05 اپریل 2019

چار اسٹار خواتین جو چناﺅ نہیں لڑ یں گی،لڑوائینگی

بھوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2019لوک سبھا چناﺅ نہیں لڑیں گی لیکن پارٹی کے لئے پورے دیش میں پرچار کریں گی اس مرتبہ مایاوتی سمیت چار ایسی خواتین ہیں جن کا عام چناﺅ میں دم خم دیکھنے کو ملے گا یہ خواتین چناﺅ لڑیں گی نہیں لیکن لڑوائیںگی۔پارٹی امیدواروں کے لئے کمپئین کریں گی اور نئی حکومت کی تشکیل میں اہم کردار نبھائیں گی ۔ان میں سے تین خواتین الگ الگ ریاستوں میں پارٹی کی چیف بھی ہیں مغربی بنگال دیش کا یوپی اور مہاراشٹر کے بعد تیسرا بڑا صوبہ ہے یہاں کی وزیر اعلی اور ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی عام چناﺅ نہیں لڑ رہی ہیں جس وجہ سے ریاست میں پارٹی کی پوری کمپئین اور پبلیسٹی انہیں کے ارد گرد رہے گی ۔جموں کشمیر کی پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی سیعد بھی لوک سبھا چناﺅ نہیں لڑ رہی ہیں کیونکہ والد مفتی محمد سیعد کے انتقال کے بعد سے پارٹی کی قیادت سنبھال رہی ہیں ۔ابھی حال تک وہ ریاست میں بھاجپا کے ساتھ اتحادی حکومت چلا رہی تھیں محبوبہ کی پوری توجہ کمپئین پر ہے ۔دیش کے سب سے بڑی ریاست اترپردیش کی سابق وزیراعلی اور بی ایس پی چیف مایاوتی تو اپنی پارٹی کے لئے آنکھ ،ناک کان جیسی ہیں وہ بھی پارٹی کے لئے اترپردیش اور دیگر ریاستوں میں چناﺅ کمپئین چلایں گی سماج وادی پارٹی کے ساتھ یوپی میں تال میل کرنے سے مایاوتی پر چناﺅی اتحاد کو جتانے کا زیادہ بوجھ ہوگا کیونکہ یوپی میں 80لوک سبھا سیٹیں ہیں اس لئے سپا سپا اتحاد کو زیادہ سے زیادہ جتانے کی ذمہ داری مایاوتی پر ہوگی وہیں اپنا دلت ووٹ بینک کو پارٹنر سپا کے لئے ٹرانسفر کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہوگی اپنے کاڈر کو نچلے سطح تک اتحاد کے لئے تیار کرنابھی ضروری ہوگا وہیں یوپی میں گنگا بوٹ یاتر ا پر نکلی کانگریس سیکریٹری جنرل پرینکا گاندھی واڈرا بھی چناﺅ نہیں لڑ رہی ہیں ۔انہیں مشرقی یوپی کی 35سیٹوں کی ذمہ داری ملی ہے ۔وہ پورے یوپی اور دیش کے دیگر حصوں میں پارٹی کے لئے چناﺅ کمپئین کریں گی وہ راہل گاندھی کے بعد نمبر 2اسٹار کمپئینر ہیں پرینکا کا انداز ووٹروں کو مسلسل متاثر کر رہا ہے ۔ان کا ووٹروں سے ڈائرکٹ رابطہ قائم کرنا بھاجپا کے لئے تشویش کا سبب بن رہا ہے ۔اترپردیش میں مایاوتی ،پرینکا،دونوں مل کر کچھ بھی کرا سکتی ہیں پانچ ریاستوں میں پانچ علاقائی پارٹیوں میں نمبر دو کی لیڈر اور اسٹار کمپئینر خاتون ہی ہیں ۔تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے چناﺅ کمپئین کو وزیر اعلیٰ کی بیٹی کویتا دیکھ رہی ہیں ۔کویتا خود بھی امیدوار ہیں۔ مہاراشٹر میں این سی پی نے شرد پوار کے بعد ان کی بیٹی سپریا سلے اور اسٹار کمپئنرہیں ۔تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کے اسٹار کمپئینر اسٹالین و ان کی بہن کنی موجی ہیں ۔پنجاب میں اکالی دل سے ہرمن پریت کور ہیں میگھالیہ میںاین سی پی سی سے اگاتھا سنگما نمبر دو اسٹار کمپینر ہیں ۔خاص بات ،2014میں خاتون قیادت والی پارٹیوں کو عورتوں نے مردوں سے زیادہ ووٹ دیا تھا 2019لوک سبھا چناﺅ میں وزیر اعظم نریندر مودی بی جے پی کے لئے سب سے بڑا خطرہ یہی خواتین ہوں گی ۔

(انل نریندر) 

کانگریس کے ذریعہ زمینی اشوز پر اسٹرائک کرنے کی کوشش ہے چناﺅ منشور

پی ایم مودی کے پچھلے چناﺅی وعدوں کو لے کر مسلسل حملہ آور رہی کانگریس نے منگل کے روز اپنا چناﺅی منشور جاری کیا ۔جس میں نئی نوکریوں کے ذریعہ اگلے پانچ سال میں بے روزگاری کو کم کرنے کسانوں کی حالت سدھارنے ،جی ایس ٹی کا سنگل ریٹ ،غریبوں کو 72ہزار روپئے سالانہ دینے جیسے وعدے کئے گئے چناﺅ منشور جاری کر جہاں پارٹی نے باقاعدہ وعدوں اور اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے عوام کے درمیان انہیں زمین پر اتارنے کا بھروسہ جگایا،وہیں دیش کا نیگیٹو راشٹر واد اور ہندو مسلم سے دھیان ہٹا کر زمینی اشوز پر لانے کی ہے۔راہل گاندھی یہ ثابت کرتے نظر آئے کہ بی جے پی راشٹر واد اور فرقہ پرستی ،ائیر اسٹرائک جیسے اشوز کے ذریعہ کسانوں،روزگار اور معاشی نظام کی بد حالی جیسے اشوز سے لوگوں کا دھیان بھٹکا رہی ہے ۔کانگریس کی کوشش رہی ہے کہ اس کی ایمج فلاحی اسکیموں کو دینے والی پارٹی اور سرکار انہیں پہلی نظر میں چناﺅ منشور کو کافی غور خوض کر چناﺅ کے نظریہ سے تیار کیا گیا ہے ۔اسے ایک پرکشش دستاویز کہا جا سکتا ہے ۔چناﺅ منشور میں بنیادی باتیں وہیں ہیں جو پچھلے کچھ عرصے سے پارٹی صدر راہل گاندھی بار بار اُٹھاتے رہے ہیں ۔یہ نیاے یوجنا ،روزگار،کسان،تعلیم،ہیلتھ،اور سیکورٹی جیسے پانچ بنیادی اصولوں پر ٹکا ہوا ہے ۔20فیصد غریبوں کے کھاتے میں ہر سال 72ہزار روپئے ڈالنے والی نیاے یوجنا کو راہل پہلے ہی پیش کر چکے تھے۔اس لئے چناﺅ منشور میں اس کا شامل ہونا فطری ہی ہے جولائی 1951میں بینگلورو میں ہوئے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اجلاس میں دیش کے پہلے عام چناﺅ کے لئے کانگریس کا منشور جاری کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ کسی بھی چھل والے طریقہ سے یا شخص کے ذریعہ سے کوئی چناﺅ جیتنے سے بہتر ہے کہ ہم اپنے ضمیر کو بچا کر رکھیں ،مرنے نہ دیں ۔کسی بھی ملک کی تاریخ کسی ایک چناﺅ سے نہیں بنتی وہ بنتی ہے وہاں کے لوگوں کی زندگی کے اصولوں سے ۔اس بات کو گزرے 68برس ہو گئے اس دوران کانگریس قیادت کی چار پیڑھیاں بدل چکی ہے کانگریس نے 2019کے اپنے چناﺅ منشور میں بیشک جنتا سے سیدھے اشوز پر توجہ دے ہی لیکن کچھ وعدوں پر انگلیاں بھی اُٹھ رہی ہیں ۔مثال کے طور پر کہا گیا ہے کہ ملک کی غداری کی دفعہ 124Aکو ہٹایا جائے گا ،افسپا قانون میں ترمیم کرنے کے وعدے سے لگ رہا ہے کہ پارٹیوں کے ایجنڈے میں چناﺅی جیت بالا تر ہے بھلے ہی اس سے دیش کو نقصان ہو سرکار آنے پر آئی پی سی کی دفعہ124Aکو ختم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے دلیل دی ہے اس کا غلط استعمال ہو رہا ہے اور بعد میں آئے قوانین کی وجہ سے یہ بے کار بھی ہو گیا ہے ۔کیا یہ خطر ناک چناﺅی وعدہ نہیں ہے ؟افسپاقانون میں ترمیم کی بات بھی کہی گئی ہے حال میں کشمیر اور کچھ شمال مشرقی ریاستوں میں یہ قانون لاگو ہے ان دونوں مسئلوں کو لے کر پچھلے کئی برسوں سے ایک لمبی بحث چھڑی ہوئی ہے اور کچھ انسانی حقوق انجمنیں ان کو ہٹانے کی مانگ بھی کر رہی ہیں ۔کچھ وقت پہلے سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے بھی اس قانون پر نظر ثانی کی ضرورت ظاہر کی تھی اب کانگریس نے اس سمت میں پہل کر دی ہے لیکن شہری حقوق کے نام پر دیش کی سلامتی کے ساتھ سمجھوتا کرنا کہاں تک انصاف پر مبنی ہے؟اگر قانون میں کہیں کچھ غلط ہو راہا ہے تو درست کرنے کے لئے سپریم کورٹ بیٹھا ہے ۔قابل غور ہے کہ 1870میں ملک کی بغاوت کا قانون انگریزوں نے ہندوستانیوں کے لئے بنایا تھا لیکن دیش میں دہشتگردی کے تیزی سے بڑھنے کے سبب ایسے قانون ہونے کے اپنے معنی ہیں ایسے دور میں جب پلوامہ میں سی آر پی ایف کے قافلے پر ہوئے حملے اور پھر بالاکوٹ میں آتنکی کیمپ پر کی گئی کارروائی کے بعد جب بھاجپا نے قومی سلامتی کو چناﺅی اشو بنا دیا ہے ۔ملک غداری سے متعلق آئی پی سی کی دفعہ 124اے کو ختم کرنے اور متنازعہ قانون افسپا میں ترمیم کرنے کا وعدہ کر کانگریس نے اسے اپنے خلاف ایک بڑا اشو بھاجپا کو دے دیا ہے ۔کل ملا کر چناﺅی نظریہ سے کانگریس نے سپنے بہتر دکھائے ہیں لیکن اس سب کے تعبیر ہونے کو لے کر شبہ ضرور ہے کانگریس نے جنتا کے وقار اور ضمیر کی بات ضرور عوام کو چھوتی ہے ۔میڈیا کی آزادی سے لے کر ایس سی ایس ٹی فرقہ دیش کی اقلیتوں کے مفادات سے لے کر ٹراجنڈر سے وابسطہ اشو ز کو بھی چناﺅ منشور میں جگہ دی گئی ہے ۔

(انل نریندر)

03 اپریل 2019

نوین پٹنائک کے سامنے رول تلاشتی بھاجپا

این ڈی اے اور مہاگٹھ بندھن کی لڑائی کے درمیان کئی ایسی پارٹیاں کھڑی ہیں جن کی مٹھی ابھی بھی بند ہے ان میں سے ایک ہیں اڑیشہ کے وزیر اعلیٰ اور بجو جنتا دل لیڈر نوین پٹنائیک ہیں انہوںنے ابھی تک اپنی مٹھی نہیں کھولی ہے بی جے ڈی ضرور ایک بار بھاجپا کے ساتھ رہی ہے ورنہ اسے دور دور رہنا بھی آتا ہے ۔اڑیشہ ان دنوں لوک سبھا اور اسمبلی دونوں چناﺅ کی سرگرمیوں سے گزر رہا ہے یہاں تقریبا پچھلے دو دہائی سے ریاست کی کمان سنبھال رہے نوین پٹنائک ریاست کے بلا تنازع لیڈر مانے جاتے ہیں لوگ جنہیں پیار سے نوین بابو کہتے ہیں ۔سال 2000میں ریاست کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد پٹنائک یہاں سے لگاتار اپنی پارٹی بی جے ڈی کو مضبوط کرتے رہے ہیں ان کا سیدھا مقابلہ بی جے ڈی ،بی جے پی اور کانگریس کے درمیان ہے ۔لیکن بنیادی حقیقت کی بات کی جائے تو اصل مقابلہ بی جے ڈی اور بی جے پی کے درمیان ہے اڑیشہ ایک ہندو اکثریتی ریاست ہے مسلم آبادی محض تین فیصدی ہے سیاست پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ سیاست میں ہندو مسلم والا معاملہ اور ذات پات سیاست نہیں ہے یہاں ٹکٹ کا فیصلہ چہرے اور کام دیکھ کر ہوتا ہے ۔اگر چہروں کی بات کی جائے تو یہاں جہاں بی جے ڈی نوین پٹنائک کے نام پر چناﺅی میدان میں اتر رہی ہے وہیں بی جے پی کے پی ایم اور بھاجپا صدر امت شاہ اور مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان کے نام پر چناﺅ میں ہیں ۔بی جے ڈی نے لوک سبھا کے لئے اپنی زیادہ تر چہروں کو بدلا ہے وہیں اسمبلی میں زیادہ تر موجودہ چہروں پر بھروسہ جتایا ہے اڑیشہ میں لوک سبھا کی 21اور اسمبلی کی 147سیٹوں پر چناﺅ ہو رہے ہیں لوک سبھا چناﺅ میں بی جے ڈی نے 20سیٹیں اور اسمبلی میں 117سیٹوں پر کامیابی درج کی تھی جبکہ کانگریس 16پر سمٹ گئی تھی بی جے پی کے لئے ایک لوک سبھا اور دس اسمبلی سیٹیں آئی تھیں دیگر کو چار ملی تھیں اڑیشہ مشرقی ہندوستان کی ان ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں پر بھاجپا کو 2001کے بعد بڑھت بنانے کی امید ہے 2009میں بی جے ڈی این ڈی اے سے الگ ہو گئی تھی تب سے بھاجپا ریاست میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے میں لگی ہوئی ہے ۔2014کے چناﺅ میں بھاجپا کو سب سے زیادہ کامیابی قبائلی اور پسماندہ اور نظر انداز لوگوں کی آبادی والے علاقوں میں ملی تھی وہیں کانگریس روایتی طور سے سرحدی علاقوں میں مضبوط ہے بی جے ڈی کو سب سے زیادہ چنوتی غیر ساحلی سیٹوں پر مل رہی ہے ۔یہ ہیں کالا ہانڈی ،بال گڑھ ،سبل پور اور سندر گڑھ شامل ہیں ۔سال 2014میں ریاست کی 21میں سے 13سیٹوں پر بھاجپا اور کانگریس کو کل ملے ووٹ بی جے ڈی کے مقابلے زیادہ تھے لیکن تکونی مقابلے کی وجہ سے بی جے ڈی 20سیٹوں پر جیت درج کرنے میں کامیاب رہی ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ووٹوں میں بکھراﺅ کی وجہ سے بی جے ڈی کو زیادہ فائدہ ہوا اس بار بھی وہ یہی امید کر رہی ہے کانگریس بی جے پی نے ووٹوں کابٹوارہ اس بار بھی اس کے حق میں جائے گا ۔پھر بھی بھاجپا کے لئے سب سے بڑی چنوتی اڑیشہ کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک ہیں ۔

(انل نریندر)

آخر راہل نے وایناڈ حلقے کو ہی کیوں چنا

کانگریس صدر راہل گاندھی اترپردیش کی امیٹھی لوک سبھا سیٹ کے علاوہ کیرل کی وایناڈ لوک سبھا سیٹ سے بھی چناﺅ لڑیں گے ۔اس سسپینس سے پردہ اُٹھ گیا ہے ۔کانگریس نیتا اے کے انٹونی نے اعلان کیا کہ کانگریس ورکروں میں اس اعلان کا جشن منایا پٹاخے چھوڑے ورکروں نے ایک دوسرے کا منھ میٹھا کرایا ۔کانگریس نے سوچ سمجھ کر راہل گاندھی کے لئے کیرل کی وایناڈ سیٹ کو چنا ہے ۔پچھلی دو مرتبہ سے کانگریس کامیاب ہوتی آرہی ہے وایناڈ سیٹ بھلے ہی کیرل میں ہو لیکن یہ تین ریاستوں کا جنکشن ہے یہ حلقہ تمل ناڈو ،کرناٹک سے گھرا ہوا ہے یعنی ایک سیٹ سے لڑ کر راہل تین ریاستوں کو کور کر لیں گے ۔کانگریس کو لگتا ہے کہ اس کے ساﺅتھ انڈیا میں پارٹی کا مائنڈیڈ مضبوط ہوگا ۔کیرل میں 20لوک سبھا سیٹیں ہیں 2014میں کانگریس کی آٹھ سیٹیں تھیں کرناٹک کی 28سیٹ میں سے 17بی جے پی اور نو کانگریس کے پاس تھی تمل ناڈو میں 39میں سے 37انا ڈی ایم کے اور 11سیٹیں بھاجپا نے جیتی تھیں ۔کانگریس کا یہاں کھاتہ بھی نہیں کھل پایا تھا،1991میں راجیو گاندھی کے قتل کے بعد سونیا گاندھی نے پی ایم بننے سے انکار کر دیا کانگریس کے حالات بگڑتے چلے گئے 1996میں کانگریس عام چناﺅ ہا ر گئی اور کئی سینر لیڈروں نے جس میں کانگریس صدر سیتا رام کیسری کی مخالفت کی تو پارٹی کئی کئی گروپوں میں بنٹ رہی تھی۔1997میں کانگریس اجلاس میں سونیا گاندھی کو پارٹی کی پرائمری ممبر شپ دی گئی۔جس کے احتجاج میں شرد پوار پی اے سنگما،اورطارق انور کو نکال دیا گیا۔1998میں سونیا گاندھی پارٹی صدر بنیں 1999کے عام چناﺅ میں سونیا گاندھی بلاری اور امیٹھی دونوں جگہوں سے جیتی تھیں بلاری میں بھاجپا کی سشما سوراج کو 3.38لاکھ کے مقابلے 4.14لاکھ سے ہرایا تھا بعد میں انہوںنے یہ سیٹ چھوڑ دی حالانکہ ان چناﺅ میں بھاجپا اتحاد کو مکمل اکثریت ملی لیکن پانچ برس بعد کانگریس نے اقتدار میں واپسی کی اور اگلے ایک دہائی تک اقتدار میں رہی اس کا اثر یہ ہوا کہ 2004میں کانگریس نے کیرل ،آندھرا پردیش،کرناٹک،تمل ناڈو میں 47سیٹیں جیتی تھیں ۔میں نے اس معاملے کا اس لئے تذکرہ کیا ہے کہ کانگریس نے لوک سبھا چناﺅ کرناٹک کی چک منگلور سیٹ سے جنتا پارٹی کے ویرندر پارٹل کو 70ہزار ووٹوں سے ہرایا تھا ۔وایناٹ لوک سبھا حلقے میں کل سوا 13لاکھ ووٹروں میں سے قریب 56فیصدی مسلمان ہیں 10فیصدی عیسائی ہیں باقی ہندو اور قبائلی لوگ ہیں کانگریس کو یہ بھی امید ہے کہ راہل کے اترنے کی وجہ سے انہیں باقی ریاستوں میں بھی اقلیتوں کے ووٹ ملیں گے ایکطرفہ طور سے ملیں گے کیرل سے لڑ کر کانگریس یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ اس کی لڑائی صرف بی جے پی سے نہیں ہے بلکہ وہ لیفٹ اور باقی چھوٹی پارٹیوں سے بھی سیدھا مقابلہ کرنے کے لئے اتری ہے ۔تاکہ اس کے پاس نمبر زیادہ ہوں اور چناﺅ کے بعد کوئی پریشانی نہ آئے سیٹ ایک ہے نشانے تین ہیں پہلا:کیرل،تمل ناڈو،کرناٹک کا جنکشن ہے وایناڈ اس سے کانگریس نے تینوں ریاستوں میں بیلنس بھٹانے کی کوشش کی ہے دوسرا وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے ساﺅتھ پہنچے راہل گاندھی مائنڈیڈ مضبوط کرنے کی کوشش میں ہیں ۔تیسرا زیادہ سے زیادہ سیٹیں بڑھانے کی کوشش ہے ۔کانگریس کی دوسری پارٹیوں پر کم منحصر ہو سکے سروے جو آئے ہیں راہل گاندھی ساﺅتھ انڈیا میں پی ایم مودی سے زیادہ مقبول ہیں ۔ساﺅتھ میں تین فیصدی سے زیادہ لوگوں نے مودی کے مقابلے راہل کو پسند کیا ہے ۔نومبر 2018میں انڈیا ٹوڈے کے سروے کے مطابق آندھرا پردیش میں لوگوں نے پی ایم کی شکل میں راہل کو 44چنا وہیں 38فیصدی لوگوں نے مودی کو چنا تمل ناڈو میں 36فیصدی لوگوں نے راہل اور29فیصدی لوگوںنے مودی کو پسند کیا ۔جبکہ کیرل میں 38فیصدی نے راہل اور 31فیصدی نے پی ایم مودی کو پسند کیا ۔

(انل نریندر)

02 اپریل 2019

ثبوتوں کی کمی میں سبھی سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان بری

پنچکولہ کی اسپیشل این آئی اے کورٹ نے سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکہ کیس میں 12سال بعد ملزم اسیما نند سمیت چاروں ملزمان کو ثبوتوں کی کمی کے چلتے بر کر دیا ہے ۔واضح ہو کہ اس ٹرین دھماکے میں متعدد لوگوں کی موت ہو گئی تھی یہ حادثہ رات ساڑھے 11بجے دہلی سے 80کلو میٹر دور پانی پت کے دوانا ریلوئے اسٹیشن کے پاس ہوا تھا دھماکوں کی وجہ سے ٹرین میں آگ لگ گئی تھی اور اس میں عورتوں اور بچوں سمیت کل 68لوگوں کی جان چلی گئی تھی ۔19فروری کو جی آر پی (ہریانہ پولس) نے معاملے میں مقدمہ درج کیا تھا اورقریب ڈھائی سال بعد واردات کی جانچ کی ذمہ داری 29جولائی 2010کو این آئی اے کو سنوپی گئی تھی ۔بھارت پاکستان کے درمیان ہفتے میں دو بار چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس میں 16فروری 2007کو دھماکہ ہوا تھا این آئی اے نے 26جون 2011کو پانچ لوگوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی اور معاملے میں 224گاﺅں کے بیان درج ہوئے تھے ۔عدالت نے معاملے میں شامل وکیل ممومن ملک کی جانب سے سی آر پی سی کی دفعہ 311کے تحت گواہی کے لئے داخل عرضی کو خارج کر دیا تھا اب مقدمے میں 11مارچ کو ہی فیصلہ آنے کی قیاس آرائیاں تھیں لیکن آخری لمحہ میں مقدمے میں نیا موڑ آگیا تھا ۔پاکستان کی ایک خاتون وکیل راہیلا کے میل کی بنیاد بناتے ہوئے وکیل مومن نے عرضی لگائی تھی کہ وہ اس کیس میں کچھ چشم دید لوگوں کی گواہی کرانا چاہتی ہیں چونکہ اس حادثہ میں ان کے والد کی موت ہوئی تھی عدالت نے عرضی یہ کہتے ہوئے خارج کر دی کہ 12سال تک یہ لوگ کہاں تھے؟فیصلے کے وقت عرضی معنی نہیں رکھتی اوراس معاملے میں سوامی اسیمانند اور تین دیگر ملزمان کو بری کرنے والی عدالت نے کہا کہ بھروسہ مند اور قابل قبول ثبوت کی کمی کی وجہ سے تشدد کی اس بے رحمانہ حرکت میں کسی گنہ گار کو سزا نہیں مل پائی ہے ۔این آئی اے عدالت کے جسٹس جگدیپ سنگھ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مجھے گہرے درد اور تکلیف کے ساتھ فیصلہ سنانا پڑ رہا ہے ۔چونکہ ثبوتوں کی کمی کے چلتے کسی گنہ گار کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ۔عدالت کو مقبول یا موثر رائے کے علاوہ سیاسی تقریروں کے تحت آگے نہیں بڑھنا چاہیے اور اسے موجودہ ثبوتوں کو غور کرتے ہوئے جائز آئینی تقاضوں کی بنیاد پر نتیجے پر پہنچنا چاہیے ۔بلا شبہ ،یہ حیرانی کی بات ہے اتنا سنگین واقعہ میں کسی کو سزا نہیں دی جا سکی چھان بین میں کہاں کمی رہ گئی؟اگر ہم دہشتگردی کے واقعہ کو بھی عدالت میں ثابت نہیں کر پاتے ہیں تو دہشتگردی سے لڑنے کا دعوی کیسے کر سکتے ہیں ؟اس معاملے میں این آئی اے کا ٹریک ریکارڈ مایوس کن رہا ہے ۔

(انل نریندر)

پہلے مرحلے میں سرکردہ لیڈوں کی آزمائش ہوگی

لوک سبھا چناﺅ کے پہلے مرحلے کے اب مشکل سے نو دن بچے ہیں اس میں 11اپریل کو 20ریاستوں کی کل 91سیٹوں پر ووٹ پڑیں گے ۔آندھرا 25اروناچل 02آسام 5بہار4چھتیس گڑھ 1جے کے 2مہاراشٹر 7منی پور1میگھالیہ 2میزورم 1ناگالینڈ1اڑیشہ 4سکم 1تلنگانہ17تروپرا1یوپی8اتراکھنڈ5مغربی بنگال2انڈوما ن اور لکش دیپ میں 1-1سیٹ پر ووٹ پڑیں گے ۔اس طرح 11اپریل کو 91سیٹوں پر پولنگ ہوگی ۔ایک چناﺅی سروے میں دعوی کیا گیا ہے کہ اس عام چناﺅ میں بی جے پی قیادت والے این ڈی اے کو 261سیٹیں مل سکتی ہیں ۔جو اکثریت سے 11کم ہیں اس سے پہلے 10مارچ کو سی ووٹر سروے میں یہ تعداد بڑھ کر 264بتائی گئی تھی ۔دوسرا سروے بتاتا ہے کہ بھاجپا اپنے بل پر 241سیٹیں پا سکتی ہے ۔اس عام چناﺅ میں بی جے پی قیادت والے این ڈی اے کو 42فیصدی کانگریس قیادت والے یو پی اے کو 30.4فیصدی ووٹ مل سکتا ہے ۔آئی این ایس ایس سی ووٹر آف دی نیشن مارچ 2019ویب 2میں بتایا گیا کہ یہ سروے 10280لوگوں کی رائے پر مبنی ہے ۔543لوک سبھا سیٹوں کے قریب 70ہزار ووٹروں کی رائے اس سروے میں جانی گئی ہے ۔کیونکہ ابھی چناﺅ میں وقت ہے اور روزانہ تصویر بدلے گی ۔اس سروے کو ہم قطئی نہیں مان سکتے یہ تو بس ایک اشارہ ہے پہلے مرحلے میں بھاجپا کے سرکردہ لیڈر نتن گڈکری سمیت 7وزراءبھی میدان میں ہیں ۔پہلے مرحلے میں جہاں یو پی کی آٹھ اور بہار کی چار سیٹوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔نتن گڈکری اس مرتبہ پھر سے ناگپور لوک سبھا سیٹ سے چناﺅ لڑ رہے ہیں ان کا مقابلہ کانگریس لیڈر نانا پٹولے سے ہوگا ۔2014میں نتن گڈکری نے یہ سیٹ 2لاکھ 84ہزار ووٹوں سے جیتی تھی وہیں وزیر صیاحات مہیش شرما بسپا ،سپا کے امیدوار سدبیر ناگر اور کانگریس کے ڈاکٹر اروند چوہان سے مقابلہ کریں گے ۔جنرل وی کے سنگھ غازی آباد سے پھر امیدوار ہیں ۔انہوںنے 2014میں راج ببر کو ہرایا تھا ۔اس مرتبہ بسپا سپا کے مشترکہ امیدوار سریش بنسل اور کانگریس کی ڈولی شرما سے مقابلہ ہے ۔اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ ہریش راوت کا مقابلہ بھاجپا کے نیتا اجے بھٹ سے ہے ۔جبکہ مہاراشٹر کے سابق وزیر سشیل کمار شندے شعلہ پور سے بھاجپا سے امیدوار پرکاش جاویڈکر بھی میدان میں ہیں ۔ہریدوار سیٹ سے سابق وزیر اعلیٰ رمیش پوکھریال مشن کا کانگریس کے امریش کمار سے مقابلہ ہوگا ۔مظفر نگر سیٹ پر آر ایل ڈی کے چیف اجیت سنگھ کی ٹکر بھاجپا کے مرکزی وزیر رہ چکے سنجیو بالیان سے ہوگی اروناچل میں رججو جو اس بار اروناچل کی مغربی سیٹ سے امیدوار ہیں 2014میں کانگریس کے تکام سنجوائیے کو 738ووٹ سے ہرایا تھا آندھرا پردیش ،اروناچل اسمبلی سیٹوں (17)اور 56پر بھی 11اپریل کو ووٹ پریں گے ۔

(انل نریندر)

31 مارچ 2019

ہمارے فوجیوں کو پتھر بازوں سے حفاظت ملے

ڈیوٹی کے دوران کشمیر میں پتھر بازوں کے حملوں کا شکار ہونے والی سیکورٹی فورسیز کے جوانوں کی حفاظت و انصانی حقوق تحفظ کو لے کر فوجی کنبوں کی دو بیٹیاں سپریم کورٹ میں معاملہ لے کر پہنچ گئی ہیں ۔چیف جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس سنجیو کھنہ کی بنچ نے 19سالہ پریتی کیدار گوکھلے اور 20سالہ لڑکی کاجل مشرا کی عرضی کو سماعت کے لئے اجازت دے دی ہے ۔پریتی کیدار گوکھلے کا کہنا ہے کہ انہیں سرحد پر تعنیات جوانوں پر پورا بھروسہ ہے ان کے باپ خود فوج کے افسر ہیں وہ کبھی اس بات کو فکر مند نہیں ہوتی جنگ کے حالات بن جاتے ہیں تو کیا ہوگا ؟ان کا درد ہاتھ میں ہتھیار ہونے کے باوجود کشمیری لڑکوں کے پتھر کھا رہے جوانوں کو لے کر ہے پریتی نے کہا کہ میں یہاں ٹیلی ویزن پر جوانوں پر پتھراﺅ ہوتا دیکھتی ہوں ان کی بے عزتی محسوس کرتی ہوں اور خود بھی اپنے آپ کو بے عزت محسوس کرتی ہوں پتھر بازی کرنے والے کشمیری لڑکوں کو انصانی حقوق کی آڑ میں بچا لیا جاتا ہے ۔لیکن ان کے پتھروں سے زخمی جوانوں کے انسانی حقوق کہاں ہوتے ہیں ؟سپریم کورٹ حکومت کو ہدایت دے کہ وہ ان کے تحفظ کے لئے کوئی با قاعدہ پالیسی تیار کرئے اور تاکہ سیکورٹی فورس کے جوانوں کے بنیادی حقوق محفوظ رہیں ۔میں اس بات سے بہت دکھی ہوئی جن سیکورٹی فورسیز کو امن قائم رکھنے کے لئے تعینات کیا گیا ہے ان پر پتھر بازی سے حملہ کیا جاتا ہے جب سیکورٹی فورسیز اپنی حفاظت کے لئے کوئی جوابی کاروائی کرتے ہیں تو ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہوتی ہے جبکہ حملہ آوروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی ۔اتنا ہی نہیں جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں اعلان کیا تھا کہ پتھر بازوں کے خلاف 9760ایف آئی آردرج واپس لی جائیں گی کیونکہ ان کا پہلا جرم ہے ،عرضی گذاروں کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کو قانون میں دی گئی کارروائی پر عمل کئے بغیر اس طرح ایف آئی آر واپس لینے کا اختیار نہیں ہے ۔اب یہ لوگ چناﺅ کے مخالفت میں پتھر بازی کرنے لگے ہیں اپنے پاک حمائتی آقاﺅں کے اشارے و پیسے پر یہ ہمارے جوانوں پر موقعہ دیکھتے ہی پتھر بازی شروع کر دیتے ہیں ہمارے جوانوں کو جہاں پوری چھوٹ اور حفاظت ملنی چاہیے وہیں سیکورٹی فورسیز کو بھی اپنی حفاظت میں طے حد کو پار نہیں کرنا چاہیے ۔فوج کے اگر آپ ہاتھ باندھ دیں گے اور کہیں گے کہ آپ ان علیحدگی پسندوں اور ان کے حمائیتوں سے نمٹے تو یہ ممکن نہیں ہے ۔فوج بندھے ہاتھوں سے اپنا کام نہیں کر سکتی ہم ان بچیوں کی مانگ کی حمایت کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں جو کام مرکزی سرکار اپنی ووٹ کی سیاست کے چلتے نہیں کر پا رہی ہے وہ سپریم کورٹ کرئے گی ۔دیکھیں آگے عدالت میں معاملے پر کیا ہوتا ہے؟

(انل نریندر)

سراب اور شراب کا یوپی کی صحت پر کتنا اثر پڑئےگا؟

اترپردیش کے میرٹھ میں جمعہ کو پی ایم نے اپنی چناﺅ مہم کا آغاز کرتے ہوئے اپوزیشن پر تلخ حملے کرتے ہوئے کہا کہ سپا-رالود-بسپا اتحاد کو (سراب)شراب بتایا۔کہا جیسے شراب صحت کے لئے خطرناک ہوتی ہے ایسے ہی یہ گٹھ بندھن دیش کو ویسے ہی برباد کر دئے گا اس کے بچیں ۔مودی نے کہا کہ میں چوکیدار ہوں چوکیدار کبھی نا انصافی نہیں کرتا ۔اس لئے باری باری سب کا حساب ہوگا انہوںنے میرٹھ کے ویتانت کنج میدان میں وجے سنکلپ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک طرف نئے بھارت کے سنسکار ہیں تو دوسری طرف کنبہ پرستی اور کرپشن ہے ۔ایک طرف دم دار چوکیدار تو دوسری طرف داغداروں کی بھرمار وہ حساب مانگتے ہیں میں پانچ سال کا حساب دوں گا ان سے بھی جانوں کا تبھی برابر حساب ہوگا جب لیا جائے لے لو وزیر اعظم کے ذریعہ گٹھ بندھن کو سراب بتانے پر سپا چیف اکھلیش یادو اور بسپا چیف مایا وتی نے رد عمل ظاہر کیا ۔یادو کا کہنا تھا کہ سراب اور شراب کا فرق وہ لوگ نہیں جانتے جو نفرت کے نشے کو بڑھاوا دیتے ہیں وہیں دوسری طرف مایاوتی نے کہا کہ شخصی ذات پرستی اور فرقہ پرستی کا زہر اور نفرت کی سیاست کرنا بھاجپا اینڈ کمپنی کی شوبھا ہے ۔جس کے لئے ان کی سرکار مسلسل اقتدار اعلیٰ کا بے جا استعمال کرتی رہی ہے ۔اکھلیش یادو نے وزیر اعظم کی تقریر کے بعد ٹوئٹ کر کہا کہ آج پہلی پرمپٹر نے یہ پول کھول دی کہ سراب اور شراب کا فرق وہ لوگ نہیں جانتے جو نفرت کے نشے کو بڑھاوا دیتے ہیں ۔سراب کو مرگ ترشنا بھی کہتے ہیں یعنی دھندلا سپنا پانچ سال سے بھاجپا دکھا رہی ہے ۔جو پورا نہیں ہوتا اب چناﺅ میں نئے سراب دکھا رہی ہے مایا وتی نے ٹوئٹر پر کہا کہ پی ایم شری مودی نے آج میرٹھ سے لوک سبھا چناﺅ مہم کی شروعات کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنا حساب دوں گا لیکن بیرونی ممالک سے کالا دھن واپس لا کر غریبوں کو پندرہ سے بیس لاکھ روپئے دینے کسانوں کی آمدنی دگنی کرنے وغیرہ مفاد عامہ کے اشوز کا حساب کتاب دئے بغیر وہ میدان چھوڑ گئے کیا چوکیدار ایماندار ہے ؟وزیر اعظم کے ذریعہ تین پارٹیوں کا موازنہ سراب یعنی شراب سے کرنے پر ہمیں لگتا ہے کہ چناﺅ کمپین نمکین نہیں ہوگا بلکہ زیادہ کڑواہٹ پھیلنے کا امکان ہے اپوزیشن پارٹیوں کو اس بیان کے بعد پلٹ وار تو کر ہی رہی ہیں لیکن یہ تجزیہ ہے کہ پی ایم کے اس بیان کا پیغام شراب کا استعمال کرنے والوں کے درمیان بھی صحیح نہیں گیا ہے۔بھاجپا کو الٹا نقصان بھی ہو سکتا ہے ۔پی ایم نے کہا سپا کا س اجیت سنگھ کی آر ایل ڈی کا لفظ ر اور بسپا کا ب ملا کر سراب بناتے ہیں شراب یعنی سراب صحت کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے آر ایل ڈی اپنی بڑی حمایت جاٹ بیڈبسپا اور سپا اپنے حمایتوں کے درمیان اس بیان کو سمان پر چوٹ کی شکل میں پروپگنڈا کرنے میں لگی ہے اس کے علاوہ شراب پینے والوں کی تعداد اب شہروں میں ہی نہیں دیہات میں خاصی ہے ۔ان کے بیان کا صحیح میسج نہیں جائے گا بلکہ وہ لوگ اس بیان کو مذاق کی شکل میں لے سکتے ہیں ۔لیکن بی جے پی کا کہنا ہے کہ مودی نے نقصان بتانے کے لئے یہ موازنہ کر دیا ہے۔جہاں تک نقصان کی بات ہے تو عورتوں میں اس کا صحیح سندیش جائے گا ۔رہی بات ووٹ کی تو مودی کا دوسرا نام ہے خطرہ مول لینا ۔

(انل نریندر)