کے زیور چرانے ڈبے لوٹنے کے بڑھتے واقعات

سکیورٹی و وقت و تعمیل کومقصد ماننے والی ہندوستانی ریلوے میں 11 دن میں ہی مسافروں سے لوٹ مار، چوری و بدتمیزی سمیت دیگر 365 شکایتیں ریلوے بورڈ میں درج ہوچکی ہیں۔ گرمی کی چھٹیاں شروع ہوتے ہی ٹرینوں میں ریزرویشن اور جگہ نہ ملنے کے مسئلے سے لڑ رہے مسافروں کے ساتھ 15 سے25 مئی کے درمیان وارداتیں ہوئی ہیں۔ عام دنوں میںیومیہ 15 سے20 ایسی شکایتیں ریلوے کو ملتی رہتی ہیں لیکن اب یہ اعدادو شمار یومیہ 30 سے35 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔ ریلوے بورڈ کے پاس پہنچی کل 365 شکایتوں میں سے 245 شکایتیں موبائل، لیپ ٹاپ، لگیج، زیورات ، پاسپورٹ چوری ہونے، لٹیروں کا خوف اور ٹرین پر پتھر بازی ہونے، ملازم اور آرپی ایف جوانوں کے نشے میں ہونے وغیرہ سے متعلق ہیں۔ کئی ایسے واقعات بھی ہیں جن میں مسافروں نے شکایت نہیں کی ہے۔ اس معاملے میں ریلوے بورڈ میں آر پی ایف کے نگراں ڈائریکٹر جنرل (جرائم) پی کے اگروال کا کہنا ہے کہ شکایتوں کا تجزیہ کر ٹرینوں میں سکیورٹی کو لیکر جائزہ لیں گے۔ بے خوف لٹیرے کھلے عام مسافروں سے لوٹ مار ،مار پیٹ کررہے ہیں اور آر پی ایف دیکھتی رہی۔ایک خاتون دیپالی اروڑہ گوالیر سے شتابدی ایکسپریس سے دہلی آ رہی تھی، ٹرین آنے ہی والی تھی کہ کوچ میں ایک لڑکا آیا اور دیپالی کا بیگ لیکر بھاگا۔ دروازے پر آر پی ایف کا جوان تھا ، دیپالی چلاتی رہی لیکن اس نے چور کو پکڑنے کی کوشش نہیں کی۔ چنڈی گڑھ پریاگ ٹرین نمبر 14218 دہلی سے نکلتے ہی دو پستول لئے لڑکے جنرل کوچ میں آئے اور مسافروں کے لگیج سے قیمتی چیزیں نکالنے لگے۔ روکنے والوں کو ٹرین سے پھینکنے کی دھمکی دی۔ ایک مسافر ستیش کمار کی جیب میں پیسے نہیں ملے تو لگیج کھولا، وہاں بھی پیسے نہیں ملے تو پینٹ کھلوا دی۔ انڈرویئر میں چھپائے پیسے نکالنے کے بعد انہیں پیٹا۔ جودھپور۔ بنگلورو ٹرین نمبر 16507 کے S2 کوچ میں ایک دوسرے مسافر گلاب سنگھ نے شکایت میں بتایا کہ 19 مئی کو صبح سویرے 3 بجے پنے اور کراڈ اسٹیشن کے درمیان لٹیرے آئے اور لوگوں سے کہا کہ وہ قیمتی سامان نکال دیں۔ مسافر لٹیروں کو دیکھ کر ڈر گئے، مسافروں نے سکیورٹی ہیلپ لائن پر فون و ٹوئٹ کئے۔ لٹیرے پورا کوچ لوٹ کر چلے گئے لیکن کوئی مدد نہیں ملی۔ ایسے ہی جبلپور سے 6 مئی کو ایک لڑکی سونل کی شادی کرنے کے لئے ایک پریوار سری دھام ایکسپریس میں گوالیر سے روانہ ہوا، راستے میں ٹرالی بیگ کاٹ کر دولہن کے منگل سوتر سمیت 16 لاکھ کے سارے زیور چرا لئے اور 40 ہزار روپے نقدی ، اے ٹی ایم کارڈ بھی لے گئے۔ اس درمیان ریل منتری سریش پربھو نے ٹوئٹ کیا مسافروں کی سلامتی کو اولین ترجیح بتاتے ہوئے اسے یقینی کرنے کے لئے کئی قدم اٹھانا بتایا۔ لکھا ری ایکٹیو سے پروایکٹیو ہونے کی طرف گامزن ہے ریلوے۔ 
(انل نریندر)

06 جون 2017

ٹرمپ کی داد گیری سے ماحولیاتی بحران گہرا ہوجائے گا

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد سے ہی دنیا امریکہ کی امکانی خارجہ پالیسی کو لیکر الجھن میں تھی۔ ایک طرف ساری دنیا یوم عالمی ماحولیات منا رہی ہے تو دوسری طرف ٹرمپ نے پیرس آب و ہوا معاہدے کو مسترد کر یہ ظاہر کردیا ہے کہ بین الاقوامی معاملوں میں ان پربھروسہ کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ ڈیڑھ سال پہلے ہوئے پیرس میں ماحولیاتی معاہدے نے یہ یقین دہانی دی تھی کہ دنیا کی سبھی بڑی طاقتیں، یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے دیش بھی تپتی زمین پرراحت کیلئے چھینٹے ڈالنے کے لئے کمر کس رہے ہیں۔ اس معاہدے میں ایک طرف اگر امریکہ، چین، یوروپی یونین و ہندوستان جیسے ملک تھے تو دوسری طرف شام اور نکارہ گوا جیسے ملک بھی تھے لیکن اچانک ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ امید توڑدی۔ انہوں نے پیرس ماحولیاتی معاہدے سے امریکہ کو الگ کرنے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے معاہدے سے الگ ہونے کی دلیل دی کہ سمجھوتے سے 2025ء تک امریکہ میں 27 لاکھ نوکریاں چلی جائیں گی۔ نوکریاں بچانے کے لئے ہمیں اس سمجھوتے سے ہٹنا ہوگا۔ امریکہ کے الگ ہونے کے اعلان سے ڈیڑھ سال پرانے ماحولیاتی معاہدے پر ہی اندیشات کے بادل نہیں منڈرائے بلکہ دو دہائی سے زیادہ ڈپلومیٹک کوششوں کا وہ سلسلہ بھی خطرے میں پڑ گیا جس نے ایسے کسی معاہدے پر پہنچنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا تھا۔ آب و ہوا تحفظ کو لیکر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دقیانوس نظریئے کا تجزیہ اب صرف آنے والی پیڑھیاں کریں گی کیونکہ وہ ہی سمندری پانی کی سطح بڑھنے اور سنگین سوکھے سے متاثر ہوگی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے کاربن ایندھن سے ہونے والے اخراج کو سنجیدگی سے نہیں لیا تو پھر ہمیں سیلاب اور سوکھے سے متاثر مستقبل کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ البتہ اب یہ پوری طرح سے صاف ہوگیا ہے کہ راشٹرپتی ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں امریکہ کے دوست ممالک کے لئے کافی مایوس کن ہیں۔ امریکہ کے ایک کاروباری طبقے کے لئے چھلاوا ہے۔ اہمیت ترین صنعتوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے و امریکہ کی مقابلہ جاتی دوڑ کیلئے بڑا خطرہ ہے اور عالمی اہمیت کے اشوز پر امریکہ کی قیادت سے متعلق داؤں کو فلیتا لگانے والی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ امریکہ کو چھوڑ کر دنیا کے باقی دیش ابھی بھی اپنے عہد پر قائم ہیں۔ انہیں ابھی بھی یقین ہے کہ وہ زمین کے بڑھتے درجہ حرارت میں دو ڈگری سیلسیس تک کی کمی لائیں گے لیکن اس سے آب و ہوا تبدیلی کے مضر اثرات سے بچنا اس لئے مشکل ہوسکتا ہے کیونکہ ایک تو امریکہ ماحولیات کے لئے نقصاندہ گیسوں کے اخراج کے معاملے میں آگے آگے ہے اور دوسری طرف تبدیلی ہوا سے نمٹنے کیلئے ضروری قدم اٹھانے میں پہلے ہی دیر ہوچکی ہے۔
(انل نریندر)

کانگریس کا گرتا گراف دیش کے مفاد میں نہیں ہے

مودی سرکار کے تین برس پورے ہونے پر کانگریس نے بھلے ہی زبانی جنگ تیز کردی ہو لیکن وہ 2014 ء میں لگے مودی گرہن سے نہیں نکل پا رہی ہے اور اس کے ہاتھ سے ایک کے بعد ایک ریاستیں چھنتی جارہی ہیں اور کانگریس پارٹی مسلسل سکڑتی جارہی ہے۔ اس سے پارٹی کے مستقبل پر تو سوالیہ نشان لگتا ہی ہے ساتھ ساتھ دیش کے لئے یہ اچھا اشارہ بھی نہیں ہے۔ ایک اچھی جمہوریت کے لئے اگر مضبوط حکمراں فریق چاہئے تو اتنا مضبوط اپوزیشن بھی چاہئے۔ اگر اپوزیشن کمزور اور بے اثر ہوگی تو حکمراں فریق اپنی منمانی کرے گا۔ فی الحال کانگریس کے گرتے گراف پر روک لگانے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے۔ تین برس پہلے قومی سیاست میں مسٹر نریندر مودی کے نزول کے بعد سے کانگریس کے زوال کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ ابھی تک جاری ہے اور دیش میں جو ماحول ہے اس سے نہیں لگتا کہ اس پر جلد روک لگنے والی ہے۔ کانگریس کو بھی اس کا احساس ہونے لگا ہے اس لئے وہ اکیلاچلو کی اپنی پرانی پالیسی کو چھوڑ کر ریاستوں اور قومی سطح پر غیر بھاجپا سیکولر پارٹیوں سے ہاتھ ملانے کی کوششوں میں لگ گئی ہے۔ دیش میں 60 برس سے زیادہ حکومت کرنے والی کانگریس کو پچھلے لوک سبھا چناؤ میں ایسا مودی گرہن لگا کہ ایک کے بعد ایک چناؤ میں اسے شکست ملتی رہی ہے اور وہ سمٹتی جارہی ہے۔عام چناؤ میں وہ 543 میں سے صرف44 سیٹیں ہی جیت پائے تھی جس کے سبب اسے اپوزیشن کے لیڈر کا عہدہ بھی نہیں مل سکا۔ وہ پچھلے تین برس میں صرف ایک ریاست (پنجاب) میں برسر اقتدار آئی لیکن اس کے ساتھ ہوئے اترپردیش، اتراکھنڈ کے چناؤ میں زبردست ہار اور منی پور، گووا میں بڑی پارٹی ہونے کے باوجود سرکار نہیں بنا سکنے کے جھٹکے کے چلتے وہ اس جیت کا جشن نہیں منا سکی۔ دہلی میں لگاتار 15 سال تک حکومت کرنے والی دیش کی سب سے پرانی کانگریس پارٹی کا یہاں سے آج ایک بھی ایم پی یا ایم ایل اے نہیں ہے۔ پچھلے تین برسوں میں سبھی ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پچھلے عام چناؤ کے وقت کانگریس کی 11 ریاستوں میں حکومت ہوا کرتی تھی اس وقت وہ صرف 5 ریاستوں کرناٹک، پنجاب، ہماچل، میگھالیہ ،میزورم اور مرکزی زیر انتظام ریاست پڈوچیری میں اس کی سرکار ہے۔ بہار میں مہا گٹھ بندھن کی سرکار میں وہ شامل ہے۔ شری مودی کی مقبولیت کی بنیاد پر بھاجپا نے مہاراشٹر اور ہریانہ اور آسام جیسے کانگریس کے گڑھ کو مسمار کردیا ہے۔ آسام میں بھی مسلسل چناؤ جیتنے والی کانگریس کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ چناوی ہار کے ساتھ ساتھ کانگریس کو بغاوت کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بیشک اس کے چلتے اروناچل پردیش میں اسے اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا ۔ اترا کھنڈ میں بھی حالات ویسے ہی بن گئے تھے لیکن سپریم کورٹ نے اس کی سرکار بچا لی تھی وہاں حال ہی میں ہوئے چناؤ میں بھاجپا نے اسے دھول چٹا دی۔ اسمبلی چناؤ ہی نہیں مقامی بلدیاتی چناؤ میں بھی کانگریس کی ناقص کارکردگی کا سلسلہ جاری ہے۔ مہاراشٹر، اڑیسہ اور دہلی کے بلدیاتی چناؤ میں وہ بری طرح شکست خوار ہوئی۔ اڑیسہ میں بھاجپا اسے پچھاڑ کر دوسرے مقام پر آگئی ہے۔ ممبئی مہا نگر پالیکا چناؤ میں بھاجپا چوتھے مقام پر رہی۔ دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ میں وہ بھاجپا اور عام آدمی پارٹی کے بعد تیسرے مقام پر رہی۔ تلنگانہ کے مکھیہ منتری چندر شیکھر راؤ کو پریوار واد کی سیاست کرنے پر گھیرنے کے لئے کانگریس صدر نے کہا ہے تلنگانہ سرکار کی پوری سیاست کے سی آر اور اس کے پریوار کے ارد گرد گھومتی ہے۔ بیشک یہ صحیح ہے لیکن یہ ہی سوال کانگریس سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ نہرو گاندھی پریوار کے ارد گرد گھومنے والی کانگریس دوسروں پر یہ الزام لگائے تو صحیح نہیں ہے۔ اصلی حالت یہی ہے کہ آج کانگریس لیڈر شپ کی بھاری کمی ہے اور کوئی نیتا ایسا نہیں جو کانگریس کو اس دلدل سے نکال سکے۔ حقیقت میں گاندھی پریوار نے پچھلے29 سالوں میں کوئی کرسی نہیں سنبھالی ہے وہ اقتدار سے باہرہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ کانگریس محاسبہ کرے اور پارٹی کو صحیح لیڈر شپ و سمت فراہم کرے۔
(انل نریندر)

04 جون 2017

مودی کا دورہ روس اس لئے خاص ہے

وزیر اعظم نریندر مودی اپنے چار روزہ یوروپی ممالک کے دورہ کے تحت روس گئے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا دورہ روس بہت اہمیت کا حامل رہا۔ بھارت اور روس کے رشتے 70 سال پرانے ہیں حالانکہ بھارت کے امریکہ کے تئیں رجحان کے چلتے پچھلے کچھ برسوں میں روس کے ساتھ رشتوں میں کھنچاؤ رہا۔ مودی کے تازہ دورہ سے ان رشتوں میں معمولی سی آئی کڑواہٹ دور ہوگی۔ جغرافیائی نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ ہمارے لئے اور روس کے لئے بہت ضروری تعلق ہے اس کی جو بنیاد ہے وہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے جو آئینی مفادات ہیں انہیں ہم اچھی طرح سے سمجھتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کی تشویشات کو سمجھتے ہیں۔ پڑوسی دیش ہونے کے ناطے اس خطے میں جو کچھ بھی ہوتا ہے، ہو رہا ہے اس کا اثر دونوں دیشوں میں دکھائی پڑتا ہے۔ مودی کا روس دورہ بیحد اہم مانا گیا کیونکہ پوتن کے ساتھ ان کی اس ملاقات کو اکتوبر میں ہی بروسیلز چوٹی کانفرنس اور پھر یہیں 17 ویں ہند۔ روس سالانہ کانفرنس میں روسی صدر کی قیادت میں مسلسل ہورہی ہیں۔پڑوسی دیش ہونے کے ناطے اس خطے میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کا اثر دونوں ملکوں میں دکھائی پڑتا ہے اسے لیکر بھارت اور روس کے درمیان لمبی بات چیت بھی جاری ہے۔ اقتصادی محاذ پر بھی بھارت اور روس ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھتے ہیں۔ روس ایک بڑا دیش ہے۔ ان کے پاس کافی وسائل ہیں، بھارت کے پاس بھی وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ایک دوسرے کی ضرورت پوری کرنے کے لئے دونوں دیشوں کے درمیان آپسی تعاون ضروری ہے۔ سینٹ پیٹرس برگ میں پی ایم مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان اکیلے میں ہوئی ملاقات اور اس کے بعد باہمی بات چیت میں رشتوں میں آئی تلخی کو کافی حد تک ختم کردیا ہے۔ فوجی اور توانائی سیکٹر میں تعاون کے نئے باب جوڑے ہیں۔ پاکستان سے بڑھ رہی روسی دوستی کو لیکر مودی نے بھارت کی پریشانیوں سے بھی واقف کرایا اور پوتن نے انہیں مسترد کرتے ہوئے کہا پاک سے روس کا فوجی تعاون معمولی ہے۔ پچھلے برس روس نے پہلی بار پاکستان کے ساتھ فوجی مشقیں کی تھیں۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ بھارت کو انتہائی جدید ترین ہتھیارو ں کی سپلائی کرتا رہے گا۔ بھارت اپنی فوجی ضرورتوں کا 30 فیصد حصہ روس سے لیتا ہے۔ یہ بھی اتفاق رائے ہوا ہے کہ یوریشیا اقتصادی فیڈریشن کے ساتھ وعدہ کاروبار سمجھوتے پر بھی بات چیت آگے بڑھائی جائے گی۔ روس و اس کے پڑوسی دیشوں سے بھارت کا باہمی کاروبار تیزی سے بڑھ سکتا ہے، جو ابھی کافی کم ہے۔ نئی اقتصادی اور فوجی ضروریات کے پیش نظر بھارت اور روس اپنی دوستی کی بنیاد مضبوط کرنے کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں۔ روس نے بھارت میں نیوکلیائی توانائی پیدا کرنے میں مدددینے کی ٹھانی ہے تو بھارت روس کے اینرجی سیکٹر میں سانجھے دار بننے میں کافی دلچسپی لے رہا ہے۔ نئے عالمی کاروباری نظام اور فوجی ضروریات کی وجہ سے بھارت امریکہ کے نزدیک جانے کو مجبور ہوا ہے۔ وہیں روس نے اپنے ہتھیار اور انرجی صنعت کی ضرورت کے لئے پاکستان اور چین کو مدد دینے کی حکمت عملی بنائی ہے۔ اس سے دونوں کے رشتوں میں کشیدگی پیدا ہوئی ۔ مودی کے دورہ روس سے یہ کشیدگی کم ہوئی ہے اور آپسی تعاون کی گاڑی پٹری پر لوٹی ہے۔ بھارت اور روس کی دوستی کے 70 برس ہوچکے ہیں اس دوران روس بھارت کا سب سے بڑا معاون دیش رہا ہے۔ وقت کے تقاضوں نے بھارت کو امریکہ سے نزدیکی بڑھانے کو مائل کیا ہے۔ ادھرروس کا بھی چین اور پاکستان کی طرف جھکاؤ بڑھا ہے۔ بہرحال وزیر اعظم کے اس دورہ نے بھارت اور روس نے ایک بار پھر اپنے رشتوں کی اہمیت پہچانی ہے اور اس کی بنیاد مضبوط بنانے کے منصوبے باندھے ہیں۔
(انل نریندر)

کابل دھماکہ میں شک کی سوئی پاکستان پر

بے گناہوں کا قتل اسلام میں حرام ہے خاص کر جب وہ رمضان کے مقدس مہینے میں کیا جائے۔ بدھوار کو افغانستان کی راجدھانی کابل میں خوفناک دھماکہ ہوا وہ بھی جہاد کے نام پر کیا گیا۔ کابل کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے وزیر اکبر خاں میں جرمنی سفارتخانے کے کافی نزدیک فدائی حملہ آور نے دھماکوں سے لمبے ٹینکر کو صبح قریب 8 بنکر 30 منٹ پر اڑادیا۔ دھماکہ اتنا زبردست تھا کہ آسمان میں دھوئیں کا غبار پھیل گیا۔ دھماکہ میں بھارت ، فرانس، جرمنی اور چین و پاکستانی سفارتخانے کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور دروازے تک اکھڑ گئے۔ اس دھماکے میں 80 لوگوں کی جان گئی اور سینکڑوں لوگ زخمی ہوگئے۔ افغانستان میں اس برس ایک کے بعد ایک بڑے دھماکوں سے صاف ہے کہ وہاں کی سرکار اندرونی سسٹم قائم رکھنے میں ناکام ہے۔ بھارت کے لئے تشویش کی بات یہ ہے کہ سکیورٹی مفادات پر اس کا اثر پڑے گا۔ اس دھماکے میں شک کی سوئی پاکستان کی طرف گھوم رہی ہے۔ افغانستان کی خفیہ ایجنسی نے ابتدائی جانچ میں پایا ہے کہ اس دھماکے کی پلاننگ پاکستان کے حقانی نیٹ ورک اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے بنائی تھی۔ یہ بھی پایا گیا کہ علاقے میں استعمال ٹینکرکے اندر 1500 کلو گرام دھماکو سامان تھا۔ اس درمیان افغان کرکٹ بورڈ نے پاکستان کے ساتھ کھیلا جانے والا دوستانہ ٹی۔20 میچوں کی سیریز منسوخ کردی ہے۔ دیش میں جمعرات کو ایک دن کا قومی سوگ رکھا گیا۔ دنیا کا ہر قانون پبلک مقامات پر لوگوں کو نشانہ بنانے کی زور دار مخالفت کرتا رہامگرافغانی حیرت زدہ ہیں کہ آخر دہشت گرد کس مٹی کے بنے ہیں، جو رمضان کے مقدس مہینے میں بھی معصوموں کو نشانہ بناتے ہیں؟ اپنے سیاسی مفاد کے لئے دہشت گرد عام شہریوں کا قتل عام کرتے ہیں جو اسلامی اصولوں کے منافی ہے۔ اسلام صاف کہتا ہے کہ ہتھیارڈال چکے کسی غیرمذہبی شخص کا بھی قتل نہ ہو۔مگردہشت گرد اس تاکید کو بھی بھول جاتے ہیں۔ انسانیت کے خلاف کھڑے آتنکی سزا کے لائق تو ہیں ہی فوج حمایتی آتنک واد کے خاتمے کی بھی ضرورت ہے۔ کابل میں ہندوستانی سفارتخانہ ہمیشہ سے ہی پاکستان کی آئی ایس آئی کے نشانے پر رہا ہے اور وہاں کئی بار پاک حمایتی آتنکی حملہ کرچکے ہیں۔ ایسے میں ایسی طاقتیں بھی ابھی سرگرم ہیں جو اس ملک کو کمزور کرنا چاہتی ہیں نہ یہ چاہتی ہیں کہ وہاں امن قائم ہو۔ دہائیوں سے بھاری مداخلت اور اندرونی اتھل پتھل کا شکار رہے افغانستان میں امن اور استحکام کیسے لایا جائے یہ آج پوری دنیا کے لئے چنوتی ہے۔ بھارت کے لئے یہ زیادہ تشویش کا موضوع ہے کیونکہ افغانستان میں بھارت کی موجودگی پاکستان کو سب سے زیادہ چبھتی ہے۔
(انل نریندر)