Translater
27 ستمبر 2025
بہار میں کرپشن پر اٹھتے سوال!
بہارمیں ہونے والے اسمبلی چناو¿ کے لئے جنگل راج بنام وکاس نیرٹو کی جنگ کے درمیان اب کرپشن یعنی کرپشن کا اشو گرما گیا ہے ۔چاروں طرف سے الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ۔پہلے بات کرتے ہی جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور کی ۔انہوں نے بی جے پی کے پردیش صدر سمیت حکمراں اتحاد کے کئی لیڈروں پر کئی الزام لگائے ہیں وہ مسلسل اپنے ان الزامات کو دہرا رہے ہیں تو اب حکمراں اتحاد کے لوگ بھی ان الزاموں کو لے کر سوال پوچھنے لگے ہیں ۔بہار میں بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعت اپوزیشن کو گھیرنے کے لئے جنگل راج کا اشو اٹھا رہے ہیں ۔پارٹی کے ایک لیڈر کے مطابق جن لوگوں نے بہار میں جنگل راج کا دور دیکھا ہے انہیں پھر سے اس دور کی یاد دلائی جارہی ہے ساتھ ہی نئی پیڑھی کو بھی بتایاجاسکے کہ بہار کس دور سے گزرا تھا ۔اور اگر اپوزیشن اقتدار میں پھر آئی تو وہ دور پھر لوٹ سکتا ہے ۔ایک طرف جہاں بی جے پی سبھی اشوز پر چناو¿ لڑنے کی تیاری کررہی ہے وہیں سیاست میں ایک نیا اشو بھی جڑتا جارہا ہے جو بی جے پی کو ہی نہیں پورے این ڈی اے کی پریشانی بڑھاسکتا ہے ۔جن سوراج چیف پرشانت کشور نے بی جے پی کے پردریش صدر دلیپ جیسوال پر قتل اور کرپشن کا الزام لگایا ہے تو جے ڈی یو نیتا اور وزیر اشوک چودھری پر بھی 200 کروڑ روپے کی بے نامی پراپرٹی کا الزام لگایا ہے ۔وزیرصحت منگل پانڈے پر دلیپ جیسوال سے پیسے لے کر فلیٹ خریدنے کا الزام بھی لگا ہے تو نائب وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری پر فرضی ڈگری کا الزام لگایا ہے ۔پرشانت کشور جس جارحانہ طریقہ سے لگاتار ان الزامات کو اٹھا رہے ہیں اور ان پر جواب مانگ رہے ہیں اس سے ریاست کی سیاست میں جنگل راج بنام وکاس کی جگہ ابھی سب سے زیادہ بیک ہونے لگی ہے۔ اس پوری بحث کو اور ہوا دی جارہی ہے بی جے پی کے نیتا اور سابق مرکزی وزیر آر کے سنگھ نے ان کا کہنا ہے کہ پرشانت کشور نے لیڈروں پر الزام لگائے ہیں انہیں جواب دینا چاہیے اور جواب نہیں آنے سے بی جے پی کا گراف گررہا ہے۔جے ڈی یو نیتا کے ترجمان نیرج کمار نے بھی کہا کہ الزامات پر اشو ک چودھری کو اپنی پوزیشن صاف کرنی چاہیے ۔پارٹی اگنی پریکشا سے گزررہی ہے اور اسی طرح کے سنگین الزام عام بات نہیں ہے ۔الزامات کا نکتہ وار جواب دینا چاہیے۔ادھر بی جے پی کے وزیرادھر بہار کے وزیر اشو ک چودھری نے منگلوار کو جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور کو قانونی نوٹس بھیجا ہے ۔ساتھ ہی کہا ہے کہ وہ بنا شرط معافی مانگیں یا 100 کروڑ روپے کے ہتک عزت کا مقدمہ جھیلنے کے لئے تیار رہیں ۔بتادیں حال ہی میں پٹنہ میں پرشانت کشور نے الزام لگایا تھا کہ چودھری قریب 200 کروڑ روپے مالیت کی زمین قیمت کی مبینہ طور سے غیر قانونی طریقہ سے فروخت میں شامل ہیں۔گرامین کاریہ محکمہ کی ذمہ سنبھال رہے اشو ک چودھری نے نوٹس کے ذریعے کشور سے پوچھا ہے کہ وہ یا تو اپنے الزامات کو ثابت کرنے کے لئے ثبوت دیں یا جنتا کے سامنے بنا شرط معافی مانگیں ۔بہار اسمبلی چناو¿ کا کسی بھی وقت اعلان ہوسکتا ہے ایسے میں اس طرح کے الزامات دردناک این ڈی اے کے لئے اچھے نہیں مانے جاسکتے ۔
(انل نریندر)
25 ستمبر 2025
پاک - سعودی میں فوجی سمجھوتہ !
پاکستان اور سعودی عرب میں ایک اور اہم اور کچھ معنوں میں کچھ اہم ترین سمجھوتہ ہواہے ۔پاکستان ایک فوجی نیوکلیائی طاقت ہے بیشک وہ ایک جدوجہد کرتی معیشت ہے ۔وہیں سعودی عرب اقتصادی طور سے طاقتور ہے ۔لیکن فوجی اعتبار سے کمزور ہے ۔سعودی عرب اور پاکستان دونوں ہی سنی اکثریتی دیش ہیں ۔او ردونوں کے درمیان مضبوط رشتے رہے ہیں ۔سعودی عرب نے کئی مرتبہ اقتصادی بحران کے وقت پاکستان کی مدد کی ہے اور پاکستان بھی بدلے میں سعودی عرب کو سیکورٹی تعاون کا بھروسہ دیتا رہا ہے۔اب پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حکمت عملی باہمی دفاعی معاہدہ ہوا ہے اس کے مطابق کسی ایک کے تئیں دکھائی گئی جارحیت اور دوسرے کے خلاف مانی جائے گی ۔کچھ ایسا ہی معاہدہ جیسا نیٹو کے ممبر ملکوں کے درمیان ہے ۔یہ ڈیفنس معاہدہ یہ بھی کہتا ہے کہ اگر ایک دیش پر حملہ ہوا ہے تو دوسرا دیش اسے خود پر بھی حملہ مانے گا ۔یعنی اب اگر پاکستان یا سعودی عرب پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں ملکوں پر حملہ ماناجائے گا ۔دونوں ملکوں کی بری ہوائی اور بحری افواج اب اور زیادہ تعاون کریں گی اور خفیہ معلومات شیئر کریں گی۔چونکہ پاکستان ایک نیوکلیائی کفیل ملک ہے ایسے میں اسے خلیج میں سعودی عرب کے لئے تعاون کا بھروسہ بھی مانا جاسکتا ہے ۔حال ہی میں اسرائیل نے قطر کی راجدھانی دوحہ میں حماس کے لیڈروں کے اڈوں پر حملے کئے تھے ۔اس سے عرب دنیا میں اتھل پتھل اور بے چینی بڑھ گئی ہے ۔پاکستان کے وزیردفاع خواجہ عاصف نے اس معاہدے کے بعد کہا ؛ کہ ہمارے بھائی چارے کے رشتے تاریخی موڑ پر ہیں ،ہم دشمنوں کے خلاف متحدہیں ۔پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے کہا کہ پاکستان سعودیہ سے ملے پیسے سے امریکی ہتھیار خرید پائے گا بھلے ہی یہ کہا جارہا ہو کہ یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے لمبے تاریخی رشتوں کا نتیجہ ہے ۔لیکن بھارت کے لئے یہ پیش رفت تشویش بڑھانے والی ضرور ہے ۔سعودی عرب خلیج میں بھارت کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک ہے تجارت ،سرمایہ کاری ،اینرجی سیکورٹی تعاون سمیت کئی سیکٹروں میں دونوں کے درمیان پچھلی دو دہائیوں سے رشتے گہرے ہوئے ہیںخاص کر شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان کے دورمیں نئی طرح کی گرم جوشی دیکھنے کو ملی ہے ۔پی ایم مودی اس سال اپریل میں ہی اپنے تیسرے سعودی دورہ پر گئے تھے جہاں دونون ملکوں کے درمیان کئی سیکٹروں میں تعاون پر رضامندی بنی تھی ۔یہ سمجھوتہ جتنا مغربی ایشیا کے لئے ہے اتنا ہی بھارت سمیت پورے ساو¿تھ ایشیا کے لئے بھی تشویش کاباعث ہے اور عوامی خدشات تو سمجھوتہ کے اس تقاضہ کو لے کر ہے کہ دونوں میں سے کسی بھی دیش پر حملہ دونوں پر حملہ ماناجائے گا ۔کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بھارت پاکستان کے درمیان جنگ جیسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو سعودی عرب اور پاکستان ایک ساتھ کھڑے ہو جائیں گے ؟ چار مہینے پہلے ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک بڑی لڑائی ہوئی تھی ۔آپریشن سندھور کو لے کر بارڈر پر اب بھی کشیدگی بنی ہوئی ہے ۔ایسے میں یہ اندیشہ درکنار نہیں کیاجاسکتا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اس سمجھوتہ کی وجہ سے سعودی عرب بھی پارٹی بن جائے حالانکہ سمجھوتہ کا ایک اور اہم پہلو بھی ہے ۔حال ہی میں اسرائیل نے قطر پر ایک ایئر اسٹرائک کر حماس لیڈروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی اسے لے کر مسلم ورلڈ کافی غصہ میں ہے ۔اس حملے کے بعد دوحہ میں اسلامی عرب ممالک کا اتحاد ایک ایمرجنسی چوٹی کانفرنس بلائی گئی تھی جہاں یہ بھی تذکرہ ہوا تھا کہ کیا نیٹو جیسا کوئی سیکورٹی اسکوائیڈ بنایاجاسکتا ہے ۔یہ سمجھوتہ اسی کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے ۔دیکھا جائے تو بھارت اور سعودی عرب کے درمیان گہرے سماجی اور تہذیبی سمجھوتے ہیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ سعودی عرب بھارت کا پانچواں سب سے بڑا ٹریڈ پارٹنر ہے ۔خلیجی ملکوں میں لاکھوں ہندوستانی نوکریاں کرتے ہیں اس معاہدے کے بعد بھارت کی تشویش کا پیدا ہونا فطری ہے ۔ایسا سمجھوتہ روس نے نارتھ کوریا کے ساتھ کیا تھا ۔ہمارے روس سے اچھے تعلقات ہیں جبکہ نارتھ کوریا سے اتنے اچھے نہیں ہیں ۔کیوں کہ وہ چین کے قریب ہے ۔باوجود اس کے روس سے ہمارے رشتوں پر منفی اثر نہیں پڑا ۔ماہرین کا خیال ہے کہ ہمیں سعودی عرب سے کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن اس سے پاکستان کو جو فائدہ اور مضبوطی ملے گی اسے وہ بھارت کے خلاف استعمال کرسکتا ہے ۔اس ڈیفنس سمجھوتہ سے پورے خطہ میں غیر متوازن صورتحال کھڑی ہوسکتی ہے ۔بھارت نے کہا ہے کہ وہ اس کے اثر کو دیکھے گا سرکار کی اپنی تشویشات کو لے کر بھارت سرکار کو سعودی عرب سے کھل کر بات کرنی چاہیے ۔پاکستان کے اسلامی ناٹو جیسے نظریات کو شیئر کرنا چاہیے اور خلیجی ملکوں نے توجہ بھی نہ دی ہو لیکن مذکورہ معاہدہ بھارت سے ڈپلومیٹک چوکسی بنائے رکھتے ہوئے کثیر خارجہ پالیسی کو مضبوط کرنے کی مانگ تو کرتا ہی ہے ۔
(انل نریندر)
23 ستمبر 2025
چارلی کرک کا قتل : امریکہ میں بڑھتا سیاسی تشدد!
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی چارلی کرک کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔واردات یوٹا کے اورم میں واقع یوٹا ویدی یونیورسٹی میں طلباءکی میٹنگ سے ٹھیک دوران ہوا ۔اس قتل نے ایک بار پھر امریکہ کو ہلا کررکھ دیا ہے ۔یونیورسٹی میں اس وقت قریب 3 ہزار طالب علم تھے ۔جب حملہ آور نے چارلی پر سیدھا نشانہ لگایا ۔حکام نے جانچ میں پایا کہ اسنائپر نے دورا یک عمارت کی چھت پر چھپ کر جو قریب 180 میٹر دوری پرتھی سے سیدھی ایک گولی چلائی جو چارلی کی گردن میں لگی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گئے ۔کون تھے چارلی کرک ؟ چارلی ایک امریکی کنزرویٹو اور میڈیا شخصیت تھے ۔انہوں نے ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے نام کی ایک ینگ کنزرویٹو تنظیم 18 سال کی عمر میں ہی بنائی تھی وہ اس کے کوفاو¿نڈر تھے ۔وہ نوجوانوں کو سیاسی طور سے سرگرم بنانے ،مباحثوں میں حصہ لینے اور دقیانوشی نظریات کو ترغیب کرنے کے لئے جانے جاتے تھے صدر ٹرمپ کے قریبی چارلی ایک قاتل اور قتل کی وجہ کے بارے میں اب تک کچھ ٹھوس پتہ نہیں چلا لیکن یہ طے ہے کہ ان کی مقبولیت کافی تیزی سے بڑھ رہی تھی ایسے میں سوال یہ بھی ہے کہ انہیں کہیں ان کی بڑھتی مقبولیت تو قتل کی وجہ نہیں بنی ؟ چھت سے گولی ویسے ہی چلائی گئی جیسے جولائی 2024 میں چناو¿ کمپین کے دوران پین سلوینیا میں ڈونلڈ ٹرمپ پر چلی تھی ۔تب گولی ٹرمپ کے کان کو چھوکر نکل گئی تھی ۔ٹرمپ نے 31 سالہ کرک کو ایک عظیم اور سرکردہ لیڈر بتایا ۔اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے سچائی اور آزادی کا شہید بتایا ۔قتل کے لئے انہوں نے کٹر لیفٹ پسندوں کے بیان بازیوں کو قصوروار ٹھہرایا ۔چارلی کرک کی آخری تقریرکا 30 سکنڈ کا ویڈیو سامنے آیا ہے ۔سفید ٹینٹ میں بینرس پر لکھا دی امریکن کم بیک اور کئی سوال بھی اور نعرے بھی لکھے تھے ۔مائیک لے کر بیٹھے کرک سوالوں کا جواب دے رہے ہیں ۔قارئین: دس سالوں میں کتنے ٹرانس جینڈر امریکیوں نے وسیع فائرنگ کی ہے ؟ کرک : بہت زیادہ قارئین کیا آپ کو پتہ ہے کہ دس سالوں میں کل کتنے ماس شوٹر رہے ؟ کرک : گینگ وائلنس کی ہے یا نہیں تبھی گولی چلتی ہے ۔کرک کے پاس بیٹھی ایک خاتون میڈیشن لیٹن نے کہا میں نے گولی کی آواز سنی ؟ ان کے جسم سے خون نکلا اور وہ گر گئے ۔پھر چیخ پکار کے درمیان افرا تفری مچ گئی۔یہ تکلیف دہ ہے کہ امریکہ میں سیاسی قتل بڑھ رہے ہیں ۔ساو¿تھ پنتھی اور لیفٹ پنتھی دونوں آئیڈیا لوجی اس سے متاثر ہیں ۔امریکہ کی تاریخ سیاسی تشدد سے بھری ہے۔60 کی دہائی میں جون ایفٹ کنیڈی ، مارٹین لوتھر کنگ جونینئر کا قتل ہوا ۔حالیہ برسوں میں یہ بار بار سامنے آیا ۔2021 میں ٹرمپ حمایتیوں نے کیپیٹل ہل پر حملہ کیا ۔2021 میں ایم پیز کو 9600 سے زیادہ دھمکیاں ملیں ۔اگلے سال نینسی پلوسی کے شوہر پر حملہ ہوا اسی سال نیویارک کے گورنر عہدے کے امیدوار لی جیلیڈن کی ریلی میں چاقو حملہ کرنے کی کوشش ہوئی ۔2024 میں کمپین کے دوران ٹرمپ پر دو بار جان لیوا حملے ہوئے ۔جن میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔امریکہ کے اس گند کلچر کو کنٹرول کرنے کی کئی مرتبہ صدر کوشش کر چکے ہیںلیکن امریکہ کی یہ گند لابی اتنی طاقتور ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے حملوں کو کنٹرول نہیں ہونے دیتی ۔چارلی کرک کا قتل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے سیدھی چنوتی ہے ۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ حملہ ٹرمپ ،امریکی سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے بڑھا جھٹکا اور چنوتی ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...