01 مارچ 2013

فلم ’لائف آف پائی‘نے مچائی آسکر میں دھوم

پچھلے کچھ عرصے سے ہندی فلموں میں ایک نئی لہر آئی ہے۔ نئے فلم ساز سیدھے پردے پر ڈرامہ کھیلنے کے بجائے جیتے جاگتے دیسی مسافروں پر لکھی کہانیوں کو اپنی کہانی کی بنیاد بنا رہے ہیں۔ ریئل اور ریل لائف کا فرق مٹانے والی یہ فلمیں ناظرین کو اپنے وقت کی سچائیوں سے جوڑتی ہیں۔ ’پان سنگھ تومر، شنگھائی، برفی، گینگس آف واسے پور اور کہانی‘ سے شروع ہوا یہ سلسلہ ’لائف آف پائی‘ تک پہنچا ہے۔ اس بار دنیا کے مشہور آسکر ایوارڈ میں بھارت کو خوش رکھنے کے لئے کئی باتیں ہیں۔ چار ایوارڈ جیتنے والی ’لائف آف پائی‘ کی پوری کاسٹ ہندوستانی تھی۔ سب سے بڑھ کر اس فلم نے خوبصورت مناظر والی جگہ کی شکل میں بھارت کو اہمیت دی ہے۔ ان میں پہلی بات ڈینی بویل کی ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ میں بھی تھی لیکن بھارت کی سنیمائی ساکھ سدھرانے میں اس کا کوئی خاص اشتراک نہیں مانا جاسکتا۔ اس فلم میں ایک سین تو بھارت کی غریبی اور مجبوری کو ظاہرکرتا ہے جس کا کہانی سے کہیں بھی کنکشن نہیں تھا۔ اس بار کے آسکر کی یہ خاصیت بتائی جارہی تھی کہ ایک دوسرے کو ٹکر دے رہی ہالی ووڈ کی چار مضبوط فلموں کا کوئی نہ کوئی انڈین کنکشن ضرور تھا۔ اس سے ایک بات تو صاف ہے کہ دنیا کے نقشے پر بھارت کی جگہ پکی ہورہی ہے۔ہالی ووڈ کی فلمیں بھارت میں پہلے بھی کافی کمائی کرتی رہی ہیں لیکن اب وہ مقبولیت کے معاملے میں ہماری فلموں سے بھی آگے جانے لگی ہیں۔ امریکہ میں لاس اینجلس کے ڈولوی تھیٹر میں ستاروں سے سجے فیسٹول میں سنیما کی دنیا کا نوبل ایوارڈ مشہور آسکر انعامات میں اس سال ہندوستانی اداکاروں کی حساس جذباتی اداکاری صلاحیت کو دکھانے والی ’آنگلی‘ تھی۔فلم ’لائف آف پائی‘ نے سب سے زیادہ چار آسکر ایوارڈ جیت کردھوم مچادی۔ فلم کے لئے موسیقی، ہدایتکار مائیکل دانا کو آسکر ملا۔ دو دیگر زمروں میں بھی یہ ملا جبکہ بین اکالک کی ایرانی یرغمال معاملے پر بنی فلم ’آرگو‘ کو بہترین فلم کا ایوارڈ ملا۔ ’آرگو‘ میں نے دیکھی ہے۔ فلم بہت اچھی بنائی ہے۔ کیونکہ یہ ایران کو پسند نہیں آئی اس لئے ایران کے سرکاری ٹی وی چینل نے اسے سی آئی اے کا اشتہار قراردیا۔ ایران میں ’آرگو‘ کلو سنیما گھروں میں پردہ سمیں نہیں ہونے دیا گیا لیکن ڈی وی ڈی کی مدد سے اسے دیکھنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ ہندوستانی اداکاروں کی جذباتی اداکاری کو دکھانی والی تائیوان کی ہدایتکار آنگلی کی ’لائف آف پائی‘ نے چار کٹیگری میں ایوارڈ حاصل کئے ہیں۔ تبو، عرفان خان اور نوودت سورج شرما نے فلم میں سنجیدہ اداکاری کی ہے۔ میرے لئے سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ سورج شرما دہلی کے مشہور کالج سینٹ اسٹیفن کے طالب علم ہیں۔ وہ فلاسفی فرسٹ ایئر میں پڑھتے ہیں اور میں بھی سینٹ اسٹیفن میں پڑھا ہو۔ آسکر ایوارڈ بیشک لاس اینجلس کے ڈولوی تھیٹر میں دئے گئے ہوں لیکن دھوم تو سینٹ اسٹیفن کالج میں مچی۔ آنگلی نے اسٹیفن اسپل برگ اور مائیکل ہنیک جیسے سرکردہ اداکاروں کو پچھاڑتے ہوئے ’لائف آف پائی‘ فلم کے لئے شاندار ہدایت کیلئے آسکر ایوارڈ حاصل کیا ہے۔ سورج کے اوپر چڑھتے دہلی کے اسٹیفن کالج میں ہر کسی کی زبان پر سورج ہی کا نام تھا۔ سبھی کو اپنے دہلی کا شہری ہونے پر فخر ہورہا تھا۔ ہر کوئی یہ بتانے میں فخر محسوس کررہا تھا کہ آسکر میں چمک بکھیرنے والا سورج تو اپنی دہلی کا ہی ہے۔ سینٹ اسٹیفن کے لئے تو یہ بہت خوشی کا دن رہا۔ اب ہر کوئی سورج سے ملنے کو بے تاب ہے۔ وہ راتوں رات ایک بین الاقوامی سپر اسٹار بن گئے ہیں۔
(انل نریندر)

تنقید کاروں کو مہندر سنگھ دھونی کا کرارا جواب

بھارت نے آسٹریلیا کو چنئی میں پہلے ٹسٹ میں پانچ وکٹ سے ہرا کر چار میچوں کی ٹیسٹ سیریز میں 0-1 سے بڑھت حاصل کرلی ہے۔ جہاں یہ ٹیسٹ کئی اور کارناموں کے لئے یاد رہے گا وہیں ٹیم انڈیا کے کپتان مہندر سنگھ دھونی کی شاندار دوہری سنچری کے لئے بھی یاد رکھا جائے گا۔ ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی کارکردگی کو لے کر ہمیشہ نشانے پر رہنے والے مہندر سنگھ دھونی نے ایتوار کو چنئی کے ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم میں اس غیر معمولی پاری سے اپنے تمام مخالفتوں کے منہ بند کردئے ہیں۔ پرانی ناکامیوں کو بھلاتے ہوئے بھارتیہ کپتان نے اس بے جوڑ ناٹ آؤٹ دوہری سنچری میں شاندار ہمت اور صبر اور سوجھ بوجھ کا ثبوت دیا ہے۔ یہ ہی نہیں دھونی آسٹریلیائی کپتان مائکل کلارک پر بھی بھاری پڑے ہیں۔ ماہی نے اپوزیشن کپتان کلارک کی سنچری کی پاری کے جواب میں دوہری سنچری لگا دی اور یہ ثابت کردیا کہ کپتانوں کی اس جنگ میں بھی وہ ہارنے والے نہیں۔ دھونی کی یہ پاری اس لئے بھی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ جب وہ کریز پر اتر ے تو بھارت کا اسکور196 رن تھا۔ جھارکھنڈ کے اس 31 سالہ وکٹ کیپر ،بلے باز کی پاری کی خاص بات یہ بھی رہی کہ انہوں نے فیلڈ میں آسٹریلیائی دبدبے کو پوری طرح ناکارہ کرکے میچ کا رخ بدل دیا۔ اس دوران وہ پوری طرح آسٹریلیائی گیند بازوں پر حاوی دکھائی دئے۔ جب دل کیا سنگل رن لے لیا اور جب چاہا چوکا جڑدیا۔ دھونی کے دبدبہ کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے دن بھر میں بنے کل 333 رنوں میں سے206 رن اکیلے انہی کے بلے سے نکلے تھے۔ ماہی اب بطور وکٹ کیپر، بلے باز سب سے زیادہ اسکور بنانے والے اینڈی فلاور کا ریکارڈ توڑنے سے محض27 رن دور ہیں۔ فلاور کے نام وکٹ کیپر کے طور پر 232 رن کا سب سے زیادہ اسکور کھیلنے کا ریکارڈ ہے۔ مہندر سنگھ دھونی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اچھے کھلاڑی ہونے کے ساتھ قسمت کے بھی دھنی ہیں۔ ابھی کچھ وقت پہلے انگلینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف گھر سے باہر ٹیسٹ سیریز میں کلین سوئپ ہونے اور پھر گھر میں انگلینڈ سے سیریز ہارنے پر انہیں کپتانی سے ہٹانے کی مانگ زور پکڑنے جارہی تھی ساتھ ہی ان کے اوپر ٹیسٹ کھلاڑی نہ ہونے کا الزام بھی لگایا جارہا تھا۔ لیکن چنئی میں حالات ایک دم بدل گئے۔ جو لوگ ان کی نکتہ چینی کرتے نہیں تھکتے وہ اب ان کے گن گانے لگے ہیں۔ ان کی طوفانی رفتار سے کھیلی پاری کی جتنی تعریف کرنی چاہئے کی جائے۔ محض265 منٹ میں 224 کی پاری اور اس میں 24 چوکے،6 چھکے لگا کر دھونی بھارتیہ کپتان کے طور پر سب سے زیادہ رن بنانے والے کرکٹر بن گئے ہیں۔ چنئی میں سچن تندولکر ، وراٹھ کوہلی، اشون کے یوگدان کو بھی یاد رکھا جائے گا۔ اتنا ضرور ہے کہ مہندر سنگھ دھونی کے شاندار کھیل سے ماحول بدل گیا ہے۔ آسٹریلیا کا ہوّا ہوا ہو چکا ہے۔ اب دباؤ آسٹریلیا پر رہے گا لیکن ٹیم انڈیا کو یاد رکھنا چاہئے کہ بیشک پہلا ٹیسٹ آسٹریلیا ہار گئی ہو لیکن ان میں باؤنس بیک کرنے کی صلاحیت ہے۔ ٹیم انڈیا انہیں ہلکے سے نہ لے۔
(انل نریندر)

27 فروری 2013

پھر راون نسلوں کے دباؤ میں مرکزی حکومت،رام سیتو توڑنے کی رٹ لگائی

یہ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ منموہن سنگھ کی یوپی اے سرکار دور قدیم اور کروڑوں ہندوستانیوں کی عقیدت کی علامت بھگوان رام کے ذریعے بنائے گئے رام سیتو(پل) کو تورنے پر اڑیل ہے۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ829 کروڑ روپے خرچ کرنے کے بعد اس پروجیکٹ(رام سیتو پروجیکٹ) کو بند نہیں کیا جاسکتا۔ اپنے اس پروجیکٹ کو اقتصادی اور ماحولیاتی حساب سے صحیح مانتے ہوئے مرکز نے متبادل راستے کے لئے قائم ماحولیاتی ماہر آر کے چودھری کمیٹی کی سفارش کو مسترد کردیا ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر حلف نامے میں وزارت جہاز رانی نے کہا ہے کہ بھارت سرکار نے بہت وسیع پیمانے پر تحقیق کی بنیاد پر پروجیکٹ کو ہری جھنڈی دی ہے۔ اس کو ماحولیات وزارت سے بھی کلین چٹ مل گئی ہے۔ ماحولیات کے بڑے ادارے نیری نے بھی پروجیکٹ کو اقتصادی اور روایتی طور پر ٹھیک مانا ہے۔ حلف نامے میں آگے کہا گیا ہے سیتو سمندرم پروجیکٹ سمیت پچوری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں متبادل راستے کو صاف طور پر نامنظور کردیا ہے۔ اس کا کہنا تھا سیتو سمندرم پروجیکٹ اقتصادی و ماحولیاتی نقطہ نظر سے ٹھیک نہیں ہے۔ وزارت میں ڈپٹی سکریٹری اننت کشارے نے کورٹ میں حلف نامے میںیہ بھی کہا کہ مرکز نے 2007ء میں اہم شخصیات کی ایک کمیٹی بنائی تھی اور ان کی طرف سے ا س پروجیکٹ کو منظوری دی گئی تھی۔ کمیٹی کا کہنا تھا پروجیکٹ سمندری راستے کے تعین اور سیاسی لحاظ سے اور اقتصادی فائدے کے لئے کافی اہمیت کا حامل ہے۔ قابل ذکر ہے کہ مرکزی سرکار نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ رام سیتو کے اشو پر دائر عرضیوں کا عدالت سے نپٹارہ کردے۔ سپریم کورٹ میں سرکار کی اہم سیتو سمندرم پروجیکٹ کے خلاف عرضیاں دائر کی گئی ہیں۔ یہ پروجیکٹ قدیمی رام پل کر توڑ کر بھارت کے جنوبی حصے کے ارد گرد سمندر میں چھوٹا جہازوں کا راستہ بنانے پر مرکوز ہے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ پروجیکٹ ڈی ایم کے نیتاؤں نے بنایا تھا اور اس کے پیچھے واحد مقصد پروجیکٹ سے پیسہ کمانا ہے۔ پروجیکٹ سے جڑی سبھی کمپنیاں ڈی ایم کے نیتاؤں اور ان کے رشتے داروں سے وابستہ ہیں اور ان کی منشا کروڑوں روپے کمانے کی ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت سمندری زون میں 167 کلو میٹر لمبے اور 30 میٹر چوڑے اور12 میٹرگہرا بحری راستہ بنانے کی تجویز ہے۔ بھگوان رام اور شری ہنومان جی کے ذریعے بنایا گیا دنیا کا یہ عجوبہ سیتو ایک قدیمی وراثت ہونی چاہئے۔ ایسی عقیدت سے جڑی چیزوں کو پیسے سے نہیں تولا جاسکتا۔ آنے والے وقت میں پیسوں کی خاطر آپ تاج میل یا قطب مینار کیا گرا دیں گے؟ رام سیتو کے بارے میں کروڑوں ہستیوں کا عقیدہ ہے کہ اسے شری رام کی وانر سینا نے راون کی راجدھانی لنکا تک پہنچنے کے لئے تیار کیا تھا۔پچھلی راون ونش ڈی ایم کے سرکار کے برعکس محترمہ جے للتا کی سرکار کا بھی یہ ہی موقف ہے کہ مرکزی سرکار سیتو سمندرم پروجیکٹ کو پوری طرح منسوخ کرے اور رام سیتو کو قومی یادگار بنایا جائے۔ اب ڈی ایم کے کے دباؤ پر مرکزی سرکار ایک بار پھر رام سیتو کو توڑنے پر اڑیل دکھائی پڑتی ہے۔ ہم اس یوپی اے سرکار کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ آگ سے کھیل رہی ہے،آپ یا آپ کے ساتھیوں میں اتنی طاقت نہیں کہ آپ شری رام سے ٹکر لے سکیں۔ اربوں رام بھکت آپ کی مخالفت میں کھڑے ہوجائیں گے۔ سب سے تکلیف دہ بات تو یہ ہے مرکز کی اس خودساختہ ہندو مخالف حکومت نے سپریم کورٹ میں جو حلف نامہ دیا ہے اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رام سیتو ہندو دھرم کا ضروری حصہ نہیں ہے۔ اگر بھگوان رام ، شری ہنومان جی سری لنکا یدھ ہندو دھرم کا حصہ نہیں تو ہندو دھرم میں کیا بچتا ہے؟ مرکزی سرکار کے اس رویئے کا ہر ہندو چاہے کسی بھی طبقے سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہو،جم کر مخالف کرے گا اور آخری وقت تک کرتا رہے گا۔ دیکھیں خوش آمدی پر مررہی یہ سرکار ہندو عوام پر کیسے بھاری پڑتی ہے؟ جے شری رام۔
(انل نریندر)

نشید معاملہ : بھارت کی ڈپلو میٹک کامیابی یا بھاری سفارتی شکست؟

مالدیپ کے سابق صدر محمد نشید 11 دنوں سے جاری ہائی پروفائل ڈرامے کو ختم کرتے ہوئے مالے میں واقع ہندوستانی ہائی کمیشن سے آخر کار باہر آگئے۔ وہ اپنی گرفتاری کا وارنٹ جاری ہونے کے بعد ہائی کمیشن میں آکر پناہ لئے ہوئے تھے۔ بھارت اس کی وجہ سے ایک عجب مشکل میں پھنس گیا تھا۔ نشید گرفتاری سے بچنے کے لئے13 فروری سے ہندوستانی ہائی کمیشن میں پناہ گزیں تھے۔ دراصل وہ اپنے عہد میں بنیادی ملزم جسٹس عبداللہ محمد کو حراست میں لئے جانے کے الزامات میں عدالت میں پیش ہونے میں ناکام رہے۔ نشید کی پارٹی نے الزام لگایا تھا یہ معاملہ سیاسی اغراز پر مبنی ہے۔ ستمبر میں ہونے والے صدارتی چناؤ میں حصہ لینے سے انہیں نااہل قرار دینے کے لئے ان پر مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ وارنٹ جاری ہونے کے فوراً بعد 13 فروری کو بھاگ کر نشید ہندوستانی ہائی کمیشن میں داخل ہوگئے تھے۔ یوپی اے سرکار کے حمایتیوں کا سوال ہے کہ محمدنشید معاملے کو بڑی سوجھ بوجھ سے نپٹالیا گیا ہے۔ بھارت نے جس طرح مالدیپ کی موجودہ حکومت اور سابق صدر کے درمیان صلاح صفائی کا سہارا لیتے ہوئے اس کام کو خوش اسلوبی سے انجام دیا ہے اور سمجھوتہ قابل تعریف ہے۔ مالدیپ کے 46 سالہ لیڈر محمد نشید نے نومبر2008ء میں جمہوری طریقے سے ہوئے چناؤ میں تین دہائیوں سے قابض ڈکٹیٹر معمون عبدالقیوم کو ہراکر صدارتی عہدہ سنبھالا تھا۔ نشید مالدیپ جمہوری پارٹی کے بانیوں میں مانے جاتے ہیں۔ قیوم کی تاناشاہ حکومت کے خلاف تحریک کرتے ہوئے وہ اپنی سیاسی زندگی میں کم سے کم 20 بار جیل گئے۔ ان کو مالدیپ کانیلسن منڈیلا کہا جاتا ہے لیکن اب فوج اور افسر شاہی میں قیوم کی پکڑ مضبوط ہونے کے سبب نشید کو پچھلے دو سالوں سے مسلسل مخالفت کا سامنا تھا۔ 7 فروری2012ء کو نشید نے ناگزیر حالات میں استعفیٰ دے دیا تھا اور قریب11 دن پہلے گرفتاری کے ڈر سے نشید نے ہندوستانی ہائی کمیشن میں پناہ لے لی تھی۔ بھارت کے سامنے عجیب و غریب الجھ کھڑی ہوگئی۔ وہ نشید کو ہائی کمیشن سے باہر نکالنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ کہا جارہا ہے کہ ہندوستانی سفارتکار ٹیم کی ڈپلومیٹک کوششوں کے بعد مالدیپ حکومت اور نشید میں کوئی خفیہ سمجھوتہ ہوا ہے۔ فی الحال وہاں کی سرکار کا اب کہنا ہے نشید کے خلاف کوئی گرفتاری وارنٹ نہیں ہے اس لئے کہا جارہا ہے بھارت سرکار نے انتہائی مشکل حالات کو اچھے طریقے سے نپٹایا ہے اور اسے سفارتی کامیابی مانا جارہا ہے۔ لیکن دوسری جانب اگر کچھ حالیہ واقعات کے بعد دیش کی توجہ پھر سے ملک کی سلامتی کو لیکر سوالوں پر لگ گئی ہے تو ایسے موقعوں پر پہلے بھی قدم اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ مثلاً افضل گورو کی پھانسی کے بعد دیش کے اندر دہشت گردی کی جڑوں کو پھلنے پھولنے اور ان کے پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے لیکر اسلام آباد سے رشتوں کو لیکر تشویش اس طرح کی جتائی گئی ہے جیسے خطرہ کوئی ایک دن میں پیدا ہوا ہو۔ دراصل یہ کچھ مثالیں ہیں ہماری حکومت کی پالیسی سازی اور غیر سنجیدگی اور غیر دور اندیشی کی۔ مالدیپ کا تازہ معاملہ اس سلسلے کی نئی مثال ہے جب محمد نشید کو ہندوستان ہائی کمیشن میں پناہ دی گئی ہے تو کہیں نہ کہیں یہ احساس کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ بھارت ایک سنجیدہ اور ذمہ دار ملک ہے اور وہ اس کے سفارتی فیصلے بلا جھجک لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے لیکن ایسا ہوا نہیں۔اگر ہم اس پورے معاملے پر غور کریں تویہ نوبت کیوں آئی ۔ کیونکہ بھارت کو مالدیپ میں تیزی سے بدلتے حالات کا اندازہ نہیں تھا۔ جس نشید کو آج ہم پناہ دے کر حفاظت دے رہے ہیں ان کا فروری2012ء میں تختہ پلٹ دیا گیا تھا۔ تب بھارت سرکار کو اتنا برا لگا تھا کہ اس نے وحید مانک کو وہاں کا نیا صدر بغیر سوچے سمجھے ،بلا کسی اختلاف کے مان لیا تھا اور باقاعدہ اسے مبارکباد بھی دے دی تھی۔
دلچسپ یہ ہے کہ نشید نہ صرف مالدیپ کی جمہوری حکومت کے سربراہ رہے بلکہ ہندوستان کے سچے دوست بھی ہیں۔ لیکن بھارت اپنے دوست کی مشکل وقت میں مدد کیا کرتا وہ اپنی نا سمجھی میں ان کے خلاف سازش کو بھی نہیں بھانپ سکا۔ تب وہ اس کو ایک سازش مان رہا تھا جو مالدیپ میں جمہوری عمل کو پٹری سے اتارنے کی ایک بڑی کارروائی بن چکی تھی۔ وحید نہیں چاہتے تھے کہ ستمبر میں ہونے والے چناؤ میں نشید کو دیش میں اپنی مقبولیت ثابت کرنے کا ایک اور موقعہ مل جائے لہٰذا ان پر اپنے عہد کے دوران ایک جج کو غیر قانونی طریقے سے گرفتار کرنے کا الزام لگایا گیا۔ بھارت اگر چاہتا تو مالدیپ میں آج جیسی صورتحال ہے ان حالات میں وہ پہلے بھی مداخلت کرسکتا تھا۔ اس سے ڈیموکریٹک دنیا میں بھارت کی ساکھ اور اچھی دکھائی پڑتی۔ ویسے یہ مسئلہ جمہوریت کی حمایت سے آگے ایک پائیدار ڈپلومیسی کا بھی ہے۔ 1988ء میں صدر عبدالقیوم کا تختہ پلٹنے کی حماقت کو ناکام کرنے والے ہندوستان نے اپنا دبدبہ قائم نہیں رکھا۔ آج نتیجہ یہ ہے کہ چین نے اس دوران مالدیپ میں اپنے پاؤں جما لئے ہیں ۔ یہ بھارت کے لئے نہ صرف ایک ڈپلومیٹک ہار ہی ہے بلکہ بھارت کی سلامتی کی تشویش کو لیکر یہ اس کی خطرناک غیر سنجیدگی کو بھی ظاہرکرتی ہے۔
(انل نریندر)

26 فروری 2013

26/11 کے بعد امریکہ نے 39 مرتبہ آتنکی حملوں کو ناکام کیا ہے، کیسے؟

حیدرآباد بم دھماکوں نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے نہ تو ہمارے دیش میں ہماری خفیہ مشینری مضبوط ہے اور نہ ہی کوئی ایسی ایجنسی جو آتنک واد مخالف مشینری پر پورے طور سے کام کرسکے۔مختلف ایجنسیوں میں تال میل کی بھاری کمی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ ہم اطلاع ہوتے ہوئے بھی آتنک وادی حملے روکنے میں ناکام ہیں۔ بیجو جنتا دل کے ایم پی جے پانڈا نے ٹوئٹرپر لکھا ہے کہ 15 ریاستوں نے مانگ کی تھی کہ دیش میں ایک آتنک واد انسدادی ایجنسی ہونی چاہئے ، جو امریکہ اور برطانیہ کی طرح نہ صرف تال میل کرے بلکہ کارروائی بھی کرے۔ امریکہ کا این سی ٹی سی حکمت عملی پلان بنانے اور اطلاعات کو اکٹھا کرنے کا کام کرتا ہے۔ یہ جانچ اور گرفتاری نہیں کرتا۔ برطانیہ کا جوائنٹ ٹریرازم اینالیسس سینٹر آتنک واد سے متعلق خفیہ اطلاعات کو جمع کرکے ان کا جائزہ لیتا ہے۔ امریکہ نے9/11 آتنکی حملے کے بعد سے اب تک ایسی39 سازشوں کو نا کام بنا یا ہے۔ نیویارک، واشنگٹن ڈی سی، نیو جرسی جیسے شہروں میں آتنکی حملوں کے قریب 20 سازشوں کو بروقت ناکام کیا ہے۔ یہ سب ممکن ہوسکا ہے چست درست خفیہ اور آن لائن نگرانی کی بدولت۔ خاص بات یہ ہے کہ 39 سے35 حملوں میں سکیورٹی ایجنسیوں نے سازش کے ابتدائی مرحلے میں ہی پکڑ لیا تھا۔ جس سے کسی طرح کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس کے برعکس بھارت میں26/11 ممبئی حملے کے بعد مختلف شہروں میں 11 آتنکی حملے ہوئے جن میں60 سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئیں۔ نہ تو قومی آتنک واد انسداد مرکز پر کوئی اتفاق رائے ہوا اور نہ ہی آن لائن معلومات سانجھہ کرنے کے لئے نیشنل انٹیلی جنس گریڈ پر بات آگے بڑھی۔ اس میں دیری کی وجہ سے خفیہ ایجنسیوں کے لئے آتنکی حملوں کیلئے ٹھوہ لینے والے ڈیوڈ ہیڈلی جیسے آتنکی ماسٹر مائنڈ تک پہنچا نہیں جاسکا۔ یہ دونوں ہی سیسای جھنجٹوں میں الجھ کر رہ گئی ہیں۔ 9/11 نیویارک اور واشنگٹن حملوں کے بعد نیویارک شہر کو11 مرتبہ آتنکی حملوں سے بچایا گیا۔ واشنگٹن ڈی سی کو5 بار اور نیوجرسی کو 4 بار ہوائی جہازوں اور ہوائی اڈوں کو اور دیگر ٹھکانوں کو بچایا گیا۔ ہمیں امریکہ اور برطانیہ سے کچھ سبق لینا چاہئے۔ ہمارا حال تو اتنا خراب ہے کہ دیش میں خفیہ اطلاعات اکٹھی کرنے کے بنیادی ذرائع ہی پوری طرح نظرانداز ہورہے ہیں۔ پولیس کے سپاہی ،مخبر اور عام جنتا کا تعاون لینے میں خفیہ مشینری یا سرکار کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یہ ہی وجہ رہی ہے کہ حیدر آباد دھماکے کی اطلاع ہونے کے باوجود اسے ناکام نہیں کیا جاسکا۔ خفیہ اطلاع ہونے کے باوجود انہیں بروقت ناکام نہیں کیا جاسکا۔ وجہ صاف ہے کہ خفیہ اطلاعات کا اہم ذریعہ پولیس کے سپاہی کو اس مہم سے نہیں جوڑا جاتا۔ عام جنتا سے بھی جانکاری لینے کی کوشش نہیں ہے۔ سپاہی کو سب سے بڑا ذریعہ اس لئے مانا جاتا ہے کیونکہ وہ عام لوگوں کے ساتھ ٹرانسپورٹ، بازار، سنیما، ٹی اسٹال اور یہاں تک کہ پبلک ٹوائلٹ کا استعمال کرتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بھارت میں مخبر کا سسٹم ختم ہورہاہے جس پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ بھارت میں خفیہ ادارے پانچ سات سو روپے میں مخبر سے آتنکی اطلاعات لے لیتے ہیں۔ انٹیلی جنس بیورو جیسی بڑی خفیہ ایجنسی کو تو ذرا بہت زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے لیکن ریاستوں میں پولیس کے ذریعے خفیہ اطلاع لینے کے لئے کوئی زیادہ کچھ نہیں کرنا پڑتا۔ نیم فوجی فورس میں بھی یہ ہی حالت ہے۔ کشمیر جیسی حساس ریاستوں میں اطلاعات لینے کے لئے شراب کی بوتل، کھانا اور دو چار سو روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ کسی مخبر کو چار پانچ ہزار روپے دینے ہیں تو ہیڈ کوارٹر کوفائل بھیجنی پڑتی ہے۔ سپاہی کی اطلاع پر کوئی بھروسہ نہیں کرتا۔ عام ڈیوٹی کرنے والے سپاہی کو خفیہ یونٹ سے دور رکھا جاتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ، برطانیہ اور جرمنی سمیت کئی یوروپی ممالک میں خفیہ اطلاعات کے لئے سپاہی سب سے بھروسے مند ملازم ہے۔ انہیں بھاری رقم کے علاوہ نقد انعام اور ترقی بھی ملتی ہے۔ اس کے بعد مخبر کا نمبر آتا ہے۔ امریکہ میں 9/11 کے بعد خفیہ اطلاعات کے لئے اس بنیادی ذرائع کا وسیع استعمال ہوا ہے۔ نتیجہ اسامہ بن لادن کی موت سے لیکر اب تک وہاں حملے کی 9 بڑی سازشوں کو ناکام بنایا جاچکا ہے ۔ جب تک ہم اپنے دیش میں دہشت گردی انسداد مہم کو ترجیح اور سمت اور خفیہ مشینری کو مضبوط نہیں کریں گے تو ہمیں نہیں لگتا کہ ہم ان آتنکی حملوں کو روک پائیں گے۔
(انل نریندر)

رام دیو بنام مرکز میں آرپار کی لڑائی

یوگ گورو بابا رام دیو کی بھارت سرکار خاص کر کانگریس سے آر پار کی لڑائی شروع ہوگئی ہے۔ حکومت چاہے وہ مرکز میں ہو یا ریاستی سرکاریں ہوں، نے بابا پر شکنجہ کسنا تیز کردیا ہے۔ پہلی مثال ہماچل پردیش میں وزیراعلی ویر بھدر سنگھ کی کانگریس سرکار کی ہے اس نے سولن ضلع کے سادھوپل میں بابا رام دیو کے پتنجلی یوگ پیٹھ کو ریاستی حکومت نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔بھاری تعداد میں اعلی افسر پولیس ملازمین نے یوگ پیٹھ پہنچ کر زیر تعمیر ڈھانچے و سابقہ بھاجپا سرکار کے ذریعے دی گئی پٹے پر زمین بھی اپنی تحویل میں لے لی۔ پتنجلی یوگ پیٹھ کے ذمہ داران کو ایس ڈی ایم کے ذریعے پٹے پر دی گئی زمین واپس لینے کا نوٹس دیا اور کمپلیکس خالی کرنے کو کہا۔ بابا رام دیو کو دی گئی 96.8 بیگھا زمین2010 ء سے 99 سال کے لئے پٹے پر دی گئی تھی۔ حکومت نے دلیل دی ہے زمین 1956 ء میں پٹیالہ کے مہاراجہ نے بچوں کے کھیل کود کے لئے دان میں دی تھی۔ پٹے میں نیپالی نژاد بال کرشن کا نام ہے جو غیر قانونی ہے۔ اتراکھنڈ آلودگی کنٹرول بورڈ نے بابا رام دیو کو ہری دوار میں ہربل فوڈ پارک کو اس کے ذریعے چھوڑے جارہے پانی میں نقصاندہ کیمیکل ملنے پر اسے نوٹس دیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ہری دوار میں ہربل فوڈ پارک کو نوٹس دے کر پوچھا گیا ہے کہ ماحولیات کو نقصان پہنچانے والی اس صنعت کو کیوں نہ بند کردیا جائے؟ اور اس سے چھوڑے جارہے آلودہ پانی کے بارے میں مقامی کسانوں نے شکایت کی تھی۔ خبر یہ بھی ہے کہ محکمہ انکم ٹیکس نے بابا رام دیو سے جڑے پتنجلی یوگ پیٹھ و دیویہ یوگ مندر ٹرسٹوں کے کھاتے منجمد کردئے ہیں اور سبھی کو لین دین پر پابندی لگادی ہے۔ محکمے نے بینکوں کو خط بھیج پر سیدھے ہدایت دی ہے کہ وہ34 کروڑ روپے کی وہ رقم انکم ٹیکس کے کھاتوں میں ڈال دیں جو پتنجلی یوگ پیٹھ کے ٹرسٹوں کو چکانی ہے۔ انکم ٹیکس نے کچھ ماہ پہلے 34 کروڑ روپے کا انکم دینے کا نوٹس پتنجلی یوگ پیٹھ کے ٹرسٹوں کو دیا تھامگر یہ رقم اس کے ذریعے نہیں چکائی گئی۔ ادھر دہلی ہائی کورٹ نے بابا کو تھوڑی راحت ضرور دی ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس کو ان کے ٹرسٹ پتنجلی یوگ پیٹھ نیاس کے 11 بینک کھاتوں کی پڑتال کی ہدایت دی ہے۔ ٹرسٹ کو2.1 کروڑ روپے انکم ٹیکس محکمے میں جمع کرانے ہوں گے۔ بابا رام دیو کے لئے اب لڑائی آر پار کی بن گئی ہے۔ انہیں نہ صرف اپنا اقتصادی سامراجیہ بچانا ہے بلکہ کچھ حد تک انہیں اپنے وجود کی لڑائی بھی لڑنی پڑے گی۔بابا نے تیز تیور اپنائے ہوئے ہیں۔دہلی آئے بابا رام دیو نے ایک پریس کانفرنس میں سخت تیور دکھاتے ہوئے کانگریس پارٹی اور یوپی اے سرکار پر زور دار حملہ کیا ہے۔ کانگریس کے قومی نائب صدر راہل گاندھی کو وزیر اعظم کے عہدے کے لئے غیرم ناسب قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ مرکز کے دو وزرا ء نے انہیں تحریک ختم نہیں کرنے پر جھوٹے مقدموں میں پھنسا کر جیل بھیجنے کی دھمکی دے دی ہے۔ یوگ گورو نے وزیر اعظم پر بھی خوب تابڑتوڑ حملے کئے ہیں۔ گذشتہ رات الہ آباد میں بھگدڑ کے واقعہ میں قصوروار لوگوں پر کارروائی کی مانگ کی اور مرکز اور ریاستی سرکار پر لاپرواہی برتنے کا الزام لگایا ہے۔ بابا نے جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ کے افضل گورو کو پھانسی نہ دینے سے متعلق بیان پر نکتہ چینی کی ہے۔ راہل گاندھی کو وزیر اعظم کے عہدے کے لئے پوری طرح اَن فٹ قراردیا اور کہا کہ وہ بہت نا سمجھ ہیں۔ ایسے میں دیش کو کیا سمت دیں گے؟ وزیر اعظم منموہن سنگھ کو بھی ریموٹ سے چلنے والے سب سے کمزور وزیر اعظم بتایا۔ شخصی طور سے بھلے ہی وہ ایماندار ہیں لیکن کرپٹ وزرا کو سرپرستی دے کر دیش کو دھوکا دے رہے ہیں۔ یوپی اے سرکار سے دو دو ہاتھ کرنے کا اعلان کرچکے یوگ گورو نے کانگریس سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ پر اپنے چیلے بال کرشن اور ان کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی سازش رچنے کا الزام لگایا۔ جیسے میں نے کہا بابا رام دیو کی اب یوپی اے سرکار اور کانگریس سے آر پار کی لڑائی شروع ہوچکی ہے۔
(انل نریندر)

24 فروری 2013

دنیا میں دہشت سے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں بھارت کا چوتھا مقام

ادھر مرکزی وزیر داخلہ صفائی دے رہے تھے کہ بھگوا آتنک واد پر ان کے بیان کا غلط مطلب نکالا گیا ہے اور معافی مانگ رہے تھے ادھر حیدر آباد میں دہشت گرد بم پھوڑ ہے تھے۔ شندے نے جب وزارت داخلہ کا عہدہ سنبھالا تھا تب بھی 2 اگست کو پونے میں چار دھماکے ہوئے تھے ۔ ان دھماکوں کی گتھی ابھی تک نہیں سلجھ پائی۔ شندے کے عہد میں دوسرا دھماکہ ہو گیا۔
نظام کے شہرحیدر آباد میں جمعرات کو پھر دہشت کا سایہ پڑا۔ یہ شہر کے دل سکھ نگر علاقے میں پانچ منٹ کے وقفے سے دو دھماکے ہوئے۔ ان دھماکوں میں 12 افراد کی موت ہوگئی اور 84 زخمی ہوئے۔ جن میں سے کچھ کی حالت ابھی بھی نازک بتائی جاتی ہے۔ دھماکے میں آئی ای ڈی کا استعمال کیا گیا تھا۔ دو سائیکلوں پر رکھے بم دھماکو میں ٹائمر کے ذریعے دھماکہ کیا گیا۔ کیونکہ بم دھماکے ایک ساتھ کئی ٹھکانوں پر ہوئے اس لئے اس میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا اس کے پیچھے کسی نہ کسی دہشت گرد تنظیم کا ہاتھ رہا ہوگا۔ جس طرح بھیڑ بھرے علاقے میں بم دھماکے ہوئے اس سے یہ ہی صاف ہوتا ہے کہ آتنکیوں کا مقصد بڑے پیمانے پرتباہی مچانا تھا۔ جیسے ہی میں نے حیدر آباد میں ان دھماکوں کے بارے میں سنا پہلی بات میرے دماغ میںیہ ہی آئی کہ کہیں یہ افضل گورو کی پھانسی کا جواب تو نہیں ہے۔ بیشک پلاننگ اور اسکیم سرحد پار بیٹھے آتنکی آقاؤں کی جانب سے ہو لیکن اسے عملی جامہ مقامی ہندوستانی لوگوں نے ہی پہنایا ہوگا۔ یہ لشکر طیبہ، حزب المجاہدین یا پھر آئی ایس آئی کی سازش ہوسکتی ہے جسے انجام انڈین مجاہدین یا کشمیری علیحدگی پسندوں نے دیا ہے۔
دھماکوں کا پیٹنٹ یہ ہی ثابت کرتا ہے کہ جس طرح دھماکے کے لئے دو سائیکلوں کا استعمال کیا گیا ہے۔بھیڑ والے علاقے کو چن کر بم رکھے گئے، وہ ہی دیسی طریقہ ثابت کرتا ہے۔ ایسے دھماکے دیسی ہوتے ہیں جو توقع سے کم طاقت کے ہوتے ہیں لیکن انہیں جس طرح سے لگایا جاتا ہے اس سے جان مال کو زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ پھر سوال اٹھتا ہے دھماکے کے لئے حیدر آباد ہی کیوں چنا جاتا ہے؟ حیدر آباد کے تازہ دھماکے جن مقامات پر ہوئے ان کا ویڈیو اور باقی جانکاری اکٹھے کرنے میں انڈین مجاہدین کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے جولائی 2012ء سے حیدر آباد آتنکی نشانے پر تھا اور آتنکی تنظیم انڈین مجاہدین کے دو ممبروں نے حیدر آباد کے دل سکھ نگر کی چھان بین کی تھی اور آئی ایم کے سرغنہ ریاض بھٹکل کی ہدایت پر یہ کام کیا گیا۔ اگست2012ء میں ہوئے پنے دھماکے کے معاملے میں آئی ایم کے دو آتنکیوں سید مقبول اور عمران کو دہلی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ پوچھ تاچھ میں انہوں نے بتایا تھا کہ حیدر آباد کے دل سکھ نگر کے علاقہ بیگم پیٹھ اور ایبنڈس علاقے کی ٹوہ لی گئی تھی لیکن اس سے پہلے وہ حیدر آباد میں دھماکے انجام دے دیتے بھٹکل نے پنے میں دھماکے کرنے کا حکم دیا تھا۔ حیدر آباد دھماکوں کو پچھلے سال اگست میں پنے میں ہوئے ناکام دھماکوں سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔ حیدر آباد میں 25 اگست2007 ء کو دو جگہ ہوئے دھماکوں دل سکھ نگر میں ملے دھماکومادے اور 21 فروری کو تیسری جگہ ملے دھماکو سامان میں بھی سائیکل اور ٹائمر بم کے استعمال کی بات سامنے آئی ہے۔ 
سال 2007ء کے دل سکھ نگر دھماکے میں امونیم نائیٹریٹ ،دھماکے کے ساتھ بال بیرنگ ڈیٹو نیٹر اور ٹائمر کا استعمال کیا گیا تھا۔ خفیہ بیورو نے 13 جنوری کو پاکستان میں یونائیٹڈ کونسل کی میٹنگ کے بعد الرٹ جاری کیا تھا۔ شندے نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ میٹنگ میں دہشت گرد گروپوں نے افضل کی پھانسی کا بدلہ لینے کی بات کہی تھی۔ را نے بھی لشکر طیبہ یا اس کے ساتھی گروپ کی طرف سے حملے کا اندیشہ ظاہر کیا تھا۔ الرٹ میں انڈین مجاہدین اور سمی کا نام تھا۔ دھماکوں کی ٹائمنگ نوٹ کریں جس طرح بجٹ سیشن کے کچھ دن پہلے افضل گورو کو پھانسی دی گئی تھی اسی طرز پر آتنک وادیوں نے بجٹ اجلاس شروع ہوتے ہی اس واردات کو انجام دیا ۔ ساتھ ہی شمالی بھارت کے بجائے اس طرح کے واقعہ جنوبی ہندوستان میں ہونا ایک الگ اشارے دیتے ہیں۔ کیونکہ کیرل،تاملناڈو، کرناٹک، مہاراشٹر سمی اور انڈین مجاہدین کے مضبوط گڑھ ہیں جہاں ان کے مضبوط سلیپر سیل ہیں۔
ان اطلاعات سے مطمئن نہیں ہوا جاسکتا کہ اس طرح کی واردات کے اندیشے پہلے ہی جتادئے گئے تھے۔
درحقیقت ایسا ہی ہوا تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان آتنکیوں کو روکا کیوں نہیں جاسکا؟ یہ پہلی بار نہیں ہے جب خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے دعوی کیا گیا ہو کہ انہیں آتنکیوں کے ارادوں کی پہلے سے ہی بھنک لگ گئی تھی اور اس کے بارے میں متعلقہ ریاستوں کو مطلع بھی کردیا گیا تھا۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ آتنکی تو اپنی حرکتوں کو انجام دینے کے لئے نئے نئے طریقے اپناتے ہیں لیکن ہماری خفیہ ایجنسیاں ،سکیورٹی ایجنسیاں پرانے کی طور طریقوں پر کام کررہی ہیں۔ اس سے زیادہ افسوسناک اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ آتنکی خطرے کا سامنا کرنے کے باوجود خفیہ ایجنسیوں میں ازخود تال میل نظر نہیںآرہا ہے اور نہ ہی سکیورٹی ایجنسیوں میں۔ قارئین کو یہ جان کر دھکا ضرور لگے گا کہ دنیا میں آتنک واد سے سب سے زیادہ متاثرہ ملکوں کی فہرست میں بھارت اب چوتھے مقام پر آگیا ہے۔ پہلے مقام پر عراق، دوسرے پر پاکستان، تیسرے پر افغانستان اور چوتھے پر خود بھارت ہے۔
(انل نریندر)